All posts by Asif Azam

https://www.facebook.com/asif.azam.33821

رائیونڈ : عالمی تبلیغی اجتما ع کا پہلا مر حلہ شروع ، 5 لاکھ افراد کی شرکت

رائے ونڈ (نامہ نگار) رائیونڈ میں جاری سہ روزہ عالمی تبلیغی اجتماع کے وسیع و عریض پنڈال میں اللہ اکبر کی صدائیں بلند ہونا شروع ہوگئیں ،پہلے روزشرکاءکی تعداد پانچ لاکھ سے تجاوز کرگئی ، تبلیغی جماعت کے علماءکرام امیر جماعت حاجی عبداوہاب، مولانا جمیل الرحمن اور مولانا احمد لاٹ نے مختلف نشستوں سے خطاب کیا ۔انہوں نے کہا کہ انسان کی زندگی برف کی ماند پگھل رہی ہے ،ریت کی طرح مٹھی سے نکل رہی ہے ،گیا وقت پھر ہاتھ نہیں آنا ،جوانی کی عبادت کا وقت گزرر ہا ہے ،اللہ کو مان کر اس کے نبیﷺ کی سنتوں کو پورا کرنے میں ہی دنیا و آخرت کی کامیابیاں ہیں ،مال و دولت ،رتبہ ،اولاد سب کچھ یہیں پر رہ جانا ہے صرف اعمال ساتھ جانے ہیں ،جن کی تیاری کیلئے اجتماع سجایا گیا ہے ،دنیا کی گندی نالی میںگرے ہیرے جیسے انسان کو نکال کر دینی ماحول میں رکھنے سے ہی اس کو اس کی اصل اہمیت کا پتہ چل سکتا ہے ، دنیا میں مسلمانوں پر آنے والی مصیبتیں دین سے دوری اور نااتفافی کا نتیجہ ہیں ،اللہ کو ایک مان کر اکٹھے ہوکر چلیں گے تو اللہ برکت ڈالے گا ،مصیبتیں راحت میں بدل جائیں گی ،شیطان سے بچنا ہی اصل مہارت ہے اور یہ دینی ماحول اپنائے بغیر ممکن نہیں ،تفرقہ بازی چھوڑ کر نماز قائم کرنا ہوگی ، پہلے اپنی اور پھر دوسرے کی نماز صحیح کرنا ہوگی ۔

آمریکہ نے اسامہ بن لادن کے کمپیوٹر سے ملنے والی دستاویزات جاری کر دیں

نیو یارک (ویب ڈسک )امریکا نے مئی 2011 میں ایبٹ آباد میں القاعدہ کے رہنما اسامہ بن لادن کے خلاف کے آپریشن کے دوران قبضے میں لی گئی لاکھوں دستاویزات جاری کردی ہیں۔امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے نے مئی 2011 میں القاعدہ کے رہنما اسامہ بن لادن کے خلاف کے آپریشن کے دوران ا±ن کے کمپیوٹرسے ملنے والی ساڑھے 4 لاکھ سے زائد دستاویزات، تصاویراورویڈیوزجاری کردیں، ان دستاویزات میں اسامہ بن لادن کی ذاتی ڈائری، ، ان کے خاندان کی ویڈیوز اور تصاویر، بچوں کے کارٹون، اسامہ بن لادن پربننے والی دستاویزی فلمیں، کمپیوٹر گیمز، پشتو اور بھارتی گانوں کے علاوہ ہالی ووڈ فلمیں بھی شامل ہیں۔سی آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ اسامہ بن لادن کے قبضے سے ملنے والی کچھ دستاویزات کو جاری نہیں کیا گیا ان میں سے کچھ امریکا کی قومی سلامتی کے منافی جب کہ کچھ کاپی رائٹ حقوق کی وجہ سے سامنے نہیں لائی جاسکیں۔ سی آئی اے کے سربراہ مائیک پومپیو کا کہنا ہے کہ جاری کی گئی دستاویزات سے امریکی عوام القاعدہ اور اس تنظیم کے ارکان کی منصوبہ بندی کو سمجھ سکیں گے۔جاری کیے گئے مواد میں اسامہ بن لادن کے بیٹے حمزہ بن لادن کا ایک ویڈیو کلپ بھی شامل ہے۔ اس وقت حمزہ کو اسامہ بن لادن کا جانشین قراردیا جاتا تھا۔ یہ ویڈیو کلپ اس کی شادی کی تقریب کا ہے، اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد سے حمزہ کے بارے میں کچھ نہیں پتہ۔ اس کے علاوہ ان دستاویزات میں القاعدہ اور داعش کے درمیان اختلافات کو بھی بیان کیا گیا ہے۔واضح رہے کہ سی آئی اے 2015 سے اب تک چار مرتبہ اسامہ بن لادن کے گھر سے ملنے والی دستاویزات کو مرحلہ وار منظر عام پر لاچکی ہے۔

باپ کا بیٹی سے نکاح، انسانیت پانی پانی

ہری پور(خصوصی رپورٹ)انسانیت بھی شرما گئی باپ نے جواں سالہ بیٹی کے ساتھ نکاح کرلیا والدہ کی درخواست پر بیٹی سے غیر شرعی نکاح کرنے والے باپ خلاف عدالتی حکم پر مقدمہ درج نکاح خواں رجسٹرار سمیت سات افراد روپوش ہوگے تھانہ سرائع صالح میں مقدمہ درج کرلیاگیا تاحال کوئی بھی گرفتاری عمل میں نہیں لائی جاسکی ہے۔ پولیس کا موقف ذرائع کے مطابق نواحی علاقہ پنڈ جمال خان کی رہائشی بیوہ خاتون شہ بانو نے مقامی سیشن جج کو 22A کی درخواست دائر کی جس میں موقف اختیار کیا کہ اس نے وارث علی شاہ سے شادی کی میرے پہلے شوہر سے دو بچے ہیں میرے شوہر وارث علی شاہ نے میری جواں سالہ بیٹی کو ورغلا کر بھگا لے گیا ہے اور غیر شرعی نکاح کرلیا۔دریں اثناءمقدمے میں اغوائ، زیادتی بالترتیب 376/496 کے زمرے میں درج کیا گیا، ان دفعات کے تحت ملزم کو 14سال قید بامشقت ہوگی اور یہ قابل ضمانت نہیں، یہ نکاح نہیں زیادتی کے زمرے میں آئیگا جبکہ اسلامی نقطہ نظر سے سزاسنگسار کرنا ہوگا۔

ممنون زون میں گھر کسی جج کا ہویا جرنیل کا بلا امتیاس کاروائی کی جا ئے :سپریم کورٹ

