All posts by admin

بھارتی پولیس کا صحافی کو برہنہ کر کے انسانیت سوز تشدد

لکھنو(ویب ڈیسک) بھارتی پولیس نے ریل کے ڈبوں کے پٹری سے اترنے کی کوریج کرنے والے صحافی کو پہلے جائے وقوعہ پر مارا پیٹا پھر تھانے لے جا کر برہنہ کیا اور وحشیانہ تشدد کا نشانہ بناتے رہے۔بھارتی میڈیا کے مطابق بھارتی ریاست اتر پردیش کے شہر شاملی میں ٹرین کے ڈبے اترنے کے واقعے کی ویڈیو بنانے والے مقامی خبر رساں ایجنسی کے صحافی امیت شاہ کو معمولی تلخ کلامی پر وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا اور تھانے لے گئی۔تھانے میں ایس او ایچ سمیت پولیس ٹیم نے صحافی امیت شاہ کو زبردستی برہنہ کیا اور انسانیت سوز تشدد کا نشانہ بنایا، پولیس اہلکاروں نے اسی پر بس نہیں کیا بلکہ صحافی کے منہ پر پیشاب کیا اور صحافی کو کسی بھی صورت میں رہا کرنے سے انکار کردیا۔واقعے کی اطلاع ملتے ہی صحافیوں کی بڑی تعداد تھانے پہنچ گئی اور پولیس اہلکاروں کیخلاف مقدمہ قائم کرنے کا مطالبہ کیا، صحافیوں نے امیت شاہ کی ضمانت کی رہائی کا مطالبہ بھی کیا۔صحافیوں کے احتجاج پر صوبائی انتظامیہ نے ایس ایچ او راکیش اپادھیا اور کانسٹیبل سنجے پنور کو معطل کر کے واقعے کی تحقیقات کا حکم دے دیا۔ آئی جی پولیس نے صوبائی حکومت کی ہدایت پر انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔

عامر کی شاندار بولنگ، آسٹریلیا 307 پر آﺅٹ

ٹاﺅنٹن(ویب ڈیسک) بہتر آغاز ملنے کے بعد آسٹریلیا کی ٹیم محمد عامر کی شاندار بولنگ کے باعث 49 اوورز میں 307 رنز بنا کر آﺅٹ ہوگئی۔محمد عامر نے اپنے کیریئر کی شاندار بولنگ کرتے ہوئے پہلی مرتبہ ایک روزہ میچوں میں 5 وکٹیں لینے کا اعزاز حاصل کیا اور آسٹریلیا کو 307 رنز تک محدود کیا۔ٹاﺅنٹن کے کاﺅنٹی کرکٹ گراﺅنڈ میں قومی ٹیم کے کپتان سرفراز احمد نے ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ کیا اور کہا کہ پچ پر گھاس اور نمی کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں گے۔آسٹریلیا نے 43 اوورز میں 5 وکٹوں کے نقصان پر 278 رنز بنا لیے ہیں۔میچ کا باقاعدہ آغاز ہوا تو آسٹریلوی کپتان ایرون فنچ اور ڈیوڈ وارنر نے پراعتماد انداز میں بیٹنگ کرتے ہوئے وکٹ کے چاروں اطراف اسٹروکس کھیلے۔کینگروز کو پہلا نقصان 146 رنز پر ہوا جب ایرون فنچ 82 رنز بنا کر محمد عامر کی گیند پر حفیظ کے ہاتھوں کیچ آﺅٹ ہوئے۔ ڈیوڈ وارنر 107 رنز کی شاندار اننگز کھیل کر آﺅٹ ہوئے۔اسٹیون اسمتھ 10 اور گلین میکسویل نے 20 رنز بنائے جب کہ عثمان خواجہ نے 18 رنز کی اننگز کھیلی۔دونوں بلے بازوں نے دباو¿ میں آئے بغیر جارحانہ انداز اپنایا اور گراﺅنڈ کے چاروں اطراف دلکش اسٹروکس کھیلتے ہوئے کریز پر موجود ہیں۔قومی ٹیم میں ایک اور آسٹریلوی ٹیم میں 2 تبدیلیاں کی گئی ہیں، اسپنر شاداب خان کی جگہ فاسٹ بولر شاہین شاہ آفریدی گرین شرٹس میں شامل ہیں، جب کہ انجری کے شکار مارکس اسٹوئنس اور ایڈم زمپا کی جگہ شان مارش اور کین رچرڈسن کو گیارہ رکنی آسٹریلوی ٹیم کا حصہ بنایا گیا ہے۔ٹیم پاکستان کے ٹورنامنٹ کی سب سے مضبوط ٹیم انگلینڈ کو زیر کرنے کے بعد حوصلے بلند ہیں، بیٹسمین فارم میں ہیں بولرز بھی ردھم حاصل کرچکے ہیں۔قومی ٹیم امام الحق، فخر زمان، بابر اعظم، محمد حفیظ، کپتان سرفراز احمد، شعیب ملک، آصف علی، وہاب ریاض، حسن علی، شاہین شاہ آفریدی اور محمد عامر پر مشتمل ہے۔آسٹریلوی ٹیم میں ڈیوڈ وارنر، کپتان ایرون فنچ، عثمان خواجہ، اسٹیون اسمتھ، شان مارش، گلین میکسویل، الیکس کیری، نیتھن کولٹر نیل، پیٹ کمنس، مچل اسٹارک اور کین رچرڈسن شامل ہیں۔میگا ایونٹ میں دونوں ٹیمیں اب تک 9 بار آمنے سامنے آئی ہیں اور آسٹریلوی ٹیم کا پلڑا بھاری رہا ہے، گرین شرٹس نے 4 اور کینگروز نے 5 میچز میں کامیابی سمیٹی۔گزشتہ روز کی بارش کے بعد ٹاﺅنٹن میں موسم خشک اور سرد ہے جب کہ شہر میں ہوائیں چل رہی ہیں اور درجہ حرارت 9 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔

وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کی قومی ٹیم کی جیت کیلئے دعاو نیک تمنائیں

لاہور(ویب ڈیسک) وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کاآسٹریلیاکیخلاف اہم میچ کیلئے پاکستانی ٹیم کیلئے نیک تمنائیں۔وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کی قومی ٹیم کی جیت کیلئے دعا۔امید ہے کہ قوم کی دعاﺅں اور کھلاڑیوں کی محنت سے پاکستانی ٹیم میچ جیتے گی۔ سیمی فائنل تک رسائی کیلئے آسٹریلیا کیخلاف کامیابی ضروری ہے۔قومی ٹیم انگلینڈکیخلاف میچ والے جذبے اورمحنت سے کھیل کر آسٹریلیا جیسی مضبوط ٹیم کوزیرکرسکتی ہے۔ جیت کیلئے کھلاڑیوں کو میدان میں اپنی بھر پور صلاحیتوں کامظاہر ہ کر کے دکھانا ہوگا۔

حکومت ایک بار پھر عام آدمی کو ریلیف دینے میں ناکام رہی ہے :چیئرمین برابری پارٹی پاکستان جواد احمد

لاہور (صدف نعیم سے) چیئرمین برابری پارٹی پاکستان جواد احمد نے 7ہزار 22ارب مالی حجم کے بجٹ کو عوام دشمن بجٹ قرار دے دیا ان کا کہنا تھا کہ بجٹ دراصل آئی ایم ایف کی ڈکٹیشن پر تیار کیا گیا ہے جو الفاظ کا گورکھ دھندہ ہے اور بڑے سے بڑا ماہر معاشیات بھی اس کو سمجھنے سے قاصر ہے.تحریک انصاف کی حکومت ایک بار پھر عام آدمی کو ریلیف دینے میں ناکام رہی ہے حد تو یہ ہے کہ 35ہزار آمدنی والے گھرانے پر 55ہزار کے اخراجات مسلط کردیے گئے ہیں ان باتوں کا اظہار انھوں نے پارٹی کے مرکزی سیکرٹیریٹ میں پارٹی رہنماﺅں سے بجٹ کے حوالے سے خصوصی گفتگو میں کیا اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ بجٹ میں تعلیم صحت دینے اور غیر ملکی قرضوں سے نجات کا کوئی ٹھوس پلان شامل نہیں حکومت نے جہاں وفاقی ملازمین کی تنخواہوں اور پینشن میں اضافے کا اعلان کیا ہے وہیں دوسری جانب لاکھوں کنٹریکٹ ملازمین کو کوئی ریلیف نہیں دیا جبکہ زرعی شعبے کے لےءمراعات کا اعلان بھی نہ کیا جانا کسان کش اور دیگر طبقات کے لئے زہر قاتل ہے اس موقع پر جواد احمد نے اس امر کا اظہار بھی کیا کہ برابری پارٹی پاکستان بجٹ کو فی الفور مسترد کرتی ہے اور حکومت سے مطالبہ کرتی ہے کہ 99 فیصد کے مسائل کو مد نظر رکھتے ہوئے دودھ چینی گھی اور بجلی کی قیمتوں میں جو اضافہ کیا گیا ہے اسے واپس لیا جائے تاکہ غریب اور متوسط طبقات سکھ کا سانس لے سکیں.

صوبائی وزیر اطلاعات سید صمصام علی بخاری کا سیاسی صورتحال پر تبصرہ

لاہور (ویب ڈیسک )ہر کوئی یاد رکھے کہ پاکستان کا مفاد سب سے پہلے ہے ۔پاکستان دشمن سرگرمیوں میں ملوث ہر ایک کو منطقی انجام تک پہنچنا ہوگا۔الطاف حسین کے خلاف ہر محب وطن شہری کو تحفظات تھے۔ ملکی ترقی کیلئے نئی ترجیحات کے تعین کا وقت آ گیا ہے۔ وزیر اعظم کا تحقیقاتی کمیشن دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کر دیگا۔ عمران خان کا قوم سے خطاب ا±ن کے درد دل کی عکاسی ہے۔وزیر اعظم ملک کو اپنے پاو¿ں پر کھڑا کرنا چاہتے ہیں۔عمران خان کے خطاب نے ساری قوم کے دل جیت لیے ہیں۔ماضی کی طرح اب بھی عوا م اپنے کپتان کا بھرپور ساتھ دینگے۔عوام کو قرض کی عادت سے نجات دلانا وقت کا تقاضا ہے۔ ملک لوٹنے والوں کے اثاثے اور بیٹے باہر موجود ہیں۔احتساب کے عمل کو آگے چلانا پی ٹی آئی کی اولین پالیسی ہے۔

