لاہور(خبر نگار) لاہور میں تیز ہواو¿ں اور بارش نے تباہی مچادی، کئی گھروں کی چھتیں ا±ڑ گئیں، درخت اکھڑ گئے اور نشیبی علاقوں میں پانی بھر گیا، مضافاتی علاقوں میں فصلیں برباد ہوگئیں، محکمہ موسمیات نے طوفانی بارشوں کا سلسلہ آج تک جاری رہنے کی پیشگوئی کردی۔گزشتہ روز شہر میں ہونے والی موسلا دھار بارش نے ایک طرف موسم خوشگوار بنا دیا تو دوسری جانب سڑکوں پر جمع پانی سے واسا کی کارکردگی کا پول کھول کر رکھ دیا، طوفانی بارش کے باعث بجلی کا ترسیلی نظام شدید متاثر ہوا، لیسکو کے 260 فیڈرز ٹرپ ہونے کی وجہ سے مختلف علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل ہوگئی، شدید بارش کے باعث شہر کے بیشترعلاقوں گلاب دیوی، محمود چوک، مسلم ٹاو¿ن موڑ، لنک روڈ موچی پورہ، انڈر پاس جیل روڈ، شوق چوک، اللہ ہو چوک، مال روڈ، جی پی او چوک پر پانی جمع ہونے سے ٹریفک بلاک رہی۔وقفے وقفے سے ہونے والی بارش سے نہ صرف سڑکیں ندی نالے کا منظر پیش کرنے لگیں بلکہ ضلعی انتظامیہ کے صفائی کے حوالے سے دعوو¿ں کی قلعی کھول دی، طوفانی بارش نے کسانوں کی سال بھر کی محنت پر پانی پھیر دیا، دوسری جانب وزیراعلیٰ پنجاب نے عوام سے طوفانی بارشوں کے تھمنے کی اللہ کے حضور عاجزی سے دعا کرنے کی اپیل کردی۔ واسا ریکارڈ کے مطابق سب سے زیادہ بارش اپر مال پر 26 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی جبکہ جیل روڈ پر 12 ملی میٹر، ائیر پورٹ پر 14 ملی میٹر، لکشمی چوک میں 13 ملی میٹر ، مغلپورہ میں 18 ملی میٹر، تاجپورہ میں 15 ملی میٹر، گلشن راوی میں 13 ملی میٹر، علامہ اقبال ٹاو¿ن میں 13 ملی میٹر ، سمن آباد میں 12 ملی میٹر اور جوہر ٹاو¿ن میں 11 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق لاہور شہر کا زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 21 اور کم سے کم 16 ڈگری سینٹی گریڈ رہنے کا امکان ہے، ہوا 16 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چل رہی ہے، جبکہ ہوا میں نمی کا تناسب 73 فیصد ہے۔ ماہرین موسمیات کا کہنا ہے کہ بارش کا سلسلہ کل شام تک جاری رہنے کا امکان ہے۔صوبائی وزیر بلدیات بشارت راجہ نے محکمہ بلدیات کو حالیہ بارشوں سے پیدا ہونے والے مسائل کے ازالے کے لیے فوری اقدامات کی ہدایات جاری کر دیں، بشارت راجہ نے کہا ہے کہ بالخصوص اندرون شہر اور متصل آبادیوں سے پانی کی نکاسی کو یقینی بنایا جائے، خستہ حال عمارتوں کو نوٹس دیئے جائیں اور مزید متوقع بارشوں کے پیش نظر اپنے عملے اور مشینری کو الرٹ رکھا جائے۔
Monthly Archives: April 2019
پاکستانی فلم دی لیجنڈ آف مولا جٹ کی ریلیز کےخلاف25 اپریل کو سماعت ہوگی
لاہور( آن لائن )لاہور ہائی کورٹ نے آنے والی پاکستانی فلم دی لیجنڈ آف مولا جٹ کی ریلیز کے خلاف رواں ماہ 25 اپریل کو سماعت کا حکم دے دیا۔لاہور ہائی کورٹ میں دی لیجنڈ آف مولا جٹ کی ریلیز کے خلاف 1979 میں ریلیز ہونے والی فلم مولا جٹ کے پروڈیوسر محمد سرور بھٹی اور ان کے بیٹے متقی بھٹی نے درخواستیں دائر کر رکھی ہیں۔لاہور ہائی کورٹ نے محمد سروراور متقی بھٹی کی درخواست پر ہی دی لیجنڈ آف مولا جٹ کی ٹیم کو تاحکم ثانی فلم کو ریلیز کرنے سے روک دیا تھا۔گزشتہ ماہ 18 مارچ کو متقی بھٹی کی جانب سے دائر کی گئی درخواست میں کہا گیا تھا کہ ئی فلم کی ٹیم غیر قانونی طور پر کسی اجازت کے بغیران کی بنائی گئی فلم کا نام استعمال کر رہی ہے۔متقی سرور کی جانب سے دائر کی گئی درخواست میں کہا گیا تھا کہ دی لیجنڈ آف مولا جٹ کی ٹیم ان کی فلم کا نام، ڈائلاگ اور کرداروں کے نام استعمال نہیں کر سکتی۔عدالت سے درخواست کی گئی تھی کہ دی لیجنڈ آف مولا جٹ کو غیر قانونی قرار دے کر اس کی نمائش کو روکنے کا حکم دے۔بعد ازاں 20 مارچ کو محمد سرور بھٹی نے لاہور ہائی کورٹ میں نئی فلم کے خلاف درخواست دائر کرتے ہوئے ان کے کاپی رائٹس کو چیلنج کیا تھا۔محمد سرور کی جانب سے دائر کی گئی درخواست میں دعوی کیا گیا تھا کہ دی لیجنڈ آف مولا جٹ کے بلال لاشاری اور ان کی ٹیم نے غیر قانونی طور پر کام کرنے والے رجسٹرار کاپی رائٹ سے کاپی رائٹ سرٹیفیکیٹ حاصل کیا ہے۔
انجلینا جولی اور براڈپٹ میں باضابطہ طلاق ہوگئی، غیر شادی شدہ قرار
