کولمبو (اے پی پی) آسٹریلیا کی ٹیم بنگلور ٹیسٹ کے تیسرے روز اپنی پہلی اننگز میں 87 رنز کی برتری کے ساتھ 276 رنز بناکر آﺅٹ ہوگئی، میتھیو ویڈ 40 رنز کے ساتھ نمایاں رہے، روندرا جدیجا نے 6 وکٹیں حاصل کیں، بھارت نے کھیل کے اختتام پر اپنی دوسری اننگز میں 4 وکٹوں کے نقصان پر 213 رنز بنا لئے اور اسے 126 رنز کی برتری حاصل ہوگئی ہے، چیتشوار پجارا 79 اور اجنکیا راہانے 40 رنز کے ساتھ وکٹ پر موجود ہیں، جوش ہیزلوڈ نے تین کھلاڑیوں کو آﺅٹ کیا۔ تفصیلات کے مطابق پیر کو بنگلور ٹیسٹ کے تیسرے روز آسٹریلیا نے اپنی پہلی نامکمل اننگز 237 رنز 6 کھلاڑی آﺅٹ پر دوبارہ شروع کی تو میتھیو ویڈ 25 اور مچل سٹارک 14 رنز کے ساتھ وکٹ پر موجود تھے، سٹارک آسٹریلیا کے ساتویں آﺅٹ ہونے والے کھلاڑی تھے ۔جو 26 رنز بناکر ایشون کا شکار بنے، روندرا جدیجا نے میتھیو ویڈ کو 40 کے انفرادی سکور پر ایل بی ڈبلیو آﺅٹ کیا۔ نیتھن لائن صفر اور جوش ہیزلووڈ ایک رن بناکر جدیجا کا نشانہ بنے، اس طرح آسٹریلیا کی پوری ٹیم 87 رنز کی برتری کے ساتھ 276 رنز بناکر آﺅٹ ہوگئی، روندرا جدیجا نے شاندار باﺅلنگ کا مظاہرہ کیا اور 6 وکٹیں حاصل کیں، ایشون نے دو جبکہ ایشانت شرما اور امیش یادیو نے ایک ایک وکٹ حاصل کی۔ دوسری اننگز میں بھارت نے کھیل کے اختتام پر 4 وکٹوں کے نقصان پر 213 رنز بنا لئے اور اسے 126 رنز کی برتری حاصل ہوگئی ہے، لوکیش راہول 51 ، مکنڈ 16، ویرات کوہلی 15 اور روندرا جدیجا دو رنز بناکر آﺅٹ ہوئے، چیتشوار پجارا 79 اور اجنکیا راہانے 40 رنز کے ساتھ وکٹ پر موجود ہیں، جوش ہیزلوڈ نے تین اور سٹیو اوکیف نے ایک وکٹ حاصل کی۔
All posts by admin
ٹی20نے کلب کرکٹ کو تباہ کردیا
لاہور(نیوزایجنسیاں) پی ایس ایل میں کامیابی کے جھنڈے گاڑنے والے کامران اکمل قومی ٹیم میں واپسی کیلئے پرامید ہیں۔لاہور میں اسپورٹس جرنلسٹس ایسوسی ایشن کے دفتر میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کامران اکمل نے کہا کہ ٹی 20 کی وجہ سے کلب کرکٹ تباہ ہو رہی ہے، پاکستان کرکٹ بورڈ کو ٹی 20 کرکٹ کو ایونٹس تک ہی محدود کرنا چاہیے اور کلب لیول سے ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کا مکمل خاتمہ کرنا چاہیے۔وکٹ کیپر بیٹسمین نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ آپ میری عمر کو چھوڑیں کارکردگی اور فٹنس پر نظر ڈالیں، اہم چیز عمر نہیں کارکردگی ہے جو میں تسلسل سے دے رہا ہوں، ابھی تو میں نے اچھا پرفارم کرنے کا ہنر سیکھا ہے، اگر قومی ٹیم میں منتخب کیا گیا تو امیدوں پر پورا اترنے کی بھرپور کوشش کروں گا۔کامران اکمل نے کہا کہ پشاور زلمی کی ٹیم منیجمنٹ، شاہد آفریدی اور دیگر پلیئرز نے غیرملکی کرکٹرز کو پاکستان آنے کیلئے راضی کرنے کیلئے بھرپور کوششیں کیں جس کی وجہ سے وہ پاکستان آنے پر راضی ہوئے۔
آفریدی پھر ’صحراﺅں کے دیس‘ میں ان ایکشن ہوں گے
لاہور (نیوزایجنسیاں) امارات ائیرلائن نے ٹی 20 ٹورنامنٹ کا اعلان کر دیا ہے اور پاکستانیوں کیلئے خوشی کی خبر یہ ہے کہ اس ٹورنامنٹ میں پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کی ٹیمیں پشاور زلمی اور لاہور قلندرز بھی حصہ لے رہی ہیں۔یہ ٹورنامنٹ دبئی میں انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کرکٹ اکیڈمی میں 23 اور 24 مارچ کو کھیلا جائےگا۔ اس ٹورنامنٹ میں شاہد آفریدی، ایندرے رسل، ڈیرن سیمی، جوناتھن ٹروٹ، جیمی اینڈرسن، برینڈن میکالم اور این بیل سمیت دنیا بھر سے نامور کرکٹ شریک ہو رہے ہیں۔ذرائع کے مطابق اس ٹورنامنٹ میں پی ایس ایل سیزن 2 کی فاتح ٹیم پشاور زلمی، لاہور قلندرز کے علاوہ 2015ءمیں ٹی 20 بلاسٹ جیتنے والی لنکاشائر لائٹننگ، ایم سی سی ایمرجنگ الیون اور 2016ءمیں آر ایل کپ جیتنے والی برمنگھم بیئرز شرکت کر رہی ہیں۔
پی ایس ایل فرنچائزمالک کوفکسنگ کی آفر کاانکشاف