سنگین غداری کیس ،پرویز مشرف کا حق دفاع ختم

اسلام آباد(ویب ڈیسک) سابق صدر و آرمی چیف جنرل (ر) پرویز مشرف سنگین غداری کیس میں ایک بار پھر عدالت میں پیش نہیں ہوئے جس پر خصوصی عدالت نے ان کا حق دفاع ختم کردیا۔جسٹس طاہرہ صفدر کی سربراہی میں خصوصی عدالت کے تین رکنی بنچ نے پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس کی سماعت کی۔پرویزمشرف آج بھی پیش نہیں ہوئے اور ان کے وکیل نے خصوصی عدالت سے مشرف کی پیشی کے لیے ایک اور موقع دینے کی استدعا کردی۔ عدالت نے درخواست مسترد کرتے ہوئے مسلسل غیر حاضری کے باعث پرویز مشرف کا حق دفاع ختم کردیا۔وکیل نے کہا کہ پرویزمشرف زندگی کی جنگ لڑ رہے ہیں، وہ ذہنی اورجسمانی طور پراس قابل نہیں کہ ملک واپس آسکیں، ان کا وزن تیزی سے کم ہورہا ہے، وہ وہیل چئیر پر ہیں اور پیدل بھی نہیں چل سکتے، ہر تاریخ سماعت پر کیس کے التواءکی استدعا پر ہمیں بھی شرمندگی ہوتی ہے، ان کے دل کی کیمو تھراپی ہورہی ہے جس کےبعد صحت مزید خراب ہوتی ہے، انہیں ایک موقع اور دیاجائے تاکہ وہ خودعدالت میں پیش ہوسکیں، انسانی ہمدردی کے تحت ایک اور موقع کی استدعا کررہا ہوں۔استغاثہ کے وکیل ڈاکٹر طارق حسن نے عدالت سے درخواست کی کہ مشرف کا بیان ویڈیو لنک کے زریعے قلمبند کرنے کا موقع دیا۔ عدالت نے پرویز مشرف کی سماعت ملتوی کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے ان کا حق دفاع ختم کردیا۔عدالت نے فیصلہ کیا کہ مفرور ملزم پرویز مشرف وکیل کی خدمات بھی حاصل نہیں کر سکتا اور اب قانون کے مطابق عدالت خود مشرف کےدفاع کیلئے وکیل مقرر کرے گی۔ عدالت نے وزارت قانون سے مشرف کے دفاع کیلئے وکلاءکے نام طلب کرلیے۔

حمزہ شہباز کی احتساب عدالت پیشی، فیصلہ محفوظ

لاہور(ویب ڈیسک )آمدن سے زائد اثاثہ اور رمضان شوگرمل کیس میں نیب نے حمزہ شہباز کو احتساب عدالت میں پیش کردیا جہاں عدالت نے جسمانی ریمانڈ دینے کے معاملے پر فیصلہ محفوظ کرلیا ہے۔آمدن سے زائد اثاثہ اور رمضان شوگرمل کیس میں گرفتار اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی اور رہنما مسلم لیگ (ن) حمزہ شہباز کو نیب نے احتساب عدالت میں پیش کردیا، عدالت میں نیب کی جانب سے موقف اپنایا گیا کہ جب بھی ذرائع آمدن کے بارے میں پوچھا گیا تو کوئی جواب نہیں دیا گیا جب کہ بیرون ملک سے آنے والے اثاثوں کے بارے میں بھی نہیں بتایا گیا، نیب تفتیش کے مطابق 2003 تک سوا دو کروڑ کے اثاثے ظاہر کیے گئے، 2006 میں اثاثے ظاہر نہیں اور 2011 میں یہ اثاثے 21 کروڑ تک پہنچ گئے۔نیب پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ حمزہ شہباز نے آج تک نہیں بتایا کہ باہر سے پیسے کون اور کن ذرائع سے بھجوایا جا رہا ہے لہذا مشکوک ٹرانزیکشن کے ذریعے رقوم کی منتقلی کی تحقیقات کے لیے حمزہ شہباز کا جسمانی ریمانڈ دیا جائے، نیب کی جانب سے جسمانی ریمانڈ کی استدعا پر حمزہ شہباز کے وکلا نے مخالفت کی تاہم عدالت نے دلائل سننے کے بعد حمزہ شہباز کا جسمانی ریمانڈ دینے کے معاملے پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔اس سے قبل کمرہ عدالت میں پہنچنے کے بعدحمزہ شہباز کا کہنا تھا کہ نیازی صاحب کا وقت پورا ہو چکا، میرا دامن صاف ہے اور ہم سرخرو ہوں گے جب کہ عدالتوں پر اعتماد ہے۔

آج شاہینوں اور کینگروز ورلڈ کپ میں آمنے سامنے ، بارش کا خدشہ

ٹا?نٹن(آئی این پی)بارہویں آئی سی سی کر کٹ ورلڈ کپ میں پاکستان اپنا چوتھا میچ (آج) بدھ کو آسٹریلیا کیخلاف کھیلے گا، آسٹریلیا کیخلاف میچ میں بھی موسم کی مداخلت کا امکان ہے،پاک آسٹریلیا میچ کیلئے با?نسی وکٹ تیار کی گئی ہے، وکٹ پر گھاس موجود ہے اور امکان ہے کہ میچ میں فاسٹ بولرز کو مدد ملے گی۔پاکستان اور آسٹریلیا کے مابین میچ پاکستانی وقت کے مطابق اڑھائی بجے شروع ہوگا،میگا ایونٹ میں دونوں ٹیمیں ابھی تک 9بار آمنے سامنے آئی ہیں، جس میںپاکستان نے 4 میچ جیتے اور 5میں شکست ہوئی، پاکستان کرکٹ ٹیم کی تیاریاں جاری ہیں،قومیٹیم نے خوشگوار موسم میں طویل پریکٹس سیشن کیا۔پریکٹس سیشن کے دوران کھلاڑیوں نے بیٹنگ، بولنگ کے ساتھ ساتھ فیلڈنگ کی خصوصی ڈرلز بھی کیں۔تفصیلات کے مطابق ورلڈ کپ میںبارش سے پاکستانی مہم پر خطرات کے بادل منڈلانے لگے ہیں آسٹریلیا کیخلاف آج شیڈول ورلڈکپ میچ میں موسم کی مداخلت کا امکان ہے۔موسمیاتی اداروں کی جانب سے کی جانے والی پیش گوئی کے مطابق دن میں کم از کم دوبار موسم کی مداخلت کا امکان ہے،ٹانٹن میں صبح 7کے بعد 10اور پھر ایک بجے بارش ہوسکتی ہے۔پاکستان اور آسٹریلیا کے مابین ڈے میچ کا ٹاس 10بجے اور پاکستانی وقت کے مطابق 2بجے ہونا ہے،مقامی وقت کے مطابق شام 4اور رات 8بجے بھی رم جھم کا امکان ہے، یوں کم از کم 2بار میچ کے دوران بارش کا خدشہ ہے۔

