لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) کالم نگار ثروت روبینہ نے کہا ہے کہ بطور انسان احترام ہونا چاہئے چاہے خاتون ہو یا مرد ایسا نہیں کہ جنس کی بنیادپر احترام کیا جائے انسان کوئی تبھی کہلائے گا جب اس کا رویہ بھی انسانی ہو۔۔ چینل فائیو کے تجزیوں اور تبصروں پر مشتمل پروگرام ”کالم نگار“ میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فریال تالپور نے غلط کام کیا تو احتساب لازم ہے۔ایسے معاشرے جس میں طاقتور کا احتساب نہ ہو تباہ ہو جاتے ہیں۔کرپشن بڑا جرم ہے۔پیسہ کمانے کے جائز ذرائع بھی ہیں۔ملک معاشی طور پر کمزور ہے سب کو مل کر مشکلات کا سامنا کرنا ہو گا البتہ بہت زیادہ غریب لوگوں کو ریلیف ملنا چاہئے البتہ ٹیکسز لگنے ہی تھے۔ کالم نگارطارق ممتاز نے کہا کہ دنیا بھر میں خواتین پر مقدمات بنتے ہیں ہمارے ہاں ایسی مثالیں کم ہیں خواتین سے نرم رویہ اختیار کیا جاتا ہے دہشت گردی سے بڑا جرم کرپشن ہے اس کی معافی نہیں ہونی چاہئے کرپٹ لوگ پورے معاشرے کے قاتل ہوتے ہیں۔بہت سے لوگ تو وعدہ معاف گواہ بننغے کو تیار ہیں بجٹ کے دوراان اپوزیشن جماعتوں کے شور سے بہتر تاثر نہیں جاتا۔بجائے شور کرنے کے سنجیدگی دکھانی چاہئے تاکہ ایک ایک لفظ سمجھ آئے۔ رانا منیر نے کہا کہ کرپشن ضرورت کے تحت نہیں ہوتی اس کے پیچھے لالچ ہے جو انساان کو اندھا کر دیتی ہے ایسے لوگ معاشرے کو گھن کی طرح کھا جاتے ہیں۔پوری قوم کے معاشی قاتلوں کو سزا ملنی چاہئے اور کرپشن کا سد باب ہونا چاہئے۔احتساب سب کا ہونا چاہئے۔جب سے پاکستان بنا یہ ثابت نہیں ہو سکا پیسہ اگرکسی اور کے نام پر ہے تو ثبوت کیا ہے کہ اس کا نہیں۔ایسے معاملے پر سخت موقف ضروری ہے۔بجٹ اجلاس اسملی کے تمام اجلاسوں سے اہم ہوتا ہے جس میں عوام کی قسمت کا فیصلہ ہوتا ہے۔غریبوں پر ٹیکس نہیں لگنا چاہئے۔کالم نگار آغاباقر نے کہا کہ جعلی اکا?نٹس سامنے آ رہے ہیں یعنی پیسہ کسی کا ہے لیکن کسی اور کے نام پر رکھا گیا ہے یہ بڑی عجیب بات ہے غریب لوگوں کے اکاﺅنٹس سے پیسہ نکل رہا ہے۔ وعدہ معاف گواہ جو جرم میں شریک ہو لیکن معافی کی شرط پر گواہی دے دے۔
All posts by admin
دوسری ٹیمیں پلاننگ کرتی ہیں،کپتان کا رول اہم ہوتا ہے:طاہر شاہ کی گگلی میں گفتگو
لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)سابق فرسٹ کلاس کرکٹر طاہر شاہ نے کہا ہے کہ ویسٹ انڈیز کی ٹیم ایک متوازن اور بڑی مضبوط ٹیم ہے لیکن شروع میں اس کا رن ریٹ سست رہا ویسٹ انڈیز کی باﺅلنگ بہت زبردست ہے۔ٹیم کے اوپنرز اگر پرفارمنس نہ دے سکیں تو باقی ٹیم پر بڑا پریشر آ جاتا ہے یعنی اوپنرز پر بڑی بھاری ذمہ داری ہوتی ہے۔ چینل فائیوکے پروگرام گگلی میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دوسری جانب انگلینڈ کی ٹیم ورلڈ کپ کی فیورٹ ہے۔میں سمجھتا ہوں ہم لوگ پلان نہیں کرتے لیکن دنیا کی ٹیمیں پلاننگ کرتی ہیں۔کرکٹ ٹیم میں کپتان بہت اہم ہوتا ہے کپتان کا مضبوط ہونا ضروری ہے۔سلیکشن کمیٹی کے چیئرمین انضمام الحق کے بھتیجے امام الحق کو اگلا کپتان بنانے کے لئے ساری گیم ہو رہی ہے یعنی سرفراز پر پر اعتراضات اٹھیں گے تو امام کو کپتان بنا دیا جائے گا لیکن ایسا ہونا اتنا آسان نہیں۔کاش پاکستانی کرکٹ میں سفارشی سسٹم نہ ہوتا تو بہترین کرکٹرز باہر جا کر دوسروں کے لئے نہ کھیلتے۔لاہور ریجن کابدترین حال ہے کوئی ٹورنامنٹ نہیں ہوتے پہلے کئی ٹورنا منٹس ہوتے تھے۔حفیظ اور شعیب کی عمریں اب کرکٹ کھیلنے والی نہیں گھر بیٹھنے کی ہیں۔جب ماجد خان کی سلیکشن کا معاملہ آیا ان کے والد نے سلیکشن کمیٹی سے استعفیٰ دے دیا تھا کہ کوئی یہ نہ کہے میرا بیٹا سفارشی ہے۔ٹیم میں نوجوان کھلاڑیوں کی بڑی ضرورت ہے۔پاکستان کرکٹ میں مافیا ہے غلط بات پر تو میں تنقید کروں گا۔
ایف بی آر میں اصلاحات ضروری ورنہ نتیجہ پہلے جیسا ہوگا: ڈاکٹر قیس، وکلا ءتقسیم متعدد وکلاءکا خیال ہے شاید جج صاحبان کے خلاف ریفرنسز بدنیتی پر مبنی ہیں: شاہ خاور ، مشکوک ٹرانزیکشن کی تحقیقات 2015ءمیں ایف آئی اے نے شروع کی تھی: منظورملک کی چینل ۵ کے پروگرام ” نیوز ایٹ 7 “ میں گفتگو
لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) ماہر معاشیات ڈاکٹر قیس اسلم نے کہا کہ ہم تو چاہتے ہیں زیادہ بجٹ ترقیاتی کاموں پر صرف ہو صحت و تعلیم کو ترجیح دینی چاہئے امید ہے حکومت سنجیدہ ہے۔ سندھ میں پانی کے مسائل بھی حل ہونا ضروری ہیں سندھ بجٹ کے زیادہ پیسے کراچی پر لگتے ہیں لیکن وہاں بھی مسائل ہیں۔ لوگ ایڈز میں مبتلا ہو رہے ہیں۔ چینل فائیو کے پروگرام نیوز ایٹ سیون میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر لوگوں پر پیسہ خرچ نہ کیا گیا تو بڑا برا حال ہو گا۔ایف بی آر میں اصلاحات ضروری ہیں وگرنہ نتیجہ پہلے جیسا ہو گا۔ سینئر قانون دان شاہ خاور نے کہا ہے کہ وکلائ پڑھا لکھا طبقہ ہوتا ہے اس میں اچنبے والی بات نہیں کہ وکلا احتجاج پر دو حصوں میں تقسیم ہیں بہت سے وکلا کا خیال ہے شاید جج صاحبان کے خلاف ریفرنسز بدنیتی پر مبنی ہیں حالانکہ اس کا فیصلہ تو سپریم جوڈیشل کونسل نے کرنا ہے۔ جعلی اکا?نٹس کیس اینٹی منی لانڈرنگ کے ایکٹ کے تحت آتا ہے۔ اب دیکھنا ہے نیب اس میں کیسا کیس بناتا ہے۔پوری دنیا میں وعدہ معاف گواہ کو بڑا کمزور عنصر سمجھا جاتا ہے کیونکہ اسے اپنی معافی کا لالچ ہوتا ہے۔ خبریں کے ریذیڈنٹ ایڈیٹرملک منظور گرفتاریاں بہت پہلے سے متوقع تھیں مشکوک ٹرانزکشن کا سلسلہ 2015میں ایف آئی اے نے شروع کیا تھا۔ احتسابی عمل جاری رہنا چاہئے سابق ارباب اختیار لوگوں نے ملک کا بہت نقصان کیا۔ اربوں کھربوں کا معاملہ ہے اب یہ کھیل بند ہونا چاہئے۔ نیب کو بھی اپنی تفتیش کی کمزوریاں دور کرنا ہوں گی۔
ڈالر کی قیمت میں اضافہ ، عوام کی مشکلات بڑھ رہی ہیں ، حکومت فوراً کوئی حل نکالے : معروف صحافی ضیا شاہد کی چینل ۵ کے پروگرام ” ضیا شاہد کے ساتھ “ میں گفتگو
لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں و تبصروں پرمشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ اصولی بات تو یہی ہے کہ سب کے ساتھ ایک جیسا سلوک ہونا چاہئے لیکن یہ دیکھنا پڑتا ہے کہ خواتین کے خاص طور پر جب وہ لیڈر خواتین ہوں اور ان کا تعلق بلاول بھٹو کی پھوپھی لگتی ہیں اور آصف رداری کی بہن ہیں اس لئے غالباً رفع شر خیال سے کہ بلا وجہ کوئی ایسی بات نہ ہو جائے جس کو حکومت کے لئے فیس کرنا مشکل ہو اس لئے اس قسم کی پہلے بھی مثالیں موجود ہیں اکثر لوگوں کو ان کے گھروں کو حتیٰ کہ مردوں کو بھی ان کے گھروں میں ہی نظر بند کر دیا جاتا ہے۔ میرا خیال ہے کہ اس سے زیادہ فرق نہیں پڑتا دیکھنا صرف یہ ہے کہ ان پر جو مقدمہ چلتا ہے کیا اس میں تو کوئی رعایت تو نہیں کی جا رہی۔ آج انہوں نے ایل این جی کے بارے میں بھی۔ لہٰذا لگتا ہے کہ جو اتنے دنوں سے افواہ چل رہی تھی کہ اب اگلی باری شاہد خاقان عباسی کی ہے۔ وہ واقعی ان کی باری ہو۔ اس کے علاوہ شہباز شریف کے خلاف بھی گھیرا تنگ بھی ہو رہا ہے اور صوبہ سندھ کے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کے بارے میں ایسی ہی افواہیں آ رہی ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ایک شخص جو منتخب وزیراعلیٰ ہے صوبے کا اس کو حکومت گرفتار کرنے کی متحمل ہو سکتی ہے لیکن ان کے بارے میں بھی فضا ایسی ہے کہ ان کو گرفتار کیا جا سکتا ہے۔ گرفتار لوگوں کے اسمبلی سے پروڈکشن آرڈر کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ضیا شاہد نے کہا کہ چونکہ آئین میں موجود ہے پروڈکشن آرڈر جو ہے سپیکر دے سکتا ہے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ جب تک اسمبلی کا سیشن جاری ہے وہ باہر رہیں گے البتہ جونہی وہ سیشن ختم ہو گا وہ دوبارہ دھر لئے جائیں۔ بلاول بھٹو کے پریس کانفرنس میں 21 جون سے عوامی رابطہ مہم جاری کرنے کے اعلان پر گفتگو کرتے ہوئے ضیا شاہد نے کہا ہر لیڈر کو یہ امید ہوتی ہے کہ اس کی پارٹی اٹھ کھڑی ہو گی ان کی پچھلی کال کا حشر تو اچھا نہیں ہوا اور جب انہوں نے کہا کہ پورے ملک میں یوم احتجاج منایا جائے تو پورے ملک میں نہیں ہوا کراچی کی حد تک اور سندھ میں کچھ جزوی طور پر علامات ظاہر ہوئیں لیکن باقی صوبوں میں بالکل سرے سے قطعی اثر نہیں پڑا۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ دیکھنا یہ ہے کہ بلاول بھٹو کی موجودہ کال کا جو 21 جون کو انہوں نے دے بھی دی ہے۔ انہوں نے نواب شاہ میں جلسہ رکھا ہے گرمی کے باوجود شام کو جلسہ ہو سکتا ہے۔ آصف زرداری کے اس بیان پر کہ اگر عمران خان نے 1947ئ سے کمیشن نہیں بنانا تو کم از کم گزشتہ 20 سال سے کمیشن بنائیں ضیا شاہد نے کہا کہ یہ جب بھی کسی کی پکڑ دھکڑ ہوتی ہے وہ ہمیشہ یہی مطالبہ ہوتا ہے کہ پچھلے 40 سال سے ہو اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ نہ ہو۔ یہ مطالبے ہوتے رہتے ہیں کام بھی چلتا رہتا ہے لہٰذا اس سے فرق نہیں پڑتا کہ کیا مطالبہ ہوا کیونکہ جو احتساب کا عمل جاری ہے اور نیب جو کچھ کر رہی ہے میں نہیں سمجھتا کہ اس کے راستے میں کوئی حقیقی خطرہ موجود ہے۔ پنجاب کے بجٹ اورجنوبی پنجاب کے فنڈز دوسری جگہ منتقلی پر بھی پابندی لگا دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ وزیراعلیٰ اور وزراءکی تنخواہوں میں 10 فیصد کمی دی گئی ہے۔ وفاقی وزرائ کی تنخواہوں میں کمی ہوئی تھی اسش پر گفتگوکرتے ہوئے ضیا شاہد نے کہا کہ یہ کمی اس بات کا شاخسانہ ہے جو ایم این اے ایم پی اے حضرات میں سے ایک مہم چلی تھی اس میں ایم پی اے حضرات نے پنجاب میں اپنے لئے معاوضہ میں اضافہ کر دیا گیا اور سابق وزریراعلیٰ کے لئے بھی بہت ساری سہولتیں منظور کروا لی تھیں لیکن گورنر صاحب نے اس پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا تھا اور عمران خان نے کہا تھا کہ لوگ اسے پسند نہیں کر رہے۔یہ تنخواہوں میں کمی سے یہ تاثر پیدا ہو گا کہ ہم لوگوں پر ٹیکس ہی نہیں لگا رہے بلکہ ہم اپنی تنخواہیں بھی کم کر رہے ہیں میرے خیال میں اس بات کا اچھا تاثر جائے گا۔ کل کا سب سے دھماکہ خیز واقعہ ہے وہ تو ڈالر کی قیمت میں 5 روپے اضافہ ہے ڈالر ایک دم157 پر چلا گیا ہے اب ظاہر ہوتا ہے کہ عمران خان واپس آ رہے ہیں اور آج انہیں اس صورتحال پر قابو پانے کے لئے ایک ہائی لیول میٹنگ بلانی چاہئے اور دیکھنا چاہئے کہ یہ تو بہت ہی بے لوگ طور پر ایک کوئی لائحہ عمل بنانا چاہئے کیونکہ یہ ناقابل برداشت ہوتا جا رہا ہے۔ بجلی کے نرخ میں اضافہ کے حوالہ سے بات کرتے ہوئے ضیا شاہد نے کہا کہ یہ تو میں سمجھتا ہوں کہ کچھ دیر کے لئے بجلی کی قیمت میں اصافہ ضرور روک دینا چاہئے۔ بہت ہو گیا اس سے پیشتر کہ لوگ سڑکوں پر نکلیں اور طوفان کھڑا ہو جائے معلوم نہیں حکومت یہ چاہتی ہے کہ اپوزیشن کے جلسوں میں رونق ہونی چاہئے اور لوگوں کو اتنا تنگ کیا جائے کہ وہ از خود بلبلاتے ہوئے اپوزیشن کے مجمعوں میں شریک ہونے لگیں۔ قومی اسمبلی کے اجلاس میں بجٹ پر بحث کی بجائے حکومتی بنچوں نے انہیں بولنے کا موقع نہیں دیا گیا۔ میرا خیال ہے کہ اس کا سلسلہ ختم ہونا چاہئے دونوں طرف سے صورتحال بہت نامناسب ہے اگر عمران خان کو نہیں بات کرنے دی گئی تو پھر شہباز شریف صاحب کو بدلے میں یہی صورتحال ان کے ساتھ ہے اگر یہ سلسلہ چل نکلا تو نہ لیڈر آف اپوزیشن اس میں گفتگو کر سکتا ہے نہ لیڈر آف دی ہا?س گفتگو کر سکے تو میں یہ سمجھتا ہوں کہ عملاً اسمبلیاں خواہ وہ وفاقی ہوں یا صوبوں کی حد تک آگے بات چل کر پہنچ جائے تو اسمبلیوں کا مقصد ہی باقی نہیں رہ جاتا۔ اگر اسمبلیوں میں بات ہی نہیں ہو سکتی تو پھر اس کا کیا فائدہ ہے میں دونوں اطراف سے اپیل کروں گا کہ براہ کرم اپوزیشن والے رضا کارانہ طور پر یہ اعلان کر دیں کہ وہ احتجاج ضرور کریں گی مگر وہ بات سنیں گے عمران خان، وفاقی وزرائ کی اور دوسری طرف تحریک انصاف کی طرف سے بھی یہ اعلان ہو جائے کہ ہم لیڈر آف اپوزیشن کو جو وہ چاہتے ہیں کرنے دیں گے۔ جمہوریت کا خاصہ یہ ہے کہ لوگوں کو بات کرنے دی جاتی ہے لوگوں کو روکا نہیں جاتا۔بجٹ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ضیا شاہد نے کہا کہ بجٹ میں بھی عوام دشمنی کی بھی کوئی بات نظر نہیں آتی البتہ جو طبقات ایسے بچ گئے ہیں تھے جن پر ٹیکس نہیں تھا ان پر ٹیکس لگا دیا گیا ہے جیسے پنجاب کے بجٹ میں ڈاکٹروں پر ٹیکس لگا ہے ہیرکٹنگ کرنے والوں پر ٹیکس لگا ہے۔ درزیوں پر بھی ٹیکس لگ گیا ہے۔ یہ وہ طبقات تھے جن کی انکم تو ماشائ اللہ کافی ہے لیکن وہ ٹیکس نیٹ میں نہیں کرتے تھے اس سلسلے میں تو کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہئے۔ حمزہ شہباز درست کہتے ہیں کہ بڑی مشکلات ہیں لیکن بات یہ ہے کہ وہ اس بات پر نشاندہی نہیں کر رہے کہ ان کی حکومت اور ان سے پہلے کی حکومتیں آصف زرداری صاحب اور نوازشریف اور شاہد خاقان عباسی کی حکومتیں کیا کرتی رہی ہیں اور آج جو کچھ ہمیں فصل کاٹنی پڑ رہی ہے وہ اس کے بیج تو وہ بو کر گئے تھے۔بشکیک کانفرنس میں عمران خان اور مودی کے درمیان کوئی بات چیت نہ ہونے پر افسوس ہے اگر آمنے سامنے آنے پر بھی کوئی سلام دعا نہیں ہوئی تو پھر مذاکرات کی توقع کیسے کی جا سکتی ہے۔ بھارتی ترجمان کہتے ہیں کہ مستقبل میں مذاکرات کے امکانات پیدا ہو رہے ہیں تاہم مجھے تو ایسا ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔ ضیائ الحق ایک بار کھٹمنڈو گئے تو انہوں خود آگے بڑھ کر بھارتی وزیراعظم سے مصافحہ کیا تھا عمران خان کو بھی کوشش کرنا چاہئے تھی کہ مودی سے رابطہ کرتے، ایسی بڑی کانفرنس میں سائڈ لائن پر ہلکے پھلکے مداکرات اور مختصر ملاقاتیں ہو جاتی ہیں جن سے مستقبل کیلئے راستہ ہموار ہوتا ہے۔ پاک بھارت مذاکرات کے حوالے سے ساری امیدیں اب پیوٹن سے ہیں کیونکہ روس نے دعویٰ کیا تھا کہ اس معاملے پر کردار ادا کرے گا۔ پاکستان نے تو ایک بار پھر روس کو یقین دہانی کرا دی ہے کہ ہم آپ کے فارمولے سے متفق ہیں روس کو چاہئے کہ بھارت سے بات کر کے معاملے کو آگے بڑھانے امریکہ کا رویہ پاکستان سے سخت ہے تاہم ہمیں بہتر تعلقات کیلئے کوشش کرتے رہنا چاہئے۔ اب ہم نے اپنا وزن روس کے پلڑے میں ڈالا ہے تو یہ کوشش مسلسل جاری رکھنی چاہئے کہ وہ بھارت سے مداکرات میں کردار ادا کرے۔ پاکستان کی معیشت کے لئے زراعت ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے بدقسمتی سے سابق ادوار میں اس پر کوئی خاص توجہ نہ دی گئی۔ موجودہ حکومت کا زراعت کے لئے زیادہ فنڈز مختص کرنا خوش آئند ہے۔ دیہاتوں میں شہر سے بہتر فیصد لوگ رہتے ہیں جو زراعت کے ساتھ منسلک ہیں کسان خوشحال ہو گا تو ملک بھی خوشحال ہو گا۔ کسانوں کی تنظیمیں بھی اشتہار دے کر حکومت سے اظہار تشکر کر رہی ہیں جس سے پتہ چلتا ہے کہ حکومت نے واقعی زراعت کے لئے سنجیدگی سے اقدامات کئے ہیں۔ حکومت کو صحت کارڈز تقسیم کرنے کا سلسلہ دوبارہ شروع کرنا چاہئے۔ سستے گھر بنانے کا منصوبہ اچھا تھا اس پر عمل کرتے تو روزگار میں بھی اضافہ ہوتا۔ حکومت کو کئی غیر ممالک اور بڑے نجی اداروں نے ہا?سنگ منصوبہ کیلئے سرمایہ کاری میں دلچسپی ظاہر کی تھی۔ حکومت کو اس پر سنجیدگی سے سوچتے ہوئے عمل کرنا چاہئے تاہم ابھی تک کوئی پیش رفت دکھائی نہیں دے رہی۔ وزیراعظم کا غیر ملکی سرمایہ کی آمد بارے پ±را±مید ہونا اچھی بات ہے تاہم زمینی حقائق کے مطابق تو ابھی تک کوئی سرمایہ کاری نہیں آئی حتیٰ کہ سعودیہ اور چین نے جس سرمایہ کاری کی بات کی تھی وہ بھی ابھی تک نہیں آئی۔
اداکارہ ہانیہ عامر کی سوڈان میں تشدد کے خلاف آواز اٹھانے کی اپیل
کرا چی :(ویب ڈیسک) ا س وقت سوشل میڈیا پر صارفین نیلے رنگ کی ڈسپلے پکچر لگا کر سوڈان میں جاری بربریت کے خلاف اظہار یکجہتی کررہے ہیں اور ایسے میں پاکستانی اداکارہ ہانیہ عامر نے بھی متاثرہ افراد کی مدد اور ظلم کے خلاف آواز اٹھانے کی درخواست کی ہے۔اداکارہ ہانیہ عامر نے گزشتہ روز انسٹاگرام پر ڈسپلے پکچر تبدیل کی جس میں نیلے رنگ کے اطراف میں ایک سوڈانی خاتون کو دیکھا جاسکتا ہے جو سوڈان کا جھنڈا تھامے کھڑی ہیں۔سوڈان میں سوشل میڈیا کیوں نیلے رنگ میں رنگ گیا؟انہوں نے ڈی پی کے ساتھ اسی تصویر کی پوسٹ بھی شیئر کی جس میں وہ لکھتی ہیں کہ سوڈان میں قتل و غارت گری جاری ہے، وہاں لوگوں کو مارا جارہا ہے اور زیادتی کی جارہی ہے، متعدد افراد بچوں کو مساجد میں زیادتی کا نشانہ بنا رہے ہیں۔