جسمانی نظام کو کینسر ختم کرنے کے قابل بنانے والی ویکسین کے حوصلہ افزا تجربات

نیویارک (ویب ڈیسک ) کینسر کے علاج میں امیونوتھراپی ایک نیا ابھرتا ہوا علاج ہے۔ اب سائنسدانوں نے اس ضمن میں ایک نیا طریقہ وضع کیا ہے جس میں ٹیکے کے ذریعے مریض کے اندرکچھ رسولیاں داخل کی جاتی ہیں جن میں تحریک دینے والے بعض کیمیکلز بھی ہوتےہیں۔اس تجرباتی طریقے میں جسم کا اندرونی دفاعی (امنیاتی) نظام بیدارہوجاتا ہے اور آگے بڑھ کے سرطانی لوتھڑوں کو تباہ کرنا شروع کردیتا ہے۔ایک طرح کے کینسر’نان یاجکنز لمفوما‘ کے علاج میں حوصلہ افزا رپورٹ ملی ہے جبکہ دیگر سخت جان کینسر پر اس ویکسین کی آزمائش جاری ہے۔ اس طرح خود سرطانی رسولیاں بھی ’کینسر ویکسین فیکٹریوں‘ میں تبدیل ہوجاتی ہیں کیونکہ اس عمل میں جسم کے دفاعی خلیات کینسر والی جگہوں پر خود جاکرحملہ کرتے ہیں جسے طب کی زبان میں ’ان سیٹو ویکسینیشن‘ کہا جاتا ہے۔
یہ تحقیق نیویارک میں واقع ماو¿نٹ سینائی ہسپتال کے سائنسدانوں نے کی ہے جس میں ٹی سیل ازخود کینسر کے خلیات کو تباہ کرتےہیں۔ کاغذات میں تو خون کے سفید خلیات کینسر کو تباہ کرسکتے ہیں اور یہ ہونا بھی چاہیئے لیکن ان خلیات کو کیمیائی طور پر مسلح کرنا ہوتا ہے۔ تاہم ٹی سیل کو سرطانی سیلز کی شناخت کے قابل بنانا اتنا ا?سان ہرگز نہیں۔
سرطانی رسولیاں بہت چالاک ہوتی ہیں وہ خود کو ایک طریقے سے چھپاکررکھتی ہیں جنہیں چیک پوائنٹ بلاک ایڈ کہا جاتا ہے۔ جیسے ہی امنیاتی خلیات اسے مشکوک سمجھتے ہوئے اس کے پاس ا?تے ہیں تویہ چالاک سرطانی خلیے اسے کہتے ہیں کہ یہ تو اچھا لیکن بوڑھا خلیہ ہے ا?پ کی مہربانی ا?پ یہاں سے چلے جائیں۔
لیکن چیک پوائنٹ کی رکاوٹ ہر قسم کے سرطان میں کام نہیں کرتی جن میں سے ایک انڈولینٹ نان ہاجکنز لمفوما ( ا?ئی این ایچ ایل) بھی ہے لیکن یہاں بدقسمتی سے ٹی سیلز (امنیاتی خلیات) اس قسم کے سرطان کو پہچاننے میں کمزور واقع ہوئے ہیں۔ اب ماو¿نٹ سینائی کے ماہرین نے سرجوڑ کر غور کیا کہ کس طرح ٹی سیلز کو کینسر کا شکاری بنایا جائے۔
انہوں نے کراس پریزنٹیشن نامی ایک تکنیک پر کام کیا جس سے ٹی سیل سرطانی خلیات کو شناخت کرنے لگے اور انہوں نے دیگر امنیاتی نظام کو بھی اس سے ا?گاہ کیا۔ اگلے مرحلے میں 11 مریضوں پر یہ ویکسین ا?زمائی گئی اورتمام مریض ا?ئی این ایچ ایل کے اگلے درجوں پر جاچکے تھے۔ رسولی کو تباہ کرنے والے ٹی سیلز نے بہت مو¿ثر انداز میں سرطان کو ختم کیا اور کئی مقامات سے کینسر غائب ہوگیا۔