لاہور (نیوزایجنسیاں) پاکستان سپر لیگ کا دوسرا ایڈیشن پاکستان کی جیت کے ساتھ ختم ہوگیا ہے لیکن اب انکشاف ہوا ہے کہ پی ایس ایل کے دوران بکیوں نے ایک فرنچائز کے مالک سے رابطہ کرکے اسے میچ فکسنگ کی پیشکش کی جو اس نے مسترد کردی۔میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان سپر لیگ کے دوسرے ایڈیشن کے دوران ایک بکی نے بڑی فرنچائز کے مالک سے رابطہ کیا اور میچ فکسنگ کی پیشکش کی۔ بکی نے فرنچائز مالک کو فون کرکے کہا کہ ہر فرنچائز کے دو میچ مالک کی مرضی سے ہوتے ہیں ، آپ معاملہ آگے بڑھائیں اور نقصان پورا کرلیں، بکی کی اس پیشکش کو فرنچائز مالک نے فوری طور پر مسترد کردیا جس کے بعد بکی نے انہیں ایک میچ فکس کرنے کی آفر کی لیکن اس کی یہ کوشش بھی ناکام رہی۔بکی کی جانب سے آفر آنے پر فرنچائز مالک نے پی سی بی اینٹی کرپشن یونٹ سے رابطہ کرکے فکسنگ کے حوالے سے آگاہ کردیا جس کے بعد معاملے کی اندرون خانہ تحقیقات شروع کردی گئیں۔ پی سی بی حکام کی جانب سے پی ایس ایل اور فرنچائز مالک کو بدنامی سے بچانے کیلئے اس کا نام ظاہر نہیں کیا گیا۔
آسٹریلوی ہائی کمشنر کاپاکستان میں امن کی صورتحال بارے اہم بیان
اسلام آباد ( انٹروےو : ملک منظور احمد ،تصاوےر :فتح علی) پاکستان مےں تعےنات آسٹرےلےا کی ہائی کمشنر مارگرےٹ اےڈمسن نے کہا ہے کہ پاکستان مےں لاءاےنڈآرڈر اور سکےورٹی کے اقدامات سے ملک مےں امن و امان مےں بہتری آئی ہے اس کے لئے سےاسی و عسکری قےادت کی کاوشےں قابل ستائش ہےں ۔ چےن پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے سے پورا خطے کو فائدہ ہوگا اور آسٹرےلےا اس منصوبے کی حماےت کرتا ہے ۔ پاکستان اور آسٹرےلےا کے مابےن مضبوط اور درےنہ تعلقات ہےں جن مےں وقت کے گزرنے کے ساتھ ساتھ مذےد بہتری آرہی ہے ۔ دونوں ممالک کے مابےن دو طرفہ تجارت کے فروغ کے وسےع تر امکانات موجود ہےں جس پر پاکستان حکومت کے ساتھ ملکر کام کرہے ہےں ۔آسٹرےلےا پاکستان مےں زراعت و لائےو سٹاک ، تعلےم کے فروغ اور آبی وسائل کی بہتری کےلئے ہر ممکن مدد فراہم کررہا ہے اس سے پاکستان کی معےشت کو استحکام ملے گا۔ ان خےالات کا اظہار انہوں نے چےنل فائےو کے پروگرام ڈپلومےٹک انکلےو کو خصوصی انٹروےو دےتے ہوئے کےا ۔ آسٹرےلےا کی ہائی کمشنر مارگرےٹ اےڈمسن نے کہا ہے کہ اسٹرےلےا اور پاکستان کے درمےان تعلقات بہت دےرےنہ ہےں اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان مےں مذےد بہتری آئی ہے اور ہمےں مستقبل مےں بھی اپنے تعلقات کو مضبوط بنانا ہے ۔ آسٹرےلےا ان چند ممالک مےں ہے جنہوں نے پاکستان کو قےام کے فوری بعد تسلےم کےا اور اسٹرےلےا نے 1948 مےں اپنا ہائی کمےشن کراچی مےں قائم کےا ۔ دونوں ممالک مےں بہتر تعلقات کئی دھائےوں مےں محےط مراسم ہےںاور ہم مشترکہ ورثہ اشتراک کے ساتھ ہےں دونوں ممالک کے درمےان تعلقات وقت کے ساتھ ساتھ درپےش چےلنجز سے اور مضبوط ہوئے ہےں ۔ ہم پاکستان کی سالمےت کے ساتھ کھڑے ہےں اور پاکستان کو درپےش چےلنجز کے دوران پاکستان کی ہر ممکن مدد کی ہے اور مذےد کام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ دونوں ممالک کے عوام اےک دوسرے کے قرےب آسکےں پاکستان کے عوام ملن نثار اور مہمان نواز ہےں اور اہم بات یہ ہے کہ یہاں کے لوگ اپنے ملک کی ترقی کےلئے سنجےدہ ہےں ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور اسٹرےلےا کے مابےن تجارت کے وسےع مواقع موجود ہےں جب مےں پاکستان آئی تو دونوں ممالک کے درمےان تجارتی حجم 0.6 بلےن ڈالر تھا لےکن مجھے فخر ہے کہ اب یہ حجم اےک بلےن ڈالر ہوچکا ہے ۔ تجارت کے فروغ کےلئے درست سمت کا تعےن ضروری ہوتا ہے اور دونوں ممالک کے مابےن تھارت درست سمت کی طرف بڑھ رہی ہے ۔ دونوں ممالک کے مابےن تجارتی حجم تےزی سے بڑھ رہا ہے جو ان دونوں کی معےشت کےلئے سود مند ہے ۔ ماضی مےں اگر پاکستان اور اسٹرےلےا کے مابےن تجارت کو اگر فروغ نہےں ملا تواس کی وجہ دونوں ممالک کے مابےن آمد ورفت کا بڑ فاصلہ ہے اس کے علاوہ دونوں ملکوں کے کاروباری طبقے کی پسند و ناپسند ہے لےکن اب یہ دورےاں رفتہ رفتہ ختم ہورہی ہےں ۔ پاکستان کی معےشت زراعت پر انصار کرتی ہے لےکن جب مےں اسٹرےلےا کی بات کروں تو اس کے پاس وسےع زرعی رقبہ ہے اور لائےو سٹاک بھی اس کا اہم حصہ ہے سبزےوں اور فصلوں کے ساتھ لائےو سٹاک کو بھی خاص اہمےت حاصل ہے پاکستان کو بھی اپنی زرعی اجناس کے فروغ کےلئے اقدامات کرنا ہونگے اس شعبے کے کاروباری کروپوں کے مفادات کو دےکھتے ہوئے پالےسےاں بنانا ہونگی تاکہ ملک کی زراعت کو ترقی ملے اور یہاں کا کسان خوشحال ہو ۔