All posts by admin

سپریم کورٹ کا ڈیمز فنڈ میں موجود رقم کی سرمایہ کاری کا فیصلہ

اسلام آباد(ویب ڈیسک) سپریم کورٹ نے ڈیمز فنڈ میں موجود رقم کی سرمایہ کاری کا فیصلہ کیا ہے۔سپریم کورٹ نے ڈیمز فنڈ میں موجود رقم کی سرمایہ کاری کا فیصلہ کیا ہے، عدالت نے اسٹیٹ بنک کو فنڈ میں موجود 10 ارب 60 کروڑ روپے نیشنل بنک کو منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔ عدالت کے مطابق 19 جون کو ٹی بلز کی نئی بولی کے بعد منافع کی شرح کا اعلان ہوگا، نیشنل بنک سپریم کورٹ کی جانب سے بولی میں حصہ لے گا جب کہ طے شدہ شرح منافع پر ڈیمز فنڈ کی ٹی بلز میں 3 ماہ کے لیے سرمایہ کاری ہوگی۔واضح رہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے حکم جاری ہونے کے بعد وفاقی حکومت نے دو ڈیمز دیامیربھاشا اورمہمند کی تعمیرکے لیے فنڈز قائم کیے تھے جس میں پاک فوج، سرکاری ملازمین، قومی کھلاڑیوں، اداکاروں اور سماجی شخصیات سمیت عام افراد نے پیسے جمع کرائے تھے۔

کراچی میں ہیٹ ویو کے باعث شدید گرمی، ایک شخص ہلاک

کراچی(ویب ڈیسک) شہر قائد میں ہیٹ ویو کے باعث شدید گرمی کی لہر جاری ہے جب کہ گرمی نے ایک شخص کی جان لے لی۔ذرائع کے مطابق بلدیہ مدینہ کالونی 7 نمبر میں 30 سالہ نامعلوم شخص گرمی کے باعث پیدل چلتے ہوئے گر کر ہلاک ہوگیا۔ پولیس کے مطابق ہلاک شخص ہیٹ اسٹروک کا متاثر لگ رہا ہے۔ ہلاک ہونے والے شخص کو سول اسپتال منتقل کرکے اس کے ورثا کی تلاش شروع کردی گئی ہے۔دوسری جانب محکمہ موسمیات کی جانب سے کراچی میں آج سے 3 دن کے لیے ہیٹ ویو الرٹ جاری کیا گیا ہے، ہیٹ ویو کے اثرات صبح سے ہی نظر آنا شروع ہوگئے ہیں، شہر میں سمندری ہوائیں بند ہونے اور نمی کا تناسب بڑھنے کے سبب شدید گرمی محسوس کی جارہی ہے، محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ دن بھر لو کے تھپیڑے چلیں گے جب کہ درجہ حرارت 42 ڈگری تک جانے کا امکان ہے تاہم گرمی کی شدت 50 ڈگری کے برابر محسوس ہوگی۔محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ کراچی میں گرمی کی غیر معمولی لہر کی وجہ بحیرہ عرب میں بننے والا سمندری طوفان ہے، سمندری طوفان وائیو آج رات گئے بھارتی گجرات کے ساحل سے ٹکرائے گا، طوفان کے باعث آج شام کو شہر میں آندھی جب کہ ہلکی بارش کا بھی امکان ہے۔شدید گرمی کے پیش نظر طبی ماہرین نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ دن کے وقت غیر ضروری طو پر گھروں سے باہر نکلنے سے گریز کریں، پانی اور ٹھنڈے مشروبات کا استعمال بڑھادیں اوراگر باہر نکلنا پڑے تو سر ڈھانپ کر یاسر پر گیلا کپڑا رکھ کر باہر نکلیں۔

انٹربینک میں ڈالر تاریخ کی بلند ترین سطح 152.90 پر پہنچ گیا

کراچی(ویب ڈیسک) انٹربینک میں ڈالر تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا جب کہ اوپن مارکیٹ میں بھی اس کی قدر میں اضافہ ہوا ہے۔جمعرات کو کاروبار کے آغاز پر انٹربینک میں ڈالر کے مقابلے میں روپیہ ایک بار پھر کمزور ہوگیا اور روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت میں اضافہ ہوگیا جس سے ڈالر 151.90 روپے کا ہوگیا۔کاروبار کے دوران ڈالر کی قدر مزید مستحکم ہوگئی اور اس میں 54 پیسے کا اضافہ ہوگیا جس سے ڈالر 152.10 روپے کا ہوکر تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔انٹر بینک میں کاروبار کے اختتام پر ڈالر تاریخ کی بلند ترین سطح پر رہا اور اس کی قیمت میں 1.33 روپے اضافہ ہوا جس سے ڈالر 152.90 پر بند ہوا۔انٹربینک میں ڈالر کی قدر میں اضافے کے بعد اوپن مارکیٹ میں بھی اس کی قیمت میں اضافہ ہوگیا اور ڈالر 153.50 روپے کا ہوگیا ہے۔عید کے بعد اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قدر میں 4.20 روپے کا اضافہ ہوا ہے۔