چین عمران خان کے دورے کا منتظر : چینی سفیر

اسلام آباد (نامہ نگار خصوصی) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ سی پیک سے پورے خطے میں مواقعوں کی نئی راہیں کھلیں گی۔ وزیراعظم عمران خان سے سی پیک پر کام کرنے والی چینی کمپنیوں کے نمائندوں نے ملاقات کی۔اس موقع پر چینی سفیریاﺅجنگ بھی موجود تھے ۔ملاقات کے دوران چینی سفیر نے وزیراعظم پاکستان کو چینی صدر کا نیک خواہشات کا پیغام پہنچایا۔سفیر نے کہا کہ چین کے صدر وزیراعظم عمران خان کے دورہ چین کے منتظر ہیں۔چینی سفیرنے چینی سرمایہ کاروں کو سہولیات فراہمی پر وزیراعظم کا ذاتی دلچسپی لینے پر شکریہ ادا کیا۔چینی سفیر یاﺅجنگ کا کہنا تھا کہ چینی کمپنیاں پاکستان کی سماجی و اقتصادی ترقی کے لیے حصہ ڈالتی رہیں گی۔اس موقع پر وزیراعظم کا کہنا تھا کہ حکومت سی پیک منصوبے کو اولین ترجیح دیتی ہے، حکومت چینی کمپنیوں کو منافع بخش کاروبار کے لیے ہر ممکن سہولت فراہم کرے گی۔وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ سی پیک سے پورے خطے میں مواقعوں کی نئی راہیں کھلیں گی۔ وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ محدود وقت میں کثیر تعداد کو غربت کے دائرے سے نکالنے کا چین کا کامیاب تجربہ قابل تقلید ہے، حکومت استفادہ کر نا چاہتی ہے ، سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبے میں چین کی بے مثال ترقی کو مدنظر رکھتے ہوئے تعاون کا فروغ دورے کا اہم مقصد ہے، آٹھ بڑے شعبوں بشمول مائننگ، ہائی سپیڈ ریلوے ، مینوفیکچرنگ، ایگریکلچر وغیرہ میں دوطرفہ تعاون کو مزید فروغ دینے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔جمعرات کو وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت دورہ چین کے حوالے سے اعلیٰ سطحی اجلاس ہوا جس میں وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی، وزیرِ اطلاعات چوہدری فواد حسین، وزیر برائے فوڈ سیکیورٹی صاحبزادہ محمد محبوب سلطان، وزیرِ برائے ایجوکیشن شفقت محمود، وزیرِ ریلوے شیخ رشید احمد، وزیرتوانائی عمر ایوب خان، چئیرمین ٹاسک فورس برائے سائنس و ٹیکنالوجی ڈاکٹر عطاءالرحمن و دیگر افسران نے شرکت کی ۔اجلاس میں وزیرِ اعظم کے آئندہ دورہ چین کے دوران دونوں ملکوں کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے کے سلسلے میں کی جانے والی تیاریوں کا جائزہ لیا ۔ وزیر اعظم نے کہاکہ سی پیک ون محض چند پاور پلانٹس اور تین سڑکوں پر مشتمل تھا جبکہ موجودہ حکومت کے دور میں سی پیک کے دوسرے مرحلے میں زراعت، تعلیم، صحت، پانی کے منصوبوں، فنی تعلیم و اسکل ڈویلپمنٹ، ٹرانسپورٹ ، مین لائن 1-کی اپ گریڈیشن و دیگر اہم منصوبے شامل ہیں۔وزیرِ اعظم نے کہاکہ ایک محدود وقت میں کثیر تعداد کو غربت کے دائرے سے نکالنے کا چین کا کامیاب تجربہ قابلِ تقلید ہے،حکومت غربت کے خاتمے کے لئے چین کے کامیاب تجربے سے استفادہ کرنا چاہتی ہے ۔وزیراعظم نے کہاکہ زراعت ، صنعت و دیگر شعبوں میں چین کی مہارت سے سیکھنا چاہتے ہیں۔وزیرِ اعظم نے کہاکہ سی پیک منصوبہ نہ صرف حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے بلکہ ہم اس منصوبے کا دائرہ کار مزید وسیع کرنا چاہتے ہیں تاکہ دیگر ممالک بھی اس اہم منصوبے کا حصہ بنیں اور خطے میں تعمیر و ترقی کا نیا باب روشن ہو۔ انہوںنے کہاکہ سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبے میں چین کی بے مثال ترقی کو مدنظر رکھتے ہوئے اس شعبے میں تعاون کا فروغ دورے کا اہم مقصد ہے، کوشش ہے کہ کم از کم بیس ہزار پاکستانی طلبہ کے وظائف اور انکی چین میں جدید علوم میں تعلیم حاصل کرنے کی راہ ہموار ہو سکے۔ وزیرِ اعظم نے کہاکہ آٹھ بڑے شعبوں بشمول مائننگ، ہائی سپیڈ ریلوے ، مینوفیکچرنگ، ایگریکلچر وغیرہ میں دوطرفہ تعاون کو مزید فروغ دینے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے تاکہ جہاں ان جدید شعبوں چینی مہارت سے استفادہ کیا جاسکے وہاں ٹیکنالوجی ٹرانسفر بھی عمل میں آئے۔

محنت کش کی زمین ہتھیانے کیلئے خاندان کے 6 افراد کیخلاف مقدمات ، متاثرہ خاندان داد رسی کیلئے خبریں آفس پہنچ گیا

