Tag Archives: khabrain

ایم کیو ایم کے ایک اور ایم پی اے انور رضا پی ایس پی میں شامل

کراچی(ویب ڈیسک) ایم کیو ایم پاکستان کی ایک اور پتنگ پاک سر زمین پارٹی کے آنگن میں آگری، پی ایس 102 سے رکن سندھ اسمبلی انور رضا نے پی ایس پی میں شمولیت اختیار کر لی، چیئرمین پی ایس پی مصطفی کمال کا کہنا ہے کہ سندھ اسمبلی میں قائد حذب اختلاف کی تبدیلی کا سوچا ہے نہ سوچ رہے ہیں وہ بے فکر ہو کر صحیح طریقے سے کام کریں۔ایم کیو ایم پاکستان کے ایک اور رکن سندھ اسمبلی پی ایس پی کو پیارے ہو گئے۔ پی ایس 102 سے رکن سندھ اسمبلی انور رضا نے ایم کیو ایم کی بنیادی رکنیت سے مستعفی ہونے اور پی ایس پی میں شمولیت اختیار کرنے کا اعلان کر دیا۔ پاکستان ہاوس کراچی میں مصطفی کمال کے ہمراہ پریس کانفرنس میں انور رضا کا کہنا تھا کہ وہ اپنی مرضی اور خوشی سے پی ایس پی میں آئے ہیں۔اس موقع پر چیئرمین پی ایس پی مصطفی کمال کا کہنا تھا کہ انہوں نے سندھ اسمبلی کے قائد حزب اختلاف کو تبدیل کرنے کا سوچا نہ سوچ رہے ہیں۔ قائد حزب اختلاف اگر اپنا صحیح کردار اسمبلی میں ادا کریں گے تو پی ایس پی انکی حمایت کرے گی۔ مصطفی کمال کا کہنا تھا کہ اگر کے الیکٹرک نے کراچی میں بجلی کے مسائل کو حل نہیں کیا تو پھر پی ایس پی عوام کے ساتھ ملکر سڑکوں پر احتجاج کرے گی۔

(ن) لیگ کے 8 ارکان اسمبلی کا پارٹی چھوڑ کر جنوبی پنجاب صوبہ محاذبنانے کا اعلان

 لاہور(ویب ڈیسک) مسلم لیگ (ن) کے 6 ارکان قومی اسمبلی اور 2 ارکان صوبائی اسمبلی نے علم بغاوت بلند کرتے ہوئے ’جنوبی پنجاب صوبہ محاذ‘ بنانے کا اعلان کردیا۔حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) کی مشکلات ختم ہونے کے بجائے مزید بڑھتی جارہی ہیں۔ لاہور میں جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے مسلم لیگ ن کے منحرف اراکین اسمبلی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے پارٹی چھوڑ کر جنوبی پنجاب صوبہ محاذ بنانے کا اعلان کردیا۔ منحرف ارکان میں مخدوم خسرو بختیار، عالم ڈار لالیکا ، باسط بخاری، سید اصغر علی شاہ اور رانا قاسم نون شامل ہیں۔سابق وزیر مخدوم خسرو بختیار نے کہا کہ ن لیگ اور پارلیمنٹ کی نشستوں سے مستعفی ہونے اور ’جنوبی پنجاب صوبہ محاذ‘ بنانے کا فیصلہ کیا ہے، میر بلخ شیر مزاری اس محاذ کے سرپرست ہوں گے، ہم ایک ہی سیاسی نظریاتی ایجنڈے پر اکھٹے ہیں، ہمارا مقصد نئے صوبے جنوبی پنجاب کا قیام ہے، ہمیں 10 سے زائد ارکان پنجاب اسمبلی اور 5 سے زائد ارکان قومی اسمبلی کی حمایت حاصل ہے۔رانا قاسم نون نے کہا کہ ہماری حمایت کے بغیر کوئی الیکشن نہیں جیت سکے گا، جب محرومیاں بڑھ جاتی ہیں تو مایوسی میں اضافہ ہوتا ہے، یہ حساس مسئلہ ہے، نیا صوبہ بننے سے وفاق مضبوط ہوگا۔