اسلام آبا د (آن لائن ) سپریم کورٹ نے مارگلہ کی پہاڑیوں پر درختوں کی کٹائی سے متعلق ازخود نوٹس کی سماعت کے دوران پابندی کے باوجود درختوں کی کٹائی اور ممنوعہ علاقوں میں تعمیرات پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ممنوعہ زون میں گھر کسی جج کا ہو یا جرنیل کا بلا امتیاز کارروائی ہونی چاہیے ،سی ڈی اے کیپیٹل ڈویلپمینٹ اتھارٹی نہیں بلکہ کیپیٹل ڈسٹرکٹشن اتھارٹی ہے، عدالت کے پابندی لگانے پر تعمیرات مزید تیز ہوئیںاور درختوں کو کاٹا گیا، اسلام آباد انتظامیہ اور سی ڈی اے کو شرم آنی چاہیے ۔جبکہ عدالت نے حکم دیا کہ سی ڈی اے کے ڈی جی ماحولیات اور ڈی جی اسٹیٹ کیخلاف کارروائی کر کے چو بیس گھنٹوں میں رپورٹ پیش کی جائے،غفلت کے مرتکب افراد کے خلاف ایف آئی اے فوجداری کاروائی وتحقیقا ت کرے جبکہ عدالت نے دوران سماعت ایمبیسی روڈ اسلام آباد کو کشادہ کرنے کے منصوبے اور وہاں درختوں کی کٹائی سے متعلق بھی رپورٹ طلب کر تے ہوئے حکم میں کہا گیا ہے کہ بتایا جائے منصوبے کیلئے قیمتی درخت کاٹے گئے، منصوبے کی لاگت کیا ہے، کیس کی سماعت جسٹس شیخ عظمت سعید کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے کی ، دوران سماعت ورلڈ وائلڈ لائف نے درختوں کی کٹائی سے متعلق رپورٹ عدالت میں پیش کی ، جس پر عدالت نے برہمی کا ا ظہار کیا اور جسٹس شیخ عظمت سعید نے ریمارکس دیئے کہ سی ڈی اے کا کام ماحول کو تباہ کرنا ہے ، عدالتی حکم کے باوجود درخت کاٹے گئے، ہمارے حکم کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے،سی ڈی اے لوگوں اور اداروں کو گمراہ کرتا ہے، جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ قانون پر عمل درآمد نا ہونے پر کیوں نا ہم اور آپ دونوں گھر چلے جائیں، وفاقی دارالحکومت میں قانون کا اطلاق نہیں ہو گا تو پھر کہاں ہو گا،سی ڈی اے کو کوئی شرم و حیاءنہیں،جسٹس عظمت سعید کا مزید کہنا تھا کہ سی ڈی اے کیپیٹل ڈویلپمینٹ اتھارٹی نہیں بلکہ کیپیٹل ڈسٹرکٹشن اتھارٹی ہے، عدالت کے پابندی لگانے پر تعمیرات مزید تیز ہوئیں، درختوں کو کاٹا گیا، اسلام آباد انتظامیہ اور سی ڈی اے کو شرم آنی چاہیے، سی ڈی افسران کو تیئس مارچ پر نشان پاکستان ملنا چاہیے، یہ غلط فہمی میں ہیں ان کے خلاف کاروائی نہیں ہو سکتی،سی ڈی اے افسران حرام کھا رہے ہیں،عدالتی حکم عدولی کرنے والوں کو نہیں چھوڑیں گے،عدالتی حکم کے باوجود درخت کاٹ دیے گئے، جسٹس قاضی فائز نے کہا کہ درخت کاٹنے پر کس کو جیل بھیجیں، خود ایمبیسی روڈ پر ہزاروں درخت کٹے دیکھے ہیں،کیا سی ڈی اے کو تنخواہ ماحول کو تباہ کرنے کی ملتی ہے جبکہ سی ڈی اے کے وکیل نے کہا کہ ایمبیسی روڈ کو وی آئی پیز کی آمد و رفت کیلیے کشادہ کیا جا رہا ہے، اس پر جسٹس قاضی فائز عیسی نے ریمارکس میں کہا اسلام آباد میں پیدل چلنے کیلئے فٹ ہاتھ نام کی چیز ہی نہیں ، سی ڈی اے کو صرف قیمتی گاڑیاں رکھنے والوں کی فکر کھائے جا رہی ہے، وی آئی پیز کے لیے ایمنیسی روڈ کو کشادہ کرنے کے لیے درختوں کا کاٹ دیا گیا اس پر سی ڈی کے وکیل کا کہنا تھا کہ کہا کہ عدالت میں زندگی میں پہلی بار پسینہ نکلا ہے،زون تھری اور فور میں تجاوزات پر کاروائی کر رہے ہیں، اس پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ممنوعہ زون میں گھر کسی جج کا ہو یا جرنیل کا بلا امتیاز کارروائی ہونی چاہیے،اسلام آباد میں اتنے کنٹینرز رکھ دیے گئے ہیں جس سے وفاقی دارالحکومت وار زون لگ رہا ہے بعد ازاںعدالت نے ایمبیسی روڈ پر درختوں کی کٹائی سے متعلق حکام سے رپورٹ طلب کر لی عدالت نے ڈی جی ماحولیات اور ڈی جی اسٹیٹ کیخلاف کاروائی اور سی ڈی اے کو زمہ دار افسران کیخلاف ایک روز کے اندر کاروائی کرنے کا حکم دے دیا جبکہ عدالت نے درختوں کی کٹائی کے کرداروں کیخلاف ایف آئی اے کو کارروائی کا حکم دیتے ہوئے ڈی جی ایف آئی اے کوکارروائی کر کے رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کردی ہے ،عدالت عظمیٰ نے پابندی والے علاقوں میں زمین کے لین دین پر پر بابندی عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر زمین کا لین دین یا تعمیر ہوئی تو متعلقہ رویونیو افسران کیخلا ف کارروائی ہو گی ،عدالت عظمیٰ نے شکر پڑیاں نیشنل پارک سے متعلق کیس الگ کر کے آئندہ ہفتے سماعت کے لیے مقرر کرنے کا حکم دیدیا ہے۔

ٹوئٹر کے ملازم نے ڈونلڈ ٹرمپ کا اماﺅنٹ بند کردیا

واشنگٹن (ویب ڈسک )ٹوئٹر کے ملازم نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ٹوئٹر اکاو¿نٹ بند کردیا تاہم کچھ دیر بعد ہی اس کو واپس بحال کردیا گیا۔گزشتہ رات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ٹوئٹر اکاو¿نٹ اچانک سماجی رابطے کی سائٹ سے غائب ہوگیا اور جس نے بھی امریکی صدر کو اپنی ٹوئٹ میں ٹیگ کرنا چاہا اس کو پیغام ملا کہ ”ہم معذرت خواہ ہیں لیکن یہ پیج موجود نہیں“۔لوگوں کی جانب سے تشویش کا اظہار کرنے کے بعد ٹوئٹر انتظامیہ نے واقعہ کا فوری نوٹس لیتے ہوئے امریکی صدر کا ٹوئٹر اکاو¿نٹ بحال کیا، ٹوئٹر انتظامیہ کی جانب سے جاری وضاحتی پیغام میں کہا گیا ہے کہ امریکی صدر کا اکاو¿نٹ ٹوئٹر کے ہی ملازم نے بند کیا تھا اور اس کا کمپنی میں آخری دن تھا۔ٹوئٹر انتظامیہ کا کہنا ہے کہ امریکی صدر کا اکاو¿نٹ 11 منٹ کے لیے بند ہوا جو بحال کردیا گیا ہے تاہم واقعہ کی مزید تحقیقات کررہے ہیں تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات سے بچا جاسکے۔

نواز شریف کے آنے سے کچھ لوگوں کو ما یوسی ہوئی:مریم نواز

لاہور (این این آئی) مسلم لیگ (ن) کی مرکزی رہنما مریم نواز نے کہا ہے کہ نواز شریف نے واپس آنا ہی تھا اگر کچھ لوگوں کو ان کی واپسی سے مایوسی ہوئی ہے تو میں کیا کہہ سکتی ہوں،اقتدار سے باہر رکھنا کسی انسان کے بس میں نہیں ،اقتدار کے فیصلے سب سے پہلے اللہ تعالیٰ اور اس کے بعد پاکستان کی عوام کے فیصلے ہیں ، اسحاق ڈار کی رنجش کی بات میں کوئی حقیقت نہیں اور ایسی توقعات رکھنے والوں کو ناکامی ہو گی ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے حلقہ این اے 120کے دورہ کے موقع پر رکن پنجاب اسمبلی میاں ماجد ظہور کے دفتر میں یونین کونسل 57کے بلدیاتی نمائندوں، لیگی عہدیداروں اور متحرک کارکنوں سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف نے واپس آنا تھا اور وہ آ گئے ہیں اگر ان کی واپسی سے کچھ لوگوں کو مایوسی ہوئی ہے تو میں کیا کہہ سکتی ہوں۔ انہوںنے کہا کہ انشا اللہ مسلم لیگ (ن) دوبارہ اقتدار میں آئے گی۔ اقتدار سے باہر رکھنا کسی انسان کے بس میںنہیں، اقتدار کے فیصلے سب سے پہلے اللہ تعالیٰ اور پھر پاکستان کی عوام کے فیصلے ہیں ۔ انہوں نے اسحاق ڈار کی جانب سے سے رنجش کے سوال کے جواب میں کہا کہ اس بات میں کوئی حقیقت ہے او رنہ ہو گی، ایسی توقعات رکھنے والوں کو صرف ناکامی ہو گی ۔ قبل ازیں مریم نواز نے بلدیاتی نمائندوںاور لیگی عہدیداروںسے حلقے اور ان کے علاقوں کے مسائل سے آگاہی حاصل کی اور انہیں جلد حل کرنے کی یقین دہانی کرائی ۔ انہوںنے کہا کہ انتخابی مہم کے دوران جو وعدے کئے تھے انہیں ہر صورت پورا کیا جائے گا ، کارکن اور عوام مسلم لیگ (ن) کی طاقت ہیں اور ان کی رائے کو اہمیت دی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ حکومت عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کرے گی ، جہاں کوئی کمی کوتاہیاں ہیں انہیں بھی دور کیا جائے گا اور آپ کو مایوس نہیں کریں گے۔

