All posts by admin

بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناحؒ کا 143 واں یوم ولادت آج ملی جوش و جذبہ سے منایا جائیگا

لاہور (اے پی پی) بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناحؒ کا 143 واںیوم ولادت آج ملی جوش و جذبہ سے منایا جائیگا۔ اس سلسلہ میں مختلفتقریبات کا اہتمام کیا گیا ہے محکمہ اوقاف کی جانب سے اپنی متعلقہ تمام مساجد میں دن کا آغاز نماز فجر کے بعد خصوصی دُعاﺅں اور قائد کی روح کے ایصالِ ثواب کےلئے فاتحہ خوانی سے کیا جائیگا۔ مختلف این جی اوز کی جانب سے قائد اعظم محمد علی جناحؒ کو خراج تحسین پیش کرنے کےلئے تقریبات کا اہتمام بھی کیا جارہا ہے۔ بانی پاکستان 25 دسمبر 1876 کو کراچی میں پیدا ہوئے۔

رانا ثنا ءاللہ کی ضمانت منظور ،10 لاکھ کے 2مچلکے جمع کروانے کا حکم

لاہور (کورٹ رپورٹر) لاہورہائیکورٹ نے منشیات برآمدگی کیس میں گرفتار پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق وزیرقانون پنجاب رانا ثنا اللہ کی ضمانت منظور کرتے ہوئے انہیں 10، 10 لاکھ روپے کے دو چلکے جمع کرانے کا حکم د یدیا ۔ منگل کو لاہور ہائیکورٹ نے رانا ثنااللہ کی درخواست ضمانت پر سماعت کی، اس دوران ان کے اور انسداد منشیات فورس (اے این ایف ) کے وکیل پیش ہوئے۔بعد ازاں جسٹس چودھری مشتاق نے مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق وزیرقانون پنجاب رانا ثنا اللہ کی ضمانت کی منظوری کا فیصلہ سنا دیا جس میں لاہورہائیکورٹ نے منشیات برآمدگی کیس میں رانا ثنا اللہ کی ضمانت منظور کرتے ہوئے انہیں 10، 10 لاکھ روپے کے دو مچلکے جمع کرانے کا حکم د یدیا ۔ یاد رہے گزشتہ روز لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس چودھری مشتاق احمد نے رانا ثنا اللہ کے خلاف منشیات اسمگلنگ کیس کی سماعت کی تھی جس کے بعد ان کی درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ کرلیاگیا۔گزشتہ روز وکیل صفائی نے کہا رانا ثنااللہ سے منشیات برآمدگی کے وقت کوئی ویڈیو یا تصویر موجود نہیں، رانا ثنا اللہ کی تھانے میں سلاخوں کے پیچھے گرفتاری کی تصویر جاری کی گئی۔وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ دعوے کے برعکس رانا ثنا اللہ کی مال مسروقہ کے ساتھ تصویر جاری نہیں کی گئی اور موقع پرتعین نہیں کیا گیا کہ سوٹ کیس میں کیا تھا۔ گرفتاری کے وقت قبضے میں لی گئیں چیزوں کا موقع پر میمو میں درج نہیں کیا گیا، جائے وقوعہ پرنقشہ بنانے کی بجائے اگلے دن نقشہ بنایا گیا جو الزامات کومشکوک ثابت کرتا ہے۔اے این ایف کے پراسیکیوٹرنے کہا کہ تفتیشی افسر نے تمام قانونی تقاضے پورے کیے، ٹرائل کورٹ نے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے ویڈیوز اور کال ریکارڈ کو بلاجواز عدالت طلب کیا۔ رانا ثنا اللہ پر سنگین الزامات ہیں ضمانت کی درخواست مسترد کی جائے۔عدالت نے وکلاکے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کرلیاتھا۔یاد رہے کہ یکم جولائی کو پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق وزیر قانون پنجاب رانا ثنا اللہ کو اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف )نے حراست میں لیا تھا۔ یا رہے پاکستان مسلم لیگ (ن)پنجاب کے صدر اور رکن قومی اسمبلی رانا ثنا اللہ کو انسداد منشیات فورس نے یکم جولائی 2019 کو گرفتار کیا تھا۔اے این ایف نے مسلم لیگ (ن)پنجاب کے صدر رانا ثنا اللہ کو پنجاب کے علاقے سیکھکی کے نزدیک اسلام آباد-لاہور موٹروے سے گرفتار کیا تھا۔ترجمان اے این ایف ریاض سومرو نے گرفتاری کے حوالے سے بتایا تھا کہ رانا ثنااللہ کی گاڑی سے منشیات برآمد ہوئیں، جس پر انہیں گرفتار کیا گیا۔گرفتاری کے بعد رانا ثنا اللہ کو عدالت میں پیش کیا گیا تھا جہاں انہیں 14 روز کے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجا گیا تھا، جس میں کئی بار توسیع ہو چکی ہے۔بعد ازاں عدالت نے اے این ایف کی درخواست پر رانا ثنا اللہ کو ریمانڈ پر جیل بھیج دیا تھا جبکہ گھر کے کھانے کی استدعا بھی مسترد کردی تھی۔علاوہ ازیں رانا ثنااللہ نے ضمانت پر رہائی کے لیے لاہور کی انسداد منشیات عدالت میں درخواست بھی دائر کی تھی، تاہم ان کی یہ درخواست مسترد ہوگئی تھی، جس کے بعد انہوں نے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کرلیا تھا۔رہنما مسلم لیگ (ن) رانا ثناءاللہ کی اہلیہ نے کہا ہے کہ میں اور میرا خاندان اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتا ہے لیکن رانا ثناءاللہ کو 6 ماہ تک حراست میں رکھنے کا حساب کون دے گا۔ تفصیلات کے مطابق منگل کے روز مسلم لیگ نون رانا ثناءاللہ کو منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور ہونے پر انکی اہلیہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اپنے شوہر کی درخواست ضمانت منظور ہونے پر اللہ تعالی کا شکر ادا کرتی ہوں۔ انہوں نے کہا کہ میں اور میرا خاندان اللہ تعالی کے علاوہ کسی سے نہیں ڈرتا ہے لیکن میرا سوال یہ ہے کہ رانا ثناءاللہ کے 6 ما ہ تک حراست کا حساب کون دے گا۔ مجھے اور میرے خاندان کو انصاف کہاں سے ملے گا۔ قبل ازیں رانا ثناءاللہ کی اہلیہ، بیٹی اور داماد نے ضمانت منظور ہونے پر احاطہ عدالت میں شکرانے کے سجدے کئے اور جذباتی مناظر بھی دیکھنے کو ملے۔

وفاقی کابینہ اجلاس ،89 ادویات 15فیصدسستی مریم نواز کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی درخواست مسترد

