آئی ایم ایف کو کہہ دیا ہے غریب عوام پر ہم بوجھ نہیں ڈالیں گے، وزیر خزانہ

وزیر خزانہ شوکت ترین کا کہنا ہے کہ پاور سیکٹر میں صلاحیتی ادائیگی کے حوالے سے آئی ایم ایف کو کہہ دیا ہے کہ حکومت، غریب عوام پر بوجھ نہیں ڈالے گی اور بجلی کے ٹیرف میں اضافہ نہیں کریں گے۔

بجٹ پر بحث کے دوران قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاور سیکٹر میں صلاحیتی ادائیگی کا مسئلہ ہے اس کی وجہ سے 900 ارب روپے ہم اس مد میں ادا کررہے ہیں جو ہم استعمال بھی نہیں کرتے، تاہم ٹیرف میں کوئی اضافہ نہیں کر رہے ہیں’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘حکومت نے آئی ایم ایف کو کہہ دیا ہے کہ غریب عوام پر ہم بوجھ نہیں ڈالیں گے’۔

انہوں نے کہا کہ ‘ہم اس نقصان کو کم کرنے کے لیے ان پاور پلانٹس کی انتظامیہ تبدیل کردی ہے، اسے کنٹریکٹ پر دینے کی کوشش کریں گے تاکہ نقصانات کم ہوں، یہ بہت بڑا چیلنج ہے’۔

وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ ‘2018-2019 کے درمیان نمو کم ہوکر 2 فیصد تک آگئی تھی تاہم عمران خان صاحب نے سخت فیصلے کیے جس میں سے ایک تعمیرات کے شعبے کو بڑھاوا دینا ہے، یہ بہت بڑا قدم تھا، اس میں قوانین کو درست کرنے کی ضرورت تھی، مارک اپ کی شرح کم کرنی تھی اور آئی ایم ایف سے مراعات حاصل کرنی تھیں’۔

ان کا کہنا تھا کہ اس کے علاوہ حکومت نے زراعت کو بڑھاوا دیا جس کی وجہ سے 4 فصلوں کی بہت زیادہ پیداوار ہوئی۔

انہوں نے بتایا کہ کورونا وائرس کے دوران پوری دنیا میں منفی نمو دیکھی گئی مگر اس سال کے بجٹ میں ہم نے کہا تھا کہ 2.1 فیصد نمو ہوگی تاہم یہ اس سے دوگنی 4 فیصد پر پہنچ چکی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘اب ہماری حکمت عملی میں یہ ہے کہ ہمیں اب نمو پر ہی انحصار کرنا ہے، جب تک معاشی نمو نہیں ہوگی نہ نئے روزگار پیدا ہوں گے نہ کمائی بڑھے گی’۔

انہوں نے کہا کہ ‘اس مرتبہ نمو میں ہم نے غریبوں کا خیال رکھنے کا فیصلہ کیا ہے، 40 لاکھ گھرانوں کو سستے گھر بنا کر دیں گے، زرعی شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد کو 3 لاکھ روپے تک کے بلا سود کے قرضے دیں گے اور 2 لاکھ ٹریکٹر وغیرہ لیز کرنے کے لیے دیں گے’۔

شوکت ترین کا کہنا تھا کہ شہری علاقوں کے غریب خاندانوں کو 5 لاکھ تک کا بلا سود قرضہ کاروبار کے لیے دیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ عوام کو صحت کارڈ دیں گے تاکہ وہ صحت کے مسائل میں پریشانیوں سے بچ سکیں، اس کے علاوہ ہر خاندان کے ایک شخص کو تربیت دیں گے تاکہ وہ کما کر اپنا خاندان چلا سکیں۔

محصولات کی وصولی سے متعلق انہوں نے کہا کہ ‘ہم 4 ہزار ارب روپے سے اوپر چلے گئے ہیں اور آئندہ سال کے لیے 5 ہزار 800 ارب روپے کا ہدف مقرر کیا ہے، ہم ٹیکس نظام میں تبدیلیاں لارہے ہیں’۔

انہوں نے بتایا کہ ٹیکس ادا کرنے والے اور ٹیکس حاصل کرنے والوں کے درمیان خودکار نظام لارہے ہیں تاکہ ان کو آمنا سامنا نہ کرنا پڑے۔

وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ ‘جو لوگ ٹیکس ادا نہیں کرتے اور عادتاً ٹیکس نہ دینے والے ہیں، ان کے لیے قوانین میں سے سیکشن 203 کو نکال دیا ہے جس کے ذریعے انہیں پوری کارروائی کرنے کے بعد گرفتار کیا جاسکے گا’۔

انہوں نے بتایا کہ ‘حکومت ودہولڈنگ ٹیکس کو ختم کرنے جارہی ہے اور اس بجٹ میں 12 ود ہولڈنگ ٹیکس کو ختم کر رہے ہیں’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘موصول ہونے والی تجاویز میں سے ہم نے آٹو پالیسی کو 800 سے 1000 سی سی تک کردیا ہے، میڈیکل بلز پر ٹیکس واپس لے لیا ہے، سرکاری ملازمین کے پرویڈنٹ فنڈ پر ٹیکس کو واپس لے لیا ہے، دودھ اور دیگر مصنوعات پر 10 سے 17 فیصد ٹیکس کے اضافے کو واپس لے لیا ہے’۔

شوکت ترین کا کہنا تھا کہ ‘ریئل اسٹیٹ انویسٹمنٹ ٹریٹ سرٹفکیٹ کو بڑھا کر 25 فیصد کردیا تھا اسے کم کرکے ان ہی کی تجویز پر 15 فیصد کردیا ہے’۔

انہوں نے کہا کہ ‘ای کامرس پلیٹ فارمز پر ٹیکس عائد کیا گیا تاہم اسے رجسٹرڈ پر صفر اور ان رجسٹرڈ پر 2 فیصد کردیا ہے، انکم ٹیکس کی شرح 35 فیصد کردی تھی اسے 20 فیصد کردیا ہے’۔

انہوں نے بتایا کہ ‘حکومت نے آئل ریفائنریز کو کافی مراعات دی ہیں، موبائل فون کالز، ایس ایم ایس اور انٹرنیٹ پر ٹیکس میں تبدیلی کردی ہے اور انٹرنیٹ اور ایس ایم ایس پر اب کوئی ٹیکس نہیں ہوگا، صرف فون کالز پر 5 منٹ سے زیادہ بات کرنے پر 75 پیسے ٹیکس عائد ہوگا’۔

اس کے علاوہ انہوں نے کہا کہ ‘نابینہ افراد کے استعمال کے خصوصی موبائل فونز پر کوئی ٹیکس نہیں ہوگا’۔

وزیر خزانہ نے بتایا کہ ‘دودھ پر لاگو ٹیکس ختم کردیا گیا ہے، سونے اور چاندی پر عائد 17 فیصد ٹیکس کو کم کرکے بالترتیب ایک اور 3 فیصد کیا جارہا ہے جبکہ اس کی ویلیو ایڈیشن پر 17 فیصد ٹیکس برقرار رہے گا’۔

ان کا کہنا تھا کہ پولٹری اور مویشیوں کی فیڈ کے اجزا پر 17 فیصد ٹیکس کو 10 فیصد پر لارہے ہیں، درآمد شدہ انڈوں پر ٹیکس کو ختم کردیا گیا ہے، ٹیکسٹائل اشیا کی ریٹیل پر 12 فیصد ٹیکس لگتا تھا اسے کم کرکے 10 فیصد کردیا گیا ہے۔

جولائی میں کورونا وائرس کی چوتھی لہر آسکتی ہے، اسد عمر

وفاقی وزیر منصوبہ بندی اور نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے سربراہ اسد عمر نے جولائی کے دوران پاکستان میں کورونا وائرس کی چوتھی لہر سامنے آنے کا خدشہ ظاہر کردیا۔

مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ آج این سی او سی کے اجلاس میں مصنوعی ذہانت کی بنیاد پر وبا کی ماڈلنگ کا تجزیہ کیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجرز (ایس او پیز) کے نفاذ اور جاری مضبوط ویکسینیشن پروگرام کی عدم موجودگی میں جولائی کے دوران پاکستان میں وبا کی چوتھی لہر پھیل سکتی ہے۔

انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ برائے مہربانی کورونا سے بچاؤ کے لیے ایس او پیز پر عمل کریں اور جتنی جلد ممکن ہو ویکسن لگوائیں۔

خیال رہے کہ پاکستان میں اب تک عالمی وبا کورونا وائرس کی 3 لہریں آچکی ہیں اور تیسری لہر کے دوران 17 اپریل کو کووِڈ کیسز اپنے عروج پر پہنچے تھے۔

پاکستان میں اب تک 9 لاکھ 52 ہزار 907 افراد کے کورونا سے متاثر ہونے کی تصدیق ہوچکی ہے جن میں سے 22 ہزار 152 جان کی بازی ہار گئے جبکہ 8 لاکھ 97 ہزار 834 صحتیاب ہونے میں کامیاب رہے۔

دوسری جانب ملک میں ویکسنیشن کا عمل کچھ روز قبل سست پڑ جانے کے باوجود دوبارہ رفتار پکڑ چکا ہے اور گزشتہ 24 گھنٹوں میں 3 لاکھ 37 ہزا 747 افراد کو ویکسین لگائی گئی۔

مجموعی طور پر پاکستان بھر میں اب تک کورونا وائرس سے بچاؤ کی ویکسینز کی ایک کروڑ 45 لاکھ 3 ہزار 136 خوراکیں لگائی جاچکی ہیں۔

ایرانی سپریم لیڈر نے ملک میں تیار کردہ کورونا ویکسین لگوالی

ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای نے ملک میں تیار کردہ کورونا ویکسین لگوالی۔

ایران کے سرکاری ٹی وی کے مطابق علی خامنہ ای نے ایران کی تیار کردہ کورونا ویکسین کی پہلی خوراک لی۔

اس موقع پر ایران کے سپریم لیڈر کا کہنا تھا کہ ان کی بیرون ملک میں تیار کردہ کورونا ویکسین لینے میں کوئی دلچسپی نہیں اس لیے بہتر ہےکہ ایران کی اپنی ویکسین کا انتظار کیا جائے کیونکہ ہمیں اپنے قومی وقار پر فخر کرنا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران کے سپریم لیڈر نے جنوری میں امریکا اور برطانیہ کی کورونا ویکسین کی درآمد پر پابندی عائد کی تھی جس کی وجہ مغرب پر عدم اعتماد تھی۔

میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہےکہ ایرانی فارماسیوٹیکل کمپنی شفا فارمڈ نے کوویران کے نام سے ویکسین تیار کی ہے جس کی گزشتہ برس دسمبر میں سیفٹی اور مؤثر سے متعلق اسٹڈی کی گئی۔

ایران نے گزشتہ ہفتے ملک میں اس ویکسین کی ہنگامی بنیادوں پر اس وقت منظوری دی جب اسے بڑی تعداد میں ویکسین درآمد کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

ایران میں کورونا سے یومیہ اموات کی تعداد 115 سے تجاوز کرگئی ہے اور اب تک ملک میں83500 سے زائد افراد وائرس سے انتقال کرچکے ہیں۔

موبائل فون پر 5 منٹ کی کال کےبعد 75 پیسےٹیکس ہوگا، شوکت ترین

اسلام آباد: قومی اسمبلی کے اجلاس میں وزیر خزانہ شوکت ترین نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ موبائل فون پر پانچ منٹ کی کال پر 75 پیسے ٹیکس لاگو ہوگا۔

تفصیلات کے مطابق وزیرخزانہ شوکت ترین نے اپنے خطاب میں کہا کہ دودھ ، دہی پر ٹیکس واپس لے لیا گیا ہے ، انٹرنیٹ ، ایس ایم ایس پر بھی ٹیکس لاگو نہیں ہے ، موبائل فون پر پانچ منٹ کی کال پر 75 پیسے ٹیکس لگا یا گیا ہے ۔

انہوں نے مزید کہا کہ سونے اور چاندی پر بھی ٹیکس کو کم کیا  گیا ۔ آٹے اور اس کی اشیاء پر کوئی ٹیکس لاگو نہیں کیا ۔ پولٹری اور کیٹل فیڈ پر ٹیکس کو 17 فیصد سے 10 فیصد پر لا رہے ہیں ۔