ورلڈکپ، پاک بھارت میچ بارش سے متاثر ہونے کا خدشہ

مانچسٹر(ویب ڈیسک) روایتی حریف پاکستان اور بھارت کا ورلڈکپ میں 16 جون کو ہونے والا میچ بارش سے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔مانچسٹر کے اولڈ ٹریفورڈ اسٹیڈیم میں 16 جون بروز اتوار کو پاکستان اور بھارت کی ٹیمیں آمنے سامنے ہوں گی جس کے لیے کرکٹ شائقین کو بے صبری سے انتظار ہے۔پاکستان اور بھارت کا میچ دیکھنے کے لیے دنیا بھر سے شائقین کی مانچسٹر آمد متوقع ہے اور ٹکٹ چار گ±نا اضافی قیمتوں میں فروخت ہو رہا ہے۔اس وقت مانچسٹر میں بارشوں کا سلسلہ جاری ہے اور برطانوی محکمہ موسمیات نے 16 جون کو بارش کی پیشگوئی کی ہے۔برطانوی محکمہ موسمیات کے مطابق 16 جون اتوار کو مانچسٹر میں صبح 10 بجے سے بارش کے 50 فیصد امکان ہیں۔ ایسے میں محکمہ موسمیات نے پاک بھارت میچ بھی بارش سے متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ایونٹ میں بھارت اب تک جنوبی افریقہ اور آسٹریلیا کے خلاف دو میچز میں کامیابی حاصل کرچکا ہے جب کہ آج بھارت اور نیوزی لینڈ مدمقابل ہیں۔دوسری جانب ایونٹ میں پاکستان کو اپنے پہلے میچ میں ویسٹ انڈیز سے شکست کا سامنا ہوا اور دوسرے میں انگلینڈ کے خلاف زبردست کامیابی حاصل کی۔جب کہ 7 جون کو برسٹل کے کاﺅنٹی گراﺅنڈ میں سری لنکا کے خلاف کھیلے جانے والا میچ بارش کے باعث منسوخ ہوگیا تھا اور چوتھے میچ میں قومی ٹیم آسٹریلیا سے شکست کھاگئی۔

اپوزیشن بجٹ کے نام پر تحریک نہیں چلا سکتی

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل فائیو کے تجزیوں تبصروں پر مشتمل پروگرام ”کالم نگار“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی اعجاز حفیظ خان نے کہا ہے کہ حکومت نے بدترین معاشی حالات میں بہتر بجٹ پیش کیا اپوزیشن بجٹ کے نام پر تحریک نہیں چلاسکتی۔ اپوزیشن تحریک صرف اپنے قائدین کو بچانے کیلئے چلانا چاہتی ے۔ تاہم اس میں ناکام رہے گی۔ پروڈکشن آرڈر کے نام پر جاری ڈرامہ بند ہونا چاہیے اس قانون پر نظرثانی کی جانی چاہیے جو صرف سپریم کورٹ ہی کرسکتی ہے اس قانون سے فائدہ اٹھاکر شہبازشریف صرف 3 دن جیل میں رہے۔ مکے لہرا کر بات کرنے والا مشرف بزدل نکلا اسے عدالت میں پیش ہونا چاہیے اور اس سے پہلے ملک و قوم کو اصل میں برباد کرنے والے ضیا الحق کا بھی ٹرائل ہونا چاہیے کہ دنیا میں ایسی مثالیں موجود ہیں کہ مرنے کے بعد ٹرائل ہوا شیخ رشید نے تحریک انصاف کو بڑا نقصان پہنچایا ہے۔ سینئر تجزیہ کار اشرف عاصمی نے کہا کہ حکمران اشرافیہ کی معاشی دہشتگردی نے زندگی اجیرن کردی۔ اپوزیشن میں تحریک چلانے کی سکت نہیں ہے بڑے بڑے نام والے جیلوں میں بند ہیں مزید پکڑے جارہے ہیں ان سے قوم کی لوٹی دولت واپس لینے میں کامیابی کا امکان نظر آتا ہے معاملات اپنے منطقی انجام کی جانب بڑھ رہے ہیں نیب اور عدلیہ کو کسی دباﺅ میں آئے بغیر لوٹی دولت نکلوانی چاہیے۔ مولانا فضل الرحمان بھی جلد گرفتار ہوجائینگے۔ عمران خان روایتی سیاستدانوں کی طرح منافق نہیں ہے اگر وہ ناکام ہوجاتا ہے تو پورا نظام لپیٹ دیا جائے گا۔ تجزیہ کار راجہ وحید نے کہا کہ احتساب پوری قوم کی خواہش ہے۔ عمران خان نے اعلیٰ سطحی کمیشن بنانے کا بہت اچھا فیصلہ کیا یہ کمیشن پہلے ہی بنادینا چاہیے تھا۔ کوئی شک نہیں کہ بیرون ملک سے بھاری قرضہ لیا گیا اور اسے ہڑپ کرلیا گیا۔ اپوزیشن چاہتی ہے کہ پارلیمنٹ نہ چل سکے۔ اپوزیشن کوئی تحریک چلانے کے قابل نہیں ہے۔ پرویز مشرف کی حالت ایسی نہیں ہے کہ واپسی آکر عدالت میں پیش ہوسکیں۔ سینئر تجزیہ کار عبدالباسط خان نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے تقریر میں اپوزیشن کو خوب لتاڑا اور 24ہزار ارب قرضہ لینے کی تحقیقات کیلئے اعلیٰ سطحی کمیشن قائم کرنے کا اعلان کیا جو خو ش آئند ہے پروڈکشن آرڈر کا ناجائز استعمال کیا جارہا ہے سیاستدان ابھی جیل بھی نہیں پہنچتے اوراس کا مطالبہ شروع کردیتے ہیں پارلیمنٹ سب سے برتر ہے تاہم یہ برتری تب ہوتی ہے جب وہاں موجود لوگ ضمیر کے مطابق بات کریں اور مفادات کی سیاست نہ کریں۔

