سرینگر(اے این این ) پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے کہا ہے کہ ہندوستان میں مسلمانوں اور دوسری اقلیتوں کے ساتھ ہورہی مبینہ ہراسانیوں کو دیکھ کر گاندھی جی جنت میں رورہے ہوں گے۔ محبوبہ نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا ‘جنت میں گاندھی جی یہ دیکھ کر رو رہے ہونگے کہ اس کے ہندوستان میں مسلمانوں اور دوسری اقلیتوں کو کس طرح ہراساں کیا جارہا ہے، وہ آرزو کرتے ہوں گے کہ کاش ایک ہندو انتہا پسند نے ان کو گولی مار ہلاک نہ کیا ہوتا تو ملک کو تباہی سے بچایا جاسکتا تھا’۔قابل ذکر ہے کہ پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے گذشتہ روز دہلی ہائی کورٹ میں مفاد عامہ کی عرضی دائرکرنے’ پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ‘عدالت میں اپنا وقت کیوں ضائع کرو گے۔ بی جے پی کی جانب سے دفعہ 370 ختم کرنے کا انتظار کرو۔ ہم خود بہ خود الیکشن نہیں لڑ پائیں گے کیونکہ آئین ہند کا جموں وکشمیر پر اطلاق ختم ہوگا۔
Monthly Archives: April 2019
معاذ اللہ معاذ اللہ ، قادیانیوں نے گوگل پلے سٹور پر تحریف شدہ قرآن پاک اپ لوڈ کر دیا
لاہور (این این آئی) لاہور ہائیکورٹ نے گوگل پلے سٹور پر قادیانی کمیونٹی کی جانب سے قرآن پاک اپ لوڈ کرنے کے خلاف درخواست پر ڈائریکٹر جنرل پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آج (جمعرات ) ریکارڈ سمیت طلب کر لیا۔ہائیکورٹ کے مسٹر جسٹس قاسم خان نے شہری بلال ریاض شیخ کی درخواست پر سماعت کی ۔درخواست میں وزارت داخلہ، ڈی جی ایف آئی اے اور ڈائریکٹر سائبر کرائم سرکل کو فریق بنایا گیا ہے۔وکیل درخواست گزار نے موقف اختیار کیا کہ اللہ پاک نے قرآن پاک میں واضح طور پر حکم دیا ہے کہ حضرت محمد آخری نبی ہیں،تمام مسلمانوں کا ایمان ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں مگر گوگل پلے سٹور پر احمدی کمیونٹی کا اپ لوڈ کیا گیا قرآن پاک ترمیم شدہ ہے، مسلمانوں کو گمراہ کرنے کیلئے ترمیمی قرآن گوگل پلے سٹور پر اپ لوڈ کیا ہے،ایف آئی اے کو مذکورہ قرآن پاک گوگل پلے سٹور سے ہٹانے کی درخواست دے رکھی ہے،شوشل میڈیا اور مبینہ وہیب ساہیٹ پر قرآن پاک کی بے حرمتی کی جارہی ہے،قرآن پاک کی اس خود ساختہ بے حرمتی پر حکومتی ادارے اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی خاموش ہیں۔ عدالت سے استدعا ہے کہ ان خود ساختہ ویب سائٹس اور شوشل میڈیا کو بلاک کرنے ،گوگل پلے سٹور سے احمدیہ کمیونٹی کا اپ لوڈ کیا گیا قرآن ہٹانے اور احمدیوں کا ترمیمی قرآن نہ ہٹانے والوں کیخلاف کارروائی کا بھی حکم دیا جائے۔عدالت نے ڈائریکٹر جنرل پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آج (جمعرات ) ریکارڈ سمیت طلب کر تے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔
فرانس سمیت دنیا کی مختلف بڑی بڑی کمپنیاں سرمایہ کاری کیلئے آ رہی ہیں : چیئرمین سرمایہ کاری بورڈ ہارون شریف کی ” خبریں “ سے خصوصی گفتگو
اسلام آباد(ملک منظور احمد) سرمایہ کاری بورڈ کے چیئرمین ہارون شریف نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے غیر ملکی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بحال کرنے کیلئے انقلابی اقدامات کیے ہیں، جس کے نتیجے میں غیر ملکی سرمایہ کار پاکستان کا رخ کررہے ہیں، پاکستان غیر ملکی سرمایہ کاروں کیلئے پرکشش ملک ہے، وزیراعظم کی ہدایت پر غیر ملکی سرمایہ کاروں کیلئے ون ونڈو آپریشن کا آغاز کیا گیا، آئندہ کچھ عرصے میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں ریکارڈ اضافہ ہوگا، ان خیالات کا اظہار انہوں نے خبریں سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا، ہارون شریف کا کہناتھا کہ فرانس سمیت مختلف ممالک پاکستان کا رخ کررہے ہیں، دنیا کی بڑی بڑی کمپنیاں پاکستان آرہی ہیں ، سرمایہ کاری کے راستے میں تمام رکاوٹوں کو دور کیا جائیگا، وزیراعظم کی ہدایت پر تمام اداروں کو پابند کیا گیا ہے کہ ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کیلئے آسانیاں پیدا کی جائیں، ہماری حکومت نے غیر ملکی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بحال کردیا ہے ، سرمایہ کاری میں اضافہ سے اقتصادی بحران پر قابو پانے میں مدد ملے گی اور روز گار کے مواقع پیدا ہونگے۔
پاکستان کے سمندر میں تیل ، گیس کے ذخائر کی تلاش میں بڑی کامیابی