ڈےری کی ترقی کےلئے اسٹرےلےا پاکستان کے ساتھ تعاون کررہا ہے اور دودھ دےنے والی گاہےں اسٹرےلےا سے کراچی درآمد کی گئی ہےں ۔ اس سے پاکستان کی دودہ کی پےداوار بھی مذےدترقی کرے گی ۔ انہوں نے کہا کہ اسٹرےلےا کے پاس ڈےری کی بہت سی اقسام ہےں یہ اقسام بہترےن موےشےوں کی پےداوار کےلئے بہت اہم ہے اور دنےا کے ہر ملک اور ہر موسم کےلئے موزوں ہے اور ہمےں خوشی ہے کہ پاکستان مےں اسٹرےلےن تجربات سے استفادہ کےا جارہا ہے ڈےری کی ترقی سے پاکستان کی زراعت کو بھی زبردست استحکام ملے گا ۔ زراعت کی ترقی کےلئے پانی کو خاص اہمےت حاصل ہے ۔ پاکستان کوپانی کی دستےابی کو ےقےنی بنانا ہوگا آسٹرےلےا کی بہت سی کمپنےوں نے پاکستان کو پانی کےلئے اپنی ماہرانہ خدمات اور تعاون کی پےشکش کی ہے ۔ پانی کا حصول ، صارفےن تک اسے پہنچانا اور مستقل بنےادوں پر اس کی مےنجمنٹ بہت اہمےت کا حامل معاملہ ہے پاکستان کو اس پر توجہ دےنی ہوگی اور وےسے بھی زرعی ملک ہونے کی وجہ سے یہ پاکستان کےلئے ناگزےر ہے ۔ انہوں نے کہا کہ تجارت اور سرمایہ کاری کے ساتھ ساتھ زراعت ، وےٹرنری ، ڈےری اور مےٹ کے علاوہ تعلےم ، توانائی اور دےگر شعبوں مےں پاکستان اور آسٹرےلےا کے مابےن تعاون کے مواقع موجود ہےں اور اس پر کام کرنے کی ضرورت ہے ۔ آسٹرےلےا کی زرعی شعبے مےں رےسرچ سے پاکستان کو استفادہ کرنا چاہےے ۔ انہوں نے کہا کہ آسٹرےلےا پاکستان کی تعمےر و ترقی کا خواہاں ہے اس کےلئے پاکستان حکومت کے ساتھ ملکر کام کررہے ہےں پاکستانی طلباءکو سکالر شپ مہےا کررہے ہےں اور اس سال ہم نے 70 سکالرز شپ مہےا کی ہےں ۔ پاکستان مےں تعلےم کے فروغ کےلئے کام کررہے ہےں اور مےری خواہش ہے کہ پاکستانی طلباءکی آسٹرےلےا مےں تعلےم کےلئے سکالر شپ مےں اضافہ کےا جائے ۔ ہائےر اےجو کےشن کمےشن کے ساتھ ملکرماسٹر ڈگری پروگرام مےں سکالر شپ مےں اضافہ کےا جائے گا ۔ اےک بات خوش آئند ہے کہ ہم نے خواتےن اور مرد کو برابری کی بنےاد پر سکالر شپ دی ہے ۔ اس سال 40 کے قرےب ماسٹر کےلئے آسٹرےلےن اےوارڈپروگرام کےلئے اسٹرےلےا روانہ کئے ہےں ، اسٹرےلےا نہ صرف ماسٹر پروگرام کےلئے بلکہ دوسرے پروگراموں کےلئے بھی سکالر شپ دے رہاہے جس سے پاکستان کی تعلےمی شرح مےں اضافہ ہوگا ہم طلباءکو بھر پور پےشہ ورانہ قابلےت کے مواقع فراہم کرےں گے کےونکہ یہ ہمارے پروگرام کا حصہ ہے ۔ ہم ہر مشکل کھڑی مےں پاکستان کے ساتھ کھڑے ہےں ۔ 2005 مےں پاکستان مےں ہونے والے زلزلہ اور سےلاب کے دوران پاکستان کا بھر پور ساتھ دےا اور 90ملےن آسٹرےلےن ڈالر کی امداد پاکستان کو دی ۔ جو کہ آسٹرےلےن عوام کی طرف سے پاکستان کے عوام کے لئے تھی حالیہ پاکستان مےں دہشت گردی کے واقعات مےں معصوم جانوں کے ضےاع کا پوری آسٹرےلےن عوام کو دکھ ہے ۔ انہوںنے کہا کہ پاکستان کی معےشت آہستہ آہستہ بہتری کی طرف بڑھ رہی ہے کےونکہ اس کا اکنامک رےفارم اےجنڈا بہت اہم ہے حال ہی ہےں ورلڈ بےنک کی سی ای او اور آئی اےم اےف کے وفد پاکستان آےا اور پاکستان کی اقتصادی ترقی کےلئے کی جانے والی کاوشوں کو سراہا ۔ انہوں نے کہا کہ ملکی معےشت کی ترقی کا دارومدار امن کے ماحوال سے وابستہ ہے کےونکہ سرمایہ کار ان ممالک کا رخ کرتے ہےں جہاں حالات ساز گار اور پر امن ہو۔ پاکستان اےک اہم ملک ہے اور آبادی زےادہ ہونے کی وجہ سے اس کی اہمےت اور بڑھ جاتی ہے لےکن آبادی کو کنٹرول اور محفوظ بنا کر ہی پاکستان کا مستقبل کو روشن کےا جاسکتا ہے ۔ پاکستان قدرتی وسائل سے مالا مال ہے اس کے موسم اس کی ثقافت اور تارےخی ورثہ اسے دنےا کے دےگر ممالک سے ممتاز کرتا ہے امرےکہ کے تھےنک ٹےنک سی آئی اے نے پاکستان کے سےکےورٹی حالات کو 60 فےصد ٹھےک قرار دےا ہے جو کہ پاکستان کےلئے حوصلہ افزا ءبات ہے ۔ چےن پاکستان اقتصادی راہداری کا منصوبہ خطے کی ترقی مےں اہم پےش رفت ہے اس سے کورےا ، چےن ، فرانس ، جاپان اور جرمنی تک اپنی گاڑےاں پاکستان مےں بنانے مےں دلچسپی لے رہے ہےں ہالےنڈ کے سرمایہ کار پاکستان کی زراعت مےں سرمایہ کاری کررہے ہےں جس کے بعد پاکستان مےں سرمایہ کاری کا رجحان بڑھ رہا ہے ۔ سی پےک سے پاکستان مےں معاشی ترقی کی نئی راہےں کھلےں گی دوسرے ممالک کی طرح آسٹرےلےن کمپنےاں بھی پاکستان مےں سرمایہ کاری کی خواہاں ہےں ۔ انہوں نے کہا کہ کرکٹ کے ساتھ ہاکی بھی اےسا کھےل ہے جس نے دونوں ملکوں کی عوام کو اےک دوسرے کے قرےب کردےا ہے ۔