عمران خان ایماندار ہیں لیکن مہنگائی کو کنٹرول کرنا چاہئے: شہریوں کی رائے

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)حکومت کی طرف سے پیش کردہ بجٹ پر عوامی رائے جاننے کے لئے چینل فائیوے پروگرام نیوز ایٹ سیون کی ٹیم تاجروں اور عام آدمی کے پاس پہنچ گئی۔بجٹ پر مختلف طبقہ ہائے کے لوگوں نے اپنے اپنے تاثرات کا اظہار کیا کچھ نے بجٹ کو عوام دوست جبکہ کچھ نے محض اشرافیہ کو نوازنے کا ذریعہ قرار دیا ۔چھوٹے تاجروں نے کہا غریب کے لئے کچھ بھی نہیں ہم مزید پس جائیں گے آئی ایم ایف کا بجٹ ہے۔چند شہریوں نے بجٹ سے بالکل ہی لاتعلقی کا اظہار کر دیا کہ ہمیں کچھ پتہ نہیں۔شہریوں نے کہا پٹرول کی قیمت سمیت مہنگائی کم ہونی چاہئے پٹرول مہنگا ہونے سے دیگر اشیاءکی بھی مہنگی ہوں گی۔سب کہتے ہیں فلاں نے لوٹا فلاں پیسہ باہر لے گیا جو ہونا تھا ہو چکا اب ہمیں ریلیف دیا جائے۔شہریوں نے کہا وزیراعظم عمران خان کی نیت پر شک نہیں وہ بہت ایماندار ہیں لیکن مہنگائی بڑھی ہے قابو پانا چاہئے دیہاڑی دار آدمی کے مسائل حل کئے جائیں ٹیکسز ضرور لگائیں لیکن غریب آدمی سے ٹیکس نہ لیا جائے۔ایک شہری نے کہا بجٹ پہلے بجٹ سے ہٹ کر ہے لگژری اشیاءپر ٹیکس خوش آئند ہے۔ایک شہری نے کہا پھلوں کی ریڑھی لگاتا ہوں سونا مہنگا ہونے سے میری تو شادی خطرے میں پڑ گئی ۔کچھ شہریوں نے کہا دکاندار اپنے طور پر چیزوں کی قیمتیں بڑھا دیتے ہیں حکومت نوٹس لے۔ایک شہری نے کہا حکومت کو چاہئے عوام کو روزگار فراہم کرے جب تک مجموعی بہتری نہیں آتی معیار زندگی بہتر نہیں ہو گا۔ایک شہری نے کہا ادویات سستی ہونی چاہئیں مجموعی طور پر بجٹ ٹھیک ہے۔کرپشن کا پیسہ واپس آجائے تو ہی بجٹ بنانے میں آسانی ہو گی۔ایک شہری نے کہا لوگوں کو انتظار کرنا چاہئے حالات بہتر ہونگے۔

