پاک فضائیہ کا مدرز ڈے پر ’ماں‘ کو خراج تحسین کیلئے پرومو جاری

لاہور (ویب ڈیسک)آج جب پوری دنیا میں ماو¿ں کو سلام پیش کرنے کے لیے مدرز ڈے منایا جا رہا ہے، یہی وجہ ہے کہ پاک فضائیہ نے بھی دنیا کی سب سے زیادہ پیار کرنے والی ہستی ’ماں‘ کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔ ماو¿ں کے عالمی دن کے موقع پر پاک فضائیہ کے شعبہ تعلقات عامہ نے ایک پرومو جاری کیا ہے جس میں آنے والی نسلوں کی تربیت میں ماں کے کردار کو سلام عقیدت پیش کیا گیا ہے۔یہ پرومو خصوصی طور پر میڈیکل کے شعبے سے وابستہ ان پاکستانی ماو¿ں کے عزم و حوصلے کو خراج تحسین ہے جو کووڈ 19کے خلاف جنگ میں ہر اول دستے کے طور پر اپنی بے لوث خدمات پیش کر رہی ہیں۔ یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ خواتین پاک فضائیہ میں دیگر شعبوں کی طرح فضائیہ کی تمام برانچوں میں مردوں کے شانہ بشانہ خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔

ممتاز شاعر، ڈرامہ نگار، فلم ساز ،ٹی وی کے کردار جیدی سے شہرت حاصل کرنے والے اطہر شاہ خان خالق حقیقی سے جا ملے

 

کراچی (ویب ڈیسک)اردو دنیا کے ممتاز شاعر، ڈرامہ نگار، فلم ساز اور ٹیلی ویڑن کے کردار جیدی سے شہرت حاصل کرنے والے نامور اداکار اطہر شاہ خان اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔اداکار اطہر شاہ خان جیدی طویل عرصے سے شگر اور گردے کے عارضے میں مبتلا تھے اور وہ رضائے الہی سے آج انتقال کر گئے۔اطہر شاہ خان مرحوم نے سوگوارن میں اہلیہ اور چار بیٹے چھوڑے ہیں۔مرحوم اطہر شاہ خان بھارت کے شہر رام پور میں پیدا ہوئے اور انتقال کے وقت ان کی عمر 77 برس سے زائد تھی۔ آپ 1947 میں خاندان کے ساتھ لاہور اور 1957 میں کراچی منتقل ہوئے۔اطہر شاہ خان جیدی نے لاہور سے ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد پشاور سے سیکنڈری تک پڑھا اور پھر کراچی میں ا±ردو سائنس کالج سے گریجویشن کیا، بعدازاں انہوں نے پنجاب یونیورسٹی سے صحافت کے شعبے میں ماسٹرز بھی کیا۔ان کا شمار ٹیلی ویڑن کے ابتدائی ڈرامہ نگاروں اور فن کاروں میں کیا جاتا ہے۔اطہر شاہ خان کی سپرہٹ ڈرامہ سیریلز میں انتظار فرمائیے، ہیلو ہیلو، جانے دو، برگر فیملی، ، جیدی اِن ٹربل، پرابلم ہاو¿س، ہائے جیدی، کیسے کیسے خواب، با اَدب با ملاحظہ ہوشیار اور دیگر شامل ہیں۔

تاریخ پہ تا ریخ ،پی ایس ایل 5کے نامکمل ہونے سے کرکٹرز،آفیشلز 30 فیصد معاوضوں کے ہنوز منتظر

کراچی: (ویب ڈیسک) پی ایس ایل 5کے نامکمل ہونے کی وجہ سے کرکٹرز اورآفیشلز اپنے 30 فیصد معاوضوں کے ہنوز منتظر ہیں،قواعد کے مطابق ایونٹ میں شریک انٹرنیشنل، مقامی کرکٹرز اور ا?فیشلز کو 70 فیصد معاوضہ مل چکا ہے،کورنا وائرس کے سبب ادھوری رہ جانے والی لیگ کے باعث کھلاڑیوں کو بقیہ 30 فیصد رقم نہیں دی جا سکی۔ پی سی بی ذرائع کا کہنا ہے کہ معاہدے کے مطابق کھلاڑیوں کو بقیہ معاوضہ ایونٹ کے اختتام پر ملنا تھا لیکن اسے ملتوی کرنا پڑا، اسی لیے مکمل ادائیگی ممکن نہیں ہو سکی، دوسری جانب پی ایس ایل 5 میں شریک کھلاڑیوں اور ا?فیشلز کا کہنا ہے کہ معاہدے کے مطابق بقیہ 30 فیصد معاوضہ بھی ہمیں ادا کیا جانا چاہے۔ بورڈ سے کیے جانے والے معاہدے میں ایسی کوئی شق موجود نہیں کہ جب تک لیگ کا فائنل نہ ہو تو معاوضہ روک دیا جائے، واضح رہے کہ کورونا وائرس کی وجہ سے روک دیے جانے والے ایونٹ کا پلے آف مرحلہ اور فائنل نومبریا دسمبر میں کرانے کی تجویز زیر غور ہے۔

پاکستان کے ساتھ وہ کریں گے جو اس کی دس نسلیں یاد رکھیں گےبھارت کا بلوچستان میں دہشت گرد کارروائی کا اعتراف