لاہور (خصوصی ر پورٹر) ننکانہ پو لیس تھانہ منڈی فیض آبا دکا مبینہ طو ر پر مقامی بااثر افرا د کے کہنے پر محنت کش کی زمین ہتھیانے کی خا طر ایک ہی خاندا د نے 6افرا د کے خلا ف مذکو ر ہ تھا نہ 6مقد ما ت در ج کر لئے ۔ پو لیس کی جا نب سے انصاف نہ ملنے پر متا ثر ہ خا ندان خبریں آفس دادرسی کے لئے پہنچ گیا ۔ متا ثر ہ شخص محمد امین کا کہنا ہے کہ منڈ ی فیض آبا د کی پو لیس مقامی قبضہ گرو پ کے کہنے پر مقابلے میں مارنے کی دھمکیاں د یتے ہیں اور رات کے وقت چھاپے کے بہانے پولیس اہلکار خواتین کو حراساں کرتے ہیں ، متا ثر ین کا الزا م ہے کہ پو لیس عورتوںکو تھانے لے جا کر برہنہ کر کے مار پیٹ کرتے ہیں ، مدعی اور تفتیشی آپس میں رشتہ دار ہیں ،بتایا گیا ہے کہ ضلع ننکانہ تھانہ منڈی فیض آبا د کے علاقے ٹانہ کمیارانولہ میں بااثر افراد کی جانب سے غریب خاندان پر ظلم کی انتہا کردی ۔متا ثرہ محمد امین کا کہنا ہے کہ اس کے 6بیٹوں کے خلاف پو لیس نے جھوٹے مقدمات در ج کر رہی ہے اور الزا م عا ئد کیا ہے کہ پو لیس نے ان کے ایک ر شتہ دا ر کو اغوا بھی کر رکھا ہے جس کا تاحال کوئی پتا نہیں ۔ محمد امین کے خاندان کے د یگر افرا د محمد یسین ، سلیم حسین ، مشتاق احمد ، محمد اظہر اور محمد امین نے خبریں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پولیس نے ان کے گھر تلاشی کے بہانے 1لاکھ 40 ہزار روپے بھی لے لیے ہیں جو واپس نہیں کر رہے بلکہ الٹا انہیں 5لاکھ روپے کی ڈیمانڈ کر رہے ہیں ۔ گھروں کی تلاشی کے دوران ظلم کی تمام حدیں پا رکرتے ہوئے پو لیس ان کی خواتین کو حراساں کرتی ہے اور ان کی عزتوں کو پامال کرتی ہے اور چھوٹے بچوں کو بھی تشد د کا نشانہ بنایا گیا ہے ۔ متا ثر ین کا کہنا ہے کہ ان کے گھروں اور زمینوںپر پولیس نے با اثر افراد کا قبضہ کروا رکھا ہے ۔ اگر وہ پولیس اور قبضہ مافیا کے خلاف آوزاٹھاتے ہیں تو پولیس ان کو جعلی مقابلے میں مارنے کی دھمکیاں دیتی ہے ۔ متا ثر ہ خاندان کے افراد کاوزیر اعظم پاکستان عمران خان اور وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار سے انصاف کی اپیل کی ہے ۔ اس حوالے سے ننکا نہ پو لیس کا کہنا ہے کہ الزا ما ت بے بنیاد ہیں تمام مقد ما ت میرٹ پر در ج ہیں جن کی تفتیش جا ر ی ہے ۔

واجپائی کشمیر کا حل انسانیت کے دائرہ میں رہ کر کرنا چاہتے تھے:ویدپرتاب ، بھارت کیساتھ نرمی سے بات نہ کی جائے: شاہد لطیف، بھارتی مظالم دنیا بھر میں اجاگر کئے جائیں:مشعال ملک ، چھوٹے مجرموں کو بھی توجہ دی جائے:افتخار احمد،حنیف عباسی کی رہائی پر خوشی ہے : چوہدری منظورکی چینل ۵ کے پروگرام ” نیوز ایٹ 7 “ میں گفتگو

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) ایئر مارشل ر شاہد لطیف نے کہا کہ ہم نے بھارت کو ہمیشہ چھوٹ دی کہ مذاکرات کے نام پر ہم ہی بھارت کے سامنے بچھے چلے جاتے ہیں۔موجودہ حالات میں اگر ہمیں بھارت کی جانب سے کوئی اشارہ نہیں تو ہمیں بھی ایسی با ت کرنے کی ضرورت نہیں۔ چینل فائیو کے پروگرام نیوز ایٹ سیون میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کا مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے مودی کے حوالے سے بیان عقلمدانہ نہیں۔بھارت کشمیر کے مسئلے کو حل نہیں کرنا چاہتا۔کشمیر با رے بھارت نے ایک سٹینڈ لے رکھا ہے ۔مودی حکومت نے کشمیر میں بہت درندگی کا مظاہرہ کیا۔بھارتی صحافی ڈاکٹر وید پرتاب ویدک نے کہا کہ مشرف دور میں بھارتی وزیراعظم واجپائی نے بہت ہی اچھا نعرہ دیا تھا کہ ہم کشمیر کا حل انسانیت کے دائرے میں کرنا چاہتے ہیں۔اس سے قبل نرسیما راﺅ نے بھی بات چیت سے کشمیر کا مسئلہ حل کرنے کی بات کی تھی۔اس وقت بھارت میں جو بھی پاکستاان کے خلاف زیادہ بولے گا اسے بھارت میں زیادہ ووٹ ملیں گے۔ہو سکتا ہے عمران خان کے بیان سے مودی کو فائدہ ہو سکتا ہے بتو تقصان ہو جائے۔آرٹیکل 370محض ایک کھوکھلا آرٹیکل ہے کئی بار سبوتاژ ہو چکا ہے۔حریت رہنما مشعال ملک نے کہا کہ بھارت تو بات کرنے کو تیار ہی نہیں اس کی طرف سے صاف انکار ہے۔میں ایک پاکستانی ہوں ایک کشمیری حریت رہنما سے شادی کی ہے لہذا میں کشمیری بھی ہوں۔میرے شوہر یاسین ملک کو گرفتار کر کے تہاڑ جیل رکھا گیا ہے جہاں ان کی جان کو بہت خطرہ ہے۔میں اپیل کرتی ہوں پاکستانی حکومت میرے شوہر کا کیس عالمی عدالت میں لے کر جائے۔بھارت کشمیر میں جو ظلم کر رہا ہے پاکستان اسے دنیا میں اجاگر کرے۔تجزیہ کار افتخار احمد نے کہا کہ جیلوں میں اور بھی ہزاروں قیدی ہیں ان کی جانب بھی توجہ دینی چاہئے۔مشال کیس میں کچھ کو سزا ہوئی کچھ بری ہو گئے۔آخر کس کو مثال بنائی جائے کس کی بات کی جائے۔اگر موجودہ حکومت کو گرانے کی کوشش کی گئی تو یہ بڑی حماقت ہو گی ملکی موجودہ معاشی صورتحال میں کوئی بھی پارٹی ایسی غلطی کرنے کی کوشش نہیں کرے گی۔پیپلز پارٹی کے رہنما چوہدری منظور نے حنیف عباسی کی رہائی کے حوالے سے کہا کہ اگر کوئی جیل سے رہا ہوتا ہے ہمیں خوشی ہوتی ہے یہ روٹین کے معاملات ہیں ڈیل والی کوئی بات نہیں۔موجودہ حکومت نے کوئی بھی وعدہ پورا نہیں کیا۔بجٹ میں حکومت کوئی مشترکہ حکمت عملی اپنا سکتی ہے۔حکومت عوام کو ریلیف دینے میں ناکام رہی۔

