All posts by Asif Azam

https://www.facebook.com/asif.azam.33821

3 صوبوں کی ساری بیوروکریسی تبدیل

لاہور، اسلام آباد،کراچی(نمائندگان خبریں، ایجنسیاں) عام انتخابات سے قبل تین صوبوں میں قریباً ساری بیورو کریسی کو تبدیل کر دیا گیا ہے۔ ان میں پنجاب، سندھ اور بلوچستان شامل ہیں۔ فی الحال خیبر پختونخوا میں بیورو کریسی کو نہیں چھیڑا گیا۔ یہ سارے تبادلے الیکشن کمشن کی منظوری سے کئے گئے ہیں۔ پنجاب میں 34 سیکرٹری، 35 ڈپٹی کمشنر، متعدد کمشنر اور 77 کے قریب پولیس افسروں کو ان کے عہدوں سے ہٹا کر ان کی جگہ دوسرے افسروں کی تقرری کی گئی ہے جبکہ بہت سے پولیس افسروں کی خدمات وفاق کے حوالے کر دی گئی ہے۔ الیکشن کمیشن کے اعلامیہ کے مطابق پنجاب بھر میں تبادلوں کا بڑا ریلا، صوبائی سیکرٹریز، تمام کمشنر، ڈپٹی کمشنرز سمیت تمام افسران تبدیل کر دئےے گئے کئی کمشنرز کو سیکرٹری اور کچھ سیکرٹری کو کمشنرز زیادہ تر نئے چہروں کو ڈپٹی کمشنر تعینات کیا گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ندیم اشرف کیانی کو کمشنر گجرانوالہ،محمد مجتبیٰ سیکرٹری انڈسٹری کو کمشنر لاہور تعینات کیا گیا ہے جبکہ کیپٹن (ر) سیف انجم کو کمشنر راولپنڈی، اسداللہ فیض کمشنر ملتان، فرح مسعود کمشنر ساہیوال، نیئر اقبال ممبر بورڈ آف ریونیوکو کمشنر بہاولپور، رانا گلزار احمد کمشنر ڈیرہ غازی خان، کیپٹن (ر) محمد ظفر اقبال کو کمشنر سرگتعینات کیا گیا ہے اسی طرح ڈپٹی کمشنر لاہور کیپٹن (ر) محمد انوار الحق کو تعینات کیا گیا ہے جبکہ شوکت علی ڈی سی جھنگ،مظفر خان ڈی سی خانیوال کو ڈپٹی کمشنر سرگودھا ،قیصر سلیم ڈپٹی کمشنر مظفر گڑھ ،عمران قریشی ڈی سی اٹک،عدنان ارشد اولک ڈی سی حافظ آباد،عثمان علی ڈی سی چکوال،طاہر وٹو ڈی سی سیالکوٹ،ذیشان جاوید ڈی سی ناروال ،مہتاب وسیم ڈی سی منڈی بہاالدین ،رفاقت علی ڈی سی لیہ ،عامر ڈی سی بھکر ،ڈی سی چکوال غلام ساغر کو ڈپٹی کمشنر چنیوٹ ،احمد خاور شہزاد ڈی سی ٹوبہ ٹیک سنگھ،ڈی سی قصور سائرہ عمر کو ڈی سی ساہیوال ،ڈائریکٹر ایف ائی اے سید فواد احمد کو ڈی سی فیصل آباد ،ڈی سی جھنگ مدثر ریاض کو ڈی سی ملتان ،ایڈیشنل سیکرٹری S&GADعرفان علی خان کو ڈی سی وہاڑی ،محمد نعمان یوسف پاکپتن ،رضوان نذر ڈی سی اکاڑہ ،جمیل احمد جمیل ڈی سی رحیما یارخان ،کیپٹن (ر) وقار رشید ڈی سی قصور،ڈی سی بہاولپور اظہر حیات کو ڈی سی شیخوپور،ڈاکٹر شعیب طارق واڑیچ ڈی سی گجرانوالہ ،زاہد اقبال اعوان ڈی سی میانوالی ،ڈی سی وہاڑی علی اکبر بھٹی کو ڈی سی ڈیرہ غازی خان ،ایڈیشنل کمشنر بہاولپور ثاقب علی کو ڈی سی لودھراں ،اللہ ڈتہ واڑیچ ڈپٹی کمشنر راجن پور ،ڈی سی راجن پور اشفاق احمد کو ڈی سی خانیوال ،سیکرٹری بورڈ آف ریونو ندیم عباس بھنگو کو ڈپٹی کمشنر خوشاب ،محمد ایوب ڈی سی بہاولپور ،توصیف دلشاد ڈی سی گجرات ،سائیں ڈتہ خالد ڈی سی بہاولنگر ،ڈی سی پاکپتن منصور احمد کو ڈپٹی کمشنر ننکانہ تعینات کردیا گیا ہے ۔کمشنر ملتان بلال احمد بٹ کو سیکرٹری انفارمیشن اینڈ کلچر ،سپیشل سیکرٹری ڈاکٹر واصف خورشید کو سیکرٹری زراعت ،ممبر بورد آف ریونیو بابر کو سیکرٹری ایکسائز ،سلیمان اعجاز کو سیکرٹری لیبر ،خالد محمود سیکرٹری کواپریٹو ،سیکرٹری کواپریٹو شہر یار سلطان کو سیکرٹری سی اینڈ ڈبلیو ،کمشنر ڈیر ہ غازی خان احمد علی کمبوہ کو ممبر بورد آف ریونیو ،ممبر بورڈ آف ریونیو سید خالد اقبال بخاری کو سیکرٹری انڈ سٹری اینڈ کامرس ،ایڈیشنل سیکرٹری چیف منسٹر زاہد سلیم گوندل ڈی جی آثار قدیمہ ،کرن خورشید رجسٹرار کوآپریٹو ،سیکرٹری لٹریسی عصمت طاہر کو سیکرٹری ایم پی ڈی ڈی ،سیکرٹری وومن بشرا احمد کو چیر پرسن ٹیوٹا ،عبرین رضا سیکرٹری سکولز ،کیپٹن (ر) نسیم نواز سیکرٹری ہوم ،کمشنر فیصل آباد مومن آغا کو سیکرٹری منرل ڈیپارٹمنٹ،کمشنر سرگودھا سیکرٹری زکواة،سیکرٹری زراعت کیپٹن (ر) محمد محمود کو سیکرٹری لائیو سٹاک ،سیکرٹری آبپاشی کیپٹن (ر) کو سیکرٹری جنگلات ،وایلڈ لائف ،طارق نجیب نجم کو ایڈیشنل چیف سیکرٹر ی پنجاب ،ایم ڈی یوٹیلٹی سٹورز کو چیرمین پی اینڈ ڈی ،کیپٹن سعید نواز کو سینئر بورڈ ممبر ریونیو ،منیجنگ ڈائریکٹر واپڈا کیپٹن (ر) شیر عالم مسعود سیکرٹری آبپاشی ،عارف انوار بلوچ سیکرٹری ایل جی اینڈ ڈی ،ظفر نصراللہ سیکرٹری ماحولیات ،امنہ عمران ڈی جی ایل ڈی اے ،سیکرٹری زکواة محمد حسن کو سیکرٹری HU&PHEِِِ،محمد ہارون رفیق سیکرٹری ٹرانسپورٹ ،ثاقب ظفر سیکرٹری ہیلتھ کئر ،احمد رضا سرور سیکرٹری ایس اینڈ جی اے ڈی ،علی بہادر قاضی کمشنر ساہیوال کو سیکرٹری پرائمری سیکنڈری ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ ،خالد سلیم سیکرٹری ہائر ایجوکیشن کے عہدوں پر تعینات کردیا گیا ہے ۔