واشنگٹن(نیٹ نیوز)ہولی وڈ اداکار براڈ پٹ اور انجلینا جولی نے یوں تو طلاق کے لیے ستمبر 2016 میں امریکی عدالت میں درخواست دائر کی تھی۔اور ابتدائی طور پر 2017 تک ان کے درمیان طلاق کا فیصلہ بھی کرلیا گیا تھا۔تاہم دونوں کے 6 بچوں کی حوالگی کی وجہ سے انہیں قانونی طور پرطلاق یافتہ اور غیر شادی شدہ قرار نہیں دیا گیا تھا۔اور اب ابتدائی طلاق ہوجانے کے 2 سال بعد عدالت نے انہیں باضابطہ طور پر طلاق یافتہ جوڑا قرار دے دیا۔ساتھ ہی عدالت نے دونوں کو قانونی طور پر لیگلی سنگل یعنی غیر شادی شدہ بھی قرار دے دیا اور اب دونوں نئی شادی کرنے کے لیے بالکل آزاد ہیں۔امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق دونوں کو چند دن قبل ہی امریکی ریاست کیلیفورنیا کی عدالت نے باضابطہ طور پر طلاق یافتہ قرار دیتے ہوئے انہیں غیر شادی شدہ قرار دے دیا۔عدالتی فیصلے کے بعد ان انجلینا جولی اپنے نام کے آخر سے پٹ کو بھی ہٹانے کی اہل ہوگئیں اور فیصلہ آتے ہی انہوں نے اپنے قانونی دستاویزات میں سے پٹ کا لفظ ہٹالیا۔اداکارہ کو عام طور پر انجلینا جولی کے نام سے ہی جانا اور پکارا جاتا ہے اور وہ اپنے نام کے ساتھ پٹ نہیں لکھتیں، تاہم قانونی دستاویزات میں براڈ پٹ سے شادی کے بعد ان کا نام انجلینا جولی پٹ تھا۔سی این این کے مطابق اگرچہ دونوں کی باضابطہ طور پر طلاق بھی ہوگئی، تاہم تاحال دونوں کے درمیان بچوں کی حوالگی کا معاملہ طے نہیں ہو پایا۔رپورٹ کے مطابق دونوں کے درمیان باضابطہ طور پر جلد طلاق نہ ہونے کا سبب بھی بچوں کی حوالگی کا معاملہ تھا، کیوں کہ براڈ پٹ چاہتے ہیں کہ ان کے 6 بچوں کی حوالگی مشترکہ طور پر طے کی جانی چاہیے جب کہ اداکارہ چاہتی ہیں کہ بچوں کی حوالگی مشترکہ نہ ہو۔انجلینا جولی کی خواہش ہے کہ بچے ان کے سپرد کیے جائیں۔دونوں کے 6 بچے ہیں، جن میں سے سب سے بڑے بچے کی عمر18 برس ہے۔دونوں کے بچے ان کے اصل بچے نہیں بلکہ دونوں نے انہیں مشترکہ طور پر گود لیا تھا۔جوڑے کے دیگر بچوں میں سے دوسرے بڑے بچے کی 15 برس ہے، جس کے بعد 14 اور 13 برس کے ایک بچے سمیت دو 11 سالہ جڑواں بچے بھی ہیں۔دونوں کی باضابطہ طلاق ہوجانے اور دونوں کو قانونی طور پر غیر شادی شدہ قرار دیے جانے کے بعد اب غیر شادی شدہ قرار دیا جارہاہے۔
قانون کی حکمرانی سے پاکستان کو ترقی یافتہ بنایا جاسکتا ہے ، انسانی وسائل پر زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاری کی ضرورت ہے:شعیب سلطان کا خبریں کو خصوصی انٹرویو
اسلام آباد (ملک منظور احمد ، اویس منیر ، تصاویر : نکلس جان ) نیشنل رورل سپورٹ پروگرام کے چیئرمین شعیب سلطان خان ( نشان امتیاز) نے کہا ہے کہ انھیں وزیر اعظم عمران خان سے بہت سی امیدیں وابستہ ہیں وہ غریبوں کے لیے حقیقی طور پر کچھ کرنا چاہتے ہیں وزیراعظم نے غربت کے خاتمے کے لیے انقلابی پروگرام احساس کاآغاز کیا ہے وزیراعظم کے احساس پروگرام پر درست انداز میں عمل کیا جائے تولاکھوں افراد کو غربت سے نکالا جا سکتا ہے‘ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی تنظیم نو کرنے کی ضرورت ہے‘ عوام کو امداد دینے سے زیادہ اہم ہے کہ انھیں اس قابل بنایا جائے کہ انھیں کسی امداد کی ضرورت ہی نہ پڑے ۔پا کستان میں حکومتی پالیسیوں میں عدم تسلسل مسائل میں اضافہ کی بڑی وجہ بنتا ہے بھارت میں میرے پروگرام کو پا کستان سے زیادہ کامیابی سے چلایا گیا ہے پاکستان کا مستقبل اس ملک کے غریب عوام ہیں حقیقی تبدیلی اوپر سے نہیں بلکہ نچلی سطح سے آئے گی پاکستان میں وسائل کی کمی نہیں ہے گڈ گورننس، شفافیت اور قانون کی حکمرانی کو یقینی بنایا جائے تو پاکستان کو ترقی یافتہ ملک بنایا جا سکتا ہے انسانی وسائل پر زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے خبریں کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کیا۔ ایک سوال کے جواب میں چیئرمین رورل سپورٹ نیٹ ورک شعیب سلطان خان نے کہا کہ انھوں نے 1955ءمیں سی ایس پی کے امتحان پاس کیا تو ان کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ وہ رورل سپورٹ نیٹ ورک کا قیام عمل میں لائیں گے ۔مجھے غریبوں کی خدمت کی طرف لانے میں اختر حمید خان نے کلیدی کردار ادا کیا خاص طور پر بنگال میں پڑنے والے قحط کے بعد میرا اس طرف رجحان بڑھا ۔