اسلام آباد (نامہ نگار خصوصی)وفاقی کابینہ نے مریم نواز کا نام ای سی ایل سے نہ نکالنے ،اقتصادی رابطہ کمیٹی کے فیصلوں کی توثیق ،عرفان بخاری کو چیئرمین ایگزمبینک پاکستان تعینات ،پاکستان سپورٹس بورڈ کی تشکیل نو ،بورڈ کے گیارہ ممبران ،ایل او سی پر بھارتی فائرنگ سے متاثرہ افراد کی امداد و بحالی کیلئے پیکیج اور ٹیکس قوانین میں اصلاحات کی منظوری دیدی ہے جبکہ معاون خصوصی برائے اطلاعات ونشریات فردوس عاشق اعوان نے کہاہے کہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے حوالے سے سپیکر قومی اسمبلی کی قیادت میں قائم کردہ کمیٹی کام کررہی ہے، معاملے پر قانون سازی کا عمل جلد شروع ہوگا ،جسٹس وقار سیٹھ کے خلاف ریفرنس کے حوالے سے قانونی ٹیم کام کررہی ہے،معاملے پر پاکستان کے قانون کے کام کیا جائیگا، پرچیوں اور خواہشات سے حکومت نہیں چلتی،حکومت قانون سے چلتی ہے،رانا ثناءاللہ کے خلاف ٹرائل شروع نہیں ہوا،اے این ایف نے ٹرائل کورٹ میں شواہد دینے ہیں، لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے ہمیں سنائی اور آپکو دکھائی دے رہے ہیں۔ منگل کو کابینہ اجلاس کے بعد وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان اور وزیر صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے میڈیا کو بریفنگ دی ۔ فردوس عاشق اعوان نے بتایاکہ وزیراعظم کی زیر صدارت کابینہ نے 21 ایجنڈے پر مبنی اجلاس منعقد ہوا،پاکستان کے نچلے طبقے کے لیے عملی اقدامات اور ہدایات کیں ہیں اور ڈاکٹر ظفر مرزا کو میڈیا کوتفصیلات سے آگاہ کر نے کا کہا ۔ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہاکہ ایجنڈا نمبر تیرہ کے مطابق ادویات کی قیمتوں پر نظر ثانی کی گئی،نواسی ادویات کی قیمتوں میں کمی کی گئی ،ملٹی نیشنل کمپنیاں محدود مدت کے لیے ادویات مارکیٹ میں لاتی ہیں۔ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہاکہ ملٹی نیشنل کمپنیاں جب مارکیٹ میں ادویات لاتی ہیں تو اسکی قیمتیں زیادہ ہوتی ہیں،ادویات کی قیمتیں ہرسال دس فیصد کم کرنا پڑتی ہیں،تین سال کے بعد جنرک میڈیشن بنتی ہیں،89 ادویات کی قیمتوں میں پندرہ فیصد کمی کی گئی ،دل کولیسٹرول اور اینٹی بائیوٹک ادویات کی قیمتوں میں کمی کی ۔ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہاکہ فارماسیوٹیکل کمپنیوں کے لیے اصلاحات لارہے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ دویات کی قیمتوں میں 15فیصد کمی کا اطلاق فوری طور پر ہوگا۔ انہوںنے کہاکہ پاکستان میں ادویہ ساز شعبے کیلئے جلد نیشنل میڈیسن پالیسی لائی جارہی ہے۔معاون خصوصی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہاکہ کابینہ میں مختلف اداروں میں تعیناتیوں کےلئے سے بات کی گئی،ای سی سی کے 12دسمبر 2019 کے فیصلوں کی توثیق کی گئی،فرخ اقبال کو صدر اور سی ای او ویمن بینک تعینات کرنے کی منظوری دی گئی۔ انہوںنے بتایاکہ ایل او سی پر بسنے والے لوگوں کےلئے خصوصی سکیم کی منظوری دی گئی،ہر شادی شدہ عورت کو سہ ماہی پر پانچ ہزار روپے دیئے جائیں گے۔ انہوںنے بتایاکہ ایل او سی پر 13ہزار 982 گھرانوں کیلئے پیکج کی منظوری دی گئی،پیکج کے تحت متاثرہ گھرانوں 67 کروڑ روپے کی امداد دی جائے گی،ایل او سی پر 13ہزار 982 گھرانوں کیلئے پیکج کی منظوری دی گئی۔انہوںنے کہاکہ ایل او سی پر بسنے والے لوگوں کے لیے مالی امداد کی منظوری دی۔ انہوںنے بتایاکہ کابینہ طلحہ علی کو ایگزیکٹو ڈائریکٹر لوک ورثہ تعیناتی کی منظوری دی،کابینہ نے علی نواز اعوان کو لوکل گورنمنٹ اسلام آباد کا کمشنر تعینات کیا گیا۔ انہوںنے کہاکہ اسلام آباد کو جس طرح خوبصورت اور صاف ستھرا ہونا چاہیے ویسا نہیں،شہر میں جگہ جگہ گندگی کے ڈھیر پر کابینہ نے تشویش کا اظہار کیا ،اس حوالے سے ایک کمیشن قائم کیا گیا،علی نواز اعوان کو اس کمیشن کا چیئرمین تعینات کیا گیا ہے۔انہوںنے بتایاکہ کابینہ نے وفاقی دارالحکومت میں صفائی کی ناقص صورتحال پر اظہار ناپسندیدگی کیا،چیئرمین سی ڈی اے کو اسلام آباد میں صفائی کی صورتحال فوری بہتر کرنے کی ہدایت کی گئی۔ انہوںنے بتایاکہ کابینہ نے ٹیکس قوانین میں اصلاحات کی منظوری دی،اسلام آباد کے سنیٹری ورکرز کو تنخواہوں کی ادائیگی کی ذمہ داری میئر کی ہے ،میئر اسلام آباد لندن یاترا پر ہیں مجبوراً سی ڈی اے کو تنخواہیں ادا کرنا پڑیں۔ انہوں نے کہاکہ ایجنڈا نمبر بیس کے مطابق احساس اور بی ایس پی پروگرام پر بریفنگ دی گئی۔ انہوکںنے کہاکہ ۔ انہوںنے کہاکہ بھارت سے پولیو فنگر مارکر درآمد کرنے کی منظوری دی گئی۔ ای سی ایل میں نام ڈالنے اور نام نکالنے کے حوالے سے انہوںنے بتایاکہ قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اقدامات کیے جائیں گے۔ انہوںنے کہاکہ آٹھ افراد کے نام ای سی ایل سے نکالا گیا ہے،کابینہ نے مریم نواز کا نام متفقہ طور پر ای سی ایل سے نکالنے کی مخالفت کی۔ انہوںنے بتایاکہ کابینہ میں ای سی ایل کے نام کے 24کیس رکھے گئے،ای سی ایل میں 4 کے نام شامل ،8نکالے گئے ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ وفاقی کابینہ نے ای سی ایل میں نام نکالنے اورڈالنے کی منظوری دی۔ ۔ انہوںنے کہاکہ ریئرایڈمرل ذکا الرحمن کو جی ایم کے پی ٹی تعینات کرنے کی منظوری دی گئی ۔ انہوںنے کہاکہ پاکستان اسپورٹس بورڈ جنجال پورہ بنا ہواتھا۔ جسٹس وقار سیٹھ کے خلاف ریفرنس کے حوالے سے انہوںنے کہاکہ اٹارنی جنرل ملک سے باہر ہیں،اس معاملے پر قانونی ٹیم کام کررہی ہے،اس معاملے پر پاکستان کے قانون کے کام کیا جائیگا۔ انہوںنے کہاکہ آرمی چیف کے معاملے پر قانون سازی کا عمل جلد شروع ہوگا ،حکومت نے اس معاملے پر سپیکر قومی اسمبلی کی زیر قیادت کمیٹی قائم کی ،ابھی اس کمیٹی کو کام کرنے دیں۔ ایک سوال پر انہوںنے کہاکہ پرچیوں اور خواہشات سے حکومت نہیں چلتی،حکومت قانون سے چلتی ہے۔ انہوںنے کہاکہ رانا ثنا اللہ کے خلاف اے این ایف نے ٹرائل کورٹ میں شواہد دینے ہیں،رانا ثناءاللہ کے پس پردہ مافیا کام کررہاہے،مافیا پیسہ استعمال کررہاہے کہ اے این ایف عدالت میں جج تعینات نہ ہو۔ انہوںنے کہاکہ عدالتی کارروائی کے بائیکاٹ کی دھمکی دی گئی،رانا ثناءاللہ کے خلاف ٹرائل شروع نہیں ہوا۔ انہوںنے کہاکہ لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے ہمیں سنائی اور آپکو دکھائی دے رہے ہیں۔