لاہور: (ویب ڈیسک) بھارت نے بے شرمی اور ڈھٹائی سے بلوچستان میں گزشتہ روز ہونے والی دہشت گرد کارروائی کا اعتراف کرلیا۔ بھارتی ریٹائرڈ میجر گواروو¿ آریا نے دو روز قبل بھارتی ٹی وی چینل پر برملا کہا کہ ہندواڑا کا بدلہ بلوچستان میں لیا جائے گیا اور گزشتہ روز پاک ایران سرحد سے 14 کلومیٹر دور کیچ کے علاقے بلیدا میں دہشت گردوں کی طرف سے دیسی ساختہ بم حملے میں ایک میجر سمیت 6 جوان شہید ہوئے۔ بھارتی میجر ریٹائرڈ گواروو¿ نے پاکستان دشمن بھارتی ٹی وی چینل ٹائمز ناو¿ کے پاکستان دشمن اینکر ارناب گوسوامی کے پروگرام میں ڈھٹائی اور بے شرمی سے کہا کہ ’ہندواڑا کا بدلہ پاکستان میں نہیں بلکہ ہندواڑا کا بدلہ بلوچستان میں لیا جائے گا، اگلے 10 سے 15 دنوں میں آپ دیکھ لو گے، میں بلوچستان کے تمام علیحدگی پسندوں کے ساتھ رابطے میں ہوں، میرے موبائل فون میں بگٹی، مری، مینگل سرداروں کے رابطہ نمبر موجود ہیں، پاکستان کے ساتھ وہ کریں گے جو اس کی دس نسلیں یاد رکھیں گے’۔ بھارتی فوج کے سابق میجر کا مزید کہنا تھا کہ ‘آج میں ٹیلی وڑن پر سب کے سامنے یہ دعویٰ کر رہا ہوں کہ میں بلوچستان کے علحیدگی پسندوں کے ساتھ رابطے میں ہوں، اور ہم پاکستانیوں کی ناک توڑ دیں گے، میرے پاس میرے موبائل فون میں ان کے کانٹیکٹ نمبر موجود ہیں، میں تقریباً ہر روز ان سے رابطے میں رہتا ہوں، بھارت کی ایک ارب 40 کروڑ آبادی بلوچوں کے ساتھ کھڑی ہے’۔ بھارتی ریٹائرڈ میجر گواروو¿ نے بلوچستان میں دہشت گرد کارروائی کی دھمکی دیتے ہوئے پروگرام میں شریک پاکستانیوں سے کہ کہا کہ آج نہیں تو دس سال بعد بلوچستان ایک علیحدہ ملک ہوگا اور آپ لوگوں کو پاسپورٹ لے کر وہاں جانا ہوگا، ایک ارب چالیس کروڑ بھارتی بلوچ علیحدگی پسندوں کے ساتھ کھڑے ہیں’۔ اس دوران ایک بار پھر بھارتی میجر کہتا ہے کہ ‘بگٹی، مری، مینگل، کون سے سردار کا نمبر چاہیے، مجھے بولو میں دوں گا، بلوچستان میں لوکیشن کے ساتھ، جس طرح بنگلا دیش میں جانے کے لیے پاسپورٹ چاہیے، اسی طرح بلوچستان میں جانے کے لیے پاسپورٹ چاہیے ہوگا’۔ بے شرمی اور ڈھٹائی کے ساتھ دھمکی دیتے ہوئے ریٹائرڈ میجر گواروو¿ آریا کہتا ہے کہ ‘ڈیرہ بگٹی میں کون سا ایڈرس چاہیے بتاو¿، بلوچستان کے اندر پاکستانی فوج کا اتنا خون بہے گا کہ کچھ سال بعد پاسپورٹ لے کر جانا پڑے گا’۔ پاکستان کو دھمکانے اور بلوچستان میں دہشت گردی کی پشت پناہی کا اقرار کرنے والے بھارت کے ریٹائرڈ میجر گواروو¿ آریا کو بھارتی اسٹیبلشمنٹ کی آشیرباد حاصل ہے۔ گواروو¿ آریا کو مختلف ویڈیوز اور تصاویر میں بھارتی اعلیٰ فوجی قیادت سے ملتے اور بریفنگ لیتے ہوئے دیکھا جا سکتاہے۔

لمبی داڑھی کے سبب ماسک پہننے میں مشکلات،کورونا مریضوں کے علاج کی خاطر سکھ ڈاکٹروں نے داڑھی منڈوا دی

کینیڈا (ویب ڈیسک)کورونا وائرس کے خلاف عالمی جنگ میں پاکستان اور امریکا سمیت دیگر ممالک میں ڈاکٹر اور طبی عملے کے کئی افراد اپنی جانوں سے ہاتھ بھی دھو چکے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود حال ہی میں کورونا وائرس کے مریضوں کے علاج کی خاطر کینیڈا میں موجود دو سکھ ڈاکٹر بھائیوں نے اپنی داڑھی کی قربانی دے دی ہے۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق کورونا وائرس کے مریضوں کے علاج کرنے والے دونوں سکھ ڈاکٹر بھائیوں نے یہ فیصلہ اس لیے کیا کیونکہ انہیں لمبی داڑھی کے سبب ماسک پہننے میں مشکلات کا سامنا تھا۔ڈارھی کی قربانی دینے کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک ایسا فیصلہ ہے جس نے ہمیں بہت دکھی کر دیا ہے، یہ وہ چیز تھی جو ہماری شناخت کا حصہ رہی، اب خود کو آئینے میں دیکھتے ہیں تو صدمہ ہوتا ہے۔ ڈاکٹر بھائیوں کا مزید کہنا تھا کہ یہ ہمارے لیے ایک انتہائی مشکل فیصلہ تھا لیکن اس وقت ہمیں یہ کرنے کی ضرورت تھی۔ خیال رہے کہ کینیڈا میں موجود ڈاکٹر سنجیت سنگھ سلوجا فزیشن ہیں اور ان کے بھائی ڈاکٹر رنجیت سنگھ نیورو سرجن ہیں۔

مجھے فخر ہے کہ میرے بیٹے نے قوم کی خاطر شہادت حاصل کی ہے،بلوچستان میں شہید میجر ندیم عباس بھٹی کی والدہ کا ایسا بیان کہ دشمن کے ہوش اڑ جا ئینگے

 

حافظ آباد(ویب ڈیسک )بلوچستان بارودی سرنگ دھماکے میںشہید ہونے والے میجر ندیم عباس بھٹی کو حافظ آباد کے گاو¿ں برجدارا میں فوجی اعزازات کے ساتھ سپر دخاک کر دیا گیا،نماز جناہ میں فوجی افسران،سیاسی شخصیات اور عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی،شہید میجر ندیم عباس بھٹی کی والدہ ،کم سن معصوم بچوں اور بھائی کی گفتگو نے ہر آنکھ کو آبدیدہ کر دیا۔گذشتہ روز بارودی سرنگ دھماکے میں شہید ہونے والے میجر ندیم عباس بھٹی کو آبائی گاو¿ں برج دارا میں فوجی اعزازات کے سپرد خاک کر دیا گیا۔ نماز جنازہ میں فوجی افسران، سیاسی شخصیات اور عوام کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ پاک فوج کے دستے نے گارڈ آف آنر بھی پیش کیا اور چیف آف آرمی سٹاف سمیت دیگر اعلیٰ عسکری قیادت کی جانب سے پھوولوں کی چادریں چڑھائی گئیں۔ شہید میجر ندیم کی والدہ کا کہنا تھا کہ مجھے فخر ہے کہ میرے بیٹے نے قوم کی خاطر شہادت حاصل کی ہے۔