پراپرٹی پر ٹیکس کی شرح 35 سے کم کرکے 2 فیصد تک لے آئے ہیں ۔ فوڈآئیٹم پر ٹیکس واپس لے لیا گیا ۔ بچوں کے دودھ پر ٹیکس ختم کردیا ہے ۔  پچھلے 20 سے پندرہ سال ہم نے زراعت کو اہمیت نہیں دی ۔ پورے ملک میں ایگری مالز کا جال پچھائیں گے ۔ سب سے پہلے رقم ایگریکلچر پر خرچ کریں گے ۔

شوکت ترین کا مزید کہنا تھاکہ میری گاڑی سکیم متعارف کروانے جارہے ہیں ۔ کوشش ہوگی کہ گاڑیوں کو پاکستان سے ایکسپورٹ کیا جائے ۔ وزیر اعظم ملک میں ای ووٹنگ متعارف کروانا چاہتے ہیں ، اس کے لیے پانچ ارب روپے رکھے گئے ہیں ۔

سندھ اسمبلی نے آئندہ مالی سال کا بجٹ کثرت رائے سے منظور کر لیا

کراچی: سندھ اسمبلی نے مالی سال 2021-2022 کا بجٹ کثرت رائے سے منظور کر لیا۔

اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں بجٹ منظور ہونے پر اپوزیشن اراکین کی جانب سے شدید نعرے بازی کی گئی۔

حکومتی اراکین وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کے گرد جمع ہو گئے جبکہ اپوزیشن کی جانب سے گو کرپشن گو کے نعرے لگائے گئے۔

اسپیکر آغا سراج درانی نے سندھ اسمبلی کا اجلاس پیر کی دوپہر 2 بجے تک ملتوی کر دیا۔

خیال رہے کہ چند روز قبل وزیراعلیٰ اور وزیر خزانہ سندھ مراد علی شاہ نے صوبے کا 1477 ارب روپے کا بجٹ پیش کیا تھا۔

جمہوریت کا ورد پیپلز پارٹی سے 24گھنٹے سن لیں ،فواد چوہدری

واد چوہدری کا کہنا ہے کہ جمہوریت کا ورد پیپلز پارٹی سے 24گھنٹے سن لیں۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر اطلاعات چوہدری فواد حسین نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے جاری کردہ پیغام میں لکھا ہے کہ جمہوری اصولوں کی کم از کم پاسداری بھی اگر کسی صوبے میں نہیں تو وہ سندھ ہے، سندھ میں زرداری خاندان کی آمریت نافذ ہے۔

وفاقی وزیر نے مزید لکھا کہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی پر قبضے کے بعد اب اپوزیشن لیڈر کو بجٹ پر تقریر کرنے سے بھی روک دیا گیا ہے یہ زرداری جمہوریت کا نیا رنگ ہے۔

آج بہت سے برطانوی پاکستانی برطانوی پارلیمنٹ کا حصہ ہیں، شاہ محمود قریشی

وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے منتخب پاکستانی امریکیوں کے ساتھ ورچوئل میٹنگ کی ہے ، اس میڈنگ میں امریکہ میں تعینات پاکستانی سفیر اسد مجید بھی ورچول رابطے کے ذریعے موقعے پر موجود تھے۔

اجلاس میں منتخب پاکستانی امریکین کونسل ، سٹی میرز اور ڈپٹی میرز نے بھی بذریعہ ویڈیو لنک شرکت کی ہے۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ میں مصروفیات کے باوجود آپ کی شرکت کا شکر گزار ہوں ،  آپ نے جس طرح اپنی محنت اور لگن سے یہ کامیابی حاصل کی ہے وہ قابل تحسین ہے۔

 ان کا کہنا تھا کہ مجھے بطور وزیر خارجہ پاکستانی امریکیوں کی کامیابیوں پر ہمیشہ فخر محسوس ہوتا ہے، میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے ساتھ رابطے میں بھی رہتا ہوں۔

وزیرخارجہ کا مزید کہنا تھا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی اپنی اپنی کمیونٹیز میں گرانقدر خدمات سرانجام دے رہے ہیں جبکہ اس سال تاریخ میں سب سے زیادہ ترسیل زر دیکھنے میں آئی ہے جس کا سہرا بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے سر جاتا ہے۔

