All posts by admin

ملک کے شمالی علاقوں میں شدید سردی، اسکردو میں درجہ حرارت منفی 18 تک گر گیا

ملک بھر میں سردی کی شدت برقرار ہے جب کہ شمالی علاقے شدید سردی کی لپیٹ میں ہیں۔سکردو میں درجہ حرارت منفی 18 ڈگری سینٹی گریڈ تک گر گیا ہے جب کہ استور میں درجہ حرارت  منفی12 اور گوپس میں منفی 9 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔استور میں شدید سرد موسم کے باعث ہر چیز جم جانے سے عوامی مسائل اور مشکلات میں اضافہ ہو گیا ہے۔دوسری جانب  کراچی میں بھی سرد ہواؤں کا راج ہے جہاں کم سے کم درجہ حرارت 9 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اسلام آباد میں ریکارڈ کیا جانے والا کم سے کم درجہ حرارت ایک ڈگری سینٹی گریڈ رہا جب کہ لاہور میں 6، پشاور میں صفر، کوئٹہ میں منفی 4، مظفر آباد میں صفر، گلگت میں منفی 6، ملتان میں 3، فیصل آباد میں 2 اور حیدر آباد میں کم سے کم درجہ حرارت 8 ڈگری سینٹی گریڈ رہا۔ملک بھر میں سردی کی شدت کے حوالے سے محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ پنجاب اور بالائی سندھ کے بیشتر میدانی علاقوں جب کہ خیبر پختونخوا کے بعض اضلاع میں رات اور صبح کے اوقات میں شدید دھند چھائے رہنے کی توقع ہے۔محکمہ موسمیات کا مزید کہنا ہے کہ  ملک کے دیگر علاقوں میں موسم سرد اور خشک جبکہ بالائی علاقوں میں شدید سرد رہے گا

متنازعہ قانون بھارت کی 16ریاستوں میں ہنگامے ،مودی توجہ ہٹانے کے لیے پاکستان پر حملہ کر سکتا ہے ،ضیا شاہد

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں اور تبصروں پر مشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی اور تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ رانا ثناءاللہ کیس میں عدالت نے پر رہائی دی ہے۔ بیگناہ قرار نہیں دیا ابھی تو یہ مقدمہ چلنا ہے۔ میڈیا چینلز پر 90 فیصد اینکر پرسن صرف سنی سنائی بیان کر رہے ہیں جو جاہلیت کی نشانی ہے۔ کسی ملزم کی ضمانت ہونے اور بری ہونے میں واضح فرق ہوتا ہے۔ عدالت سے رانا ثنا کی ضمانت بھی اسی لئے ملی کہ تاریخ پہ تاریخ پڑ رہی تھی اور کیس کی سماعت کے لئے کوئی جج نہیں تھا۔ کیس چل ہی نہیں رہا تھا اسی بنا پر ضمانت دی گئی تاہم ضمانت سے کسی کے بیگناہ ہونے پر گنہ گار ہونے کا تعین نہیں کیا جا سکتا۔ اے این ایف کا موقف بھی یہ ہے کہ کیس چلے گا تو وہ تمام ثبوت پیش کریں گے۔ پارلیمنٹ میں سارے فرشتے نہیں ہوتے شیخوپورہ کے رکن اسمبلی منور منج سے بھی ہیروئن برآمد ہوئی تھی۔ ہمارے قانون دان دیگر تبصرے تو کرتے ہیںیہ کیوں نہیں کہتے کہ کیوں کوئی جج نہیں ہے جو کیس کو سنے۔ پاکستان میں یہ صورتحال ہے کہ عام آدمی پھنس جائے تو کیس سنوائی نہیں ہوتی ہمارے ایک دوست 14 سال جیل میں رہے کیونکہ کیس ایک وکیل کے قتل کا تھا اس لئے وکلا اس کیس کی سماعت ہی نہیں ہونے دیتے تھے۔ روزنامہ ”خبریں“ میں چیف جسٹس کے نام دو اشتہار دیئے گئے کہ کیس تو سنا جائے۔ عام آدمی سے عدالتوں اور تعاون میں جو کچھ سلوک ہوتا ہے بے انصافی ہوتی ہے اس کا شمار ہی نہیں ہے برطانیہ جہاں کی جمہوریت اور قانون کی بالادستی کی مثال دی جاتی ہے وہاں بھی صورتحال یہ ہے کہ الطاف حسین کیخلاف بھارتی ایجنسی سے پیسے لینے اور منی لانڈرنگ کے تمام تر ثبوت ہونے کے باوجود ابھی تک کچھ ایکشن نہیں ہوا۔رکن اسمبلی ہونا یا اپوزیشن میں ہونا اس بات کی قطعاً دلیل نہیں ہے کہ وہ شخص بیگناہ ہے کوئی قصور نہیں کر سکتا، رانا ثناءکیس کا اگلا فیصلہ بھی عدالت نے ہی کرنا ہے۔ اگر کیس میں کوئی کوتاہی ہوئی ہو تو ذمہ دار حکومت اور استغاثہ ہے۔ بھارت کی 26 میں سے 15 ریاستوں میں ہنگامے جاری ہیں جو بڑھتے جا رہے ہیں اس صورتحال میں مودی سرکار کی کوشش ہے کہ پاکستان کے خلاف الزام تراشی کی جائے اور کوئی ایسا بہانہ تراشا جائے جس سے جھڑپ کا جواز پیدا ہو سکے اس تناظر میںایل او سی اور عالمی سرحد پر مسلسل اشتعال انگیزی اور فائرنگ کا سلسلہ جاری ہے۔ خطرناک بات یہ ہے کہ دونوں ملک ایٹمی طاقت روکتے ہیں جنگ ہونے کی صورت میں معیار ایٹمی جنگ کی طرف جا سکتا ہے جس سے آدھی دنیا متاثر ہو گی۔ امریکہ بھارت کیخلاف کوئی کارروائی نہیں کرتا کہ اس کی پالیسی صرف اتنی ہے کہ دو تین منسٹر یا ارکان کانگریس صرف بھارت کیخلاف بیان دے دیتے ہیں۔ اس سے زیادہ کی توقع بھی نہیں رکھنی چاہئے۔ امریکہ میں امریکی تھنک ٹینک کی خاتون عہدیدار سے خود سن چکا ہو ںکہ پاکستان کو کبھی توقع نہیں رکھنی چاہئے کہ امریکہ بھارت کے مقابلے میں اس کی حمایت کرے گا۔ امریکہ بھارت کو دنیا کی بڑی جمہوریت سمجھتا ہے اس لئے وہ ہمیشہ اس کی طرف داری اور حمایت کرے گا۔

