All posts by admin

لازوال عشق جیسے شو ہماری معاشرتی اقدار کو نقصان پہنچا رہے ہیں، فضا علی

اداکارہ اور میزبان فضا علی نے پاکستان کے پہلے رئیلٹی ڈیٹنگ شو ’لازوال عشق‘ کے بولڈ فارمیٹ پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کے پروگرام ہماری معاشرتی اقدار کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔

’لازوال عشق‘ یوٹیوب پر نشر کیا جا رہا ہے اور اپنے غیر روایتی انداز کی وجہ سے سوشل میڈیا پر شدید عوامی ردعمل کا باعث بنا ہوا ہے۔ یہ شو ترکیہ کے ایک ولا میں ریکارڈ کیا گیا ہے، جس میں چار لڑکے اور چار لڑکیاں ایک ہی چھت کے نیچے ’اپنا ہمیشہ کا پیار‘ تلاش کرنے کے مشن میں شریک ہیں۔ پروگرام کی میزبانی معروف اداکارہ عائشہ عمر کر رہی ہیں۔

فضا علی نے ایک گفتگو کے دوران کہا کہ اب ڈیٹنگ اور فحاشی کو ایک مہذب انداز میں پیش کیا جا رہا ہے جیسے یہ کوئی عام بات ہو۔ ان کے مطابق، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر ایسے شوز کے ذریعے نوجوان نسل کو غلط سمت میں متاثر کیا جا رہا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ لوگ ان چیزوں کو دیکھ رہے ہیں، سیکھ رہے ہیں اور ان کی نقل کر رہے ہیں۔ “ہم اپنی بیٹیوں کو یہ سکھا رہے ہیں کہ وہ دوسروں کو بتائیں کہ ڈیٹ کیسے کی جاتی ہے، کیا یہ درست ہے؟ کیا اس سے عزت میں اضافہ ہوتا ہے؟”

فضا علی کے اس مؤقف کو سوشل میڈیا صارفین کی بڑی تعداد نے سراہا ہے۔ عوام نے ان کے خیالات سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے پروگرام پاکستانی معاشرے کی روایات اور اخلاقی اقدار کے خلاف ہیں۔

ویمنز ورلڈکپ: جنوبی افریقی کرکٹر کو بھارتی حریف کو ’گڈبائے‘ کہنا مہنگا پڑگیا

جنوبی افریقی کرکٹر نونکولولیکو ملابا کو ویمنز ورلڈ کپ میں بھارتی کرکٹر ہرلین دیول کو آؤٹ کرنے کے بعد ’گڈبائے‘ کہنا مہنگا پڑگیا۔

تفصیلات کے مطابق انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے ملابا کو کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار دے دیا۔

یہ واقعہ نو اکتوبر کو کھیلے گئے میچ میں بھارتی اننگز کے 17 ویں اوور میں پیش آیا جب ملابا نے ہرلین کو آؤٹ کرنے کے بعد ’گڈ بائے‘ کہنے کے انداز میں ہاتھ ہلایا۔

آئی سی سی نے اعلامیہ میں کہا کہ پروٹیز بولر کی یہ حرکت حریف بیٹر کو مشتعل کرسکتی تھی۔

وہ آرٹیکل 2.5 کی خلاف ورزی کی مرتکب قرار پائی ہیں، جس کی وجہ سے سرزنش کرنے کے ساتھ ڈسپلنری ریکارڈ میں ایک ڈیمیرٹ پوائنٹ بھی شامل کیا گیا ہے۔

تولیہ میں لپٹی راکھی ساونت کے ویڈیو نے سوشل میڈیا پر ہلچل مچا دی

نئی دہلی: انٹرٹینمنٹ انڈسٹری کی سب سے زیادہ زیر بحث اور متنازعہ شخصیات میں سے ایک راکھی ساونت، جو کافی عرصے سے سوشل میڈیا سے غائب ہیں، نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ جب وہ واپس آتی ہیں تو ہمیشہ دھوم مچاتی ہیں۔ راکھی نے حال ہی میں ایک ویڈیو شیئر کرکے سوشل میڈیا پر ہلچل مچا دی جس میں انہوں نے نہ صرف اپنی واپسی کا اعلان کیا بلکہ اپنے ٹریڈ مارک ڈرامے سے مداحوں کو محظوظ بھی کیا۔

ویڈیو میں راکھی تولیہ میں لپٹی ہوئی نظر آ رہی ہیں۔ جب وہ کیمرے کا سامنا کرتی ہے، وہ کہتی ہے، “دوستوں، میں آپ سب سے ملنے پر پرجوش ہوں۔ میں مزید انتظار نہیں کر سکتی۔ میں ہندوستان واپس آ رہی ہوں!” اس دوران، وہ دل چسپی کے ساتھ کیمرے سے کھیلتی ہے، بار بار کہتی ہے “افوہ… افوہ…” وہ پہلے اپنا تولیہ ہٹانے کی کوشش کرتی ہے اور پھر اسے چھپا لیتی ہے۔ یہ کچھ دیر تک جاری رہتا ہے جس سے ویڈیو مزید سنسنی خیز ہو جاتی ہے۔

