پانی کی کمی پوری کرنے اور واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس کیلُے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال ضروری،جامع حکمت عملی تیار کی جائے : راوی اربن سٹی اور سینٹرل بزنس ڈسٹرکٹ منصوبے کی پیش رفت بارے اجلاس سے حطاب
Monthly Archives: June 2021
فرانسیسی فٹبالر پال پوگبا نے مسلمانوں کے دل جیت لئے، دنیا بھر سے تعریفوں کے پیٖغامات
پیرس: فرانس کے ممتاز فٹبالر پال پوگبا نے ایک پریس کانفرنس کے دوران اپنے سامنے رکھی شراب کی بوتل کو وہاں سے ہٹا دیا، ان کے اس اقدام نے دنیا بھر میں رہنے والے مسلمانوں کے دل جیت لئے ہیں۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق یورو کپ میں جرمنی اور فرانس کے درمیان میچ کے بعد پال پوگبا پریس کانفرنس کے لئے آئے تو منتظمین نے ٹیبل پر شراب کی بوتل رکھی ہوئی تھی، مسلمان فٹبالر نے فوری طور پر اسے وہاں سے ہٹا کر دوسری طرف رکھ دیا۔
خیال رہے کہ کچھ دن قنل پرتگال کے ممتاز سٹرائیکر کرسٹیانو رونالڈو نے بھی پریس کانفرنس کے دوران اپنے سامنے رکھی معروف کولا برانڈ کی بوتلوں کو وہاں سے ہٹا کر دوسری جانب رکھ دیا تھا۔
انہوں نے اس کے بعد اپنی پانی کی بوتل کیمروں کے سامنے لہرائی اور کہا ’ایگوا‘م خیال رہے پرتگالی زبان میں اس لفظ کا مطلب ‘پانی’ ہے۔
ملک کے مختلف شہروں میں زلزلے کے جھٹکے
اسلام آباد: ملک کے مختلف شہروں میں زلزلے کے جھٹکے میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں، تاہم ابھی تک متاثرہ مقامات پر کسی جانی و مالی نقصان کی اطلاعات موصول نہیں ہوئی ہیں۔
زلزلے کےجھٹکے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد، مظفر آباد، پشاور، بالا کوٹ، ایبٹ آباد، وادی نیلم اور اطراف کے علاقوں میں محسوس کیے گئے ہیں ۔
زلزلہ پیما مرکز کے مطابق ریکٹر اسکیل پر زلزلے کی شدت 4 اعشاریہ 4 اور زلزلے کی گہرائی 20 کلومیٹر ریکارڈ کی گئی، جب کہ زلزلے کا مرکز مینگورہ سے 25 کلومیٹر شمال مشرق میں تھا۔
کراچی سب سے زیادہ ریونیو دینے والا شہر ہے لیکن اس کیساتھ ناانصافی ہوئی، اسد عمر
اسلام آباد: اسد عمر نے کہا ہے کہ کورونا کے باوجود پاکستان کی لارج اسکیل مینو فیکچرنگ میں اضافہ ہوا، کراچی کے ساتھ نا انصافی ہورہی ہے، معاشی ترقی کی شرح میں 4 فیصد بڑھوتری ہوئی۔
ان خیالات کا اظہار پاکستان تحریک انصاف کے راہنما اسدعمر نے قومی اسمبلی میں بجٹ اجلاس سے خطاب میں کیا۔ اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ اس سال بیرونی خسارہ نہیں بلکہ سرپلس ہوگا، یہ عمران خان ہی تھا جو کورونا کے دوران بھی غریب کو بھوک او ر افلاس سے بچانے کی بات کر رہا تھا، کورونا میں ہمارے کیے گئے اقدامات کی دنیا بھر نے تعریف کی۔ ورلڈ اکنامک فورم نے وبا کے دوران حکومت پاکستان کے اقدامات کی تعریف کی، بل گیٹس،عالمی ادارہ صحت نے کورونا میں پاکستان کے اقدامات کی تعریف کی، اپوزیشن لیڈر نے کورونا کے دوران حکومتی اقدامات کا ذکر کیا۔
این سی او سی کی نے شبانہ روز محنت پر انہیں خراج تحسین پیش کرتا ہوں، کووڈ کی وجہ سے پاکستان اور بھارت میں اموات ہوئی، اگر بھارت میں فی کس وہی اموات ہوتی جو پاکستان میں ہوئی تو بھارت میں 2 لاکھ 35 ہزار اموات کم ہوئی ہوتی، وبا کے دوران 9 کروڑ پاکستانیوں کو 2 سو ارب روپے کے قریب کی امداد پہنچائی گئی۔