پنجاب حکومت نے پنجاب کے اعلی ٰ افسران کی خدمات وفاق کے سپرد کردیں ہیں جس کےلئے وفاق کو خط بھی لکھ دیا گیا ہے جن افسران کی خدمات وفاق کے سپرد کی ہیں ان میں جہانزیب خانزداہ چیرمین پی اینڈ ڈی ،میاں مشتاق احمد ایڈیشنل چیف سیکرٹری کمیونیکیشن اینڈ مواصلات (C&W)، عمر رسول ایڈیشنل چیف سیکرٹری ایس اینڈ جی اے ڈی ،محمد اسلم سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو ،رحان عزیز خواجہ سیکرٹری ایس اینڈ جی اے ڈی سروسز ،ارشد محمود سیکرٹری ایکسائز ،اللہ بخش ملک سیکرٹری سکولز ،عبدالجبار شاہین چیر مین سی ایم آئی ٹی، محمد عبداللہ خان سنبل کمشنر لاہور، ندیم اسلم چوہدری کمشنر راولپنڈی جبکہ احمد جاوید قاضی کو او ایس ڈی کر دیا گیا ہے یہ وہ بیورکریسی ہے جو سابقہ حکومت کے ساتھ ہاں میں ہاں ملاتی رہی ہے۔ محکمہ پنجاب پولیس میں بڑے پیمانے پر اکھاڑ بچھاڑ کرتے ہوئے اے آئی جیز سے ایس پیز تک کے صوبہ بھر میں تقرر و تبادلوں کے احکامات جاری کرتے ہوئے ایڈیشنل آئی جی بی اے ناصر کو سی سی پی او لاہور جبکہ یہاں تعینات سابقہ سی سی پی او لاہور کیپٹن (ر)محمد امین وینس کی خدمات وفاق کے حوالے کردی گئیں۔اے آئی جی اسٹبلشمنٹ پنجاب اظہر حمید کھوکھر کو اے آئی جی ڈسپلن اینڈ انسپکشن پنجاب کا اضافی چارج دیدیا گیا جبکہ یہاں تعینات اعجاز حسین شاہ کو این اینڈ جی اے ڈی رپورٹ کر نے کا حکم دیا گیا۔اےڈیشنل آئی جی ٹریننگ پنجاب طارق محمود یاسین کو ایڈیشنل آئی جی ویلفیئر اینڈ فائنانس پنجاب کی خالی اسامی پر تعینات کردیا گیا ہے جبکہ ان کے پاس اس خالی اسامی کا بھی اضافی چارج ہے جس پر اے آئی جی بی اے ناصر تعینات تھے ۔ڈی آئی جی ٹریفک پنجاب محمد فاروق مظہر کو ایڈیشنل آئی جی سپیشل برانچ پنجاب تعینات کر دیا گیا جبکہ یہاں تعینات ایڈیشنل آئی جی سپیشل برانچ فیصل شاہکار کی خدمات وفاق کے سپرد کر دی گئیں ۔ڈپٹی کمانڈنٹ کانسٹیبلری پنجاب ڈاکٹر انعام وحید کو کمانڈنٹ پنجاب کانسٹیبلری کا اضافی چارج دیدیا گیا جبکہ یہاں تعینات حسین اصغر کی خدمات وفاق کے حوالے کر دی گئیں ۔ایس ایس پی ایڈمنسٹریشن سپیشل برانچ پنجاب عمران محمود کو سابقہ ڈی آئی جی انویسٹی گیشن مانیٹرنگ انویسٹی گیشن برانچ پنجاب محمد وقاص نزیر کی جگہ ڈی آئی جی انویسٹی گیشن مانیٹرنگ انویسٹی گیشن برانچ پنجاب تعینات کردیا گیا ۔ڈی آئی جی انٹیلی جنس بیورو اسلام آباد کی خدمات وفاق سے پنجاب پولیس کیلئے مانگتے ہوئے انھیںسابقہ ڈی آئی جی ٹریننگ سی پی او پنجاب سہیل اختر کی جگہ ڈی آئی جی ٹریننگ سی پی او پنجاب تعینات کر دیا گیا ہے ۔اسٹیبلشمنٹ ڈویژن اسلام آباد سے سعد اختر بھر وانہ کی خدمات وفاق سے پنجاب پولیس کیلئے مانگتے ہوئے انھیں سابقہ ڈی آئی جی کرائم اینلائزز انویسٹی گیشن برانچ پنجاب صاحبزادہ محمد شہزاد سلطان کی جگہ ڈی آئی جی کرائم اینلائزز انویسٹی گیشن برانچ پنجاب تعینات کردیا گیا ۔ڈی آئی جی انویسٹی گیشن ماٹیٹرنگ انویسٹی گیشن برانچ پنجاب محمد وقاص نزیر کو سابقہ ڈی آئی جی لاجسٹکس اینڈ پروکیورمنٹس سی پی او پنجاب فیصل علی راجہ کی جگہ تعینات کر دیا گیا ۔ایس ایس پی وی وی آئی پیز سکیورٹی سپیشل برانچ لاہور شوکت عباس کو گریڈ 19سے 20میں ترقی دینے کے بعد سابقہ ڈی آئی جی سکیورٹی ڈویژن لاہور معین مسعود کی جگہ ڈی آئی جی سکیورٹی ڈویژن لاہور تعینات کر دیا گیا ہے ۔ڈی آئی جی ٹریننگ سی پی او پنجاب سہیل اختر کو سابقہ ڈی آئی جی وی وی آئی پیز سکیورٹی سپیشل برانچ لاہور کیپٹن(ر)عبدالسعید نوید کی جگہ ڈی آئی جی وی وی آئی پیز سکیورٹی سپیشل برانچ لاہور تعینات کر دیا گیا ہے ۔ڈی آئی جی وی وی آئی پیز سکیورٹی سپیشل برانچ لاہور کیپٹن(ر)عبدالسعید نوید کو سابقہ ڈی آئی جی انویسٹی گیشن مانیٹرنگ انویسٹی گیشن برانچ پنجاب محمد وقاص نزیر کی جگہ ڈی آئی جی انویسٹی گیشن مانیٹرنگ انویسٹی گیشن برانچ پنجاب تعینات کر دیا گیا ہے ۔سی پی او ملتان سرفراز احمد فلکی کو سابقہ ڈی آئی جی ڈسپلن اینڈ انسپکشن پنجاب منیر مسعود مارتھ کی جگہ ڈی آئی جی ڈسپلن اینڈ انسپکشن پنجاب تعینات کر دیا گیا ۔ڈی آئی جی کرائم اینلائزز انویسٹی گیشن برانچ پنجاب صاحبزادہ محمد شہزاد سلطان کو سابقہ ڈی آئی جی ٹریفک پولیس پنجاب محمد فاروق کی جگہ ڈی آئی جی ٹریفک پولیس پنجاب تعینات کر دیا گیا ہے ۔