پی سی بی نے شمالی وزیرستان میں چھپا ٹیلنٹ سامنے لانے کی ٹھان لی

لاہور (ویب ڈیسک )پی سی بی نے شمالی وزیرستان کے کھلاڑیوں میں بھی کرکٹ کا فن منتقل کرنے کی ٹھان لی، اس ضمن میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام کی ٹیم پاک فوج کے اشتراک سے شمالی وزیرستان کا دورہ کرے گی جہاں فاٹا کے نوجوانوں کے ٹرائل لئے جائیں گے۔تفصیلات کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ کے ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام کی ٹیم شمالی وزیرستان کا دورہ کررہی ہے۔ جہاں فاٹا کے نوجوانوں کے ٹر ائل لئے جائیں گے۔ دورہ کرنے والی ٹیم میں نیشنل کرکٹ اکیڈمی کے ہیڈ کوچ مشتاق احمد کے ہمراہ شاداب خان، یاسر شاہ اور علی ضیا ہوں گے۔ہیڈ کوچ مشتاق احمد نے اس دورے کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ ٹرائل کے بعد منتخب نوجوانوں کو پی سی بی اسکل ڈویلپمنٹ کیمپ میں شامل کیا جائے گا تاکہ فاٹا کے نوجوان قومی سطح پر کرکٹ کھیل سکیں ۔ اس پروگرام سے فاٹا کے نوجوانوں کو اپنی صلاحیتیں اجاگر کرنے کا موقع ملے گا۔ کرکٹ پاکستانی قوم کو متحد کرتی ہے اس لیے پاک فوج کرکٹ کی بحالی کے لیے سیکیورٹی سمیت تمام تر ممکنہ تعاون کر رہی ہے۔مشتاق احمد نے کہا کہ لاہور میں پی ایس ایل فائنل کے بعد ملک میں عالمی کرکٹ کی واپسی ہوئی ہے۔ کراچی میں پی ایس ایل تھری کے فائنل نے ثابت کیا کہ روشنیوں کے شہر سے خوف کا خاتمہ ہو رہا ہے۔ وزیرستان میں یو کے الیون اور پاکستانی کھلاڑیوں کے درمیان کھیلے گئے میچ سے دہشت گردوں کو واضح شکست ہوئی ہے۔

وقت آیا تو نواز شریف سے حساب لیں گے، آصف زرداری

نوابشاہ(ویب ڈیسک ) پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ ہم نے نواز شریف کی حکومت بچائی لیکن انہوں نے اچھا صلہ نہیں دیا اور وقت آیا تو ان سے حساب لیں گے۔نوابشاہ پریس کلب میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آصف علی زرداری نے کہا کہ  نواز شریف 18ویں ترمیم کو رول بیک کرنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں، نواز شریف  کی حکومت ڈیڑھ سال میں ختم ہونے والی تھی جسے ہم نے بچایا کیونکہ حکومت ختم ہوتی تو کرسی کا کھیل شروع ہوجاتا، لیکن نواز شریف نے اچھا صلہ نہیں دیا، وقت آیا تو ان سے حساب لیں گے ،ان سے الیکشن میں مقابلہ ہوگا، وہ بھی اپنے گُرآزمائیں ہم بھی آزمائیں گے۔آصف زرداری نے کہا کہ ہم ہر کام پاکستان کے فائدے میں کرتے ہیں، ذاتی مفاد کے لیے نہیں، پاکستان کی موجودہ صورت حال کو پیپلز پارٹی ہی سنبھال سکتی ہے، پیپلز پارٹی بہت بڑی طاقت ہے جس کی لوگوں کو سمجھ نہیں آرہی۔دوسری جانب نوڈیرو ہاؤس میں پیپلز پارٹی کے رہنما بیریسٹر عامر حسن سے ملاقات کے دوران آصف زرداری نے کہا کہ نواز شریف جمہوریت اور ملک کیلئے نہیں اپنی ذات کیلئے سیاست کرتے ہیں جب کہ ہم اپنی ذات اور سیاسی مفادات سے بالاتر ہوکر ملک اورآئندہ نسلوں کیلئے سیاست کرتے ہیں، ہم نے بہت کوشش کی کہ نواز شریف ٹھیک ہوجائیں اور جمہوریت کے لئے سیاست کرے، ہم نے جمہوریت کی خاطر نواز شریف سے مفاہمت بھی کی لیکن نواز شریف نہ سدھر سکے، ہم نے نواز شریف کو بار بار بچایا لیکن انہوں نے ہماری پیٹھ میں چھرا گھونپا۔سابق صدر مملکت کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ اداروں کو مضبوط اور نواز شریف نے کمزور کیا،نواز شریف کو اس بات کی فکر ہے اور نہ ادراک کہ ادارے کمزور ہوئے تو ملک کا کیا حشر ہوگا، ہمیں اندازہ ہے کہ ادارے کمزور ہوں گے تو پاکستان کا حال افغانستان جیسا ہو جائے گا، نواز شریف کی دولت اور اولاد باہر ہے وہ خود بھی بھاگ جائیں گے لیکن ہم کہاں جائیں گے، ہمیں اکیس کروڑ عوام کے ساتھ رہنا ہے۔آصف زرداری نے کہا کہ نواز شریف نے ساڑھے چار سال میں پاکستان کو تنہا کر دیا، وزیر خارجہ تک نہ لگایا، اب جو وزیرخارجہ ہے انہیں سفارتکاری کے آداب تو کیا الف ب بھی نہیں معلوم، ہمارے دور میں خطے کے ممالک پاکستان کے ساتھ کھڑے ہوتے تھے، یہ ہماری خارجہ پالیسی تھی کہ پاکستان ایران اور افغانستان ہاتھ ملا کر کھڑے ہوتے تھے، آج وہی ممالک بھارت کے ساتھ ہاتھ ملا کر کھڑے ہیں۔