2007میںبی بی شہید کی امتنان شاہد کے ہمراہ عشائیہ کے موقع پر آخری تفصیلی گفتگو محترمہ شہید کا کسی میڈیا گروپ ،چینل یا ادارے کو دیا گیا آخری انٹرویو

ء2007کے وسط میں پاکستان کی پہلی خاتون وزیراعظم شہید بینظیر بھٹو نے خبریں گروپ کو اپنی 9 سالہ جلا وطنی ختم کرنے سے چند ماہ قبل آخری تفصیلی انٹرویو دیا جو دبئی میں ان کی رہائشگاہ پر ایڈیٹر خبریں گروپ امتنان شاہد کو عشائےے کے موقع پردیا گیا۔ اسوقت شہید بینظیر بھٹو کی والدہ نصرت بھٹو حیات تھیں اور اسی گھر میں مقیم تھیں۔ البتہ بیماری کی وجہ سے اپنے کمرے تک محدود رہتیں ۔ پاکستان پیپلزپارٹی کے موجودہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری ان دنوں اپنی تعلیم مکمل کرکے چھٹیاں گزارنے والدہ کے پاس دبئی میں مقیم تھے اور اپنے لڑکپن سے گزررہے تھے۔ پاکستان اور بین الاقوامی حالات پر گہری نظر رکھنے والے بینظیر بھٹو ایک منجھی ہوئی سیاستان اورباخبرشخصیت کی مالک تھیں۔ ….کمال کا حافظہ‘ بہترین میزبان اور بطور لیڈر اپنے ملک سے لگاﺅ رکھنے والی بے باک خاتون۔ وہ پاکستان کے ہر ادارے کو مضبوط دیکھنا چاہتی تھیں اور بار بار یہ بات دہراتیں کہ پاکستان کی نوجوان نسل میں بہت ”Potential“ہے۔ آرمی چیف اور اس کے وقت صدر پرویز مشرف سے اپنے مذاکرات کو ”Normal “قرار دیتیں اور اس بارے ہنستے ہوئے کہتی تھیں کہ یہ کوئی نئی چیز نہیں بلکہ معمول کی بات ہے اور روایت ہے کہ پاکستان کی تمام سیاسی جماعتیں ہر دور میں فوجی اور عسکری اداروں سے بات چیت کرتی آئی ہیں۔ وہ سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے زیادہ حق میں نہ تھیں البتہ کھل کر مخالفت بھی نہیں کرتی تھیں۔ انہوں نے اس وقت کے صدر پرویز مشرف کو انٹرویو میں ایک ”Flexible “جرنیل قرار دیا۔ 2008ءکے عام انتخابات میں اس وقت چند ماہ باقی تھے۔ انہوں نے بات چیت میں پیش گوئی کی تھی کہ آنے والے انتخابات میں پاکستانی قوم کے سامنے تین ”Choices“ ہونگی‘ فوج کی حمایت یافتہ جماعتیں‘ دینی جماعتیں یا جمہوریت پر یقین رکھنے والی طاقتیں…. ان کی پیش گوئی اس وقت بالکل درست ثابت ہوئی جب 2007ءکے آخر میں ان کی وطن واپسی پر پنڈی میں قاتلانہ حملے میں ان کی شہادت ہوئی اور اس کے بعد ہونے والے انتخابات میں پیپلز پارٹی نے میدان مارلیا۔ یہ تھی شہید بینظیر کی سیاسی بصیرت جوکہ ان کی شہادت کے بعد بھی درست ثابت ہوئی۔ خبریں گروپ کو دیا گیا یہ انٹرویو ان کی 9 سالہ جلاوطنی ختم ہونے سے قبل پاکستان کے کسی میڈیا ادارے‘ اخبار یا ٹیلی ویژن چینل کو دیا جانے والا آخری تفصیلی انٹرویو تھا جس کے کچھ روز بعد وہ پاکستان روانہ ہوئیں اور اپنے وطن کی مٹی پر شہادت پاکر جہان فانی کی طرف کوچ کرگئیں۔ اللہ ان کے درجات بلند فرمائے۔ آمین
آج ان کی شہادت کو 12 سال پورے ہوگئے لیکن بینظیر بھٹو تاقیامت اس ملک میں ایک حقیقت بن گئیں جس کو مٹاناناممکن ہے۔