مسلہ کشمیر جلد حل ہونا چاہئے پاکستان اسلامی دنیا کا اہم ملک ،تعاون جاری رکھیں گے ،شاہ سلمان

ریاض (مانیٹرنگ ڈیسک،نیوز ایجنسیاں) سعودی فرمانروا شاہ سلمان کا کہنا ہے کہ پاکستان اسلامی دنیا کا ایک اہم ملک ہے، سعودی عرب پاکستان کی تعمیر و ترقیکے لیے ہرممکن تعاون جاری رکھے گا۔تفصیلات کے مطابق اسپیکرقومی اسمبلی نے وفد کے ہمراہ سعودی فرمانروا سے ملاقات کی جس میں دوطرفہ تعلقات، مسلم امہ کو درپیش چیلنجز اور دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ملاقات میں مسلم امہ کو درپیش چیلنجز اورتنازعات کے حل کے لیے مشترکہ لائحہ عمل پر اتفاق کیا گیا۔ اسپیکر قومی اسمبلی نے سعودی فرمانروا کو کشمیر کی صورت حال سے بھی آگاہ کیا۔اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں کرفیو سے معمولات زندگی مفلوج ہے، کرفیو کی وجہ سے مقبوضہ وادی میں خوراک، ادویات کی قلت ہے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کا سچا دوست اور مخلص بھائی ہے۔دوسری جانب سعودی فرمانروا شاہ سلمان نے کہا کہ امت کو درپیش چیلنجز کے حل کے لیے مسلم ممالک میں اتحاد ناگزیر ہے، خطے میں امن اور مسلم ممالک میں اتحاد کے لیے پاکستان کا کردار قابل تحسین ہے۔شاہ سلمان نے کہا کہ مسئلہ کشمیر سمیت تمام تنازعات کو مذاکرات سے پر امن طور پرحل کیا جائے، سعودی عرب مسئلہ کشمیر کا یو این قراردادوں کے مطابق پرامن حل چاہتا ہے۔سعودی فرمانروا شاہ سلمان کا کہنا ہے کہ پاکستان اسلامی دنیا کا ایک اہم ملک ہے، سعودی عرب پاکستان کی تعمیر و ترقی کے لیے ہرممکن تعاون جاری رکھے گا۔سعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے کہا ہے کہ امت کو درپیش چیلنجز کے حل کے لئے عالم اسلام میں اتحاد ناگزیر ہے، خطے میں امن اور مسلم ممالک میں اتحاد کے لئے پاکستان کا کردار قابل تحسین ہے، مسئلہ کشمیر سمیت تمام تنازعات کو مذاکرات کے ذریعے پر امن طور پر حل کیا جانا چاہیے، سعودی عرب مسئلہ کشمیر کا اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق پر امن حل چاہتا ہے، پاکستان کی تعمیر و ترقی کے لئے سعودی عرب ہر ممکن تعاون جاری رکھے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو شاہی محل میں سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی سربراہی میں پارلیمانی وفد سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ ملاقات میں دوطرفہ تعلقات، مسلم امہ کو درپیش چیلنجز اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ پاکستانی وفد میں سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر سمیت حکومتی و اپوزیشن جماعتوں سے تعلق رکھنے والے ارکان شامل تھے۔ ملاقات میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ مسلم امہ کو درپیش چیلنجز اور تنازعات کے حل کے لئے مشترکہ لائحہ عمل اختیار کیا جانا چاہیے۔ سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز کو کشمیر کی صورتحال سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں 141 دنوں سے جاری کرفیو کی وجہ سے مقبوضہ وادی میں معمولات زندگی بری طرح مفلوج ہو چکے ہیں اور اس صورتحال کی وجہ سے مقبوضہ وادی میں خوراک اور ادویات کی شدید قلت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ اپنے تاریخی برادرانہ تعلقات کو بڑی اہمیت دیتا ہے۔ سعودی عرب پاکستان کا سچا دوست اور مخلص بھائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے عوام سعودی عرب اور حرمین الشریفین کے خادمین کے ساتھ گہری دلی وابستگی رہتے ہیں، پاکستان پارلیمانی اور اقتصادی شعبوں میں تعلقات کو فروغ دے کر دوطرفہ تعاون کو مزید فروغ دینا چاہتا ہے۔ سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے پاکستانی وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امت کو درپیش چیلنجز کے حل کے لئے مسلم ممالک میں اتحاد ناگزیر ہے، خطہ میں امن اور مسلم ممالک میں اتحاد کے لئے پاکستان کا کردار قابل تحسین ہے۔ شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے کہا کہ مسئلہ کشمیر سمیت تمام تنازعات کو مذاکرات کے ذریعے پر امن طور پر حل کیا جانا چاہیے، سعودی عرب مسئلہ کشمیر کا اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق پر امن حل چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اسلامی دنیا کا ایک اہم ملک ہے، اس کی تعمیر و ترقی کے لئے سعودی عرب ہر ممکن تعاون جاری رکھے گا۔