نیب قوانین میں سقم بڑے ملزم بچ نکلتے ہیں : کالم نگاروں کا تجزیہ

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل فائیو کے پروگرام ”کالم نگار“ میں گفتگو کرتے ہوئے تجزیہ کار مکرم خان نے کہا ہے کہ نیب کی کارروائیوں میں تیزی آ رہی ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ احتساب کا ادارہ اپنے بارے پرانے تاثر کو ختم کر دینا چاہتا ہے۔ چیئرمین نیب کو بھارت طرز پر کام کرنا چاہیے جہاں سی بی آئی وزیر اعظم سمیت بڑے بڑے نامور افراد کی تحقیقات کرتی ہے سزائیں دلواتی ہے اور پیسہ بھی ریکور کرتی ہے۔ نیب کو ایک مو¿ثر ادارہ بنانے کی نئے چیئرمین کی کوشش خوش آئند ہے۔ نیب قوانین میں تبدیلی لانی ہے تو سب کو متفقہ طور پر لانی چاہیے۔ ہمارے قوانین میں سقم موجود ہیں جن کے باعث ملزمان بدلی ہو جاتے ہیں۔ آصف زرداری جیسے ملزم کو بھی بری کر دیا جاتا ہے۔ پنجاب اور خاص طور پر لاہور میں گندگی بڑھنے کے باعث آلودگی میں خطرناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے جو لوگوں کی زندگیاں چھین رہا ہے۔ درختوں کو بے دریغ کٹائی، انڈسٹری کا فضلہ جلانا، کوڑا کرکٹ جلانا، خشک موسم اس کی وجوہات ہیں سب سے بڑی وجہ تو یہ ہے کہ آلودگی کا خاتمہ حکومت کی ترجیحات میں ہی شامل نہیں ہے۔ پنجاب حکومت سے مطالبہ ہے کہ آلودگی کے خاتمہ کیلئے جو فوری اقدام اٹھایا جا سکتا ہے اس سے عملدرآمد کیا جائے۔ سینئر صحافی امجد اقبال نے کہا ہے کہ نیب اپنے فعال ہونے کا تاثر دینے کیلئے تمام جماعتوں کے رہنماﺅں کے بند کیس کھول رہا ہے۔ نیب قوانین سب کیلئے برابر ہونے چاہئیں۔ یہاں یہ کیس کو سیاسی بنانے کی کوشش کی جاتی ہے اور صرف الرام پر ہی دوسروں کو مجرم ثابت کیا جاتا ہے جو غلط وطیرہ ہے۔ نیب قوانین کی تبدیلی کیلئے تقریباً تمام سیاسی جماعتیں متفق ہیں۔ اب اچانک پی ٹی آئی نے کہہ دیا ہے کہ ہم اتفاق نہیں کرتے۔ پیپلزپارٹی نے اپنی ہی دی تجویز کو ججز اور جرنیلوں کا احتساب ہونا چاہیے کہ واپس لے لیا۔ احتساب سے کسی کو بھی بری الذمہ نہیں ہونا چاہیے۔ نیب کے نئے بل کو پبلک کیا جانا چاہیے۔ تاکہ اس پر عوام میں بحث ہو اور بہتری آئے کرپشن ہر ادارے میں موجود ہے لیکن محض الزام کے باعث کسی کو بے عزت کرنا مناسب نہیں ہاں کرپشن ثابت ہو جائے تو سخت سزا دی جائے۔ آلودگی کا معیار یہ ہے کہ 80 مائیکرو گرام فی کیوبک میٹر سے بڑھ جائے تو صحت کیلئے خطرناک ہوتی ہے اور لاہور میں اس وقت آلودگی 200 مائیکرو گرام تک جا پہنچی ہے۔ ہمارے ہاں حکومتوں کی ترجیحات ہی اور ہیں آلودگی ان کی ترجیح میں شامل ہی نہیں ہوتی۔ درختوں کی بے دریغ کٹائی کی جاتی ہے جو آلودگی کو کم کرتے ہیں۔ معروف صحافی خالد چودھری نے کہا کہ نیب کو اچانک چودھری برادران کے کیسز یاد آ گئے ہیں۔ حنیف عباسی کا کیس کیوں نہیں کھولا جاتا اس طرح کے بے شمار کیسز میں جواب بھی بند ہیں۔ کیا نیب ایک دم سے ٹھیک ہو گیا ہے۔ ن لیگ کا نیب پر اب بھی اثر ورسوخ قائم ہے۔ شرجیل کو گرفتار کیا جاتا ہے کیپٹن (ر) صفدر کی ضمانت لے لی جاتی ہے جو احتساب عدالت کا اختیار ہی نہیں ہے۔ یہ نیب کی خوفناک مثالیں ہیں جو وہ قائم کر رہا ہے۔ صوبوں کو تفریق کا پیغام دیا جا رہا ہے۔ چیئرمین نیب اپنے عمل سے بتائیں کہ سب کے ساتھ یکساں قوانین کے ساتھ نمٹا جائے گا۔ 47 ءسے آج تک صرف سیاستدانوں کا ہی احتساب ہوا ہے کیا عدلیہ میں کوئی جج کرپٹ نہیں۔ سپریم جوڈیشل کونسل نے آج تک کتنے ججز کو سزا دی ہے۔ لاہور باغوں کا شہر تھا سڑکیں، بلڈنگز، کوئلے کے پلانٹس لگا کر پوری آب وہوا کو تباہ کر دیا گیا۔ چین نے بیماریاں پھیلنے کے باعث جو کوئلے کے پلانٹ بند کر دیئے وہ ہمارے خادم اعلیٰ خرید کر لے آئے اور ذرخیز ترین زمینوں پر گاڑھ دیئے کہ لوگوں میں بیماریاں پھیلاﺅ جہاں جنگلات کا راتوں رات صفایا کر دیا جاتا ہے یہ وہاں آلوگی کیوں نہ بڑھے گی۔ سینئر تجزیہ کار جنرل (ر) زاہد مبشر نے کہا کہ نئے چیئرمین نیب نے ابتدا اچھی کی ہے۔ چودھری برادران، علیم خان کے کیسز کھول دینے سے اس تاثر کی نفی ہوئی کہ احتساب صرف شریف خاندان کا ہو رہا ہے۔ نیب اگر کرپشن پر قابو پانے میں کامیاب ہوتا ہے کہ پاکستان کا مستقبل روشن ہو گا۔ نیب کو ہرگز یہ تاثر نہیں دینا چاہیے کہ اس کا رویہ طاقتور اور کمزور سے مختلف ہے۔ ہمارے یہاں کلچر ہے کہ طاقتور قابو میں آ جائے تو قانون تک بدل دیئے جاتے ہیں۔ اب نیب قوانین بدلنے کی بات ہو رہی ہے تو جن کو پہلے قوانین کے تحت سزا دی گئی وہ کہاں فریاد کریں۔ احتساب بلا امتیاز ہونا چاہیے پرویز مشرف نے بھی اگر غلط کام کیا ہے تو اسے سزا دینی چاہیے۔ تاہم اسے یہ حکمران کیسے سزا دے سکتے ہیں جو خود اربوں کی لوٹ مار میں ملوث ہیں ان میں تو اخلاقی جرا¿ت ہی نہیں ہو سکتی کہ کسی کو سزا دے سکیں۔ غلط الزام لگانے والوں کو بھی پکڑا جانا چاہیے۔ پنجاب سمیت ملک بھر میں آلودگی کب کی خطرناک حدیں پار کر چکی ہے۔ درخت لگانے نہیں دیئے جاتے صرف کاٹے جاتے ہیں آلودگی کا خاتمہ حکمران طبقہ کی ترجیحات میں شامل ہی نہیں ہے۔

نیب ریفرنس: سابق وزیراعظم نوازشریف احتساب عدالت میں پیش

(ویب ڈیسک)احتساب عدالت میں شریف خاندان کے خلاف نیب ریفرنسز کی سماعت جاری ہے جب کہ نوازشریف اج عدالت میں پیش ہوگئے ہیں۔کیس کی سماعت کچھ دیر کیلئے ملتوی کر دی گئی ہے اور اسلام آباد ہائیکورٹ سے تمام ریفرنسز اکٹھے کرنے سے متعلق فیصلہ منگوایا گیا ہے۔اج عدالت میں پیشی کے لیے کیپٹن (ر) صفدر پہلے ہی عدالت پہنچ چکے تھے، نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز ایک ساتھ عدالت پہنچے جب کہ نیب کی ٹیم اور سابق زیراعظم کے وکیل خواجہ حارث بھی اپنی ٹیم کے ہمراہ عدالت میں موجود ہیں۔احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے گزشتہ سماعت پر پیش نہ ہونے پر سابق وزیراعظم نوازشریف کے قابل ضمانت وارنٹ جاری کیے تھے

نواز شریف نے سی پیک دیا دہشتگردی ختم کی، ملک سے بھاگنے کی ضرورت نہیں : مر یم اورنگ ز یب