مودی کا متنازعہ شہریت بل،بھارتی عیسائی بھی احتجاج میں شامل

نئی دہلی، مظفر نگر، گجرات، احمد آباد، لکھنو (نیٹ نیوز) بھارت میں شہریت ترمیمی قانون کے خلاف حتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے اور اس کے خلاف اب کئی دیگر حلقوں کے ساتھ ساتھ مسیحی رہنماو¿ں کی جانب سے بھی آوازیں بلند ہونے لگی ہیں۔ بھارتی ٹی وی کے مطابق دارالحکومت نئی دہلی کی جامعہ ملیہ اسلامیہ، جو ان احتجاجی مظاہروں کا مرکز ہے، میں کرسمس کے جشن کو مظاہرین کی جانب سے انوکھے انداز میں منایا گیا۔ مسیحی مکتب فکر کی کئی سرکردہ شخصیات جامعہ پہنچیں اور طلبہ کے ساتھشہریت ترمیمی ایکٹ کے خلاف اپنی آواز بلند کی۔ اس موقع پر بھارتی آئین کو پڑھا گیا اور اس کی پاسداری کا عہد کیا گیا۔ اس موقع پر دہلی کے انسانی حقوق کے کئی کارکنوں نے انقلابی گیت گائے اور کرسمس کا کیک کاٹا گیا۔ گزشتہ روز بھارتی عیسائی بھی مسلمانوں کے ساتھ متنازعہ شہریت بل کیخلاف احتجاج میں شامل ہو گئے۔وزیراعلیٰ مغربی بنگال نے تیسرے روز بھی جاری احتجاجی جلوس کی قیادت کی اور احتجاجی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مودی کے متنازعہ شہریت بل پر اپنے صوبے میں عملدرآمد نہیں کروں گی۔ معروف بھارتی مصنفہ اروندھتی رائے نے کہاہے کہ نیشنل رجسٹر فار سٹیزن شہریوںکے لئے ایک ڈیٹا بیس کے طور پر کام کرے گا ۔ انہوں نے دہلی یونیورسٹی میں ایک احتجاجی اجتماع میں کہاکہ شہریوں کا قومی رجسٹر ہندوستانی مسلمانوں کے خلاف ہے۔اروندھتی رائے نے کہاکہ سرکاری عہدیدار قومی آبادی رجسٹر مہم کے تحت لوگوں کے نام ، پتے اور دیگر تفصیلات لینے کے لئے لوگوں کے گھروں کا دورہ کریں گے۔ وہ آپ کا نام ، فون نمبر لیں گے اور آدھار اور ڈرائیونگ لائسنس جیسی دستاویزات طلب کریں گے ۔ہمیں اس کے خلاف لڑنے کی منصوبہ بندی کرنے کی ضرورت ہے۔ رائے نے کہا کہ لوگوں کو چاہئے کہ وہ اپنا اصل پتہ دینے کی بجائے مختلف پتہ درج کروائیں اور اپنا پتہ وزیر اعظم ہاو¿س،7 ریس کورس روڈ لکھوانا چاہئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں مضبوط بغاوت کی ضرورت ہوگی ، ہم لاٹھیوں اور گولیوں کا سامنا کرنے کے لئے پیدا نہیں ہوئے ہیں۔بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے ظالمانہ اقدامات پر ایک ہندو طالبہ نے رد عمل کے طور پر مسلمان ہونے کا اعلان کر دیا ہے۔تفصیلات کے مطابق بھارت میں اقلیتوں کے خلاف قانون پر احتجاج کی آگ مزید پھیل گئی ہے، بھارتی پولیس نے مسلمانوں کے گھروں پر حملے شروع کر دیے، مظفر نگر اور کانپور میں گھروں میں گھس کر توڑ پھوڑ اور لوٹ مار کی گئی۔احتجاج میں ہلاکتوں کی تعداد اب تک 28 ہو گئی ہے، جب کہ ساڑھے تین ہزار سے زائد افراد گرفتار کر لیے گئے ہیں۔دلی کی ایک ہندو طالبہ نے احتجاجا اعلان کیا ہے کہ میرے کسی ساتھی کو حراستی مرکز میں ڈالا گیا یا ہندو مسلم کے نام پر تفریق کی گئی تو میں بھی مسلمان ہو جا وں گی، مذہب تبدیل کر لوں گی، ہم پیچھے ہٹنے والے نہیں ہیں، ایک کو گولی ماروگے تو دوسرا کھڑا ہوگا۔ بھارت کی شمالی ریاست اتر پردیش نے متنازعہ شہریت کے قانون کے خلاف احتجاج میں شریک 200 سے زائد مظاہرین سے سرکاری جائیدادوں کو پہنچنے والے نقصان کے ازالے کا مطالبہ کرتے ہوئے ان کی جائیدادیں ضبط کرنے کی دھمکی دے دی۔ کرناٹک میں مسلم خواتین نے شہریت قانون کے خلاف آواز بلند کرتے ہوئے اپنا احتجاج درج کرایا۔ شہریت قانون کے خلاف مسلم خواتین نے بھی بڑی تعداد میں سڑک پر اتریں اور پرامن طریقہ سے احتجاج کرتے ہوئے شہریت قانون کو فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا۔ شہریت ترمیمی قانون کے خلاف طلبائے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے احتجاج کا آٹھواں دن تھا۔ بنگلور کے قریب سوندیکوپاگاﺅں میں کرناٹک کا پہلا حراستی کیمپ تیار ہو گیا ہے، جہاں غیر قانونی طور پر ہندوستان آنے والے اور رہ رہے غیر ملکی شہریوں کو رکھا جائے گا۔

جی ایس پی پلس سے سالانہ 3ارب ڈالر فائدہ ہوتا ہے ،گورنر پنجاب 2013ءمیں بھی چودھری سرور نے پاکستا ن کو جی ایس پی پلس سٹیٹس دلانے کیلئے کلیدی کردار ادا کیا تھا:ضیا شاہد ضیا شاہد اور امتنان شاہد کی گورنر چودھری سرور سے ملاقات‘ ملکی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال

لاہور ( خبر نگار) گورنر پنجاب چودھر ی محمد سرور سے چیف ایڈیٹر خبریں ضیاءشاہد اور ایڈیٹر خبریں و سی او چینل فائیو امتنان شاہد کی گورنر ہاﺅس میں ملاقات ہوئی ہے ، ملاقات میں گورنر پنجاب سے ملکی و سیاسی صورتحال پر گفتگو ہوئی ، گورنر پنجاب نے یورپی پارلیمنٹ کے وائس پریزیڈنٹ فابیو ماسیموکاستالدو کے دورہ پاکستان کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یورپی پارلیمنٹ کے وائس پریزیڈنٹ فابیو ماسیموکاستالدو کا پاکستان کا دورہ بہت اہمیت کا حامل ہے جس سے پاکستان کو معاشی طور پر بڑے پیمانے پر فائدہ ہوگا ۔ گورنر پنجاب کا کہنا تھا کہ رواں ماہ کے آغاز میں یورپ کا دورہ انتہائی شاندار اور کامیاب رہا جس میں جی ایس پی پلس سٹیٹس میں تجدید کے لئے تمام ستائیس بین الاقوامی کنوینشنز کی پاکستان کی جانب سے عملداری کا یقین دلایا تھا اور انہیں پاکستان کی جانب سے امن کے قیام ، مذہبی آزادی ، اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ ، لیبر قوانین ، آزادی رائے اور ماحولیات کے تحفظ پر اٹھائے جانیوالے اقدامات بارے اعتماد میں لیا تھا ۔ اس موقع پر گورنرپنجاب کا کہنا تھا کہ دورے میں بھارت کی کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں اور مودی سرکار کی نسل پرست پالیسیوں کو بھی بین الاقوامی سطح پر اجاگر کیا تھا ۔ گورنر پنجاب نے بتایا کہ جی ایس پلس سٹیٹس کی وجہ سے پاکستان کو سالانہ تین ارب ڈالر کا فائدہ ہوتا ہے اور پچھلے پانچ سالوں میں پاکستانی معیشت کو پندرہ ارب ڈالر کا فائدہ ہوا ہے اور پاکستان کی معیشت بہتری کی جانب گامزن ہے ۔ گورنر پنجاب نے مزید گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ تمام بین الاقوامی معاشی ادارے بھی اس امر کی تصدیق کر چکے ہیں کہ ایسے میں بھارتی لابی نہیں چاہتی کہ پاکستان کو مزید تین سال کے لئے جی ایس پی پلس کی تجدید ملے ۔ ملاقات میں سیاسی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا جبکہ چیف ایڈیٹر خبریں ضیاءشاہد اور ایڈیٹر خبریں و سی او چینل فائیو امتنان شاہد نے یورپی پارلیمنٹ کے وائس پریزیڈنٹ فابیو ماسیموکاستالدو کے دورہ پاکستان کے حوالے سے گورنر پنجاب چودھر ی محمد سرور کی کاوشوں کو سراہا اس موقع پر چیف ایڈیٹر خبریں ضیا ءشاہد نے کہا کہ گورنر پنجاب چودھر ی سرور نے 2013میں بھی پاکستان کو جی ایس پی پلس اسٹیٹس دلانے کے لئے کلیدی کردار ادا کیا تھا جس پر پوری قوم آپ کی کاوشوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے ۔