رانا ثنا ءاللہ کی ضمانت ،اینٹی نار کوٹکس کی نیک نامی متاثر ہوئی،ضیا ءشاہد

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں اور تبصروں پر مشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے معروف سینئر صحافی ضیا شاہد نے کہا ہے کہ جب رانا ثناءاللہ کو رفتار کیا گیا تھا کہ اینٹی نارکوٹکس والے کبھی کسی کو ثبوت کے بغیر گرفتار نہیں کرتے اور یہ بھی کہا کہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ان کے پاس مکمل ثبوت ہیں ویڈیوز، شواہد ہیں جس کی وجہ رانا ثناءاللہ کو گرفتار کیا۔ بہت سے دوستوں نے بھی کہا ہے کہ اس محکمے کا ریکارڈ بہت شاندار ہے۔ میں نے الطاف قمر صاحب جو ایڈیشنل آئی جی ہیں اور جو اینٹی نارکوٹکس میں رہے ہیں سے معلوم کیا ہے۔ ان کا بھی کہنا تھا کہ وہ کسی وجہ کے بغیر خواہ مخوا گرفتاریاں نہیں کرتے۔ دوسرا میں نے حامد سعید اختر سے پوچھا تھا کہ ان کا بھی کہنا تھا کہ اینٹی نارکوٹکس کے جو سربراہ ہوتے ہیں ان کا تعلق فوج سے ہوتا ہے فوجی لوگ کبھی کسی وجہ کے بغیر، کسی ثبوت نہ ہو گرفتاری نہیں کرتے۔ مجھے حیرت ہوئی کہ اول تو اس قسم کے معاملات میں گرفتار ہونا چاہئے تھا پھر ان کی رہائی عمل میں نہیں آنی چاہئے تھی اب عدالت نے ان کو چھوڑا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ استغاثہ جو تھا وہ جرم ثابت نہ کر سکا۔ یہ اینٹی نارکوٹکس پر ایک بہت ہی داغ ہے کہ یہ ایسے ہی گرفتار کر لیتے ہیں۔ اینٹی نارکوٹکس دعوے کرتی تھی کہ ان کے پاس ہر ثبوت موجود ہے جو وقت آنے پر دکھائیں گے پھر کیا وجہ ہوئی کہ وہ عدالت کو مطمئن نہ کر سکی۔ اس سے ادارہ کی نیک نامی مجروح ہوئی ہے۔ اب ن لیگ کے اس بیانیے کو تقویت پہنچے گی کہ یہ انتقامی سیاست ہے۔ اب تو مسلم لیگ کی طرف سے جودعوے کئے جا رہے ہیں اس میں صداقت نظر آتی ہے۔ حامد سعید اختر نے جو بیان دیا ہے کہ حنیف عباسی صاحب جن کے بارے میں کہا گیا کہ سارے ثبوتوں کے باوجود رہا ہو گئے لہٰذا کسی نہ کسی جگہ گڑ بڑ ضرور ہے یا تو وہ ثبوت پیش کرنے کے سلسلے میں کوتاہی ہو جاتی ہے۔ یہ دونوں معاملات ایسے ہی ہیں۔ ضیا شاہد نے کہا انڈیا آئی ٹی میں پاکستان سے بہت آگے ہے۔ انڈیا کی امریکہ میں کتنی ڈیمانڈ ہے۔ کس قدر وہ یہ دیکھا جاتا ہے۔ ہمارے لوگوں نے جہالت میں سرٹیفکیٹ لئے اور ہم نے ٹیکنالوجی میں نام نہیں پیدا کیا۔ ہم ٹیکنالوجی اور تعلیم میں پیچھے ہیں۔ اور ہمارے دشمن آگے ہیں۔ ایران چاہ بہار کی بندرگاہ کے سلسلے میں انڈیا سے کیوں ان لائن ہے اور کیوں پاکستان کے خلاف ہے ایک طرف ایران یہ کہتا ہے کہ ہم کشمیر میں زیادتی ہو رہی ہے اس سلسلے میں کشمیر کے مسلمانوں کی مدد چاہتے ہیں دوسری طرف وہ انڈیا کے ساتھ چاہ بہار بندرگاہ میں کوآپریشن کرنا چاہتا ہے۔ اس کی کیا وجہ ہے۔ کیا یہ تضاد ہے۔ ایران ہمارا پڑوسی مسلمان ملک ے اس لئے ہم خاموشی سے تکلیف دہ عمل برداشت کرتے ہیں۔

ڈاکٹر عبدالقدیر نے نقل و حرکت پر پابندی سپریم کورٹ میں چیلنج کردی

اسلام آباد: جوہری سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے ملک بھر میں آزادانہ نقل و حرکت سمیت ان کے بنیادی حقوق پر عملدرآمد کے لیے سپریم کورٹ آف پاکستان سے رجوع کرلیا۔ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے لاہور ہائی کورٹ کے 25 ستمبر 2019 کے اس فیصلے کے خلاف عدالت عظمیٰ میں اپیل دائر کی جس میں ان کی اسی طرح کی درخواست کو اس بنیاد پر مسترد کردیا گیا تھا کہ ان کے تحفظ کے لیے ریاست کی جانب سے خصوصی سیکیورٹی اقدامات کا معاملہ ان کے دائرہ کار میں نہیں۔عدالت عظمیٰ میں ایڈووکیٹ زبیر افضل رانا کے توسط سے جمع کروائی گئی ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی درخواست میں کہا گیا کہ آزادانہ نقل و حرکت سمیت بنیادی حقوق، معقول پابندیوں کی آڑ میں کسی کی پسند یا ناپسند پر کم یا سلب نہیں کیے جاسکتے۔درخواست میں یہ سوال کیا گیا کہ کیا سرکاری حکام کو درخواست گزار کو ان کے قریبی اور عزیزی لوگوں، سرونٹس، اہل خانہ کے افراد، دوستوں، صحافیوں، مختلف کالجز، یونیورسٹی کے اساتذہ، اعلیٰ حکام اور بیورو کریٹس سے ملنے سے روکنے کے آئینی تحفظ کی خلاف ورزی کی اجازت دی جاسکتی ہے؟مذکورہ درخواست میں یہ بھی سوال کیا گیا کہ کیا لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے اس شکایت کے ازالے کے لیے درخواست گزار کو اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کا بنیادی مشورہ دینے کا جواز درست تھا؟خیال رہے کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان پاکستان کے جوہری پروگرام کے علمبردار ہیں اور یہ ان امور سے وابستہ لوگوں کی انتھک محنت تھی کہ وہ ملک کو ایٹمی طاقت بنانے میں کامیاب ہوئے تھے۔درخواست گزار کا کہنا تھا کہ انہوں نے پاکستان کو پڑوسیوں اور مخالفین کی بری نظر سے محفوظ کرنے کے لیے کیے گئے اپنے کام پر فخر محسوس کیا۔ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے کہا کہ جب وہ پاکستان آئے تھے انہوں نے جوہری منصوبے پر کام شروع کردیا تھا جبکہ اپنی حیثیت کے مطابق ذاتی سیکیورٹی کا لطف بھی اٹھایا لیکن اب صورتحال یہ ہے کہ سیکیورٹی ایجنسی کے اہلکار گھر کے دروازے پر کھڑے رہتے ہیں تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ کسی کی ان تک رسائی نہ ہو۔درخواست کے مطابق ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو سیکیورٹی حکام کی پیشگی منظوری کے بغیر ملک میں گھومنے پھرنے، کسی سماجی یا تعلیمی تقریب میں شرکت کرنے کی اجازت نہیں، یہ صورتحال درخواست گزار کو ورچوئل قید میں رکھنے کے مترادف ہے۔ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے کہا کہ سیکیورٹی حکام کا یہ فعل غیر قانونی ہے کیونکہ ابھی تک میرے ساتھ ایسا سلوک رکھنے کا کوئی حکم نہیں دیا گیا جو اس بات کی ضمانت دیتا ہو، ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ سیکیورٹی ایجنسیز کے اہلکاروں کی دوسری کوئی ذمہ داری نہیں لیک مجھے اپنے گھر تک ہی محدود رکھ دیا گیا ہے جیسے میں قید تنہائی میں ہوں۔ایٹمی سائنسدان کا کہنا تھا کہ یہ صورتحال جنوری 2004 میں شروع ہوئی جب انہیں سلامتی کے نام پر نظر بند کردیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں کسی دوست تک رسائی نہیں تھی یہاں تک کہ وہ کچھ گھروں کے فاصلے پر رہنے والی بیٹی اور اس کے بچوں سے بھی نہیں مل سکتے تھے جبکہ بری صورتحال یہ تھی کہ وہ عدالت سے بھی رسائی نہیں کرسکتے تھے