پاکستان کرکٹ بورڈ میں تبدیلیوں کی ہوا چل پڑی

لاہور(آئی این پی)پاکستان کرکٹ بورڈ(پی سی بی) میں تبدیلیوں کی لہر چل پڑی ہے۔سینئر جنرل منیجر مارکیٹنگ صہیب شیخ اور جنرل منیجر مارکیٹنگ کامل خان نے بھی استعفیٰ دیدیا، پی ایس ایل 5کیلئے نئے چہرے سرگرم نظر آئیں گے، ڈائریکٹر سیکیورٹی اینڈ ویجیلینس کرنل ریٹائرڈ اعظم بھی پی سی بی کو چھوڑ دینے والوں میں شامل ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ احسان مانی بتدریج پی سی بی میں تبدیلیاں لاتے ہوئے نئی انتظامی ٹیم متعارف کروانے کے لیے کام کر رہے ہیں، آئندہ چند روز میں مزید عہدیداروں کی رخصتی کا امکان ہے۔یاد رہے کہ سابق چیئرمین پی سی بی نجم سیٹھی کے قریبی ساتھیوں میں شمار ہونے والی ڈائریکٹر مارکیٹنگ نائلہ بھٹی پی ایس ایل4 شروع ہونے سے پہلے ہی رخصت ہو گئی تھیں۔واضح رہے اس سے قبل کرکٹ کمیٹی کے حوالے سے بھی خبریں گردش میں ہیں۔ چار ماہ سے کوئی اجلاس نہیں ہوا۔پی سی بی نے گذشتہ برس اکتوبر میں سابق ٹیسٹ اوپنر محسن خان کی زیرسربراہی کرکٹ کمیٹی قائم کی تھی، اس کے ارکان وسیم اکرم، مصباح الحق اور عروج ممتاز تھے، کمیٹی کی ذمہ داریوں میں ڈومیسٹک کرکٹ کی پچز اور گیندوں کا جائزہ لے کر سفارشات دینا، گریڈ لیول و ویمنز کرکٹ کے معاملات دیکھنا اور قومی سلیکٹرز و کوچز کی پرفارمنس کا جائزہ لینا شامل تھا، یہ کمیٹی ابتدا میں ہی تنازع کا شکار ہو گئی۔

کرپٹ عناصر کو ریلیف ملنے سے نظام عدل پر سوال اٹھنے لگے : معروف صحافی ضیا شاہد کی چینل ۵ کے پروگرام ” ضیا شاہد کے ساتھ “ میں گفتگو