سب سے پہلے تو میں نے پشاور میں داﺅد زئی پراجیکٹ کے نام سے سپورٹ پروگرام شروع کیا تو دور میں وہاں اے این پی کا زور تھا میرا کام ان لوگوں کو پسند نہیں آیا وہ سمجھے کہ میں سیاسی بنیادوں پر عوام کو متحد کر رہا ہوں جبکہ حقیقت میں ایسا کچھ بھی نہ تھا ،اس کام کے انجام دہی میں بہت سی سیاسی رکاوٹیں سامنے آئیں لیکن دا ﺅد زئی پراجیکٹ کی وجہ سے میری شہرت میں بہت اضافہ ہو گیا اور مجھے اس پراجیکٹ سے متعلق جاپان سے کتاب لکھنے کی پیشکش کی گئی جو کہ میں نے قبول کر لی اس بعد میں نے 6ماہ تک جاپان میں اس پراجیکٹ کے حوالے سے کتاب لکھی اس دوران ہی مجھے یونیسف کے توسط سے سری لنکا میں جا کر اپنے کام کو بڑھانے کی پیشکش موصول ہوئی جو کہ میں نے قبول کر لی ۔ سری لنکا میں میرے کام کے حوالے سے امریکہ کے مشہور جریدے نیوز ویک نے ایک آرٹیکل شائع کر دیا جس کے بعد مجھے بین الاقوامی سطح پر شہرت بھی حاصل ہو ئی ۔اس کے بعد مجھے آغا خان فا ونڈیشن کی جانب سے گلگت بلتستان میں غربت کے خاتمے کے حوالے سے کام کرنے کی آفر ہوئی جو میں نے قبول کرلی کیونکہ میں شروع سے ہی وطن کی خدمت کے جذبے سے سرشار تھا اور اپنے ملک کے لیے کچھ کرنا چاہتا تھا ہم نے گلگت بلتستان اور چترال میں اپنے پراجیکٹ کا آغاز کیا جس کو بہت ہی کامیابی ملی عالمی بینک بھی اس منصوبے کو ما نیٹر کر رہا تھا دس سال بعد انھوں نے رپورٹ دی کہ علاقے کے عوام کی حقیقی آمدنی کی شرح میں دوگنا اضافہ ہو چکا ہے یہ ہماری بہت بڑی کامیابی تھی ۔ ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ امریکہ نے ہر موقع پر پا کستان کے ساتھ دھوکہ دہی کی ہے اور امریکیوں پر اعتبار کرنا کسی صورت دانش مندی نہیں ہے جب گلگت بلتستان میں ہمارا پراجیکٹ کامیاب ہو گیا تو یو ایس ایڈ نے بھی ہم سے رابطہ کیا اور کہا کہ اس منصوبے کے دائرہ کار کو مزید وسیع کیا جائے اور اس کے لیے وہ ہمیں 5ملین ڈالر کی فنڈنگ بھی دیں گے ہم نے پراجیکٹ شروع کر دیا تاہم 91ءمیں پریسلر ترمیم کے بعد اس منصوبے کے فنڈ بھی روک دیے گئے ۔یہ میرے لیے ایک برا تجربہ تھا اس کے بعد نواز شریف کی حکومت کے دوران اس وقت کے وزیر خزانہ سرتاج عزیز نے اس پراجیکٹ کو آگے بڑھانے کے لیے حوصلہ افزائی کی اور سات سال میں 10ارب روپے کے فنڈ مختص کرنے کا اعلان کیا منصوبہ پھر سے چلا لیکن حکومت کی تبدیلی کے ساتھ ایک بار پھر روک دیا گیا لیکن دوران ہم نے پریسلر ترمیم کے تناظر میں سبق سیکھتے ہوئے منصوبے کو جاری رکھنے کے لیے انڈومنٹ فنڈ کا قیام عمل میں لے آئے تھے جس کے باعث ہمارا کام کسی حد تک جاری رہا ۔ ایک سوال کے جواب میں شعیب سلطان خان نے کہا کہ دا ﺅد زئی پراجیکٹ کو رورل سپورٹ نیٹ ورک کا پہلا مرحلہ کہا جا سکتا ہے جو کہ دسمبر 1982ءمیں شروع کیا گیا رورل سپورٹ نیٹ ورک پروگرام کا با قا عدہ قیام 2000ءمیں قیام عمل میں آیا اس منصوبے کے بنیادی طور پر دو مقاصد تھے ایک تو علاقے کے عوام کی آمدنی میں دگنا اضافہ اور دوسرا کہ غربت کے خاتمے کے لیے ایک ایسا جامع ماڈل تیار کر نا جسے کہ پا کستان کے دیگر علاقوں میں بھی پھیلایا جاسکے آج یہ پروگرام پا کستان کے 145اضلاع میں موجود ہے جو کہ بڑی کامیابی ہے لیکن یہا ں پر میں یہ کہوں گا کہ جب تک گھر گھر تک نہ پہنچا جائے تب تک غربت کا خاتمہ ناممکن ہے کیونکہ پا کستان میں غربت گھر کی سطح پر پائی جاتی ہے ۔ ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ میں بطور یونیسف کے نمائندہ کے طور پر بھارت میں خدمات انجام دے چکا ہوں اور وہاں کی حکومت نے مجھے غربت کے خا تمے کے حوالے سے بہت سپورٹ کیا بھارت کی ریاست اندھرا پردیش کے علاقے میں یہ پراجیکٹ کامیابی سے چلایا گیا کئی بھارتی سیاست دانوں اور اہم شخصیات نے اس بات کا اعتراف بھی کیا کہ ہم نے غربت کے خا تمے کے حوالے سے کام کر نا پا کستان سے سیکھا ہے ۔ ایک سوال کے جواب میں شعیب سلطان خان نے کہا کہ انھیں ان کی خدمات کے نتیجے میں ستارہ امتیاز ہلال امتیاز اور نشان پا کستان اور فلپینز کے صدر کی طرف سے میگ سے سے magsaysayایوارڈ سے بھی نوازا جاچکا ہے لیکن ان کے نزدیک اصل اہمیت عوام کی بے لوث خدمت میں ہی ہے ۔ ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کو ری ویمپ کرنے کی ضرورت ہے لوگوں کو اس قابل بنانا چاہیے کہ ان کو کسی امداد کی ضرورت نہ پڑے غریب سے غریب بندہ بھی کچھ نہ کچھ کر سکتا ہے حکومت کو سپورٹ اس کام کے حوالے سے مہیا کرنی چاہیے جو کہ کوئی غریب بندہ کر سکے ۔ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں ہمارے اعتراضات کے بعد poverty scorecardشامل کیا گیا جو کہ ہمیں پا کستان میں غربت کی حقیقی شرح کا درست اندازہ لگانے میں مدد دیتا ہے ۔ اس حوالے سے وزیر اعظم عمران خان کا غریب افراد کو مرغیاں اور انڈے دینا کا منصوبہ بھی اہمیت کا حامل ہے ۔حکومت کا احساس پروگرام بھی اہمیت کا حامل ہے اور اگر اس پر درست انداز میں عمل درآمد کیا جاتا ہے تو لا کھوں لوگوں کو سطح غربت سے نکالا جا سکتا ہے ۔وزیر اعظم عمران خان سے بہت سی امیدیں وابستہ ہیں وہ غریبوں کے لیے کچھ کرنا چاہتے ہیں پا کستان میں تبدیلی نیچے سے ہی آسکتی ہے اوپر سے نہیں غریب اس ملک کا مستقبل ہیں ۔دہی علاقوں میں آرگنا ئزیشن کا نظام مضبوط بنانے کی ضرورت ہے ۔اس سے دہی مسائل کے حل میں مدد ملے گی ۔