نئی دہلی: انٹرٹینمنٹ انڈسٹری کی سب سے زیادہ زیر بحث اور متنازعہ شخصیات میں سے ایک راکھی ساونت، جو کافی عرصے سے سوشل میڈیا سے غائب ہیں، نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ جب وہ واپس آتی ہیں تو ہمیشہ دھوم مچاتی ہیں۔ راکھی نے حال ہی میں ایک ویڈیو شیئر کرکے سوشل میڈیا پر ہلچل مچا دی جس میں انہوں نے نہ صرف اپنی واپسی کا اعلان کیا بلکہ اپنے ٹریڈ مارک ڈرامے سے مداحوں کو محظوظ بھی کیا۔

ویڈیو میں راکھی تولیہ میں لپٹی ہوئی نظر آ رہی ہیں۔ جب وہ کیمرے کا سامنا کرتی ہے، وہ کہتی ہے، “دوستوں، میں آپ سب سے ملنے پر پرجوش ہوں۔ میں مزید انتظار نہیں کر سکتی۔ میں ہندوستان واپس آ رہی ہوں!” اس دوران، وہ دل چسپی کے ساتھ کیمرے سے کھیلتی ہے، بار بار کہتی ہے “افوہ… افوہ…” وہ پہلے اپنا تولیہ ہٹانے کی کوشش کرتی ہے اور پھر اسے چھپا لیتی ہے۔ یہ کچھ دیر تک جاری رہتا ہے جس سے ویڈیو مزید سنسنی خیز ہو جاتی ہے۔

‘ڈرامہ کوئین’ راکھی ساونت کی واپسی آخر کار جب راکھی اپنا تولیہ ہٹاتی ہے تو اس کے مداحوں نے راحت کی سانس لی۔ تولیہ کے نیچے، راکھی سیاہ سوئمنگ سوٹ جیسا لباس پہنے ہوئے نظر آتی ہے، جو اس کی جرات مندانہ شخصیت کو مزید اجاگر کرتی ہے۔ اس ویڈیو کے ذریعے راکھی نے نہ صرف اپنی واپسی کا اعلان کیا بلکہ خود کو ایک بار پھر ڈرامہ کوئین ثابت کیا۔

راکھی کی ویڈیو پر مداحوں کے ردعمل بھی کافی دلچسپ ہیں۔ ایک صارف نے تبصرہ کیا، “افوہ افوہ… مجھے یہ پسند ہے، راکھی جی واپس آگئی ہیں!” ایک اور پرستار نے پوچھا، “کیا ہوا؟ کیا آپ ٹھیک ہیں؟ آپ کے ہاتھ میں کیا ہے؟ کیا آپ کو چوٹ لگی ہے؟” یہ واضح ہے کہ مداح راکھی کو ان کی غیر موجودگی کے دوران یاد کر رہے ہیں اور اب ان کی واپسی پر بہت خوش ہیں۔

پاک فوج نے فیلڈ مارشل کی قیادت میں افغانستان کو بھرپور جواب دے کر پسپائی پر مجبور کیا، وزیراعظم

وزیراعظم محمد شہباز شریف کا کہنا ہے کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی بے باک قیادت میں پاک فوج نے افغانستان کی اشتعال انگیزی کا نہ صرف بھرپور جواب دیا بلکہ ان کی متعدد پوسٹس کو تباہ کرکے، ان کو پسپائی پر مجبور کیا۔

اپنے بیان میں وزیراعظم نے افغانستان کی جانب سے پاکستان کے سرحدی علاقوں میں اشتعال انگیزی کی شدید مذمت کرتے ہوئے افغانستان کی اشتعال انگیزی کے جواب میں پاکستان کی جانب سے بھرپور اور مؤثر کارروائی پر پاک فوج کو خراج تحسین پیش کیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاک افواج کی پیشہ ورانہ مہارت پر فخر ہے، پاکستان کے دفاع پر کوئی سمجھوتا نہیں ہوگا اور ہر اشتعال انگیزی کا بھرپور اور مؤثر جواب دیا جائے گا۔ ہمارا دفاع مضبوط ہاتھوں میں ہے اور ہم ملک کے چپے چپے کا دفاع کرنا خوب جانتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاک فوج نے ہمیشہ ہر قسم کی بیرونی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا ہے اور پوری قوم پاکستان کی سیکیورٹی فورسز کے ساتھ کھڑی ہے۔

وزیراعظم نے یاد دلاتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے کئی دفعہ افغانستان کو وہاں موجود فتنۃ الخوارج اور فتنۃ الہندوستان جیسے دہشت گرد عناصر کے بارے میں معلومات دی ہیں، جو افغانستان کی سرزمین سے پاکستان کے خلاف کارروائیاں کر رہے ہیں۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ دہشت گرد تنظیموں کو افغانستان میں موجود عناصر کی حمایت حاصل ہے۔ پاکستان توقع رکھتا ہے کہ افغان نگران حکومت اس امر کو یقینی بنائے گی کہ اس کی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گرد عناصر کے استعمال میں نہ آئے۔