اداکارہ نے لکھا کہ 50 افراد کو ہلاک کردیا گیا اور 700 افراد زخمی ہیں جب کہ درجنوں افراد کا قتل کرکے انہیں دریائے نیل میں پھینکا گیا ہے۔انہوں نے سوڈانی عسکریت پسندوں پر غصے کا اظہار کرتے ہوئے یہ بھی بتایا کہ فوج کی جانب سے میڈیا کوریج بھی بند کردی گئی ہے تاکہ کوئی یہ نہ جان سکے کہ وہاں کیا ہورہا ہے اور کوئی اپنی مدد کے لیے کسی کو پکار نہ سکے۔ہانیہ عامر نے مداحوں سے مو¿دبانہ گزارش کرتے ہوئے کہا کہ یہ نہ سوچیں کہ وہ ہمارے لوگ نہیں ہیں تو ہم کیا کریں، ہم سب انسان ہیں اور برے وقت کا پتہ نہیں ہوتا۔انہوں نے تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ جہاں تک بتا سکتے ہیں (ظلم و زیادتی سے متعلق) بتائیں اور مدد کریں۔ہانیہ عامر نے آخر میں ایک طریقہ کار بھی بتایا جس کے تحت متاثرہ افراد کی مدد کی جاسکتی ہے۔اس میں انہوں نے یونیسف امریکا، سیف دی چلڈرن اور گو ٹو چینج تنظیم کی ویب سائٹ کی نشاندہی کی جس کے تحت متاثرہ افراد کو ادویات اور غذائی اشیاء فراہم کی جاسکتی ہے۔انہوں نے ایک درخواست دائر کرنے کا کہا تاکہ اقوام متحدہ کو اس مسئلے پر نظرثانی کرے۔اداکارہ نے متاثرہ افراد کے لیے فنڈز کی اپیل بھی کی اور کہا کہ میں اس کے لیے لنکس اور اسکرین شاٹس اسٹوری میں پوسٹ کروں گی۔ہانیہ عامر نے سب سے گزارش کرتے ہوئے کہا کہ انسانیت کے لیے آواز اٹھائیے، سوڈان کے لیے خاموشی توڑیں۔واضھ رہےکہ رواں ماہ کے آغاز میں سوڈان کے دارالحکومت خرطوم میں فوج کے ہیڈکوارٹر کے باہر پرامن احتجاج کیا جارہا تھا جس میں مظاہرین نے فوج سے اقتدار سول انتظامیہ کے سپرد کرنے کا مطالبہ کیا۔اس دوران 26 سالہ انجینئر اور لندن کے برونیل یونیورسٹی کے گریجویٹ محمد مطار کو 3 جون کو ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) نے گولی مار دی جس نے احتجاج میں شامل دو خواتین کو نقصان سے بچانے کی کوشش کی تھی ۔ سوڈان میں صرف قتل و غارتگری جاری نہیں بلکہ خواتین کے ساتھ زیادتی، بچوں کو ہراساں کرنا اور دیگر مظالم بھی عروج پر ہیں، ایسے میں پوری دنیا سوشل میڈیا پر سوڈان کے لوگوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرنے کے لیے نیلے رنگ کی ڈی پی لگا رہی ہے جو محمد عطار کا پسندیدہ رنگ تھا۔
سونے کی نئی قیمت نے ملکی تاریخ کے تمام ریکارڈ توڑ دیئے
کراچی(ویب ڈیسک) سونے کی قیمت میں 2700 روپے اضافے کے بعد فی تولہ سونا ملکی تاریخ کی بلند ترین 75 ہزار 900 روپے پر پہنچ گیا۔ذرائع مطابق ملکی تاریخ میں ڈالر بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے، جمعے کے روز اوپن مارکیٹ میں ڈالر 4 روپے کے اضافے کے ساتھ 157 روپے 50 پیسے کا ہوا تو انٹر مارکیٹ میں ڈالر 155 روپے 84 پیسے کی بلند ترین سطح پر بند ہوا، ڈالر کی بڑھتی قیمت کے بعد سونے کی قیمت نے بھی پروان بھرتے ہوئے ایک ہی دن میں 2700 روپے کی مسافت طے کی اور تمام ریکارڈ توڑ دیئے۔جمعے کے روز کراچی، حیدرآباد، سکھر، ملتان، فیصل آباد، لاہور، اسلام آباد، راولپنڈی، پشاور اور کوئٹہ کی صرافہ مارکیٹوں میں سونے کی فی تولہ اور دس گرام قیمت میں بالترتیب 2700 اور 2315 روپے کا اضافہ ہوا، فی تولہ سونا ایک ہی دن میں 27 سو روپے مہنگا ہونے کے بعد ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح 75 ہزار 900 روپے پر پہنچ گیا، جب کہ دس گرام سونے کی قیمت 2 ہزار 315 روپے اضافے کے ساتھ 65 ہزار 72 روپے ہوگئی۔
جدہ میں نائٹ کلب کھلنے پر لوگ برہم