عمران خان کا فیصلہ دلیرانہ کہ جان بھی چلی جائے کرپٹ افراد کو نہیں چھوڑوں گا

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں و تبصروں پرمشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ میں نے وزیراعظم عمران خان کا خطاب سنا ہے اور اس میں ریکارڈنگ کی کوئی خرابی بھی تھی۔ کوئی ٹیکنیکل خرابی تھی یا کسی نے شرارت کی کہ وزیراعظم کی تقریر کا یہ حشر کیا جائے دو تین دفعہاس میں رکاوٹ بھی تھی ایک مرتبہ تو سکرین پر تصویر ہی ختم ہو گئی بہرحال اس بارے میں معلوم ہوا ہے اس کی انکوائری کا آرڈر کر دیا گیا ہے دیکھیں کیا نکلتا ہے کہ غیر ذمہ داری دکھائی گئی یا فنی خرابی ہے۔ جو کچھ انہوں نے کیا ان کا بہت سخت لہجہ تھا اور انہوں نے کہا چاہے کچھ بھی ہو جائے چاہے مجھے کتنی ہی تکلیف اٹھانی پڑے میں نے تہیہ کیا ہوا ہے کہ ان لوگوں کو کیفر کردار تک پہنچانا ہے میں کبھی اس سے پیچھے نہیں ہٹوں گا اس سے لگتا ہے کہ پچھلے دنوں بعض چیزیں چل رہی تھیں کہ حکومت کوئی سافٹ کارنر رکھ رہی ہے یا کوئی این آر او کی طرف بات جا رہی ہے حالانکہ وزیراعظم عمران خان کہہ بھی رہے ہیں کہ میرا کوئی اس قسم کا پروگرام کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ اس کے باوجود یہ جو بجٹ کے بعد نیا دور شروع ہوا ہے اور خاص طور پر نواز شریف صاحب واپس جیل چلے گئے حملہ شہباز شریف کو گرفتار کر لیا گیا اور پھر یہ الطاف حسین کو لندن میں گرفتار کر لیا گیا اور اب اگلی شاہد خاقان عباسی کی افوا پھیلی ہوئی ہے۔ معلوم نہیں کس حد تک صحیح ہے لیکن کہا جا رہا ہے کہ اب ان کی باری ہے کچھ اخبارات میں اس بارے خبریں بھی لگ گئی ہیں میں یہ سمجھتا ہوں کہ شاید حکومت کا موقف کمزور ہونے کے بجائے مضبوط ہو گیا ہے۔ جہاں تک تقریر کے دوران جو کچھ ہوا ہے جو بھی حقائق سامنے آئے ہیں ان میں پرویز مشرف کی بات بھی شامل کر لیجئے گا کہ ان کے وکیل کو بولنے نہیں دیا گیا اور کہا گیا ہے کہ آپ کا حق جو ہے سپریم کورٹ ختم کر چکا ہے اب آپ کو صفائی میں کچھ کہنے کا حق بھی حاصل نہیں ہے کافی تناﺅ بڑھ رہا ہے کچھ چیزوں کے بارے میں معلوم ہوتا ہے کہ حکومت بھی فیصلہ کر چکی ہے۔ میں کل بھی بات کر رہا ہے کہ اس کا فیصلہ تو 30 تاریخ کو ہو گا لیکن ایک ہی آ گئی ہے کہ 5 ہزار لوگوں نے ایمنسٹی کے لئے درخواست دی ہے اور اسکا مطلب ہے کہ لوگوں کی تعداد کافی ہے اور رقم کتنی ہے اس میں یہ تو 30جون کو پتہ چلے گا۔ محسوس ہوتا ہے کہ کچھ لوگوں کو محسوس ہو رہا ہے کہ حکومت اس معاملے میں سنجیدہ ہے۔ بجٹ کے حوالہ سے بات کرتے ہوئے ضیا شاہد نے کہا کہ آنے والے چند روز کچھ اور بڑی چیزیں کلیئر ہو کر سامنے آ جائیں گی اور خاص طور پر 30 جون سے پہلے ہی بہت کچھ ہونے والا ہے اور 30 کے بعد بڑے پیمانے پر گرفتاریاں بھی ہونے والی ہیں جو لوگ تعاون نہیں کریں گے اور جن کے اعداد و شمار حکومت کے پاس موجود ہیں عمران خان صاحب کے دعوے کے مطابق تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ اگر میں اپوزیشن کی بڑی عزت کرتا ہوں اپوزیشن جمہوریت کے لئے بڑی ضروری چیز ہے جب تک اپوزیشن مضبوط نہ ہو تو حکومت کبھی صحیح راستے پر نہیں چل سکتی یہ ایک لازمی جزو ہے جمہوریت کا لیکن میں یہ سمجھتا ہوں کہ عید کے بعد یہ ہو جائے گا اور وہ ہو جائے گا اور فضل الرحمن نے یہ کہہ دیا آصف زرداری نے 10 کو لوگوں کو اسلام آباد پہنچنے کا پیغام دے دیا۔ مجھے ان ساری باتوں میں جان نظر نہیں آتی اس لئے کہ جو حقیقت ہے یعنی بلاول بھٹو کا یہ اعلان کہ آج یوم احتجاج منایا جائے گا آپ نے دیکھا کہ پورا ملک جو ہے اس میں ہمیں کوئی بڑے پیمانے پر یوم احتجاج کی کوئی جھلک نظر نہیں آئی۔ سندھ اسمبلی میں زرداری کی گرفتاری پر سندھ اسمبلی کے اندر متفقہ قرارداد منظور ہونے بارے بات کرتے ہوئے ضیا شاہد نے کہا کہ قراردادوں سے بات بہت آگے نکل گئی ہے جب آپ پکڑ دھکڑ پر آ جائیں تو پھر قراردادیں کوئی معنی نہیں رکھتیں۔ الطاف اور زرداری کی گرفتاری کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ضیا شاہد نے کہا کہ میں سمجھتا ہو ںکہ یہ ساری چیزیں 30 جون تک بہت ساری باتیں کھل کر سامنے آ جائیں گی۔ بلاول بھٹو کی کریڈیبلٹی پر بات کرتے ہوئے ضیا شاہد نے کہا کہ اپوزیشن کا ایک جگہ پر جمع نہ ہونا ہے کیونکہ رمضان کے دوران جتنی بھی باتیں تھیں کہ عید کے بعد بہت بڑے پیمانے پر احتجاجی مہم چل نکلے گی جس میں ساری اپوزیشن پارٹیاں جمع ہو گئی ہیں کوئی ایسی چیز ابھی تک تو نظر نہیں آئی۔ لگتا ہے یہ کوئی بظاہر مستقبل قریب میں کوئی بظاہر نظر بھی نہیں آ رہی۔ کسی وقت سیاست میں کچھ بھی ہو سکتا ہے تاہم فی الحال اس بات کا بڑا امکان ہر گز دکھائی نہیں دے رہا کہ کسی بڑے پیمانے پر ری ایکشن کا۔ حالانکہ بجٹ میں جو جھٹکے لگتے ہیں عوام کو ظاہر ہے مہنگائی ہوتی ہے ٹیکس نئے آتے ہیں اس کے باوجود اس میں لوگوں کا کوئی فوری ری ایکشن دکھائی نہیں دیتا اس میں گرمی کا موسم بھی ہے۔ یہ کوئی جلسے جلوسوں کا موسم بھی نہیں ہے۔ جہاں تک مریم نواز کے کل کے خطاب کا تعلق ہے باوجود اس کے کہ بہت امید بھی کی جا رہی تھی کوئی آپس میں مذاکرات بھی کئے جا رہے تھے کہ مختلف جماعتوں کے لیکن کسی نہ کسی وجہ سے بات کسی نتیجے پر پہنچ نہیں سکی۔ حتیٰ کہ مولانا فضل الرحمن ملتان چلے گئے اور جو سب سے زیادہ سرفہرست تھے کہ ان کی وجہ سے بہت سارے مختلف الخیال لوگوں کے درمیان بھی اشتراک عمل کی کوئی شکل پیدا ہو جائے گی وہ بھی نہیں ہو گی اور خود انہوں نے بھی زیادہ دلچسپی نہیں لی شاید وہ مایوس ہو گئے یا کسی نئے لائحہ عمل کے انتظار میں ابھی بھی کوئی منتظر ہیں کہ کوئی نئی شکل سامنے آ جائے کیونکہ اب تک کی تیاری توجو تھی تو رائیگاں گئی ہے۔ بانی ایم کیو ایم کی گرفتاری کے بارے میں بات کرتے ہوئے ضیا شاہد نے کہا کہ الطاف حسین کافی دنوں سے بیمار تھے اور جو لوگ ان کو مختلف تقریبات میں دیکھتے بھی رہتے تھے اور پریس کانفرنسوں میں تو ان کا سہارا دے کر چلانا پڑتا تھا اب ان کی 12 گھنٹے کی پوچھ گچھ کی گئی ہو گی اور لگتا ہے کہ جس طرح کہ ان کو منتقل کرنا پڑا ان کی طبیعت خراب ہوئی ہے۔ میں نے ان کی ایسی پریس کانفرنسیں بھی دیکھی ہے کہ ان کو دو دو لوگوں نے ان کو سہارا دے کر بٹھایا ہے۔ اس سے تو لگتا ہے کہ ان کی طبیعت تو پہلے ہی خراب تھی اب پوچھ گچھ سے مزید خراب ہو گئی ہو گی۔
الطاف حسین کی سوالات کے جواب دینا ہی پڑیں گے، حکومت کی جانب سے بھی کوئی پیغام برطانیہ ضرور جائے گا، پاکستان کی جانب سے اس معاملہ پر خاموشی اختیار نہیں کی جائے گی کیونکہ ملک کے خلاف تقاریر کی گئی تھی۔ مشرف کیس میں سپریم کورٹ اور حکومتی حلقوں نے سختی سے کام لینے کا فیصلہ کر لیا ہے، حکومت اس معاملے میں سنجیدہ ہے کہ مشرف عدالت میں پیش ہوں تاہم دوسری طرف سے کہا جا رہا ہے کہ مشرف کی طبیعت ناساز ہے میرے خیال میں پرویز مشرف واپس نہیں آئیں گے اور ان کی غیر موجودگی میں ہی کیس چلایا جائے گا۔ ملزم کی عدم موجودگی میں کیسز چلنے کی مثالیں موجود ہیں سزا بھی سنائی جا سکتی ہے۔ مشرف نے شاید واپس نہ آنے کا فیصلہ کر لیا ہے وہ وہیں رہ کر علاج کرائیں گے اور کیس کا جو بھی نتیجہ سامنے آئے اسے بھگتیں گے۔ کسان اتحاد کے اشتہار دیکھ کر تو لگتا ہے کہ انہوں نے بجٹ کو سراہا ہے اور اس سے مطمئن ہیں ابھی دوسرے فریق محمد انور کا موقف سامنے نہیں آیا۔ بجٹ کا عوام پر بوجھ تو پڑے گا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ معیشت کی بہتری کے لئے اسے 8 ماہ مزید چاہئیں۔ ایمنسٹی سکیم میں اگر واقعی 5 ہزار لوگوں نے اپلائی کیا ہے تو اس سے بھی بڑا فرق پڑے گا۔ سابق ادوار میں حکومتیں سیاسی بھرتیاں کرتی رہی ہیں اس لئے ان کے وفادار سرکاری ملازم موجود ہیں۔ وزیراعظم کی تقریر کے دوران جو مسئلہ سامنے آیا وہ کسی کی شرارت بھی ہو سکتی ہے تاہم عموماً تکنیکی خرابی بھی ہو جاتی ہے اور میرے خیال میں ایسا ہی ہوا ہے۔ واقعہ کی تحقیقات کا حکم دے دیا گیا ہے حقیقت سامنے آ جائے گی۔