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان میں سمندر میں تیل و گیس کے ذخائر کی تلاش میں بڑی کامیابی مل گئی ، ڈرلنگ کا کام آخری مراحل میں داخل ہوگیا ہے ، ایگزون موبل حاصل نتائج کی رپورٹ وزیر اعظم کوپیش کرے گی۔تفصیلات کے مطابق کراچی کی ساحلی پٹی پر جاری کیکڑاا ون پروجیکٹ میں اہم پیش رفت سامنے آئی ، اصل ذخایر کیلئے جاری ڈرلنگ کا کام آخری مراحل میں داخل ہوگیا ہے ، ڈرلنگ کا کام 5ہزار میٹر تک مکمل کرلیاگیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے وزیراعظم تک رپورٹ پہنچانے کی تیاریاں کرلی گئی ہے، ایگزون موبل حاصل کردہ نتائج کی رپورٹ وزیر اعظم کو پیش کرے گی۔کھدائی میں مدر رگ شپ ( سکس جنریشن الٹرا) اور سپلائی ویسلز نےکام سرانجام دیا گیا ، ایگزون موبل کے ساتھ پی پی ایل، اوجی ڈی سی ایل اورای این آئی ڈرلنگ کے عمل میں شریک ہیں۔گذشتہ روز توانائی سیکٹر کےعالمی تحقیقاتی ادارےریسٹاڈ انرجی نےرپورٹ جاری کی تھی ، جس میں کہا گیا تھا پاکستان کےسمندرسےممکنہ دریافت3بڑی متوقع تیل دریافتوں میں شامل ہیں جبکہ دیگر دو بڑی دریافتیں میکسیکو اور برازیل میں ہونے کا امکان ہے۔پاکستان کے آف شور تیل کے کنویں سےڈیڑھ ارب بیرل پیداوارمتوقع ہے، تینوں دریافتیں2014سےاب تک کی سب سےبڑی دریافت ہوں گی۔یاد رہے وزیراعظم عمران خان نے بھی صحافیوں کے ساتھ ملاقات میں کہا تھا چند دنوں میں قوم کو بڑی خوشخبری ملے گی،
قومی ٹیم کی ورلڈکپ کےلئے تیاریاں مکمل نہیں،طاہرشاہ ، احمدشہزاداوروہاب ٹیم کی ضرورت،یاسرکی انٹری نظرنہیں آرہی،وسیم خان کی گگلی میں گفتگو
لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) سابق فرسٹ کلاس کرکٹر طاہر شاہ نے کہا ہے کہ پاکستان نے اصل میں ورلڈ کپ کی تیاری نہیں کی پندرہ کھلاڑیوں کے بجائے اٹھارہ کھلاڑی بھیج رہے ہیں یعنی تین اضافی کھلاڑی بھیج رہے ہیں یہ ناکامی کمزورخیالی اور ناقص سلیکشن کا ثبوت ہے۔ )چینل فائیو کے پروگرام گگلی میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ا س سے تذبذب پیدا ہو گا۔میں سمجھتا ہوں شاہین شاہ آفریدی کو نہیں بھولنا چاہئے وہ اہم باﺅلر ہے۔سابق فرسٹ کلاس کرکٹر وسیم خان نے کہا کہ احمد شہزاد ٹیم کی ضرورت ہیں وہاب ریاض بھی بہتر باﺅلر ہیں وہ ایک اٹیکنگ باﺅلر ہے۔پندرہ کا سکواڈ نہ لے جانے سے ٹیم پریشر میں رہے گی۔ہماری پلاننگ ناقص ہے۔میرے خیال میں فٹنس مسائل کے باعث یاسر شاہ نہیں جائیں گے شاداب اور نواز فٹ کھلاڑی ہیں۔
ناسا کا بڑا کارنامہ ، ٹیلی سکوپ سے بلیک ہول کی تصویر جاری کر دی
واشنگٹن(نیٹ نیوز)امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے ناسا کے ایونٹ ہورائزن ٹیلی اسکوپ نے انسانی تاریخ میں پہلی بار بلیک ہول کی تصویر جاری کردی ہے، لیکن کیا یہ واقعی بلیک ہول کی تصویر ہے۔یہ تصویر ناسا کے زیر اہتمام ادارے ایونٹ ہورائزن ٹیلی اسکوپ کی جانب سے جاری کی گئی ہے، یہ بلیک ہول ایم 87 ورگو اے کے نام سے پہچانی جانے والی کہکشاں کے وسط میں واقع ہے۔عالمی ادارے کا دعوی ایک طرف لیکن پرائمری کی سائنس جنہیں یاد ہے وہ جانتے ہیں کہ بلیک ہول ایک ایسے فلکی جسم کا نام ہےجس کی بے پناہ کشش ِ ثقل کے سبب کوئی بھی شے اس میں سے نہیں گزر سکتی ، حتی کہ روشنی بھی نہیں اور روشنی کسی بھی شے کی تصویر کھینچنے کے لیے لازمی عنصر ہے۔آئن اسٹائن ہمیں بتاچکے ہیں کہ کوئی بھی شے روشنی کی رفتار سے تیز سفر نہیں کرسکتی اور بلیک ہول کی تصویر لینے کے لیے ضروری ہے کہ روشنی اپنی موجودہ رفتار یعنی 300,000 کلومیٹر فی سیکنڈ سے بھی تیز سفر کرے، جو کہ ممکن نہیں ہے، تو پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ بلیک ہو ل کو دیکھ لیا جائے۔پھر بین الاقوامی سائنسد اں اسے بلیک ہول کی تصویر کیوں قرار دے رہے ہیں۔ پہلے ذرا ایک بار غور سے تصویر کو دیکھیے۔ یہ تصویر بالکل ایسی ہی ہے جیسا کہ کوئی ڈونٹ، درمیان میں ایک سیاہ دھبا اور اس کے گرد روشنی ۔سائنس دانوں نے جو تصویر لی ہے وہ درحقیقت اس کے ارد گرد موجود روشنی کی ہے ، اور اس روشنی کےدرمیان موجود بلیک ہول جو کہ اس کہکشاں میں موجود ہر شے کو نگلنے کے صلاحیت رکھتا ہے ، روشنی کے اس دائرے کے اندر واقع ہے ، یوں سمجھ لیں کہ جہاں پر روشنی کااندرونی ہالہ ختم ہورہا ہے ، وہ سارا علاقہ بلیک ہول ہے۔اب ذرا یہ بھی جان لیں کہ آخر یہ روشنی ہے کیا۔ بلیک ہول کی شدید کششِ ثقل کے اثرات اس کے ارد گرد ایک مخصوص علاقے تک محدود ہوتے ہیں جسے ایونٹ ہورائزن یا واقعاتی افق کہا جاتا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر کسی بھی بلیک ہول کے گرد یہ واقعاتی افق نہ ہو تو وہ بلیک ہول تنہا پوری کائنات کو ہڑپ کرجائے ۔ واقعاتی افق سے دور جاتے ہوئے، بلیک ہول کی کششِ ثقل بتدریج کم ہوتی چلی جاتی ہے؛ اس لیے کسی بلیک ہول سے دور دراز مقامات پر موجود اجسام پر اس کشش کے اثرات بھی اتنے معمولی ہوتے ہیں کہ انہیں بہ مشکل ہی محسوس کیا جاسکتا ہے۔