پرویز مشرف غداری کیس: خصوصی عدالت کی تشکیل مکمل

اسلام آباد(ویب ڈیسک ) جسٹس یحییٰ آفریدی کی مشرف غداری کیس سننے سے معذرت کے بعد غیر فعال خصوصی عدالت کی دوبارہ تشکیل مکمل ہو گئی۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے خصوصی عدالت سربراہ اور رکن کیلئے وزارت قانون کے خط پر نامزدگیوں کی منظوری دے دی۔چیف جسٹس آف پاکستان کو خصوصی عدالت کی دوبارہ تشکیل کے معاملے پر وزارت قانون نے خط بھجوایا جس میں چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ یاور علی کو خصوصی عدالت کا سربراہ جبکہ سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس نذر اکبر کو رکن نامزد کرنے کی سفارش کی گئی۔چیف جسٹس ثاقب نثار نے دونوں ناموں کی منظوری دی ہے، جس کے بعد وزارت قانون کی جانب سے جلد باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کیے جانے کا امکان ہے۔

سینیٹ چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کا انتخاب؛ حکومت اور اپوزیشن میں کانٹے کا مقابلہ

 اسلام آباد(ویب ڈیسک )سینیٹ کے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے لیے الیکشن آج ہورہے ہیں جس میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان کانٹے کا مقابلہ ہے۔ملک کے ایوان بالا کے 52 نومنتخب ارکان نے رکنیت کا حلف اٹھالیا ہے۔ سینیٹ کے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے الیکشن آج شام 4 بجے ہوں گے جس کے لیے خفیہ رائے شماری ہوگی۔ پیپلز پارٹی، تحریک انصاف اور بلوچستان کے آزاد سینیٹرز نے گزشتہ روز چیئرمین کے لیے صادق سنجرانی اور ڈپٹی چیئرمین کے لیے سلیم مانڈوی والا کا نام پیش کیا تھا۔ آج فاٹا اور ایم کیو ایم کے سینیٹرز نے بھی اپوزیشن امیدواروں کی حمایت کا اعلان کردیا ہے۔ جس کے نتیجے میں اپوزیشن کی پوزیشن مضبوط اور حکمراں جماعت (ن) لیگ  کی پوزیشن کمزور دکھائی دیتی ہے۔دوسری طرف مسلم لیگ (ن) اور اس کی اتحادی جماعتوں نے چیئرمین سینیٹ کے لیے راجہ ظفرالحق جب کہ ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے لیے عثمان کاکڑ کو امیدوار نامزد کردیا ہے۔ حکومت اور اپوزیشن کے چاروں امیدواروں نے اپنے اپنے کاغذات نامزدگی جمع کرادیے ہیں۔سینیٹ کا ایوان 104 ارکان پر مشتمل ہے جس میں ن لیگ کے 33، پی پی پی 20، پی ٹی آئی 12، آزاد 17، ایم کیو ایم 5، نیشنل پارٹی 5، جے یو آئی 4، پشتون خوا میپ 3، جماعت اسلامی 2 اور بی این پی مینگل، فنکشنل لیگ اور اے این پی کا ایک ایک سینیٹر ہے۔ امیدواروں کو جیتنے کے لیے 53 ووٹ درکار ہیں۔