دپیکا نے رنویر کی بلے سے دھلائی کردی

ممبئی(ویب ڈیسک) معروف بالی ووڈ اداکار رنویر سنگھ کی اہلیہ دپیکا پڈوکون کے ہاتھوں بلے سے مار کھانے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی۔ بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق رنویر سنگھ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ انسٹا گرام پر ایک ویڈیو شیئر کی جس میں وہ دپیکا کے ہاتھوں مار کھا رہے ہیں دراصل یہ حقیقی مار نہیں بلکہ مذاق کے طور پر بنایا ایک کلپ ہے جسے انہوں نے اپنی نئی آنے والی کرکٹ کی کہانی پر مبنی فلم ”83“ میں شامل ہونے کے موقع پر بنایا ہے۔ جب کہ ویڈیو کے ساتھ رنویر سنگھ نے یہ بھی کہا کہ یہ میری حقیقی اور فلمی زندگی کی کہانی ہے۔دپیکا پڈوکونفلم ”83“ میں بھی رنویر سنگھ کی اہلیہ کا کردار ادا کریں گی جس کی شوٹنگ میں شرکت کرنے کے لئے دپیکا لندن بھی پہنچ گئی ہیں جہاں وہ رنویر سنگھ کے ساتھ بڑی اسکرین پراداکاری کے جوہر دکھاتی نظر آئیں گی۔دپیکا پڈوکون نے فلم ”83“ میں شامل ہونے کے حوالے سے کہا کہ میں ہدایتکار کبیر خان کی شکر گزار جنہوں نے مجھے اس فلم میں شامل کیا، سچ تو یہ ہے کہ فلم میں شامل کرنے کا فیصلہ دو ماہ قبل ہو گیا تھا تاہم دوسری فلم کی شوٹنگ کی وجہ سے اعلان نہیں کیا گیا تھا کیوں کہ ہمیں اعلان کرنے کے لئے صحیح وقت کا انتظار تھا۔واضح رہے کہ بھارتی لیجنڈ کرکٹر سنیل گواسکر کی سوانح حیات پر مبنی فلم ”83“ میں رنویر سنگھ مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں۔ فلم 10 اپریل 2020 میں سنیما گھروں کی زینت بنے گی۔

پاک فوج مادر وطن کے دفاع کیلیے ہر خطرے کا جواب دینے کیلئے تیار ہے، آرمی چیف

راولپنڈی(ویب ڈیسک) آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا ہے کہ پاک فوج مادر وطن کو درپیش کسی بھی خطرے کا پوری طرح جواب دینے کے لئے تیار ہے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق جی ایچ کیو راولپنڈی میں سالانہ فارمیشن کمانڈرز کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس کی صدارت پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے کی، فارمیشن کمانڈرز کانفرنس میں پاک فوج کے تمام جنرل آفیسرز نے شرکت کی۔کانفرنس میں جیو اسٹرٹیجک اور قومی سیکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیا گیا، ملک کی اندرونی سلامتی، درپیش چیلنجز اور ان سے نمٹنے پر تفصیلی غور کیا گیا اور ملک کی اندرونی سلامتی کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا جب کہ ملک کو درپیش چیلنجز اور ان سے نمٹنے کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ کیا گیا۔آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے فروری میں تنازع کے دوران بھارت کو بھرپور جواب دینے کوسراہا اور کہا کہ فروری میں پاک فوج نے بھارت کو منہ توڑ جواب دیا، پاک فوج مادر وطن کے دفاع کو درپیش کسی بھی طرح کے خطرے کا جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔سربراہ پاک فوج نے کہا کہ ملک میں استحکام اور امن آپریشن ردالفساد کی کامیابیوں کے ثمرات ہیں۔

ٹاﺅنٹن:آسٹریلیا نے پاکستان کو شکست دےدی

ٹاﺅنٹن(ویب ڈیسک)ٹاﺅنٹن میں کھیلے گئے میچ میں آسٹریلیا کے 308 رنز کے جواب میں پاکستان کی پوری ٹیم 266 رنز پر ڈھیر ہوگئی، ہدف کے تعاقب میں قومی ٹیم کا آغاز اچھا نہ تھا، صرف 2 رنز پر پاکستان کی پہلی وکٹ فخر زمان کی صورت میں گری جو صفر پر پویلین لوٹ گئے، ابتدائی نقصان کے بعد امام الحق اور بابر اعظم ذمہ دارانہ انداز میں اننگز کو آگے بڑھایا تاہم بابر اعظم 56 کے مجموعے پر چلتے بنے، انہوں نے 30 رنز بنائے جس میں 7 چوکے بھی شامل تھے۔امام الحق اور محمد حفیظ کے درمیان 80 رنز کی پارٹنرشپ ہوئی اور اس دوران امام الحق نے نصف سنچری اسکور کی تاہم وہ 136 کے مجموعی اسکور پر 53 رنز بنا کر کیچ آﺅٹ ہوگئے جب کہ 10 رنز کے اضافے سے محمد حفیظ بھی چلتے بنے، انہوں نے 46 رنز بنائے۔ تجربہ کار شعیب ملک مکمل ناکام رہے اور صفر پر کیچ آﺅٹ ہوگئے۔ 160 کے مجموعے پر آصف علی 5 رنز بنا کر سرفراز احمد کا ساتھ چھوڑ گئے۔حسن علی نے سرفراز احمد کے ساتھ مل کر اسکور میں 40 رنز کا اضافہ کیا اور وہ 32 رنز بنا کر رچرڈسن کا شکار بن گئے۔ وہاب ریاض نے کپتان کا بھرپور ساتھ دیا اور 64 رنز جوڑ کر ٹیم کو میچ میں واپس لانے کی کوشش کی جو بے سود ثابت ہوئی، وہاب ریاض 45 رنز بنا کر آﺅٹ ہوئے جس کے بعد محمد عامر بغیر کھاتہ کھولے بولڈ ہوگئے جب کہ سرفراز احمد 40 رنز پر رن آﺅٹ گئے اور یوں پوری ٹیم 266 رنز پر پویلین لوٹ گئی۔اس سے قبل پاکستان نے آسٹریلیا کے خلاف ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا، آسٹریلیا کی جانب سے اننگز کا ا?غاز ایرون فنچ اور ڈیوڈ وارنر نے کیا۔ دونوں اوپنرز نے اننگز کا آغاز پر اعتماد اور جارحانہ انداز میں کیا اور 146 رنز کی اوپننگ شراکت قائم کی۔ایرون فنچ نے 84 گیندوں پر 82 رنز بنائے تاہم محمد عامر کی گیند پر وہ محمد حفیظ کو کیچ دے بیٹھے، ون ڈاﺅن آنے والے اسٹیو اسمتھ نے 10 رنز بنائے تاہم وہ حفیظ کی گیند پر آصف علی کو کیچ دے بیٹھے، آسٹریلیا کے تیسرے آﺅٹ ہونے والے کھلاڑی گلین میکسویل تھے انہوں نے صرف 20 رنز بنائے جب کہ اوپننگ کے لیے آنے والے ڈیوڈ وارنر نے شاندار کھیل کا مظاہرہ کیا اور سنچری اسکور کی، ڈیوڈ وارنر 107 رنز بنانے کے بعد شاہین آفریدی کا شکار بنے۔40 ویں اوورز کے بعد پاکستانی بولرز نے شاندار بولنگ کا مظاہرہ کیا اور آسٹریلوی کھلاڑیوں کو کھل کر کھیلنے کا موقع فراہم نہیں کیا، شان مارش نے 23 اور عثمان خواجہ نے 18 رنز بنائے تاہم محمد عامر نے دونوں کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھائی، کولٹر نائل کو صرف 2 رنز پر وہاب ریاض نے آﺅٹ کیا۔ایک وقت پر ایسا لگ رہا تھا کہ آسٹریلیا 350 سے زائد رنز کا ہدف دینے میں کامیاب ہوجائے گا تاہم محمد عامر نے شاندار بولنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے 5 آسٹریلین کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھائی جس کی بدولت آسٹریلیا کی پوری ٹیم 49 اوورز میں 307 رنز بناکر آﺅٹ ہوگئی۔