اسلام آباد (آئی این پی)وزیرمملکت برائے اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہاہے کہ نواز شریف کی لیڈر شپ وزارت عظمیٰ کی خواہش مند نہیں،پاکستان کے عوام فیصلہ کریں گے کہ اس کا لیڈر کون ہو گا، نواز شریف پاکستان کے لیڈر تھے،ہیں اور رہیں گے، پاکستان کے تیسری بار منتخب وزیراعظم کے خلاف کوئی ثبوت نہیں مل سکے، پاکستان کی عوام نواز شریف کے ساتھ ہے،ملک کے تمام اداروں کو آئین اور قانون کے تحت کام کرنا ہو گا، آجکل جس کی چیخیں نکل رہی ہیں ان کا بندوبست جلد ہونے والا ہے، عمران خان عوام کا سامنا نہیں کر سکتے کیونکہ وہ چور ہیں، نواز شریف عوام کے ووٹ کا تقدس بحال کرنا چاہتے ہیں جس وزیراعظم نے ملک کو سی پیک دیا، ملک سے دہشت گردی کا خاتمہ کیا، اسے ملک سے بھاگنے کی ضرورت نہیں ہے، عمران خان پروٹوکول اور سیکیورٹی کا فرق کبھی نہیں سمجھیں گے۔ نے ملک کو سی پیک دیا، ملک سے دہشت گردی کا خاتمہ کیا، اسے ملک سے بھاگنے کی ضرورت نہیں ہے،عمران خان اداروں کو گالیاں دیتے ہیں بھاگنے کی ضرورت انہیں ہے، نواز شریف جس طرح قانون کے سامنے پیش ہو رہے ہیں، وہ صرف عوام کےلئے ہے، نواز شریف ووٹر اور ووٹ کے تقدس کو بحال کرنا چاہتے ہیں، ہمارا موقف ہے کہ ملک کی ترقی صرف منتخب لوگ ہی کر سکتے ہیں، پاکستان کے تیسری مرتبہ منتخب وزیراعظم کے خلاف کوئی ثبوت نہ مل سکا، ثبوت نہ ملنے پر نواز شریف کو اقامہ کی بنیاد پر نا اہل کر دیا گیا، پاکستان کی عوام نواز شریف کے ساتھ ہے، ملک کے تمام اداروں کو آئین اور قانون کے تحت کام کرنا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان پروٹوکول اور سیکیورٹی کا فرق کبھی نہیں سمجھیں گے۔ مریم اور نگزیب نے کہاہے کہ پاکستان کو پارلیمنٹ ٹاسک فورس کی ضرورت ہے ¾ آبادی کے حوالے سے پہلی کانفرنس ہو گی جو پارلیمنٹ کرائےگی ¾ایم ڈی جیز کے ہداف پورے نہ ہونے کی وجہ پارلیمان سے عدم وابستگی تھی ¾پائیدار ترقی ہداف کے حصول کےلئے صوبوں میں موثر رابطے کےلئے ٹیکنالوجی کا استعمال لازمی ہے ۔

نواز شریف پر مقدموں کی بھر مار زداری کو کوئی نہیں پوچھتا: ضیا شاہد

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں اور تبصروں پر مشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں معروف صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ میاں محمد نوازشریف نے ایک صحت مندانہ سوچ کا مظاہرہ کیا ہے اور عدالتوں سے ٹکراﺅ کی بجائے خود پیش ہونے کی روش کو قائم رکھا ہے۔ آج بھی ملک میں نوازشریف کی حکومت ہی قائم ہے۔ شاہد خاقان عباسی انہیں ہی اپنا وزیراعظم قرار دیتے ہیں۔ حکومتی ادارے ان کا احترام کرتے ہیں۔ انہیں پنجاب لیول پر ہی سہی مکمل پروٹوکول دیتے ہیں۔ یہ اچھا عمل ہے کہ میاں صاحب اپنی صاحبزادی کی طرح عدالتوں کا مذاق نہیں اڑاتے۔ بلاوجہ فوج کو سول معاملات میں نہ کھینچیں۔ اگر میاں صاحب کا فیصلہ فوجی عدالتوں نے کرنا ہوتا تو چند دن میں کر کے سائیڈ پر رکھ دیتے۔ یا بری ہو جاتے یا سزا مل جاتی۔ قانون دانوں کی اکثریت کہتی ہے۔ عدالتں نے نوازشریف کے معاملے پر بہت نرمی برتی ہے۔ شرجیل میمن درست شور مچا رہے ہیں کہ اسی قسم کا کیس میرا ہے۔ میرا نام ای سی ایل میں ڈال دیا جاتا ہے جبکہ نوازشریف صاحب آن بان اور شان سے آتے ہیں چلے جاتے ہیں۔ میاں نوازشریف صاحب کا مقام دنیا میں کافی بڑا ہے۔ وہ سب سے بڑا سیاسی پارٹی کے سربراہ ہیں۔ اسی طرح پیپلزپارٹی کے آصف علی زرداری صاحب کی مثال بھی ہمارے سامنے ہے۔ کتنے ہی مجرمان نے یہ اقرار کیا ہے کہ ہم دن بھر کی کمائی (بھتہ) اکٹھا کر کے بلاول ہاﺅس بھیج دیا کرتے تھے۔ مجال ہے بلاول ہاﺅس کو ایک بھی نوٹس گیا ہو۔ اسی طرح آصف زرداری کے خلاف ایک بھی نیا مقدمہ درج نہیں ہوا۔ شاید کوئی پچھلے مقدمات ہوں تو کیوں عزیر بلوچ نے کتنے ہی انکشافات کئے۔ ہماری عدالتیں معذرت کے ساتھ ملزمان خود چنتی ہیں۔ معلوم نہیں نوازشریف کی باری کس طرح آ گئی۔ وہی جرم آصف علی زرداری کرتے ہیں تو انہیں کوئی نہیں پوچھتا۔ وہی جرم نوازشریف کریں تو انہیں (11) نوٹس آ جاتے ہیں اسی طرح مریم بی بی کو ایئرپوٹ پر سمن پہنچا دیئے جاتے ہیں۔ فریال تالپور کے خلاف کتنے نوٹس ہوئے۔ یا کرپشن کے مقدمات درج ہوئے ہیں۔ ہمارے لندن کے نمائندے بتا رہے تھے کہ وزیراعظم نے کہا ہے کہ میاں صاحب کو اگر گرفتار کیا گیا تو وہ استعفیٰ دے دیں گے۔ یہی آفر شہباز شریف صاحب نے بھی دی ہے۔ شیخ رشید کا شاہد خاقان عباسی پر ایل این جی کا الزام درست ہوتا تو اب تک وہ پکڑے جاتے۔ ہماری عدالتوں پر آفرین ہے۔ غلام اصحاق خان، پی پی پی کے وزیراعظم بینظیر کو فارغ کر دیتے ہیں، سپریم کورٹ کہتی ہے درست کام کیا۔ وہی الزام نوازشریف پر لگا۔ غلام اسحاق خان نے کہا آﺅٹ۔ سپریم کورٹ نے انہیں کھٹ سے بحال کر دیا۔ ذوالفقار علی بھٹو کے کیس میں 4 کے مقابلے میں 3ججوں نے بتایا کہ انہیں پھانسی نہیں دینی چاہئے۔ 4 نے مخالفت کی اور انہیں پھانسی لگ گئی۔ ان چار میں چھوٹے قد کے نسیم حسن شاہ نے دو سال بعد عجیب بیان دے دیا کہ ہم پر بڑا دباﺅ تھا۔ حالانکہ اُردو ڈائجسٹ میں چھپنے والے ایک مضمون میں انہوں نے کہا کہ ضیاءالحق نے مجھ پر کبھی دباﺅ نہیں ڈالا۔ 