افغان وزیر خارجہ کے دورہ بھارت کے دوران افغانستان کی پاکستان پر جارحیت قابل غور ہے: عطا تارڑ

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللّٰہ تارڑ کا کہنا ہے کہ افغان وزیر خارجہ کے دورہ بھارت کے دوران افغانستان کی پاکستان پر جارحیت قابل غور ہے۔

ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ بھارت میں پاکستان مخالف بیانات کو مشترکہ اعلامیوں کی شکل دی جا رہی ہے۔

 عطا اللّٰہ تارڑ نے کہا کہ دفتر خارجہ کا واضح اور دو ٹوک مؤقف ہے کہ یہ عمل افسوسناک اور قابل مذمت ہے۔

کراچی: واردات کے دوران باپ کو بچوں کے سامنے قتل کرنے والا ملزم پولیس مقابلے میں ہلاک

کراچی میں پاکستان بازار کے علاقے میں پولیس مقابلے میں ملزم ہلاک ہوگیا۔

ڈی آئی جی ویسٹ کے مطابق ملزم نے 28 ستمبر کو واردات کے دوران باپ کو بچوں کے سامنے قتل کیا تھا، ہلاک ملزم کی شناخت نور حسین عرف نونو کے نام سے ہوئی ہے۔

ڈی آئی جی ویسٹ کا بتانا ہے کہ ملزم نور حسین کی گرفتاری کے لیے چھاپا مارا گیا تھا، ہلاک ملزم کے قبضے سے پستول برآمد ہوا ہے۔

ان کا مزید کہنا ہے کہ ہلاک ملزم کا ساتھی چند روز قبل گرفتار ہوچکا ہے، ہلاک ملزم نور کا کرمنل ریکارڈ بھی ملا ہے۔

پاک فوج کی بھرپور جوابی کارروائی، 19 افغان پوسٹوں پر پاکستانی پرچم لہرا دیا گیا

پاک افغان سرحد پر افغانستان کی جانب سے بلااشتعال فائرنگ کی گئی، پاکستانی فورسز کی بھرپور جوابی کارروائی سے متعدد افغان فوجی ہلاک اور کئی چیک پوسٹیں تباہ ہوگئیں۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق افغان فورسز نے پاک افغان بارڈر انگور اڈا، باجوڑ، کرم ، دیر، چترال اور بارام چاہ کے مقامات پر بِلا اشتعال فائرنگ کی۔ بلوچستان کے  سرحدی علاقے چاغی میں بھی فائرنگ کی گئی۔

پاک فوج نے فوری شدید رد عمل دیتے ہوئے متعدد افغان پوسٹوں کو مؤثر طریقے سے نشانہ بنایا۔ افغان دہشت گردوں پر پاکستانی سیکیورٹی فورسز کے وار جاری ہیں، بھاری نقصانات کے باعث متعدد افغان پوسٹیں خالی ہوگئیں، افغان فوجی لاشیں، یونیفارم اور ہتھیار چھوڑ کر فرار ہوگئے۔ افغانستان نے پاکستان سے بھاری جوابی کارروائی روکنے کی درخواستیں کی ہیں۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستانی فورسز کی کارروائی سے خارجی تشکیلیں منتشر ہوگئیں۔ افغان پوسٹیں خارجیوں کو کور فائر دینے میں ناکام رہیں، متعدد افغان پوسٹوں اور خارجیوں کی تشکیلوں کو بھاری نقصانات کی اطلاعات ہیں۔

سیکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے کرم میں افغانی پوسٹ تباہ کرنے کی ویڈیو جاری کردی، افغان ٹالی پوسٹ تباہ کردی گئی۔

برامچاہ سیکٹر میں افغان فورسز کو منہ توڑ جواب دیتے ہوئے شہیدان پوسٹ تباہ کردی گئی جس سے کئی ہلاکتوں کی اطلاع ہے۔ پاک فوج نے افغانی دوران میلا اور ترکمانزئی کیمپس بھی تباہ کردیے ہیں۔

>

خرلاچی سیکٹر میں بھی پاکستانی فورسز افغانی پوسٹوں کو نشانہ بنارہی ہیں۔ کرّم ایجنسی میں بھی افغان فورسز کی ایک چوکی تباہ کئی گئی جبکہ سیکیورٹی فورسز نے افغان جنڈوسر پوسٹ بھی تباہ کردی ہے۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کھرچر فورٹ کو بھی مکمل طور پر تباہ کردیا گیا ہے۔ کھرچر فورٹ فتنہ الخوارج کا مرکز تھا۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق مؤثر فائر سے لیو بند، قلعہ عبداللّٰہ سیکٹر میں بھی افغانی پوسٹ تباہ کی گئی، علاوہ ازیں کنڑ میں بھی افغان پوسٹ تباہ کردی گئی جس کے بعد افغان فوجی پوسٹ پر لاشیں چھوڑ کے کر فرار ہوگئے۔