’متنازع شہریت قانون‘ کو غیر قانونی کہنے پر بھارتی جاوید جعفری پر برس پڑے

’دھمال‘ جیسی بلاک بسٹر کامیڈی بولی وڈ فلموں میں شاندار اداکاری کرنے والے مسلمان اداکار جاوید جعفری نے بھارتی انتہاپسندوں کی جانب سے آن لائن تنقید کا نشانہ بنائے جانے کے بعد کچھ عرصے کے لیے سوشل میڈیا کو خیرباد کہنے کا اعلان کردیا۔جاوید جعفری کی جانب سے یہ اعلان ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب کہ سوشل میڈیا پر اداکار کی ایک ویڈیو انتہائی وائرل ہوئی تھی جس میں وہ مودی سرکار پر سخت تنقید کرنے سمیت حال ہی میں بھارتی حکومت کی جانب سے پاس کیے گئے ’متنازع شہریت بل‘ کے قانون کو غیر قانونی قرار دیتے دکھائی دیے۔مذکورہ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد جہاں سیکولر بھارتی افراد اور مسلمان ہندوستانیوں نے جاوید جعفری کی تعریف کی، وہیں انتہاپسند ہندوؤں نے انہیں تنقید کا نشانہ بنانا شروع کیا اور انہیں ’دہری شخصیت‘ کا مالک قرار دیا۔کئی انتہاپسند ہندوؤں نے اداکار کو آن لائن تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں کہا کہ وہ اداکاری تو اچھی کرتے ہیں، تاہم شہریت قانون پر کی گئی تقریر سے ان کی دہری شخصیت کا پردہ فاش ہوگیا

کنٹرول لائن کا دورہ ،سی ،ایم ،ایچ مظفر آباد میں زخمیوں کی عیادت کشمیر پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا،آرمی چیف

مظفرآباد (مانیٹرنگ ڈیسک) چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا ہے کہ ہر جارحیت کا سامنا کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں اور کشمیر پر کسی قیمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق ‘آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ایل او سی اور کمبائنڈ ملٹری ہسپتال سی ایم ایچ مظفر آباد کا دورہ کیا، سی ایم ایچ میں انہوں نے بھارتی اشتعال انگیزیوں سے زخمی ہونے والوں کی عیادت کی۔ نٹرول لائن پر جوانوں سے خطاب کرتے ہوئے جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ ‘امن کی خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے اور کشمیر پر کسی قیمت پر سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔’ ان کا کہنا تھا کہ ‘مادر وطن کے دفاع کے لیے ہر جارحیت کا سامنا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور اس کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔’ واضح رہے کہ آرمی چیف کا ایل او سی کا دورہ اور کشمیر کے حوالے سے یہ بیان بھارت کی طرف سے ایک بار پھر کنٹرول لائن پر اشتعال انگیزیوں میں اضافے کے بعد سامنے آیا ہے۔

نیب میں پیشی سے انکار ،گرفتار ہوا تو زیادہ خطرناک ہوں گا ،بلاول بھٹو

کراچی (نامہ نگار خصوصی) پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اعلان کیا ہے کہ وہ 24 سمبر کو قومی احتساب بیورو (نیب) کے سامنے پیش نہیں ہونگے۔ انہوں نے کہا ہے کہ میں تمام سوالات کا جواب دے چکا ہوں، دستاویزات بھی سامنے ہیں، چھ ماہ گزرنے کے بعد طلبی کا فیصلہ کیوں کیا گیا؟کراچی میں پیپلز پارٹی کے دیگر رہنماں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ چوبیس دسمبر کو نیب نے مجھے طلب کیا گیا ہے، سب جانتے ہیں کہ ہم 27 دسمبر کو ہم کیا کرتے ہیں۔ ہم پہلے دبا میں آئے نہ اب آئیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں نیب کے سامنے پیش ہوا، تمام سوالات کے جواب دیے، تمام دستاویزات بھی سب کے سامنے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا تھا کہ میں بے قصور ہوں۔ نیب نے غیر قانونی نوٹس بھیجا۔ چھ ماہ گزرنے کے بعد یہ فیصلہ کیوں کیا گیا؟انہوں نے الزام عائد کیا کہ ہمیں شہید بینظیر بھٹو کی برسی منانے کے لیے اجازت بھی نہیں کی جا رہی اور ریل گاڑی کی بکنگ کے حوالے سے روکا جا رہا ہے۔ آمرانہ طرز عمل سے حکومت چلائی جا رہی ہے۔چیئرمین پیپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ جو کچھ ایک سال میں ہوا، سب کے سامنے ہے۔ عوام کے مسائل حل نہیں کیے جا رہے۔ ہر سیاسی جماعت اور کارکن کی کردار کشی کی جا رہی ہے۔ سیاسی رہنماں کے خلاف مقدمات بنائے جاتے ہیں۔ ہمیں سیاست کے حق سے محروم کیا جا رہا ہے۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ یہ کیسا احتساب ہے؟ صرف اور صرف اپوزیشن کا ہدف بنایا جا رہا ہے۔ اپوزیشن کی سیاست میں رکاوٹیں ڈالی جا رہی ہیں۔ وزیراعظم کے خلاف نیب کے مقدمات زیر التوا ہیں۔ کیا کسی ایک خیبر پختونخوا کے وزیر کو نیب کا نوٹس ملا؟ لیکن جو حکومت کے خلاف بولتا ہے، اس کے خلاف مقدمات بنائے جاتے ہیں۔بلاول نے کہا کہ احسن اقبال کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہیں، نیب بطور ادارہ نہیں لیکن قانون کی حاکمیت پریقین رکھتا ہوں، آمرانہ طرز حکومت سے مسائل حل نہیں کرسکیں گے۔چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ کس کے کہنے پر میرا نام نیب میں شامل کیا گیا ہے،نیب میں پہلے بھی پیشہوئے اب بھی پیش ہوں گے، پہلے دبا میں آئے نہ اب آئیں گے، نیب آمرکا بنایاہوا کالا قانون ہے جسے ہم نہیں مانتے۔انہوں نے کہا کہ حکومت عوام اور اپوزیشن کو ہراساں کرنا چاہتی ہے، یہ کیسا احتساب ہے چیئرمین نیب کہتے ہیں ہواں کا رخ تبدیل ہورہا ہے، اپنے حق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔

مشترکہ مفادات کونسل صوبوں میں پانی کی تقسیم کے لیے کمیٹی بنانے کا فیصلہ ،اشیائے خوردنوش کی قیمتوں کا تعین وفاقی حکومت کرے گی

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک‘ نیوز ایجنسیاں) وزیراعظم کی زیرصدارت مشترکہ مفادات کونسل نے اوگرا آرڈیننس میں ترمیم کی امنظوری دے دی ساتھ ہی ای او بی آئی اور ڈبلیو ڈبلیو ایف کا انتظام سندھ کو دینے کے بجائے وفاق کے پاس ہی رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔ وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت مشترکہ مفادات کونسل (سی سی آئی: کونسل آف کامن انٹرسٹ) کا طویل اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں16 نکاتی ایجنڈا زیر بحث آیا، ساڑھے 6 گھنٹے سے زائد وقت تک جاری رہنے والے اجلاس میں چاروں صوبوں کے وزارئے اعلی نے شرکت کی۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں فیصلہ ہوا کہ ای او بی آئی اور ڈبلیو ڈبلیو ایف کا انتظام وفاق کے پاس ہی رہے گا، اجلاس میں مردم شماری کے نوٹی فکیشن کے اجرا کا ایجنڈا موخر ہوگیا کیوں کہ سندھ حکومت اور حکومتی اتحادی جماعت ایم کیو ایم کو مردم شماری پر تحفظات تھے جب کہ مشترکہ مفادات کونسل اجلاس نے اوگرا آرڈیننس 2002ءمیں ترمیم کی منظوری دے دی۔ وزیراعظم عمران خان کے زیر صدارت مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال کی شرکت مشترکہ مفادات کونسل میں وزیراعلیٰ بلوچستان نے اپنے تحفظات سے آگاہ کر دیا ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان کے زیر صدارت اسلام آباد میں ہونے والے مشترکہ مفادات اجلاس میں وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال عالیانی اور چیف سیکرٹری بلوچستان فضیل اصغر نے شرکت کیا مشترکہ مفادات کونسل کا 16نکاتی ایجنڈا شامل تھا حکومت بلوچستان کی جانب سے سی سی آئی ،ایف بی آر کے دعوے کے تنازعوں پر تبادلہ خیال کیا گیا وفاقی حکومت کی جانب سے گاڑیوں پر ود ہولڈنگ ٹیکس اور ڈبلیو ایچ ٹی کی مد میں 5فیصد سروس چارجز لینے کا دعویٰ کیاگیا ہے حکومت بلوچستان نے اپنے تحفظات سے وزیرا عظم عمران خان کوآگاہ کردیا۔ وزیراعظم کی معاون خصوصی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ اشیائے خوردونوش کی قیمتوں کا تعین وفاقی حکومت کرے گی اور حکومت عوامی مسائل حل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیر اعظم نے بنیادی مسائل کے تدارک کے لیے جامع پالیسی بنانے اور صوبائی حکومتوں کوعوامی مسائل حل کرنے کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کی زیرصدارت مشترکہ مفادات کونسل کےاجلاس میں 23 نکاتی ایجنڈے پر غور کیا گیا جس میں پانی کی تقسیم کے معاملے پر اٹارنی جنرل نے سفارشات پیش کیں اور وزیر اعظم نے پانی کی منصفانہ تقسیم یقینی بنانے کی ہدایت کی۔ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ پانی کی تقسیم کے معاملے پر کمیٹی بنانے کا فیصلہ ہوا ہے جو ایک ماہ میں اپنی سفارشات پیش کرے گی۔ پانی کی منصفانہ تقسیم کے لیے ٹیلی میٹری نظام نصب کرنے کا بھی فیصلہ ہوا ہے۔ جس کا 4 ہفتے میں جائزہ لے کر منصوبے کا پی سی ون تیار کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ توانائی منصوبہ ہر صوبے کا حق ہے اور توانائی منصوبوں کی منظوری سے قبل نیپرا کو اعتماد میں لیا جائے گا۔ تکنیکی معاملات پر ماہرین کی کمیٹی بنانے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے اور صوبے ایک دوسرے سے متعلق تحفظات کو بھی دور کریں گے۔ وزیر اعظم کی معاون خصوصی نے کہا کہ حکومت عوامی مسائل حل کرنے کی کوشش کر رہی ہے جبکہ اجلاس میں تیل کی تلاش و پیداوار کے لیے پالیسی کی منظوری دی گئی۔ ایل این جی سے متعلق سندھ کے تحفظات دور کیے جا چکے۔ انہوں نے کہا کہ اشیائے خوردونوش کی قیمتوں کا تعین وفاقی حکومت کرے گی۔ وزیر اعظم نے معیاری تعلیم کی فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم کی زیرصدارت مشترکہ مفادات کے اجلاس میں چاروں وزرائے اعلیٰ‘ وزیر بین الصوبائی روابط اور چیف سیکرٹریز شریک ہوئے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی وزیر فیصل واوڈا اور وزیراعلیٰ سندھ کے درمیان پانی کے معاملے پر نوک جھوک ہوئی جبکہ وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر کی وزیراعلیٰ کے پی کے محمود خان کے ساتھ بھی تکرار ہوئی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ صوبوں کے درمیان پانی کی تقسیم کے معاہدہ پر دوبارہ اجلاس بلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ واٹر کارڈ کے معاملے پر صوبوں کے درمیان کمیٹی کے قیام پر اتفاق کر لیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق سی جے کنال کا معاملہ اگلے اجلاس تک مو¿خر کر دیا گیا۔ وزیراعظم نے پانی کی منصفانہ تقسیم کے لئے فوری ٹیلی میٹرز نصب کرنے کی ہدایت کی ہے۔ پانی کے وسائل کی تقسیم سے متعلق اٹارنی جنرل کی سفارشات مشترکہ کونسل میں پیش کی گئیں۔ وزیراعظم معران خان کا کہنا تھا کہ تمام صوبوں کو پانی کے وسائل کی منصفانہ تقسیم یقینی بنائی جائے‘ صوبوں کی عوام کو یہ یقین ہو کہ پانی کے وسائل کی منصفانہ تقسیم ہو رہی ہے۔