پاکستانی امریکن کمیونٹی وزیراعظم عمران خان کے دل کے بہت قریب ہے۔

میٹنگ میں ان کہا کہنا تھا کہ عمران خان وزارتِ عظمیٰ کا منصب سنبھالنے سے قبل  جب ایک عام پاکستانی کے طور پر فنڈ ریزنگ کیلئے پاکستانی امریکن کے پاس گئے تو ان کو بہت پذیرائی ملی تھی ، ہمیں یہ دیکھ کر بہت خوشی ہوتی ہے کہ آج بہت سے برطانوی پاکستانی برطانوی پارلیمنٹ کا حصہ ہیں۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے میں برطانوی اور امریکی پاکستانیوں نے قابلِ ستائش کردار ادا کیا ، میں نے امریکہ اور کینیڈا میں بہت سے پاکستانیوں کو سیاسی نظام کا حصہ بنتے دیکھا ہے۔

ہم آپ کو ووٹ کا حق دے کر پاکستان کے سیاسی نظام اور فیصلہ سازی میں حصہ دار بنانا چاہتے ہیں۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ  ہم چاہتے ہیں کہ دوہری شہریت کے حامل افراد کو پاکستان میں الیکشن میں حصہ لینے کا اہل بنایا جائے ، ہمارے مشرقی ہمسائے کی نسبت پاکستان نے کورونا کی تیسری لہر کا بہتر حکمت عملی سمارٹ لاک ڈاؤن کے ذریعے مقابلہ کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ  آپ کو یہ جان کر خوشی ہو گی کہ ہم نے اپنی معیشت کو نہ صرف سہارا دیا ہے بلکہ اس مرتبہ ہم گروتھ کی جانب رواں دواں ہیں ،  ہم جغرافیائی سیاسی ترجیحات کو جغرافیائی اقتصادی ترجیحات میں تبدیل کر رہے ہیں۔

وزیر خارجہ نے مزید بتایا کہ  ہم امریکہ کے ساتھ تعلقات کو کثیرالجہتی اقتصادی شعبہ جات میں مستحکم بنانے کے متمنی ہیں، ہماری 60 فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے۔

ہم انفارمیشن ٹیکنالوجی، انفراسٹرکچر، گرین انرجی، صحت، تعلیم اور زراعت سمیت مختلف شعبوں میں امریکہ کے ساتھ دو طرفہ تعلقات کے فروغ کے متمنی ہیں۔

شاہ محمود قریشی نے میٹنگ میں مکہا کہ  ہم ٹیکنالوجی کے تبادلے سے اپنی زراعت کو مزید بہتر بنا سکتے ہیںاور اپنی پیداوار میں کئی گنا اضافہ بھی  کر سکتے ہیں۔

ہم نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں اور سیاحوں کیلئے ای ویزہ رجیم کو متعارف کروایا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ میں آپ کو ان اقدامات سے آگاہ کرنا چاہتا ہوں جو ہماری حکومت نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی سہولت کیلئے اٹھائے ہیں۔

بیرون ملک مقیم پاکستانی اپنی شکایات کے ازالے  کیلئے وزیراعظم پورٹل کو استعمال بھی  کر سکتے ہیں ، اس کے علاوہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی شکایات کے ازالے کیلئے وزارتِ خارجہ میں ایف ایم پورٹل بھی قائم کیا جا رہا ہے۔

میری ہدایت پر، پاکستانی سفارتخانے بھی باقاعدگی کے ساتھ ای – کچہریوں اور ٹاؤن ہال میٹنگز منعقد کر رہے ہیں۔

شاہ محمود قریشی نے یہ بھی کہا کہ ہم اقتصادی ترقی کیلئے خطے میں امن چاہتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ہم اگلے دس سالوں میں دس ڈیم بنانے کا ارادہ رکھتے ہیں متبادل توانائی ، ہایڈل توانائی منصوبوں پر کام کر رہے ہیں۔

ہائیڈل توانائی سے 50 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا ہو سکے گی۔

وزیر خارجہ نے یہ بھی  کہا کہ میں رواں سال ستمبر میں اقوامِ متحدہ جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کا ارادہ رکھتا ہوں اس موقع پر میں امریکہ میں ہمارے تمام قونصلیٹ جانے کا ارادہ رکھتا ہوں تاکہ آپ سے براہ راست مل سکوں۔