سپر لیگ پر سیاست کی کوشش ناکام, کمر توڑ دی سر بھی کچل دینگے
کویت سٹی، اسلام آباد(آئی این پی،نامہ نگار خصوصی ) وزیراعظم محمد نوازشریف نے کہا ہے کہ دہشت گردی کی کمر توڑ دی ، سر بھی کچل دیں گے ،مخالفین نے پی ایس ایل پر سیاست کرنے کی کوشش کی ، تمام مخالفین اور سیاسی بیانا ت کے باوجود پی ایس ایل فائنل کامیابی سے کرایا ، سپر لیگ نے پاکستانیوں کو ایک دوسرے سے قریب کر دیا ہے ،2018سے پاکستان میں سستی بجلی فراہم کی جائے گی، سی پیک کے تحت منصوبوں کی برق رفتار تکمیل کا چینی دوست بھی اعتراف کر رہے ہیں ، د ہشت گردی اور بجلی کی لوڈشیڈنگ کا خاتمہ ترجیحات میں شامل ہے ، پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ خطے میں گیم چینجر ثابت ہوگا ، ملک بھر میں موٹرویز اور شاہرات کا جال بچھایا جارہا ہے ، پہلی بار بلوچستان کے عوام کا احساس محرومی کم ہو ا ہے ، آمریت کے دور میں ملکی حالات دیکھ کر دکھ ہوتا تھا ،90کی دہائی کے ترقیاتی کام جاری رہتے تو آج پاکستان ایشین ٹائیگر ہوتا ۔ وہ پیر کو یہاں پاکستانی کمیونٹی سے خطاب کر رہے تھے ۔انہوں نے شرکاءکو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ سے مل کر بہت خوشی ہو رہی ہے ، وزیراعظم نے کہا کہ جب حکومت سنبھالی تو بہت سے چیلنجز درپیش تھے ، الحمد اللہ آج پاکستان کے حالات بہت بہتر ہیں ،پاکستان خوشحالی کی جانب بڑھ رہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ جنگ کے وقت کویت کا ساتھ دینے پر بہت سی سیاسی جماعتوں نے مخالفت کی ، پاکستان نے عراق سے جنگ میں کویت کی بہت مدد کی ، جنگ کے بعد پاکستان اور کویت کے درمیان مستحکم تعلقات استوار ہوئے ۔ وزیراعظم نوازشریف نے کہا کہ پاکستانیوں کو درپیش مسائل کے بارے میں امیر کویت سے بات کریں گے ۔انہوں نے کہا 90کی دہائی کے ترقیاتی کام جاری رہتے تو آج پاکستان ایشین ٹائیگر ہوتا ، اپنے پہلے دور حکومت میں پاکستان کو ترقی کی بہت سی راہیں دکھائیں ، معاشی ترقی کے لئے گرین چیلنجز بنائے ، تاجروں کو مراعات دیں تاہم آمریت کے دور میں ملک کے حالات بدسے بدتر ہوتے گئے ، آمرانہ دور میں ملکی حالات دیکھ کر بہت دکھ ہوتا تھا ، سات سال تک جلاوطنی کاٹی ، اسباب کا آج تک علم نہیں ہے ، وزیراعظم نے کہا کہ ملکی ترقی کےلئے خود انحصاری کی حکمت عملی پر یقین رکھتے ہیں ۔ توانائی کا بحران ہنگامی بنیادوں پر حل کر رہے ہیں ، بجلی کی لوڈشیڈنگ پر ہونے والے ہنگامے ختم ہوگئے ہیں ، پاکستان میں جاری ترقیاتی منصوبے تیزی سے مکمل کئے جا رہے ہیں ، سی پیک میں 50ارب ڈالر مالیت کے منصوبے شروع ہو چکے ہیں ، ملک بھر میں موٹرویز اور شاہرات کا جال بچھایا جا رہا ہے ، موٹرویز اور شاہرات کی تکمیل سے دنوں کا سفر گھنٹوں تک تبدیل ہو جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ بروقت توجہ دی جاتی تو کبھی بھی توانائی بحران کا سامنا نہ ہوتا ، آج ملک میں ایل این جی سے بجلی کے کارخانے لگائے جا رہے ہیں ،وزیراعظم نوازشریف نے کہا ہے کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبہ (سی پیک) اکیلا پورے خطے میں تجارتی اورکاروباری سرگرمیوں کو تیز کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے ، ہم اس اہم منصوبے سے استفادہ کرنے کیلئے خطے کے دیگر ممالک کا بھی سی پیک میں شامل ہونے کےلئے خیر مقدم کر رہے ہیں،ملک میں توانائی بحران پر بہت حد تک قابو پا لیا ہے ، 2018تک لوڈ شیڈنگ پر مکمل قابو پا لیں گے، پورے پاکستان میں بنیادی ڈھانچے اور سڑکوں کا جال بچھایا جارہا ہے، پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کےلئے سازگار ماحول ہے ،کویتی بزنس کمیونٹی کو پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقعوں سے فائدہ اٹھانا چاہیے ،حکومت سرمایہ کاروں کو ہر ممکن سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانے کےلئے پر عزم ہے۔پیر کو وزیراعظم نوازشریف نے کویت چیمبر آف کامرس کے وفد سے ملاقات کی۔اس موقع پر وزیراعظم نوازشریف نے کہا کہ موجودہ حکومت کی انتھک کوششوں کے باعث پاکستان کی معیشت اپنے ٹریک پر واپس آگئی ہے ،دنیا کے بڑے عالمی مالیاتی ادارے پاکستان کی معاشی کامیابیوں کا اعتراف کر رہے ہیں ، مثبت معاشی پالیسیوں کی بدولت اہم اقتصادی کامیابیاں ملی ہیں۔