سیکیورٹی ذرائع کا بتانا ہے کہ جوابی حملوں میں خارجیوں کی مدد کرنے والی اور پاکستان کے خلاف استعمال ہونے والی افغانی پوسٹوں کو ہی نشانہ بنایا جارہا ہے۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک فوج نے توپوں سے ہدف کو نشانہ بنایا، پاکستان کی جانب سے آرٹلری، ٹینکوں، ہلکے اور بھاری ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا۔

داعش اور خارجی ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کے لیے فضائی وسائل اور ڈرونز کا بھی استعمال کیا گیا، افغانستان کے اندر خوارج اور داعش کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔

افغانستان کی جانب سے جارحیت افغان وزیر خارجہ کے دورہ بھارت کے موقع پر ہورہی ہے۔

شہزادہ ایڈورڈ کی موناکو روانگی — شاہی خاندان کی نمائندگی کا اہم فریضہ سرانجام دیں گے

لندن (خصوصی رپورٹ) — بکنگھم پیلس نے اعلان کیا ہے کہ بادشاہ چارلس نے اپنے بھائی شہزادہ ایڈورڈ کو ایک اہم سفارتی اور نمائندہ ذمہ داری سونپی ہے، جس کے تحت وہ اپنی اہلیہ، ڈچس آف ایڈنبرگ صوفی کے ہمراہ موناکو روانہ ہو رہے ہیں۔

شہزادہ ایڈورڈ، جو “دی ڈیوک آف ایڈنبرگ انٹرنیشنل ایوارڈ فاؤنڈیشن” کے بورڈ آف ٹرسٹیز کے چیئرمین بھی ہیں، اتوار کے روز “یاٹ کلب ڈی موناکو” میں ہونے والی ایک اہم عشائیے میں شرکت کریں گے۔ ان کے ہمراہ ڈچس صوفی بھی ہوں گی، جو اس ادارے کی عالمی سفیر کے طور پر فرائض انجام دے رہی ہیں۔

ایڈنبرگ کے ڈیوک اور ڈچس برطانیہ سے موناکو ایک اہم سفارتی تقریب کے لیے روانہ ہو رہے ہیں، جو نہ صرف ایک شاہی کیلنڈر کا نمایاں موقع ہے بلکہ ایک سفارتی سرگرمی بھی سمجھی جا رہی ہے جہاں مختلف ممالک کے نمائندگان ایک غیر رسمی ماحول میں ملاقات کرتے ہیں، روابط بڑھاتے ہیں اور اہم امور پر تبادلۂ خیال کرتے ہیں۔

یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ بادشاہ چارلس نے اپنے چھوٹے بھائی پر غیرمعمولی اعتماد کرتے ہوئے انہیں نہ صرف “ڈیوک آف ایڈنبرگ” کا خطاب دیا، بلکہ مرحوم پرنس فلپ کی وراثت کو آگے بڑھانے کی اہم ذمہ داری بھی سونپی — جو کہ ایک علامتی اور عملی فیصلہ ہے۔

یاد رہے کہ ملکہ الزبتھ دوم کے شوہر، شہزادہ فلپ نے نوجوانوں کی رہنمائی اور ان میں قائدانہ صلاحیتیں اجاگر کرنے کے مقصد سے “ڈیوک آف ایڈنبرگ ایوارڈ” کا آغاز کیا تھا۔ اس پروگرام کا مقصد نوجوانوں کو عملی زندگی کے چیلنجز سے نمٹنے کی تربیت دینا، ان میں خود اعتمادی، جذبہ خدمت، اور پوشیدہ صلاحیتوں کو ابھارنا ہے۔

شہزادہ ایڈورڈ گزشتہ کئی برسوں سے نہایت سنجیدگی سے اس پروگرام کو جاری رکھنے اور اس کے دائرہ کار کو وسعت دینے کے لیے کوشاں ہیں۔ ان کی اس وابستگی کی بنیاد صرف شاہی ذمہ داری نہیں بلکہ ذاتی لگاؤ بھی ہے۔

دوسری جانب، ڈچس صوفی کو شاہ چارلس کے دورِ حکومت کی “خفیہ طاقت” بھی کہا جاتا ہے۔ ان کی سفارتی مہارت، پیشہ ورانہ انداز اور مسلسل محنت کی وجہ سے وہ بادشاہ کے قریبی اعتماد یافتہ افراد میں شمار کی جاتی ہیں۔

ذرائع کے مطابق، شہزادہ ایڈورڈ اور ڈچس صوفی کو مزید اہم ذمہ داریاں بھی دی جا سکتی ہیں، جن کا اعلان وقت آنے پر کیا جائے گا۔