اسی طرح پنجاب بھر میں آر پی اوز کی تقرری و تبادلوں کے احکامات جاری کرتے ہوئے آر پی اوفیصل آباد بلال صدیق کمیانہ کوڈی آئی جی ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ پنجاب کی خالی اسامی پر تعینات کر دیا گیا ۔آرپی او ملتان محمد ادریس احمد کوسابقہ ڈی آئی جی اسٹیبشمنٹ ون سید خرم علی کی جگہ ڈی آئی جی اسٹیبشمنٹ ون تعینات کر دیا گیا ۔آر پی او ساہیوال محمد طارق چوہان کو سابقہ کمانڈنٹ پولیس ٹریننگ کالج لاہور فیاض احمد دیو کی جگہ کمانڈنٹ پولیس ٹریننگ کالج لاہور تعینات کر دیا گیا ۔آر پی او بہاولپور وسیم احمد خان کو سابقہ ڈی آئی جی سپیشل پروٹیکشن یونٹ پنجاب لاہورکیپٹن (ر) محمد فیصل رانا کی جگہ ڈی آئی جی سپیشل پروٹیکشن یونٹ پنجاب لاہورتعینات کر دیا گیا ۔آر پی او شیخوپورہ ذوالفقار حمید کو سابقہ آر پی او گجرانوالہ رفعت مختار کی جگہ آر پی او گجرانوالہ تعینات کر دیا گیا ۔کمانڈنٹ ٹریننگ کالج لاہور فیاض احمد دیو کوسابقہ آر پی او راولپنڈی محمد وصال فخر سلطان کی جگہ آر پی او راولپنڈی تعینات کر دیا گیا۔ڈی آئی جی پنجاب ہائی وے پیٹرول غلام محمود ڈوگر کو سابقہ آر پی او فیصل آباد بلال صدیق کمیانہ کی جگہ پر آر پی او فیصل آباد تعینات کر دیا گیا ۔ایڈیشنل آئی جی انویسٹی گیشن پنجاب ملک ابوبکر خدابخش کو سابقہ آر پی او ملتان محمد ادریس احمد کی جگہ آر پی او ملتان تعینات کر دیا گیا ۔ڈی آئی جی ٹیکنیکل پروسیورمنٹ پنجاب شہزاد اکبر کوڈی آئی جی آپریشنز لاہور کی اسامی پر تعینات کر دیا گیا ہے ۔ڈی آئی جی اسٹیبلشمنٹ ون پنجاب سید خرم علی کو سابقہ ڈی آئی جی انویسٹی گیشن لاہورچوہدری سلطان احمد کی جگہ ڈی آئی جی انویسٹی گیشن لاہور تعینات کر دیا گیا ۔ڈی آئی جی انویسٹی گیشن لاہور چوہدری سلطان احمد کو سابقہ آر پی او سرگودھا محمد اختر عباس کی جگہ آر پی او سرگودھا تعینات کردیا گیا ۔آر پی او ڈیرہ غازی خان سہیل حبیب تاجک کو سابقہ آر پی او شیخوپورہ ذولفقار حمید کی جگہ آر پی او شیخوپورہ تعینات کر دیا گیا۔ڈی آئی جی انفارمیشن ٹیکنالوجی شیر کمال صدیقی کو سابقہ آر پی او ساہیوال محمد طارق چوہان کی جگہ آر پی او ساہیوال تعینات کر دیا گیا ہے ۔نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹر ویز میںسے محمد عمرشیخ کی خدمات وفاق سے پنجاب پولیس کیلئے مانگتے ہوئے انھیں سابقہ آر پی او ڈیرہ غازی خان سہیل حبیب تاجک کی جگہ آر پی او ڈیرہ غازی خان تعینات کر دیا گیا ۔ڈی آئی جی سپیشل پروٹیکشن یونٹ پنجاب کیپٹن (ر)محمد فیصل رانا کو سابقہ آر پی او بہاولپور لیفٹنٹ(ر) وسیم احمد خان کی جگہ آر پی او بہاولپورتعینات کردیا گیا ۔نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹر ویز سے احسان عباس کی خدمات پنجاب پولیس کیلئے وفاق سے مانگتے ہوئے انھیں سابقہ سی پی او راولپنڈی افضال احمد کوثر کی جگہ تعینات کر دیا گیا ۔ڈی آئی جی سکیورٹی ڈویژن لاہور معین مسعود کو سابقہ سی پی او گجرانوالہ اشفاق احمد خان کی خالی اسامی پر تعینات کر دیا گیاجبکہ یہاں تعینات اشفاق احمد کوسابقہ سی پی او فیصل آباد اطہر اسماعیل امجد کی جگہ تعینات کر دیا گیا ۔۔ڈی پی اوز کے تقرر و تبادلوں کے احکامات کے مطابق ڈی پی او اوکاڑہ حسن اسد علوی کو سابقہ ڈی پی او اٹک عبادت نثارکی جگہ ڈی پی او اٹک تعینات کر دیا گیا ۔ایس ایس پی ٹریفک ہیڈ کوارٹرپنجاب اطہر وحید کو سابقہ ڈی پی او جہلم عبدالغفار قریشی کی جگہ ڈی پی او جہلم تعینات کر دیا گیا ۔ ایڈیشنل ایس پی صدر لاہور عادل میمن کو سابقہ ڈی پی او چکوال ذوالفقار احمد کی جگہ ڈی پی او چکوال تعینات کر دیا گیا ۔اے آئی جی ایڈمن اینڈ سکیورٹی محمد زبیر دریشک کو سابقہ ڈی پی او سرگودھا کیپٹن (ر) محمد سہیل چوہدری کی جگہ ڈی پی او سرگودھاتعینات کردیا گیا ۔چیف ٹریفک آفیسر فیصل آباد حسنین حیدر کو سابقہ ڈی پی او خوشاب ابرار حسین کی جگہ پر ڈی پی او خوشاب تعینات کر دیا گیا ۔ایس ایس پی انٹیلی جنس سپیشل برانچ پنجاب خرم شکور کو سابقہ ڈی پی او بھکر خالد مسعود کی جگہ ڈی پی او بھکر تعینات کر دیا گیا ۔ایڈیشنل ایس پی انویسٹی گیشن سٹی لاہور سید کرار حسین کو سابقہ ڈی پی او میانوالی صادق علی کی جگہ ڈی پی او میانوالی ۔ایس ایس پی ریسرچ اینڈ اینالائزز سی ٹی ڈی پنجاب شاکر حسین داور کو سابقہ ڈی پی او جھنگ کیپٹن (ر)ملک لیاقت کی جگہ ڈی پی او جھنگ تعینات کر دیا گیا ۔ڈی پی او اٹک عبات نثار کوسابقہ ڈی پی او چنیوٹ رانا طاہر رحمان کی جگہ ڈی پی او چنیوٹ تعینات کر دیا گیا ۔ڈی پی او چکوال ذوالفقار احمد کو سابقہ ڈی پی او ٹوبہ ٹیک سنگھ منصور الحق کی جگہ ڈی پی او ٹوبہ ٹیک سنگھ تعینات کر دیا گیا ۔