اسد عمرکا کہنا تھا کہ کراچی سب سے زیادہ ریونیو دینے والا شہر ہے، اور اسی کے ساتھ نا انصافی ہوئی ہے، شہر کی گلیاں ٹوٹی ہوئی ہیں۔ عمران خان نے ایک سا ل میں چار مربوط ترقیاتی پیکجز کا حکم دیا، یہ چار پیکج 1 ہزار 739 ارب کے ہیں، جنوبی بلوچستان اور گلگت پر ہم نے پیکج دیا۔ آزاد کشمیر میں آج بھی ن لیگ اور سندھ میں پی پی کی حکومت ہے، ضم اضلا ع کے لیے 24 ارب سے ایلوکیشن بڑھا کر ہم 54 ارب پر لے گئے، ان کو ہم سڑکیں بنا کر دیں گے۔
انہوں نے کہا کہ ہم مفت کی ویکسین دے رہے ہیں، پنجاب کی نسبت سندھ میں ہم نے زیادہ ویکسین فراہم کی۔ وفاق اب تک 46 ارب روپے کی ویکسین خرید چکا ہے، لیکن اپوزیشن لیڈر کہہ کر گئے کہ ابھی تک ویکسین نہیں خریدی، شاید اپوزیشن لیڈر اپنی کشمیر کی حکومت کو کہنا چاہ رہے ہوں، ن لیگ بتائے کہ کشمیر کی عوام کے لیے ان کی حکومت نے کتنی ویکسین خریدیں؟، سندھ کی عوام کے لیے کتنی ویکسین خریدی گئی؟ کہاں ہے آپکی ویکسین جو آپ نےخریدی ہے؟
ان کا کہنا تھا کہ عمران خان اللہ کی مخلوق کی خدمت کے لیے سیاست کرتا ہے، اگلے سال احسا س پروگرام کے لیے مجموعی طور پر 260 ارب مختص کیے جا رہے ہیں، ماؤں اور چھوٹے بچوں کی صحت کے لیے تاریخ کا سب سے بڑا پروگرام لایا جا رہا یے، صحت سہولت پروگرام ایک انقلاب ہے، صحت سہولت پروگرام وفاق میں پھیلا دیا، پنجاب میں اس پروگرام کے لیے 80 ارب لگانے جا رہے ہیں، جو صحت کارڈ میری جیب ہوگا وہی کارڈ ریب ترین پاکستانی کی جیب میں بھی ہو گا۔
ہم نے بجلی کے بلوں میں کورونا ریلیف دیا، 435 ارب روپے کے سود سے پاک قرضے دیے گئے، اسٹیٹ بنک کی روزگار اسکیم کے تحت 238 ارب روپے دیے گئے، غریبوں کو چھت فراہم کرنے کے لیے بینکوں کے ذریعے قرضے دیے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ بڑی صنعتیں تیس سے چالیس صنعتوں سے منسلک ہوتی ہیں، کورونا کے باوجود لارج اسکیل مینوفیکچرنگ میں 12.8 اعشاریہ 8فیصد اضافہ ہوا، بجلی کی کھپت میں جولائی سے مارچ تک 9 فیصد اضافہ ہوا۔ اس سال اب تک ہماری ایکسپورٹ میں 14 فیصد اور جولائی سے مئی تک ترسیلات زر میں 29 اعشاریہ 4فیصد اضافہ ہوا ہے، اپوزیشن زور لگا رہی ہے کہ بیرون ملک پاکستا نیوں سے پیسہ تو لیتے رہو لیکن انہیں ووٹ نہیں ڈالنے دو۔
ان کا کہناتھا کہ وہ مافیا جو حکومتوں کی فیصلہ سازی پر اثر انداز ہوتے تھے عمران خان نے اس سے ٹکر لی اور کسان کو حق دلایا، کسان کو اس کی محنت کا جائز حق ملنا چاہیئے۔ اس ملک میں زراعت ریڑھ کی ہڈی ہے، پاکستان کی تاریخ میں پانی کے تین بڑے منصوبوں پر کام ہو رہا ہے، متعدد ڈیموں کے نئے منصوبے اس سال کے پی ایس ڈی پی میں رکھے ہیں۔ کینالز کے منصوبے ہیں یہ پانی ہم نے کسان تک پہنچانا ہے، 2013 میں ن لیگ کی حکومت نے فی 40 کلو گرام گندم کی قیمت 1200 روپے متعین کی، پانچ سال میں یہ 12 سو سے 13 سو تک پہنچے، تحریک انصاف کی حکومت میں یہ گندم کی قیمت 18 سو کر دی گئی، تین سال میں 5 سو اضافہ ہوا۔ اسی طرح گنے کی قیمت 225 سے ڈھائی سو اس سال ملی۔
انہوں نے کہا کہ سندھ بھی پاکستان کا حصہ ہے سندھ کی عوام کی خدمت کر رہے ہیں اور کرتے رہیں گے، سال میں دو مرتبہ ڈیڑھ ڈیڑھ لاکھ ہر کسان کو فصل کی کاشت کی ضروریات کے لیے قرضہ دیں گے، مشینری کے لیے 2 لاکھ کسانوں کو قرض دیں گے، اپنا گھر بنانے کے لیے 20 لاکھ تک بلاسود قرض فراہم کریں گے، ہر خاندان کا لاکھوں روپے سالانہ صحت کا خرچ حکومت اٹھائے گی۔ر