8 یا دس سال کے بعد ان کا ضمیر جاگا۔ تو انہوں نے سچ بول دیا کہ مجھ سے غلطی ہو گئی۔ جب میں کراچی میں جاتا ہوں تو لوگ مجھے پکڑ کر کہتے ہیں کہ او پنجابیو! تم نے تو عدالتوں سے فیصلے لینے کا ٹھیکہ لے رکھا ہے۔ سندھی کے خلاف فیصلہ خلاف اور پنجابی کے حق میں آ جاتا ہے۔ پاک فوج، بہادر فوج نے آصف زرداری کے بیان پر انہیں کچھ بھی نہیں کہا، انہوں نے اینٹ سے اینٹ بجانے کی دھمکی دی۔ اور واقعی تین سال بعد راحیل شریف تو نوکری ختم کر کے سعودی عرب چلے گئے اور زرداری صاحب یہاں باقی رہ گئے۔ دبئی میں زرداری کا بہت خوبصورت گھر ہے۔ بینظیر بھی یہاں رہا کرتی تھیں۔ وہ پوش علاقے میں واقع ہے۔ ادارے عدالتوں کے ساتھ آنکھ مچولی کھیلتے رہتے ہیں۔ کسی کو ریلیف مل جائے گا تو کیا ہو گا۔ کوئی نیب کے کہنے پر کیس کھول دے گا تو کیا ہو گا؟ میاں نوازشریف کے وارنٹ پر بہت شوروغوغا مچایا گیا ہوا کیا۔ قابل ضمانت فارنٹ تھے۔ وہ بیل کروا لیں گے۔ ایم کیو ایم ایک ایسی جماعت ہے جو اسٹیبلشمنٹ کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتی۔ ان کے منہ میں ان کے دودھ کا فیڈر ہوتا ہے۔ وگرنہ تو ان پر اتنے اتنے کیس ہیں کہ انتہا۔ 250 تو فاروق ستار پر ہوں گے۔ ان کے وارنٹ بھی نکلے ہوتے ہیں کوئی مائی کا لعل انہیں نہیں پوچھتا۔ پولیس کا نظام بھی عجیب ہے۔ ”میرا“ پر ایک کیس ہو گیا۔ تھانے والوں نے عدالت میں لکھ کر دیا کہ سمن کی تعمیل نہ ہو سکی۔ حالانکہ اسی دن وہ ایوانِ اقبال میں مجرا کر رہی تھی۔ ہمارے یہاں انصاف بکتا ہے۔ جس لیول پر چاہیں قیمت ادا کریں اور انصاف حاصل کر لیں۔ بھٹو دور میں ولی خان کو بین کیا گیا۔ اجمل خٹک افغانستان میں تھے۔ عطاءاللہ مینگل، شیر محمد مری کو بین کیا گیا۔ ان میں سے ایک آدمی کا ڈرائیور پشاور میں پکڑا گیا۔ اس کا نام ظفر اقبال تھا۔ اسے پولیس نے اتنا مارا کہ اس کی کمر سے خون بہہ رہا تھا۔ ڈرائیور کی گاڑی سے کوئی رسائے یا مواد ملا۔ باقی کے بارے پوچھتے ہوئے پولیس نے اس بیچارے کو اتنا مارا کہ اس کے جسم سے خون بہہ نکلا۔ جس لیڈر کا وہ ڈرائیور تھا۔ وہ حیدرآباد کی ٹربیونل عدالت میں A کلاس میں موجود تھا۔ اس لیڈر نے ایک دن شکایت کی کہ ہمیں جو جھینگے دیئے جا رہے ہیں وہ باسی ہیں۔ الفتح میں اس کی تفصیل چھپی۔ یہ بات آن ریکارڈ ہے کہ ان افراد کے لئے کراچی سے سپیشل ہیلی کاپٹر پر تازہ جھینگا اور مچھلی لائی جاتی اور انہیں دی جاتی۔ جس ملزم کی گاڑی سے مواد برآمد ہوا تھا وہ تو جھینگے کھا رہا تھا اور اس کا بدبخت ڈرائیور پولیس کے چھتر کھا رہا تھا۔ اسی طرح ان حکمرانوں پر اگر غداری ثابت بھی ہوئی تو انہیں اعلیٰ قسم کے ریسٹ ہاﺅس میں رکھا جائے گا۔ اے کلاس ملے گی تمام خواہشات کی تکمیل ہو گی۔ اس وقت عدلیہ کا ٹیسٹ ہے کہ وہ ان کے ساتھ کیا سلوک کرتی ہے۔ لاہور شہر کی صدر کی عدالت میں میں نے دیکھا ملزمان کو چھ، چھ گھنٹے واش روم نہیں جانے دیا جاتا۔ میں نے اپنے دوست وزیر قانون سے کہہ کر وہاں واش روم بنوایا۔ کیمپ جیل کو میں نے اس وقت دیکھا جب فلش سسٹم موجود نہیں تھا۔ عدالتوں، انتظامیہ اور بار کونسلوں سے گزارش ہے کہ غریب کے بچے اگر پکڑے جائیں تو ان کے ساتھ ہونے والے سلوک کا معائنہ کریں۔ اب بھی حوالاتوں میں واش روک تک نہیں ہے۔ بخشی خانوں میں 50 کی گنجائش والی جگہوں پر 100 ڈال دیئے جاتے ہیں۔ برائے مہربانی شرفاءکو دیئے جانے والی سہولتوں میں سے چند سہولتیں عوامی جیل خانہ جات اور بخشی خانوں کو بھی مہیا کر دیں۔ صدر نیشنل بینک وعدہ معاف گواہ بن گئے ہیں اصل قصور تو انہیں بنانے والوں کا ہے۔ نیشنل بینک تمام بینکوں کا سرکاری بینک ہے۔ اسے ہر دور میں لوٹا گیا۔ آخر سعید احمد کو کسی نے تتو بنایا ہو گا۔ سعید احمد کو کسی نے بتایا۔ ان سے کسی نے فائدہ اٹھایا۔ پی پی پی پی دور میں بینظیر وزیراعظم تھیں اور نوازشریف پنجاب کے وزیراعلیٰ اس دور میں بی بی نے نوازشریف کے جہاز کراچی میں روک لئے۔ دونوں پارٹیوں میں زبردست جنگ تھی۔ اس دور میں دونوں نے اپنے ایم پی اے کو نوازنا شروع کیا۔ اس کے لئے کوئی انہیں سوت لے گیا۔ کوئی انہیں مری لے گیا۔ کوئی انہیں چھانگا مانگا لے گیا۔ بینظیر دور میں عدم اعتماد کے وقت جہاں ایم این اے، ایم پی اے کو رکھا گیا کیا رونقیں ہوتی تھیں۔ کیا پینے پلانے کا سلسلہ ہوتا تھا۔ کیا ناچ گانوں کی محفلیں ہوا کرتی تھیں، لوگ تو اس کی دعائیں کرتے تھے کہ ایسا ہو۔ مجھے یاد ہے کہ ایک مرتبہ دو ایم پی اے کو ایک کمرے میں بند کیا گیا میں نے باہر سے کھولنا چاہا تو مجھے روک دیا گیا کہ یہ وہ ایم پی اے ہیں کہ یہاں سے پلال بھی لے گئے ہیں اور بی بی سے پیسہ بھی وصول کر لیا ہے۔ ہم نے انہیں پکڑ کر اندر دے دیا ہے۔ اب اس وقت نکالیں گے جب ان کی ضرورت ہو گی۔ دونوں جانب سے خوب نوازا جاتا تھا۔ لوٹنے والے بھی دونوں طرف سے لوٹتے رہے۔ دونوں طرف کی پارٹیوں کی لڑائی کی بدولت، ملک میں جمہوریت کا خانہ خراب ہو گیا۔ ایم این اے، ایم پی اے نوکریاں بانٹتے ہیں۔ بلکہ بیچتے ہیں۔ کسی کے اندر ہمت ہے کہ پیسے ادا کرنے کے بعد متعلقہ ایم این اے یا ایم پی اے سے پوچھ سکے کہ ہمارا کام کیوں نہیں ہوا۔