ایس پی سی آئی اے فیصل آباد محمد ناصر سیال کو سابقہ ڈی پی او منڈی بہاﺅالدین فیصل مختار کی جگہ ڈی پی او منڈی بہاﺅالدین تعینات کردیا گیا ۔ایس ایس پی آپریشنز ملتان سیف اللہ خان کو سابقہ ڈی پی او حافظ آباد سردار غیث گل خان کی جگہ ڈی پی او حافظ آبادتعینات کر دیا گیا ۔ایس پی انویسٹی گیشن بہاولپور رب نواز کو سابقہ ڈی پی او راجن پور محمد عتیق طاہر کی جگہ ڈی پی او راجن پور تعینات کر دیا گیا ۔ایڈیشنل ایس پی ما ڈل ٹاﺅن لاہور فیصل شہزاد کو سابقہ ڈی پی او مظفر گڑھ اویس احمد کی جگہ ڈی پی او مظفر گڑھ تعینات کر دیا گیا ۔ڈی پی او قصور زاہد نواز کو سابقہ ڈی پی او لیہ ناصر مختار راجپوت کی جگہ ڈی پی او لیہ تعینات کر دیا گیا ۔ایس ایس پی آر او سی ٹی ڈی لاہور محمد اقبال کو سابقہ ڈی پی او بہاولپور کیپٹن (ر)مستنصر فیروز کی جگہ ڈی پی او بہاولپورتعینات کر دیا گیا ۔اسلام آباد پولیس سے ڈاکٹر مصطفی تنویر کی خدمات حاصل کرتے ہوئے انھیں سابقہ ڈی پی او رحیم یار خان ذیشان اصغر کی جگہ ڈی پی او رحیم یار خان تعینات کر دیا گیا ۔ڈی پی او بہاولپور کیپٹن (ر)مستنصر فیروز کوسابقہ ڈی پی اوبہاولنگر عطاءالرحمن کی جگہ ڈی پی اوبہاولنگر تعینات کر دیا گیا ۔ادھر ایس پیز کی سطح پر بھی بڑے پیمانے پر صوبے بھر میں اکھاڑ بچھاڑ کرتے ہوئے ایس پی انویسٹی گیشن گجراتمحمد بلال قیوم کو سی پی او پنجاب لاہور ، ایس پی پولیس سکول آف انٹیلی جنس لاہور سید عون محمد کو ایس پی انویسٹی گیشن سیالکوٹ ، ایڈیشنل ایس پی انویسٹی گیشن سول لائنز لاہور سائرہ بانو کو ایس پی انویسٹی گیشن ناروال ، ڈپٹی ڈائریکٹر ایڈمن ایلیٹ فورس پنجاب لاہور صدف فاطمہ کو ایس پی انویسٹی گیشن حافظ آباد ایس پی ڈسپلن فیصل آباد ریجن محمد امتیاز محمود کو ایس پی انویسٹی گیشن جھنگ ، ایس پی پی ایچ پی فیصل آباد اُم سلمیٰ ملک کو ایس پی انویسٹی گیشن ٹوبہ ٹیک سنگھ ، بٹالین کمانڈر تھری پنجاب کانسٹیبلری ملتان بہار احمد شاہ کو ایس پی انویسٹی گیشن خانیوال ، ایس پی پی ایچ پی گجرانوالہ شجاعت علی رانا کو ایس پی انویسٹی گیشن وہاڑی ، ایڈیشنل ایس پی انویسٹی گیشن کینٹ لاہور ڈاکٹر انوش مسعود چوہدری کو ایس پی انویسٹی گیشن قصور ، ایڈیشنل ایس پی انویسٹی گیشن علامہ اقبال ٹاﺅن لاہور اسد الرحمن ایس پی انویسٹی گیشن شیخو پورہ ، ڈپٹی ڈائریکٹر ٹریننگ ایلیٹ ٹریننگ سکول لاہور شاہدرہ نسرین کو ایس پی انویسٹی گیشن ننکانہ صاحب ، ایس پی پی ایچ پی ملتان سجاد حسین کو ایس پی انویسٹی گیشن ساہیوال ، ایڈیشنل ایس پی انویسٹی گیشن ماڈل ٹاﺅن لاہورشاکر احمد شاہد کو ایس پی انویسٹی گیشن اوکاڑہ ، ایس پی انویسٹی گیشن قصور قدوس بیگ کو ایس پی انویسٹی گیشن سرگودھا ، ایس پی انویسٹی گیشن جہلم گلفام ناصر کو ایس پی انویسٹی گیشن میانوالی ،سی ٹی او ملتان محمد شریف کو ایس پی انویسٹی گیشن بھکر ، ایس پی انویسٹی گیشن بہاولنگر محمد سلیم کو ایس پی انویسٹی گیشن بہالپور ، ایس پی انویسٹی گیشن وہاڑی زبیدہ پروین کو ایس پی انویسٹی گیشن بہاولنگر ، ایس پی انویسٹی گیشن ڈی جی خان محمد انورچشتی کو ایس پی انویسٹی گیشن رحیم یار خان ، ایس پی ڈسپلن اینڈ انسپکشن بہاولپور ریجن جلیل عمران خان کو ایس پی انویسٹی گیشن راجن پور، ایس پی انویسٹی گیشن راجن پور محمد ظفر کو ایس پی انویسٹی گیشن ڈی جی خان اور تعیناتی کے منتظر محمد باقر کو ایس پی انویسٹی گیشن لیہ تعینات کر دیا گیا ہے۔ سندھ میں 14 سیکرٹری، دو اے آئی جی پولیس 6 کمشنر33 ڈپٹی کمشنر، 14 ڈی آئی جی بعد میں کئی ایک ایس ایس پی تبدیل کئے گئے ہیں۔ بلوچستان میں بھی تین سیکرٹری، 6 کمشنر اور 33 ڈپٹی کمشنر تبدیل کئے گئے ہیں۔ صوبے میں چالیس سے زیادہ ڈی ایس پی اور پچاس سے زائد اسسٹنٹ کمشنر بھی اپنے موجودہ عہدوں سے ہٹا دیئے گئے ہیں۔الیکشن کمیشن اعلامیے کے مطابق سندھ میں محمد رمضان اعوان سیکریٹری لوکل گورنمنٹ، فضل اللہ پیچوہو سیکریٹری لائیو اسٹاک اور فشری ڈپارٹمنٹ، ڈاکٹر عثمان چاچڑ سیکرٹری، رفیق بورہو سیکریٹری مائنر اینڈ منرل اور عبد الوہاب سومرو ممبر بورڈ آف ریونیو سندھ تعینات کردیئے گئے ہیں۔اعلامیے میں بتایا گیاہےکہ ہارون احمد خان سندھ کے سیکریٹری داخلہ، ڈاکٹر نور عالم سیکرٹری فنانس، عبدالرحیم شیخ سیکری ٹری ورکس اینڈ سروسز، اقبال نفیس چیئرمین انکوائری اینڈاینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ، محمد نواز شیخ سیکریٹری فوڈ ڈپارٹمنٹ، قاضی شاہد پرویز سیکرٹری اطلاعات، اعجاز احمد مہیسر سیکریٹری ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن اور ایلیاشاہد سیکریٹری اسکول ایجوکیشن تعینات کیے گئے ہیں۔