جدہ(ویب ڈیسک)سعودی عرب میں گزشتہ چند سال سے اصلاحاتی منصوبے کے تحت تیزی سے بہت بڑی تبدیلیاں کی جارہی ہیں۔سعودی عرب میں 2015 میں شاہ سلمان کے بادشاہ بننے کے بعد کئی اقدامات پہلی بار دیکھنے میں آئے ہیں، جس سے وہاں کا ماحول تیزی سے تبدیل ہوتا جا رہا ہے۔سعودی عرب میں 2018 میں جہاں خواتین نے پہلی بار ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی، وہیں 35 سال بعد سینما گھر کھو لے گئے جبکہ گزشتہ سال سے سعودی عرب میں پہلی بار فیشن ویکس کا بھی اہتمام کیا جانے لگا ہے۔اسی طرح جہاں سعودی عرب میں گزشتہ برس پہلی بار کسی خاتون کو مرد اینکر کے ساتھ ٹی وی پر پروگرام کرنے کی اجازت دی گئی، وہیں سعودی عرب کی پہلی تھیٹر اداکارہ بھی سامنے آئی۔اور اسی سلسلے کے تحت ہی رواں برس اپریل میں پہلی بار سعودی عرب کے 5 ہزار سالہ قدیم کھنڈرات میں میوزک فیسٹیول کا اہتمام کیا گیا۔اور اب خبر سامنے آئی ہے کہ سعودی عرب کے ساحلی شہر جدہ میں حکومتی اجازت کے بغیر ہی نائٹ کلب کھولا گیا ہے، جس پر سعودی حکومت نے تفتیش کرنے کا اعلان کردیا۔عرب نیوز کے مطابق سوشل میڈیا پر جدہ میں ہونے والے ایک ایونٹ کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد سعودی عرب کی حکومت نے اس کی تحقیقات کرنے کا اعلان کردیا۔رپورٹ کے مطابق سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک تقریب کی ویڈیو میں مرد و خواتین کو ایک کلب میں دیکھا گیا تھا اور سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا گیا تھا کہ یہ تقریب جدہ میں کھلنے والے نئے نائٹ کلب میں ہوئی۔سوشل میڈیا پر تقریب کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد صارفین نے مختلف قسم کی پوسٹنگ شروع کردیں اور دعویٰ کیا کہ اس نائٹ کلب میں اگرچہ الکوحل دستیاب نہیں ہوگی، تاہم وہاں پر لباس کی کوئی قید نہیں ہوگی۔نائٹ کلب میں ہونے والی تقریب کی ویڈیو اور تصاویر وائرل ہونے کے بعد سعودی عرب کی انٹرٹینمنٹ اتھارٹی نے اپنے بیان میں کہا کہ ادارہ اس تقریب اور نائٹ کلب کھلنے کی تحقیقات کرے گا۔’دی سعودی جنرل انٹرٹینمنٹ اتھارٹی‘ (جی ای اے) نے ٹوئیٹ کے ذریعے وضاحت کی کہ ادارے نے ایسے نائٹ کلب کھولنے کے لیے کوئی گرین سگنل نہیں دیا تھا۔ساتھ ہی اعلان کیا گیا کہ اتھارٹی جدہ میں ہونے والی مبینہ تقریب کی تحقیقات کرے گی۔دوسری جانب الجزیرہ نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ سعودی انٹرٹینمنٹ اتھارٹی کا کہنا ہے کہ انہوں نے جدہ میں ایک دوسری تقریب کی اجازت دی تھی، لیکن جس طرح کی تقریب کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہیں اس کی اجازت نہیں دی گئی۔الجزیرہ کے مطابق متعدد مقامی نیوز ویب سائٹس اور اداروں نے جدہ میں 13 جون کو نائٹ کلب کھلنے کی رپورٹس شائع کیں اور نائٹ کلب کو ’حلال کلب‘ کا نام دیا۔رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ نائٹ کلب کھولے جانے کی افتتاحی تقریب میں امریکی گلوکار اور ریپر نی یو نے بھی پرفارمنس کی۔سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہےکہ نائٹ کلب میں لوگ موسیقی پر رقص کر رہے ہیں اور تقریب میں مردوں کے ساتھ خواتین بھی دکھائی دے رہی ہیں۔جدہ میں نائٹ کلب کھولے جانے اور اس میں الکوحل کے دستیاب نہ ہونے پر کئی عرب صارفین نے سوشل میڈیا پر ’ڈسکو حلال کلب‘ کے ہیش ٹیگ سے میمز بھی شیئر کیں۔
پنجاب کے وزیر جنگلات سبطین خان گرفتار
لاہور(ویب ڈیسک) قومی احتساب بیورو (نیب) نے پنجاب کے وزیر جنگلات سبطین خان کو گرفتار کرلیا۔نیب حکام کے مطابق سبطین خان 2007 میں مسلم لیگ (ق) کی حکومت میں صوبائی وزیر معدنیات تھے اور انہیں چنیوٹ میں مائنز ٹھیکہ کیس میں گرفتار کیا گیا ہے۔نیب حکام کا کہنا ہے کہ سبطین خان پر چنیوٹ میں اربوں روپے کے ٹھیکے میں من پسند کمپنی کو نوازنے کا الزام ہے، ملزم نے 2007 میں نجی کمپنی کو ٹھیکہ دینے کے لیے غیر قانونی احکامات جاری کیے۔نیب نے بتایا کہ ملزم نے شریک ملزمان سے ملی بھگت کرکے ٹھیکہ خلاف قانون فراہم کیا، پنجاب حکومت نے 2018 میں نیب کو آگاہ کیا جس پر دوبارہ کارروائی ہوئی۔نیب حکام کے مطابق نجی کمپنی ماضی میں کان کنی کے تجربے کی حامل نہیں تھی، تجربہ نہ ہونے کے باوجود سابق وزیر نے ملی بھگت سے کمپنی کو ٹھیکہ فراہم کیا، پنجاب مائنز ڈیپارٹمنٹ نے بڈنگ میں دوسری کمپنی کو شامل ہی نہیں کیا اور نہ ہی ملزمان نے ایس ای سی پی کو منصوبے کی تفصیلات فراہم کیں۔نیب کے مطابق سبطین خان نے چنیوٹ کے اربوں روپے مالیت کے معدنی وسائل 25 لاکھ مالیت کی کمپنی کو فراہم کیے، ملزم کو ریمانڈ لینے کے لیے کل احتساب عدالت میں پیش کیا جائےگا۔سردار سبطین خان پنجاب اسمبلی کے حلقہ پی پی 88 میانوالی 4 سے تحریک انصاف کے ٹکٹ پر منتخب ہوئے ہیں اور موجودہ کابینہ میں وزیر جنگلات ہیں۔یاد رہے کہ اس سے قبل سینئر صوبائی وزیر عبدالعلیم خان کو بھی نیب نے گرفتار کیا تھا تاہم وہ اب ضمانت پر رہا ہیں۔