مرغیوں کو دی جانیوالی فیڈ سے گوشت پر اثر نہیں پڑتا: رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش

لاہور(ویب ڈیسک) عدالتی معاون نے مرغیوں کو دی جانے والی فیڈ سے متعلق رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرا دی جس میں کہا گیا ہے کہ مرغیوں کو دی جانیوالی فیڈ سے گوشت پر اثر نہیں ہوتا۔چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں مرغیوں کو دی جانیوالی خوراک کے از خود نوٹس کیس کی سماعت ہوئی۔ سماعت کے دوران عدالتی معاون نے رپورٹ پیش کی جس میں بتایا گیا کہ مرغیوں کو دی جانیوالی فیڈ سے گوشت پر اثر نہیں ہوتا ، مرغیوں کو دی جانیوالی فیڈ ٹھیک ہے۔ مرغیوں کی خوراک انہی کی آلائشوں سے تیار کی جاتی ہے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اگر فیڈ ٹھیک ہے تو یہ خوش آئند ہے، اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ برائلر مرغی مضر صحت نہیں۔ لگتا ہے کہ ہم اچھے نتائج کے لیے کافی قریب پہنچ چکے ہیں ، مرغیوں کی انتڑیوں کی تیل کی فروخت پر پابندی کے لیے قانون سازی کی جائے۔ عدالت نے سیکرٹری لائیو سٹاک کو فوری پیش ہونے کا حکم دے دیا۔

پاکستان میں 5 سال کے دوران 17,862 بچوں سے جنسی زیادتی کا انکشاف

 اسلام آباد(ویب ڈیسک) ملک بھرمیں 5 سال کے دوران بچوں سے زیادتی کے 17 ہزار 862 واقعات رپورٹ ہونے کا انکشاف ہواہے۔ اسپیکرایازصادق کی زیرِصدارت قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا، جس میں وزارت انسانی حقوق نے ملک بھرمیں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی سے متعلق رپورٹ پیش کی، یہ رپورٹ اوراس میں موجود اعداو شمارنجی تنظیم سے حاصل کیے گئے تھے۔وزارت انسانی حقوق نے اپنے تحریری جواب میں ایوان کوبتایا کہ گزشتہ 5 برس کے دوران ملک بھرمیں بچوں سے زیادتی کے 17 ہزار862 واقعات رپورٹ ہوئے۔ لڑکیوں سے زیادتی کے 10 ہزار620 جب کہ لڑکوں سے زیادتی کے 7 ہزار 242 واقعات رپورٹ ہوئے۔

مال روڈ جلسہ ،زرداری کا پہلا نمبر ،عمران بعد میں خطاب کرینگے

لاہور (امتنان شاہد سے) پاکستان عوامی تحریک کے جلسے میں تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور پیپلز پارٹی کے کو چیئرمین آصف زرداری کی بیک وقت شرکت پر اعتراض کیا جا رہا ہے جبکہ طاہرالقادری اور آصف زرداری کی ملاقات میں طے پایا ہے کہ آج مال روڈ کے جلسے میں دو نشستیں ہوں گی۔ پہلی نشست میں آصف زرداری جلسے کی صدارت جبکہ پی ٹی آئی کے رہنما جہانگیر ترین خطاب کریں گے جبکہ دوسری نشست میں چیئرمین تحریک انصاف عمران خان خطاب کریں گے اور قمر زمان کائرہ پیپلز پارٹی کی طرف سے اظہار خیال کریں گے۔ آصف زرداری پہلے آئیں گے اور ان کے جانے کے بعد عمران خان آئیں گے۔ طاہرالقادری دونوں نشستوں میں اجتماع سے خطاب کرینگے یعنی وہ آج دو بار تقریر کریں گے جبکہ شیخ رشید احمد اور مصطفیٰ کمال بھی اس دوران تقریر کریں گے۔