مہوش حیات کو ایک بار پھر آئٹم نمبر کرنا مہنگا پڑگیا

کراچی(ویب ڈیسک) سوشل میڈیا صارفین نے مہوش حیات کے تمغہ امتیاز پر ایک بار پھر سوالات اٹھاتے ہوئے انہیں بے ہودہ رقص کرنے پر آڑے ہاتھوں لے لیا۔مہوش حیات کا شمار پاکستان کی باصلاحیت اداکاراﺅں میں ہوتا ہے۔ انہوں نے ٹی وی میں اداکاری کا لوہا منوانے کے بعد فلم انڈسٹری میں قدم رکھا اوراپنی اداکاری سے سب کی چھٹی کردی۔شوبز انڈسٹری میں بہترین خدمات انجام دینے پرانہیں تمغہ امتیاز سے نوازا گیا لیکن سوشل میڈیا صارفین کو حکومت کی جانب سے انہیں تمغہ امتیاز دینا بالکل بھی پسند نہیں آیا اورسوشل میڈیا پرمہوش کوتمغہ امتیاز دینے کے حوالے سے کئی ماہ تک تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا۔ یہ معاملہ کافی حد تک تھم چکا تھا کہ مہوش کے نئے آئٹم نمبرنے ایک بار پھر چنگاری بھڑکادی۔عید الفطرپرمہوش حیات کی ریلیز ہونے والی فلم ”چھلاوا“ میں مہوش نے”چڑیا“ نامی آئٹم نمبر پر پرفارم کیا ہے اور اپنے انسٹاگرام اکاﺅنٹ پر اس گانے کی مختصر ویڈیو بھی شیئر کی ہے۔ لیکن سوشل میڈیا صارفین کو مہوش حیات کا آئٹم نمبر کرنا ایک آنکھ نہیں بھارہا اور انہوں نے اداکارہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ایک بار پھر انہیں تمغہ امتیاز دینے پر سوالات اٹھادئیے ہیں۔ردا نامی خاتون نے مہوش حیات کی پرفارمنس پر طنز کرتے ہوئے کہا اس پرفارمنس پر ایک اور تمغہ امتیاز دے دو اس کو۔ جب کہ صفدر لبنیٰ نامی صارف نے تو مہوش حیات کو بے ہودہ رقص کرنے پر کھری کھری سناتے ہوئے کہا اتنے گندے ماحول میں کیسے ڈانس کرلیتی ہو، جہاں تمام لوگ آپ کو گندی نظروں سے دیکھ رہے ہیں، مطلب پیسے کے لیے آپ کچھ بھی کرلیں گی؟ اتنا حوصلہ کیسے آتا ہے آپ میں؟ ایک صارف نے تو مہوش حیات کو غریبوں کی کترینہ کیف قرار دے دیا۔جہاں کچھ صارفین نے مہوش حیات پر تنقید کی ہے وہیں کچھ لوگوں نے انہیں سراہا بھی ہے۔ گلوکارہ واداکارہ میشا شفیع، گلوکارہ آئمہ بیگ اور بھارتی اداکار اور سابق بگ باس کنٹیسٹنٹ علی کلی مرزا نے مہوش حیات کی تعریف کرتے ہوئے ان کی پرفارمنس کو سراہا ہے۔واضح رہے کہ مہوش حیات کی فلم ”چھلاوا“ باکس آفس پر اچھا بزنس کر رہی ہے اور ریلیز کے 5 دنوں میں 11 کروڑ سے زائد کی کمائی کرنے میں کامیاب رہی ہے۔