بانی متحدہ کی گرفتاری ایم آئی 6 کی سازش بھی ہوسکتی ہے : اظہر صدیق، کرپشن کرنیوالے تمام افراد کا نام احتساب کیلئے کیوں نہیں لیا جاتا : امجد اقبال ، بجٹ کا مقصد عوام کو فائدہ دینا اور معیشت کی بہتری ہونا چاہیے: ضمیر آفاقی ، میٹرو ، اورنج ٹرین منصوبہ پر 300 ارب ضائع کیے گئے: فرحان شہزاد، چینل ۵ کے پروگرام ” کالم نگار “ میں گفتگو

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل فائیو کے تجزیوں اور تبصروں پر مشتمل پروگرام ”کالم نگار“ میں گفتگو کرتے ہوئے تجزیہ کاراظہر صدیق نے کہا ہے کہ پاکستان میں مہنگائی کبھی نیچے جاتی نہیں دیکھی۔ اسحاق ڈالر 1200ارب سرکلر ڈیبٹ چھوڑ کر گئے۔ 2014ئ میں ڈالر 80روپے اور پیٹرول 114روپے لیٹر تھا، اسحاق ڈار پیٹرولیم میں 52فیصد تک سیلز ٹیکس لائے۔ موجودہ حکومت پیٹرولیم سیلز ٹیکس 17فیصد پر واپس لائی ہے۔ لبرلز کیوجہ سے فوج کا بجٹ کم کر کے زیادتی کی گئی ہے، فوج بڑی لڑائی لڑ رہی ہے۔ موجودہ حکومت 9مہینوں کا حساب دے کیوںآئی ایم ایف کے پاس نہیں گئی اور ملک پر ظلم کیا۔ حکومت ایمنسٹی کے بعد 5000کا نوٹ ختم کردے تاکہ چھپا ہوا پیسہ باہر آئے۔ یہ آخری ایمنسٹی اسکیم نہیں ہوگی۔ پاکستان کے ساتھ ظلم ہوتا رہاہے کہ دنیا پاکستان سے اپنے مجرم نکال کر لیجاتی ہے اور پاکستان مخالف مجرم پاکستان کے حوالے نہیں کیے جاتے۔الطاف حسین کی گرفتاری ایم آئی 6کی سازش بھی ہوسکتی ہے کہ پاکستان میں زرداری اور حمزہ کی گرفتاریوں کے دن ہی الطاف حسین کو گرفتار کیا گیا۔ نیب کی گرفتاریوں کا حکومت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ احتساب عمل میںلوٹ مار کرنے والے چند چند خاندان، گاڈ فادر، سیسیلین مافیاعذاب بنے ہوئے ہیں۔ میزبان تجزیہ کار امجد اقبال نے کہا ہے کہ موجودہ بجٹ میں حکومتی اخراجات میں کمی نہیں کی گئی۔ چیئرمین ایف بی آر کہتے ہیں کہ کوئی بندہ ٹیکس دینے کو تیار نہیں۔مخالفین کی بجائے کرپشن کرنے والے تمام افراد کا نام احتساب کے لیے کیوں نہیں لیا جاتا؟لاہور کے مختلف علاقوں میں پولیو وائرس کی موجودگی پران علاقوں میں بینرز لگائے گئے ہیں کہ اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے لازمی پلائیں کیونکہ پولیو کے دو قطرے آپکے بچے کو مستقل معذوری سے بچا سکتا ہے۔تجزیہ کارضمیر آفاقی کا کہنا تھا کہ بجٹ کا مقصد عوام کا فائدہ اور معیشت کی بہتری ہونا چاہیئے۔پاکستان میں بجٹ کا فائدہ اشرافیہ کو دیا جاتا ہے۔ موجودہ حکومت راشن کارڈ کے ذریعے قوم کو بھکاری بنانا چاہ رہی ہے ، حکومت کا کام روزگار دینا ہے مگر حکومت کارکردگی میں اب تک صفر ہے۔بجٹ سے عام آدمی کوکوئی فائدہ نہیںہوگا۔ الطاف حسین کا کیس 2016ئ سے دائر ہے، پاکستان کو اس کیس کی مکمل پیروی کرنی چاہیئے۔احتساب ڈرامہ ہے عوام کو اسکا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔موجودہ حکومت نے عوام بجلی پانی جیسے عام عوامی مسائل کو دفن کر دیا ہے اور صرف حمزہ ، زرداری کی گرفتاری پر توجہ دی جارہی ہے۔ کالم نگارفرحان شہزاد نے کہا ہے کہ موجودہ بجٹ سے نئے پاکستان کی کوئی نوید نظر نہیں آئی ، ہمیشہ کی طرح غریب کو پیسا گیا ہے۔ عمران خان کا انقلاب کہیں کھو گیا ہے۔موجودہ بجٹ میں گفٹ منی بھی ٹیکس ڈاکومینٹس میں روک دی گئی جس سے بلیک منی کا رجحان بڑھے گا۔ میٹرو اور اورنج ٹرین منصوبہ پر 300ارب ضائع کیے گئے اتنا پورے بلوچستان کا بجٹ ہے۔ چیئرمین ایف بی آر نے ادارے میں ایک ریفارم نہیں کی، کرپشن پر ادارے کے کسی ایک شخص کوسزا دیکر مثال نہیں بنایا، لوگ ٹیکس کیسے دیں۔ ایف بی آر ختم کر دی جائے تو 5ہزار 555ارب روپے کا ٹارگٹ گھر بیٹھے پوراہوسکتا ہے اگرنیشنل ٹیکس ایجنسی ڈیپارٹمنٹ فعال کر لیں۔کہا جارہا ہے کہ الطاف حسین کو تفتیش کے بعد چھوڑ دیا جائے گا۔نیب میں ضمانت کی کوئی گنجائش نہیں ، حمزہ شہباز کاحفاظتی ضمانت واپس لینا صرف حکومت کے خلاف خبر بنانا تھا۔ اگلے دنوں میں جیل کابینہ کی تعداد بڑھتی نظر آئے گی۔