تیفی بٹ کا انجام — پولیس مقابلہ، طاقت اور انجام کی کہانی

لاہور کے جرائم کی دنیا میں برسوں سے گونجنے والا نام تیفی بٹ آج ایک پولیس مقابلے میں زندگی کی بازی ہار گیا۔ یہ خبر جتنی اچانک تھی، اتنی ہی متوقع بھی — کیونکہ تیفی بٹ کا نام کئی ہائی پروفائل کیسز، سیاسی تعلقات، اور طاقت کی گلیوں میں گونجتا رہا ہے۔ اس واقعے نے نہ صرف لاہور بلکہ پورے ملک میں گینگ وار، قانون کی عملداری، اور ریاستی طاقت کے استعمال پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔


واقعے کی جھلک

پولیس کے مطابق تیفی بٹ کو بیرونِ ملک گرفتاری کے بعد وطن واپس لایا جا رہا تھا۔ لاہور منتقلی کے دوران سڑک پر نامعلوم حملہ آوروں نے پولیس کی گاڑی پر فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں تصادم شروع ہو گیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مقابلے کے دوران تیفی بٹ گولی لگنے سے جاں بحق ہوا۔

اگرچہ سرکاری مؤقف یہی ہے کہ یہ ایک “پولیس مقابلہ” تھا، مگر کئی حلقے اس واقعے پر سوال اٹھا رہے ہیں — کیا واقعی یہ ایک اچانک جھڑپ تھی، یا پھر ایک منصوبہ بند کارروائی جس میں تیفی بٹ کا باب بند کر دیا گیا؟


تیفی بٹ — شہرت اور خوف کا دوسرا نام

تیفی بٹ کا اصل نام خاجہ طریف گلشن بتایا جاتا ہے۔ لاہور کے اندرون علاقوں میں اس کا اثر و رسوخ کسی کھلے راز سے کم نہیں تھا۔ اس کا نام مختلف فوجداری مقدمات میں شامل رہا — زمینوں کے تنازعات، بھتہ خوری، اور پرانی دشمنیوں میں ہونے والے کئی ہائی پروفائل قتل۔

اس کا سب سے زیادہ مشہور تنازعہ بلال ٹپو کے قتل سے جڑا رہا، جو ایک شادی کی تقریب کے دوران ہوا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ اسی واقعے کے بعد تیفی بٹ ملک چھوڑ کر بیرونِ ملک چلا گیا تھا، جہاں سے وہ کئی برس تک سرگرم رہا۔


گینگ وار کی تاریخ — لاہور کا تاریک چہرہ

لاہور میں گینگ کلچر کوئی نیا نہیں۔ مختلف “بٹ گروپس” کے درمیان دہائیوں سے دشمنی چلی آ رہی ہے، جس میں کئی زندگیاں ضائع ہوئیں۔ ان گروپس کا اثر صرف سڑکوں تک محدود نہیں رہا — ان کے روابط سیاست، بزنس اور بیوروکریسی تک پھیلے ہوئے تھے۔

تیفی بٹ ان گروپس کا ایک ایسا چہرہ تھا جو عوامی سطح پر طاقت، دولت، اور اثر و رسوخ کی علامت بن چکا تھا۔ اس کی محفلوں میں سیاست دان، تاجر، اور بااثر شخصیات کی آمد معمول کی بات تھی۔


پولیس مقابلہ — حقیقت یا کہانی؟

پاکستان میں پولیس مقابلے ہمیشہ متنازع رہے ہیں۔ کئی بار دیکھا گیا ہے کہ “انکاؤنٹر” کے نام پر ایسے افراد کو بھی نشانہ بنایا گیا جو عدالتی کارروائی سے پہلے ہی راستے سے ہٹا دیے گئے۔

تیفی بٹ کے معاملے میں بھی یہی سوال کھڑا ہو رہا ہے — کیا اسے واقعی پولیس فائرنگ میں مارا گیا، یا یہ ایک “منصوبہ بند اختتام” تھا تاکہ ایک خطرناک کردار کو قانون کے عمل سے پہلے ہی ختم کر دیا جائے؟

یہ سوالات اپنی جگہ اہم ہیں، کیونکہ کسی بھی مہذب معاشرے میں انصاف صرف گولی سے نہیں بلکہ قانونی عمل سے ہونا چاہیے۔


سماجی و سیاسی پہلو

تیفی بٹ جیسے کردار صرف جرائم کی دنیا کے نمائندہ نہیں ہوتے، بلکہ وہ اس نظام کی کمزوریوں کو بھی عیاں کرتے ہیں جس میں طاقتور قانون سے بالاتر ہو جاتا ہے۔ ان کے پاس سیاسی سرپرستی، مالی طاقت، اور وفادار نیٹ ورک ہوتا ہے — یہی وجہ ہے کہ برسوں تک ان پر ہاتھ ڈالنا آسان نہیں تھا۔

یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ جب ریاست فیصلہ کرتی ہے کہ “بس اب کافی ہے”، تو پھر طاقتور سے طاقت چھین لی جاتی ہے — چاہے وہ سیاست میں ہو یا سڑکوں پر۔


اختتامی تجزیہ

تیفی بٹ کا انجام ایک دھوئیں بھرے باب کا اختتام ہے۔ ایک ایسا شخص جس نے طاقت، خوف، اور شہرت کے توازن پر زندگی گزاری، آخرکار اسی نظام کا شکار ہو گیا جسے وہ قابو میں رکھنے کا دعویٰ کرتا تھا۔

یہ واقعہ ہمیں یہ بھی یاد دلاتا ہے کہ جرم کی دنیا میں طاقت کا عروج وقتی اور انجام ہمیشہ یقینی ہوتا ہے۔ چاہے وہ لاہور کی گلیاں ہوں یا دنیا کے کسی اور شہر کی، ایک مجرم کا انجام کبھی خوشگوار نہیں ہوتا۔

ریاست اگر واقعی قانون کی بالادستی چاہتی ہے تو ایسے اقدامات کو شفاف عدالتی عمل سے منسلک کرنا ضروری ہے — تاکہ انصاف ہوتا ہوا دکھائی دے، نہ کہ صرف سنائی دے۔

انسٹاگرام کی بڑی تبدیلی: ریلز اور میسجنگ کو ملی مرکزی جگہ

ٹیکنالوجی کی دنیا میں مقبول سوشل میڈیا ایپ انسٹاگرام نے اپنے انٹرفیس میں نمایاں تبدیلیوں کا آغاز کر دیا ہے۔ کمپنی کے سربراہ ایڈم موسیری کے مطابق، نیا ڈیزائن صارفین کے استعمال کے انداز کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیا گیا ہے، جس میں خاص طور پر ریلز (شارٹ ویڈیوز) اور پرائیویٹ میسجنگ کو زیادہ نمایاں حیثیت دی گئی ہے۔

تبدیلی کے بعد، ایپ کے نچلے حصے میں موجود نیویگیشن بار کی ساخت مکمل طور پر تبدیل ہو گئی ہے۔ اب ہوم، سرچ، کانٹینٹ کریشن، ریلز اور پروفائل کی پوزیشنز نئی ترتیب کے ساتھ دکھائی دیں گی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جہاں پہلے نیا پوسٹ بنانے کا آپشن تھا، وہاں اب ڈائریکٹ میسج (DM) کا آئیکن نظر آئے گا۔

صارفین کا ردعمل فی الحال ملا جلا ہے۔ کچھ لوگوں نے اس تبدیلی کو وقت کی ضرورت قرار دیا ہے، جبکہ دیگر کا کہنا ہے کہ پرانا ڈیزائن زیادہ سادہ اور مؤثر تھا۔ تاہم کمپنی کا مؤقف ہے کہ وقت کے ساتھ لوگ نئے فیچرز کو اپنانے لگیں گے۔

ایڈم موسیری نے ایک بیان میں وضاحت کی کہ “پچھلے چند برسوں میں انسٹاگرام پر سب سے زیادہ ترقی ان ہی دو شعبوں — شارٹ فارم ویڈیوز اور پرسنل میسجنگ — نے دکھائی ہے۔ یہی وہ فیچرز ہیں جنہیں اب ایپ کے مرکزی حصے میں جگہ دی جا رہی ہے۔”

میٹا (Meta) کی زیر ملکیت یہ پلیٹ فارم مستقل طور پر نئے فیچرز متعارف کروا رہا ہے۔ حال ہی میں کمپنی نے ٹیبلٹ صارفین کے لیے ایک خصوصی ایپ لانچ کی، جو بڑی اسکرین پر ویڈیو مواد کے بہتر تجربے کے لیے ڈیزائن کی گئی ہے۔ اس اپ ڈیٹ میں ویژول کانٹینٹ کو زیادہ نمایاں اور انٹرایکٹو انداز میں پیش کیا گیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ انسٹاگرام کا یہ قدم محض ڈیزائن کی تبدیلی نہیں بلکہ پلیٹ فارم کی سمت میں بنیادی تغیر ہے۔ فوٹو شیئرنگ کے روایتی تصور سے ہٹ کر اب انسٹاگرام زیادہ زور کریٹیو کمیونیکیشن اور ذاتی روابط پر دے رہا ہے۔

حالیہ رجحانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ صارفین اب پرائیویٹ گروپس اور ڈی ایمز میں زیادہ سرگرم ہیں، جہاں وہ اپنے دوستوں کے ساتھ تخلیقی انداز میں بات چیت کرتے ہیں۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس اپ ڈیٹ کا مقصد صارفین کو ایک ایسا تجربہ دینا ہے جس میں کانٹینٹ ڈسکوری اور ذاتی رابطے کے امکانات ایک ساتھ بڑھ سکیں۔