مسلم لیگ کی حکومت ختم ہونے میں چند ہفتے باقی تھے جب میں نے اسی ایوان مین تقریر کرتے ہوئے کہا تھا کہ زرمبادلہ کے ذخائر گر رہے ہیں، ٹائی ٹینک کی مثال دی تھی کہ ہماری معیشت برفاتی تودے سے ٹکرانے والی ہے، اس وقت مفتاع اسماعیل نے بھی میری بات کی تائید کی تھی۔
ہماری حکومت آنے کے آخری تین ماہ میں 2 ارب ڈالر کا ماہانہ بیرونی خسارہ تھا، راجہ پرویز اشرف نے ڈھائی سو ارب کا بیرونی خسارہ چھوڑا تھا، پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر 10 اعشاریہ 2ارب ڈالر تھےاور ساڑھے 3 ارب ڈالر کا نیٹ ریزرو ہمارے پاس تھا، وزیر اعظم عمران خان نے معیشت کی بحالی کے لیے مشکل فیصلے کیے کیوں کہ وہ لیڈر ہے۔
ہم نےاعلی تعلیم کا ترقیاتی بجٹ بڑھایا دیا ہے، ماحولیات کے لیے پی ایس ڈی پی میں 16 گنا اضافہ کیا ہے، کام یاب جوان پروگرام کے تحت دس ارب روپے کم سود والے قرضے دیے ییں، اسکلز فار آل کے نام سے تربیتی پروگرام شروع کیا ہے۔
خیبرپختونخوا میں پرویز خٹک کی حکومت نے تاریخی کارگردگی دکھائی، خیبرپختونخوا میں کارگردگی نہ دکھاؤ تو عوام اٹھا کر باہر پھینک دیتے ہیں، ن لیگ کی بھی خیبرپختونواہ میں حکومت رہی ہے، خیبرپختونخوا کے عوام آزاد فیصلے کرنے والے عوام ہیں۔
انہوں نے مسلم لیگ ن پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایکسپورٹ مسلم لیگ ن نے جتنی زیادہ کی اس سے کم 2018 میں چھوڑ کر گئے، یہ سب کچھ کر گئے تھے مگر اس کے بعد جو یہ درس دیتے ہیں تو دکھ ہوتا ہے، ا
آپ ایک شخص کے ضمانتی تھے اس کو لانے کیلئے فکرمند کیوں نہیں، آپ کو وزیراعظم کے پارلیمنٹ میں نہ آنے کی فکر ہے، شہباز شریف نے وزیراعظم کے ایوان میں نہ آنے کی بات، کاش میاں صاحب نے ایک ہسپتال ایسا بنایا ہوتا جس میں وہ علاج کروا سکتے،عمران خان نے 1983 سے اپنی جائیداد کا حساب دیا، ان کی جائیدادوں کے بارے پوچھنے سے جمہوریت خطرے میں آجاتی ہے، لندن کے فلیٹس، بیرون ملک جائیدادیں کہاں سے آئیں، قوم کا پیسہ قوم کی امانت ہوتا ہے، پوری پاکستانی قوم ان قرضوں کی ادائیگی کرتی تھی۔
عوام کی جیب خالی ہے تو بجٹ جعلی ہے، منظور نہیں ہونے دیں گے، شہباز شریف
مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے کہا ہے کہ حالیہ بجٹ غریب عوام کے ساتھ مذاق ہے جسے منظور نہیں ہونے دیں گے اور اس کے خلاف سیسہ پلائی دیوار بن جائیں گے۔
اسلام آباد میں قومی اسمبلی میں پوسٹ بجٹ تقریر میں شہباز شریف نے کہا کہ اگر غریب عوام کی جیب خالی ہے تو یہ بجٹ جعلی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ میں نے اس لیے کہا کہ گزشتہ تین برس میں ٹیکسوں کی بھرمار کی گئی اس کے نتیجے میں غریب کی ایک روٹی آدھی ہوچکی ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ ہم ایوان کے ایئر کنڈیشن ماحول میں بیٹھ کر پاکستان کے طول و عرض میں عوام کے ساتھ ہونے والے مظالم کا اندازہ نہیں لگا سکتے۔
رہنما مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ تین برس کے دوران ناقص پالیسیوں کی وجہ سے پاکستان میں بھوک، بدحالی اور مایوسی نے جگہ بنالی ہے۔
‘حالیہ دنوں میں ہونے والی قانون سازی آئین سے متصادم ہے’