انہوں نے کہا کہ پورے پاکستان میں بنیادی ڈھانچے اور سڑکوں کا جال بچھایا جارہا ہے ، ملک میں توانائی بحران پر بہت حد تک قابو پا لیا ہے ، 2018تک لوڈ شیڈنگ پر مکمل قابو پا لیں گے ، صنعتی شعبے کےلئے بجلی کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنا رہے ہیں، توانائی کے شعبے میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی گئی ہے جس میں ہائیڈل ، تھرمل ،سولر ،کوئلے اور ونڈ انرجی کے منصوبے شامل ہیں ، ان منصوبوں کی بدولت ملک میں بجلی کے بحران کو حل کرنے میں مدد ملے گی۔انہوں نے کہا کہ ہم ملک بھر میں بلڈنگ انفراسٹرکچر ،موٹر ویز اور ایکسپریس ویز پر توجہ دے رہے ہیں ، چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبہ (سی پیک) اکیلے پورے خطے میں تجارتی اورکاروباری سرگرمیوں کو تیز کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے ، ہم اس اہم کنیکٹوٹی منصوبے کے فواہد حاصل کرنے کیلئے خطے کے دیگر ممالک کا بھی سی پیک میں شامل ہونے کےلئے خیر مقدم کر رہے ہیں۔و زیراعظم نوازشریف نے کہا کہ پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کےلئے سازگار ماحول ہے ،کویتی بزنس کمیونٹی کو پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقعوں سے فائدہ اٹھانا چاہیے ،حکومت سرمایہ کاروں کو ہر ممکن سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانے کےلئے پر عزم ہے۔ ملاقات میں وزیر پیٹرولیم شاہد خاقان عباسی اور وزیراعظم کے خصوصی نمائندے طارق فاطمی اور چیئرمین بی او آئی مفتاح اسمعاعیل بھی موجود تھے۔ اسلام آباد وزیراعظم نواز شریف نے مہمند ایجنسی میں سرحد پار سے دہشت گردوں کے پاکستانی چیک پوسٹوں پر حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہاہے کہ اگر دہشت گرد سمجھتے ہیں کہ وہ قوم کے عزم کو کمزور کر لیں گے تو یہ ان کی غلط فہمی ہے ۔وزیراعظم نوازشریف نے مہمند ایجنسی میں فوجی جوانوں کی شہادت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے شہدا ءکی مغفرت اور لواحقین کے لیے صبر جمیل کی دعا کی ہے، اپنے بیان میں ان کا کہنا تھا کہ آپریشن ردالفساد اندرون و بیرون ملک سرگرم ہر دہشت گرد کے خلاف ہے، دہشت گرد سمجھتے ہیں کہ وہ قوم کے عزم کو کمزور کرلیں گے تو یہ ان کی غلط فہمی ہے، دہشت گردی کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے اور پاکستان کے دشمنوں اور ان کی سوچ کا خاتمہ کر دیا جائے گا۔وزیراعظم نے کہا کہ مادر وطن کی حفاظت کے لیے جوانوں کی قربانیاں قابل فخر ہیں، جان کی قربانی دینے والے فوجی ہمارے اصل ہیرو ہیں جب کہ فوجی جوان چوکس ہیں اور پاکستان مضبوط سے مضبوط تر ہوتا جائے گا۔
فوجی عدالتوں میں توسیع, آصف زرداری کے نئے مطالبات بھی سامنے آگئے
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک + ایجنسیاں) پاکستان کے سابق صدر اور پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے کہا ہے فوجی عدالتوں میں چلنے والے مقدمات کی سماعت فوجی افسر کے علاوہ سیشن جج یا ایڈیشنل سیشن جج بھی کرے تاکہ مقدمات کی شفافیت پر کسی کو اعتراض نہ ہو۔اسلام آباد میں پیر کے روز میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے آصف علی زرداری نے فوجی عدالتوں کے قیام میں توسیع سے متعلق نو تجاویز دی ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ اس سیشن جج کا تعین متعقلہ صوبے کی ہائی کورٹ کا چیف جسٹس کرے گا۔ ا±نھوں نے کہا کہ فوجی عدالتوں کی مدت ایک سال کے لیے ہوگی جبکہ حکومت اور پیپلز پارٹی کے علاوہ حزب مخالف کی جماعتوں نے ان عدالتوں کی مدت دوسال کے لیے تجویز دی ہے۔آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ ان عدالتوں میں چلنے والے شدت پسندی کے مقدمات میں جتنے ملزموں کو بھی گرفتار کیا جائے تو ا±نہیں 24 گھنٹوں کے اندر اندر عدالت میں پیش کرنا ہوگا اور اس کے علاوہ ملزمان کو یہ بھی بتانا ہوگا کہ ا±نہیں کس جرم میں گرفتار کیا گیا ہے۔ا±نہوں نے کہا کہ ملزم کو اپنی پسند کا وکیل کرنے کی بھی اجازت دی جائے اور اس کے علاوہ فوجی عدالتوں کی طرف سے ملنے والی سزا کے خلاف اپیل کرنے کا حق بھی دیا جائے۔آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ ان ملزمان کے خلاف ہونے والے ٹرائیل میں قانون شہادت پر بھی عمل درآمد کروانا ہوگا۔پاکستان کے سابق صدر کی طرف سے دی جانے والی تجاویز میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ ہائی کورٹ دو ماہ میں سزا کے خلاف دائر کی جانے والی اپیل کا فیصلہ کرنے کا پابند ہوگا۔ ا±نہوں نے کہا کہ ان تجاویز کو پارلمینٹ میں زیر بحث لایا جائے اور حکومت اس ضمن میں پاکستان پیپلز پارٹی سے مذاکرات کرنا چاہتی ہے تو ان کی جماعت کے دروازے ہر ایک کے لیے کھلے ہیں۔آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ فوجی عدالتوں کا قانون سیاست دانوں کے خلاف استعمال نہیں ہوگا اس کی کوئی ضمانت نہیں دی جاسکتی اور ڈاکٹر عاصم حسین اس کی واضح مثال ہیں۔ ا±نہوں نے کہا کہ سندھ میں رینجرز کے اختیارات کچھ اور ہیں جبکہ پنجاب میں رینجرز کو جو اختیارات دیے گئے ہیں وہ کچھ اور نوعیت کے ہیں۔شدت پسندی کے خلاف نینشل ایکشن پلان پر عمل درآمد سے متعلق پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین کا کہنا تھا کہ حکومت نے اگر متعقلہ اداروں کو فنڈز مہیا کیے ہوتے تو آج شاید صورتحال مختلف ہوتی۔ آصف زرداری کا کہنا تھا کہ ’ہم نے فوجی عدالتوں سے متعلق وضاحت کے لیے تجاویز تیار کی ہیں جس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم فوجی عدالتوں کے مخالف ہیں۔‘انہوں نے کہا کہ ’فوجی عدالتوں کا قانون سیاستدانوں کے خلاف استعمال نہ ہونے کی ضمانت ممکن نہیں، ڈاکٹر عاصم پر بھی دہشت گردی کے مقدمات بنائے گئے، سندھ کے لیے رینجرز کا قانون بھی دوسرے صوبوں سے کچھ الگ ہے اور سندھ میں رینجرز کو دوسرے صوبوں سے مختلف اختیارات دیے گئے ہیں۔‘پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین نے کہا کہ ’پاکستانی قوم، افواج اور ہم ایک ہیں، اتحاد کے ساتھ دہشت گردوں کا مقابلہ کریں گے جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی دہشت گردوں کے خلاف لڑی اور لڑتی رہے گی۔‘ملک کے مستقل وزیر خارجہ کی تقرری سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ ’میں نے 40 سال میں ایسی حکومت نہیں دیکھی جس میں وزیر خارجہ نہ ہو، وزیر اعظم نواز شریف کو ڈر ہے کہ کوئی وزیر خارجہ بن گیا تو وہ مقبول ہوجائے گا۔‘نیشنل ایکشن پلان کے فنڈز کے حوالے سے سابق صدر نے کہا کہ ’لاہور میں ملتان روڈ 3 بار بن کر ٹوٹ گئی، اس کے لیے حکومت کے پاس پیسے آجاتے ہیں لیکن نیشنل ایکشن پلان پر لگانے کے لیے حکومت کے پاس پیسے نہیں۔سابق صدر آصف علی زرداری کی پریس کانفرنس کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ اسحٰق ڈار نے کہا کہ ’فوجی عدالتوں کی توسیع کے معاملے پر پیپلز پارٹی کی تجاویز مل گئی ہیں، جنہیں تمام سیاسی جماعتوں کو بھجوا رہے ہیں۔‘ان کا کہنا تھا کہ ’ فوجی عدالتوں کے معاملے پر مزید مشاورت کریں گے اور پیپلز پارٹی کی تمام 9 تجاویز پر غور کرنے کے بعد متفقہ فیصلہ کریں گے، جبکہ اگلے 2 دن میں فوجی عدالتوں کے معاملے پر دوبارہ بیٹھک ہوگی۔‘اسحٰق ڈار نے کہا کہ ’دہشت گردی کے مکمل خاتمے کیلئے پوری قوم متحد ہے جبکہ فوجی عدالتوں کی توسیع پر اتفاق رائے موجود ہے۔
ٹرمپ کا نیا حکمنامہ, کون کونسے مسلم ممالک پر پابندی لگ گئی؟دیکھئے بڑی خبر
نیویارک، پیرس (محسن ظہیر سے، زاہد مصطفی اعوان) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوموار کو یہاں چھ مسلم ممالک سے متعلق نیا حکم نامہ جاری کر دیا ہے تاہم پہلے جاری ہونیوالے حکم نامے جو کہ سات ممالک سے متعلق تھا ، میں سے عراق کا نام نکال دیا گیا ہے ۔ نیا حکم نامہ جو کہ پہلے حکم نامے سے چھ ہفتے کے بعد جاری کیا گیا ہے ، میں چھ ممالک شام، ایران ، لیبیا ، صومالیہ ، سوڈان اور یمن کے شہریوں کے امریکہ آمد پر پابندی عائد کر دیا گئی ہے ۔ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ حقائق نامے کے مطابق عراق کی جانب سے ان کے وہ شہری کہ جو امریکی ویزے کے لئے درخواست دیں گے ، سے متعلق معلومات کے حصول کے سلسلے میں پہلے سے زیادہ تعاون فراہم کیا جائے گا۔ وائٹ ہاو¿س کی مشیر کیلین کانوے کا کہنا ہے کہ نئے سفر نامے میں مذکورہ چھ ممالک کے ایسے شہری کہ جن کے پاس گرین کارڈ یا امریکی ویزہ موجود ہے، ان پر مذکورہ حکم نامے کے تحت سفری پابندی کا اطلاق نہیں ہوگا۔ واضح رہے کہ صدر ٹرمپ کے پہلے حکم نامے کو عدالت میں چیلنج کر دیا گیا تھا جس کے بعد عدالت کی جانب سے اس کے اطلاق کے خلاف حکم امتناعی جاری کر دیا گیا تھا ۔ٹرمپ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ سفری پابندی کا مقصد امریکی سلامتی کے حوالے سے مختلف امور کو فول پروف بنانا ہے۔ صدر ٹرمپ نے نئے صدارتی حکم نامے پر دستخط کردیے جن کے مطابق چھ مسلم ممالک کے شہریوں پر 90 دن کے لیے امریکہ کے نئے ویزہ کے حصول پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ اس حکم نامے کے مطابق وہ افراد جن کے پاس پہلے سے ویزا موجود ہے، وہ امریکہ جا سکتے ہیں۔ پہلے جاری کیے گئے حکم نامے میں عراق کا بھی نام پابندی لگائے گئے ملکوں کی فہرست میں شامل تھا لیکن نئے حکم نامے میں اس کانام خارج کردیا گیا ہے۔ پناہ گزینوں پر 120 دن کے پابندی لاگو ہو گی جبکہ اس حکم نامے کا اطلاق 16 مارچ سے ہوگا۔
پانامہ فیصلہ, ”کپتان“ کا الیکشن کمیشن کیخلاف بڑا اعلان
اسلام آباد (صباح نیوز‘مانیٹرنگ ڈیسک) چئیرمین تحریک انصاف عمران خان نے واضح کیا ہے کہ پاناما کیس کا جو بھی فیصلہ آئے سڑکوں پر نہیں آئیں گے، قطری ٹریل اسکول کے بچے بھی نہیں مانتے۔ جمہوریت میں صادق اور امین ہونا بہت ضروری ہے۔ الیکشن کمیشن کے حوالے سے سڑکوں پر آسکتے ہیں۔ نجم سیٹھی کو الیکشن کا صلہ مل رہا ہے پی ایس ایل سیکیورٹی سے پیغام گیا ملکی حالات ٹھیک نہیں،صحافیوں سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ اربوں روپے کی کرپشن پر عوام سے جھوٹ بولا گیا جائیداد شریف فیملی کی تھی منی ٹریل انہوں نے ہی دینی تھی جمہوریت میں صادق اور امین ہونا بہت ضروری ہے فلیٹس کی خرید و فروخت کی دستاویزات فراہم نہیں کی گئیں قطری ٹریل اسکول کے بچے بھی نہیں مانتے۔ان کا کہنا تھا کہ عدالت جانے سے پہلے متعلقہ فورمز سے رجوع کیا پارلیمنٹ میں ہمارا مذاق اڑایا گیا خواجہ آصف نے یہاں تک کہا کہ لوگ بھول جائیں گے الیکشن کمیشن کے حوالے سے سڑکوں پر آسکتے ہیں۔ الیکشن کمیشن ن لیگ کا حصہ بن چکا ہے میرے کیخلاف کیسز بلیک میلنگ کیلئے ہیں۔کپتان کا مزید کہنا تھا کہ اقتدار میں آکر کرپشن آسان ہے کرپشن کو ختم کرنے کیلئے عدالت سے رجوع کیاسارے اداروں کی کارکردگی عوام کے سامنے آگئی، ترقی کرنے کیلئے اداروں کو کرپشن سے پاک کرنا ہوگا۔عمران خان نے کہا کہ پی ایس ایل پر نجم سیٹھی کو زیرو نمبر دیتا ہوں نجم سیٹھی نے پاکستان کرکٹ کو خراب کیا ہے نجم سیٹھی کو الیکشن کا صلہ مل رہا ہے پی ایس ایل سیکیورٹی سے پیغام گیا حالات ٹھیک نہیں۔ عمران خان نے خیبرپختونخوا میں حکومت کی ناکامی کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے میں سب کچھ اچھا نہیں، ٹیم بدلنا ہوگی، خیبرپختونخوا میں سب اچھا ہوگیا کہیں تو یہ درست بات نہیں، الیکشن اصلاحات کے معاملہ پر سڑکوں پر آسکتے ہیں، الیکشن کمیشن (ن) لیگ کا حصہ بن چکا ہے، الیکشن کمیشن کے خلاف تحریک چلائیں گے، شفاف الیکشن سے پہلے اپنا چارٹر آف ڈیمانڈ رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ملک سے کرپشن کے خاتمے کیلئے عدالت سے رجوع کیا، کوئی بھی قطری خط ماننے کو تیار نہیں، میرے خلاف کیسز بلیک میل کرنے کیلئے بنائے گئے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے اسمبلی میں جو بیان دیا تھا وہ جھوٹ پر مبمنی تھا۔ مریم نواز لندن فلیٹس کی بینیفشری اونر ہیں ،کورٹ کو دی گئی منی ٹریل جھوٹ پر مبنی تھی ۔ عمران خان نے کہا کہ الیکشن اصلاحات کے معاملہ پر سڑکوں پر آسکتے ہیں ، الیکشن کمیشن (ن) لیگ کا حصہ بن چکا ہے ، الیکشن کمیشن کے خلاف تحریک چلائیں گے ، شفاف انتخابات کےلئے الیکشن سے قبل چارٹر آف ڈیمانڈ رکھیں گے۔
پاک افغان بارڈر کھولنے بارے بڑا فیصلہ, افغان سفیر کو آگاہ کردیا