نواز شریف کی آج احتساب عدالت میں پیشی

لندن، اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک، خبر نگار خصوصی) سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ (ن) کے صدر میاں نواز شریف لندن سے واپ اسلام آباد پہنچ گئے۔ (آج)جمعہ کو احتساب عدالت میں پیش ہوں گے ،نوازشریف کو بے نظیر ایئرپورٹ پر پہنچنے کے بعد قافلے کی صورت میں وفاقی دارالحکومت میں اپنی رہائش گاہ پنجاب ہاﺅس پہنچ گئے۔ نواز شرےف قومی ایئر لائن کی فلائٹ نمبر پی کے 786 کے ذرےعے اسلام آباد پہچے اےئرپورٹ پر لیگی رہنماﺅں سمیت پارٹی کارکنان کی بڑی تعداد موجود تھی۔ لیگی قیادت نے نواز شریف کا ایئرپورٹ پر استقبال کیا جبکہ سابق وزیر اعظم نے ان کا استقبال کے لیے آنے والے رہنماﺅں سے مصافحہ بھی کیا۔ نواز شریف کو پہلے راول لانج لایا گیا، جہاں پہلے سے موجود تفتیشی آفیسر محبوب عالم کی سربراہی میں نیب کی ٹیم نے سابق وزیراعظم سے احتساب عدالت کے سمن کی تعمیل کروائی۔ ذرائع کے مطابق تعمیلی سمن پر دستخط کے بعد نواز شریف نے ان کے استقبال کے لیے موجود مسلم لیگ (ن) کے رہنماﺅں سے مختصر مشاورت کی اور پھر پنجاب ہاﺅس پہنچ گئے۔ اس موقع پر سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کئے گئے تھے۔ذرائع کے مطابق نواز شریف قافلے کی صورت میں پنجاب ہاﺅس روانہ ہوئے جبکہ وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق، پارٹی رہنما آصف کرمانی اور پارٹی کے سیکرٹری اطلاعات پرویز رشید سمیت دیگر رہنما بھی ان کے ہمراہ تھے۔ سابق وزیراعظم نوازشریف کے زیرصدارت پنجاب ہاﺅس مسلم لیگ کا مشاورتی اجلاس ختم ہو گیا جس میں راجہ ظفرالحق،مشاہد اللہ،چودھری تنویر، پرویزرشید، سعدرفیق، زاہدحامد،انوشہ رحمان ، طارق فضل چودھری،طلال چودھری،امیرمقام شریک ہوئے۔ اجلاس میں ملکی سیاسی صورتحال اورآئندہ کی حکمت عملی پرمشاورت کی گئی اس کے علاوہ نوازشریف کیخلاف نیب ریفرنسزاوراحتساب عدالت میں پیشی پربات چیت ہوئی،پارٹی رہنماﺅں نے بیگم کلثوم نواز کی صحت سے متعلق دریافت کیا۔ اس موقع پر نوازشریف کاپارٹی رہنماﺅں سے کہنا تھا کہ بیگم کلثوم نوازکوآپ کی دعاوں کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہم نے کوئی تصادم کی راہ اختیار نہیں کی ،ہمارے ساتھ تصادم کیاگیا،سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ کوئی بے اصولی کی نہ آئندہ ایسا کچھ کرےں گے ،ہم اقتدار نہیں اقدار کی سیاست پر یقین رکھتے ہیں،نوازشریف کا کہناتھا کہ میں مقدمات کا سامنے کرنے کیلئے ہی آیا ہوں،مقدمات سے گھبرانے والا نہیں۔خیال رہے کہ پاناما پیپرز کیس میں سپریم کورٹ کے حتمی فیصلے کی روشنی میں نیب کی جانب سے دائر ریفرنسز کے سلسلے میں اسلام آباد کی احتساب عدالت میں پیش ہونے کے لیے نواز شریف لندن سے اسلام آباد پہنچے۔یاد رہے کہ نواز شریف گزشتہ ماہ 5 اکتوبر کو لندن روانہ ہوگئے تھے جہاں انہوں نے اپنی اہلیہ کلثوم نواز کی تیمار داری کی جو کہ کینسر کے عارضے میں مبتلا ہیں اور لندن کے ایک ہسپتال میں زیرِ علاج ہیں۔ (آج)جمعہ کو اسلام آباد کی احتساب عدالت میں نواز شریف کیساتھ ساتھ مریم نواز اور کیپٹن (ر)صفدرکے خلاف نیب ریفرنسز کی سماعت ہوگی۔ سابق وزیر اعظم نواز شریف نے دو ٹوک الفاظ میں واضح کیا ہے کہ کوئی مائنس پلس فارمولہ قبول نہیں کیا جائے گا،ہم کسی کے ساتھ تصادم نہیں چاہتے بلکہ تصادم تو ہمارے ساتھ کیا گیا ہے ، عدالتوں کو پہلے بھی بھگت چکے اور اب بھی نہیں بھاگیں گے ،عدالت میں پیش ہوں گا کیا جرم کیا ہے کہ ہر 10سال بعد ملک چھوڑ دوں ،پارٹی فیصلوں کا اطلاق مجھ سمیت سب پر ہو گا،یہ اصولی فیصلے کرنے کا وقت ہے ،اصولوں پر کھڑے رہیں تو کوئی کچھ نہیں کر سکتا،پاکستا ن کے نظام میں تضادات ہیں اور یہ ہماری بد قسمتی ہے۔نجی ٹی وی کے مطابق لندن سے واطن واپسی کے بعد اسلام آباد کے پنجاب ہاو¿س میں پارٹی رہنماو¿ں سے گفتگو کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ ہم نے تصادم کی راہ نہیں اپنائی ہمارے ساتھ تصادم کیا گیا تاہم مائنس فارمولے کے حوالے سے کوئی ڈکٹیشن نہیں لی جائے گی۔پنجاب ہاو¿س میں سابق وزیراعظم نوازشریف کی زیر صدارت غیر رسمی مشاورتی اجلاس ہوا جس میں نیب ریفرنس کے حوالے سے قانونی پہلوں پر غور کیا گیا۔ اجلاس میں وزیر داخلہ احسن اقبال اور چوہدری جعفراقبال سمیت دیگر پارٹی رہنما موجود تھے۔ اجلاس میں نوازشریف نے وزرا کو کسی بھی طور پر جذباتی ردعمل نہ دینے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ یہ اصولی فیصلے کرنے کا وقت ہے، اصولوں پر کھڑے رہیں تو پھر دیکھیں ہمیں کون ہٹاتا ہے، ہم نے تصادم کی راہ نہیں اپنائی لیکن ہمارے ساتھ تصادم کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پارٹی فیصلوں کا اطلاق مجھ سمیت سب پر ہو گا،مائنس فارمولے کے حوالے سے کوئی ڈکٹیشن نہیں لی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ میں عدالتوں کا سامنا کروں گا ہم نے پہلے بھی عدالتوں کا سامنا کیا ہے ۔اسے سے پہلے لندن سے وطن روانگی کے موقع پر نواز شریف نے میڈیا سے مختصر گفتگو کی اور کہا کہ پاکستان کے نظام میں تضادات ہیں اور نظام میں تضادات ہی ہماری بد قسمتی ہے تاہم عدالتوں کو پہلے بھی بھگت چکے ہیں، اب بھی نہیں بھاگیں گے جب کہ 3 نومبر کو عدالت میں پیش ہونے کے لیے پاکستان جارہا ہوں۔سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ میں کیوں ہر10 سال بعد ملک چھوڑوں، آخرمیں نے کیا کیا ہے جب کہ ایک سیکنڈ میں وزیراعظم کو ہائی جیکر بنا دیتے ہیں، یہ کہاں کا دستور ہے، مجھ پر ہائی جیکنگ کا کیس بناکر سزا دی گئی مگر کس قانون کے تحت یہ سزا دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ کیسز بھی اسی طرح کے ہی کیسز ہیں۔ نواز شریف نے کہا کہ جو احتساب کیا جارہا ہے اس کا مقصد انصاف کا بول بالا کرنا نہیں بلکہ سیاسی انتقام ہے لیکن پھر بھی عدالت میں پیش ہونے کے لیے پاکستان جارہا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ اقامہ کو بنیاد بناکر نااہلی سے پاکستان کو نقصان پہنچا، سیسیلین مافیا اور گاڈ فادر جیسے ریمارکس دینے والی عدالت کا بہادری سے سامنا کیا، جبکہ ہر طرح کی جانبداری کے باوجود عدالتوں کا سامنا کروں گا۔