علاوہ ازیں انہوں نے کہا کہ حالیہ دنوں میں ہونے والی قانون سازی آئین اور قانون سے متصادم ہے، ان میں کئی قانونی سقم ہیں۔
شہباز شریف نے کہا کہ ہم نے آواز اٹھائی لیکن نہیں توجہ نہیں دی گئی اور پھر سینیٹ میں جا کر اپوزیشن نے اپنا کردار ادا کیا۔
انہوں نے اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کو مخاطب کرکے کہا کہ اس معاملے کی تحقیقات کے لیے مشترکہ کمیٹی بننی چاہیے۔
جس پر اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ اس ضمن میں بات ہوچکی ہے، اس کی تحقیقاتی کمیٹی بنے گی جس میں دونوں بینچز کی جانب سے اراکین شامل ہوں گے اور قانون سازی کے عمل جائزہ لیں گے۔
خیال رہےکہ جب شہباز شریف نے مائیک سنبھالا اور گزشتہ دو روز کے دوران ہونے والی ایوان زریں میں ہنگامہ آرائی کا تذکرہ کیا تو حکومتی اراکین کی جانب سے ایک مرتبہ شور سرابا شروع ہوگیا جس پر اسپیکر قومی اسمبلی نے فوراً ہی قابو پالیا۔
شہباز شریف نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ایوان کی دونوں جانب جو لوگ موجود ہیں انہیں عوام نے منتخب کرکے بھیجا ہے اور حالیہ دنوں میں پیش آنے والے واقعات پر دکھ ہے۔
‘بجٹ سے مزید بدحالی آئے گی’
انہوں نے کہا کہ ایوان کا یومیہ خرچہ کروڑوں روپے ہے اور ہم یہاں عوام کے معاشی، اقتصادی اور معاشرتی مسائل حل کرنے کےلیے جمع ہوتے ہیں اس لیے ایک ایک لمحہ قیمتی ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ ہم یہاں کسان، مزدور، طالبعلم اور بے روزگار کی بات کرنے آئے ہیں۔
علاوہ ازیں ان کا کہنا تھا کہ جب ہم نے حکومت چھوڑی جی ڈی پی کی شرح 5.8 فیصد تھی اور موجودہ حکومت کے دور میں کووڈ 19 سے پہلے ہی جی ڈی پی کی شرح منفی میں آگئی تھی۔
انہوں نے کہا کہ بجٹ سے مزید بدحالی آئے گی اور 2 کروڑ لوگ خط غربت سے نیچے آگئے۔
‘اس سے تو بہتر تو پرانا پاکستان تھا’
شہباز شریف نے اس جعلی بجٹ کی وجہ سے50 لاکھ افراد بے روزگاری کی دلدل میں پھنس چکے ہیں اور لوگ بجٹ کو دیکھ کر پوچھ رہے ہیں کہ کہاں ہیں ایک کروڑ نوکریاں اور 50 لاکھ گھر۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں بے روزگاری کی شرح بلند ترین 15 فیصد تک پہنچ چکی ہے، 3 سال گزر گئے اور اس دوران مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کے منصوبوں کے فیتے کاٹتے ہیں اور تختیاں لگواتے ہیں۔
شہباز شریف نے کہا کہ اس سے تو بہتر تو پرانا پاکستان تھا۔
انہوں نے کہا کہ صوبے اکائیاں ہیں اور صوبوں کے مابین اتحاد ہی ملکی ترقی کا باعث بن سکتا ہے لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ موجودہ حکومت کی پالیسیوں کے باعث اعتماد کا فقدان ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ احتساب کے نام پر متعدد سیاستدان سلاخوں کے لیے پیچھے سے آئیں، دراصل یہ سیاسی انتقام ہے۔
علاوہ ازیں انہوں نے کووڈ 19 کے معاملے پر حکومت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے 12 سو ارب روپے کے پیکج کا اعلان کیا جو نااہلی کی نذر ہوگیا۔
انہوں نے کہا کہ چین نے ویکسین فراہم کیں تو کیا ہمیں صرف تحائف پر اکتفا کرنا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ کورونا کی لہر میں شدت تھی تب بھی وزیر اعظم عمران خان اور نیب کے گٹھ جوڑ کے باعث سیاستدانوں کو نشانہ بنایا جارہا تھا۔