فلکیاتی اجسام جو کسی بلیک ہول کی طرف بڑھ رہے ہوتے ہیں،جیسے جیسے واقعاتی افق کے قریب پہنچتے ہیں، ان کی رفتار تیز ہوجاتی ہے اور وہ بلیک ہول کے گرد اسپائرل ( لہردار )راستے پر چکر لگاتے ہوئے، واقعاتی افق سے قریب تر ہونے لگتے ہیں۔ ہر چکر میں ان کی رفتار مزید بڑھ جاتی ہے، یہاں تک کہ وہ عین واقعاتی افق پر پہنچ جاتے ہیں۔زبردست رفتار کے سبب یہ اجسام انتہائی زیادہ توانائی پیدا کرتے ہیں اور ان سے روشنی یا ریڈی ایشن خارج ہونے لگتی ہے۔ واقعاتی افق جو کہ بلیک ہول کی سرحد ہے وہاں سے بلیک ہول میں گرتے وقت یہ آخر ی بار انتہائی تیز ترین شعاعیں خارج کرتے ہیں جس سے واقعاتی افق روشن ہوجاتا ہے۔سو ہم جو یہ تصویر دیکھ رہی ہیں یہ درحقیقت ایونٹ ہورائزن پر فلکی اجسام سے پیدا ہونے والی روشنی کی ہے اور اس روشنی کے درمیان جو اندھیرا ہے ، وہ بلیک ہول ہے ، سو اس طرح سائنس دانوں کا یہ دعوی درست ہے کہ یہ تصویر بلیک ہول کی ہے ، فی الحال موجودہ ٹیکنالوجی سے بلیک ہول کو اتنا ہی دیکھ پانا ممکن ہوسکا ہے۔ہوسکتا ہے مستقبل میں کبھی سائنس اس قدر ترقی کرلے کہ بلیک ہول کے اندر بھی جھانک سکے اور ہمیں بتاسکے کہ وہاں یہ زبردست سرگرمی کس سبب ہورہی ہے ، فی الحال آپ اس تصویر سےگزارا کریں۔
حکومت مخالف تحریک کا فیصلہ وقت آنے پر کرینگے:شہباز شریف
لندن(اے این این ) قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور (ن) لیگ کے صدر میاں شہبازشریف نے کہا ہے کہ عمران خان کی شریف خاندان کے خلاف انتقامی کارروائیاں ان کی بھول ہے۔لندن میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کا کہنا تھا کہ نوازشریف کوکبھی متعلقہ ڈاکٹر اور کبھی مشینیں دستیاب نہیں ہوتیں تھیں، ہم نے قوم کی خدمت کی ہے ہمارے ہاتھ صاف ہیں ہم پی ٹی آئی کی چیرہ دستیوں کامقابلہ کریں گے اور عمران خان کی شریف خاندان کے خلاف انتقامی کارروائیوں کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔شہباز شریف کا کہنا تھا کہ حکومت کو ٹف ٹائم دینے کے لیے تیار ہیں تاہم حکومت مخالف تحریک چلانے کافیصلہ وقت آنے پر ہی کریں گے۔واضح رہے کہ شہبازشریف اپنے طبی معالج سے مشاورت اور معائنے کے لئے لندن گئے ہیں جہاں وہ حمزہ شہباز کی اہلیہ اور اپنی پوتی کی خیریت دریافت کریں گے۔
پاکستان ، بھارت کے پاس ایٹم بم ، سلگتا مسئلہ کشمیر حل کرنا ہو گا : عمران خان
اسلام آباد(نیٹ نیوز) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کشمیرکا مسئلہ حل کرنا ہوگا یہ مسئلہ سلگتا ہوا نہیں رہ سکتا ہے اوربھارت کے ساتھ متنازع علاقے کشمیرمیں امن خطے کے لیے بہت زبردست ہوگا۔وزیراعظم عمران خان نے برطانوی نشریاتی ادارے کوانٹرویودیتے ہوئے بھارتی وزیراعظم نریندرمودی کو پیغام میں کہا کہ کشمیر کا مسئلہ حل کرنا ہوگا، یہ مسئلہ سلگتا ہوا نہیں رہ سکتا ہے اوربھارت کے ساتھ متنازع علاقے کشمیرمیں امن خطے کے لیے بہت زبردست ہوگا۔ جوہری طورپرمسلح ہمسائے اپنے اختلافات کوصرف مذاکرات کے ذریعے حل کرسکتے ہیں۔وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ دونوں ممالک کوکشمیر کا مسئلہ حل کرنا ہے کیونکہ کشمیرمیں جوکچھ بھی ہورہا ہے وہ وہاں کے لوگوں کا ردِ عمل ہے، اس کا الزام پاکستان پرعائد کیا جائے گا اورہم ان پر الزام عائد کریں گے تو کشیدگی بڑھے گی جس طرح ماضی میں بڑھتی تھی۔ وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ پاک بھارت دونوں ممالک کی اولین ترجیح غربت کا خاتمہ ہونا چاہیئے۔غربت کو کم کرنے کا راستہ یہ ہے کہ ہم اپنے اختلافات کو مذاکرات کے ذریعے حل کریں اوردونوں ممالک کے درمیان صرف ایک اختلاف ہے جوکہ کشمیرہے۔وزیراعظم نے دونوں ممالک کے درمیان تصادم کے خطرات کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ اگربھارت پاکستان پردوبارہ حملہ کرتا تو پاکستان کے پاس اس کا جواب دینے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا اوراس صورتِ حال میں دوجوہری مسلح ممالک نے جو کیا وہ میرے خیال میں بہت غیرذمہ دارتھا۔وزیراعظم نے جیش محمد سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا کہ ہم پہلے ہی ان تنظیموں کو غیرمسلح کررہے ہیں۔ ہم نے ان کے مدارس کا کنٹرول سنھبال لیا ہے، ان کی تنظیمیں بھاگ گئی ہیں۔ یہ جنگجو گروہوں کوغیرمسلح کرنے کی پہلی سنجیدہ کوشش ہے۔ دہشت گروہ سے متعلق وزیراعظم نے مزید کہا کہ ہم ان جنگجو گروہوں کے خلاف کارروائی کا عزم رکھتے ہیں کیونکہ یہ پاکستان کے مستقبل کے لیے ہے۔ اس حوالے سے بیرونی دباو¿ نہیں ہے کیونکہ یہ ہمارے مفادات میں ہے کہ ہمارے یہاں کوئی بھی عسکریت پسند گروہ نہیں ہے۔وزیراعظم نے توہین مذہب کے الزام میں بری ہونے والی آسیہ بی بی سے متعلق کہا کہ اس حوالے سے تھوڑی پیچیدگی پائی جاتی ہے اورمیں میڈیا سے اس بارے میں بات نہیں کرسکتا لیکن میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ آسیہ بی بی محفوظ ہیں اور وہ ہفتوں میں پاکستان چھوڑکرچلی جائیں گی۔