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں و تبصروں پرمشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ آصف زرداری حکومت کے خاتمے کے لئے اس لئے تُلے ہوئے ہیں کہ ان کو نظر آ رہا ہے اگر یہ حکومت برقرار رہتی ہے تو انہیں نظر نہیں آ رہا کہ وہ اس مصیبت سے جان چھڑا سکیں یعنی منی لانڈرنگ کے ان پر الزامات لگ چکے ہیں جتنے ثبوت سامنے آ چکے ہیں۔ جتنے لوگ اقرار کر چکے ہیں اب تو وعدہ معاف گواہ بھی بننے لگے ہیں لہٰذا ان کے پاس اس کے سوا چارہ کار نہیں ہے کہ جب تک عمران خان کی حکومت قائم ہے اس وقت تک ان کو بچنے کا راستہ نظر نہیں آ رہا لہٰذا وہ دن رات اس بات پر تلے ہوئے ہیں اور ڈوبتے کو تنکے کا سہارا جس طرح سے کہا جاتا ہے جس طرح جو تنہا ہے وہ کافی وزنی ہے مولانا فضل الرحمن ان کے کسی بھی اسمبلی میں ان کی سیٹ نہیں لیکن بہر حال وہ سیاستدان ہیں اس کام میں ماسٹر سمجھے جاتے ہیں کہ وہ چھوٹے چھوٹے عناصر کو ملا کر وہ کوئی بڑی فورس تیار کر سکتے ہیں لہوذا اب سمجھا جا رہا ہے کہ نوازشریف کے لئے خطرہ ہے عمران خان کی حکومت اور آصف زرداری کے اقتدار کے لئے عمران خان خطرہ ہے اس لئے دونوں کا اشتراک اس پر ہے کہ کس طرح اس وقت کا خاتمہ کیا جائے۔ فضل الرحمان کوشش کریں گے کہ ظاہر ہے کوشش ہی کی جا سکتی ہے لگتا یہی ہے کہ ایک نہ ایک دن جس طرح سے کہا جاتا ہے رمصان المبارک کے بعد کہا جاتا ہے تحریک چلائیں گے حکومت کے خلاف اس وقت تک ہو سکتا ہے نوازشریف بھی اس کے لئے تیار ہو جائیں فی الحال تو وہ کھل کر بات کرنے کو تیار نہیں ہیں سنا ہے درپردہ ان کی ڈیل بھی چل رہی ہے۔ آصف زرداری اور نوازشریف دونوں کی اس میں جان چھوٹتی ہے اگر موجودہ حکومت کا خاتمہ کیا جائے۔
حنیف عباسی کی ضمانت پر بات کرتے ہوئے ضیا شاہد نے کہا کہ معلوم یہی ہوتا ہے آہستہ آہستہ سارے باہر آ جائیں گے سمجھ میں نہیں آتا کہ انصاف کا جو نظام ہے وہ کس طرح منطقی انجام کی طرف بڑھ رہا ہے چونکہ ایک طرف کہا جاتا ہے کہ جو بھی کوئی غلط کام کرے گا اس کو بالآخر پکڑ لیا جائے گا لیکن آہستہ آہستہ لوگ نکلتے جا رہے ہیں۔ لوگوں کے بچاﺅ کے راستے نظر آ رہے ہیں اور مختلف قسم کی عدالتی نظام میں بھی ان کے لئے سہولتیں ہیں لگتا نہیں ہے۔ عمران خان کہتے ضرور ہیں بالآخر زرداری صاحب کا ٹھکانہ جو ہے وہ جیل ہے لیکن بظاہر تو اس کی بھی کوئی صورت نظر نہیں آتی۔ کیونکہ عبوری ضمانت ان کی منظور ہوتی جا رہی ہے۔ میں تو یہ سمجھتا ہوں کہ بظاہر یہی دکھائی دیتا ہے کہ ہر طریقے سے جن کو جیل میں ہونا چاہئے تھا وہ باہر ہیں۔ اپوزیشن کوشش تو کر رہی ہے۔ رمضان المبارک میں کوئی تحریک نہیں چلتی روزہ رکھ کر کوئی دھوپ میں باہر نہیں نکلتا۔ عید کے بعد شاید کوئی موومنٹ بن سکے بظاہر تو اس کے بھی چانسز نظر نہیں آ رہے۔ پاکستان کے عوام کو سوائے اس کے کوئی کام نہیں ہے کہ ہر کرپٹ آدمی کو چومے اور کندھوں پر سوار کرے اور پھر اس کے نعرے لگائے لگتا یہی ہے پیسے ہونے چاہئیں آدمی کے پاس اور اگر وہ پیسہ خرچ کر سکتا ہے۔ پاکستان میں ایسا کیو ںہے ہر شخص جو جرم کا مرتکب ہوتا ہے لوگ اس کو سر آنکھوں پر بٹھائے اور اس پر گل پاشی کرتے ہیں پھر اگر اس کی ضمانت ہوتی ہے یا سہولت ملتی ہے تو لوگ اس پر خوشیاں مناتے ہیں۔ کیا پاکستان کے لوگ لوٹ مار کرنے والوں کو پسند کرتے ہیں۔ ان کو ہیرو سمجھتے ہیں۔ اس کا وطیرہ یہی ہو گا۔ جو لوگ قانون کو توڑیں گے ان کو ہیرو سمجھا جائے گا۔ اس ملک کے جتنے ہیرو ہیں وہ بدمعاش کیوں ہیں۔ نظام انصاف میں کمی ضرور ہے۔ ثابت یہ ہوتا ہے ایفی ڈرین منگواتے ہیں وہ ٹھیک ہی کر رہے ہیں۔ گھوٹکی کی دو لڑکیوں نے اپنی مرضی سے اسلام قبول کیا کو شوہروں کے ساتھ رہنے کی اجازت مل گئی ہے جہاں تک اعداد و شمار کا تعلق ہے ایک لڑکی کی عمر 18 سال دوسری کی 19 سال ہے۔ دونوں عاقل ہیں اور مرضی سے مذہب قبول کیا ہے اب یہ بھی ثابت ہو گا ہے ان پر جبر یا تشدد نہیں برتا گیا اب وہ اپنے گھروں میں خوش ہیں۔ وہ جو کہتے ہیں کہ میاں بیوی راضی تو کیا کرے گا قاضی۔ پاکستان میں اقلیتوں کے حالات کافی بہتر ہیں۔ عبدالعلیم خان صاحب کے جوڈیشل ریمانڈ میں 20 اپریل تک توسیع کے حوالہ سے بات کرتے ہوئے ضیا شاہد نے کہا کہ تفتیش کے لئے یقینا وقت چاہئے غیر متعین وقت تو نہیں چاہتے۔ نیب کے قوانین میں بہت ساری ایسی چیزیں ہیں جن پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔ ایک مدت مقرر کرنی پڑے گی کہ اس عرصہ میں کیس کا فیصلہ ضرور ہو جائے گا۔
نیب کی تفتیش کے لئے وقت ضرور درکار ہوتا ہے تاہم سالوں کا وقت تو نہیں دیا جا سکتا، نیب کی تفتیش کے طریق کار کے معاملات پر نظر ثانی کی ضرورت ہے، مختلف جرائم کی نوعیت کے لحاظ سے ایک خاص وقت مقرر ہونا چاہئے تا کہ کیسز منطقی انجام تک پہنچ سکیں سلہا سال تک تفتیش جاری نہیں رہنی چاہئے۔
مستعفی ہونے والے ایڈووکیٹ جنرل احمد اویس بڑی اچھی شخصیت کے مالک معزز خاندان سے تعلق رکھتے ہیں ہمارے دوست حمید گل مرحوم کے داماد ہیں، اگر انہوں نے مرضی سے استعفیٰ دیا ہے تو کوئی ہرج نہیں ہے اور اسے ایشو نہیں بنانا چاہئے۔ مقبوضہ کشمیر میں اب تک کی اطلاعات کے مطابق بھارتی الیکشن کا بائیکاٹ کیا گیا ہے ٹرن آﺅٹ 10 فیصد تک بھی نہیں پہنچ سکا۔ بی جے پی اس الیکشن میں ماضی جیسی اکثریت لینے میں کامیاب نہیں ہو سکے گی کیونکہ وہاں اپوزیشن بھی متحد ہے، فنکار برادری، ادیب، شعراءتک مودی کیخلاف ہیں۔ مودی کو اترپردیش گجرات سے بھی اتنی بڑی کامیابی نہی ںملے گی جتنی پہلے ملتی رہی ہے۔ بھارت کی پروپیگنڈا وار میں دنیا میں بری طرح شکست ہوئی ہے پاکستان کے خلاف جارحیت کے بعد اس نے جو جھوٹ بولے جتنے دعوے کئے وہ سب غلط ثابت ہوئے ہیں۔ برطانیہ اور امریکہ کے بڑے اخبارات اور میڈیا تک نے بھارتی پروپیگنڈے کو جھوٹ قرار دیا جس سے مودی سرکار کے دعوﺅں کی قلعی کھل گئی بھارتی افسران تو سوالوں کا جواب دینے کے بجائے پریس کانفرنس چھوڑ کر بھاگ نکلے تھے۔ ان تمام عوامل کو دیکھتے ہوئے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ نریندر مودی کو مشکلات کا سامنا ہو گا۔