آپ کی محنت اور ترقی دوسرے پاکستانیوں کیلئے مشعل راہ ہے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ: نواز شریف کی ایون فیلڈ، العزیزیہ ریفرنس کے خلاف اپیلیں خارج

اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد اور سابق وزیراعظم نواز شریف کی جانب سے ایون فیلڈ اور العزیزیہ ریفرنس پر احتساب عدالت کی سزا کے خلاف دائر اپیلوں کو خارج کردیا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل ڈویژن بینچ نے سابق وزیراعظم نواز شریف کی اپیلوں پر سماعت کی تھی اور کل فیصلہ محفوظ کرلیا تھا، جو آج جاری کردیا گیا۔

عدالت نے تفصیلی فیصلے میں کہا کہ نواز شریف واپس آئیں یا حکام کی جانب سے گرفتار کیے جائیں تو اپیل بحالی کی درخواست دائر کر سکتے ہیں۔

اپیلیں خارج کرنے سے متعلق عدالت نے کہا کہ سابق وزیراعظم کو پہلے ہی عدالتی مفرور قرار دیا جا چکا ہے اور ان کے مفرور ہونے کی وجہ سے درخواستیں خارج کرنے کے سوا کوئی آپشن نہیں تھا۔

عدالت نے فیصلے میں کہا کہ احتساب عدالت کی جانب سے نواز شریف کو دی گئی سزا بحال رہے گی تاہم وہ واپس آکر اپیل بحالی کی درخواست دے سکتے ہیں۔

خیال رہے کہ اسلام آباد کی احتساب عدالت نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کو ایون فیلڈ ریفرنس میں 10 سال اور العزیزیہ ریفرنس میں 7 سال کی سزا سنائی تھی۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے گزشتہ روز عدالتی معاون اعظم نذیر تارڑ اور قومی احتساب بیورو (نیب) کے وکیل جہانزیب بھروانہ کے دلائل مکمل ہونے پر نواز شریف کی اپیلوں پر سماعت جاری رکھنے یا خارج کرنے سے متعلق فیصلہ محفوظ کرلیا تھا۔

ایون فیلڈ ریفرنس میں مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر کی اپیلوں کے حوالے سے جسٹس عامر فاروق نے گزشتہ روز سماعت کے دوران کہا تھا کہ شریک ملزمان کی اپیلوں میں وکلا موجود ہیں جو کیس میں دلائل دیں گے، انہوں نے صرف اپنے مؤکل کی حد تک دلائل دینے ہیں، اگر انہیں سن کر کوئی فائدہ اپیل کنندگان کو ملتا ہو گا تو عدالت وہ دے گی، نواز شریف کی دو اپیلیں ہیں، ایک میں شریک ملزمان بھی ہیں۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے تفصیلی فیصلے میں صرف نواز شریف کی اپیلیں خارج کرنے کا حکم دیا ہے۔

ایون فیلڈ ریفرنس فیصلہ

خیال رہے کہ 6 جولائی 2018 کو شریف خاندان کے خلاف قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے دائر ایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ سناتے ہوئے اسلام آباد کی احتساب عدالت نے سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کو 10 سال، ان کی صاحبزادی مریم نواز کو 7 سال جبکہ داماد کیپٹن (ر) محمد صفدر کو ایک سال قید بامشقت کی سزا سنائی تھی۔

احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے نواز شریف پر 80 لاکھ پاؤنڈ اور مریم نواز پر 20 لاکھ پاؤنڈ جرمانہ بھی عائد کیا تھا۔

اس کے علاوہ احتساب عدالت نے شریف خاندان کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ سناتے ہوئے لندن میں قائم ایون پراپرٹی ضبط کرنے کا حکم بھی دیا تھا۔

بعد ازاں نواز شریف نے اس فیصلے کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا، جہاں 19 ستمبر 2018 کو ہائیکورٹ نے احتساب عدالت کی جانب سے سزا دینے کا فیصلہ معطل کرتے ہوئے ان کی رہائی کا حکم دے دیا تھا۔