انسٹاگرام کی یہ تازہ تبدیلی نہ صرف سوشل میڈیا کے ارتقا کی عکاسی کرتی ہے بلکہ یہ بھی ظاہر کرتی ہے کہ جدید ڈیجیٹل دور میں صارفین کے رجحانات کس تیزی سے بدل رہے ہیں۔

پاکستان میں آج کے دہشت گردانہ حملے میں جاں بحق ہونے والے فوجیوں کی تعداد 17 ہوگئی

اسلام آباد – ارنا – پاکستان میں آج سیکورٹی دستے پر دہشت گردوں کے حملے میں جاں بحق ہونے والے فوجیوں کی تعداد بڑھ کر  17  ہوگئی اور ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کی تعداد 19 بتائی گئی ہے

 ارنا کے مطابق پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے علاقے اورکزئی میں ایک سیکورٹی دستے پر دہشت گردوں نے بدھ کو حملہ کردیا تھا۔

ابتدائی رپورٹ میں اس حملے میں 11 سیکورٹی اہلکاروں کے جاں بحق ہونے  کی خبر دی گئی تھی ۔ بعد میں مزید چھے سیکورٹی اہلکاروں کی لاشیں ملنے کے بعد اس دہشت گردانہ حملے میں جان بحق ہونے والے فوجیوں کی تعداد 17 ہوگئی ۔

فوج کی جوابی کارروائی میں 19 دہشت گرد ہلاک ہوگئے ۔

دہشت گردوں کا تعلق تحرک طالبان پاکستان سے بتایا گیا ہے۔

Xiaomi 17 Ultra: سیٹلائیٹ کنیکٹوٹی اور جدید فیچرز کے ساتھ اسمارٹ فونز کی دنیا میں انقلاب

شیاؤمی 17 سیریز کے لانچ کے بعد کمپنی ایک اور جدید ماڈل پر کام کر رہی ہے جو شیاؤمی 17 الٹرا کے نام سے جانا جائے گا۔ اس ماڈل میں صارفین کو نئی سیٹلائٹ کنیکٹیویٹی خصوصیات اور 6800mAh کی بیٹری ملے گی، جو مارکیٹ میں موجود دیگر اسمارٹ فونز سے زیادہ طاقتور ہوگی۔ اس بات کا انکشاف ایک ویبو ٹِپسٹر @SmartPikachu نے کیا ہے، جس کے مطابق شیاؤمی 17 الٹرا اس سال کے آخر تک متعارف کرایا جائے گا۔

Xiaomi 17 Ultra: Key Features

Feature Description
Model Xiaomi 17 Ultra
Satellite Connectivity Tiantong-1 and Beidou satellite connectivity (supports satellite calls and messages)
Battery 6800mAh powerful battery (long-lasting battery life)
UWB Support Ultra-Wideband (UWB) support, enabling seamless connectivity with multiple devices simultaneously
Versions 1. China (Regular and Dual-Satellite versions)
Global Version Expected battery and other internal features may differ in the global version
Model Number 25128PNA1C (Certified in China Radio Certification database)
Launch Date Expected by the end of 2023
Markets China, Global, India
Serial Number Xiaomi 17 Series (Ultra version)

سیٹلائٹ کنیکٹیویٹی
شیاؤمی 17 الٹرا میں Tiantong-1 اور Beidou سیٹلائٹ کنیکٹیویٹی کا فیچر موجود ہوگا، جس کی بدولت صارفین سیٹلائٹ کالز کر سکیں گے اور سیٹلائٹ میسجز بھی بھیج سکیں گے۔ یہ فیچر اسمارٹ فون کے لیے ایک اہم اضافے کے طور پر سامنے آ رہا ہے، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں روایتی نیٹ ورک سروسز دستیاب نہیں ہیں۔

بیٹری
شیاؤمی 17 الٹرا کی بیٹری 6800mAh کی ہوگی، جو اسمارٹ فون کے لیے ایک بڑا اپگریڈ ہے۔ اس طاقتور بیٹری سے نہ صرف فون کی بیٹری لائف بڑھ جائے گی بلکہ صارفین کو طویل وقت تک بغیر کسی تشویش کے استعمال کا موقع ملے گا۔

UWB سپورٹ
UWB (الٹرا وائیڈ بینڈ) سپورٹ کے ذریعے اس فون میں کئی ڈیوائسز کے ساتھ بلا تعطل کنیکٹیویٹی کی سہولت ملے گی۔ اس کے ذریعے صارفین متعدد ڈیوائسز کو ایک ساتھ جوڑ سکیں گے اور آپس میں معلومات کا تبادلہ کر سکیں گے۔

ماڈل نمبر اور سرٹیفیکیشن
اس ماڈل کو چین کی ریڈیو سرٹیفیکیشن ڈیٹا بیس میں 25128PNA1C کے ماڈل نمبر کے تحت منظور کیا گیا ہے، جو اس کی چینی مارکیٹ میں متعارف ہونے کے امکانات کو مزید مضبوط کرتا ہے۔