سعودی عرب نے چرچ حملوں کے 5 ملزم سری لنکا کے حوالے کردیے
کولمبو(ویب ڈیسک) سعودی عرب نے ایسٹر تہوار پر چرچ حملوں میں ملوث جماعت سے تعلق رکھنے والے 5 مشتبہ افراد کو سری لنکا کے حوالے کردیا۔بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق سری لنکا کی پولیس نے چرچ حملوں میں سہولت کار کا کردار ادا کرنے والے 5 مشتبہ افراد کی سعودی عرب سے حوالگی کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ان ملزمان میں نیشنل توحید جماعت کا سینئر رہنما محمد ملہان بھی شامل ہے۔سعودی حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر عالمی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ ان افراد کو سری لنکا کی نشاندہی پر دبئی سے حراست میں لیا گیا تھا، بعد ازاں ان افراد کو جدہ لایا گیا جہاں ضروری قانونی کارروائی کے ملزمان کو کولمبو بھیج دیا گیا۔گرفتار ہونے والے افراد کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی تاہم سری لنکا پولیس نے نیشنل توحید جماعت کے سینئر رہنما محمد مِلہان کی حوالگی کی تصدیق کی ہے جو گزشتہ برس نومبر میں 2 پولیس اہلکاروں کو قتل کرنے کے بعد دبئی فرار ہوگیا تھا۔واضح رہے کہ رواں برس عیسائیوں کے مذہبی تہوار ایسٹر کے موقع پر سری لنکا کے 6 چرچوں میں تقاریب اور تہوار میں شرکت کے لیے دنیا بھر سے آنے والے مہمانوں کی قیام گاہ 6 لگژری ہوٹلوں پر خود کش حملہ کیا گیا تھا جس میں 250 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔
دنیا بھر میں انسٹا گرام کے صارفین کو پریشانی کا سامنا
لاہور (ویب ڈیسک)سماجی رابطے کی مقبول ایپ انسٹا گرام وقفے وقفے سے تعطل کا شکار رہی جس کی وجہ سے صارفین کو شدید کوفت کا سامنا رہا۔بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق دنیا بھر میں بیشتر علاقوں میں انسٹا گرام صارفین کو اپنے اکاﺅنٹس تک رسائی حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا رہا جب کہ جن لوگوں کے اکاﺅنٹس لاگ ان ہوگئے وہ بھی تصاویر اور ویڈیوز اپ لوڈ کرنے سے قاصر رہے۔انسٹا گرام کی سروس جن ممالک میں متاثر ہوئی یا تعطل کا شکار رہیں ان میں شمالی امریکا، جنوبی امریکا، یورپی ممالک، ایشیائی ممالک، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ شامل ہیں۔ انسٹاگرام انتظامیہ نے تکنیکی وجوہات کی بنا پر ہونے والی سروس کی معطلی کو جلد از جلد بحال کرانے کی یقین دہانی کرائی ہے۔دنیا بھر میں سوشل میڈیا ویب پلیٹ فارم کی فراہمی کے تکنیکی معاونت کرنے اور ان کی تقسیم کے طریقہ کار سے واقف ویب سائٹ ڈاﺅن ڈٹیکٹر نے دعویٰ کیا کہ مشرقی اور مغربی ساحلوں میں سروس تعطل کا شکار رہی۔ قبل ازیں پلے اسٹیشن کی سروس بھی بند ہوگئی تھی۔واضح رہے کہ 8 سال قبل شروع ہونے والے سوشل میڈیا کے اس پلیٹ فارم نے دن دگنی اور رات چوگنی ترقی کرتے ہوئے اپنے مخالفین کو پیچھے چھوڑ دیا اور محض 8 سال میں اس کے صارفین کی تعداد 1 بلین سے تجاوز کرگئی ہے۔
ہاﺅسنگ سیکٹر میں مبینہ فراڈ،نیب لاہور کی اہم پیش رفت
لاہور(صدف نعیم سے) گریٹر لاہور المعروف چنار باغ کوآپریٹو ہاﺅسنگ سوسائٹی کیس میں نیب لاہور کی اہم پیش رفت، ڈپٹی رجسٹرار کوآپریٹوز ملزم اعجاز خان لاہور سے گرفتار،ملزم اعجاز خان کو اختیارات کے ناجائز استعمال اور چنار باغ سوسائٹی میں 2 ارب کی مبینہ کرپشن میں معاونت کے الزام میں گرفتار کیا گیا، ملزم اعجاز خان نے رجسٹرار کوآپریٹو کو متعین اختیارات کا زاتی طور پر ناجائز استعمال کرتے ہوئے نیو جہلم پنجاب ایکسٹینشن پراجیکٹ کی غیر قانونی منظوری دی،نیب لاہور کیجانب سے 31 مئی کو مرکزی ملزم طارق شاہ کو گرفتار کیا گیا جس سے تحقیقات میں ڈپٹی رجسٹرار، ملزم اعجاز خان کے ملوث ہونیکے شواہد حاصل ہوئے۔