خون جما دینے والی سردی اور دھند نے نظام زندگی مفلوج کر دیا

لا ہور (خصوصی ر پورٹر) پنجاب بھر میں شدید دھند نے ڈیرے ڈال لیے جس کے نتیجے میں شہریوں کے معمولات زندگی متاثر ہوگئے۔دھند کے باعث حد نگاہ کم ہو گئی اور موٹروے کو متعدد مقامات سے ٹریفک کےلیے بند کردیا گیا جبکہ دیگر شاہراہوں پر بھی ٹریفک کی روانی سست روی کا شکار ہوگئی۔ٹھنڈی ہواو¿ں کے باعث سردی کی شدت میں بھی اضافہ ہوگیا۔ اوس پڑنے سے سڑکوں پر پھسلن بھی پیدا ہوگئی ہے اور مختلف حادثات میں متعدد افراد زخمی ہوگئے جنہیں قریبی اسپتالوں میں طبی امداد فراہم کی گئی۔حد نگاہ کم ہونے کے باعث ایئرپورٹس پر متعدد پروازیں تاخیر کا شکار ہوگئیں اور ٹرینوں کا شیڈول بھی سخت متاثر ہے۔

رانا ثنا کے خلاف ثبوت آنکھوں دیکھے،شہریار آفریدی قسمیں کھانے کا موقف چکنا چور،خواجہ آصف

اسلام آباد (نامہ نگار خصوصی) وزیر مملکت برائے انسداد منشیات شہریار آفریدی نے ایک بار پھر دعویٰ کیا ے کہ ہم نے سابق صوبائی وزیر رانا ثناءاللہ منشیات برآمدگی کیس میں 17 روز میں تمام ثبوت عدالت کے سامنے رکھ دیئے تھے،منشیات برآمدگی کے کیس میں کسی بھی لیول پر ڈیل نہیں ہو گی، جتنا دباو¿ آئے گا برداشت کروں گا،رانا ثناءبری نہیں ہوئے ضمانت ہوئی ہے ، اب بھی ملزم ہیں ،ثبوت اپنی آنکھوںسے دیکھے ہیں ، رانا ثناءاللہ کیس ک منطقی انجام تک پہنچائیں گے ،ہم دل سے عدالتوں کا احترام کرتے ہیں، عدالتیں جس معاشرے میں نہیں ہوتیں وہ کھوکھلے ہو جاتے ہیں، تمام لیگل پروسیجر کو سامنے رکھتے ہوئے فیصلے کو پڑھیں گے۔ بدھ کو یہاں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر مملکت برائے انسداد منشیات شہریار آفریدی نے ایک بار پھر دعویٰ کیا ہے کہ اے این ایف ایک پروفیشنل فورس ہے، ہم نے رانا ثناءاللہ منشیات برآمدگی کیس میں 17 روز میں تمام ثبوت عدالت کے سامنے رکھ دیئے تھے۔انہوں نے کہا کہ رانا ثناءاللہ سے منشیات برآمدگی کے کیس میں کسی بھی لیول پر ڈیل نہیں ہو گی، جتنا دباو¿ آئے گا برداشت کروں گا، تمام ثبوت اپنی آنکھوں سے دیکھے ہیں، کیس کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے۔میڈیا پر تاثر یہ دیا گیا کہ رانا ثناءاللہ شاید بری ہو گئے ہیں لیکن قوم کو بتانا چاہتا ہوں کہ وہ اب بھی ملزم ہیں۔انہوںنے کہاکہ میڈیا پر کہا گیا کہ کدھر ہے ویڈیو، میں بتا دوں کہ ویڈیو کا ہرگز مقصد یہ نہیں کہ رانا ثناءاللہ کے مختلف پوز والی ویڈیوز ہوں، ویڈیو اور فوٹیج میں فرق ہوتا ہے اور ہم نے تین ہفتے تک رانا ثناءاللہ کی نقل و حرکت کو چیک کیا۔شہریار آفریدی نے کہا کہ میں ملک سے باہر تھا، تاثر دیا گیا کہ بھاگ گیا ہوں، ہم بھاگنے والے نہیں ہیں، ہم نے قانونی معاملات میں کوئی دخل اندازی نہیں کی، وقت ثابت کرے گا کہ یہ موسم ضمانتوں کا موسم ہے۔انہوں نے کہا کہ نواز شریف کے پلیٹیلیٹس گر گئے لیکن وہ بیرون ملک جا کر علاج نہیں کروا رہے، نواز شریف باہر جا کر شاپنگ کر رہے ہیں۔رانا ثناءاللہ سے متعلق بات کرتے ہوئے وزیر مملکت نے کہا کہ رانا ثناءکے اثاثے کیسے بڑھے، رانا ثناءاللہ کہتے ہیں کہ آمدنی کا ذریعہ پراپرٹی اور وکالت ہے لیکن آج تک ایک بار بھی عدالت میں پیش نہیں ہوئے۔قومی اسمبلی اور سینیٹ میں پریس کانفرنس کے دوران 17 دسمبر کو تمام ثبوت پیش کیے، جب میں کہتا ہوں کہ جان اللہ کو دینی ہے تو اس کا مطلب ہے حلف ہے جو ہم اٹھاتے ہیں۔وزیر مملکت نے کہا کہ ہم دل سے عدالتوں کا احترام کرتے ہیں، عدالتیں جس معاشرے میں نہیں ہوتیں وہ کھوکھلے ہو جاتے ہیں، تمام لیگل پروسیجر کو سامنے رکھتے ہوئے فیصلے کو پڑھیں گے۔انہوںنے کہاکہ پہلے عدالتی فیصلہ آنے دیں، جب کیس کا ٹرائل شروع ہو گا تو قانونی نکات کا بغور جائزہ لے کر گواہان کو عدالت میں پیش کر دیں گے۔شہریار آفریدی نے دعویٰ کیا کہ وزیراعظم اپنی ٹیم کو سپورٹ کرتے ہیں اور مجھ پر عمران خان کا اندھا اعتماد ہے۔ایک سوال کے جواب میں شہریار آفریدی نے کہا کہ ہم جیوری نہیں کسی کو سزا نہیں دے سکتے، مجھے جو فیڈ بیک ملتا ہے اس کی بنیاد پر بات کرتا ہوں، جب عدالتی فیصلہ آئے گا تو آئندہ کا لائحہ عمل تیار کریں گے۔انہوں نے تردید کی کہ میں کانفرنس میں لفظ ویڈیو نہیں بلکہ فوٹیج استعمال کیا تھا۔شہریار آفریدی نے کہا کہ میڈیا کو تصویر کے دونوں رخ دیکھانے چاہیے، میڈیا کی بہت بڑی اخلاقی ذمہ داری ہے۔انہوںنے کہاکہ رانا ثنا اللہ کیس کو میڈیا ٹرائل نہ بنائیں، کیا قوم اور میڈیا سانحہ ماڈل ٹاو¿ن بھول چکے ہیں،انہوں نے کہا کہ ماڈل ٹاو¿ن میں کس نے معصوم لوگوں کو گولیاں ماریں؟انہوںنے کہاکہ میری یا اے این ایف کی کسی سے کوئی ذاتی رنجش نہیں، قانون کی حکمرانی پر کسی صورت سودے بازی نہیں ہوگی۔انہوںنے کہاکہ وزیر اعظم عمران خان سمیت پوری ٹیم کو اللہ کے بعد میڈیا نے عوامی شناخت دی۔