پاکستان لندن سمیت دنیا بھرکی معیشت میں بہتر جگہ پا سکتا ہے، صادق خان

لاہور(ویب ڈیسک)برطانوی شہر لندن کے میئر صادق خان نے کہا ہے کہ پاکستانی ہنر مندوں کو ترجیحی بنیادوں پر ویزے جاری کیے جاتے ہیں اور پاکستان لندن سمیت دنیا بھرکی معیشت میں بہتر جگہ پا سکتا ہے۔لاہور کے الحمرا ہال میں اپنے اعزاز میں منعقدہ  تقریب سے خطاب اور بعد ازاں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صادق خان کا کہنا تھا کہ بطور میئر لندن پاکستان آنے پر خوشی اور فخر ہے، جس شاندار طریقے سے لاہور میں استقبال کیا گیا اس پر  سب کا مشکور ہوں۔میئر لندن نے کہا کہ پاکستان سے محبت کرتا ہوں اور اس کو درپیش چیلنجز سے آگاہ ہوں، معاشی میدان میں پاکستان کی ترقی قابل ستائش ہے اور پاکستان برطانیہ سمیت دنیا بھر کی معیشت میں بہتر مقام بنا سکتا ہے۔صادق خان نے کہا کہ لندن نے بیرونی سرمایہ کاروں کے لیے اپنے دروازے کھول دیے ہیں، اور پاکستانی ہنرمندوں کو ترجیحی بنیادوں پر ویزے جاری کیے جاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بہت سے بھارتی بھی پاکستان سے بہتر تعلقات چاہتے ہیں، پاکستان اور بھارت کے درمیان میچ کو دنیا بھر میں پسند کیا جاتا ہے اور کرکٹ کے ذریعے دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری لائی جا سکتی ہے۔صادق خان نے کہا کہ لندن میں دنیا بھر کی قومیں آباد ہیں جب کہ رواں سال لندن میں دہشت گردی کے 4 واقعات پیش آئے، دہشت گردی پر قابو پانے کے لیے ہم سب کو ایک پلیٹ فارم پر جمع ہونا پڑے گا۔انہوں نے کہا کہ میں پاکستانیوں کے لیے پیغام لایا ہوں کہ لندن میں کاروبار کے بہت مواقع ہیں، مستقبل میں پاکستان اور لندن کے درمیان بہترین تجارتی روابط قائم ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ نوجوانوں سے فائدہ نہ اٹھانے والے ملک غلطی پر ہیں۔

میئر لندن نے کہا کہ عمران خان نے انتخابی مہم میں میری مخالفت کی اور یہ ایک جمہوری طریقہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں جیتنے کے لیے لڑا اور جیت میرا مقدر بنی، لندن کے عوام نے نفرت اور تقسیم کرنے کے عمل کو مسترد کیا۔

بڑی خبر آنے میں صر ف48گھنٹے باقی ،کاﺅنٹ ڈاﺅن شروع ،اہم ترین سیاستدانوں میں کھلبلی