اینٹی وائرس سافٹ ویئر کے بانی ‘ جان میکافی’ کی جیل میں مبینہ خودکشی

بارسلونا: ٹیکنالوجی کی دنیا میں “اینٹی وائرس” سافٹ وئیر کے تخلیق کار جان میکافی نے مبینہ طور پر اسپین کی جیل میں خودکشی کرلی ۔

تفصیلات کے مطابق اینٹی وائرس سافٹ ویئر کے بانی ‘جان میکافی’ اسپین کی جیل میں اپنے سیل میں مردہ حالت میں پائے گئے۔  محکمہ انصاف کے مطابق  جیل کے ڈاکٹروں نے ان کی جان بچانے کی ہر ممکن کوشش کی، لیکن وہ کامیاب نہیں ہوسکے۔غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق اسپین کے شہر بارسلونا کی عدالت نے جان میکافی کو امریکا کے حوالے کرنے کا حکم دیا تھا۔ امریکی محکمہ انصاف کے مطابق جان میک ایفی کی اسپین سے امریکا منتقلی ابھی باقی تھی اور ان پر عائد الزامات ثابت ہونے کی صورت میں 5 سال تک قید کی سزا ہو سکتی تھی۔

غیر ملکی خبر ایجنسی کا یہ بھی کہنا ہے کہ جان میکافی کو امریکا میں ٹیکس چھپانے کے الزام میں اکتوبر 2020ء میں اسپین میں گرفتار کیا گیا تھا۔ جان میکافی پر 2014ء سے 2018ء تک ٹیکس ریٹرنز جمع نہ کرانے کا الزام تھا، ان پر اثاثے چھپانے کا بھی الزام تھا، انہوں نے اپنی آمدنی دوسروں کے نام پر اکاؤنٹس میں جمع کی تھی۔

میکافی  نے 1980 کی دہائی میں اینٹی وائرس سافٹ ویئر سے لاکھوں روپے  کمائے جو اب بھی ان کی ملکیت ہیں تاہم  اطلاعات کے مطابق اگر انہیں  سزا سنائی جاتی تو اسے 30 سال تک قید کا سامنا کرنا پڑتا۔

گذشتہ اکتوبر بھی ان کے اکاؤنٹ میں نامعلوم ذرائع سے   23 ملین سے زیادہ رقم ٹرانسفر ہوئی تھی ۔ تاہم  میکافی  نے ہمیشہ ان الزامات کی تردید کی ہے اور  اپنی بے گناہی کے خلاف احتجاج کرنے کے لئے  وہ سوشل میڈیا پر بھی سرگرم نظر آئے  ۔

کلبھوشن کو اپیل کا حق دینے سےمتعلق سینیٹ میں’عالمی عدالت انصاف نظرثانی بل’ پیش

سینیٹ(ایوان بالا) میں گرفتار بھارتی جاسوس کلبھوشن کو اپیل کا حق دینے سےمتعلق عالمی عدالت انصاف نظر ثانی و غوروفکر بل پیش کردیا گیا۔

وزیرمملکت پارلیمانی امور علی محمد خان نے بل ایوان میں پیش کیا، اپوزیشن کی جانب سے عالمی عدالت انصاف نظرثانی و غوروفکر بل کی مخالفت کی گئی، چیئرمین سینیٹ نے بل قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کے سپرد کردیا۔

بل میں کہا گیا ہےکہ جہاں عالمی عدالت انصاف غیرملکیوں کےحقوق سے متعلق حکم جاری کرے وہاں ہائی کورٹ کے پاس نظرثانی اور دوبارہ غورکا اختیار ہوگا، متاثرہ غیر ملکی خود یانمائندے کےذریعے ہائی کورٹ میں نظرثانی کی درخواست دائرکرےگا۔

بل کے مطابق متاثرہ غیرملکی مشن کونسلر کے ذریعے یاسیکرٹری قانون کےذریعے بھی ہائی کورٹ میں نظرثانی کی درخواست دائرکرسکےگا، درخواست پاکستان آرمی ایکٹ کے تحت ملٹری کورٹ کی جانب سے سزا یا حکم سزا کےحوالے سے ہوگی۔