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) ترجمان دفتر خار جہ نے کہاہے کہ پاک افغان بارڈر کو دور روز کیلئے کھولنے کافیصلہ کر لیاگیاہے۔تفصیلات کے مطابق دفتر خارجہ کی جانب سے جاری کر دہ بیان میں کہا گیاہے کہ پاک افغان بارڈر 7اور 8مارچ کو طورخم اور چمن کے مقام پر کھولا جائے گا ،سرحد کھولنے کافیصلہ پاکستانی ویزے پر واپس آنے والوں کیلئے کیاگیاہے جبکہ ویزے پر افغانستان جانے والے پاکستانی بھی واپس آ سکیں گے۔ مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے اس حوالے سے افغان سفیر کو ٹیلیفون کر کے آگاہ کر دیاہے جبکہ کراسنگ پوائنٹس پر دونوں متعلقہ حکام کو بھی آگاہ کر دیا گیاہے۔
جنرل باجوہ قطر پہنچ گئے, وزیردفاع، ہم منصب سے ملاقاتیں
راولپنڈی (بیورو رپورٹ) آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے قطری وزیر دفاع اور قطری آرمی چیف سے ملاقات کی ہے جس میں علاقائی سلامتی کی صورتحال اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے قطر کا دورہ کیا ہے جس دوران انہوں نے قطری وزیر دفاع ڈاکٹر خالد بن محمد العطیہ سے ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران قطری وزیر دفاع نے پاک فوج کی پیشہ وارانہ صلاحیتوں کو سراہا اور پاکستان کے ساتھ دفاعی تعاون بڑھانے کی خواہش کا اظہار کیا۔علاوہ ازیں آرمی چیف نے قطری مسلح افواج کے سربراہ سے بھی ملاقات کی جس میں علاقائی سلامتی کی صورتحال اورباہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔قطری مسلح افواج کے سربراہ نے خطے کے امن میں پاک فوج کے کردار کو سراہا۔
دہشتگردوں کی افغانستان کی سرحد سے آمدورفت …. آرمی چیف کا اہم اعلان
راولپنڈی( ویب ڈیسک ) آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے افغانستان سے دہشت گردوں کے پاکستانی چیک پوسٹوں پر حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ سرحد پر افغانستان کی جانب سے موثر سیکیورٹی کی ضرورت ہے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے گزشتہ رات افغانستان سے دہشت گردوں کا حملہ ناکام بنانے پر پاک فوج کی موثر کارروائی کو سراہا اور شہید ہونے والے جوانوں کو خراج عقیدت پیش کیا۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید نے کا کہنا تھا کہ دہشت گرد پاکستان اور افغانستان دونوں ممالک کے مشترکہ دشمن ہیں اور سرحد پر افغانستان کی جانب سے موثر سیکیورٹی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کی سرحد پار سے آزادانہ آمدورفت کو روکے جانے کی ضرورت ہے۔
بہادر پاک فوج کی عظمت کو سلام ، مہمند ایجنسی میں دہشتگردوں کے حملے ناکام …. متعدد جہنم واصل
راولپنڈی( ویب ڈیسک ) پاک فوج نے مہمند ایجنسی میں افغانستان سے دہشت گردوں کے پاکستانی چیک پوسٹوں پر حملے کو ناکام بنا دیا ،جوابی کاروائی میں 10دہشت گرد مارگئے ،دہشت گردوں کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں 5اہلکار شہید ہوگئے ‘ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے پاک فوج کی موثر جوابی کارروائی کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گرد مشترکہ خطرہ ہیں ،سرحد پر ان کی آزادانہ نقل و حمل روکنا ضروری ہے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق رات گئے افغانستان سے دہشت گردوں نے مہمند ایجنسی میں 3 پاکستانی چیک پوسٹوں پر حملے کئے جنہیں پاک فوج کے جوانوں نے موثر نگرانی کے عمل کے باعث ناکام بنا دیا۔ دہشت گردوں کے ساتھ مقابلے میں پاک فوج کے 5 جوان شہید ہوئے جب کہ بھرپور جوابی کارروائی میں 10 دہشت گرد بھی ہلاک ہوئے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گردوں کے حملے میں شہید ہونے والوں میں نائیک ثناء اللہ، نائیک صفدر، سپاہی الطاف، سپاہی نیک محمد اور سپاہی انور شامل ہیں۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے پاک فوج کی موثر جوابی کارروائی کو سراہا اور افغان سرحد پر جوانوں کی موجودگی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ سرحدی سلامتی اور موثر کارروائی کے لئے جوانوں کی سرحد پر موجودگی ضروری ہے۔ دہشت گرد مشترکہ خطرہ ہیں سرحد پر ان کی آزادانہ نقل و حمل روکنا ضروری ہے۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے سرحد پر قیمتی جانی نقصان پر اظہار افسوس کیا اور وطن کے دفاع کے لئے بہادر جوانوں کی قربانیوں کی تعریف کی۔ (ن غ)


