میاں چنوں میں خوفنا ک حادثہ، تیز رفتارمسافر وین نہر میں گرنے سے 9 افراد جاں بحق

 

میاں چنوں(ویب ڈیسک): میلسی لنک کینال میں مسافر وین نہر میں گرنے سے 9 افراد ڈوب کر جاں بحق ہو گئے،ریسکیو ذرائع کا کہنا ہے کہ نہر میں گرنے والی وین میں ایک ہی خاندان کے 12 افراد سوار تھے، 9 افراد کی لاشوں اور وین کو نہر سے نکال لیا گیا ہے جب کہ ڈوبنے والے تین افراد کی تلاش جاری ہے۔

کورونا وائرس: پاکستان میں مصدقہ کیسز 28736 ہو گئے،گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران 18 افراد جاں بحق

 

لاہور: (ویب ڈیسک) ملک میں کورونا وائرس کا پھیلاو¿ دن بدن بڑھ رہا ہے اور گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران مزید 1262 نئے کیسز سامنے آئے ہیں، جس کے بعد ملک میں مصدقہ کیسز کی مجموعی تعداد 28 ہزار 736 ہوگئی ہے جبکہ اموات 636 تک پہنچ چکی ہیں۔واضح رہے کہ گزشتہ روز میں ملک میں ایک روز کے دوران اب تک کے سب سے زیادہ 2000 نئے کیسز ریکارڈ کیے گئے تھے۔ یہ 2 ہزار کیسز وزیراعظم عمران خان کے لاک ڈاو¿ن کو نرم کرنے کے اعلان کے ایک روز بعد سامنے آئے۔تفصیلات کے مطابق ملک بھر میں کورونا وائرس کے کیسز کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے، گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران ایک مرتبہ پھر 1262 نئے کیسز سامنے ا?ئے ہیں۔ اس دوران 12982 ٹیسٹ کیے گئے جبکہ ملک بھر میں اب تک 2 لاکھ 70 ہزار 25 افراد کے ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران 18 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جس کے بعد ملک بھر میں جاں بحق افراد ہونے والے افراد کی تعداد 636 ہو گئی ہے۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اب تک ملک بھر میں 7809 افراد صحت یاب ہو چکے ہیں جس کے بعد ملک بھر میں 20927 کنفرم مریض ہیں۔وفاقی دارالحکومت سمیت دیگر صوبوں کی مرحلہ وار رپورٹ کا جائزہ لیا جائے تو اس وقت ملک بھر میں سب سے زیادہ کیسز کی تعداد سندھ میں ہے جہاں پر 10771 کیسز ہیں۔دوسرے نمبر پر پنجاب ہے، جہاں پر مریضوں کی تعداد 10471 ہے، بلوچستان میں 1876، خیبر پختونخوا میں 4509، اسلام ا?باد میں 609، ا?زاد کشمیر میں 79 اور گلگت بلتستان میں 421 مریض ہیں۔ملک بھر میں جاں بحق افراد کی بات کی جائے تو خیبرپختونخوا میں ہلاکتیں سب سے زیادہ ہیں، جہاں پر 234 افراد زندگی کی بازی ہار چکے ہیں، سندھ میں 180 افراد خالق حقیقی سے جا ملے، پنجاب میں 191 افراد کورونا وائرس سے لڑتے لڑتے جانبرنہ ہو سکے۔نیشنل کمانڈ اینڈ ا?پریشن سینٹر کے اعداد و شمار کے مطابق وفاقی دارالحکومت میں 4 ، بلوچستان میں 24، گلگت بلتستان میں 3 افراد دار فانی سے کوچ کر گئے ہیں جبکہ ا?زاد کشمیر میں تاحال کوئی ہلاکت سامنے نہیں آئی۔

پاکستان ٹاپ ٹین میں شامل، مزید 24 جاں بحق، 1637 نئے مریض، تعداد 27ہزار سے بڑھ گئی