الیکشن کمیشن اعلامیے کے مطابق صالح احمد فاروقی کمشنر کراچی، ذوالفقارعلی شاہ کمشنر میرپور خاص، نوید احمد شیخ کمشنر لاڑکانہ، منظور علی شیخ کمشنر سکھر، احسن علی منگی کمشنر حیدرآباد اور اکرم علی خواجہ کمشنر شہید بینظیرآباد تعینات کیا گیاہے۔الیکشن کمیشن کی جانب سے پولیس میں بھی اعلی سطح پر تبادلے کیے گئے ہیں جن میں ایڈیشنل آئی جی کرائم عامراحمد شیخ کوایڈیشنل آئی جی فنانس اینڈ ویلفئیر کا چارج دے دیا گیا ، جب کہ جاوید اکبر ریاض ڈی آئی جی لاڑکانہ، ثاقب اسماعیل میمن ڈی آئی جی میرپورخاص، مظہرنواز شیخ ڈی آئی جی شہید بے نظیرآباد اور ذولفقارعلی لاڑک کو ڈی آئی جی سکھر تعینات کیا گیاہے۔اس کے علاوہ ڈی آئی جی ویسٹ عامر فاروقی ڈی آئی جی ایسٹ زون، ڈی آئی جی حیدرآباد جاوید اختر اوڈھو ڈی آئی جی ساتھ اور ڈی آئی جی ساتھ آزاد خان کو ڈی آئی جی ویسٹ لگایا گیا ہے۔ایس ایس پی لیول کے تبادلوں میں تعیناتی کے منتظر نعمان صدیقی ایس ایس پی ایسٹ، تعیناتی کے منتظرعرفان علی بلوچ ایس ایس پی سینٹرل، ایس ایس پی ویسٹ عمرشاہد ایس ایس پی ساتھ، تعیناتی کے منتظر منیر احمد شیخ ایس ایس پی ملیر، ایس ایس پی ملیرعدیل چانڈیوایس ایس پی حیدرآباد، ایس ایس پی ایسٹ سمیع اللہ سومرو ایس ایس پی سٹی، ایس ایس پی سینٹرل ڈاکٹر رضوان احمد ایس ایس پی ویسٹ اور ایس ایس پی عامرسدوزئی کو ایس ایس پی کورنگی تعینات کردیا گیا ۔اعلامیے کے مطابق ایس ایس پی سٹی شیراز نذیرکا سکھر تبادلہ کردیا گیا جب کہ ایس ایس پی ساتھ سرفرازاحمد کا بدین اور ایس ایس پی کورنگی ذوالفقار مہر کا قمبر تبادلہ کردیا گیا۔

امیدواروں کے حلف نامے اور اثاثوں کی تفصیل عام کرنیکا فیصلہ

اسلام آباد(اے این این) الیکشن کمیشن نے عام انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں کی تفصیلات عام کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ذرائع الیکشن کمیشن کے مطابق کاغذات نامزدگی جمع کرانے والے امیدواروں کی معلومات ویب سائٹ پر جاری کی جائیں گی تاکہ امیدواروں کی تمام معلومات انٹرنیٹ پر ووٹرز کو دستیاب ہوں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن کے فیصلے کے مطابق امیدواروں کے کاغذات نامزدگی میں ظاہر کیے گئے اثاثوں کی تفصیلات اور دیگر معلومات جاری کی جائیں گی۔اسی کے ساتھ امیدواروں کے حلف ناموں کی تفصیلات بھی ویب سائٹ پر جاری کی جائیں گی اور اس حوالے سے ریٹرننگ افسران نے امیدواروں کا ڈیٹا اسکین کر کے الیکشن کمیشن سیکرٹریٹ بھجوانا شروع کر دیا ۔ دوسری جانب الیکشن کمیشن کے اپیلٹ ٹربیونلز نے ملک بھر میں کام شروع کردیا ہے، کاغذات نامزدگی مسترد ہونے سمیت فیصلوں کیخلاف اپیلیں 22 جون تک دائر ہوں گی جن امیدواران کے کاغذات نامزدگی درست قرار دئیے گئے ہیں ان کی تفصیلات عام کر دی جائیں گی جو انٹر نیٹ پروموٹرز کو میسر ہوں گی۔ گذشتہ روز نادرا نے شہریوں کا ڈیٹا لیک ہونے سے متعلق تمام الزامات کی تردید کی تھی، ڈی جی نادرا ذوالفقار علی کا کہنا ہے کہ کسی بھی ایک شہری کا ڈیٹا کسی بھی پلیٹ فارم سے شیئر نہیں کیا گیا۔ اسلام آباد میں نادرا کے چار ڈائریکٹر جنرلز نے مشترکہ پریس کانفرنس کی۔ پریس کانفرنس کے دوران ڈی جی نادرا ذوالفقار علی نے کہا کہ آج تک نادرا کی تاریخ میں کوئی ڈیٹا لیک نہیں ہوا۔

زرادری ، بلاول ، مریم ارب پتی امیدوار ۔۔۔عمران کی 47 لاکھ 76 ہزار سالانہ آمدنی

لاہور‘کراچی (این این آئی) سابق صدر مملکت ،پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری ،پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور سابق وزیراعظم محمد نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز کی جانب سے جمع کرائے جانے والے کاغذات نامزدگی میں ظاہر کیے گئے اثاثوں کی تفصیلات سامنے آگئیں۔کاغذات نامزدگی کے ساتھ منسلک اثاثہ جات کی تفصیلات کے مطابق آصف علی زرداری 6 بلٹ پروف لگژری گاڑیوں، دبئی میں ہزاروں ایکٹر پر مشتمل پراپرٹی اور زرعی اراضی کے مالک ہیں۔آصف علی زرداری کو اسلحہ، گھوڑے اور لائیو سٹاک کا شوق ہے جس پر انہوں نے خطیر رقم خرچ کی ہے ۔میڈیا رپورٹ کے مطابق الیکشن کمیشن آف پاکستان کو فراہم کردہ تفصیلات کی رو سے آصف علی زرداری کے پاس متحدہ عرب امارات کا اقامہ بھی ہے اور پاکستان میں ایک درجن سے زائد پراپرٹیزکے مالک ہیں جبکہ بےنظیر بھٹو کی 5 پراپرٹیز میں شیئرز بھی ہیں۔ظاہر کردہ اثاثہ جات میں بتایا گیا کہ آصف زرداری بیرون ملک دبئی میں الصفا میں ایک خالی پلاٹ کے مالک ہیں جو10 کروڑ روپے میں خریدا گیا تھا۔