الطاف کی گرفتاری بڑی خبر ، محب وطن پاکستانیوں نے سکھ کا سانس لیا : معروف صحافی ضیا شاہد کی چینل ۵ کے پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ “ میں گفتگو

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں و تبصروں پرمشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ میں نے جن گرفتاریوں کا ذکر کیا تھا وہ عمران خان کے نشری خطاب کے حوالے سے تھا کہ انہوں نے کہا تھا جو لوگ اپنے اثاثے رکھتے ہیں مگر انہوں نے وہ اثاثے ڈکلیئر نہیں کئے ہوئے اگر وہ مقررہ تاریخ تک انہوں نے ایمنسٹی سکیم میں اپنے آپ کو شو نہ کیا تو پھر ہم ان کو گرفتار کریں گے اب یہ لسٹ جو ہے سینکڑوں میں ہے اور بڑی آسانی سے جو ملک بھر میں گرفتاریاں ہو سکتی ہیں وہ کوئی اتنی بڑے پیمانے پر ذاتی طور پر شخصی طور پر اتنی کوئی پاور فل شخصیات بھی نہیں ہوں گی کہ ان کے لئے لوگ سڑکوں پر نکل آئیں بلکہ یہ لوگ یہ محسوس کریں گے کہ یہ شخص واقعی اپنی پراپرٹی چھپائے ہوا بیٹھا تھا میں یہ سمجھتا ہوں کہ جہاں تک تعلق ہے الطاف حسین کی گرفتاری کا تو اگرچہ ہمیں بات کرنی چاہئے وہاں کے نمائندوں سے کیونکہ مجھے بھی صبح سے لندن آفس سے جتنی بار رابطہ ہوا ہے وہ کہتے ہیں کہ یہ کہا گیا ہے کہ یہ نفرت انگیز تقریروں کی وجہ سے لیکن دراصل نفرت انگیز تقریر کی وجہ سے نہیں بلکہ عمرا فاروق کے قتل کیس اور دوسرا الطاف حسین کی اپنی منی لانڈرنگ پر بھی وجوہات ہو سکتی ہیں ان کی گرفتاری کیونکہ طریقہ ہوتا ہے کہ پولیس کسی بھی الزام میں گرفتار کر لیتی ہے پھر الزامات میں اضافہ کرتی چلی جاتی ہے۔ البتہ جہاں تک حمزہ شہباز کا تعلق ہے یہ ساری بحث یہی ہو رہی ہے کہ ان کے وکیل نے جان بوجھ کر درخواست واپس لی۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ سوچ رہے ہوں کہ آصف زرداری کی گرفتاری کے بعد سیاسی سرگرمی ہے وہ پیپلزپارٹی کی طرف مڑ گئی ہے لہٰذا مسلم لیگ کہیں پیچھے نہ رہ جائے۔ اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ انہوں نے حکمت عملی کے طور پر اپنے لئے دو آپشن چھوڑتے ہوئے یہ اقدام کیا ہو بہرحال یہ بات ظاہر ہے کہ حمزہ شہباز کو ازخود ایک طرح سے پیش کیا ہے۔ پاکستان نے گزشتہ دنوں برطانوی حکومت سے ایم او یو سائن کیا تھا کیا الطاف حسین کو پاکستان لانے کے لئے کوئی عملی اقدام اٹھایا جا سکے گا۔ اس سوال کے جواب میں ضیا شاہد نے کہا کہ میرا نہیں خیال کہ جس طرح پولیس نے لندن کی اپنے ہینڈ آ?ٹ میں کہا ہے کہ وہ یہی ہے کہ نفرت انگیز تقریر کی وجہ سے ہوا ہے تو نفرت انگیز تقریر پر زیادہ سے زیادہ سزا جو ہے وہ پاکستان لانا یا بھیجنا نہیں ہے بلکہ وہ زیادہ سے زیادہ سزا 3 سال قید ہے یہ بھی زیادہ سے زیادہ لہٰدا میں نہیں سمجھتا کہ یہ کوئی اتنا بڑا جرم ہے کہ اس کی بنیاد پر ان کو ڈی پوٹ کیا جائے اور پاکستان بھیجا جائے۔ حمزہ شہباز کی جو گرفتاری ہے وہ میرے خیال میں ن لیگ کی حکمت عملی کا حصہ ہے اور یہ پیپلزپارٹی اور ن کے درمیان جو سیاسی محاذ آرائی رہی ہے اس کے لحاظ سے فیصلہ کیا گیا ہے۔ضیا شاہد نے کہا ہے کہ آصف زرداری کی گرفتاری پر پاور شو فلاپ ہونے کی ایک بڑی وجہ گرمی ہے اور یہ موسم قطعی طور پر کسی جلسے جلوس مظاہرے کے لئے موزوں نہیں ہے پہلے آدمی لڑ۔ تے مرتے پھر رہے ہیں آپس میں گرمی کی وجہ سے اور دوسری وجہ یہ ہے کہ کل جو فرسٹ رسپانس تھا ایک چینل کے خبر نشر کرنے کے باوجود کہ اتنے مقامات پر مظاہرے ہوں گے لیکن آپ نے دیکھا کہ مظاہرین کی تعداد کسی بھی جگہ پر 20,10 افراد سے زیادہ نہیں تھی اور پھر کل جو انہوں نے کہا کہ پورے ملک میں یوم احتجاج منایا جائے گا صبح سے لے کر شام تک بالکل کوئی یوم کوئی احتجاج نظر نہیں آیا۔ لہٰذا میں یہ سمجھتا ہوں کہ اگر یہ کسی کی حکومت عملی تھی بھی تو یہ فیل ہو گئی ہے۔ مولانا فضل الرحمن کو چونکہ کل بجٹ تھا اور اگرچہ وہ اسمبلی میں نہیں ہیں پھر بھی اسلام آباد سیاسی سرگرمیوں کا مرکز تھا وہاں ہونا چاہئے تھا وہ ملتان میں بیٹھے ہوئے ہیں کم از کم فاصلہ جو ہے اگر براہ راست جانا ہو تو اور اگر لاہور آ کر اسلام آباد پہنچنا ہو تو یہ کم از کم 9 گھنٹے کا فاصلہ ہے۔ اسلام آباد سے 9 گھنٹے کے فاصلے پر بیٹھ کر وہ کیا تحریک چلائیں گے لگتا ہے عید کے بعد جو بڑے پیمانے پر مولانا فضل الرحمن کی زیر سرکردگی عوامی تحریک کی معلوم ہوتا ہے کہ فی الحال اس کی کوئی گنجائش نظر نہیں آ رہی۔ معیشت کے حوالے سے کوئی بات کرنا بیکار ہو گا۔ ہم سب جانتے ہیں کہ سخت بحران کے وقت یہ بجٹ بنا ہے لیکن جہاں تک بجٹ میں جگہ جگہ کوشش کی گئی ہے۔ بڑی گاڑیوں پر ٹیکس لگائے گئے ہیں۔ مشروبات پر ٹیکسز لگائے گئے ہیں ان کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے اس کے علاوہ بہت سارے طبقات پر اور ٹیکس لگائے ہیں جن پر پہلے ٹیکس نہیں تھے البتہ دو تین دن پہلے خبر چھپی تھی کہ بڑے ڈاکٹرز پر بھی ٹیکس لگیں گے لیکن بجٹ میں اس کا ذکر دکھائی نہیں دیا۔ معلوم ہوتا ہے کہ وہ آئیڈیا ڈراپ ہو گیا یا ڈاکٹر حضرات کو چھوٹ دے دی گئی ہے البتہ پراپرٹی اور ڈاکٹرز یہ دو طبقات ایسے تھے جن کے بارے میں عام طور پر کہا جاتا تھا یہ ٹکس نیٹ سے باہر ہیں شاید کسی اگلے مرحلے میں اس کے بارے میں سوچا جائے فی الحال تو ان کو سپیئر کر دیا گیا ہے بلکہ جو ایک فضا تھی کہ جس میں 50 لاکھ سے زیادہ کی پراپرٹی خریدنے سے ڈکلیئر کرنے پڑتے تھے اپنے اثاثہ جات وہ بھی تقریباً ختم کر دی گئی۔ چنانچہ اب پراپرٹی کی خریدوفروخت پر جو پابندیاں تھیں وہ ختم ہو گئے ہیں۔ کل کی سب سے بڑی خبر تو الطاف حسین کی گرفتاری ہے اگرچہ وہ کوئی بڑی مدت کے لئے نظر نہیں آتی اور نفرت انگیز تقریر کی بنیاد پر پولیس ہینڈ آ?ٹ یہی کہتا ہے مگر جو میں نے لندن آفس سے بات کی تھی تو ہمارے لندن کے دو نمائندگان کا یہ کہنا ہے کہ لندن کا جو قانون ہے اس میں نفرت انگیز تقریر پر نہ اس کی بنیاد پر الطاف حسین کو ڈی پوٹ کر کے پاکستان بھیجا جا سکتا اور نہ ہی کوئی بہت بڑی اس کی سزا ہے زیادہ سے زیادہ اس کی سزا 3 سال ہو سکتی ہے اگر الزام ثابت ہو جائے وہ پراسس ابھی اگر مگر کا معاملہ شامل ہے اس کے باوجود ایک چیز جو ہے وہ بہت واضح ہے کہ الطاف جو بانی ایم کیو ایم جو ایک گلیمر تھا پاکستان کی حد تک وہ بالکل واش آ?ٹ ہو چکا ہے ایک زمانے میں کہا جاتا تھا کہ ان کو کوئی انگلی لگا کر دیکھے پاکستان کے اندر سڑکیں وہ بھر جائیں گی اور لوگ سڑکوں پر نکل آئیں گے مظاہرہ کرتے ہوئے اب کل سے لے کر اب تک میرا خیال ہے اس قسم کی کوئی چیز نظر نہیں آئی اور مصطفی کمال کی پریس کانفرنس سے زیادہ واضح ہے جو وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ جو شخص وہاں بیٹھ کر فیصلے کرتا تھا اور لوگوں کی زندگیاں خطرے میں پڑ جاتی تھیں وہ اب شکل نہیں رہی۔ کراچی کی سڑکوں میں کبھی جس کا راج تھا اور طوطی بولتا تھا الطاف کا اب ختم ہو چکا ہے۔سندھ میں گورنر راج لگانے کے امکانات نہیں ہیں کیونکہ وہاں تو کوئی بڑا ردعمل یا احتجاج سامنے ہی نہیں آیا، بلاول بھٹو نے احتجاج کی کال دی تاہم ملک بھر میں کبھی کوئی نمایاں احتجاج دیکھنے میں نہیں آیا۔ میڈیا نے اس حوالے سے ایک بڑی جنگ جیتی ہے کیونکہ نیب کی ہر رپورٹ پر خبر میڈیا چلاتا رہا جس سے عوام کی بڑی اکثریت نے ذہنی طور پر تسلیم کر لیا کہ یہ سارے جرائم ہوئے ہیں اسی باعث کوئی بڑا ردعمل سامنے نہیں آیا۔ وزیرمملکت حماد اظہر جو سابق گورنر میاں اظہر کے صاحبزادے ہیں نے بڑے اعتماد کے ساتھ بجٹ تقریر کی اور اپوزیشن کے شور شرابے سے مطلق نہ گھبرائے۔ ایمنسٹی سکیم کا کیا نتیجہ نکلتا ہے 30 جون کے بعد سامنے آئے گا پتہ چل جائے گا کہ کتنے لوگوں نے اس سے فائدہ اٹھایا اور باقی کے خلاف حکومت کیا کارروائی کرتی ہے۔ بجٹ میں عام آدمی کو ریلیف دینے کی کوشش کی گئی وزرائ کی تنخواہوں میں کمی اچھی پیش رفت ہے ورنہ پنجاب اسمبلی نے تو اپنی تنخواہوں میں ہوشربا اضافہ کر دیا تھا جسے عمران خان نے روکا۔ حکومت اپنے غیر ضروری اخراجات کم کر رہی ہے جو اچھی بات ہے۔ الطاف حسین کی گرفتاری پر پاکستان اور برطانیہ میں سکھ کا سانس لیا گیا ہے پاکستانیوں نے اطمینان کا اظہار کیا اور کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