انہوں نے کہا کہ ہر پاکستان پر قرض پونے دو لاکھ روپے تک پہنچ چکا ہے اور آئندہ آنے والی نسلوں کا آخری بال بھی مقروض ہوچکا ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ کیا ایسا ہوسکتا ہےکہ ایک ہاتھ میں ایمٹی طاقت ہو اور دوسرے ہاتھ میں کشکول ہو، یہ برقرار نہیں رہ سکتا، ہمیں ایٹمی صلاحیت بن کر رہنا ہے، اس کے لیے وہ حالات اور وسائل پیدا کرنے ہوں گے۔
‘ہاتھ پھیلانے والا فیصلہ کر نہیں سکتا’
قائد حزب اختلاف نے کہا کہ ہاتھ پھیلانے والا فیصلہ تو کر نہیں سکتا، وہ تو ہمیشہ ڈکٹیشن لے گا، اگر ڈکٹیشن ختم کرنی ہے اور اپنے آپ کو پاؤں پر کھڑا کرنا ہے تو پھر وہ کشکول توڑنا ہوگا، جو راتوں رات نہیں ہوسکتا لیکن اس کے لیے شروعات توکریں۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم پر الزام تھا کہ انہوں نے برآمدات کو نہیں بڑھایا تو انہوں نے کیا کیا، 2018 میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت مکمل ہونے پر برآمدات کی جو سطح تھی، اس کے بعد آج تک روپے کی قدر ڈالر کے مقابلے میں 35 فیصد گرچکی ہے، جب روپے کی قدر گری تو درآمدات کی قیمت اسی حساب سے مہنگی ہوگئی، جس کا مطلب ہے کہ ہر چیز مہنگائی کی طرف گئی۔
تحریک انصاف کے مقامی رہنما سردار عزیز 50 ساتھیوں سمیت پیپلز پارٹی میں شامل
تحریک انصاف کے مقامی رہنما سردار عزیز 50 ساتھیوں سمیت پیپلز پارٹی میں شامل ہوگئے۔
وزیر تعلیم سندھ سعید غنی نے انہیں خوش آمدید کہا۔ اس موقع پر سردار عزیز نے کہا کہ بے حس اور نکمے لوگوں نے کراچی میں پی ٹی آئی کو تباہ کردیا۔
وزیر اعظم نے پی ٹی آئی کی مشترکہ پارلیمانی پارٹی کا اجلاس آج طلب کرلیا
اسلام آباد : وزیر اعظم عمران خان نے پاکستان تحریک انصاف کی مشترکہ پارلیمانی پارٹی کا اجلاس آج طلب کرلیا، جس میں قومی اسمبلی میں ہنگامہ آرائی کے واقعات کا جائزہ لیا جائے گا۔
تفصیلات کے مطابق تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی کامشترکہ اجلاس آج طلب کرلیا گیا، پی ٹی آئی کا مشترکہ پارلیمانی پارٹی کا اجلاس وزیراعظم عمران خان کی صدارت میں پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوگا، حکومتی اتحادی جماعتیں بھی اجلاس میں شریک ہوں گی۔
اجلاس میں قومی اسمبلی میں ہنگامہ آرائی کے واقعات کاجائزہ لیاجائےگا اور بجٹ کی منظوری کیلئےحکمت عملی پرتجاویزپرغورکیاجائےگا جبکہ وزیراعظم اجلاس میں اپوزیشن کیخلاف حکمت عملی سےآگاہ کریں گے۔
گذشتہ روز اسپیکر اسد قیصر کی زیرِ صدارت قومی اسمبلی کا اجلاس ایک بار پھر اُس وقت ہنگامہ آرائی کی نظر ہوگیا تھا، جب شہباز شریف اظہارِ خیال کررہے تھے۔
اپوزیشن بینچوں پر بیٹھے کسی رکن نے سینیٹائزر کی بوتل حکومتی نشستوں کی طرف اچھالی جو حکومتی رکن کو جاکر لگی تھی ، جس کے نتیجے میں سینیٹائزر کی بوتل لگنے سے حکومتی رکن اکرم چیمہ زخمی ہوگئے تھے۔
یاد رہے اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے ایوان میں ہنگامہ آرائی اور نازیبا الفاظ استعمال والے سات اسمبلی اراکین کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے اُن کے قومی اسمبلی میں داخلے پر پابندی عائد کردی تھی۔
حکومت کی ایف بی آر کو سپریم کورٹ کے اختیار دینے کی کوشش کا انکشاف