آئی سی سی ٹیسٹ ،لنکن ٹیم نے پاکستان میں کھیلنے کی حامی بھر لی

لاہور(آن لائن) پاکستان میں انٹرنیشنل ٹیسٹ کی واپسی۔ پاکستان میں کئی سالوں بعد انٹرنیشنل ٹیسٹ کرکٹ واپس آ رہی ہے۔ ورلڈ ٹیسٹ لیگ کے میچز کی میزبانی لاہور اور کراچی کریں گے۔ سری لنکا نے چیمپئین شپ کے 2 میچز پاکستان میں آ کر کھیلنے کی حامی بھر لی۔ بنگلہ دیش کی ٹیم کے پاکستان آنے کے لیے پاکستان حکومت کے بنگلا دیش حکومت کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں۔ورلڈ ٹیسٹ لیگ میں 9 ممالک کی ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں۔ورلڈ ٹیسٹ لیگ کی چیمپئین شپ 2020 میں کھیلی جائے گی جبکہ دوسری چیمپئین شپ 2021 میں کھیلی جائے گی جس میں 2 ٹاپ ٹیمیں فائنل کھیلیں گی۔ پاکستان میں کئی سال سے ٹیسٹ کرکٹ بند ہے جس کی وجہ پاکستان کی سیکیورٹی صورتحال تھی لیکن اب پاک فوج کے دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کے بعد ملک کی صورتحال بالکل ٹھیک ہے اور امن قائم ہو چکا ہے جس کے بعد اب پاکستان میں انٹر نیشنل کرکٹ بحال ہو رہی ہے جس میں سب سے پہلے ورلڈ ٹیسٹ چیمپئین شپ کے 2 میچز کھیلے جائیں گے جبکہ مزید میچز پاکستان میں کروانے کے لیے پاکستان حکومت کی بنگلا دیش کے ساتھ بات چیت جاری ہے۔ میچز لاہور اور کراچی میں کھیلے جائیں گے۔

پلوامہ واقعہ کے بعد پاک فوج اور حکومت ایک پیج پر ہیں: خورشیدقصوری ، کیاسانحہ ماڈل ٹاﺅن میں شہید لوگوں کو بھی انصاف ملے گا؟: عبدالباسط ، عدالتیں شک کا فائدہ دیکر ملزموں کو بری کررہی ہیں:سیف الرحمان ، ہمیں کشمیر بارے اپنی خارجہ پالیسی بہتر کرنا ہوگی: طارق ممتاز ، چینل ۵ کے پروگرام ” کالم نگار “ میں گفتگو