کس سے محبت کرتی ہوں معلوم کرنا ہے تو ’گوگل‘ کریں، ریانا

بارباڈوس(ویب ڈیسک)شمالی امریکی کیریبین ملک بارباڈوس نژاد امریکی گلوکارہ ریانا نے حال ہی میں دنیا کی امیر ترین گلوکارہ کا اعزاز حاصل کیا تھا۔ریانا کی مجموعی دولت 60 کروڑ امریکی ڈالر ہے جو پاکستانی 70 ارب روپے سے زائد بنتی ہے۔ریانا کی کمائی میں اضافہ نہ صرف گلوکاری کی وجہ سے ہوا بلکہ ان کی جانب سے میک اپ، خواتین کے زیر جامہ، گارمنٹ اور فیشن برانڈز میں سرمایہ سے بھی ان کی کمائی میں اضافہ ہوا۔دنیا کی امیر ترین گلوکارہ بننے سے قبل بھی وہ میڈیا میں دنیا کے امیر ترین افراد میں شمار ہونے والے عرب ارب پتی سے تعلقات کی وجہ سے خبروں میں رہتی تھیں۔ریانا سعودی عرب کے کاروباری شخص حسن جمیل سے تعلقات کی وجہ سے خبروں میں رہتی ہیں، جن سے ان کے 2017 سے تعلقات ہیں۔دونوں کے درمیان جون 2018 میں اختلافات بھی سامنے آئے تھے اور رپورٹس تھیں کہ دونوں الگ ہوگئے ہیں، تاہم ایک بار پھر رواں برس مارچ میں دونوں کے درمیان صلح ہونے کی خبریں سامنے آئیں۔دونوں کے درمیان صلح کی خبریں سامنے آنے کے بعد انہیں ملتے ہوئے بھی دیکھا گیا، تاہم دونوں کو کبھی بھی سرعام ایک ساتھ نہیں دیکھا گیا۔ماضی میں ریانا سعودی نوجوان حسن جمیل کی شخصیت سے متعلق یہ اقرار کر چکی ہیں کہ وہ ماضی میں ان کے رہنے والے تمام مرد دوستوں سے بہتر اور سنجیدہ ہیں۔اور اب گلوکارہ نے تازہ انٹرویو میں اعتراف کیا ہے کہ یہ سچ ہے کہ وہ کسی سے محبت کرتی ہیں۔’انٹرویو میگزین‘ کو دیے گئے انٹرویو میں ریانا نے اعتراف کیا کہ وہ محبت کرتی ہیں، تاہم انہوں نے اس شخص کا نام نہیں بتایا جن سے وہ محبت کرتی ہیں۔گلوکارہ سے جب اس شخص کا نام پوچھا گیا تو انہوں نے مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ ’وہ کس سے محبت کرتی ہیں یہ معلوم کرنے کے لیے لوگوں کو ’گوگل‘ کا سہارا لینا پڑے گا‘۔ریانا نے شادی سے متعلق پوچھے گئے سوال پر کوئی جواب نہیں دیا، تاہم انہوں نے کہا کہ انہیں جلد سے جلد ماں بننے کی جلدی ہے۔ریانا کا کہنا تھا کہ ان کے لیے ماں بننا دیگر کاموں سے زیادہ اہم ہے، تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ وہ کب تک اور کس کے بچوں کی ماں بنیں گی؟۔گلوکارہ کی جانب سے تازہ انٹرویو میں محبت کے اعتراف اور محبت کرنے والے شخص سے متعلق ’گوگل‘ سے مدد لینے کی بات کیے جانے کے امریکی و برطانوی میڈیا میں چہ مگوئیاں ہیں کہ انہوں نے عرب نوجوان حسن جمیل کا حوالہ دیا۔کیوں کہ ’گوگل‘ پر اگر گلوکارہ ریانا کے تعلقات کے حوالے سے کوئی چیز تلاش کی جاتی ہے تو سب سے نمایاں خبریں ان کے اور حسن جمیل کے درمیان تعلقات کی آتی ہیں۔خیال رہے کہ حسن جمیل سے سے قبل ریانا کے تعلقات ہولی وڈ اداکار کرس براﺅن سے تھے، تاہم دونوں کے درمیان 2015 میں اختلافات ہوگئے اور بعد ازاں گلوکارہ 2017 کے آغاز میں عرب نوجوان کے قریب ہوئیں۔ریانا سے قبل عرب نوجوان حسن جمیل کے تعلقات برطانوی سپر ماڈل ناﺅمی کامپبیل سے بھی رہے۔حسن جمیل اور ناﺅمی کامپبیل کے درمیان بھی کافی وقت تک قربتیں قائم رہیں، ان دونوں کے درمیان اس وقت تعلقات ٹوٹے جب مبینہ طور پر گلوکارہ ریانا نے ارب پتی سعودی نوجوان سے تعلقات بڑھائے۔ہارپر بازار میگزین کے مطابق حسن جمیل کا خاندان امیر ترین عرب خاندانوں میں سے ایک ہے اور ان کے خاندان کے اثاثوں کی مالیت ڈیڑھ ارب ڈالر سے زائد ہے۔حسن جمیل کا خاندان 12 واں امیر ترین عرب خاندان ہے اور ان کا خاندان سعودی عرب سمیت مشرق وسطیٰ میں ٹویوٹا کمپنی کی گاڑیوں کی تقسیم کا کاروبار بھی کرتا ہے۔علاوہ ازیں ان کے خاندان نے مشرق وسطیٰ میں متعدد فلاحی منصوبے بھی شروع کر رکھے ہیں۔حسن جمیل کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں فٹ بال لیگ بھی منعقد کرائی جاتی ہے، جس میں شامل تمام 14 ٹیمیں ان کی ملکیت ہیں۔