مودی مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کی آبادی کم کرناچاہتے ہیں:جنرل (ر) امجد شعیب ، ٹیکس دینے والے پچاس سے ساٹھ لاکھ افرادہونے چاہئیں، ایمنسٹی کو اس وقت معیشت کی ضرورت ہے : سلمان شاہ ، ملک لوٹنے والے چوری بچانے کیلئے پھڑپھڑا رہے ہیں:فرخ حبیب کی چینل ۵ کے پروگرام ” نیوز ایٹ 7 “ میں گفتگو
لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) سینئر صحافی و تجزیہ نگار ضیاءشاہد نے کہا کہ اللہ کرے نواز شریف کی طبیعت ٹھیک ہو لیکن کچھ پتہ نہیں چل رہا بظاہر تو وہ ٹھیک ہیں کسی سیریس بیماری کی علامت بھی سامنے نہیں آئی۔مولانا فضل الرحمن سے ان کی ملاقات بھی ہوئی وہ اچھے بھلے گفتگو کر رہے تھے۔ چینل فائیو کے پروگرام نیوز ایٹ سیون میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نواز شریف نے یہ بھی کہا ان کی طبعیت ٹھیک نہیں لیکن وہ اس تحریک میں ضرو ر حصہ لیں گے ۔میں سمجھتا ہوں کچھ پراسرار سا معاملہ ہے شہباز شریف جس طرح اچانگ لندن چلے گئے ہر طرف یہ افواہ پھیلی ہے ان کی کوئی ڈیل ہو رہی ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ کراچی کے دو اخبارات نے اماﺅنٹ بھی چھاپ دی ہے کہ نواز شریف کو باہر جانے رکی اجازت دی جائے تو وہ پانچ ارب ڈالرجمع کرانے کو تیار ہیں البتہ تصدیق نہیں ہو سکی۔شیخ رشید بھی کہہ رہے ہیں مریم نواز کے ذریعے بات ہو رہی ہے۔وزیراعظم عمران خان بھی کہہ رہے ہیںنواز شریف اگر باہر جانا چاہتے ہیں تو اپنے حصے کے پیسے جمع کرائیں تو وہ جا سکتے ہیں۔لگتا ہے کوئی نہ کوئی کھد بد ضرور ہے اور اس سلسلے میں بات چیت ہو رہی ہے لیکن اس سلسلے میں کسی قسم کے ثبوت نہیں۔شیخ رشید نے کہا مریم نواز کے ذریعے گفتگو ہو رہی ہے،دوسرا عمران خان نے بھی کہا نواز شریف اگر پلی بارگین کے ذریعے اپنے حصے کے پیسے جمع کرائیں تو وہ جا سکتے ہیں جبکہ کراچی کے دو اخبارات میں بھی لیڈ سٹوری چھپی ہے جس میں پانچ ارب ڈالر کی فگر بھی دی ہے ہو سکتا ہے ساری باتیں غلط ہوں یہ بھی ہو سکتا ہے سب باتیں ٹھیک ہوں لہذا کچھ کہا نہیں جا سکتا البتہ کچھ بات چل ضرور رہی ہے۔لگتا ہے شہباز شریف کے لندن جانے کے بعد تیزی آئے گی۔اگرچہ ایسی باتوں بارے کچھ یقین سے نہیں کہا جا سکتا نہ ہی ایسی باتوں کا کوئی ثبوت ہوتا ہے لیکن جو بات چیت چل رہی ہے محسوس یہی ہوتا ہے کچھ بات چیت ہو رہی ہے۔شیخ رشید سے لے کر عمران خان تک مریم نواز کے ذریعے جو بھی گفتگو ہو رہی ہے۔شیخ رشید یہاڈ تک کہتے ہیں مریم نواز کے ذریعے بات چیت چل رہی ہے۔میں محسوس کرتا ہوں شہباز شریف کا دورہ لندن اس سلسلے میں نمایاں کردار ادا کریگا۔البتہ عدالت نے نواز شریف کے فیصلے میں لکھا ہے وہ پاکستان سے باہر نہیں جا سکتے جب تک وہ پلی بارگیننگ کے ذریعے پیسے جمع نہیں کرائیں گے اور اپنا جرم تسلیم نہیں کریں گے باہر نہیں جا سکتے۔ایک بات طے شدہ ہے نمبر ایک نواز شریف پیسے ادا کریں گے نمبر دو جرم تسلیم کریں گے عام طور پر سیاستدان دوسرے مسئلے پر مانتے نہیں کیونکہ اس میں تسلیم کرنا پڑتا ہے انہوں نے پیسے دے کر جان چھڑائی۔جنرل ر امجد شعیب نے کہا ہے کہ عمران خان کہتے ہیں مودی منتخب ہوئے تو مسئلہ کشمیر حل ہو جائے گا یہ ان کی خوش فہمی ہے ۔بھارت کبھی مذاکرات نہیں کرے گا۔بھارت کشمیریوں کی آزادی کی تحریک کو دہشت گردی کہتا ہے لیکن ہم کچھ نہیں کہتے۔بھارت کشمیر میں آرٹیکل370اور35اے کو ختم کرنے کے درپے ہے جس سے کوئی بھی بھارت سے جاکر کشمیر میں آباد ہو جائے گا اور آبادی کا تناسب بدل جائے مسلمانوں کی آبادی کم ہونے سے بھارت ریفرنڈم کی بات کرے گا۔پاکستان کو کشمیر میں بھارتی بربریت پر دنیا میں بھرپور مہم چلانی چاہئے۔ ماہر معیشت ڈاکٹر سلمان شاہ نے کہا کہ پاکستان میں اگر پندرہ سے بیس لاکھ ٹیکس دینے والے ہیں تو یہ بہت کم ہیں پچاس سے ساٹھ لاکھ ہونے چاہئیں۔ایمنسٹی اس وقت معیشت کی ضرورت ہے۔آئی ایم ایف سے عنقریب معاملات طے ہونے ہیں۔پنشن کے واجبات بھی بڑھتے جا رہے ہیں۔تحریک انصاف کے رہنماءفرخ حبیب نے کہا ملک لوٹنے والے اپنی چوری بچانے کے لئے پھڑ پھڑا رہے ہیں ۔جب احتساب کیا جاتا ہے سب چور ایک ہو جاتے ہیں۔ معیشت کی تباہی کی ذمہ دار ن لیگ اور پیپلز پارٹی ہیں۔
اوباشوں کا رشتہ سے انکار پر شہری پر تشدد ، بازو ، جسم کی ہڈیاں توڑ دیں ، ” خبریں ہیلپ لائن “ میں انکشاف