آصف علی زرداری کے اثاثوں کی کل مالیت 75 کروڑ 86 لاکھ روپے بنتی ہے جس میں آدھی جائیداد کے مالک ان کے بیٹے بلاول بھٹو زرداری ہیں۔پی پی پی کے شریک چیئرمین کے پاس تین ٹویوٹا لینڈ کروزر، دوبی ایم ڈبلیو اور ایک ٹویوٹا لیکسس ہے اور تمام مذکورہ گاڑیاں بلٹ پروف ہیں۔اثاثہ جات کی تفصیلات کے مطابق لاتعداد گھوڑوں اور کیٹل کی کل ملکیت 9 کروڑ روپے جبکہ ان کے پاس موجود اسلحہ کی قیمت1 کروڑ 60 لاکھ روپے بتائی گئی۔آصف علی زرداری کے مطابق انہوں نے 1 کروڑ 29 لاکھ روپے کی سرمایہ کاری لینڈ مارکس میں کی ہے جبکہ 8 لاکھ 90 ہزار روپے کی سرمایہ کاری آصف اپارٹمنٹ (ہما ہائیٹس)میں کی۔انہوں نے کاغذات نامزدگی میں بتایا کہ وہ پاکستان سے باہر کسی کاروبار کے مالک نہیں ہیں۔سابق صدر کے مطابق زرداری گروپ (پرائیوٹ لمیٹڈ اور پارک لین ای اسٹیٹ پرائیوٹ لمیٹڈ )میں صرف 10 لاکھ 7 ہزار روپے کی سرمایہ کاری کی ہے جبکہ زرداری گروپ کو 45 لاکھ روپے ادھار دیئے ہیں۔اس حوالے سے مزید بتایا گیا کہ ان کے پاس 20 کروڑ 90 لاکھ روپے نقدی موجود ہیں جبکہ سلک بینک میں 8 کروڑ 97 لاکھ روپے اور سندھ بینک لاڑکانہ برانچ میں 1 ہزار روپے جمع ہیں۔آصف علی زرداری کے پاس کلفٹن میں دوپراپرٹیز ہیں جس کی مالیت 11 کروڑ 15 لاکھ روپے بتائی گئی جبکہ ڈیفنس ہاﺅسنگ اتھارٹی کراچی میں 2 ہزار گز کا بنگلہ 8 لاکھ 50 ہزار روپے میں خریدا گیا اور نواب شاہ میں ایک گھر ہے جس کی قیمت 2 کروڑ 25 لاکھ روپے ہے۔نواب شاہ، لاڑکانہ، ٹنڈوالہیار میں زرعی زمین کے مالک ہیں جبکہ نواب شاہ، ماتلی، بدین، ٹنڈوالہیار میں مجموعی طور پر تقریباً 7 ہزار 400 ایکڑ زرعی اراضی لیز پر حاصل کی گئی ہے۔اپنے والد کی طرح پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری بھی ارب پتی ہیں جن کی پاکستان اور بیرون ملک درجن بھر پراپرٹیز ہے اور دبئی اور برطانیہ میں سرمایہ کاری کی گئی ہے۔بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے فراہم کردہ اثاثہ جات تفصیلات میں بتایا گیا کہ ان کے پاس 5 کروڑ روپے نقد موجود ہیں جبکہ بینک اکاﺅنٹس میں 1 کروڑ 38 لاکھ روپے جمع ہیں تاہم ان کے پاس کوئی گاڑی نہیں۔میڈیا رپورٹ کے مطابق بلاول بھٹو زرداری کے پاس متحدہ عرب امارات کے 2 اقامے موجود ہیں جبکہ کلفٹن، کراچی بلاول ہاﺅس کی ملکیت 30 لاکھ روپے بتائی گئی۔ ان کے پاس دبئی میں ویلاز ہیں جو ایک انہیں بطور تحفہ ملا جبکہ ایک کے مالک ہیں۔اثاثہ جات کی تفصیلات میں بتایا گیا کہ بلاول بھٹو زرداری کے پاس ملک بھر میں مجموعی طور پر 20 رہائشی، کمرشل اور زرعی پراپرٹی ہیں جو بیشتر ان کے والدین، دادا اور دیگر کی جانب سے تحفے میں دی گئی۔اس کے علاوہ بلاول بھٹو زرداری کے پاس ان کی والدہ کی جانب سے تفویض کردہ 12 لاکھ روپے کے بانڈز ہیں جبکہ زرداری گروپ اور پارک لین ای اسیٹ میں 11 لاکھ روپے کی سرمایہ کاری کی ہے۔دبئی میں 22 اور برطانیہ میں ایک سرمایہ کاری کی گئی جو زیادہ تر ان کی والدہ نے تحفے میں دی۔ان کے پاس 30 لاکھ روپے مالیت کا اسلحہ جبکہ فرنیچر اور دیگر روز مرہ کے استعمال کی چیزوں کی مالیت 30 لاکھ روپے بتائی گئی ہے۔مریم نواز نے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 127 سے جمع کرائے جانے والے کاغذات نامزدگی میں ظاہر کیا کہ وہ 1506 کنال ایک مرلہ زرعی زمین کی مالک ہیں جس میں گزشتہ 3 برسوں کے دوران 548 کنال کا اضافہ ہوا جبکہ مریم نواز کے مختلف کمپنیوں میں ان کے شیئرز بھی ہیں۔دستاویزات کے مطابق مریم نواز چوہدری شوگر ملز، حدیبیہ پیپر ملز، حدیبیہ انجینئرنگ لمیٹڈ، حمزہ اسپننگ ملز اور محمد بخش ٹیکسٹائل ملز میں شیئر ہولڈر ہیں۔دستاویزات میں بتایا گیا ہے کہ مریم نواز نے فیملی کی زیر تعمیر فلار ملز میں 34 لاکھ 62 ہزار روپے کی سرمایہ کاری کر رکھی ہے اور انہوں نے سوفٹ انرجی پرائیویٹ لمیٹڈ کو 70 لاکھ روپے قرض بھی دے رکھا ہے۔دستاویزات کے مطابق مریم نواز کے پاس ساڑھے 17 لاکھ روپے کے زیورات ہیں اور انہیں 4 کروڑ 92 لاکھ 77 ہزار روپے کے تحائف بھی ملے۔کاغذات نامزدگی فارم میں مریم نواز نے اپنے بھائی حسن نواز کی 2 کروڑ 89 لاکھ روپے کی مقروض ہونے کا بھی بتایا ہے۔ دستاویزات کے مطابق مریم نواز نے 3 برسوں کے دوران 64 لاکھ روپے سے غیر ملکی دورے بھی کئے۔ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے الیکشن کمیشن میں جمع کرائے گئے اثاثوں کی تفصیلات سامنے آ گئیں ۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق عمران خان نے ذرائع آمدن زراعت، تنخواہ اور بینک منافع ظاہر کیا ہے۔دستاویز کے مطابق عمران خان 168 ایکڑ زرعی زمین کے مالک ہیں جب کہ عمران خان نے غیر ملکی دوروں کی تفصیلات بھی کاغذات نامزد گی میں ظاہر کی ہیں۔عمران خان نے الیکشن کمیشن میں اپنے گزشتہ برس کے اثاثے 47 لاکھ 76 ہزار 611 روپے آمدن ظاہر کیے ہیں۔عمران خان نے گزشتہ سال اپنی آمدن پر ایک لاکھ 3 ہزار 763 روپے ٹیکس ادا کیا۔