اسلام آباد: حکومت کا بجٹ کے ذریعے ایف بی آر کو سپریم کورٹ کے اختیارات دینے کی کوشش کا انکشاف ہوا ہے۔
ایکسپریس نیوز کےمطابق حکومت کا فنانس بل 2021 کے ذریعے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو سپریم کورٹ آف پاکستان کے اختیارات دینے کی کوشش کا انکشاف ہوا ہے، ایف بی آر نے اپنے افسران کے غیر قانونی اقدام کو تحفظ دینے کے لیے فنانس بل کے ذریعے انکم ٹیکس آرڈیننس میں ترمیم تجویز کردی ہے۔
اس حوالے سے ایکسپریس نیوز نے ممبر ان لینڈ ریونیو پالیسی ایف بی آر طارق چوہدری سے بات کی تو ان کا کہنا تھا کہ انکم ٹیکس آرڈینینس کی سیکشن111 میں ترمیم لاء ڈویژن کی توثیق سے فنانس بل میں شامل کی گئی ہے، پارلیمنٹ کے پاس اختیار ہے وہ عدالتی فیصلوں کو ختم بھی کرسکتی ہے، قانون کی تشریح کرنے کا اختیار بھی پارلیمنٹ کے پاس ہی ہے، اس کی بے شمار مثالیں موجود ہیں ۔
طارق کا مزید کہنا تھا کہ کئی بار ایسا ہوتا ہے کہ اگر کسی عدالت نے فیصلہ دیا ہو تو پارلیمنٹ اسے تبدیل کرسکتی ہے، پارلیمنٹ ہی قانون بناتا ہے تو پارلیمنٹ ہی قانون کی تشریح کرسکتا ہے۔
اس حوالے سے قانونی ماہرین سے بات کی گئی تو ان کا کہنا تھا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی فنانس بل کے ذریعے انکم ٹیکس آرڈینینس کی سیکشن 111 میں تجویز کردہ ترمیم سپریم کورٹ میں یا کسی بھی عدالت میں چیلنج ہوسکتی ہے، ہائیکورٹ کے فیصلوں کو غیر موثر قرار دینے کا اختیار صرف سپریم کورٹ آف پاکستان آف پاکستان کے پاس ہے، انکم ٹیکس ایکٹ میں مجوزہ ترمیم کے ذریعے فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے یہ اختیارات اپنے پاس لینے کی کوشش کی ہے۔
ایف بی آر نے سیکشن 111 کی ذیلی شق پانچ میں ترمیم تجویز کرکے شک دور کرنے کے نام سے ایک نئی وضاحت شامل کی ہے، ایف بی آر نے فنانس بل 2021 کے ذریعے آمدنی چھپانے سے متعلق انکم ٹیکس آرڈیننس2001 کی سیکشن 111 میں ترامیم تجویز کی ہے۔ ایف بی آر کی مجوزہ ترمیم میں ہے کہ انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی سیکشن 122 کی ذیلی شق 9 کے تحت نوٹس جاری کئے جانے کے بعد سیکشن 111 کے تحت الگ سے نوٹس جاری کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔
ذرائع کے مطابق ایف بی آر کی طرف سے ملک بھر میں ٹیکس دہندگان کو سیکشن 122(9) کے تحت ہزاروں نوٹسز جاری کرکے سیکشن 111 کے الگ سے نوٹس جاری کئے بغیر اربوں روپے کے چھپائے گئے اثاثہ جات و ذرائع آمدن و اخراجات کے بارے میں کارروائیاں کی جارہی ہیں، ایف بی آر کے فیلڈ فارمشنز کے ان اقدامات کو ٹیکس دہندگان کی جانب سے عدالتوں میں چیلنج کررکھا ہے، ہائی کورٹس ان کیسوں میں درجنوں فیصلے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے خلاف دے چکی ہیں، فیصلوں میں ایف بی آر کی جانب سے ٹیکس دہندگان کو سیکشن 122(9) کے ساتھ ہی کی جانے والی سیکشن 111کاروائی کو غیر قانونی قرراردیا گیا ہے، اور ہائی کورٹس کے فیصلوں کو غیرمؤثر کرنے یا ان کو منسوخ کرنے کا اختیار سپریم کورٹ آف پاکستان کے پاس ہے۔
فیروز خان ایک سے زیادہ شادیاں کرنے کے حامی