لاہور، کراچی، اسلام آباد (نمائندگان خبریں)م پاکستان میں کورونا کے متاثرین تیزی سے بڑھنے لگے، ملک بھر میں کورونا کے تصدیق شدہ کیسز کی تعداد 27 ہزار 474 تک پہنچ گئی جبکہ ایک دن میں 24 افراد جاں بحق ہوگئے جس کے بعد اموات کی تعداد 618 ہوگئی۔ نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 1637 نئے کیسز رپورٹ ہوئے، پنجاب میں سب سے زیادہ 10 ہزار 471، سندھ میں 9 ہزار 691، خیبر پختونخوا میں 4 ہزار 327، بلوچستان میں ایک ہزار 876، گلگت بلتستان میں 421، اسلام آباد میں 609 جبکہ آزاد کشمیر میں 79 کیسز رپورٹ ہوئے۔ ملک بھر میں اب تک 2 لاکھ 70 ہزار 25 افراد کے ٹیسٹ کئے گئے، گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 12 ہزار 982 نئے ٹیسٹ کئے گئے، اب تک 7 ہزار 756 مریض صحتیاب ہوچکے ہیں جبکہ کئی مریضوں کی حالت تشویشناک ہے۔ پاکستان میں کورونا سے ایک دن میں 24 افراد جاں بحق ہوگئے جس کے بعد وائرس سے مرنے والوں کی تعداد 618 ہوگئی۔ سندھ میں 175، پنجاب میں 191، خیبر پختونخوا میں 221، گلگت بلتستان میں 3، بلوچستان میں 24 اور اسلام آباد میں 4 مریض جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ اب تک 462 ہسپتالوں میں قائم قرنطینہ مراکز مریضوں کا علاج جاری ہے، ان ہسپتالوں میں 7295 بیڈز کا بندوبست کیا گیا ہے۔سندھ میں کرونا شہروں کے بعد دیہاتوں میں بھی پھیلنے لگا ہے۔خیرپور کے گاو¿ں پیرجوگوٹھ میں 251 افراد کرونا وائرس سے متاثر ہوگئے ہیں۔ جی ڈی اے کے رکن اسمبلی راشد شاہ کا بھی کرونا ٹیسٹ مثبت آیا ہے۔ضلع خیرپور کے گاں پیرجوگوٹھ میں 316 افراد کے کرونا سے متعلق ٹیسٹ کیے گئے تھے جس میں 251 افراد میں کرونا وائرس پایا گیا ہے جبکہ صرف 65 افراد کے ٹیسٹ منفی آئے ہیں۔جی ڈی اے کے رکن سندھ اسمبلی راشد شاہ بھی کرونا وائرس میں مبتلا ہوگئے ہیں۔ قومی ائیر لائن کے مزید پانچ ملازمین کورونا وائرس سے متاثر ہوگئے ،لاہور ،کراچی اوراسلام باد کے بعد کوئٹہ میں بھی پی ائی اے کے پانچ ملازمین کا کورونا وائرس کا ٹیسٹ مثبت آ گیا ۔پی آئی اے کے جی ایم میڈیکل سروس نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ کوئٹہ اسٹیشن پر 22 ملازمین کے کورونا ٹیسٹ کیے گئے تھے جن میں سے پانچ ملازمین متاثر نکلے ہیں ،تمام ملازمین کو سیلف قرنطینہ میں بھیج دیا گیا ہے ،بعد میں مزید ملازمین کے بھی ٹیسٹ کئے جائیں گے ۔پی آئی اے کوئٹہ بکنگ آفس اور دیگر دفاتر میں کام کر نے والے عملے کے بھی ٹیسٹ کیے گئے۔ گجرات میں کرونا وائرس کے 8مزید مریض تفصیلات کے مطابق جھیورانوالی اور شیخ قریشیاں کے آٹھ افراد میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے محکمہ صحت کی ٹیم نے کرونا سے متاثرہ افراد کو قرنطینہ سنٹر میں پہنچادیا ہے متاثرہ افراد نے اہل خانہ کے بھی کرونا ٹیسٹ کئے گئے ہیں۔ ینگ ڈاکٹر ایسوسی ایشن خیبر پختونخوا کے صدر ڈاکٹر رضوان میں کورونا وائرس کی تصدیق ہو گئی۔ڈاکٹر رضوان کنڈی پشاور کے حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں فرائض انجام دے رہے تھے تاہم کورونا کی تصدیق ہونے کے بعد انہوں نے خود کو ڈاکٹر ہاسٹل میں آئسولیٹ کر لیا ہے۔ڈاکٹر رضوان کنڈی کا کہنا ہے کہ حوصلہ بلند ہے اور جلد صحت یاب ہوکر دوبارہ انسانیت کی خدمت کے لیے نکلوں گا۔واضح رہے کہ کورونا وائرس کے خلاف ڈاکٹرز اور طبی عملہ فرنٹ لائن سپاہی کے فرائض انجام دے رہا ہے اور اس محاذ پر اب تک ڈاکٹرز سمیت طبی عملے کے کئی افراد جام شہادت نوش بھی کر چکے ہیں۔پاکستان میں کورونا وائرس کے باعث سب سے زیادہ 221 ہلاکتیں بھی خیبر پختونخوا میں ریکارڈ ہو چکی ہیں۔ ملک بھر میں چوبیس گھنٹوں میں مزید 24 ہیلتھ کئیر ورکرز متاثر ہو گئے،, مزید ایک ڈاکٹر جان کی بازی ہار گیا۔ ڈاکٹرز سمیت طبی عملے کے 11 افراد کرونا سے جاں بحق ہو گئے۔ ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل اسٹاف کےلئے خطرات بڑھ گئے۔ ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن نے حفاظتی سامان فراہم کرنے کا مطالبہ کردیا۔کرونا وائرس کے خلاف لڑنے والے ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل اسٹاف کےلئے خطرات بڑھ گئے۔ پچھلے 24 گھنٹوں میں مزید 24 ہیلتھ کئیر ورکرز کرونا میں مبتلا ہوئے۔ مزید ایک ڈاکٹر جان کی بازی ہار گیا۔وزارت نیشنل ہیلتھ اینڈ ایمرجنسی سروس کے مطابق ابتک ڈاکٹرز سمیت طبی عملے کے 11 افراد کرونا سے جان کی بازی ہارچکے ہیں۔ وائرس سے متاثرہ ڈاکٹر اور پیرامیڈیکل سٹاف کی تعداد 736 تک پہنچ گئی۔ اب تک 422 ڈاکٹرز کرونا سے متاثر ہو چکے ہیں۔رپورٹ کے مطابق پنجاب میں 184،خیبرپختونخوا میں 86 بلوچستان میں 136، سندھ 134اوراسلام آباد میں 71 ہیلتھ کئیر ورکرز کرونا میں مبتلا ہوئے۔ متاثرہ نرسز کی تعداد بھی 104 تک پہنچ گئی ہے۔چیئرمین ینگ کنسلٹنٹ ایسوسی ایشن ڈاکٹر اسفند یار نے حکومت سے اپیل کہ وہ ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل اسٹاف کو حفاظتی سامان فراہم کرے۔وزارت ہیلتھ کےمطابق میڈیکل سے وابستہ 203 افراد مختلف اسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔جن کی حالت خطرے سے باہر ہے۔ملک بھر میں 164 ہیلتھ کئیر ورکرز صحت یاب ہونےپر اسپتال سے ڈسچارج کردیاگیا ہے۔ کورونا نے باغوں کے شہر لاہور کو اپنا ٹارگٹ بنا لیا، لاہور میں ایک ہی روز میں407 نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جس کے بعد کنفرم مریضوں کی تعداد 3 ہزار 856 ہو گئی، پنجاب حکومت نے لاہور میں کورونا کا پھیلاو¿ روکنے کیلئے علیحدہ پالیسی مرتب کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ترجمان محکمہ صحت کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں پنجاب میں کورونا وائرس کے 961 نئے کیسز سامنے آنے کے بعد کنفرم مریضوں کی تعداد 10 ہزار 33 ہو گئی، جن میں7971 مرد اور 2061 خواتین ہیں۔ترجمان محکمہ صحت کے مطابق 768 زائرین سنٹرز، 1926 رائیونڈ سے منسلک افراد، 86 قیدیوں اور 7259 عام شہریوں میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے، قصور میں 69، شیخوپورہ میں 41 ، راولپنڈی میں 581 ، جہلم میں 73 اور گوجرانوالہ میں 422 شہری کورونا کے مرض میں مبتلا ہیں، سیالکوٹ میں 350، گجرات میں 436، ملتان میں 203، وہاڑی میں 56 اور فیصل آباد میں 311 شہریوں میں کورونا کی تصدیق ہوئی ہے۔ترجمان محکمہ صحت کے مطابق پنجاب میں اب تک کورونا وائرس سے 183 اموات ہوچکی ہیں، 4 ہزار 62 افراد صحت یاب ہوئے ہیں جبکہ 22 مریضوں کی حالت تشویشناک ہے، لاہور سمیت پنجاب بھر میں 143 پولیس ملازمین کے کورونا وائرس میں مبتلا ہونے کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ 188 کو قرنطینہ سنٹر منتقل کر دیا گیا۔ترجمان محکمہ صحت نے عوام سے اپیل کی ہے کہ حفاظتی تدابیر اختیار کرکے خود کو محفوظ بنائیں، بیرون ممالک سے آئے افراد میں آئسولیشن کے دوران علامات ظاہر ہوں تو 1033 پر رابطہ کریں۔طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس بخار سے شروع ہوتا ہے جس کے بعد خشک کھانسی آتی ہے، یہ وائرس سانس کے ذریعے ایک سے دوسرے انسان میں منتقل ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے، شہری کورونا وائرس سے بچنے کیلئے ایک دوسرے سے ہاتھ ملانے اور گلے ملنے سے اجتناب کریں، گرم پانی پیئں اور ماسک استعمال کریں۔دوسری جانب پنجاب حکومت نے لاہور میں کوروناوائرس کا پھیلاو¿ روکنے کیلئے موثر مینجمنٹ کی علیحدہ پالیسی مرتب کرنے کا فیصلہ کرلیا، اس سلسلے میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ کی سربراہی میں کمیٹی بھی تشکیل دے دی گئی۔