نظرثانی یا دوبارہ غورکی درخواست ملٹری کورٹ کے حکم کے 60 دن کے اندر دائر ہوگی، ہائی کورٹ معائنہ کرے گا کہ کیاغیر ملکی شہری سےحق دفاع،حق شہادت،منصفانہ مقدمے اور کونسلررسائی سے انکار کے حوالے سے تعصب تو نہیں برتا گیا۔

بل کےاغراض و مقاصد میں بتایا گیا ہے کہ بھارت نے کلبھوشن کے حوالے سے عالمی عدالت انصاف سے رجوع کررکھاہے اور عالمی عدالت انصاف کے فیصلے کے لیے ضروری ہےکہ پاکستان نظر ثانی کا میکنیزم فراہم کرے۔

عثمان کاکٹر کی موت پر تحقیقات کیلئے حکومتی تعاون کی یقینی دہانی

خیبرپختونخوا: صوبائی وزیر داخلہ میر ضیا لانگو نے پشتونخوا ملی عوامی پارٹی (پی کے میپ) کے رہنما اور سابق سینیٹر عثمان کاکڑ کی موت پر تحقیقات کے لیے حکومتی تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔

رات گئے صوبائی وزیر داخلہ میر ضیا لانگو، صوبائی وزیر خزانہ ظہور بلیدی اور صوبائی وزیر برائے خوراک سردار عبدالرحمٰن کھیتران نے مشترکہ پریس کانفرنس کی۔

اس موقع پر میر ضا لانگو نے کہا کہ عثمان کاکڑ کی موت پر انتہائی دکھ اور رنج ہے، عثمان کاکڑ کے لواحقین جس طرح کی تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہیں حکومت ان کے ساتھ ہے۔

اس سے قبل پی کے میپ کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے پارٹی کے رہنما اور سابق سینیٹر عثمان خان کاکڑ کی موت کی تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔

اس حوالے سے پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے مسلم باغ میں عثمان خان کاکڑ کی تدفین کے موقع پر کہا تھا کہ اگر حکام اس واقعے کی تحقیقات کرنا چاہیں تو ثبوت بھی پیش کریں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سیاسی رہنماؤں نے پارلیمنٹ اور آئین کی بالادستی کے لیے جدوجہد کرنے پر عثمان کاکڑ کو زبردست خراج تحسین پیش کیا۔

محمود خان اچکزئی نے کہا کہ عثمان کاکڑ نے اپنی ساری زندگی ملک میں جمہوریت، انسانی حقوق، اور آئین کو برقرار رکھنے میں صرف کی۔

علاوہ ازیں سینیٹ میں اپوزیشن اراکین نے سابق سینیٹر عثمان کاکڑ کے گھر میں زخمی ہونے کے بعد ان کے انتقال پر سوال اٹھاتے ہوئے تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔

لاہور دھماکے کے ملزمان کی گرفتاری کے قریب پہنچ گئے ہیں ، وزیرداخلہ

اسلام آباد: وفاقی وزیرداخلہ شیخ رشید کا کہناہےکہ لاہور دھماکے کے ملزمان کی گرفتاری کے قریب پہنچ گئے ہیں ۔

تفصیلات کے مطابق ٹویٹر پرجاری کیے گئے اپنے بیان میں وفاقی وزیرداخلہ شیخ رشید کا نے کہا ” پولیس نے جوہرٹاؤن دھماکے کی تحقیقات میں زبردست کامیابی حاصل کی ہے اور پنجاب پولیس ملزمان کی گرفتاری کے قریب ہے ۔ پولیس جلد ملزمان کو قانون کی گرفت میں لے کر اچھی خبر سنائے گی ۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں انتشار پھیلانے والے ناکام ہوں گے اور پاکستان کبھی کسی دباؤ میں نہیں آئیگا۔ وزیراعظم عمران خان کی حکومت میں سیاسی اور معاشی استحکام آیا ہے ۔ پاکستان کے دشمنوں کو سیاسی و معاشی استحکام ایک آنکھ نہیں بھاتا ۔

وزیرداخلہ کا کہناتھاکہ دشمنوں نے دہشتگردی کے راستے اپنانا شروع کیے ۔ وہ ناکام ہوں گے ۔ عوام پاک فوج کے ساتھ ملکر امن و استحکام اور ترقی کا سفر جاری رکھیں گے ۔