لاہور: اداکار فیروز خان کا کہنا ہے کہ شادی انسان کو بہت کچھ سکھاتی ہے، شادی ایک سے زائد بار کرنی چاہئے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق فیروز خان نے ایک ٹی وی شو میں گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ مجھے چھوٹی عمر میں شادی کرنی چاہئے تھی مجھے ایسا لگتا ہے کہ میں نے شادی کرنے میں تاخیر کردی ۔انہوں نے کہاکہ شادی ایک بہت خوبصورت رشتہ ہے ، شادی آپ کو بہت کچھ سکھاتی ہے ، جیسے ہمارے پیارے نبی کریم محمد ؐ نے ایک سے زائد شادیاں کیں اسی طرح شادیاں زیادہ کرنی چاہئیں۔
واضح رہے کہ فیروز خان کی علیزے سے 2018 میں شادی ہوچکی ہے اور ان کا ایک بیٹا سلطان فیروز بھی ہے۔
بھارت میں ٹوئٹر کو حاصل قانونی تحفظ ختم ، عہدے داران کیخلاف کارروائی ہوسکے گی
بھارت میں ٹوئٹر کو حاصل قانونی تحفظ ختم کردیا گیا جس کے بعد ٹوئٹر پر پوسٹ ہونے والے ہر قسم کے مواد کی ذمہ دار کمپنی کو سمجھا جائے گا اور اسے تھرڈ پارٹی کے طور پر استثنیٰ حاصل نہیں ہوگا۔
ٹوئٹر کو حاصل قانونی تحفظ ختم ہونے کے بعد ٹوئٹرعہدیداران کو غیرقانونی اوراشتعال انگیز مواد پر قانونی کارروائی کاسامناکرنا ہوگا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق نئےآئی ٹی قواعد پر جان بوجھ کر عمل پیرا نہ ہونے پرٹوئٹرکا محفوظ پلیٹ فارم کا درجہ ختم کیا گیا ہے۔
اس حوالے سے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر کا کہنا ہے کہ بھارت میں عبوری چیف تعمیل افسر مقرر کردیا گیا ہے،افسر کی تقرری کی تفصیلات براہ راست آئی ٹی وزارت کے ساتھ شیئر کی جائیں گی۔
خیال رہے کہ بھارت میں 25 مئی سے آئی ٹی کے نئے قواعد کا اطلاق ہوا ہے جس کامقصد سوشل میڈیا ویب سائٹس کو احتساب کے دائرے میں لانا اور ان پلیٹ فارمز پر موجود قابل اعتراض مواد کو ہٹانے کیلئے فوری کارروائی کا پابند بنانا ہے۔
جنیوا میں امریکی اور روسی صدور کی اہم ملاقات
امریکا اور روس کے درمیان حالیہ برسوں کی بد ترین کشیدگی کے بعد دونوں ملکوں کے صدور کی جنیوا میں ملاقات شروع ہو گئی ہے، امریکی صدر جو بائیڈن اور روسی صدر پیوٹن نے اہم ملاقات کا آغاز ہاتھ ملا کرکیا۔
سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں جاری ملاقات میں روسی صدر پیوٹن نے پہلا قدم اُٹھانے پر امریکی صدر کا شکریہ ادا کیا جس پر صدر بائیڈن نے کہا کہ ایک دوسرے سے آمنے سامنے ملنا ہمیشہ بہتر رہتا ہے۔
روسی صدر پیوٹن نے اُمید ظاہرکی کہ امریکی صدر سے ملاقات مثبت رہےگی۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق ملاقات میں امریکی انتخابات میں مبینہ روسی مداخلت، سائبرسیکیورٹی، انسانی حقوق اور اسلحہ کنڑول سمیت کئی اُمور پرگفتگو متوقع ہے۔
وائٹ ہاؤس کا کہنا ہےکہ بات چیت میں امریکا روس تعلقات سے متعلق واضح ریڈ لائنز طے ہونے کی اُمید ہے، پانچ گھنٹے کی ممکنہ ملاقات کے دوران چائے یا کھانےکا وقفہ بھی نہیں رکھا گیا۔
ملاقات کے بعد جوبائیڈن روسی ہم منصب کے ساتھ پریس کانفرنس نہیں کریں گے۔
اپوزیشن کا اسپیکر قومی اسمبلی کیخلاف تحریک عدم اعتماد لانےکا فیصلہ
قومی اسمبلی میں اپوزیشن نے اسپیکرکی جانب سے7 اراکین پر پابندی لگانےکا فیصلہ مستردکردیا۔
ذرائع کا کہنا ہےکہ متحدہ اپوزیشن نے اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصرکے خلاف تحریک عدم اعتماد لانےکا فیصلہ کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق اسپیکر کے خلاف عدم اعتماد کے لیے متحدہ اپوزیشن کا کمیٹی تشکیل دینے پر بھی اتفاق ہوا ہے۔