حکومت فصلوں کی تباہی سے ہونیوالے نقصان کا ازالہ کرے:کائرہ ، گندم کٹائی کیلئے تیار ،نالائق محکمہ فوڈ پالیسی نہیں بناسکا کہ کتنا باردانہ دینا ہے :چیئرمین کسان اتحاد، کرکٹ بورڈ کی گورننگ باڈی کے پانچ ارکان نے چیئرمین پر عدم اعتماد کردیا:خالد محمود ، بیوروکریسی اب مفاد عامہ کے فیصلے نہیں کرسکتی:کامران مرتضیٰ کی چینل ۵ کے پروگرام ” نیوز ایٹ 7 “ میں گفتگو
لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) چیئرمین کسان اتحاد چوہدری انور نے کہا ہے کہ گندم کی زرعی پیداوار کے حوالے سے حکومت کی کوئی پالیسی نہیں، گندم کٹنے کو تیار ہے اور نالائق محکمہ فوڈ ابھی تک یہ طے نہیں کر پایا کہ کاشتگار کو فی ایکڑ کتنا باردانہ دینا ہے۔ چینل فائیو کے پروگرام ”نیوز ایٹ سیون“میں گفتگو کرتے ہوئے انکا کہنا تھا کہ پنجاب کا وزیراعلیٰ سو رہا ہے، عمران خان کو سمجھ کیوں نہیں آتی کہ حکومتی محکمہ گندم 1300 روپے میں بھی خریدنے کو تیار نہیں۔ پیپلز پارٹی کے رہنما قمر الزمان قائرہ کا کہنا ہے کہ حکومت بارشوں کے باعث فصلوں کی تباہی سے کسانوں کو ہونے والے نقصان کے فوری ارزالہ کی کوشش کرے۔ فصلوں کی انشورنس کے فارمولا پر عمل درآمد ہونا چاہیے تاکہ کسانوں کو تحفظ مل سکے۔ کسان جب تک اکٹھے ہو کر مناسب فورم نہیں بناتے، حکومت پر دباو نہیں ڈالتے، انکے حقوق کا دفاع کوئی نہیں کر پائے گا۔ریزیڈینٹ ایڈیٹرخبریںملتان میاں غفار نے کہاکہ خانیوال اور ملتان کا پچھلی بارشوں کے نقصان کا تخمینہ ایک لاکھ ایکڑ پر کھڑی25لاکھ من فصلوں کی تباہی ہے۔ گذشہ دودن کی بارشوں سے جنوبی پنجاب کے 11اضلاع میں نقصان ہوا ہے۔ سائیکلون جمعرات کو ختم ہوگا جسکے بعد اداروں کی جانب سے نقصانات کا تخمینہ لگایا جائے گا۔ گندم پکنے کے بعد قدرتی آفت سے بچاو ممکن نہیں۔مگرحکومت کی جانب سے عام کاشتکار کے نقصانات کا ارزالہ بھی نہیں کیا جاتا۔پاکستان گندم میں خودکفیل ہے، گندم درآمد کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔سابق چیئرمین پی سی بی خالد محمود نے کہا کہ پی سی بی کے گورننگ بورڈ کے اراکین کی جانب سے مینجنگ ڈائریکٹروسیم خان کی تقرری تسلیم کرنے انکار چیئرمین پی سی بی پر عدم اعتماد کا اظہار لگتا ہے تاہم بورڈ کے گذشتہ اجلاس میں اسی بورڈ نے انکی تقرری کی متفقہ منظوری دی تھی۔بورڈ کے 5ممبران کا اختلاف بورڈ کے اکاونٹس کے آڈٹ کے معاملے کو پہلے نمٹانے کے مطالبے پر ہوا۔ اس معاملے پر کرکٹ بورڈ کی جگ ہنسائی ہوئی ہے۔آئین کے تحت اجلاس دوبارہ بلا کر افہام و تفہیم سے معاملہ طے کیا جاسکتا ہے۔ تصادم ہوا تو گورننگ باڈی میں تبدیلی کی جاسکتی ہے جسکا اختیار صرف پیٹرن کے پاس ہے۔سابق صدر سپریم کورٹ بار کامران مرتضی نے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ ضمانت بعد از گرفتاری ہر ملزم کا حق اور اسمیں توسیع بھی ہوجاتی ہے۔1999ءکے بعد سے بیوروکریسی کو یہ شکایت ہے کہ انکے فیصلوںپر نیب کی کاروائیوں اور گرفتاریوں سے اعلیٰ افسران اور اداروں کی ساکھ متاثر ہوتی ہے اور افسران بہتر فیصلے نہیں کرپاتے۔ نیب کی ایسی کاروائیوں سے پاکستان کی معیثت کو نقصان ہوا۔ بیوروکریسی کے پاس اب مفاد عامہ کے لیے فیصلے کرنے کی طاقت نہیں رہی ۔ حکومت کے لے خطرے کی گھنٹیاں بج چکی ہیں۔حکومت چور چور کا شور مچا کر سسٹم چلانے کی کوشش کر رہی ہے اور شہید بن کر جان چھڑانے کی خواہش میں ہے۔ تحریک انصاف بنا تیاری صرف یہ سوچ کر حکومت میں آئی کہ 300ارب ڈالرزلائیں گے جسمیں سے 100ارب ڈالر باقی دنیا کے منہ پر ماریں گے، 100ارب ڈالر اپنے عوام کے اور باقی 100ارب ڈالر اپنے منہ پر ماریں گے۔ ایسے بچگانہ ایجنڈے کیساتھ ملک کی تباہی کے لیے تحریک انصاف کو لانے والے سہولت کاروں سے ہمیں گلہ ہے۔ ملک و قوم کی اس تباہی کا مداوا اگلے 10سال میں بھی نہیں ہوسکے گا۔