دلہن نے شادی کا دعوت نامہ غلط پتے پر بھجوایا اور تحفہ بھی پایا

اوریگن(ویب ڈیسک)بن بلایا مہمان تو آپ نے سنا ہی ہوگا لیکن بن بلایا جواب اور تحفہ بھی ہوتے ہیں۔امریکی ریاست اوریگن سے تعلق رکھنے والی 26 سالہ کسینڈرا وارن اپنی شادی کی تیاریوں میں مشغول تھیں، انہیں اپنی شادی میں 200 کے قریب مہمان مدعو کرنے تھے اور اسی سلسلے میں وہ سب کو دعوت نامے بھیج رہی تھیں۔ جلد بازی میں وہ ایک غلطی کر بیٹھیں کہ یوگینی، اوریگون میں رہنے والی اپنی ایک رشتے دار کو خط لکھتے ہوئے اس پر غلط پتا لکھ بیٹھیں، انہیں اندازہ نہیں ہو سکا کہ وہ کیا غلطی کر بیٹھی ہیں جب تک انہیں جوابی خط موصول نہیں ہوگیا۔دعوت نامے میں موجود جوابی خط میں ہاتھ سے تحریر کردہ ایک پیغام درج تھا۔لکھا ہوا تھا کہ’ میری خواہش تھی کہ میں تمہیں جانتا، خیر مبارک ہو، میری طرف سے اچھا سا ڈنر کر لو، میری شادی کو 40 سال گزر چکے ہیں اور یہ رشتہ بڑھتی عمر کے ساتھ بہتر ہوتا چلا جاتا ہے۔اس پیغام کے ساتھ ہی 20 ڈالر کا ایک ایڈوانس بل منسلک تھا، لفافے پر لمبی عمر اور آباد رہنے کی دعا بھی تحریر تھی۔کسینڈرا نے اسے بہترین اتفاق قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ واقعی بہت شکر گزار ہیں۔کیسنڈرا اور ان کا منگیتر دونوں ہی جوابی خط لکھنے والے سے بے خبر ہیں۔تاہم دونوں اسی رات ڈنر پر چلے گئے اور 20 ڈالر کا ایڈوانس بل استعمال کر لیا۔واپسی پر کیسینڈرا نے شکریہ کا کارڈ خریدا اور دوبارہ اسی غلط پتے پر بھیج دیا اور اس پر مہربان اجنبی لکھا۔خط میں اس نے مہربان اجنبی سے مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ پیغام کے لیے اور اسے لکھنے کے لیے وقت نکالنے پر شکریہ۔ہر کوئی یہ نہیں کر سکتا،میں شکر گزار ہوں کہ آپ جیسے لوگ ابھی بھی اس دنیا میں موجود ہیں۔اب آپ بھی کسی غلط پتے پر پیغام بھیج کر ایسی ہی کسی مہربانی کے بارے میں تو نہیں سوچ رہے؟

احد رضا میربین الاقوامی ایوارڈ کیلئے نامزد

لاہور(ویب ڈیسک)پاکستان کے باصلاحیت اداکار احد رضا میرکومقبول ترین تھیٹر ڈرامے ”ہیملیٹ“ میں بہترین اداکاری کرنے پربین الاقوامی ’بیٹی مچل ایوارڈ‘ کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔ڈراما سیریل ”یقین کا سفر“ سے شہرت حاصل کرنے والے اداکار احد رضا میر نا صرف پاکستانی شوبزمیں اپنے فن کا لوہا منوارہے ہیں، بلکہ بیرون ممالک بھی اپنی صلاحیتوں سے پاکستان کا نام روشن کررہے ہیں۔ احد کو حال ہی میں ڈرامے ”ہیملیٹ، اے گھوسٹ اسٹوری“ میں بہترین اداکاری کرنے پر ’بیٹی مچل ایوارڈ‘ کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔”ہیملیٹ“ میں ادا کیے گئے اپنے کردارکے بارے میں احد کا کہنا تھا کہ میری والدہ یہ ڈراما دیکھنے تھیٹر آئی تھیں، میری پرفارمنس دیکھنے کے بعد انہوں نے کہا کہ وہ مجھے پہچان نہیں سکیں اورمجھے یہ کردارادا کرتے ہوئے دیکھ کرانہیں خوف محسوس ہوا۔ اس وقت میں نے سوچا کہ میں نے اچھی اداکاری کی ہے۔واضح رہے کہ 22 ویں بیٹی مچل ایوارڈ کی تقریب رواں ماہ 24 جون کو منعقد کی جائے گی۔