ذرائع نے بتایا ہےکہ کمیٹی کے ارکان کے ناموں پر مشاورت کمیٹی کو عدم اعتمادکے لیے ٹاسک دیا جائےگا۔
خیال رہے کہ اسپیکر قومی اسمبلی نے گزشتہ روز قومی اسمبلی میں ہونے والی ہنگامہ آرائی پر ایکشن لیتے ہوئے7 ممبران اسمبلی کے پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں داخلے پر پابندی عائد کردی ہے۔
قومی اسمبلی سے جاری اعلامیے کے مطابق جن اراکین پر پابندی لگائی گئی ہے ان میں تحریک انصاف کے تین، (ن) لیگ کے تین اور پیپلزپارٹی کا ایک رکن شامل ہے۔
اعلامیے کے مطابق اسپیکر نے پیپلز پارٹی کے آغا رفیع اللہ، (ن) لیگ کے شیخ روحیل اصغر ، علی گوہر خان اور چوہدری حامد حمید پرپابندی عائد کی ہے جب کہ تحریک انصاف کے علی نواز اعوان، عبدالمجید خان اور فہیم خان پر پابندی لگائی گئی ہے۔
واضح رہےکہ گزشتہ روز قومی اسمبلی میں شدید ہنگامہ آرائی ہوئی،اس دوران اپوزیشن اور حکومتی اراکین نے ایک دوسرے کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال کیے جب کہ بجٹ کی کاپیاں بھی ایک دوسرے کو ماری گئیں۔
خیال رہےکہ گزشتہ دنوں اپوزیشن نےکورم کی نشاندہی نظرانداز کرنے پر ڈپٹی اسپیکر قاسم خان سوری کے خلاف بھی تحریک عدم اعتماد جمع کرائی تھی جس پر ووٹنگ آئندہ جمعے کو ہونا ہے
ن لیگ کا بھیانک چہرہ سب کےسامنے آگیا ہے،فرخ حبیب
تفصیلات کے مطابق وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات فرخ حبیب نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا کہ ن لیگ والےاپنی زبان کولگام دیں، ن لیگ کے پاس کچھ نہیں ہوتا تو گالم گلوچ ،ذاتیات پرآجاتے ہیں، ن لیگ کوقانون سازی سےکوئی دلچسپی نہیں ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ قانون پاس ہونے کے بعد مگرمچھ کےآنسو بہاتے ہیں اور ن لیگ والےمعاہدے کرکے مکرجاتے ہیں۔
وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات نے کہا کہ فخرامام کی سربراہی میں اپوزیشن سے بات کرنےکیلئےکمیٹی بنائی ہے، فخرامام بہت نرم مزاج آدمی ہیں انہوں نےان سےبھی بات نہیں کی ہے۔
انھوں نے کہا کہ مریم صفدرگروپ شہبازشریف کی تقریر نہیں سننا چاہتا تھا تو باہر چلا جاتا، اسپیکرقومی اسمبلی نے20مرتبہ انہیں سمجھانےکی کوشش کی، سپریم کورٹ،نیب جائیں توحملےکردیتے ہیں، شاہ محمودقریشی کےگھرپربھی انہوں نےحملہ کرایا تھا۔
فرخ حبیب نے کہا کہ گزشتہ روزملیکہ بخاری پراپوزیشن نے حملہ کیا، ملیکہ بخاری کوبجٹ کتاب ماری گئی جوانکی بائیں آنکھ پرلگی جس سے ملیکہ بخاری کی آنکھ ضائع ہونےکاخدشہ ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ مریم صفدر نے شاہد خاقان عباسی کوحملےکی ہدایات کی تھیں اور شاہدخاقان عباسی ارکان کومشورےدےرہےتھے، ن لیگ نےقانون سازی کےایوان کو”پہلوان سازی” کامیدان بنایا ہوا ہے۔
وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن فنانشل ماہرین کے ہمراہ ریکارڈ کا جائزہ لینےکی اجازت دے ، اسٹیٹ بینک کےمطابق ن لیگ کےدرجنوں اکاؤنٹس جعلی نکلے ہیں جبکہ پیپلزپارٹی کے 7سے8اکاؤنٹس جعلی نکلے ہیں جبکہ ن لیگ ، پیپلزپارٹی والےآئیں بائیں شائیں کررہےہیں۔
ان کا مزید کہنا ہے کہ فارن فنڈنگ کیس میں پی پی،ن لیگ نےکوئی ریکارڈجمع نہیں کرایا ،ن لیگ والوں کی تاریخ ہےاسامہ بن لادن سے بھی پیسے لیتے ہیں۔


