عوام جعلی ہاﺅسنگ سکیموں کے ہاتھوں لٹ رہے ہیں ، نیب خود اشتہار دیکر داد رسی کرے : معروف صحافی ضیا شاہد کی چینل ۵ کے پروگرام ” ضیا شاہد کے ساتھ “ میں گفتگو
لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں و تبصروں پرمشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے جو ہاﺅسنگ کا پروجیکٹ دیا ہے۔ تفصیلات سامنے آئیں گی تو پتہ چلے گا کہ کن شرائط پر یہ پروجیکٹ دیا گیا ہے۔ کیونکہ انویسٹر کا پیسہ محفوظ ہو گا تو ضرور پیسہ لگائے گا۔ کن لوگوں نے مکان حاصل کرنے کے لئے کن شرائط پر گھر لینے ہیں اور قسطیں کیسے ادا کرنی ہیں۔ چیئرمین نیب نے ایک ہاﺅسنگ کے متاثرین کے پیسے واپس کروائے ہیں۔ اس ملک میں ایک نہیں ہزاروں ڈبل شاہ ہیں۔ یہ گلی گلی محلے محلے 20 کنال زمین نہیں ہوتیاور وہ 200 گھروں کے جعلی کاغذوں پر پلاٹ بیچ دیتے ہیں میں چودھری قمرالزمان کو مجھے اچھی طرح سے یاد ہے ان کو میں نے تقریب میں کہا تھا کہ آپ ایک اشتہار دیں کہ ہر وہ شخص جس نے کسی جگہ پیسے جمع کرائے ہیں اور پچھلے 5 یا دس سال سے اس کو نہ پلاٹ ملا ہے نہ گھر ملا ہے نہ وہا ںکوئی سڑک، نہ وہاں پانی نہ بجلی ہے نہ سوئی گیس ہے نہ ہی وہاں زندگی کی سہولتیں ہیں ان کو چاہئے کہ وہ حکومت سے رابطہ کریں تو انہوں نے مجھ سے وعدہ بھی کیا تھا لیکن انہوں نے یہ وعدہ پورا نہیں کیا۔ جاوید اقبال سے بھی کہا تھا کہ انہوں نے کہا کہ میں پریس ریلیز کے ذریعے جن لوگوں کو شکایات ہیں وہ مجھے براہ راست لکھیں میں یہ سمجھتا ہوں کہ اس قسم کی بہت ساری سوسائٹی ہیں جو فراڈ ہیں ان پر آہستہ آہستہ ہاتھ ڈالنا چاہئے۔ شاہدرہ کے پاس ہی ہاﺅسنگ سوسائٹیاں موجود ہیں جو میلوں تک فصلیں کھڑی ہیں جن کے اشتہارات چھپ چکے ہیں کہ ان میں یہ سہولتیں موجود ہیں لیکن سارا کچھ جھوٹ ہوتا ہے۔ مجھے یہ نہیں معلوم کہ موجودہ حکومت نے کوئی ایسی سکیم بنائی ہو کہ کوئی بھی شخص جو ہے کسی شکایت کی بنیاد پر ان کے پاس جا سکے۔ ایسے اقدامات کی ضرورت ہے کہ عوام ایسے جعلی اور فراڈ سوسائٹیوں سے بچنے نیب سے مدد لے سکیں۔ میرا خیال ہے کہ نیب کو اخبارات میں اشتہار دینے چاہئیں کہ وہ کس طرح سے عام متاثرہ شخص کی مدد کر سکتی ہے اور اخبارات کو اپنے صفحات شائع کرنے چاہئیں تا کہ گھروں پلاٹوں کے نام یہ جو جرجرائم ہو رہے ہیں وہ سامنے آ سکیں۔ ڈائریکٹر آئی ایم ایف کا بیان ہے کہ پاکستانی معیشت کو سنبھلنے میں بہت وقت لگے گا۔ اس پر ضیا شاہد نے بات کرتے ہوئے کہا کہ خود ہمارے وزیرخزانہ نے کہا ہے کہ 1½ سال مانگا ہے انہوں نے کہا اس عرصے میں شاید ہم کچھ سنبھل جائیں۔ فی الحال یہ دعویٰ نہیں کیا گیا کہ ہم سنبھل چکے ہیں یہ کہا کہ ہم آئی سی یو وارڈ سے نکل آئے ہیں۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ بہتری کے اآثار جو ہیں بظاہر تو نظر نہیں آ رہے اگر کوئی ہیں تو وہ سامنے آنے چاہئیں۔ آج بہرحال عمران خان صاحب کی طرف سے جو 50 لاکھ گھروں کا وعدہ تھا اس میں سے پہلے 25 ہزار کا افتتاح کر دیا گیا ہے یہ اچھا خوش آئند قدم ہے۔کراچی میں ایک اور بچہ پولیس کے ہاتھوں مارا گیا یہ ایک خوفناک واقعہ ہے کہ واقعتاً یہ ایک انسانیت سوز جرم ہے کہ آپس میں یا جس طرح سے بھی چلا رہے تھے پولیس والوں سے کہاں سے یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ کھلم کھلا ایک دوسرے پر فائرنگ کریں اور ان کے فائر جو ہیں وہ جا کر تیسرے معصوم بچے کو جا کر لیں۔ یہ پہلا واقعہ نہیں ہے اخبارات میں پڑھا ہے یہ چوتھا یا پانچواں واقعہ ہے مشیر اطلاعات سندھ نے اس واقعہ کا نوٹس لیا ہے آپ نے ذمہ داری کا حق ادا کر دیا۔ یہ کیا یہ پولیس ہتھ چھٹ ہو گئی ہے کہ جہاں چاہے گولیاں چلاتی پھر اس واقعہ کا ذمہ دار کون ہے۔ کاﺅنٹر ٹیررازم کو منی لانڈرنگ ختم کرنے کا اختیار دینے کے سوال پر ضیا شاہد نے کہا کہ یہ بہت بڑا فیصلہ ہے اس کو سی ٹی ڈی کے حوالے کرنے کا جس طرح سے دہشت گردی کی عدالتیں جو ہیں ان میں یہ کیس لانچ ہوں گے میں یہ سمجھتا ہو ںکہ منی لانڈرنگ جو ایک معمولی وائٹ کالر کقائم نہیں رہا بلکہ اس کو دہشت گرد سمجھا جائے گا۔ دہشت گردی کی دفعات کی انٹری کی وجہ میں یہ سمجھتا ہوں کہ ایک بڑا جرم شمار ہو گا اور اس کو جلدی جلدی کیفر کردار تک پہنچانے کے لئے دہشت گردی کی عدالتیں جو پہلے بھی کافی تیزی سے کام کرتی ہیں ان کے سپرد کر دیا گیا ہے میرے خیال میں اس کا بہت برا اثر ہو گا صورتحال ضرور تبدیل ہو گی بہرحال یہ کرنا پڑے گا۔ پائپ فروشوں آج لاہور کے فیصل آباد کی باری آئی ہے اور فیصل آباد کے 9 ایڈریس سامنے آئے ہیں جس میں سے 5 بازاروں میں پیپلزکالونی، بھوانہ بازار اور دوسرے بہت سے لوگ ہیں محتلف بازاروں میں بے شمار واقعات سامنے آئے ہیں جس میں بے تحاشا مالیت کے کیس سامنے آئے ہیں جن میں دو بینک منیجر بھی ملوث ہیں۔ کیونکہ بینک منیجروں کی ملی بھگت کے بغیر یہ کام ہو نہیں سکتا۔ بھارت میں انتخابات کا دوسرا مرحلہ اور ان میں حریت رہنماﺅں کا بائیکاٹ کا فیصلہ اس پر ضیا شاہد نے ماہرانہ رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کل سرینگر اور دوسرے مختلف شہروں میں جن کا نام بھی آ گیا ہے اس میں الیکشن ہو رہے ہیں میں یہ سمجھتا ہوں کہ اس سے ایک دفعہ حریت کانفرنس نے مکمل طور پر بائیکاٹ کر دیا ہے اس سے پہلے جو الیکشن ہوئے ہیں اس میں پتہ چلا تھا کہ 9 فیصد ٹرن آﺅٹ تھا دیکھنا ہو گا کہ اگلے مرحلے میں کتنے فیصد لوگ کاسٹ کرتے ہیں یا یہ تعداد اور بھی کم ہوتی ہے۔میرے نزدیک ٹرن آﺅٹ محض پانچ سات فیصد ہو تو دوبارہ الیکشن ہونا چاہئے تاہم ایسا کرنے کیلئے قانون سازی کرنا ہو گی۔ تمام سیاسی جماعتوں کو مل کر یہ قانون لانا چاہئے۔پی سی بی بورڈ آف گورنر کا اجلاس ملتوی ہو گیا موجودہ حالات میں تو ایسا نہیں ہونا چاہئے تھا، ورلڈ کپ سے قبل اگر درست فیصلے نہ کئے گئے اور یہی وطیرہ جاری رہا تو نقصان ہو گا۔ پی سی بی میں اگر اب بھی سیاست جاری رہی اور ادارے کو بیورو کریٹک انداز میں ہی چلانے کی کوشش کی گئی تو قومی سطح پر کھیل کا نقصان ہو گا۔ فورٹ عباس میں بچی کو جلانے والے جعلی پیر کو عدالت نے ضمانت پر رہا کر دیا کیونکہ بچی کی ماں کیس نہیں چلانا چاہتی تھی جبکہ نانی کہہ رہی تھی کہ ظلم کیا گیا ذمہ دار کو سزا ملنی چاہئے تاہم اس کی بات کوئی نہیں سن رہا۔ قانون دانوں کو اس کیس پر اظہار خیال کرنا چاہئے اور بتانا چاہئے کہ کیا فیصلہ درست کیا گیا ہے اگر نہیں تو اس پر علمی سطح پر بحث کی جانی چاہئے۔
ریاست کی ذمہ داری ہے کہ کسانوں کے نقصان کا ازالہ کرے: ضمیر آفاقی ، پاکستان میں بارشوں کے پانی کی مینجمنٹ کیلئے کوئی متبادل انتظام موجود نہیں: آغا باقر ، لٹیروں سے پیسہ وصول کرنے اور انہیں سزا دینے سے بہتر معیشت کیلئے کوئی چیز نہیں: اعجاز حفیظ، لاہور میں طوفانی بارش کے دوران ٹریفک پولیس اہلکار سمیت کوئی حکومتی مشینری نظر نہیں آئی: عبدالباسط ، چینل ۵ کے پروگرام ” کالم نگار “ میں گفتگو
لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)تجزیہ نگار عبدالباسط خان نے کہا ہے کہ بارش غریبوں کے لیے زحمت کیساتھ مصیبت ہے، انکی مدد کے لیے حکومت بھی کچھ نہیں کرتی۔ ڈیم نہ ہونے کے باعث اربوں ڈالرز کابارشوں کاپانی مکمل ضائع ہوتا ہے۔لاہور میں طوفانی بارش کے دوران ٹریفک پولیس سمیت حکومتی مشینری کا کوئی اہلکار موجود ہیں تھا۔ عمران خان کرپشن اور احتساب پر کوئی کمپرومائز نہیں کریں گے۔ عمران خان کی کابینہ میں مشاورت ہوتی ہے یہ چہیتوں کی کابینہ نہیں ہے۔شریف خاندان کہتا ہے جیلوں سے نہیں ڈرتے مگر ضمانتیں کرواتے پھرتے ہے اور خود کو لیڈر کہتے ہیں۔ عمران خان چاہتے ہیں کہ شمالی اور جنوبی پنجاب سے دوٹیمیں، باقی تینوں صوبوں اور وفاق سے ایک ایک ٹیم بننی چاہیے اور مقابلے ہونے چاہیئں۔ احسان مان جس ایم ڈی کولائے وہ انکی کمزوری ہیں، انہوں نے اپنے اختیارات ایم ڈی کو دے دئیے جس پر اراکین نے اعتراضات اٹھائے۔باہر سے لوگوں کو لا کر اداروں میں بٹھانے کی منطق سمجھ سے بالاتر ہے۔ میزبان تجزیہ نگار آغا باقر نے کہا کہ پاکستان میں بارشوں کے پانی کی مینجمنٹ کے لیے کوئی متبادل انتظامات اور گورننس نہ ہونا رحمت کو زحمت بنا دیتا ہے۔ جانی و مالی نقصان کیساتھ کھڑی فصلوں کی تباہی پر کسان شدید مشکلات کا شکار ہیں۔تجزیہ کار اعجاز حفیظ خان نے کہا کہ کاش یہ طوفان محض طوفان ہوتا مگر اس طوفان کے پیچھے غریب کے لیے کئی طوفان تھے۔ اشرافیہ نے عوام کی شہ رگ پکڑی ہوئی ہے۔غربت سب سے بڑا گناہ ہے۔ 30 سال لوٹنے والے چوروں کے راستے میں پھول برسانے کی بجائے پتھر برسائیں اور انہیں جیلوں میں ڈالیں۔ حکومت کو 5سال کی مدت مکمل کرنے کا موقع ملنا چاہیے۔حمزہ شہبازکے کیسز پر لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے اب سپریم کورٹ میں جائیں گے۔ لٹیروں سے پیسہ وصول کرنے اور انہیں سزا دینے سے بہتر معیثت کے لیے کوئی چیز نہیں ہوگی۔ حکومت کی معاشی پالیسی احتساب کے بغیر نامکمل ہوگی۔ ایمنسٹی سکیم بڑا معاملہ ہے کیونکہ عمران خان اسکی مخالفت کرتے رہے ہیں۔ کالم نگار ضمیر آفاقی کا کہنا تھا کہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ کسانوں کے نقصان کا ارزالہ کیا جائے۔حکومتی نااہلی کی سزا عوام کو ملتی ہے۔ طوفانوں کی اطلاع 5دن پہلے مل چکی مگر حکومت نے کوئی اقدامات نہ کیے اور اب تک 75سے زائد ہلاکتیں ہوچکی ہیں۔ قدرتی آفات مسلسل آرہی ہیں، حکومت کو سنجیدہ اقدامات کرنا ہوں گے۔ موجودہ حکومت سے ضیاءالحق اچھا تھا۔ موجودہ حکومت میں احتجاج کرنے پر دہشتگردی کے پرچے کاٹے جاتے ہیں۔ ٹھوس ثبوتوںکی بنیاد پر کاروائی کیستاتھ احتساب کانظام ٹھیک ہو تو مجرم ضمانتوں کا موقع ملے بغیرگرفت میں آئیں گے۔ ایمنسٹی سکیم کے مندرجات طے نہ ہونا حکومت کی نااہلی ہے۔ کراچی میں پولیس کی نااہلی سے بچے کی ہلاکت افسوسناک ہے، پولیس میں تربیتی اصلاحات لازم ہیں۔
نئے ڈومیسٹک سٹرکچرمیں کئی رکاوٹیں حائل، ورلڈکپ سکواڈکےلئے سلیکٹرزمیرٹ اورفٹنس کومدنظررکھیں:طاہرشاہ کی گگلی میں گفتگو
لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) سابق فرسٹ کلاس کرکٹرطاہرشاہ نے کہا ہے کہ چیئرمین پی سی بی احسان مانی اب نیاڈومیسٹک سٹرکچرلانے کی پوری کوشش کررہے ہیں مگر اس کےلئے ان کوکافی مشکلات کاسامنا کرناپڑرہاہے۔پی سی بی گورننگ بورڈاجلاس میں جوہنگامہ ہواوہ سب کے سامنے ہے۔چینل ۵ کے پروگرام گگلی میں گفتگوکرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اجلاس میںپی سی بی میں ایم ڈی کے عہدے کیخلاف بھی ووٹ آیا ہے۔نئے سٹرکچرکے حوالے سے بہت سی رکاوٹوں کو دورکرناہوگا۔ورلڈکپ کے حوالے سے فٹنس ٹیسٹ میں اکثرپلیئرزکامیاب رہے مگر کچھ پلیئرزکے فٹنس پرسوالیہ نشان لگا ہے ۔دیکھتے ہیں سلیکٹرزآج ورلڈکپ سکواڈکےلئے کن ناموں کاچناﺅ کرتے ہیں۔
وزیراعظم عمران خان دنیا کے 100 با اثرترین افراد کی فہرست میں شامل
نیو یارک(ویب ڈیسک) مشہورامریکی میگزین ”ٹائم“ نے وزیراعظم عمران خان کو دنیا کے 100 با اثر ترین افراد کی فہرست میں شامل کیا ہے۔معروف امریکی میگزین “ٹائم” نے سال 2019 کی با اثر افراد کی فہرست جاری کردی ہے جس میں وزیراعظم عمران خان اور دیگر کئی شخصیات شامل ہیں۔ٹائم میگزین نے عمران خان کے بارے میں لکھا کہ پاکستان ایک مشکل دور سے گزر رہا ہے اور ایسے میں ملک کی بھاگ ڈور ایک ایسے شخص کے پاس ہے جس کی حیثیت ایک راک اسٹار کی سی ہے۔ پاکستانیوں کی بڑی تعداد پ±رامید ہے کہ عمران خان ملک کو سنگین حالات سے نکال لیں گے۔سانحہ کرائسٹ چرچ کے بعد مسلمانوں کے دکھ میں شریک نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جیسینڈا آرڈن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، چینی صدرشی جن پنگ، امریکی ایوان نمائندگان کی اسپیکرنینسی پلوسی، ملائشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد اور پوپ فرانس بھی ٹائم میگزین کی اس فہرست کا حصہ ہیں۔دوسری طرف کھیل سے مصری فٹبالر محمد صالح، امریکی گالفر ٹائگرووڈزاورامریکی باسکٹ بال اسٹارلیبرون جیمز بھی اس فہرست میں شامل ہیں۔فیس بک کے بانی مارک زکربرگ، سابق امریکی صدرباراک اوبامہ کی اہلیہ مشعل اوبامہ، گلوکارہ لیڈی گاگا، ٹیلرسوئفٹ، اداکار و ریسلر ڈیوائن جونسن اور گیم آف تھرونز کی ڈریگن کوئین اداکارہ ایمیلیا کلارک بھی فہرست کا حصہ ہیں۔
معروف اداکارہ حنا دلپذیر شاعرہ بن گئیں
لاہور(ویب ڈیسک) ٹی وی ڈراموں میں اپنی جاندار پرفارمنس کے جوہر دکھانے والی معروف اداکارہ حنا دلپذیر نے بطور شاعرہ اپنا تازہ کلام سوشل میڈیا پر جاری کردیا۔اپنی بہترین مزاحیہ اداکاری اور انوکھے انداز سے لوگوں کے دلوں پر راج کرنے والی حنا دلپذیر نے معروف ڈرامہ رائٹر سیما غزل کی فرمائش پوری کرتے ہوئے اپنا تازہ کلام سنایا، جس کے سوشل میڈیا پر آتے ہی اداکارہ کو خوب پذیرائی مل رہی ہیں۔حنا دلپذیر کی ترنم میں شاعری کرتے انداز کو بے حد پسند کیاجا رہا ہے، سوشل میڈیا پر حنا دلپذیر کی یہ ویڈیو تیزی کے ساتھ پھیل رہی ہے، ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ اداکارہ ترنم کے ساتھ اشعار پیش کرتی دکھائی دے رہی ہیں۔حنا دلپزیر کے چاہنے والوں کا کہنا ہے کہ کل تک جو لوگ ان کے مقبول کردار کے ڈائیلاگ سننے کی خواہش کرتے تھے اب شاعری سننے کی فرمائش کرنے لگے ہیں
فالج کے حملے نے اس شخص کو 50 گھنٹے تک کرسی پر منجمد کردیا!