اسلام آباد(خصوصی رپورٹ ) چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس میاں ثاقب نثار نے نیب کی اپیل پر شریف برادران کے خلاف حدیبیہ پیپر ملز ریفرنس کی سماعت کے لیے 3 رکنی بینچ تشکیل دے دیا۔بینچ کی سربراہی جسٹس آصف سعید کھوسہ کریں گے، دیگر ارکان میں جسٹس دوست محمد اور جسٹس مظہر عالم میاں خیل شامل ہیں۔سپریم کورٹ کا تین رکنی بینچ 13 نومبر کو پہلی سماعت کرے گا۔تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ نے نااہل قرار دیے گئے سابق وزیر اعظم اور حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز کے سربراہ نواز شریف اور وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف کے خلاف حدیبیہ پیپرز مل کے مقدمے کو دوبارہ کھولنے کی درخواست سماعت کے لیے منظور کر لی ہے۔یہ درخواست قومی احتساب بیورو نے لاہور ہائی کورٹ کے سنہ 2014 کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں دائر کی ہے۔چیف جسٹس سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت کےلئے جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں عدالت عظمیٰ کا تین رکنی بینچ تشکیل دے دیا ہے ،بینچ میں جسٹس دوست محمد اور جسٹس مظہر عالم میاں خیل کو بھی شامل کیا گیا۔تین رکنی بینچ کیس کی پہلی سماعت 13نومبر کو کرے گا جس کے لئے سپریم کورٹ کے رجسٹرار آفس نے نیب پراسکیوٹر جنرل کو نوٹس جاری کردیا،اگلے ہفتے کےلئے سپریم کورٹ کی کاز لسٹ میں بھی یہ کیس شامل کر لیا گیا ہے۔جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا تین رکنی بینچ پہلے نیب کی درخواست کی سماعت کرے گا اور پھر حدیبیہ پیپرز مل کے ریفرینس کو دوبارہ کھولنے یا نہ کھولنے کے بارے میں احکامات جاری کرے گا۔واضح رہے کہ لاہور ہائیکورٹ نے شریف برادران کےخلاف حدیبیہ پیپرز ملز ریفرنس خارج کردیا تھا،جس کے بعد پاناما پیپر کیس کے دوران سپریم کورٹ کے فل بنچ کی آبزرویشن پر نیب نے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی ہے۔جسٹس آصف سعید کھوسہ نے سپریم کورٹ کے اس پانچ رکنی بینچ کی سربراہی بھی کی تھی جس نے پاناما لیکس کی درخواستوں پر فیصلہ سناتے ہوئے اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف کو نااہل قرار دیا تھا۔پاناما فیصلے کے خلاف نظرثانی کی درخواست پر اسی پانچ رکنی بینچ کے فیصلے پر سابق وزیر اعظم نے چند روز پہلے کہا تھا کہ ججز بغض سے بھرے بیٹھے ہیں۔لاہور ہائی کورٹ نے اس ریفرنس کو تین سال پہلے ختم کرنے کا حکم دیا تھا اور اس وقت لاہور ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف نیب کے حکام نے سپریم کورٹ میں اپیل دائر نہیں کی تھی۔حدیبیہ پیپرز ملز کے مقدمے میں نواز شریف کے علاوہ، وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف، ان کے صاحبزادے حمزہ شہباز اور وزیر خزانہ اسحاق ڈار بھی شامل ہیں۔یاد رہے کہ حدیبیہ پیپرز ملز کے مقدمے میں وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا اعترافی بیان بھی قابل ذکر ہے جس میں انھوں نے اعتراف کیا تھا کہ وہ شریف بردران کے لیے منی لانڈرنگ میں ملوث تھے۔سابق وزیر اعظم کے خلاف پاناما لیکس سے متعلق سپریم کورٹ میں درخواستوں کی سماعت کے دوران اس وقت کے نیب کے چیئرمین قمر زمان چوہدری نے حدیبیہ پیپرز ملز کے مقدمے میں ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرنے اور اس مقدمے کو دوبارہ کھولنے سے انکار کردیا تھا۔اس پر سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ ان کی نظر میں نیب وفات پا گیا ہے تاہم انھی درخواستوں کے سماعت کے آخری روز نیب کے حکام نے حدیبیہ پیپرز مل کے مقدمے کو دوبارہ کھولنے کے بارے میں عندیہ دیا تھا۔حدیبیہ ملز ریفرینس دائر کرنے کی منظوری مارچ 2000 میں نیب کے اس وقت کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل سید محمد امجد نے دی تھی۔اگرچہ ابتدائی ریفرینس میں نواز شریف کا نام شامل نہیں تھا تاہم جب نیب کے اگلے سربراہ خالد مقبول نے حتمی ریفرینس کی منظوری دی تو ملزمان میں نواز شریف کے علاوہ ان کی والدہ شمیم اختر، دو بھائیوں شہباز اور عباس شریف، بیٹے حسین نواز، بیٹی مریم نواز، بھتیجے حمزہ شہباز اور عباس شریف کی اہلیہ صبیحہ عباس کے نام شامل تھے۔یہ ریفرنس ملک کے وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار سے 25 اپریل 2000 کو لیے گئے اس بیان کی بنیاد پر دائر کیا گیا تھا جس میں انھوں نے جعلی اکاو¿نٹس کے ذریعے شریف خاندان کے لیے ایک کروڑ 48 لاکھ ڈالر کے لگ بھگ رقم کی مبینہ منی لانڈرنگ کا اعتراف کیا تھا۔اسحاق ڈار بعدازاں اپنے اس بیان سے منحرف ہو گئے تھے اور ان کا موقف تھا کہ یہ بیان انھوں نے دباو¿ میں آ کر دیا تھا۔اکتوبر 1999 میں فوجی بغاوت کے بعد اس وقت کے آرمی چیف جنرل پرویز مشرف نے وزیراعظم نواز شریف کے خاندان کے خلاف کرپشن کے 3 ریفرنسز دائر کیے تھے جن میں سے ایک حدیبیہ پیپر ملز کیس بھی تھا۔ 2014 میں لاہور ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں حدیبیہ پیپرز ملزکیس میں نیب کی تحقیقات کو کالعدم قرار دے دیا جس کے بعد احتساب عدالت نے اس ریفرنس کو خارج کردیا تھا۔ تاہم جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ کی جانب سے پاناما کیس کی سماعت کے دوران حدیبیہ ریفرنس کا معاملہ دوبارہ سامنے آگیا۔