گلوبل ورژن
شیاؤمی 17 الٹرا کا گلوبل ورژن میں بھی متعارف کرانے کی تیاری ہو رہی ہے، اور گلوبل مارکیٹ کے لیے اس میں کچھ مخصوص فیچرز اور بیٹری کو مزید بہتر بنایا جا سکتا ہے۔

سنیپ چیٹ کا “بٹمو جی پلازہ” فیچر: 3D ورچوئل دنیا میں دوستوں سے جڑنے کا نیا طریقہ

سنیپ چیٹ نے اپنے ویب انٹرفیس پر ایک نیا بٹمو جی پلازہ فیچر متعارف کرایا ہے، جس کے ذریعے صارفین اپنے بٹمو جی اوتار کو ایک سادہ 3D ماحول میں دیکھ سکتے ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ بات چیت کر سکتے ہیں۔ یہ قدم اسنیپ کا اپنے صارفین کو زیادہ اسپیشل اور اوتار-مبنی انٹرایکشن کا تجربہ فراہم کرنے کی کوشش ہے۔

بٹمو جی پلازہ کیا ہے؟

جب آپ سنیپ چیٹ کو ویب براؤزر کے ذریعے لاگ ان کرتے ہیں، تو آپ کو ایک ورچوئل 3D دنیا میں اپنا بٹمو جی اوتار ملے گا۔ اس مشترکہ جگہ پر آپ کا اوتار حرکت کر سکتا ہے یا رقص کر سکتا ہے، اور جیسے ہی دوسرے صارفین اسنیپ چیٹ میں لاگ ان کرتے ہیں، ان کے بٹمو جی اوتار بھی نظر آنے لگتے ہیں۔ اوتار آپس میں ایک دوسرے کو ہاتھ ہلا سکتے ہیں یا راستے میں مل سکتے ہیں۔

سنیپ چیٹ کی وضاحت کے مطابق: “جب آپ سنیپ چیٹ پر ویب پر لاگ ان کرتے ہیں، تو آپ کا بٹمو جی ایک 3D دنیا میں نظر آئے گا۔ یہ 3D دنیا ایک دلچسپ اور مزیدار جگہ بن سکتی ہے جہاں آپ اپنے دوستوں کے بٹمو جی اوتار کو دیکھ سکتے ہیں اور آپس میں بات چیت کر سکتے ہیں۔ جب آپ کے دوست ویب پر لاگ ان کریں گے، تو ان کے بٹمو جی اوتار بھی آپ کے ساتھ وہاں موجود ہوں گے۔ اور جب وہ آف لائن ہو جائیں گے، تو ان کے بٹمو جی اوتار وہاں سے چلے جائیں گے۔”

ویب فیچر کا آغاز کیوں؟

سنیپ چیٹ، جو ایک موبائل فرسٹ ایپ کے طور پر شروع ہوا تھا، نے 2022 میں اپنی ویب ورژن کا آغاز کیا تھا، اور ویب پر صارفین کی تعداد نسبتاً کم رہی ہے۔ یہ تجربہ ظاہر کرتا ہے کہ اسنیپ چیٹ ویب کو ایک ایسا پلیٹ فارم سمجھتا ہے جس کے ذریعے وہ بزرگ صارفین یا ہائبرڈ استعمال کے منظرناموں تک رسائی حاصل کر سکتا ہے۔

اگرچہ بٹمو جی پلازہ ایک مکمل میٹاورس نہیں ہے، لیکن اس میں اوتار کی سوشل اسپیس کی جھلکیاں موجود ہیں۔ ابھی تک یہاں کوئی گیمنگ یا وسیع دنیا نہیں ہے، اور یہ فیچر صرف موجودگی اور غیر رسمی بات چیت کے لیے ہے۔

چیلنجز اور صارفین کی رائے

یہ فیچر ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے اور اس میں جدید تعاملات یا وسیع رسائی کی حمایت نہیں کی گئی۔ کچھ صارفین کا خیال ہے کہ ویب کی کم استعمال کو دیکھتے ہوئے اس فیچر میں سرمایہ کاری کا فائدہ نہیں ہے۔ اسنیپ نے پہلے ہی اپنے 3D بٹمو جی ماڈلز میں بہتری لائی ہے، جیسے بالوں کی ساخت، چہروں کے تاثرات، اور حقیقت پسندی کو بڑھایا تاکہ اوتار زیادہ حقیقت کے قریب دکھائی دیں۔

مختصر نتیجہ

بٹمو جی پلازہ سنیپ چیٹ کی جانب سے ایک دلچسپ کوشش ہے، لیکن اس کی کامیابی اس بات پر منحصر ہو گی کہ صارفین اس نئے تجربے کو کس طرح قبول کرتے ہیں۔ فی الحال یہ فیچر ویب تک محدود ہے اور موبائل ایپس میں دستیاب نہیں ہے، لیکن یہ اسنیپ چیٹ کی جانب سے اوتار-مبنی سوشل اسپیس کی جانب ایک اور قدم ہے۔