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) سابق وزیرخارجہ خورشید محمود قصوری نے کہا ہے کہ پلواما کے بعد پاک فوج اور پاکستان کی سول حکومت ایک پیج پر نظر آئے کشمیر پر پاکستان اور بھارت چھوٹی بڑی پانچ جنگیں لڑ چکے لیکن جنگیں مسائل کال حل نہیں ہوتیں۔ چینل فائیو کے تجزیوں اور تبصروں پر مشتمل پروگرام ”کالم نگار“میں گفتگوکرتے ہوئے انہوں نے کہا کہکشمیر میں بھارت انسانی حقووق کی خلاف ورزیاں کر رہا ہے۔کشمیر یوں نے آزادی کے لئے بہت قربانیاں دیں لیکن بھارت کشمیری جدوجہد کو دہشت گردی کا رنگ دے کر دنیا کو دھوکہ دینے کی کوشش کر رہا ہے۔اس میں شک نہیں کشمیر بھارت کے ہاتھ سے نکل رہا ہے۔کشمیر میں ہونے والا ظلم ڈھکا چھپا نہیں۔میں وزیر خارجہ تھا تو ہم کشمیر کے حل کے بہت قریب تھے۔انہوں نے کہا کہ ڈی ڈی آر کے ذریعے ہم پاکستان میں مسلح تنظیموں کو قومی دھارے میں لا سکتے ہیں۔امریکہ چاہتا ہے بھارت کو خطے میں بالادستی ملے خاص طور پر چین کی معاشی ترقی امریکہ کو ہضم نہیں ہو رہی۔میں پانچ سال پاکستان کا وزیرخارجہ رہا ہمارے وزارت خارجہ کے افسران بہت باصلاحیت ہیں ۔انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں اب توبھارت نے ظلم کے پہاڑ ڈھا دیے ہیں۔الیکشن کے بعد اگر مقبوضہ کشمیر میں آرٹیکل 370کو چھیڑنے کی کوشش کی گئی تو کشمیری اسے بالکل قبول نہیں کریں گے۔کشمیر ایک متنازعہ علاقہ ہے بھارت کو تسلیم کرنا پڑے گا کشمیر بھارت کا حصہ ہرگز نہیں۔ کالم نگارعبدالباسط نے کہا کہ کشمیر کو بھارت اپنا اٹوٹ انگ کہتا ہے لیکن وہ وہاں غاصبانہ طوزر پر قابض ہے ۔مسئلہ کشمیر کے باعث پاکستان اور بھارت کے درمیان امن نہیں ہوتا کیونکہ کشمیر ایک متنارعہ علاقہ ہے جس کا حل بہت ضروری ہے۔حنیف عباسی کی ضمانت سے متعلق انہوں نے کہا کہ ایفیڈرین کی مقدار پانچ سو سے زیادہ نہیں ہونی چاہئے لیکن نو ہزار کی گئی۔انہوں نے کہا ماڈل ٹاﺅن واقعے میں شہید ہونے والے انصاف کے لئے سرکرداں ہیں۔انہوں نے کہا کہ وکی لیکس کے بانی جولین اسانج کی گرفتاری پر پوری دنیا میں شور مچا ہے۔لگ رہا ہے پاکستانی ٹیم ورلڈ کپ کے فائنل میں ضرور پہنچے گی۔کرکٹ مافیا باہر نکل جائے تو ہم ورلڈ کپ جیت سکتے ہیں۔کالم نگار سیف الرحمان نے کہا کہ ہم کشمیر پر بہتر سفارتکاری نہیں کر سکے یہ قابل افسوس امر ہے۔اس کے برعکس بھارت پوری دنیا میں واویلا کر کے دنیا کو کشمیر ایشو پر ڈی ٹریک کر رہا ہے دنیا جانتی ہے بھارت کشمیر میں ظلم ڈھا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے ہاں عدالتیں شک کا فائدہ ملزمان کو دے دیتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ اب جے آئی ٹیز کی ویلیو ختم ہوتی جارہی ہے۔کالم نگارطارق ممتاز نے کہا کہ کشمیر پر ہمیں اپنی خارجہ پالیسی بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔میرے خیال میں فارن افیئرز پر اربوں ڈالر خرچ ہوتے ہیں لیکن ہمارے سفیر کچھ نہیں کرتے۔انہوں نے کہا ایفیڈرین کو منشیات میں بھی لیا جا سکتا ہے۔

پلیئرزکے غیرملکی لیگزکھیلنے پر پابندی لگنی چاہیے،طاہرشاہ,انگلینڈکیخلاف پاکستان کپ کے پرفارمرزکوموقع ملناچاہیے،سابق کرکٹرکی گگلی میں گفتگو

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) سابق فرسٹ کلاس کرکٹر طاہر شاہ نے کہا ہے کہ لیگز پر پابندی لگا دینی چاہئے اس سے کھلاڑی خراب ہوتے ہیں کیونکہ وہ سارا زور پیسہ کمانے میں لگا دیتے ہیں او ر ان فٹ ہو جاتے ہیں۔عماد وسیم کو بھی فٹنس مسائل ہیں ۔ چینل ۵ کے پروگرام گگلی میںگفتگوکرتے ہوئے سابق کرکٹرنے کہا کہ سرفراز کو پتہ ہونا چاہئے تھا آسٹریلیا کے خلاف کس کھلاڑی کو کھلانا ہے کسے نہیں۔بابر اعظم بالکل فٹ تھے انہیں بھی کھلانا چاہئے تھا۔حسن علی بھی بہترین باﺅلر تھا ۔پاکستان کپ کی پرفارمنس دیکھنی چاہئے تھی اس سے اچھا کھلاڑی مل سکتا تھا۔ڈومیسٹک کرکٹ کا ہمارا معیار بہت ہلکا ہے۔عمر اکمل کو کھیلنے کا موقع ملا لیکن وہ پرفارم نہ کر سکا۔ آسٹریلیا کے خلاف پانچ میچوں کی سیریز میں وائٹ واش پر یہ کہنا یہ کوئی معنی نہیں رکھتا انتہائی غیر ذمہ دار باتیں ہیں۔کوچ کو اس قسم کی باتیں نہیں کرنی چاہئیں۔

کپتان سرفراز دبئی سے ایسی چیز لے کر پاکستان پہنچ گئے کہ شائقین کرکٹ خوشی سے جھوم اٹھے