بیجنگ(ویب ڈیسک) چین میں ایک انٹرنیٹ کیفے میں کمپیوٹر استعمال کرنے والے شخص فالج کے حملے کا شکار ہو کر بغیر ہلے جلے مسلسل 50 گھنٹے تک کرسی پر بیٹھا رہا۔بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق، 42 سالہ شین ڑین کو فالج کے دورے کے سبب اسپتال لایا گیا۔ فالج کے باعث مریض کا جسم مکمل طور پر مفلوج ہوگیا تھا اور صرف دل کی دھڑکن جاری تھیں۔مریض کو اسپتال لانے والوں نے بتایا کہ یہ شخص ایک انٹرنیٹ کیفے میں مسلسل 50 گھنٹے کرسی پر بیٹھا رہا اور اس دوران ایک بار بھی وہ کسی کام کےلیے نہیں اٹھا جس پر عملے نے شک کی بنیاد پر دیکھا تو وہ بے سدھ تھا۔ ڈاکٹروں نے بتایا کہ مریض کے دماغ کے اہم حصوں میں خون کی کلاٹنگ ہے جس کی وجہ سے اس کا جسم کام نہیں کررہا ہے۔تاہم اس بات کا تعین نہیں کیا جا سکا کہ مذکورہ شخص انٹرنیٹ کیفے میں داخل ہونے کے کتنی دیر بعد فالج کا شکار ہوا تاہم پولیس کو فراہم کی گئی سی سی ٹی وی فوٹیج سے پتا چلتا ہے کہ وہ کرسی پر بیٹھنے کے بعد سے اگلے 50 گھنٹے تک کرسی نہیں ا±ٹھا یہاں تک کہ عملہ متوجہ ہوا اور اسے اسپتال منتقل کیا گیا۔
متحدہ عرب امارات کا پاکستان کو 18 نایاب شیر، چیتوں کا تحفہ
لاہور(ویب ڈیسک)وزیراعظم کے مشیر برائے ماحولیاتی تبدیلی ملک امین اسلم نے اعلان کیا ہے کہ ’متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کی جانب سے پاکستان کو آئندہ ہفتے 8 شیر اور 10 چیتے بطور تحفہ فراہم کردیے جائیں گے‘۔انہوں نے کہا کہ یو اے ای کے تحفہ کیے گئے نایاب جانوروں کو لاہور کے چڑیا گھر میں رکھا جائےگا۔ملک امین اسلم نے پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ ’یو اے ای کے وزیراعظم شیخ محمد بن رشید المکتوم کی جانب سے 18 شیر تحفے میں دیے گئے‘۔دوسری جانب لاہور کے چڑیا گھر کی انتظامیہ نے دبئی کے وائلڈ لائف سینٹر سے چند جانور عطیہ کرنے کی درخواست کر دی۔وزارت ماحولیاتی تبدیلی کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق لاہور کے چڑیا گھر کے علم میں آیا تھا کہ دبئی کے وائلڈ لائف سینٹر میں 400 سے زائد شیر موجود ہیں جس پر انہوں نے دبئی انتظامیہ کو چند شیر عطیہ کرنے کی درخواست کی۔پریس ریلیز کے مطابق ’متعلقہ حکام نے قانونی پیچیدگیاں دور کرنے کے بعد لاہور کے چڑیا گھر میں شیر اور چیتوں کی آمد کے لیے تمام تر تیاریاں کرلی‘۔وزارت کے مطابق دبئی کے متعلقہ حکام نے تحفہ کیے جانے والے تمام جانوروں کو پاکستان بھیجنے سے قبل ان کا طبی معائنہ کیا۔انہوں نے بتایا کہ ’تمام جانوروں کو طبی اعتبار سے مکمل صحت یاب قرار دے کر منتقل کرنے کی اجازت دے دی گئی‘۔وزیر اعظم کے مشیر ماحولیاتی تبدیلی ملک امین اسلم نے میڈیا کو بتایا کہ یو اے ای کے وزیر اعظم شیخ محمد بن راشد المکتوم نے دورہ پاکستان کے دوران شیر تحفہ میں دینے کا وعدہ کیا تھا۔یو اے ای کی جانب سے 4 سفید، 6 بنگالی اور 8 افریقی شیر تحفہ کیے گئے ہیں، جن کی عمریں 2 سے 5 سال کے درمیان ہیں۔
قازقستان میں بھورے ریچھ کو عمر قید کی سزا
قازقستان(ویب ڈیسک) اس جیل کا نام یوکے 161/2 پینل کالونی ہے جہاں خطرناک قاتل بھی 25 سال سے زائد قید میں نہیں رہتے لیکن ریچھنی کی قسمت میں اس سے زیادہ کی اسیری لکھی ہے۔جیل میں موجود 700 سے زائد قیدی اس سے اچھی طرح واقف ہیں اور وہ اسے کاٹیا کے نام سے پکارتے ہیں۔ یہ ریچھنی پہلے سرکس میں کام کرتی تھی جس کی حرکتوں سے تنگ آکر اس ایک تفریحی مقام پر ایک بڑے پنجرے میں رکھا گیا لیکن 2004ءمیں ایک 11 سالہ بچے نے اسے کچھ کھانے کو دیا تو ریچھنی نے جھٹ اس کا ایک پاﺅں پکڑلیا اور اسے بھنبھوڑ کر زخمی کرڈالا۔اس کے بعد نشے میں دھت ایک 28 سالہ شخص نے تمام انتباہی بورڈ اور ہدایات کو نظر انداز کرتے ہوئے ریچھنی سے ہاتھ ملانے کی کوشش کی تو اس نے ہاتھ ملانے والے وکٹر کو شدید زخمی کردیا جس کی بمشکل جان بچائی گئی۔ اس واقعے کے بعد کسی چڑیا گھر یا جانوروں کے فلاحی اداروں نے اسے قبول کرنے سے انکار کردیا اور یوں اسے جیل میں قید کردیا گیا ہے جہاں اس کے مزید 700 انسانی دوست بھی موجود ہیں۔جیل کا عملہ اور دیگر لوگ اس کے لیے مٹھائی، پھل اور بسکٹ وغیرہ لے کر آتے ہیں۔ ملاقات کے اوقات میں بچے اور خواتین بھی اسے دیکھنے کے لیے آتے ہیں۔جیل میں کاٹیا کے لیے خصوصی گھر بنایا گیا ہے جہاں اس کے لیے پانی کا تالاب بھی ہے۔ عام دنوں میں اسے قیدیوں کا بچا ہوا کھانا بھی دیا جاتا ہے اور خود قیدی بھی اس کی آﺅ بھگت کرتےہیں تاہم جیل انتظامیہ اسے کسی کے حوالے نہیں کرنا چاہتی کیونکہ کاٹیا اس جیل کی پہچان بن چکی ہے۔


