سپورٹس سٹی کرپشن احسن اقبال گرفتار ،آج جسمانی ریمانڈ ہو گا گرفتاری نیب ،نیازی گٹھ جوڑ ہے ،شہباز شریف

راولپنڈی(آئی این پی)نیب نے نارووال سپورٹس سٹی کمپلیکس منصوبے میں مسلم لیگ ن کے رہنماو سابق وفاقی وزیر احسن اقبال کو گرفتار کر لیا۔احسن اقبال پر وفاقی وزیر منصوبہ بندی کی حیثیت سے اختیارات کے ناجائز استعمال کا الزام ہے۔احسن اقبال کے طبی معائنہ کے لئے ڈاکٹرز کا بورڈ تشکیل دے دیا گیا ہے انہیں منگل کو ( آج) احتساب عدالت میں پیش کرجسمانی ریمانڈ لیا جائے گا۔نارروال سپورٹس سٹی منصوبے میں سابق ڈی جی سپورٹس بورڈ اختر گنجیرا سمیت دیگر افسران پہلے ہی گرفتار ہیں۔نیب راولپنڈی کی طرف سے 4 ارب روپے سے زائد کی لاگت کے نارروال سپورٹس سٹی کمپلیکس کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔سابق وفاقی وزیر احسن اقبال کو پوچھ گچھ کے لئے طلب کیا گیا تھا تاہم جب وہ نیب راولپنڈی کی تفتیشی ٹیم کے سامنے پیش ہوئے تو ان سے مختصر پوچھ گچھ کے بعد وارنٹ دکھا کر گرفتار کر لیا گیا۔احسن اقبال کے وارنٹ گرفتاری کی منظوری چئیر مین نیب نے دی تھی۔احسن اقبال کو دوسری بار بیان ریکارڈ کرانے کے لئے طلب کیا گیا تھا۔ نیب کی جانب سے احسن اقبال پر اختیارات کے ناجائز استعمال کا الزام لگایا گیا ہے۔نیب ذرائع کے مطابق نارروال سپورٹس سٹی منصوبے میں احسن اقبال پر وفاقی وزیر منصوبہ بندی کی حیثیت سے اثر رسوخ استعمال کرنے کا الزام لگایا گیا ہے یہ منصوبہ جب شروع ہوا تو اس کی لاگت کم تھی جو بڑھتے ہوئے چار ارب روپے سے تجاوز کر گئی جس پر سابق ڈی جی سپورٹس بورڈ اختر گنجیرا اور دیگر افسران کو پہلے ہی گرفتار کر لیا گیا تھا تاہم احسن اقبال کا دو ماہ قبل بیان ریکارڈ کیا گیا تھا اور اب انہیں دوسری بار طلب کر کے گرفتار کر لیا گیا ہے۔ دوسری جانب نیب ترجمان کا کہنا ہے کہ احسن اقبال کا طبی معائنہ کر ے کے لئے بورڈ تشکیل دے دیا گیا ہے جبکہ آج منگل کو انہیں اسلام آباد کی احتساب عدالت میں پیش کر کے ان کا جسمانی ریمانڈ حاصل کیا جائے گا۔

نیب جسے پکڑے ،کیس جلد نمٹا ئے ،سالوں نہ لٹکائے ،زیادہ دیر گرفتار نہ رکھے :ضیا شاہد