اسلام آباد (ویب ڈیسک ) انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کرکٹ ورلڈ کپ ٹرافی پاکستان میں نمائش کے لیے پہنچا دی گئی جسے ملک بھر میں لے جایا جائے گا۔قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان سرفراز احمد ورلڈ کپ ٹرافی کے ہمراہ دبئی سے اسلام آباد پہنچے ہیں۔آئی سی سی ورلڈ کپ ٹرافی کی نمائشی تقریب کل اسلام آباد میں ہوگی جس کے بعد اسے 13 اپریل کو لاہور اور 14 اپریل کو کراچی لے جایا جائے گا۔ ورلڈ کپ ٹرافی کی نمائش کے موقع پر شہری اس کے ساتھ تصاویر اور سیلفیز بھی بنا سکیں گے۔ کپتان سرفراز احمد کا میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ انشاءاللہ ورلڈکپ جیت کر ٹرافی کو واپس پاکستان ہی لایا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ 10 سال بعد پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کی بحالی ہوئی ہے جس پر سب کو مبارکباد پیش کرتا ہوں اور اس میں پاک فوج کا نمایاں کردار ہے۔کپتان کا کہنا تھا کہ 14 اپریل کو کراچی میں عظیم الشان جشن منایا جائے گا جس میں کرکٹرز بھی شریک ہوں گے۔یاد رہے کہ ورلڈ کپ 2019 کا آغاز 30 مئی سے ہوگا اور ایونٹ کا افتتاحی میچ میزبان انگلینڈ اور جنوبی افریقا کے درمیان کھیلا جائے گا۔

میلو ڈی کو ئین شا ہدہ منی کے اعزا ز میں تقر یب ،فنی خدمات پر شا ندا ر ٹر بیو ٹ

لاہو ر (صدف نعیم)میلو ڈی کو ئین شا ہدہ منی کے اعزا ز میںالحمرا کلچر ل کمپلیکس تقر یب ،فنی خدمات پر شا ندا ر ٹر بیو ٹ پیش کیا گیا۔نا مور گلو کا رو ں،گلو کا راﺅں،فنکا روں سمیت اہم شخصیا ت کی شر کت نے تقر یب کو چا ر چا ند لگا دئیے۔تفصیلا ت کے مطا بق میلو ڈی کوئین کے اعزا ز میں تقریب پزیرائی میں سابق وز یر اطلا عا ت فیاض الحسن چو ہا ن ،نا مور گائیک غلا م علی خا ن ،حا مد علی خا ن ،را گا بو ائز،طا رق طا فو ،بی جی ،میگھا،دیدا ر ،عر فا ن کھوسٹ ،جا ن ریمبو محمد افضل سمیت زندگی کے ہر شعبہ سے تعلق رکھنے وا لی شخصیا ت نے شر کت کی ۔اس مو قع پر نامور فنکا روں نے لا ئیو پر فا رمنس کا مظا ہرہ بھی کیا ۔سا بق وز یر اطلا عا ت فیاض الحسن چو ہا ن نے اپنے خطا ب میں میلو ڈی کو ئین کو خرا ج تحسین پیش کرتے ہو ئے کہا کہ شا ہد ہ منی ہمارے ملک کا ایسا قیمتی اثا ثہ ہیں جنہو ں نے فن کی دنیا میں اپنا الگ مقا م بنا یا ،میں انکی فنی خدمات کا دلی احترام کر تا ہو ں۔

گلو کا ر علی عبا س کی کویت میں زبر دست پر فارمنس نے دھو م مچا دی

لاہو ر (صدف نعیم)گلو کا ر علی عبا س کی کویت میں زبر دست پر فارمنس نے دھو م مچا دی۔وطن وا پسی پر خصو صی گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ کویت میں رہنے اور اردو سمجھنے وا لے مجھے اتنی عزت بخشیں گے ،یہ کبھی سو چا بھی نہ تھا۔ مجھے بیسٹ پر فا رمنس کا ایوا ر ڈ ملنا میرے لئے تو ہے ہی قا بل قدر بات مگر اس سے زیا دہ خو شی اس با ت کی ہو ئی کہ یہ ایوا رڈ ایک پا کستانی گلو کا ر کی حیثیت سے ملا،جس کو میں اپنے پیا رے پا کستا ن کے نا م کر تا ہوں۔

بھارتی انتخابات کا پہلا مرحلہ، 20 ریاستوں کی 91 نشستوں پر پولنگ

ممبئی (ویب ڈیسک ) بھارت میں انتخابات کے پہلے مرحلے کا آغاز ہوگیا ہے جس میں آج (بروز جمعرات) 20 ریاستوں میں ایوان زیریں (لوک سبھا) کی نشستوں کے لیے ووٹنگ شروع ہوگئی ہے۔غیر ملکی خبر رساں اداروں کی رپورٹس کے مطابق ایک ارب 30 کروڑ آبادی والے ملک میں 7 مراحل میں ہونے والے انتخابات کا آج پہلا روز ہے، یہ انتخابات 6 ہفتوں میں مکمل ہوں گے۔بھارت میں مجموعی طور پر 89 کروڑ 89 لاکھ ووٹرز میں سے انتخابات کے پہلے مرحلے میں 14 کروڑ 20 لاکھ سے زائد افراد اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے۔آج ہونے والے پہلے مرحلے میں 20 ریاستوں اور وفاقی انتظامی علاقوں کی 91 نشستوں میں ووٹنگ کا عمل جاری ہے جبکہ منگل کو پرتشدد واقعات میں 7 افراد کے قتل کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