ملزمان نے معاہدہ سے انحراف کرتے ہوئے تاحال صرف 850 کنال زمین سوسائٹی کو فراہم کی جبکہ انہیں مجموعی طور پر 5000 کنال زمین فراہم کرنا تھی چنار باغ سوسائٹی معاہدہ کی رو سے ہر 8 کنال زمین کے بدلہ سوسائٹی کی منیجمنٹ کمیٹی نے 3 کنال ڈویلپڈ پلاٹ فراہم کرنا تھے ملزمان نے آپس کی ملی بھگت سے عوام کو پلاٹوں کی فراہمی کے نام پر لگ بھگ 2 ارب روپے بٹورے دوران تحقیقات ملزم اعجاز خان اور لینڈ مافیا کے تعلقات کا انکشاف ہواجس پر مزید تحقیقات جاری ہیںنیب حکام کیجانب سے ملزم اعجاز خان کو جسمانی ریمانڈ کے حصول کیلئے کل احتساب عدالت کے روبرو پیش کیا جائیگاگرفتار ملزمان سے دوران تحقیقات ہونیوالے انکشافات پر ملوث ملزمان کی گرفتاریاں متوقع ہیں۔
وزیر اعظم عمران خان کا صدر پیوٹن اور چینی صدرکے ساتھ دوستانہ رویہ،بڑے بڑے حیرا ن رہ گئے
بشکیک (ویب ڈیسک) وزیر اعظم عمران خان شنگھائی تعاون تنظیم کے 2 روزہ اجلاس کے بعد وطن واپس پہنچ چکے ہیں، اجلاس کے دوران ان کا روسی صدر پیوٹن کے ساتھ دوستانہ رویہ سفارتی سطح پر زیر بحث رہا۔وزیرا عظم عمران خان نے شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں قومی لباس شلوار قمیض زیب تن کرکے رکھا جس کے باعث سوشل میڈیا پر انہیں خوب سراہا جارہا ہے۔انہوں نے روس کے صدر ولادی میر پیوٹن کے ساتھ نہ صرف سائڈ لائن پر ملاقات کی بلکہ اجلاس کے مختلف سیشنز کے دوران دونوں رہنما ایک دوسرے کے قریب نظر آئے۔تنظیم کے رہنماﺅں کے گروپ فوٹو کے دوران بھی وزیر اعظم عمران خان اور صدر پیوٹن ساتھ ساتھ کھڑے ہوئے اور ایک دوسرے کے ساتھ خوش گپیوں میں مصروف رہے جبکہ عشائیے کے دوران بھی دونوں ایک ساتھ بیٹھے۔عشائیے کے دوران بنائی گئی ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ صدر پیوٹن کے ایک طرف چینی صدر شی جن پنگ اور دوسری طرف عمران خان بیٹھے ہوئے ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان اور پیوٹن اس دوران خوش گپیوں میں مصروف رہے جبکہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی سارے اجلاس کے دوران ہی سائڈ پر نظر آئے۔
اگلہ مرحلہ ریکوری کا ہے اس لیے اپوزیشن والے گھبرائے ہوئے ہیں، فواد چوہدری
اسلام آباد(ویب ڈیسک) وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے وزیراعظم پر توہین صحابہؓ کا الزام مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان دیندار آدمی ہیں صرف انہوں نے داڑھی نہیں رکھی ہوئی۔قومی اسمبلی میں بجٹ اجلاس حکومتی اور اپوزیشن ارکان کی ہنگامہ آرائی کے باعث ملتوی ہوگیا۔ بعدازاں پارلیمنٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ اپوزیشن آج ایوان میں تقسیم نظر آئی، فضل الرحمان کی پارٹی جے یو آئی نے آج ایوان کو ہائی جیک کیا اور بجٹ پر بحث کا آغاز نہیں ہونے دیا، شہباز شریف کی تقریر میں رخنے انہوں نے ڈالے۔فواد چودھری نے ن لیگ اور پی پی پی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن کا ایک ہی بیانیہ ہے ہمارے پاپا کو چھوڑ دو، ان کے بڑے بڑے بزرگ جیلوں میں ہیں، تحقیقات میں پیش رفت ہورہی ہے، اگلہ مرحلہ ریکوری کا ہے اس لیے یہ گھبرائے ہوئے ہیں، ان کا بس ایک مطالبہ ہے ہمارے پیسے چھوڑ دو لیکن ہمیں عوام نے ان کے احتساب کےلیے ووٹ دیا ہے، انہیں اصل پریشانی یہ ہے کہ اسحاق ڈار کی واپسی کی راہ ہموار ہورہی ہے۔وزیراعظم کی تقریر کی صحابہ کرامؓ کی شان میں مبینہ گستاخی سے معاملے پر فواد چودھری نے کہا کہ مذہب کے نام پر سیاست نہیں کرنی چاہیے، لیکن ن لیگ سمیت تمام اپوزیشن موقع ملتے ہی اس معاملے پر اکٹھا ہوجاتی ہے، ہر مہذب شخص ان کے رویے کی مذمت کرے گا، اس معاملے پر ہونا بھی کچھ نہیں کیونکہ ہر شخص کو پتہ ہے کہ عمران خان انتہائی دیندار اور ایماندار آدمی ہیں، ان کی زندگی اور اصولوں سے واقف ہر شخص جانتا ہے کہ صرف انہوں نے داڑھی نہیں رکھی ہوئی لیکن وہ مکمل دیندار اور ایماندار آدمی ہیں، اس معاملے پر سیاست کامیاب نہیں ہوگی۔


