پاکستان کا ایک بار پھر بڑے پن کا مظاہرہ

اسلام آباد(ویب ڈیسک) وفاقی حکومت نے بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی کو پاکستان کی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دے دی۔شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کا سربراہی اجلاس کل سے کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں شروع ہورہا ہے جس میں بھارت اور پاکستان کے سربراہان مملکت بھی شریک ہوں گے۔اس اجلاس میں شرکت کے لئے بھارتی وزیراعظم کا طیارہ پاکستان کی حدود سے گزر کر بشکیک جائے گا اور نئی دہلی حکومت نے طیارے کو پاکستانی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت مانگی تھی۔ پاکستان نے غور و خوض کے بعد بھارت کی درخواست قبول کرکے مودی کے طیارے کو فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دے دی ہے۔وزیراعظم عمران خان بھی شنگھائی تعاون تنظیم کی اس دو روزہ سربراہ کانفرنس میں شرکت کریں گے۔فروری میں پاک بھارت کشیدگی کے بعد پاکستان نے اپنی فضائی حدود بھارت کے لیے بند کردی تھی جس سے بھارت کو روزانہ کروڑوں روپے کا نقصان ہورہا ہے۔ دہلی سے ایمسٹر ڈیم اور یورپ کے دیگر شہروں کی پرواز کے دورانیے میں22فیصد اضافہ ہوگیا ہے جس کی وجہ سے بھارتی ایئرلائنز کو اوسطاً 913کلومیٹر زیادہ فاصلہ طے کرنا پڑرہا ہے۔طویل پروازوں کے سبب ہونے والے اخراجات کے باعث بھارتی ایئرلائن جیٹ ایئر اپنے طیارے گراﺅنڈ کرچکی ہے یہاں تک کہ اسٹاف کو تنخواہوں کی ادائیگی سے بھی قاصر ہے۔

ٹیکس دینے سے کوئی ناراض ہوگا تو اسے ناراض کریں گے، مشیر خزانہ

اسلام آباد(ویب ڈیسک) مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے کہا ہے کہ ٹیکس دینے سے کوئی ناراض ہوگا تو اسے ناراض کریں گے۔مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے پوسٹ بجٹ کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں ہر آدمی کو ٹیکس دینا ہوگا، ہمارے ملک میں امیر لوگ ٹیکس نہیں دے رہے، اگر کوئی ٹیکس دینے سے ناراض ہو گا تو ہم اسے ناراض کریں گے، لیکن کسی صورت میں ٹیکس چھوٹ اب کسی کو نہیں دی جائے گی، امیروں کا ٹیکس نہ دینا قابل قبول بات نہیں ہے۔عبدالحفیظ شیخ نے کہا کہ فائلر اور نان فائلر کا فرق ختم کررہے ہیں، کوئی نان فائلر کچھ بھی خریدے گا اسے فائلر بننا ہوگا، گاڑی اور جائیداد خریدنے والے کو فائلر بننا پڑے گا اور ذریعہ آمدنی بتانا پڑے گا، نان فائلر بننا آسان ہے اور 6 منٹ میں آن لائن کمپیوٹر پر فائلر بن سکتے ہیں، اگر 45 دن میں فائلر نہ بنے گا تو اسکو خودبخود ٹیکس نظام میں لایا جائیگا۔مشیر خزانہ کا کہنا تھا کہ یہ غلط تاثر ہو گا کہ ایکسپورٹ سیکٹر کیلئے کوئی چھیڑ چھاڑ ہوئی، تقریبا 12 سو ارب کی ڈومیسٹک ٹیکسٹائل سیل ہے لیکن اس سیل پر 6 سے 8 ارب ٹیکس ملتا ہے، یہ نہیں ہو سکتا 12 سو ارب کی سیل پر 8 ارب ٹیکس دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ریفنڈز کے نظام کی بہتری کیلئے ایک اور پریس کانفرنس کریں گے، مانتا ہوں ریفنڈز کے سلسلے میں بہت بہتری کی گنجائش ہے، بنگلہ دیش اور چین کے ریفنڈ نظام کو متعارف کرانیکی کوشش کریں گے۔عبدالحفیظ شیخ نے مزید کہا کہ ہم ماضی کے قرضوں کا سود دینے کیلئے قرض لے رہے ہیں، 5 ہزار 555 ارب ریونیو کلیکشن کا بوجھ میں نے ایف بی آر نہیں اپنے اوپر ڈالا ہے، اس میں سے 3 ہزار ارب تو قرضوں کے سود دینے میں چلے جائیں گے، سابق حکومت نے ٹیکس نظام سے آدھے پاکستان کو خارج کر دیا تھا، ملکوں کے درمیان عزت سے کھڑے ہونے کے لیے ہمیں ٹیکس اکٹھا کرنا ہے، کیا جو شخص ایک لاکھ روپے ماہانہ کما رہا ہے وہ ایک یا دو ہزار بھی ٹیکس نہ دے، اگر یہ غریب ہیں تو پھر ان کا کیا بنے گا جو واقعی غریب ہیں۔