خوف کے مارے ہزاروں انڈین فوجیوں نے چھٹیوں کی درخواستیں دے دیں

(ویب ڈیسک)بی ایس ایف کے دو اہلکار کرونا سے ہلاک بھی ہو چکے ہیں جن کی وجہ سے ہم صدمے میں ہیں:وزیرداخلہ امیت شاہ۔بی ایس ایف میں 195‘ سی آر پی ایف میں 159 ‘ آئی ٹی بی پی میں 82‘ سی آئی ایس ایف میں 32 مریض سامنے آئے‘بی ایس ایف کے30مزیداہلکاروں میں کرونا کی تشخیص‘6کاتعلق دہلی‘24کاتعلق تری پورہ سے ہے۔بھارتی فوج کے اہلکاروں کے اہل خانہ بھی پریشان ہیں۔بھارت میں کرونا پھیلاﺅروکناکیلئے فوجیوںکی نقل وحرکت محدود کرنے کااعلان کیاتھاجس پرعمل نہ ہوسکا

مارکیٹیں کھولنے پر حکومت اور تاجروں میں پھڈا گزشتہ روزکھلی مارکیٹیں پولیس بند کراتی رہی پنجاب میں جمعہ ہفتہ اتوار کاروبار بند

پہلا انٹرو
لاہور‘ کراچی‘ کوئٹہ‘ اسلام آباد (نمائندگان خبریں) ملک بھر میں چھوٹی مارکیٹیں‘ دکانیں اور تعمیراتی صنعت کھولنے کے حکومتی اعلان کے بعد بڑی مارکیٹوں‘ پلازوں کے مالکان اور تاجروں نے فیصلے کو ناانصافی پر مبنی قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا ہے۔ تاجر تنظیموں کے رہنماﺅں نے کہا ہے کہ حکومت بڑی مارکیٹوں میں کام کرنے والوں کو بھی دکانیں کھولنے کی اجازت دے۔ ذرائع کے مطابق تاجروں نے حکومتی فیصلے کو نہ ماننے کا اعلان کرتے ہوئے پیر سے بڑی مارکیٹیں کھولنے کیلئے مشاورت شروع کردی ہے۔ گزشتہ روز بھی کئی شہروں میں تاجروں نے مارکیٹیں کھولنے کی کوشش کی تھی جسے پولیس نے بند کرادیا تھا۔ لاہور سمیت پنجاب بھر میں دکانیں کھولنے کیلئے وفاقی حکومت کے نوٹیفیکشن کا انتظار, شہر کی مارکیٹوں اور بازاروں کے مرکزی قائدین وتاجران مارکیٹس کھولنے پہنچے مگر پولیس نے اجازت نہ دی۔پولیس نے ہال روڈ’بیدن روڈ’اردو بازار’برانڈرتھ روڈ’انارکلی بازار ‘کریم مارکیٹ’شاہ عالم مارکیٹ ‘اعظم کلاتھ مارکیٹ’کیمیکلز مارکیٹس’پیپر مارکیٹ سمیت دیگر مارکیٹس کے داخلی وخارجی راستوں کو بیئریئر لگا کر بند کیے رکھا۔ مرکزی جنرل سیکرٹری انجمن تاجران عتیق میر نے مذمت کرتے ہوئےکہا کہ ضلعی انتظامیہ اور پولیس نے وزیراعظم عمران خان کے احکامات کی نفی کرتے ہوئے چھوٹی دوکانیں بھی ‘کھولنے کی اجازت نہیں دی۔مرکزی جنرل سیکرٹری نعیم میر’صدر لاہور ملک امانت نے کہاکہ چھوٹءبڑی مارکیٹس کی تفریق کرکے تاجروں میں تفرقہ نہ ڈالا جائے۔ تاجر رہنما نے وزیراعلی عثمان بزدار کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ بھی کیا۔صدر انجمن تاجران لاہور ملک امانت نے کہا کہ تاجران کو چھوٹی وبڑی مارکیٹس میں تقسیم کرکے تفرقہ نہ ڈالا جائے۔انجمن تاجران کے مرکزی قائدین نے کہا کہ حکومت بڑی مارکیٹوں میں کاروبار کرنے والے چھوٹے تاجران کو بھی کام کرنے کی اجازت دی جائے ‘ورنہ معاشی ابتری کئی خاندان نگل جائے گی ۔خیال رہے کہ 7 مئی کو قومی رابطہ کمیٹی کے اجلاس کے بعد وزیرِ اعظم عمران خان کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر اسد عمر نے کہا تا کہ اجلاس میں چھوٹی مارکیٹیں کھولنے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ محلے کی دکانیں بھی کھولنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ چھوٹی مارکیٹیں اور چھوٹی دکانیں صبح فجر سے شام 5 بجے تک کھلی رہیں گی۔ اوپن ہونے والی چھوٹی مارکیٹیں و دکانیں ہفتے میں 2 دن بند رہیں گی-2 دن بندش کا اطلاق پہلے سے کھولی گئی فارمیسی، میڈیکل سٹورز، دودھ دہی کی دکانوں، کریانہ سٹوروں، تندوروں اور بیکریوں پر نہیں ہوگا۔ اس طرح ہسپتالوں کی او پی ڈیز کو بھی کھولنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ودسری جا نب پولیس کا کہنا ہے کہ حکومت پنجا ب کی جا نب سے کو ئی واضح نو ٹیفکشن نہیں ملا جس پرپیر کے روز ہی فیصلہ کیا جا ئے گا ۔ لاک ڈاو¿ن ختم کرنے اور مارکیٹیں کھولنے سے متعلق تاحال حکومت کی جانب سے باقاعدہ طور پر نوٹیفکیشن تو جاری نہ ہوا مگر شہری سڑکوں پر نکل آئے سڑکوں پر ٹریفک کا رش لگ گیا،شہری حکومتی احکامات کی خلاف ورزی بھی کرتے رہے ناکوں پر تعینات پولیس اہلکار اور ٹریفک وارڈنز ڈیوٹی کے دوران ہی چھاوں کے مزے لیتے رہے لوکل ٹرانسپورٹ اور ڈبل سواری کی خلاف ورزی بھی عروج پر رہی۔پولیس اہلکاروں کا ناکوں پر ڈیوٹی کرنا بلکل بیکار ہے۔ٹریفک وارڈنز تو خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کاروائی کرنے کی بجائے ڈیوٹی کے دوران ہی موبائل فون استعمال کرنے میں لگے ہیں۔ راولپنڈی میں لاک ڈاون میں نرمی کے بعد دکانیں کھلنا شروع کھانے پینے کی اشیا اور دواو?ں کی دکانیں بھی کھلی ہیں۔ تعمیرات سے معتلقہ سینیٹری، سٹیل، المونیم اور ہارڈویئر کی دکانیں کھلنے لگی ہیں۔ شاپنگ مالز اور ریسٹورنٹس اور ہوٹل بند جبکہ راولپنڈی سے مختلف شہروں اور صوبوں کے لئےٹرانسپورٹ بھی معطل ہے۔ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے دکانیں کھولنے سے متعلق احکامات جاری نہیں ہوئے۔بلوچستان حکومت نے صوبے بھر میں سمارٹ لاک ڈا ﺅن کا نوٹیفکیشن جاری کردیا ۔صوبائی حکومت بلوچستان کی جانب سے جاری نوٹی فکیشن کے مطابق سمارٹ لاک ڈاﺅن کے دوران صوبے بھر میں شاپنگ مالز ، مارکیٹوں ، دکانوں، گودام، آٹو ریپئر شاپس اور ہیر کٹنگ سیلون صبح 3 بجے سے شام 5 بجے تک کھولنے کی اجازت ہوگی۔جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق شام 5 بجے کے بعد ان کاروبار کو کھولے رکھنے پر ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔ تندور، ڈیری پروڈکٹس شاپس، میڈیکل اسٹورز، بلڈ بینک اور ٹیلر شاپس کو24 گھنٹے کھلا رکھنے کی اجازت ہوگی۔اعلامیہ میں ریسٹورنٹس اور ہوٹلز کو بھی صرف ہوم ڈیلیوری اور ٹیک آوے سروس کے لیے 24 گھنٹے کھلا رکھنے کی اجازت ہوگی، تاہم وہاں بیٹھ کر کھانا کھانے کی اجازت تاحال معطل رہے گی۔ صوبائی حکومت نے کہا کہ لاک ڈاﺅن میں کی جانے والی نرمی تاجروں اور عوام کے احتیاطی تدابیر کی ایس او پیز پر عملدرآمد سے مشروط ہوگی۔حکام کے مطابق اس تمام عمل کے دوران دکانوں اور مالز میں ورکرز اور گاہکو ں کے لیے ہاتھ دھونے سینی ٹائیزر کی فراہمی اور ماسک اور گلوز کا استعمال لازم ہوگا۔واضح رہے کہ بلوچستان میں سمارٹ لاک ڈان کے نفاذ کا فیصلہ جمعہ 8 مئی کو صوبائی حکومت اور تاجروں کے مابین ہونے والے کامیاب مذاکرات میں کیا گیا۔بلوچستان میں لاک ڈاﺅن سے متعلق صوبائی وزرا نے ڈپٹی کمشنر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ لاک ڈاﺅن میں نرمی صرف عید تک ہوگی، ایس او پیز پر عملدرآمد نہ کرنیوالی دکانیں اور مارکیٹیں سیل کردیں جائیں گی، اس دوران مخصوص علاقوں میں سمارٹ لاک ڈاﺅن کیا جائے گا۔ وزیر صحت خیبر پختون خوا تیمور جھگڑا نے کہا ہے کہ لاک ڈاو¿ن میں نرمی کے بعد اگلے فیز میں داخل ہوگئے، کورونا ایک مسلسل چیلنج ہے، وائرس کے خلاف مقابلہ کرتے ہوئے جینا سیکھنا ہوگا، خیبرپختونخوا میں کاروباری سرگرمیاں چار بجے بند ہو جائیں گی۔وزیر صحت خیبر پختونخوا تیمور جھگڑا نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا 23 مارچ سے ہمارے لاک ڈاون کا پہلا مرحلہ شروع ہوا تھا، مزید جتنا لاک ڈاون جاری رہے اس دوران وائرس نے ختم نہیں ہونا، وائرس کے ساتھ زندگی کے اصول بنا کر جینا سیکھنا ہوگا، ہو سکتا ہے کورونا وائرس کا چیلنج ہمارے ساتھ ایک سے دو سال تک رہے۔تیمور جھگڑا کے مطابق کورونا کیساتھ پولیو اور ڈینگی سے متعلق بھی کام کر رہے ہیں، کورونا کے خلاف جنگ میں ڈاکٹر اور طبی عملہ ہمارے ہیرو ہیں۔