دنیا نے بھارت کا مکروہ چہرہ دیکھ لیا کشمیریوں کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑے ہیں،عمران خان

اسلام آباد (نامہ نگار خصوصی)وزیراعظم عمران خان نے قائداعظم کے یوم پیدائش کے موقع پر قوم کے نام اپنے پیغامیں کہا ہے کہ کو پاکستان کی ”شہ رگ“کہا تھا، پوری قوم اپنے کشمیری بھائیوں کے پیچھے چٹان کی طرح کھڑی ہے، بابائے قوم نے برصغیر کے مسلمانوں کی الگ شناخت اورسیاسی سمت کا تصور دیا۔ پوری قوم عظیم رہنما قائداعظم محمدعلی جناح کو خراج عقیدت پیش کر رہی ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان قائداعظم کے تصور کے مطابق ترقی کی راہ پرگامزن ہے، ہمیں متحد ہو کر قائداعظم کی تعلیمات پر قائم رہنے کے عزم کا اعادہ کرنا ہے، ترقی کیلئے اتحاد، ایمان اور نظم وضبط کے اصولوں پرعمل پیرا ہونا ہے۔وزیراعظم عمران خان کا اپنے پیغام میں کہا کہ قائداعظم 20 ویں صدی کے عظیم اور صاحب بصیرت رہنما تھے، ان کی کرشمہ ساز شخصیت کے سبب کروڑوں مسلمان کڑے حالات کا مقابلہ کرنے کیلئے متحد ہو گئے ۔انہوں نے کہا کہ پوری دنیا بھارت کے نام نہاد سیکولر ازم کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہی ہے جہاں کس طرح اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں کیخلاف سرکاری سطح پر نفرت انگیز اور ظالمانہ اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں،یہ وہی سنگین صورتحال ہے جو قائداعظم نے اپنی دور اندیش بصیرت کے ذریعے بہت پہلے ہی محسوس کر لی تھی کہ انتہا پسند ہندو مسلمانوں کو کبھی عزت اور وقار سے جینے نہیں دیں گے،بھارت میں مسلمانوں سے امتیازی سلوک قائداعظم کے یقین کی تصدیق ہے ۔ انہوں نے کہا کہ قائداعظم کو خراج عقیدت پیش کرنے کا بہترین طریقہ یہی ہے کہ ان کے ایمان، اتحاد اور تنظیم کے اصولوں پر پوری طرح عمل کیا جائے۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ نوجوان لیڈرشپ کو قائداعظم کو اپنا رول ماڈل بنانا چاہئے،ہمیں بطور قوم ملک کو قائد کے ویژن کی روشنی میں اسلامی ویلفیئر سٹیٹ میں ڈھالنا ہو گا۔ ٹویٹر پر اپنے ایک ٹویٹ کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہمیں بطور قوم ملک کو قائد کے ویژن کی روشنی میں اسلامی ویلفیئر سٹیٹ میں ڈھالنا ہو گا۔ان کا کہنا تھا کہ ایسی ریاست بنانی ہے جہاں انصاف کی فراہمی اور قانون کی عملداری ہو، نوجوان لیڈرشپ کو قائداعظم کو اپنا رول ماڈل بنانا چاہئے۔عمران خان کا کہنا تھا کہ قائداعظم صادق اور امین تھے، ان کی 40 سالہ جدوجہد کسی ذاتی مقصد کے لئے نہیں تھی، انہوں نے اتنی جدوجہد مسلمانوں کے لئے الگ ملک کے حصول کی خاطر کی۔اس سے قبل سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے مسیحی برادری کو مبارکباد دی اور نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج امن، محبت، رواداری اور انسانیت کا پیغام عام کرنے کا دن ہے۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ حکومت اقلیتوں سمیت تمام پاکستانیوں کیساتھ یکساں سلوک روا رکھے گی، پاکستان میں اقلیتی برادری کو مکمل معاشی، سیاسی اور مذہبی آزادی حاصل ہے، اقلیتیں ملکی ترقی کیلئے تمام شعبوں میں کردار ادا کر رہی ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ قائداعظم کے یوم پیدائش پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ بطور قوم پاکستان کو اسلامی فلاحی ریاست بنانے کا عزم کریں۔ ایک ایسی ریاست جس کی بنیاد انسانی وقار انصاف و قانون کی حکمرانی پر ہو۔نوجوان قائداعظم کو اپنا ماڈل بنائیں ۔ قائداعظم محمد علی جناحؒ صادق اور امین تھے ۔ انہوں نے مزید کہاکہ قائد کی 40 سالہ جدوجہد ذاتی مفاد نہیں بلکہ مسلمانوں کے الگ وطن کیلئے تھی ۔ ایسا ملک جہاں مسلمان آزاد شہری کے طورپر زندگی بسر کرسکیں۔

شہبازکا ایک اور کرپشن کیس کھل گیا رنگ روڈ میں 59ارب کی بے ضا بطگی،چیئر مین نیب نے انکوائری کا حکم دے دیا