قصور(بیورورپورٹ)قصور کے نواحی گاﺅں علی پور چک نمبر6 میں بااثر زمیندار کے اوباش بیٹے اور اس کے ساتھیوں نے محنت کش خاندان کے سربراہ کی طرف سے بیٹی کا رشتہ نہ دینے پر پورے خاندان پر خدا کی زمین تنگ کر دی محنت کش منیر احمد اور اس کی جواںسالہ زیر تعلیم بیٹیاں گھر میں محصور ہوکر رہ گئیں بااثر ملزمان نے رشتے سے انکار کرنے پر جدید اسلحہ سے مسلح ہوکر اپنے حواریوں کے ہمراہ منیر احمد کے گھر پر دھاوا بول دیا اور بدترین تشددکرکے منیر احمدکا بازو اور جسم کی کئی ہڈیاں توڑ دیں ملزمان نے خاوند کو چھڑانے کے لیے آگے آنیوالی اس کی اہلیہ اور بیٹیوںکو بھی تشددکا نشانہ بنایا اور سنگین نتائج کی دھمکیاںدیتے ہوئے واپس چلے گئے پولیس نے اس امر کی اطلاع ملنے پر مقدمہ درج کرکے کاروائی شروع کر دی ہے منیر احمد اسکی اہلیہ شائستہ بی بی اور انکی بیٹیوںنے بتایا کہ وہ علی پور چک نمبر6 کے رہائشی ہیں منیر احمد کے مطابق اس کی چار بیٹیاں اور ایک چھوٹا بیٹا ہے ایک بیٹی کی شادی ہوچکی ہے جبکہ تینوںبیٹیاں زیر تعلیم چلی آرہی ہیں بڑی بیٹی فرسٹ ایئر جبکہ دونوںچھوٹی بیٹیاں میٹرک کی طالبہ ہیں اس کی بیٹیاں جب بھی گھر سے سکول اور کالج کے لیے روانہ ہوتیں تو پہلے سے مسلح حالت میں اپنے ساتھیوں کے ہمراہ موجود ملزم چوہدری عباس جٹ ،غلام شبیر اور ان کے دوسرے ساتھی انکا راستہ روک لیتے اور منیر احمد کی ایک بیٹی حفیظہ کو زبردستی پکڑ لیتے چوہدری عباس جٹ کہتا کہ وہ حفیظہ پر دل سے فدا ہے اور اگر اس نے شادی کے لیے ہاںنہ کی تو وہ اسے زبردستی اغواءکرکے لیجائے گا حفیظہ اور اس کی بہنوںنے بتایا کہ دو مرتبہ ملزمان نے انہیں زبردستی گاڑی میںڈال کر لیجانے کی کوشش کی تاہم ان کے شور مچانے اور مزاحمت کرنے پر ملزم دھمکیاںدیتے ہوئے غائب ہوجاتے حفیظہ کی والدہ شائستہ بی بی نے بتایا کہ ملزمان کے خوف سے اس نے اپنے بیٹے کو اپنے رشتہ داروں کے ہاں بھجوا دیا تاکہ ملزم اکلوتے بیٹے کو نقصان نہ پہنچا سکیں اسی طرح تینوںبیٹیوں کو سکول اور کالج جانے سے روک لیا جس کے بعد وہ گھر میں قید ہوکر رہ گئے ظلم کی انتہاءیہ ہے کہ گاﺅں کے بااثر زمینداروں کے علاوہ کئی ایک سیاستدان بھی ملزم کے والد کے ذاتی دوست ہیں اور اسی وجہ سے کوئی غریب آدمی ان کے سامنے آواز بلند کرنے کی جرات نہیں کرتا شائستہ بی بی نے بتایا کہ گھر میں قید رہنے کی وجہ سے زیر تعلیم چلی آنیوالی اس کی دونوںبیٹیاںمیٹرک کے حال ہی میں ہونیوالے امتحانات میںا پنے دو پیپرز بھی نہیں دے سکیں جب ہم اپنے گھر میں محصور ہوکر رہ گئے تو ملزمان نے ہمارے گھر کے سامنے ڈیرہ جما لیا اور اسلحہ کی نمائش کرنا اور ہمیں سنگین نتائج کی دھمکیاںدینا معمول بنا لیا وقوعہ کے روز منیر احمد اپنے مویشیوںکو چارہ ڈال رہا تھا کہ ملزمان دروازہ توڑ کر اس کے گھر میں داخل ہوگئے اور جدید اسلحہ کے بٹ اور آہنی راڈمار مار کر منیر احمد کو شدید زخمی کر دیا جب اس کی اہلیہ شائستہ بی بی اور بیٹیاں باپ کو بچانے کے لیے آگے بڑھیںتو انہیں بھی تشددکانشانہ بنایا گیا تشدد کی وجہ سے منیر احمد کا بازوٹوٹ گیا اور جسم پر کئی ایک زخم آئے اسی طرح اس کی بیوی بھی بری طرح زخمی ہوگئی منیر احمد کی بیٹیوںنے روتے ہوئے بتایا کہ وہ دو بار اغواءہوتے ہوتے بچی ہیں وزیر اعظم عمران خاں پاکستان کے نوجوانوں کے لیڈر ہیں اور ان غنڈہ عناصر نے ناصرف ہمارے اوپر ظلم کی انتہاءکر رکھی ہے ہم وزیر اعظم عمران خاں سے اپیل کرتی ہیں کہ وہ قوم کی ان غریب بیٹیوں کو تحفظ فراہم کریں انہوںنے کہاکہ ان غنڈہ عناصر کی وجہ سے ہماری زندگیوں کے ساتھ ساتھ ہماری تعلیم او رہمارے والدین کی زندگیاںبھی داﺅ پر لگی ہوئی ہیں ملزم عباس جٹ اور شبیر وغیرہ بار بار کہتے ہیں کہ اگر حفیظہ کا رشتہ نہ دیا گیا تو تمہارے اکلوتے بھائی کو تمہاری آنکھوںکے سامنے قتل کر دیںگے اور اس کے بعد تم تینوںبہنوںکو اٹھا کر لے جائیںگے ہمیں خدا کے بعد صرف وزیر اعظم پاکستان عمران خاں سے مدد کی امید ہے دوسری طرف منیر احمد کے گھر پر دھاوا بولنے اور پورے خاندان کو زخمی کرنے کے واقعہ کی اطلاع جب پولیس حکام کو ملی تو ڈی پی او قصور کے حکم پر مقامی پولیس حرکت میں آئی اور انہوںنے زخمی ہونیوالے منیر احمد اور اس کی اہلیہ کو سرکاری ہسپتال پہنچایا روزنامہ خبریں نے جب اس سلسلہ میں ڈسٹرکٹ پولیس قصور کے ترجمان سے رابطہ کیا تو انہوںنے کہاکہ منیر احمد کی مدعیت میں ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کیاجاچکا ہے اور پولیس نے مرکزی ملزم چوہدری عباس جٹ کو چھاپہ مار کر گرفتار بھی کرلیا ہے جبکہ باقی ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جارہے ہیں۔
ضلع کی جگہ تحصیل سطح کا بلدیاتی نظام ، نیک نیتی سے عمل ہو تو فیصلہ اچھا : معروف صحافی ضیا شاہد کی چینل ۵ کے پروگرام ” ضیا شاہد کے ساتھ “ میں گفتگو
لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں و تبصروں پرمشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ ضلعی سطح کی بجائے تحصیل کی سطح پر اختیارات کی تقسیم یک نیا تجربہ ہے اس لحاظ سے تو یہ ایک بہتر سسٹم ہے کہ تحصیل کو بنیاد بنا کر ڈویلپمنٹ کی سرگرمیاں مرکوز کرنا چاہتے ہیں لیکن بنیادی طور پر جس طرح سے پہلا نظام چلا تھاپھر دوسرا نظام آیا پھر تیسرا آیا باری باری تجربہ کرنا پڑتا ہے جب کوئی سسٹم آتا ہے تو اس کی خرابیاں بھی پتہ چلتی ہیں اور اس کے نقائص کا بھی پتہ چلتی ہیں جب باقاعدہ اس پر عمل نہیں آئے گا تواس کا پتہ چلے گا کہ اس میں کہاں کہاں خرابی تھی اور کہاں کہاں خوبی تھی۔ میں نہیں سمجھتا کہ کاغذ پر لکھے ہوئے سسٹم کو آپ کہہ سکتے ہیں کہ یہ پرفیکٹ ہے پرفیکٹ تو اللہ کی ذات کے سوا کوئی نہیں ہے البتہ یہ ایک اچھا اقدام ہے کہ ڈسٹرکٹ کی بجائے ڈسٹرکٹ بہت پھیلا ہوا ایریا ہوتا ہے ضلع کی بجائے تحصیل کو بنیاد رکھا گیا ہے دیکھیں جب یہ سسٹم سامنے آئے گا تو پھر اس کی خوبیوں خامیوں کا پتہ چلے گا۔ ایک سال کافی ہوتا ہے لیکن میں ایک بات دیانتداری کے ساتھ سمجھتا ہو ںکہ پریکٹس کرتے وقت ہی پتہ چلتا ہے کہ اور نظام کاغذ پر سارے اچھے ہوتے ہیں اصل صورت حال پریکٹس کے وقت اس کی خوبی خرابی کا پتہ چلتا ہے۔سانحہ ساہیوال کے ورثاءسے وزیراعظم کی ملاقات ہوئی امدادی چیک بھی دیئے گئے امدادی چیک ان کے پیاروں کو واپس نہیں لا سکتے۔ ضیا شاہد نے کہا کہ جتنی ظالمانہ اقدام تھا میں یہ سمجھتا ہوں کہ دیکھنے والی چیز یہ ہے کہ اس سانحہ کے مرتکب افراد تھے ان کو سزائیں کتنی مل رہی ہیں اب تک کہاں پہنچی ہیں یہ سزائیں۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ ان سزاﺅں کا عمل جو ہے وہ کافی ہے کیا اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ آئندہ کوئی بلنڈر نہیں ہوگا۔ دیکھنے والی بات ہے کہ پولیس کی وردی کے سوا کچھ نہیں بدلا جس طرح سے پولیس ویسے ہی ہے اور اس کا مزاج، سٹائل ویسے ہی ہے عمران خان صاحب کے بارے دعوﺅںکے باوجود خیبر پختونخوا کی پولیس نے کارنامہ انجام دیا وہ انجام دیا کم از کم پنجاب میں شروع میں کہا بھی گیا فلاں صاحب کو لا رہے ہیں مجھے تو پولیس میں کوئی تبدیلی نظر نہیں آتی۔ پولیس نظام سے زبردست قسم کی بنیادی تبدیلیاں ہونی چاہئیں اور پولیس کا سارا ڈھانچہ تبدیل کر کے ہی ہم نئے معاشرے کی بنیاد رکھ سکیں گے۔ضیا شاہد نے کہا کہ ہر طرف یہ افواہ پھیلی ہوئی ہے کہا جاتا ہے کہ نوازشریف صاحب کے سلسلے میں مریم نواز کے حوالے سے شیخ رشید نے پہلے کہا کہ بات چیت کر رہی ہیں این آر او کے لئے کوشش ہو رہی ہے پھر اس کے بعد عمران خان صاحب نے خود یہ کہا کہ نوازشریف پیسے جمع کرائیں اور بے شک ملک سے باہر چلے جائیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ کچھ نہ کچھ چل ضرور رہا ہے اور اب تو یہ کہا جا رہا ہے کہ شہباز شریف صاحب جو لندن یاترا ہے اس کی وجہ یہی ہے کہ وہ اپنے بھتیجوں سے بات کرنے گئے ہیں کہ شاید وہ لم سم اماﺅنٹ 450 سو ارب روپے مالیت کے فلیٹ تھے وہ بڑی آسانی سے ان کے لئے 6 ارب ڈالر دینا جو رقم اب تک کہی گئی ہے۔ کراچی کے دو اخبارات نے بھی 6 ارب ڈالر کوٹ کی ہے کہ نواز شریف صاحب کے بارے میں سنا ہے کہ وہ اتنی رقم دینے کو تیار ہو گئے ہیں ان چیزوں کی تصدیق تو کہیں نہیں ہو سکی کیونکہ اس قسم کی باتیں کوئی کھل کر نہیں کی جاتیں، یہ ایک حقیقت ہے کہ عدالت نے فیصلہ دیا تھا یہ نوازشریف کوصحت خراب ہونے کی بنا پر ضمانت پر رہائی ضرور دی تھی لیکن واضح کر دیا گیا تھا کہ ملک سے باہر نہیں جا سکتے۔ اس لئے وہ پلی بار گیننگ کے قانون کے تحت جب وہ سرنڈر نہیں کریں گے جب تک وہ رقم طے نہیں کریں گے تب تک ان کو باہر جانے کی اجازت نہیں مل سکتی۔ یہ بھی ہو سکتا ہے یہ پلی بار گیننگ حمزہ شہباز سمیت سارے لوگوں کے لئے ہو۔ پیسے بہت زیادہ ہیں یہ تو 450 ارب جو ہیں یہ تو صرف ان 4 فلیٹوں کی قیمت ہے اور جتنے ٹاور دبئی میں بنے ہوئے ہیں ہمارے سابق وزیر خزانہ ڈار کصاحب کے پیسوں کی تو کوئی کمی نہیں ہے۔ضیا شاہد نے راجہ بشارت سے سوال کیا کہ سودی کاروبارکے سلسلے میں جس کی طرف سے ہم نے پروگرام میں آپ کی توجہ دلائی تھی فریقین کو یہاں طلب کیا تو اپنے ناظرین کے لئے جاننا چاہتا ہوں کہ آپ نے بڑی محبت کی اور فوراً ایکشن بھی لیا کہاں تک یہ مسئلہ پہنچا اور کتنے دنوں کے اندر اس کی رپورٹ مل جائے گی۔ مجھے یہ بھی پتہ چلا کہ مظفر گڑھ کے ڈی پی او کے حوالہ سے کہ وہاں سے آپ کے حکم پر لوگوں کو لاہور طلب بھی کیا گیا۔بلاول بھٹو نے تھر میں ترقی کے لئے اچھا منصوبہ پیش کیا جس کی کامیابی کیلئے دُعا گو ہیں تھر کوٹ میں اس سے پہلے بڑے مسائل تھے اور قومی سطح پر اس بارے بحثیں ہوتی رہی ہیں۔آئی ایم ایف کی رپورٹ حقائق پر مبنی ہے۔ وزیرخزانہ کہتے ہیں کہ معیشت آئی سی یو سے نکل آئی مستحکم ہونے میں ڈیڑھ سال لگے گا اُمید کرتے ہیں معیشت مستحکم ہونے کی جانب آئے گی۔ پلی بار گین کا قانون موجود ہے پیسے والے اگر کچھ حصہ دے کر جان چھڑا سکتے ہیں تو بارگین کر لینا چاہئے۔ شریف خاندان اور زرداری خاندان میں تو جیسے ریس لگی ہے زیادہ سے زیادہ پیسے باہر لے جانا چاہتے ہیں۔ پیسے باہر لے جانے میں تقریباً تمام ہی بااثر خاندان ملوث ہیں۔ لگتا ہے کہ پاکستان منی لانڈرنگ میں تو یدطولیٰ رکھتے ہیں۔بھارت میں الیکشن شروع ہو رہے ہیں جو مستقبل کے حوالے سے بڑی اہمیت کے حامل ہیں، کون کامیاب ہوتا ہے اس کا پانی اور کشمیر کے مسئلہ اور دو طرفہ مداکرات پر بڑا اثر پڑے گا۔ پورا پاکستان اس وقت بھارتی الیکشن کو بڑی دلچسپی سے دیکھ رہا ہے۔ نریندرمودی کے خلاف جس طرح اپوزیشن جماعتیں اکٹھی ہو رہی ہیں، وہاں کے ادیب، فلم سٹار اور لبرل طبقہ جس طرح بی جے پی پالیسیوں کے خلاف اٹھ کھڑا ہوا ہے، نئے نئے اتحاد بن رہے ہیں ان سے پتہ چلتا ہے کہ مودی کو ماضی والی اکثریت حاصل نہیں ہو گی۔وزیرقانون راجہ بشارت نے کہا کہ اہم انسانی مسئلہ کی نشاندہی پر ضیا شاہد صاحب کا مشکور ہوں، مظفر گڑھ سے کیس سے متعلق تمام لوگوں کو بلوایا، تفتیشی اور سرکل افسر بھی ساتھ آئےجن سے کیس بارے ساری تفصیل لی ہے، ان کا موقف تھا کہ ملزم سودی کاروبار نہیں کرتا نہ ہی بڑا زمیندار ہے۔ میں نے ان سے پوچھا کہ بچی اغوا ہوئی یا نہیں، اگر اغوا نہیں ہوئی تو اس و قت کہاں ہے، گمشدہ ہے تو پولیس کیا کر رہی ہے۔ انہیں 24 گھنٹے کا وقت دیا ہے کہ تمام معاملات نمٹا کر رپورٹ کریں جیسے ہی رپورٹ آئے گی آپ تک پہنچا دوں گا۔ متاثرہ فریق کی مکمل دادرسی اور مطمئن ہونے تک خاموش نہیں بیٹھوں گا۔وزیراعظم اور پارلیمانی پارٹی نے مجوزہ بلدیاتی نظام کی منظوری دیدی ہے، یہ نظام دو درجوں پر مشتمل ہو گا۔ پہلا ماضی کی سطح پر ہو گا جس کی پنچائت کا نام دیا دوسرا تحصیل کی سطح پر ہو گا جس میں رورل اور میونسپل ایریا کا الگ الگ سیٹ اپ ہو گا تمام ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز میں میٹروپولیٹن کارپوریشنز ہوں گی اضلاع میں میونسپل کمیٹیاں ہوں گی۔ ماضی اور اس نظام میں فرق یہ ہے کہ اس نظام میں ترقیاتی کام اور فنڈز نچلی سطح پر پنچائت کو براہ راست ٹرانسفر کئے جائیں گے۔ پنچائت ایک موضع پر محیط ہو گی جہاں تمام ترقیاتی کام ان کی نگرانی میں ہوں گے۔ جو سرگرمیاں ضلع کی سطح پر ہوتی تھیں اب انہیں تحصیل کی سطح پر لا رہے ہیں۔ پنچائت کا الیکشن غیر جماعتی جبکہ تحصیل الیکشن جماعتی بنیاد پر ہو گا۔ ضلع کی سطح کا درجہ ختم کرنے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہم تحصیل کی سطح پر براہ راست الیکشن کرانا چاہتے ہیں۔ ضلع کی سطح پر براہ راست الیکشن کی صورت میں انتخابی رقبہ بہت بڑا بن جاتا ہے جس کے باعث ایک آدمی کا براہ راست الیکشن لڑنا مشکل ہےے جو کام ضلع کی سطح پر ہوتے تھے اب تحصیل کی سطح پر ہوں گے۔ پنچائت اور تحصیل کونسل خود مختار ہوں گے ان کے درمیان ترقیاتی فنڈز کے حوالے سے کوئی تعلق نہ ہو گا۔ وزیراعظم کی سوچ تھی کہ ایسا بلدیاتی نظام لایا جائے جس میں عوام کو نچلی سطح پر با اختیار بنایا جائے اور وہ اپنے انتظامی اور ترقیاتی کاموں کے فیصلے مقامی طور پر کریں۔ احمدی کمیونٹی کی طرف سے گوگل پلے سٹور پر قرآن پاک کی ایپ لوڈ کرنے کے معاملہ پر وزیر قانون نے کہا کہ ہم حساس معاملات پر بڑی ذمہ داریسے نمٹانے کو ترجیح دیتے ہیں۔ اس معاملے پر مکمل معلومات لوں گا، متعلقہ ادارے سنجیدگی سے اس کو دیکھیں گے مثبت پیش رفت سامنے آئے گی۔
ن لیگ اور ق لیگ میں قربتیں، عمران کا پالا بڑے مافیا سے پڑا ہے: کاشف بشیر ، جتنی بربادی شریف خاندان نے کی ، اس پر تاریخ معاف نہیں کرےگی: اعجاز حفیظ ، سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے جانے سے مافیا دوبارہ چھا گئی : اظہر صدیق ، پنجاب میں مضبوط وزیراعلیٰ ہوتا تو حالات قدرے بہتر ہوتے: شاہد بھٹی ، چینل ۵ کے پروگرام ” کالم نگار “ میں گفتگو
لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) چینل فائیو کے تجزیوں اور تبصروں پر مشتمل پروگرام ”کالم نگار“میں گفتگوکرتے ہوئے تجزیہ کار اعجاز حفیظ خان نے کہا ہے کہ دشت غربت میں حکومت کا فرض ہے غریب کو ریلیف دیں۔جتنی تباہی و بربادی شریف خاندان اور حمزہ شہباز نے کی ہے اس پر تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔ ق لیگ کی سیاست بھی واضح ہو جائے گی، لگتا ہے ساری دال ہی کالی ہے۔ ہزار حمزہ اور مونس الہیٰ ملکر بھی عمران خان کو نہیں ہلا سکتے۔ ادارے سوچیں اور حکومت قانون سازی کرے کہ کیوں نیب کے اربوں ، کھربوں فراڈ کرنے والے ملزم کو ہتھکڑی نہیں لگائی جاسکتی اور 20روپے جیب کاٹنے والے کو لگائی جاتی ہے۔ ماضی کی طرح موجودہ حکومت بھی اپنے وزراءکی ستائی ہوئی ہے۔ ڈالر کی قیمت میں اضافہ حکومت کی ناکامی ہے حکومت سخت ایکشن لے۔ تھرکول پاورپلانٹ کا افتتاح کرنے پر بلاول مبارکباد کے مستحق ہیں۔ میزبان تجزیہ کار کاشف بشیر نے کہاکہ ن لیگ اور ق لیگ کے درمیان قربت بڑھ رہی ہے۔ شریف خاندان سے ڈیل کے لیے ڈھیل دی جارہی ہے۔ عمران خان کا پالا بہت بڑے مافیا کیساتھ ہے۔ صوبائی وزراءآزادانہ کام نہیں کر رہے۔ مہنگائی بڑھنے پر اسد عمر کا فارغ ہونا چاہیے۔کالم نگارشاہد بھٹی کا کہنا تھا کہ 30سال سے قابض حکومتوں کی جانب سے بنائی گئی بیوروکریسی کو ٹھیک کرنے میں وقت لگے گا۔ پنجاب حکومت فیصلوں میں غلطیاں کر رہی ہے۔پنجاب میں مضبوط وزیراعلیٰ ہوتا تو حالات مختلف ہوتے۔پیپلزپارٹی کا دباﺅ آنے پر شریف خاندان کو ڈھیل دی جارہی ہے۔ عمران خان معاشی ایمرجنسی ڈکلیئر کریں، حکومتی معاشی پالیسی درست نہیں ۔تجزیہ کاراظہر صدیق نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کے آنے سے بزنس ٹائیکونز کی سپلائی چین کٹ گئی ہے۔پاکستان میں جوڈیشل ایکٹوازم کا اختتام نہیں ہوسکا، سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے جانے کے بعد مافیا دوبارہ چھا گئی ورنہ ادویات مہنگی ہوتے ہی از خود نوٹس لیا جاتا۔بیوروکریسی کو قابو کرنا عمران خان کے بس کی بات نہیں عدالتوں کا کام ہے۔سینٹرل پنجاب کیخلاف سازش کے حوالے سے آج پارلیمانی پارٹیوں کے اجلاس میں 17ایم پی ایز شامل نہیں ہوں گے۔ شہباز شریف بہت بڑے جادوگر ہیں،گیس پر 100ارب سرکلر ڈیبٹ چھوڑ گئے۔ پنجاب میں بہت سے آیان علی ہیں۔حمزہ شہباز 20سے 30وکیل لیکرہائی کورٹ پہنچے اور حالیہ کیسز پر پر ضمانٹ کے لیے دو آرڈر آج لیکر آئے مگر قوم کو پورا ہفتہ بے وقوف بنائے رکھا۔ گاڈ فادر،سسلین مافیاکو ہائی کورٹ کی جانب سے ضمانت قبل از گرفتاری دینا حیران کن ہے۔ حمزہ شہباز 96ایچ میں جا کر سانپ بن کر اس لیے بیٹھے تھے کہ وہاں منی لانڈرنگ کی سب شہادتیں تھیں۔اشرافیہ ریاست کو چیلنچ کر رہی ہے کہ وہ طاقتور ہے۔ حمزہ کے نیب کے سامنے پیش نہ ہونے پر انکی ضمانت منسوخ ہونا بنتی ہے۔ نیب کو سپریم کورٹ جانا چاہیے۔تین وفاقی وزراءفارغ ہونے والے ہیں۔ اسحاق ڈالر نے ڈیبٹ کی لمٹ 60فیصد سے 87فیصد کر کے تعریف بدل دی۔1996ءمیں تھرکول پلانٹ کا منصوبہ منسوخ کرنے پر بلاول کو نواز شریف کو کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کرنا چاہیے۔
وزیراعظم عمران خان کی سانحہ ساہیوال کے ورثاءسے ملاقات ،چیک بھی دئیے
لاہور(ویب ڈیسک)وزیراعظم عمران خان نے 3 ماہ بعد سانحہ ساہیوال کے متاثرین سے ملاقات میں جوڈیشل کمیشن بنانے کا حکم دے دیا۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے سانحہ ساہیوال کے متاثرہ خاندان سے ملاقات کی جس میں وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار بھی موجود تھے۔ ملاقات میں مقتول خلیل کے والد، بھائی اور بچے بھی موجود تھے۔ ذرائع کے مطابق واقعے کے 3 ماہ بعد ہونے والی ملاقات میں وزیراعظم نے متاثرہ خاندان کے مطالبے پر جوڈیشل کمیشن بنانے کا حکم دیا۔وزیراعظم نے کہا کہ قانونی طور پر دیکھا جائے اگر جوڈیشل کمیشن بن سکتاہے تو عمل کیاجائے۔ وزیر اعلی قانونی ماہرین سے مشاورت کے بعد اقدامات اٹھائیں گے۔وزیراعظم عمران خان سے ہونے والی ملاقات میں خلیل کی فیملی نے جوڈیشل کمیشن کی درخواست کی تھی۔ سانحہ ساہیوال پر پہلے جے آئی ٹی نے تحقیقات کیں جبکہ لاہور ہائی کورٹ کے حکم پر سانحہ پر جوڈیشل انکوائری بھی ہوچکی ہے جس کی رپورٹ بھی جمع کروائی جاچکی ہے۔ وزیراعظم نے متاثرہ خاندان سے ہونے والی ملاقات امدادی چیک بھی تقسیم کیے۔سانحہ ساہیوال کے متاثرین نے وزیر اعظم سے ملاقات کے دوران ان کے سامنے تین مطالبات پیش کیے۔متاثرین نے سانحہ ساہیوال پر جوڈیشل کمیشن بنانے، کیس لاہور ٹرانسفر کرنے اور جھوٹی ایف آئی آر خارج کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔سانحے میں جاں بحق ہونے والے خلیل کے بھائی جلیل نے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان نے ہمارے تینوں مطالبات تسلیم کرلیے ہیں جبکہ انہوں نے جھوٹا مقدمہ بھی فوری خارج کرنے کا حکم دیاہے،وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ سانحہ ساہیوال کا کیس بھی لاہور ٹرانسفر کرنے میں ہمیں مسئلہ نہیں ہے۔عمران خان نے کہا کہ سی ٹی ڈی نے جب مقدمہ خارج کرنے کا کہا تو ابھی تک کیوں نہیں کیا گیا؟۔جلیل نے مزید بتایا کہ عمران خان نے بچوں کے لیے دو کروڑ اور والدین کے لیے ایک کروڑ کا چیک بھی دیا۔اس موقع پر وزیر اعظم نے کہا کہ انسانی جان کے ضیاع کا کسی صورت ازالہ نہیں کیا جا سکتا تاہم حکومت متاثرین کے دکھ درد میں برابر کی شریک ہے۔


