لاہور (جنرل رپورٹر)حکومت نے لاک ڈاو¿ن میں31مئی تک توسیع کر دی جس کا نوٹیفیکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے۔صوبہ بھر میںتمام چھوٹی دکانیں ہفتے میں چار دن کھلیں گی،پنجاب حکومت کی طرف سے لاک ڈاو¿ن میں مزید اضافہ کر دیا گیا ہے، صوبے میں 31 مئی تک لاک ڈاو¿ن رہے گا جس کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔نوٹیفکیشن کے مطابق پنجاب کے تمام بڑے شاپنگ مالز، تعلیمی ادارے بند رہیں گے، کنسٹریکشن انڈسٹریز میں الیکٹریکس ، سٹیل ، پمینیم کو ایس او پیز کے تحت کھولنے کی اجازت ہوگی۔پنجاب حکومت کی طرف سے جاری کیے گئے نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ حجام اور سیلون بیوٹی پارلر اور جمنیزیم کھول دیئے گئے۔پنجاب میں تمام چھوٹی دکانیں ہفتے میں چار دن کھلیں گی۔اس سے قبل پنجاب میں لاک ڈاو¿ن کے حوالے سے صوبائی وزیراطلاعات فیاض الحسن چوہان کا بیان سامنے آیا تھا جس میں ان کا کہنا تھا کہ پنجاب حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ ہفتے میں صرف چار دن لاک ڈاو¿ن میں نرمی کی جائے گی جبکہ تین دن مکمل ڈاو¿ن ہو گا۔صوبائی وزیر اطلاعات نے واضح کرتے ہوئے بتایا کہ جن چار دن میں لاک ڈاو¿ن نرم ہو گا ان میں پیر، منگل، بدھ، جمعرات شامل ہیں جبکہ جس دوران صوبے میں مکمل ڈاو¿ن ہو گا ان میں جمعہ، ہفتہ اور اتوار کے دن شامل ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ نرمی کے دنوں میں ساری دکانیں اور بازار کھلے رہیں گے۔بڑے پلازے، شاپنگ سینٹر پورا ہفتہ بند رہیں گے، پنجاب میں نئے فیصلوں کا نوٹیفکیشن کچھ دیر میں جاری ہوگا۔فیاض الحسن چوہان کا کہنا تھا کہ رمضان کا مہینہ ہے کاروبار بھی چلانا ہے، ہم نے ریلیف دے کر معیشت کا پہیہ بھی چلانا ہے، چاردن ریلیف کے دوران ایس اوپیز پر عمل کرایا جائے گا، تین دن سختی ہوگی۔پنجاب حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ صوبے میں ہفتے میں صرف چار دن لاک ڈان میں نرمی ہو گی جبکہ تین دن مکمل لاک ڈان ہو گا۔تفصیلات کے مطابق پنجاب میں لاک ڈان کے حوالے سے صوبائی وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان کا بیان سامنے آیا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ پنجاب حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ ہفتے میں صرف چار دن لاک ڈان میں نرمی کی جائے گی جبکہ تین دن مکمل ڈان ہو گا۔صوبائی وزیر اطلاعات نے واضح کرتے ہوئے بتایا کہ جن چار دن میں لاک ڈان نرم ہو گا ان میں پیر، منگل، بدھ، جمعرات شامل ہیں جبکہ جس دوران صوبے میں مکمل ڈان ہو گا ان میں جمعہ، ہفتہ اور اتوار کے دن شام لہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ نرمی کے دنوں میں ساری دکانیں اور بازار کھلے رہیں گئے۔بڑے پلازے، شاپنگ سینٹر پورا ہفتہ بند رہیں گے، پنجاب میں نئے فیصلوں کا نوٹیفکیشن کچھ دیر میں جاری ہوگا۔نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے فیاض الحسن چوہان کا کہنا تھا کہ رمضان کا مہینہ ہے کاروباربھی چلانا ہے، ہم نے ریلیف دے کرمعیشت کا پہیہ بھی چلانا ہے، چاردن ریلیف کے دوران ایس اوپیزپرعمل کرایا جائے گا، تین دن سختی ہوگی۔دریں اثنا ذرائع کا کہنا ہے کہ پنجاب میں لاک ڈان میں نرمی کے سلسلے کے لیے ایس او پیز تیار کر لیے گئے ہیں، صوبے کے 6 بڑے شہروں میں کورونا پھیلاﺅ کے باعث لاک ڈاﺅن میں نرمی نہیں کی جائے گی۔ذرائع کے مطابق بڑے شہروں میں لاہور، فیصل آباد، ملتان، گوجرانولہ، راولپنڈی اور گجرات شامل ہیں۔ بڑے شہروں میں جزوی لاک ڈاﺅن بدستور جاری رہے گا۔ صوبے کے کم از کم 15 اضلاع میں کورونا کے کم پھیلا کے باعث لاک ڈاﺅن میں نرمی کی جائے گی۔زرائع کے مطابق لاک ڈاﺅن میں نرمی والے شہروں میں شیخوپورہ، ننکانہ صاحب، ساہیوال، اوکاڑہ، ناروال، حافظ آ باد، جہلم، خوشاب، بہاولپور، بہاولنگر، لیہ، مظفرگڑھ، وہاڑی اور لودھراں سمیت دیگر اضلاع شامل۔ ہیں۔ذرائع کے مطابق لاک ڈاﺅن میں نرمی 18 مئی تک ہو گی۔ 18 مئی تک لاک ڈاﺅن میں نرمی والے اضلاع میں کورونا وبا کے پھیلاﺅ کا ازسرنو جائزہ لیا جائے گا۔ لاک ڈاﺅن میں نرمی کے باعث ان اضلاع میں چھوٹی مارکیٹیں کھولنے کی اجازت ہو گی۔ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ لاک ڈاﺅن میں نرمی کئے جانے والے اضلاع میں مارکیٹوں کا اوقات کار فجر سے شام پانچ بجے تک ہو گا۔ وبا کے کم پھیلاﺅ کی صورت میں ان اضلاع میں مارکیٹوں کو کھولنے میں مزید سہولیات دی جائیں گی۔لاہور میں لاک ڈاﺅن جاری رکھنے کیلئے الگ سے پالیسی تشکیل دی جائے گی، پنجاب میں کورونا کے سب سے زیادہ کیس لاہور میں رپورٹ ہوئے، لاہور میں لاک ڈاﺅن عید تک برقرار رکھنے پر بھی غور کیا جائے گا۔خیال رہے اس سے قبل وزیراعظم عمران خان نے لاک ڈان بتدریج کھولنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ 26 فروری کو ملک میں کورونا کا پہلا کیس سامنے آیا، ساری دنیا کی طرح پاکستان نے بھی لاک ڈان کیا، کورونا وائرس بڑی تیزی سے پھیلتا ہے، خوف تھا لاک ڈان سے دیہاڑی دار طبقہ متاثر ہوگا، لاک ڈان سے عوام کو مشکلات درپیش تھیں۔عمران خان کا کہنا تھا دنیا میں ایک دن میں ہزاروں لوگ مر رہے تھے، اللہ کا کرم ہے پاکستان پر دیگر ممالک کی طرح دبا نہیں پڑا، ہم نے اب آسانیاں پیدا کرنی ہیں، اموات میں اضافہ ہو رہا ہے جس کا علم تھا، خدشہ تھا ہسپتالوں میں جگہ نہ کم پڑ جائے، ابھی یہ نہیں کہہ سکتے وائرس کب زیادہ پھیل سکتا ہے، مزدور، دیہاڑی دار، سفید پوش مشکل میں ہیں، اس وقت تمام شعبے مشکل میں ہیں۔وزیراعظم نے کہا جرمن چانسلر نے کہا ان کے عوام نے ذمہ داری لی ہے، سب کو حکومت سے مل کر کام کرنا پڑے گا، کیا لوگوں کو پکڑ پکڑ کر جیلوں میں ڈالیں گے ؟ وائرس تیزی سے پھیلا تو دوبارہ لاک ڈان کرنا پڑے گا، لاک ڈان کے اثرات سے بچنے کیلئے ایس او پیز پر عمل کرنا ہوگا، ایک قوم بن کر اگلے فیز میں جائیں گے، صوبوں کو پبلک ٹرانسپورٹ کھولنے پر تحفظات ہیں، میرے خیال میں پبلک ٹرانسپورٹ چلنی چاہیئے، میں سمجھتا ہوں پبلک ٹرانسپورٹ سے عام آدمی کو فائدہ ہوگا، کوئی بھی فیصلہ صوبوں کے بغیر نہیں ہوگا، پبلک ٹرانسپورٹ ایس او پیز کے تحت کھولنی چاہیئے، لوگوں کو سیلف کورنٹائن کی طرف جانا ہوگا۔