اسلام آباد (خبرنگار خصوصی) چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال نے لاہور رنگ روڈ کی تعمیر میں بدعنوانی کا نوٹس لے لیا۔ تفصیلات کے مطابق چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے لاہو ررنگ روڈ کی تعمیر میں بدعنوانی کا نوٹس لے لیا ہے اور چیئرمین نیب نے ڈی جی نیب لاہور کو رنگ روڈ کی تعمیر میں 62ارب روپے لاگت کی انکوائری کرنے کی ہدایت کردی ہے چیئرمین نیب نے کہا ہے کہ بی آر ٹی پشاور کا منصوبہ عدالت میں زیر سماعت ہے اور کیس پر سپریم کورٹ کے فیصلے کا انتظار ہے عدالت کے احکامات کی روشنی میں نیب پشاور بی آر ٹی کے خلاف انکوائری کو آگے بڑھائے گی واضح رہے کہ سابق وزیراعلیٰ شہبازشریف کے دور میں ایک اور بڑے منصوبے لاہور رنگ روڈ میں اربوں روپے کی بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے اور اس حوالے سے اسپیشل آڈٹ رپورٹ تیار کرلی گئی ہے جس کے مطابق سول ورک زمین کی خریداری منیجمنٹ اور ٹھیکہ دینے میں 59ارب 39کروڑ 94لاکھ روپے سے زائد کی بے ضابطگیاں ہوئیں جب کہ زمین کی خریداری میں 15ارب 51کروڑ زائد قیمتوں کی مد میں 4ارب 36 کروڑ کی بے بطگیاں شامل ہیں۔ چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کا کہنا ہے کہ نیب نے ایک منزل کا تعین کیا ہے جس کا مقصد بدعنوان عناصر، اشتہاری اور مفرور ملزمان کو منطقی انجام تک پہنچانا ہے۔چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کا کہنا ہے کہ نیب ملک سے بدعنوانی کے خاتمے کے لئے فیس نہیں بلکہ کیس دیکھنے اور احتساب سب کے لئے کی پالیسی پرعمل پیرا ہے، نیب نے ایک منزل کا تعین کیا ہے جس کا مقصد بدعنوان عناصر اشتہاری اور مفرور ملزمان کو منطقی انجام تک پہنچانا ہے۔چیئرمین نیب نے کہا کہ نیب نے گزشتہ 27ماہ میں بدعنوان عناصر سے قوم کے 153 ارب روپے برآمد کرکے قومی خزانے میں جمع کرائے،630 ملزمان کو گرفتار کرنے کے علاوہ تقریبا 600 بدعنوانی کے ریفرنسز احتساب عدالتوں میں جمع کرائے، اس کے علاوہ نیب کے اس وقت 25 احتساب عدالتوں میں بدعنوانی کے 1261 ریفرنسز زیر سماعت ہیں۔چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کا کہنا تھا کہ نیب کا تعلق کسی سیاسی جماعت، گروہ اور فرد سے نہیں، ہمارا تعلق صرف اور صرف ریاست پاکستان سے ہے، نیب کا مقصد ملک و قوم کی لوٹی گئی رقوم کی واپسی ہے۔

متعصب ہندو مودی نے مسلمانوں کا جینا حرام کر دیا ،قائد اعظم کا دو قومی نظریہ درست ثابت،ضیا شاہد