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں اور تبصروں پر مشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے معروف سینئر صحافی ضیا شاہد نے کہا ہے کہ نیب کے کام اتنے ست ہیں۔ مثال کے طور پر ابھی الیکشن نہیں ہوا تھا میں نے اپنی کتاب ”سچا اور کھرا لیڈر“ جو قائداعظم پر ہے اس کی افتتاحی تقریب کے لئے عمران خان صاحب کے پاس گیا اس وقت تو وہ وزیراعظم نہیں تھے اپوزیشن لیڈر تھے۔ میں نے ان کو دعوت دی۔ مجھے اچھی طرح سے یاد ہے اس سے دو ہفتے پہلے صدر پاکستان ممنون حسین کو دعوت دی تھی مجھے انہوں نے وعدے کے باوجود مجھے وقت نہیں دیا۔ میں جس نے ان کے پاس ان کے پاس لاہور ایئرپورٹ پر گیا اس دن یہ معلوم ہوا تھا کہ وہ نارووال گئے ہیں وہ وہاں نارووال سپورٹس کمپلیکس کا افتتاح کرنے گئے ہیں۔ اگلے ہی ہفتے یہ خبر آ گئی تھی کہ نیب نے کہا ہے کہ اس میں بہت سے گھپلے ہوئے ہیں اور اس سارے پروجیکٹ کو نیب نے دیکھنا شروع کر دیا ہوا ہے۔ اب ایک سال 6 مہینے ہو گئے ہیں اس بات کو۔ اس سے اندازہ کر سکتے ہیں کہ نیب کے کام کس قدر سست ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سب سے زیادہ اعتراض کیا جاتا ہے نیب جس کام کو بھی شہباز شریف پر نیب نے جو الزامات لگائے ان گرفتار بھی کیا گیا۔ پھر ان کو پروڈکشن آرڈر پر رہا بھی کر دیا گیا۔ پھر کبھی پتہ نہیں چلا کہ ان کاموں کا کیا ہوا۔ بڑے ادب کے ساتھ جناب جسٹس جاوید اقبال لوگ تھک جاتے ہیں بوڑھے ہو جاتے ہیں لیکن عمل مکمل نہیں ہوتا۔ اب کافی کیسز پینڈنگ ہیں۔ مثال کے طور پر کہا گیا کہ فلاں فلاں پکڑے گئے۔ فلاں صاحب کا پتہ چلا کہ وہ وعدہ معاف گواہ بھی بنے کو تیار ہے لیکن دوبارہ پھر ان کے بارے میں اطلاع نہیں آتی میری ان سے درخواست ہے کہ نیب نے اچھے کام کئے ہیں لیکن ان کا کام اتنا سست ہے اب احسن اقبال کی ایک سال 6 ماہ بعد گرفتاری ہوئی ہے۔ کتنے سال اور لگنے ہیں اس مقدمے کو۔ اس صورتحال میں لوگوں کو شکوک و شبہات پیدا ہوتے ہیں کہ ضرور کوئی نہ کوئی وجہ ہے۔ اب گرفتاری ہوئی ہے احسن اقبال کا کہنا ہے کہ یہ نیب نیازی گٹھ جوڑ ہے ان پر آرٹیکل 6 لگنا چاہئے۔ اس پر ضیا شاہد نے کہا ہے جہاں تک ان کے بھانجے کا تعلق ہے ان کا کہنا ہے کہ میں صرف پاس کھڑا تھا میں نے ایسا کوئی عمل نہیں کیا۔ تحقیقات میں جائزہ لیا جائے کہ انہوں نے کیا کیا اور کیا نہیں کیا اس پر آرٹیکل 6 کا اطلاق تو بالکل نہیں ہوتا۔ نیب کیسز میں کون پکڑا گیا کون نہیں میں تو بار بار یہ کہہ رہا ہوں جس کو پکڑا گیا ہے اس کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے جس کو ایسا نہیں کر سکتے اس کو رہا کیا جائے مہینوں گرفتاری کا عمل ہے اس کو اتنی دور تک نہ کھینچا۔ اپوزیشن کا مطالبہ کہ احتساب بلا امتیاز نہیں ہو رہا۔ بلاول بھٹو اگر کہہ رہے ہیں کہ میں پیش نہیں ہوں گا ہمت ہے تو گرفتار کر کے دکھائیں۔ نے جو کچھ کہا ہے اس کا مخاطب اول نیب ہے اس کو چاہئے کہ اس کا جواب دے نیب کے مطالبات زیادہ تسلی بخش نہیں ہے۔ بلاول بھٹو کا مسئلہ یہی ہے کہ جب کبھی ان کو گرفتار کرنے کی بات ہوتی ہے یا ان کے کسی عزیز کو گرفتار کرنے کی بات ہوتی ہے وہ ہمیشہ دھمکی دیتے ہیں کہ مجھے یا ہمارے لوگوں کو گرفتار کیا گیا تو اس کے نتائج بہت بڑے ہوں گے وہ ہمیشہ سندھ کارڈ استعمال کرتے ہیں۔ اصل میں 18 ویں ترمیم کے بعد صوبے طاقت ور ہو گئے ہیں اور وفاق کمزور ہو گیا ہے۔ 18 ویں ترمیم پیپلزپارٹی کے لوگوں کے ہاتھوں ہوئی تھی اور انہوں نے صوبوں کو اس قدر اختیارات دے دیئے ہیں اب صوبے آگے اور وفاق پیچھے چلا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کبھی کبھا کسی نہ کسی طرف سے یہ بات یہ سنائی دیتی ہے کہ پاکستان میں صدارتی نظام حکومت ہونا چاہئے اس کی وجہ بھی یہی ہے کہ صوبے جو ہیں وہ بہت پاور فل ہو گئے ہیں۔ اپوزیشن جماعتیں بھی تعاون نہیں کر رہی۔ حکومت کے لوگ بھی تعاون نہیں کر رہے۔ ایک وفاقی وزیر کو گرفتار کرنا چاہ رہے ہیں لیکن ان کی صحت کمزور ہے اس لئے نہیں کر رہے۔ میرا خیال ہے یہ تو کوئی دلیل نہیں۔ اگر انہوں نے کوئی غلط کام کیا ہے تو ان کو ضرور پکڑنا چاہئے۔ حکومت وقت کچھ باتوں پر انہیں بھی غور کرنا چاہئے۔ مثال کے طور پر ہماری بڑی بدنامی ہوئی ہے جو وہ کوالالمپور نہیں گئے ہیں عمران خان اور اس پر طیب اردگان جیسے ایک ترکی کے سربراہ نے الزام لگایا ہے کہ پاکستان جو ہے اس لئے اس میں نہیں گیا کہ سعودی عرب نے دھمکی دی تھی کہ وہ پاکستان کے 40 لاکھ افراد ملک سے نکال دیں گے اس کی جگہ بنگلہ دیش کے لوگ لے آئیں گے۔ یہی نہیں بلکہ انہوں نے یہ کہا تھا کہ حالانکہ فنڈو اسلام کے بارے سب سے زیادہ تقاریر کرنے کے باوجود جب اس پر طے ہوا کہ ترکی، ملائیشیا اور پاکستان مل کر اس پر فنگشن کروائیں گے اور جب تقریب ہوئی تو عمران خان نہیں گئے۔ اس پر بہت لے دے ہوئی اور اس پر سعودی عرب نے بھی اس کی ممانعت کی ہے کہ ہم نے ہر گز کسی قسم کی کوئی دھمکی نہیں دی پاکستان ایک آزاد ملک ہے اور ہم اس کو دھمکی نہیں دی اس کے باوجود پاکستان کا کوالالمپور کے فنگشن میں شریک نہ ہونا اس پر بڑی باتیں ہو رہی ہیں اس پر کافی لے دے ہوئی۔ عمران خان کو کوالالمپور کا دورہ کرنا چاہئے اور ترکی کا بھی دورہ کریں اور یہ تاثر ختم کریں کہ ہم کسی دباﺅ کے تحت ان دونوں ملکوں کے اپنے تعلقات خراب کر رہے ہیں۔
ضیا شاہد نے کہا کہ وزیراعظم کو چاہئے کہ وہ قوم سے خطاب کریں اور ان سوالات کا جواب دیں یہ جو شکوک و شبہات پیدا ہو رہے ہیں ان کو ختم کرنے کی کوشش کریں۔ چونکہ اپوزیشن کے لوگ زیادہ تر ملوث ہیں کرپشن کے الزامات میں اس لئے جب ان کو پکڑا جاتا ہے تو وہ دھمکیاں دینے لگتے ہیں اور نیب جو کو پکڑتی ہے اس کو منطقی انجام تک پہنچائے۔ سالوں نہ لٹکائے۔ ضیا شاہد نے کہا کہ ایک زمانے میں بھارت بڑے فخر سے کہا کرتا تھا کہ پاکستان کے مسلمانوں کی آبادی بیس کروڑ ہے جبکہ ہمارے ملک میں 22 کروڑ مسلمان رہتے ہیں لیکن اب وہ یہ دعویٰ نہیں کر سکتے صرف مسہمان ہی نہیں بلکہ سکھ اور عیسائی اور دوسری اقلیتیں جو ہیں وہ اس بات کو بہت زیادہ اچھال رہی ہیں ان کے شہری حقوق پامال ہو رہے ہیں شہریت کے قانون کی رو سے جو ان کے جائز حقوق کو کچلا جا رہا ہے۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ اب تو آج توسونیا گاندھی اور اپوزیشن نے ایک بڑا جلوس نکالا ہے جس طرح سے حکومت نے دھمکی دی حکومت نے کہ جو شخص ان مظاہروں میں شریک ہوا اس کی جائیداد ضبط کر لی جائے گی اس کے باوجود لوگ باز نہیں آ رہے۔ جس طرح سے 10 ریاستوں میں جو طوفان چھپا ہوا اور لوگ شہریت کے قانون کو نہیں مان رہے ہیں مجھے یہ لگتا ہے کہ مودی حکومت سے یہ معاملہ سنبھلتا دکھائی نہیں دیتا۔ انڈیا کا جو اندرونی انتشار بڑھے گا۔ انڈیا میں جو کچھ ہو رہا ہے کوئی یو این او، سلامتی کونسل اور دنیا کا کوئی ملک کوئی ادارہ اس پر نہیں بولتا۔