کورونا وائرس: روبوٹک کتے سماجی فاصلے کا پیغام دینے کیلئے تیار

لاہور: (خبریں،ویب ڈیسک) کورونا وائرس نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے اور وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے حفاظتی اقدامات پر سختی سے عمل کیا جا رہا ہے اور اس حوالے سے مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ سنگاپور میں بھی حکام نے احتیاطی تدابیر پر عمل کرانے کے لیے پارکس میں روبوٹک کتے تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو کورونا وائرس پھیلنے سے روکنے کے لیے سماجی فاصلہ برقرار رکھنے کی اہمیت کو ا?جاگر کریں گے۔ ان روبوٹس کے ذریعے لوگوں میں سماجی فاصلہ برقرار رکھنے کا پیغام دیا جائے گا۔ رپورٹ کے مطابق ابتدائی طور پر ایک پارک میں یہ روبوٹک کتا تعینات کیا جائے گا اور کامیابی کی صورت میں اس پروگرام کو مزید بڑھایا جائے گا۔|

میدان میں گری ہوئی ٹیم کو اٹھانا وکٹ کیپر کی ذمہ داری ہے،معین خان

(ویب ڈیسک)قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور وکٹ کیپر معین خان کا کہنا ہے کہ میدان میں گری ہوئی ٹیم کو اٹھانا وکٹ کیپر کی ذمہ داری ہے، اپنی محنت میں تسلسل نہ لاتا تو راشد لطیف جیسے باصلاحیت وکٹ کیپر کا مقابلہ کبھی نہ کرسکتا۔پاکستان کرکٹ بورڈ(پی سی بی) کی جانب سے وکٹ کیپرز کے لیے منعقدہ آن لائن ویڈیو سیشنز میں سابق کپتان معین خان نے سرفراز احمد، محمد رضوان اور انڈر 19 کرکٹ ٹیم کے کپتان اور وکٹ کیپر روحیل نذیر کو مشورے دیے۔وکٹ کیپرز سے اپنے خطاب میں معین خان نے وکٹ کیپرکےکردار پر اہمیت دیتے ہوئے کہا کہ کرکٹ کے میدان میں گری ہوئی ٹیم کو اٹھانا اس کے وکٹ کیپر کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ میچ کے دوران اگر بولرز کی پٹائی لگ رہی ہو تو بطور وکٹ کیپر آپ کو دیگر فیلڈرز کے ساتھ مزاق یا تفریح کرنی چاہیے تا کہ کھلاڑی دباو¿ کا شکار نہ ہوں۔معین خان نے موجودہ وکٹ کیپرز کو اپنے بولرز سے ربط بڑھانے کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ وہ وکٹ کے پیچھے کھڑے ہوکر وسیم اکرم اور شاہد آفریدی کے آنکھوں کے اشارے پڑھ لیا کرتے تھے، معین خان نے کہا کہ دونوں بولرز کے ساتھ مل کرانہوں نے کئی معروف بلے بازوں کو پویلین کی راہ دکھائی۔معین خان نے کہا کہ 1990 کی دہائی میں راشد لطیف جیسے باصلاحیت وکٹ کیپر سے مقابلہ کرنا بہت مشکل تھا مگر انہوں نے الزام تراشی یا حیلے بہانے ڈھونڈنے کے بجائے خوداحتسابی پر اعتماد کیا اور یہی وجہ ہے کہ وہ آج بھی پاکستان کی جانب سے سب سے زیادہ ایک روزہ میچز کھیلنے والے وکٹ کیپر ہیں۔سابق کرکٹر نے کہا کہ وہ سخت محنت اور ذہنی مضبوطی کے لیے فٹبال اور اسکواش کھیلنے کے علاوہ جاگنگ کیا کرتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ وہ سلیم یوسف اور این ہیلی سے بہت متاثر تھے اور انہی کی طرح اچھا وکٹ کیپر بیٹسمین بننے کی کوشش کرتے تھے۔خیال رہے کہ معین خان کا 14 سالہ کیریئر 1990 سے 2004 تک محیط تھا جس میں انہوں نے 69 ٹیسٹ میچوں میں 2 ہزار 741 رنز بنانے کے ساتھ ساتھ وکٹوں کے پیچھے 148 شکار کیے جب کہ انہوں نے 219 ایک روزہ میچوں میں 3 ہزار 266 رنز بنائے اور وکٹوں کے پیچھے 287 شکار کیے۔