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں اور تبصروں پر مشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے معروف سینئر صحافی ضیا شاہد نے کہا ہے کہ میں نے زندگی میں قائداعظم پر بہت پڑھا پاکستان میں قائداعظم کا ایک سال منایا گیا تھا۔ میں اس سال پی ٹی وی پر روزانہ قائداعظم کی زندگی پر 5 منٹ کا ایک واقعہ سناتا تھا۔ 360 دن تک میں ناتا رہا تھا۔ میں نے بہت پڑھا جتنے واقعات مختلف لوگوں نے لکھے تھے میں نے ان کی تصدیق کی جو ان میں زیادہ سے زیادہ قابل اعتبار تھے قابل یقین تھے جن میں کوئی شکوک و شبہات نہیں پائے جاتے تھے ان کو جمع کیا۔ پھر کتابی شکل میں بڑے سائز میں اس کا نام ہے ”سچا اور کھرا لیڈر“ میں نے اپنی زندگی میں جتنے بھی لیڈر پڑھے جن کے بارے میں کچھ معلومات حاصل کیں میں سیاسی لیڈروں کی بات کر رہا ہوں ان میں سے قائد کی ذات مجھے سب سے ایک پروقار اور قابل اعتماد اور صاحب کردار شخص نظر آئے۔ ان کے بچپن کے واقعات، طالب علمی کے زمانے کے واقعات سامنے ہیں جب وہ نو عمری میں ہی انگلینڈ چلے گئے۔ وہاں پڑھتے رہے وہاں جب قانون کی ڈگری پھر بارایٹ لا کے بعد وہ انڈیا آئے اس وقت پاکستان نہیں بنا تھا اور انہوں نے ممبئی میں اپنی پریکٹس شروع کی۔ بلاﺅتھ نے جنہوں نے قائداعظم پر کتاب لکھی ہے وہ ایک انگریز مصنف تھے جن کو انہوں نے بلایا تھا سرکاری اخراجات پر جو لیاقت علی خان تھے قائداعظم کے ساتھی تو انہوں نے ان کو بلایا اور انہوں نے بڑی تحقیق کے ساتھ لکھا جب ابتدائی زندگی میں وکیل کی حیثیت سے کام شروع کیا جہاں تک ان کی ایمانداری کا تعلق ہے مشہور واقعہ ہے کہ ایک مقدمہ میں ان کی فیس طے ہوئی۔ فیس کا ان دنوں رواج تھا کہ جتنی پیشیاں اتنی فیس۔ ہر ایک پیشی کے اعتبار سے فیس لیا کرتے تھے انہوں نے جو پیسے طے کئے تو جب انہوں نے مقدمہ شروع کیا تو اتنے دنوں سے بہت پہلے ہی کیس جیت لیا۔ جب ہندو سیٹھ کا کیس لڑ رہے تھے انہوں نے ایک لفافے میںپیسے جو بچے وہ واپس ڈالے اور ان کو واپس کر دیئے ہندو سیٹھ نے کہا کہ میں بہت خوش ہوں کہ آپ نے میرا مقدمہ جیت لیا میں اپنی خوشی سے آپ کو دیتا ہوں۔ قائد نے کہا کہ میں اصول پر چلتا ہوں میرا اصول یہ تھا کہ اتنی پیشیوں کے اتنے پیسے لوں گا جتنی پیشیاں میں نے استعمال کیں اس سے بہت پہلے آپ کا کام ہو گیا تو میں پیسے نہیں رکھوں گا ان پیسوں پر میرا کوئی حق نہیں ہے۔ اس واقعہ سے محسوس ہوتا ہے کہ وہ کس قدر دیانتدار، صاف گو انسان تھے۔ ایک اور واقعہ میری کتاب میں ہے ان کے پاس ایک کک کام کرتا تھا۔ پٹھان تھا۔ ایک دن اس نے کہا میرے بچے بڑے ہو گئے ہیں اب مجھے اجازت دیں میں واپس صوبہ سرحد جانا چاہتا ہوں جس کو آج کل خیبرپختونخوا کہتے ہیں۔ آپ مجھے اچھا سا خط لکھ دیں تا کہ میں خط دکھا کر کسی اچھے گھر میں ملازمت حاصل کر سکوں تو قائد نے کے ایچ خورشید کو جو ان کے سیکرٹری تھے ان سے کہا کہ خط لکھیں۔ قائد نے جو خط ڈکٹیٹ کروایا تو وہ انگریزی میں تھا جب کے ایچ خورشید نے ٹائپ کر کے اس کو دیا وہ تو انگریزی نہیں جانتا تھا تو وہ فاطمہ جناح کے پاس گیا اور کہا کہ مجھے پڑھ کر سنائیں کہ کیا لکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لکھا ہے کہ یہ بہت اچھا باورچی ہے اپنا کام اچھی طرح جانتا ہے مگر اس میں بڑی خرابی ہے کہ لڑتا جھگڑتا بہت ہے اس ایک خرابی کے سوا کوئی کمی نہیں ہے جب اس نے سنا تو خط لے کر قائد کے پاس واپس آ گیا کہ اس خط پر مجھے کون ملازمت دے گا یہ تو آپ نے میرے خلاف لکھ دیا ہے تو قائد نے کہا کہ میں وہی کچھ لکھوں گا جو سچ ہو گا۔ میں سچ کے سوا کچھ نہیں لکھوں گا۔ آج کل جب الیکشن ہوتا ہے تو لوگ لاکھوں کروڑوں روپے خرچ کرتے ہیں۔ ایک واقعہ ہے کہ جی ایم سید ان دونوں مسلم لیگ میں تھے۔ جی ایم سید سندھ کے رہنے والے تھے۔انہوں نے مسلم لیگ کے ٹکٹ پر کھڑے ہوئے مقابلہ میں دو آدمی اور تھے جی ایم سید نے قائد کو خط لکھا کہ ایک آدمی تو بیٹھنے کے لئے تیار نہیں ہے ایک میرے حق میں بیٹھنا چاہتا ہے لیکن وہ کہتا ہے جتنے میرے پیسے اخراجات ہوئے ہیں وہ مجھے مل جائیں تو میں آپ کے حق میں دستبردار ہو جاﺅں گا اگر وہ بیٹھ جائے تو میری کامیابی یقینی ہو جائے گی اس لئے اجازت دیں کہ ہم مسلم لیگ فنڈ میں سے اس کو پیسے ادا کر دیں۔ قائد نے مختصر جواب لکھا ”میں سیٹ ہارنا پسند کروں گا بہ نسبت اس کے کہ میں سیٹ خریدوں“ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ قائد کے ذہن میں الیکشن کا کیا تصور تھا۔ اور آج لاکھوں کروڑوں خرچ کر کے لوگ الیکشن میں کامیاب ہوتے ہیں قائد کا اس بارے کیا تصور تھا۔ قائداعظم پہلے کانگریس میں تھے۔ انہوں نے محسوس کیا کہ ہندو بہت متعصب اور تنگ نظر ہے اور مسلمانوں کو ان کے حقوق دینے کے لئے تیار نہیں اس لئے انہوں نے کانگریس چھوڑ کر مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کی اور آہستہ آہستہ بہت زیادہ کوشش کی اور مسلم لیگ کو منظم کیا اور دو قومی نظریے کا آغاز کیا۔ 1940ءمیں جو قائد نے لاہور ہی میں ایک اقبال پارک جس کا اس کا نام اس وقت منٹو پارک تھا اس جلسے میں خطاب کیا جس میں انہوں نے دو قومی نظریہ پیش کیا۔ اس کا مطلب تھا کہ ہندو اور مسلمان دو الگ الگ قومیں ہیں اور یہ ایک ساتھ اکٹھے نہیں رہ سکتے۔ جوں جوں وقت گزرتا چلا جا رہا ہے آج انڈیا میں جو حالات ہیں جس طریقے سے مسلمانوں کا جینا حرام کیا ہوا ہے مودی نے اور جس طریقے سے متعصب ہندوﺅں نے ان کی زندگیاں تنگ کر دی ہیں اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ قائداعظم کا دو قومی نظریہ بالکل درست تھا اور دو سو فیصد ٹھیک تھا۔ اس وقت مولانا ابوالکلام آزاد اور جو دیو بند کے علماءتھے جو یہ کہتے تھے کہ ہندوﺅں اور مسلمانوں کو اکٹھے مل کر رہنا چاہئے وہ آج وہ بھی محسوس کر رہے ہوں گے کہ قائداعظم کا فلسفہ ٹھیک تھا اس لئے کہ ہندو اور مسلمان ایک ساتھ نہیں رہ سکتے ہیں۔ دیکھیں ہندوﺅں نے بابری مسجد کو چلنے نہںی دیا۔ گائے کا ذبیخہ کی اجازت نہیں جگہ جگہ مسلمانوںکو ان کی عبادات مذہب اور ان کی رسوم کے مطابق زندگی گزارنے کی اجازت نہیں دیتے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ زندگی کس قدر ویژن رکھنے والے انسان تھے کہ 1947ءسے پہلے 1940ءمیں قرارداد لاہور منظور کی اور 1947ءتک پاکستان کے قیام کی جدوجہد کی۔ اور جو انہوں نے کہا وہ آج پورے انڈیا میں ثابت ہو رہا ہے کہ انڈیا میں شہریت کا حصول ہے اس کے تحت مسلمان کو زندہ رہنے کا حق نہیں دیا جا رہا۔ جب پوچھا گیا گیا کہ قائد کس قسم کا پاکستان چاہتے تھے۔ اس پروگرام میں متعدد بار کہہ چکا ہوں کہ قائداعظم نے کہا تھا کہ اگر میرے بنائے ہوئے پاکستان میں غریب کو دو وقت کی روٹی، محروم کو چھت، مظلوم کو انصاف میسر نہیں ہے تو مجھے ایسا پاکستان نہیں چاہئے۔ آج ایسا نہیں ہے لہٰذا قائداعظم کا بنایا ہوا پاکستان کہیں نظر نہیں آتا۔ جب سے پاکستان بنا ہے پاکستان پر جو سیاسی قادتیں مسلھ ہیں وہ سو فیصد اپنی ذاتی اغراض کے لئے لڑ رہی ہیں ”قائد کے بنائے اصولوں کے مطابق نہیں ہے۔ اتنے برسوں سے جس طریقے سے لوٹ کھسوٹ ہے۔ جس کو دیکھو اس نے حکومت کا پیسہ کھایا ہوا ہے۔ جب تک پیسہ واپس نہیں آئے گا ان کو سزائیں نہیں ملیں گی اس وقت قائداعظم کا پاکستان واپس نہیں آئے گا۔
رانا ثناءاللہ کا کیس اس کی شاندار مثال ہے کہ اگر ان پر الزامات تھے کہ نارکوٹکس والے کہتے تھے کہ ثبوت موجود ہیں تو سامنے کیوں نہیں لے کر آئے۔ 6 مہینے تک تو اس کا کوئی جج ہی نہیں رہا۔ ملک میں اتنی ناانصافی ہے جس وزیر کو پکڑا گیا اور پھر یہ سوال کیا گیا کہ جناب آپ نے جج ہی نہیں مقرر کیا ہوا۔ اب ان کی جو ضمانت ہوئی ہے وہ اس وجہ سے نہیں ہوئی کہ گناہ گار نہیں تھا بلکہ 6 ماہ سے اس کا کیس ہی آگے نہیں بڑھ رہا تھا چنانچہ عدالت نے ان کی ضمانت لے لی۔ پتہ چلتا ہے کہ جو پکڑا جاتا ہے وہ پیسہ خرچ کرتا ہے کہ وہ بچ نکلے۔ شہریارآفریدی وزیر تھے اس محکمے کے اندر اتنے اہم کیس کا 6 ماہ سے کوئی جج ہی نہیں تھا۔ اس کا کون ذمہ دار تھا۔ حامد صاحب اس مشکل میں حکومت تو تحریک انصاف کی ہے۔ وزیر بھی تحریک انصاف کے ہیں شہریار آفریدی تو پھر ذمہ دار کون ہے۔ سب اخبارات نے لکھا تھا اس وقت یہ کہا گیا ہے کہ نارکوٹکس کا ریکارڈ شاندار ہے وہ کبھی غلط آدمی کو نہیں پکڑتے اگر انہوں نے پکڑا ہے تو ان کے پاس ویڈیوز موجود ہیں۔
ضیا شاہد نے کہا کہ پاکستان میں چرچز کو پوری آزادی حاصل ہے اور اقلیتوں کو ہر قسم کی آزادی حاصل ہے مذہبی تقریبات منعقد کرنے کی۔ آج اگر موازنہ کیا جائے تو اگر مواہ کیا جائے کہ انڈیا کی پوزیشن اور پاکستان کی کیا پوزیشن ہے تو پاکستان ایک جنت نظر آئے گا جس میں اقلیتوں کو ہر آزادی حاصل ہے یہ پاکستانن کا جو جھنڈا ہے سفید رنگ وہ اقلیتوں کا رنگ ہے۔ یہ بڑی اچھی بات ہے پاکستان کے جھنڈے میں سفید رنگ کا حصہ اقلیتوں کی آزادیوں کو ظاہر کرتا ہے۔