نگران حکومت اور الیکشن کمیشن گورنر بدلیں ، رجوانہ 7 روز ن لیگ کے جھگڑے نمٹاتے رہے ، اقبال ظفر جھگڑا نے پارٹی ٹکٹ تقسیم کئے ، معروف صحافی ضیا شاہد کا چینل ۵ کے لائیو پروگرام میں تہلکہ خیز انکشاف

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں و تبصروں پرمشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ ضیا شاہد نے کہا ہے کہ ظفر اقبال جھگڑا نے پچھلے دنوں مسلم لیگ ن کے ٹکٹ تقسیم کر رہے ہیں۔ رجوانہ صاحب کے بیٹے مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر الیکشن لڑ رہے ہیں۔گورنر سندھ زبیر مسلم لیگ ن کے سندھ میں تمام اجلاس ان کی سرپرستی میں ہوتے ہیں۔ گورنر ہاﺅس میں سیاسی سرگرمیوں کے مرکز بنے ہیں۔ گورنر صوبے کا سربراہ ہوتا ہے اور سارے سیکرٹری ان کے پاس آتے جاتے رہتے ہیں۔ بلوچستان کے گورنر محمود اچکزئی صاحب کے بھائی ہیں اور اچکزئی کا سارا خاندان الیکشن لڑ رہا ہے۔ خالد رانجھا نے کہا ہے کہ ایک بات تو طے ہے کہ ان لوگوں کے میاں نوازشریف سے ذاتی تعلقات ہیں۔ جب الیکشن ہو چکیں تو لوگ ان کی طرح طرح کی باتیں کریں گے یہ تمام معقول شخصیات ہیں ان پر انگلیاں اٹھیں گی۔ گورنر ضرور ہٹانے چاہئیں تا کہ تمام جماعتوں کو یکساں سیاسی میدان مل سکے۔میرے دوست نے ایک بڑا دلچسپ سلوگن بھیجا ہے ان کا کہنا ہے کہ کرپٹ سیاستدان یہ تو جیٹ طیارے پر سوار ہیں اور احتساب کا عمل جو گدھا گاڑی پر سوار ہے۔ یوسف رضا گیلانی بارے کرپشن کے مقدمات ہیں۔ اس میں حج اور مذہبی امور کی وزارت کے بارے، ایفی ڈرین کے بارے میں بھی ہے کہ وہ انہوں نے جو بہت ساری مقدار جو تھی وہ بازار میں بیچ دی لائسنس اپنے آپ کو ایشو کر لیا۔ ایک دوسرے صاحب پرویز اشرف صاحب ہیں یہاں بھی کئی دفعہ تشریف لا چکے ہیں جب یہ توانائی کے وزیر بنے تھے۔ پرویز اشرف پر مقدمات تھے کہ انہوں نے سارا فنڈ اپنے انتخابی حلقے پر خرچ کر لیا۔ اس کے علاوہ بجلی کے بارے میں بھی یہ جو رینٹل پاور پلانٹس بارے بھی شکایت تھی اب تک کبھی کبھی آتا ہے کہ ان کی تاریخ تھی کارروائی کوئی نہیں ہوتی۔ 5 سال ہو گئے یہ کس قسم کا احتسابی عمل ہے جو واقعی گدھا گاڑی پر سوار ہے آگے چلتا نہیں۔ حنیف عباسی الیکشن میں ہار گئے۔ لیکن شہباز شریف اور نوازشریف ان پر اتنے مہربان تھے کہ ان کو میٹرو راولپنڈی کا انچارج بنا دیا گیا۔ یہ میں نے پہلی دفعہ دیکھا کہ جو حکمران پارٹی ہوتی ہے وہ الیکشن ہار بھی جاتا ہے تو بڑے بڑے عہدے دے دیئے جاتے ہیں۔ حنیف عباسی پر بھی ایفی ڈرین کا کیس تھا کہ انہوں نے لائسنس لے کر بیچ دیا اس پر اب ک خاموشی ہے۔ چار اور نام ہیں نوازشریف صاحب پر بائی اینڈ لارج کیس چل رہا ہے مگر کئی مہینے ہو گئے آگے نہیں بڑھ رہا۔ اسی طرح مریم نواز کے بارے میں بھی اور ڈار صاحب بھی باہر چلے گئے۔ کتنے لوگ دوبئی سے پکڑ کر انٹرپول والے واپس لے گئے۔ لیکن یہ جو مقدس گائیں ہیں۔ انہوں نے ماروی میمن سے شادی کر لی تھی اور ان کے والد نثار میمن وفاقی وزیر اطلاعات ہوتے تھے۔ حسن اور حسین کی والدہ کی طبیعت ٹھیک نہیں۔ اس طرح شہباز شریف پر کتنے کیس ان پر ہوئے ایک دفعہ تو کہا گیا کہ 35 سوال ان سے پوچھے گئے 6 سوالوں کا انہوں نے جواب دیا باقیوں کا نہیں دیا۔ میں نے یہ نہیں کہا کہ یہ سارے ملزم ہیں میں تو یہ کہتا ہو ںکہ ان کے خلاف کارروائی شروع ہوتی ہے، پھر خاموشی چھا جاتی ہے اور چیمہ کے بارے میں شور مچا۔ 26 بیورو کریٹس بتا دیئے اور بڑے بڑے راز بتا دیئے۔ گدھا گاڑی پر سوار احتسابی گاڑی پہنچے گی تو بات ہو گی۔ حمزہ شہباز سے بھی اعتراض نہیں یا احتساب والے پکڑیں نہیں یا پکڑیں تو کس طرف پہنچائیں۔ نیب والوں کو پوچھتے ہیں کہ بھائی آپ کے پاس اس کا جواب بھی ہے کہ آپ کا احتسابی عمل جو ہے وہ گدھا گاڑی پر کیوں سوار ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ خواجہ سعد رفیق کو پہلی بیگم سے اجازت لے کر دوسری شادی کرنے کا پورا حق حاصل ہے لیکن اگر خفیہ شادی کی ہے تو وہ شادی نہیں کیونکہ شرعی اعتبار سے نکاح کا عمل اس وقت تک مکمل نہیں ہوتا جب تک اس کا باضابطہ اعلان نہ کر دیا جائے۔ دوسری شادی کے حوالے سے ان کا صحافیوں کو شیٹ اپ کال دینا کہ یہ میرا ذاتی مسئلہ ہے درست نہیں، سعد رفیق صاحب سیاستدانوں کی کوئی ذاتی زندگی نہیں ہوتی، اگر ہوتی ہے تو صبح شام ریحام و سیتا وائٹ کیس کا ذکر کیوں کرتے رہتے ہیں۔ جب آپ بات کریں تو ٹھیک اور جب آپ کی بات ہو تو ذاتی مسئلہ ہے۔ کیا آپ کے گھر کا قانون ہے؟ انہوں نے کہا کہ فاروق احمد خان لغاری سے بہت اچھے و دوستانہ تعلقات تھے۔ وہ کرپشن الزامات کے باعث نوازشریف و بے نظیر دونوں کے سخت خلاف تھے۔ وہ نون لیگ و پیپلزپارٹی دونوں کو کرپٹ سیاسی پارٹیاں سمجھتے تھے۔ اویس لغاری صاحب میرے پاس پورا ریکارڈ موجود ہے الیکشن تک آپ نے جو کرنا ہے کر لیں بعد میں آپ کو دکھاﺅں گا کہ انہوں نے نواز و بے نظیر کے بارے میں کیا کہا تھا۔ اویس لغاری ایک وزارت پر بکنے والے ایسے شخص ہیں جنہوں نے والد کی سیاسی فلاسفی کو دفن کر دیا۔ اویس لغاری و جمال لغاری دونوں بیٹے سیاسی طور پر ناحلف اولاد ہیں۔ آج فاروق لغاری زندہ ہوتے تو دونوں کو جوتے مارتے۔ آپ نے جو کرنا ہے کرو لیکن اپنے والد کو بیچ میں کیوں لاتے ہو؟ اویس لغاری آپ کو یہ کہتے کوئی شرم و حیا نہیں آئی کہ میرے باپ کا واسطہ گوجرانوالہ سے بڑا جلسہ کرا دو، اب شہباز شریف کو وہاں سے ایم این اے کا الیکشن لڑا رہے ہو۔
میاں غفار نے کہا ہے کہ گورنر رفیق رجوانہ پچھلے ہفتے ناراض مسلم لیگ ن کے دھڑوں میں صلح کروانے آئے تھے۔ انہوں نے یہیں وحید آرائیں گروپ اور رانا نورالحسن کے دونوں بیٹوں کے درمیان صلح کروائی۔ کیونکہ ایم این اے کی ٹکٹ تبدیل ہوئی ہے یہ ناراض گروپوں کو رجوانہ ہاﺅس بلا کر صلح کرواتے رہے ہیں۔ ان کی کوشش ہے کہ ان کا بیٹا آصف رجوانہ ہے اسے ایم این اے کا الیکشن لڑوایا جائے۔ ادھر ٹکٹ مل رہی ہے یہ سب ملتان میں نہیں دوسرے شہروں کے وفود سے ملتے رہے ہیں۔ ضیا شاہد نے کہا کہ کیا گورنر کے آئینی فرائض میں شامل ہے کہ حکمران پارٹی جو سابق تھی اس کے ایم این اے اور ایم پی اے کے درمیان جو ناراضگیاں ہیں ان کو سرکاری خرچ پر وہاں رہتے ہیں اور سات دن سے وہاں لوگوں کی صلح صفائیاں کروا رہے ہیں۔ ضیا شاہد نے کہا ہم تو ہمیتہ سے کہتے ہیں کہ گورنر غیر سیاسی ہوتا تھا۔ گورنر کسی سابق بیورو کریٹ کو بناتے تھے کسی جرنیل کو بناتے تھے جو کسی سیاسی جماعتکا رکن نہ ہو۔ جنوبی پنجاب میں ایک مکالمہ کروائیں کہ پاکستان میں ہر عہدے کو سیاسی طور پر استعمال کرنے کا دور کب سے شروع ہوا۔ کیا ایوب، ضیا سے شروع ہوا۔ پرویز رشید کل کہہ رہے تھے کہ گورنر کے پاس تو کوئی اختیار ہی نہیں ہوتا۔ کیا رجوانہ صاحب کے پاس ملتان میں کوئی اختیار نہیں ہے۔ میاں غفار نے کہا کہ یہ تو آئین اور قانون کی سیدھی سیدھی خلاف ورزی ہے۔ میاں نوازشریف کے ادوار میں جتنے بھی گورنر رہے ہیں۔ وہ بظاہر غیر سیاسی رہے لیکن ہوتے سیاسی ہی تھے۔ گورنر کے پاس کیوں اختیار نہیں۔ تمام انتظامیہ ان کا فون سنتی ہے ان کی بات مانتی ہے۔ بہت سے کام کروانے کے لئے لوگ ان کے بیٹے سے ٹیلی فون کرواتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ میں نے گورنر پنجاب کو مرجان لڑکی کی ویڈیوز دکھائیں تھیں کہ یہ ظلم ہوا ہے، انہوں نے دیکھ کر کانوں کو ہاتھ لگائے اور کہا کہ اس کیس کو میں خود دیکھوں گا لیکن اس کے بعد گورنر یا وزیراعلیٰ کی طرف سے کوئی چیز سامنے نہیں آئی۔ انہوں نے کہا کہ ایس ایس پیز و ڈی سی حضرات کی تعیناتی کیلئے انٹرویوز وزیراعلیٰ پنجاب نہیں نہیں بلکہ حمزہ شہباز لیا کرتے تھے۔ سابق سیکرٹری الیکشن کمیشن کنور دلشاد نے کہا ہے کہ گورنرز کے ساتھ ساتھ بلدیاتی ادارے بھی معطل ہونے چاہئیں، اس کے بغیر شفاف انتخابات ممکن نہیں۔ ملک بھر میں تمام چیئرمین کو فوری تبدیل کیا جائے۔ انہوں نے ہی نوازشریف کے جلسوں میں لوگوں کو اکٹھا کیا۔ جب میں سیکرٹری الیکشن کمیشن تھا تو 2008ءکے الیکشن سے پہلے ملک بھر میں تمام بلدیاتی اداروں کو غیر فعال کرنے کا نوٹی فکیشن جاری کر دیا تھا۔ یہ الیکشن کمیشن کے اپنے اختیارات ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ الیکشن کمیشن کو بلدیاتی ادارے غیر فعال کرنے کے لئے وزیراعظم کی اجازت کی ضرورت نہیں، پرانی مثالیں موجود ہیں۔ فوری تمام ادارے معطل کر دینے چاہئیں۔ گورنرز کو خود ہی مستعفی ہو جانا چاہئے یہ بہتر ہو گا۔ چیف رپورٹر خبریں کراچی گل محمد منگی نے کہا ہے کہ سندھ میں گورنر بظاہر بے اختیار ہے لیکن گورنر ہاﺅس میں کچھ لیگی اجلاس ہوئے ہیں۔ نگران حکومت غیر جانبدار ہے۔ گورنر ہاﺅس میں اگر کچھ سیاسی معاملات ہو رہے ہیں تو یہ غلط ہو گا، نگران حکومت کو کام کرنے دینا چاہئے۔ر