نواز شریف پر مقدموں کی بھر مار زداری کو کوئی نہیں پوچھتا: ضیا شاہد


لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں اور تبصروں پر مشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں معروف صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ میاں محمد نوازشریف نے ایک صحت مندانہ سوچ کا مظاہرہ کیا ہے اور عدالتوں سے ٹکراﺅ کی بجائے خود پیش ہونے کی روش کو قائم رکھا ہے۔ آج بھی ملک میں نوازشریف کی حکومت ہی قائم ہے۔ شاہد خاقان عباسی انہیں ہی اپنا وزیراعظم قرار دیتے ہیں۔ حکومتی ادارے ان کا احترام کرتے ہیں۔ انہیں پنجاب لیول پر ہی سہی مکمل پروٹوکول دیتے ہیں۔ یہ اچھا عمل ہے کہ میاں صاحب اپنی صاحبزادی کی طرح عدالتوں کا مذاق نہیں اڑاتے۔ بلاوجہ فوج کو سول معاملات میں نہ کھینچیں۔ اگر میاں صاحب کا فیصلہ فوجی عدالتوں نے کرنا ہوتا تو چند دن میں کر کے سائیڈ پر رکھ دیتے۔ یا بری ہو جاتے یا سزا مل جاتی۔ قانون دانوں کی اکثریت کہتی ہے۔ عدالتں نے نوازشریف کے معاملے پر بہت نرمی برتی ہے۔ شرجیل میمن درست شور مچا رہے ہیں کہ اسی قسم کا کیس میرا ہے۔ میرا نام ای سی ایل میں ڈال دیا جاتا ہے جبکہ نوازشریف صاحب آن بان اور شان سے آتے ہیں چلے جاتے ہیں۔ میاں نوازشریف صاحب کا مقام دنیا میں کافی بڑا ہے۔ وہ سب سے بڑا سیاسی پارٹی کے سربراہ ہیں۔ اسی طرح پیپلزپارٹی کے آصف علی زرداری صاحب کی مثال بھی ہمارے سامنے ہے۔ کتنے ہی مجرمان نے یہ اقرار کیا ہے کہ ہم دن بھر کی کمائی (بھتہ) اکٹھا کر کے بلاول ہاﺅس بھیج دیا کرتے تھے۔ مجال ہے بلاول ہاﺅس کو ایک بھی نوٹس گیا ہو۔ اسی طرح آصف زرداری کے خلاف ایک بھی نیا مقدمہ درج نہیں ہوا۔ شاید کوئی پچھلے مقدمات ہوں تو کیوں عزیر بلوچ نے کتنے ہی انکشافات کئے۔ ہماری عدالتیں معذرت کے ساتھ ملزمان خود چنتی ہیں۔ معلوم نہیں نوازشریف کی باری کس طرح آ گئی۔ وہی جرم آصف علی زرداری کرتے ہیں تو انہیں کوئی نہیں پوچھتا۔ وہی جرم نوازشریف کریں تو انہیں (11) نوٹس آ جاتے ہیں اسی طرح مریم بی بی کو ایئرپوٹ پر سمن پہنچا دیئے جاتے ہیں۔ فریال تالپور کے خلاف کتنے نوٹس ہوئے۔ یا کرپشن کے مقدمات درج ہوئے ہیں۔ ہمارے لندن کے نمائندے بتا رہے تھے کہ وزیراعظم نے کہا ہے کہ میاں صاحب کو اگر گرفتار کیا گیا تو وہ استعفیٰ دے دیں گے۔ یہی آفر شہباز شریف صاحب نے بھی دی ہے۔ شیخ رشید کا شاہد خاقان عباسی پر ایل این جی کا الزام درست ہوتا تو اب تک وہ پکڑے جاتے۔ ہماری عدالتوں پر آفرین ہے۔ غلام اصحاق خان، پی پی پی کے وزیراعظم بینظیر کو فارغ کر دیتے ہیں، سپریم کورٹ کہتی ہے درست کام کیا۔ وہی الزام نوازشریف پر لگا۔ غلام اسحاق خان نے کہا آﺅٹ۔ سپریم کورٹ نے انہیں کھٹ سے بحال کر دیا۔ ذوالفقار علی بھٹو کے کیس میں 4 کے مقابلے میں 3ججوں نے بتایا کہ انہیں پھانسی نہیں دینی چاہئے۔ 4 نے مخالفت کی اور انہیں پھانسی لگ گئی۔ ان چار میں چھوٹے قد کے نسیم حسن شاہ نے دو سال بعد عجیب بیان دے دیا کہ ہم پر بڑا دباﺅ تھا۔ حالانکہ اُردو ڈائجسٹ میں چھپنے والے ایک مضمون میں انہوں نے کہا کہ ضیاءالحق نے مجھ پر کبھی دباﺅ نہیں ڈالا۔ 8 یا دس سال کے بعد ان کا ضمیر جاگا۔ تو انہوں نے سچ بول دیا کہ مجھ سے غلطی ہو گئی۔ جب میں کراچی میں جاتا ہوں تو لوگ مجھے پکڑ کر کہتے ہیں کہ او پنجابیو! تم نے تو عدالتوں سے فیصلے لینے کا ٹھیکہ لے رکھا ہے۔ سندھی کے خلاف فیصلہ خلاف اور پنجابی کے حق میں آ جاتا ہے۔ پاک فوج، بہادر فوج نے آصف زرداری کے بیان پر انہیں کچھ بھی نہیں کہا، انہوں نے اینٹ سے اینٹ بجانے کی دھمکی دی۔ اور واقعی تین سال بعد راحیل شریف تو نوکری ختم کر کے سعودی عرب چلے گئے اور زرداری صاحب یہاں باقی رہ گئے۔ دبئی میں زرداری کا بہت خوبصورت گھر ہے۔ بینظیر بھی یہاں رہا کرتی تھیں۔ وہ پوش علاقے میں واقع ہے۔ ادارے عدالتوں کے ساتھ آنکھ مچولی کھیلتے رہتے ہیں۔ کسی کو ریلیف مل جائے گا تو کیا ہو گا۔ کوئی نیب کے کہنے پر کیس کھول دے گا تو کیا ہو گا؟ میاں نوازشریف کے وارنٹ پر بہت شوروغوغا مچایا گیا ہوا کیا۔ قابل ضمانت فارنٹ تھے۔ وہ بیل کروا لیں گے۔ ایم کیو ایم ایک ایسی جماعت ہے جو اسٹیبلشمنٹ کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتی۔ ان کے منہ میں ان کے دودھ کا فیڈر ہوتا ہے۔ وگرنہ تو ان پر اتنے اتنے کیس ہیں کہ انتہا۔ 250 تو فاروق ستار پر ہوں گے۔ ان کے وارنٹ بھی نکلے ہوتے ہیں کوئی مائی کا لعل انہیں نہیں پوچھتا۔ پولیس کا نظام بھی عجیب ہے۔ ”میرا“ پر ایک کیس ہو گیا۔ تھانے والوں نے عدالت میں لکھ کر دیا کہ سمن کی تعمیل نہ ہو سکی۔ حالانکہ اسی دن وہ ایوانِ اقبال میں مجرا کر رہی تھی۔ ہمارے یہاں انصاف بکتا ہے۔ جس لیول پر چاہیں قیمت ادا کریں اور انصاف حاصل کر لیں۔ بھٹو دور میں ولی خان کو بین کیا گیا۔ اجمل خٹک افغانستان میں تھے۔ عطاءاللہ مینگل، شیر محمد مری کو بین کیا گیا۔ ان میں سے ایک آدمی کا ڈرائیور پشاور میں پکڑا گیا۔ اس کا نام ظفر اقبال تھا۔ اسے پولیس نے اتنا مارا کہ اس کی کمر سے خون بہہ رہا تھا۔ ڈرائیور کی گاڑی سے کوئی رسائے یا مواد ملا۔ باقی کے بارے پوچھتے ہوئے پولیس نے اس بیچارے کو اتنا مارا کہ اس کے جسم سے خون بہہ نکلا۔ جس لیڈر کا وہ ڈرائیور تھا۔ وہ حیدرآباد کی ٹربیونل عدالت میں A کلاس میں موجود تھا۔ اس لیڈر نے ایک دن شکایت کی کہ ہمیں جو جھینگے دیئے جا رہے ہیں وہ باسی ہیں۔ الفتح میں اس کی تفصیل چھپی۔ یہ بات آن ریکارڈ ہے کہ ان افراد کے لئے کراچی سے سپیشل ہیلی کاپٹر پر تازہ جھینگا اور مچھلی لائی جاتی اور انہیں دی جاتی۔ جس ملزم کی گاڑی سے مواد برآمد ہوا تھا وہ تو جھینگے کھا رہا تھا اور اس کا بدبخت ڈرائیور پولیس کے چھتر کھا رہا تھا۔ اسی طرح ان حکمرانوں پر اگر غداری ثابت بھی ہوئی تو انہیں اعلیٰ قسم کے ریسٹ ہاﺅس میں رکھا جائے گا۔ اے کلاس ملے گی تمام خواہشات کی تکمیل ہو گی۔ اس وقت عدلیہ کا ٹیسٹ ہے کہ وہ ان کے ساتھ کیا سلوک کرتی ہے۔ لاہور شہر کی صدر کی عدالت میں میں نے دیکھا ملزمان کو چھ، چھ گھنٹے واش روم نہیں جانے دیا جاتا۔ میں نے اپنے دوست وزیر قانون سے کہہ کر وہاں واش روم بنوایا۔ کیمپ جیل کو میں نے اس وقت دیکھا جب فلش سسٹم موجود نہیں تھا۔ عدالتوں، انتظامیہ اور بار کونسلوں سے گزارش ہے کہ غریب کے بچے اگر پکڑے جائیں تو ان کے ساتھ ہونے والے سلوک کا معائنہ کریں۔ اب بھی حوالاتوں میں واش روک تک نہیں ہے۔ بخشی خانوں میں 50 کی گنجائش والی جگہوں پر 100 ڈال دیئے جاتے ہیں۔ برائے مہربانی شرفاءکو دیئے جانے والی سہولتوں میں سے چند سہولتیں عوامی جیل خانہ جات اور بخشی خانوں کو بھی مہیا کر دیں۔ صدر نیشنل بینک وعدہ معاف گواہ بن گئے ہیں اصل قصور تو انہیں بنانے والوں کا ہے۔ نیشنل بینک تمام بینکوں کا سرکاری بینک ہے۔ اسے ہر دور میں لوٹا گیا۔ آخر سعید احمد کو کسی نے تتو بنایا ہو گا۔ سعید احمد کو کسی نے بتایا۔ ان سے کسی نے فائدہ اٹھایا۔ پی پی پی پی دور میں بینظیر وزیراعظم تھیں اور نوازشریف پنجاب کے وزیراعلیٰ اس دور میں بی بی نے نوازشریف کے جہاز کراچی میں روک لئے۔ دونوں پارٹیوں میں زبردست جنگ تھی۔ اس دور میں دونوں نے اپنے ایم پی اے کو نوازنا شروع کیا۔ اس کے لئے کوئی انہیں سوت لے گیا۔ کوئی انہیں مری لے گیا۔ کوئی انہیں چھانگا مانگا لے گیا۔ بینظیر دور میں عدم اعتماد کے وقت جہاں ایم این اے، ایم پی اے کو رکھا گیا کیا رونقیں ہوتی تھیں۔ کیا پینے پلانے کا سلسلہ ہوتا تھا۔ کیا ناچ گانوں کی محفلیں ہوا کرتی تھیں، لوگ تو اس کی دعائیں کرتے تھے کہ ایسا ہو۔ مجھے یاد ہے کہ ایک مرتبہ دو ایم پی اے کو ایک کمرے میں بند کیا گیا میں نے باہر سے کھولنا چاہا تو مجھے روک دیا گیا کہ یہ وہ ایم پی اے ہیں کہ یہاں سے پلال بھی لے گئے ہیں اور بی بی سے پیسہ بھی وصول کر لیا ہے۔ ہم نے انہیں پکڑ کر اندر دے دیا ہے۔ اب اس وقت نکالیں گے جب ان کی ضرورت ہو گی۔ دونوں جانب سے خوب نوازا جاتا تھا۔ لوٹنے والے بھی دونوں طرف سے لوٹتے رہے۔ دونوں طرف کی پارٹیوں کی لڑائی کی بدولت، ملک میں جمہوریت کا خانہ خراب ہو گیا۔ ایم این اے، ایم پی اے نوکریاں بانٹتے ہیں۔ بلکہ بیچتے ہیں۔ کسی کے اندر ہمت ہے کہ پیسے ادا کرنے کے بعد متعلقہ ایم این اے یا ایم پی اے سے پوچھ سکے کہ ہمارا کام کیوں نہیں ہوا۔