مسیحی برادری آج کرسمس جو ش و خروش سے منائے گی

لاہور( جنرل رپورٹر ) دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی مسیحی برادری آج کرسمس کا تہوار انتہائی جوش و خروش،مذہبی تزک و احتشام اور روایتی جذبہ کے ساتھ منائے گی ۔اس دن کی مناسبت سے کرسمس ٹریز کی تیاری کے ساتھ ساتھ تمام چرچز کو انتہائی خوبصورتی سے سجا دیا گیا ہے ۔گرجا گھروں میںخصوصی عبادات اور دعائیہ تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا جہاں مسیحی برادری کے افراد اپنی مذہبی تقریبات کی ادائیگی اور عبادات کریں گے ،اس موقع پر ملکی ترقی ، قیام امن اور سلامتی و خوشحالی کی خصوصی دعائیں مانگی جائیں گی۔پولیس سمیت دیگر قانون کرنے والے اداروں کی جانب سے کرسمس کے موقع پر کسی بھی نا خوشگوار واقعہ سے نمٹنے کےلئے سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کئے گئے ہیں ۔ چرچز کی طرف آنے والے راستوں پر پولیس اہلکار تعینات ہوں گے جبکہ عبادات کے لئے آنے والے افراد کو خصوصی تلاشی کے بعد چرچز کے اندر داخل ہونے کی اجازت دی جائے گی ۔

شہباز شریف دور میں رنگ روڈ منصوبہ میں 59ارب کی کرپشن،سپیشل آڈٹ رپورٹ تیار

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) سابق وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف کے دور کے ایک اور منصوبے میں بدعنوانی سامنے آگئی، لاہور کی رنگ روڈ میں 59 ارب روپے سے زائد کی بدعنوانی کا انکشاف ہوا ہے۔ تفصیلات کے طابق سابق وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف کے دور کے ایک اور منصوبے میں مالی بے ضابطگیاں سامنے آگئیں، لاہور کی رنگ روڈ میں اربوں روپے کی مالی بے ضابطگیوں کی اسپیشل آڈٹ رپورٹ تیار کرلی گئی۔ رپورٹ میں منصوبے میں مجموعی طور پر 59 ارب 39 کروڑ 94 لاکھ روپے کی بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق سول ورکس، زمین کی خریداری، ٹھیکے اور دیگر مد میں بے تحاشہ مالی بے ضابطگی کی گئی۔ آڈٹ رپورٹ کے مطابق زمین کی خریداری میں 15 ارب 51 کروڑ روپے سے زائد کی بے ضابطگی ہوئی، زائد قیمتیں ادا کرنے کی مد میں 4 ارب 36 کروڑ سے زائد کی مالی بدعنوانی سامنے آئی۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ ٹھیکے داروں کو 65 کروڑ سے زائد کی ادائیگیوں کا جواز موجود نہیں۔ رنگ روڈ کی تعمیر پر آنے والی لاگت کی خصوصی آڈٹ رپورٹ کی تیاری کا حکم پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی نے دیا جسے محکمہ تعمیرات و مواصلات پنجاب نے تیار کیا۔ مذکورہ رپورٹ سنہ 2006 سے 2016 کے دوران کی ہے۔

پرویز مشرف کیخلاف خصوصی عدالت کے ٹرائل کو کالعدم قرار دینے کیلئے فل بنچ تشکیل

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)لاہور ہائیکورٹ نے سابقصدر پرویز مشرف کیخلاف خصوصی عدالت کے ٹرائل کو کالعدم قرار دینے کیلئے فل بنچ تشکیل دیدیا ہے۔دنیا نیوز ذرائع کے مطابق چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے تشکیل دیے گئے بنچ کی سربراہی جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کرینگے جبکہ جسٹس امیر بھٹی اور جسٹس چودھری مسعود بھی اس میں شامل ہونگے۔بنچ سابق صدر پرویز مشرف کیس میں خصوصی عدالت کے قیام کیخلاف درخواست پر سماعت کرے گا۔ خیال رہے کہ پرویز مشرف نے خصوصی عدالت کے قیام کو چیلنج کر رکھا ہے۔