نیب قوانین میں سقم،بڑے ملزم بچ نکلتے ہیں : کالم نگاروں کا تجزیہ


لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل فائیو کے پروگرام ”کالم نگار“ میں گفتگو کرتے ہوئے تجزیہ کار مکرم خان نے کہا ہے کہ نیب کی کارروائیوں میں تیزی آ رہی ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ احتساب کا ادارہ اپنے بارے پرانے تاثر کو ختم کر دینا چاہتا ہے۔ چیئرمین نیب کو بھارت کی
طرز پر کام کرنا چاہیے جہاں سی بی آئی وزیر اعظم سمیت بڑے بڑے نامور افراد کی تحقیقات کرتی ہے سزائیں دلواتی ہے اور پیسہ بھی ریکور کرتی ہے۔ نیب کو ایک مو¿ثر ادارہ بنانے کی نئے چیئرمین کی کوشش خوش آئند ہے۔ نیب قوانین میں تبدیلی لانی ہے تو سب کو متفقہ طور پر لانی چاہیے۔ ہمارے قوانین میں سقم موجود ہیں جن کے باعث ملزمان بدلی ہو جاتے ہیں۔ آصف زرداری جیسے ملزم کو بھی بری کر دیا جاتا ہے۔ پنجاب اور خاص طور پر لاہور میں گندگی بڑھنے کے باعث آلودگی میں خطرناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے جو لوگوں کی زندگیاں چھین رہا ہے۔ درختوں کو بے دریغ کٹائی، انڈسٹری کا فضلہ جلانا، کوڑا کرکٹ جلانا، خشک موسم اس کی وجوہات ہیں سب سے بڑی وجہ تو یہ ہے کہ آلودگی کا خاتمہ حکومت کی ترجیحات میں ہی شامل نہیں ہے۔ پنجاب حکومت سے مطالبہ ہے کہ آلودگی کے خاتمہ کیلئے جو فوری اقدام اٹھایا جا سکتا ہے اس سے عملدرآمد کیا جائے۔ سینئر صحافی امجد اقبال نے کہا ہے کہ نیب اپنے فعال ہونے کا تاثر دینے کیلئے تمام جماعتوں کے رہنماﺅں کے بند کیس کھول رہا ہے۔ نیب قوانین سب کیلئے برابر ہونے چاہئیں۔ یہاں یہ کیس کو سیاسی بنانے کی کوشش کی جاتی ہے اور صرف الرام پر ہی دوسروں کو مجرم ثابت کیا جاتا ہے جو غلط وطیرہ ہے۔ نیب قوانین کی تبدیلی کیلئے تقریباً تمام سیاسی جماعتیں متفق ہیں۔ اب اچانک پی ٹی آئی نے کہہ دیا ہے کہ ہم اتفاق نہیں کرتے۔ پیپلزپارٹی نے اپنی ہی دی تجویز کو ججز اور جرنیلوں کا احتساب ہونا چاہیے کہ واپس لے لیا۔ احتساب سے کسی کو بھی بری الذمہ نہیں ہونا چاہیے۔ نیب کے نئے بل کو پبلک کیا جانا چاہیے۔ تاکہ اس پر عوام میں بحث ہو اور بہتری آئے کرپشن ہر ادارے میں موجود ہے لیکن محض الزام کے باعث کسی کو بے عزت کرنا مناسب نہیں ہاں کرپشن ثابت ہو جائے تو سخت سزا دی جائے۔ آلودگی کا معیار یہ ہے کہ 80 مائیکرو گرام فی کیوبک میٹر سے بڑھ جائے تو صحت کیلئے خطرناک ہوتی ہے اور لاہور میں اس وقت آلودگی 200 مائیکرو گرام تک جا پہنچی ہے۔ ہمارے ہاں حکومتوں کی ترجیحات ہی اور ہیں آلودگی ان کی ترجیح میں شامل ہی نہیں ہوتی۔ درختوں کی بے دریغ کٹائی کی جاتی ہے جو آلودگی کو کم کرتے ہیں۔ معروف صحافی خالد چودھری نے کہا کہ نیب کو اچانک چودھری برادران کے کیسز یاد آ گئے ہیں۔ حنیف عباسی کا کیس کیوں نہیں کھولا جاتا اس طرح کے بے شمار کیسز میں جواب بھی بند ہیں۔ کیا نیب ایک دم سے ٹھیک ہو گیا ہے۔ ن لیگ کا نیب پر اب بھی اثر ورسوخ قائم ہے۔ شرجیل کو گرفتار کیا جاتا ہے کیپٹن (ر) صفدر کی ضمانت لے لی جاتی ہے جو احتساب عدالت کا اختیار ہی نہیں ہے۔ یہ نیب کی خوفناک مثالیں ہیں جو وہ قائم کر رہا ہے۔ صوبوں کو تفریق کا پیغام دیا جا رہا ہے۔ چیئرمین نیب اپنے عمل سے بتائیں کہ سب کے ساتھ یکساں قوانین کے ساتھ نمٹا جائے گا۔ 47 ءسے آج تک صرف سیاستدانوں کا ہی احتساب ہوا ہے کیا عدلیہ میں کوئی جج کرپٹ نہیں۔ سپریم جوڈیشل کونسل نے آج تک کتنے ججز کو سزا دی ہے۔ لاہور باغوں کا شہر تھا سڑکیں، بلڈنگز، کوئلے کے پلانٹس لگا کر پوری آب وہوا کو تباہ کر دیا گیا۔ چین نے بیماریاں پھیلنے کے باعث جو کوئلے کے پلانٹ بند کر دیئے وہ ہمارے خادم اعلیٰ خرید کر لے آئے اور ذرخیز ترین زمینوں پر گاڑھ دیئے کہ لوگوں میں بیماریاں پھیلاﺅ جہاں جنگلات کا راتوں رات صفایا کر دیا جاتا ہے یہ وہاں آلوگی کیوں نہ بڑھے گی۔ سینئر تجزیہ کار جنرل (ر) زاہد مبشر نے کہا کہ نئے چیئرمین نیب نے ابتدا اچھی کی ہے۔ چودھری برادران، علیم خان کے کیسز کھول دینے سے اس تاثر کی نفی ہوئی کہ احتساب صرف شریف خاندان کا ہو رہا ہے۔ نیب اگر کرپشن پر قابو پانے میں کامیاب ہوتا ہے کہ پاکستان کا مستقبل روشن ہو گا۔ نیب کو ہرگز یہ تاثر نہیں دینا چاہیے کہ اس کا رویہ طاقتور اور کمزور سے مختلف ہے۔ ہمارے یہاں کلچر ہے کہ طاقتور قابو میں آ جائے تو قانون تک بدل دیئے جاتے ہیں۔ اب نیب قوانین بدلنے کی بات ہو رہی ہے تو جن کو پہلے قوانین کے تحت سزا دی گئی وہ کہاں فریاد کریں۔ احتساب بلا امتیاز ہونا چاہیے پرویز مشرف نے بھی اگر غلط کام کیا ہے تو اسے سزا دینی چاہیے۔ تاہم اسے یہ حکمران کیسے سزا دے سکتے ہیں جو خود اربوں کی لوٹ مار میں ملوث ہیں ان میں تو اخلاقی جرا¿ت ہی نہیں ہو سکتی کہ کسی کو سزا دے سکیں۔ غلط الزام لگانے والوں کو بھی پکڑا جانا چاہیے۔ پنجاب سمیت ملک بھر میں آلودگی کب کی خطرناک حدیں پار کر چکی ہے۔ درخت لگانے نہیں دیئے جاتے صرف کاٹے جاتے ہیں آلودگی کا خاتمہ حکمران طبقہ کی ترجیحات میں شامل ہی نہیں ہے۔