لاہور (خبر نگار، جنرل رپورٹر) پنجاب حکومت نے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ٹیکسوں کی بھرمار کردی، جس سے عام آدمی کیلئے ضروریات زندگی اور علاج معالجہ پہنچ سے باہر ہوجائے گا، بجٹ میں ڈاکٹرز، حکمائ، ہومیوپیتھک ڈاکٹرز، جیولرز، الیکٹرانک اشیائ ہوٹلز، ہاسٹلز، گیسٹ ہاو¿سز، منی چینجرز، موٹرسائیکل ڈیلرز ،فیشن ڈیزائنرز اور درزیوں و دیگر چیزوں پر ٹیکسز لگا دیے گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق پنجاب حکومت نے آئندہ مالی سال کیلئے بجٹ پیش کردیا ہے۔ بجٹ میں جیولرزاورالیکٹرانک اشیائ والے اسٹورز پر2 ہزار ہر مہینے ٹیکس کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ نئی فرنچائززاور ڈیلرز پر بھی ماہانہ 5ہزار ٹیکسزعائد کرنے کی تجویز ہے۔ وکلائ پر ایک ، منی چینجرزپر6 اور موٹرسائیکل ڈیلرز پر ہرماہ 10 ہزار ٹیکس لگانے کی تجویز ہے۔اسی طرح 5سے 10کروڑ رکھنے والی کمپنی کیلئے سالانہ 70 ہزار ٹیکس رکھنے کی تجویز ہے۔ میونسپل کارپوریشن کی حدودمیں ہومیوپیتھک اورحکمائ ، ڈاکٹرز کلینک پر بھی ٹیکس عائد کردیے گئے ہیں۔، بڑی گاڑیوں پر لگڑری ٹیکس ختم کرنے کا منصوبہ،تفصیلات کے مطابق پنجاب کا 23 سو ارب 57 کروڑ روپے کا بجٹ منظوری کے لئے اسمبلی میں پیش کر دیا گیا ہے۔ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں پانچ سے دس فیصد تک اضافے جبکہ وزیراعلیٰ اور وزرا کی تنخواہوں میں دس فیصد کمی کی تجویز دی گئی ہے۔ غیر ترقیاتی بجٹ میں دو اعشاریہ سات فیصد جبکہ ترقیاتی بجٹ میں 47 فیصد اضافہ تجویز کیا گیا ہے۔پنجاب اسمبلی میں صوبائی وزیر خزانہ مخدوم ہاشم جواں بخت نے بجٹ پیش کیا۔ بجٹ میں آئندہ مالی سال کے لئے سالانہ ترقیاتی پروگرام 350ارب روپے رکھا گیا، جو رواں برس سے 47 فیصد زیادہ ہے جبکہ جاری اخراجات کا تخمینہ 1717 ارب 60 کروڑ روپے لگایا گیا ہے۔غیر ترقیاتی بجٹ میں 2 اعشاریہ 60 فیصد اضافہ کیا گیا۔ آئندہ مالی سال میں پنجاب کو وفاق سے این ایف سی کی مد میں 1601 ارب ملیں گے۔شعبہ تعلیم کا ترقیاتی اور غیر ترقیاتی بجٹ 2 اعشاریہ 7 فیصد اضافے سے 382 ارب 90 کروڑ روپے کر دیا گیا ہے۔شعبہ صحت کا مجموعی بجٹ 8 اعشاریہ 4 فیصد اضافے سے 308 ارب 50 کروڑ روپے تجویز کیا گیا ہے۔زرعی شعبہ کے لئے 24 فیصد اضافے سے 113 ارب 60 کروڑ روپے مختص جبکہ عوامی تحفظ اور امن وامان پر 6 اعشاریہ 2 فیصد اضافے سے 181 ارب 60 کروڑ خرچ کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔صوبائی بجٹ میں تنخواہوں کی مد میں 337 ارب 60 کروڑ روپے خرچ ہوں گے جبکہ پنشن پر 245 ارب روپے مختص ہوں گے۔صوبائی مالیاتی کمیشن کے تحت اضلاع کو 437 ارب جاری کئے جائیں گے۔ آئندہ مالی سال میں پنجاب میں ٹیکس اور نان ٹیکس آمدنی 388 ارب 40 کروڑ روپے ہوگی۔پنجاب ریونیو اتھارٹی 166 ارب 60 کروڑ روپے اکٹھے کرے گی جبکہ بورڈ آف ریونیو 81 ارب 20 کروڑ روپے اکٹھے کریگا۔احساس پنجاب پروگرام کے تحت صوبے بھر میں شیلٹر ہوم اور پناہ گاہوں کا قیام عمل جاری رہے گا۔ غریب بیواو¿ں اور یتیموں کی مالی امداد کے لئے دو ارب روپے سے پنجاب سرپرست پروگرام شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔بجٹ میں بے روزگار نوجوانوں کے لئے 12 ارب روپے کے بلا سود قرضے دینے کی تجویز دی گئی ہے۔ کسانوں کو سبسڈی کے لئے ایگری کریڈٹ سمارٹ کارڈ کا اجرا ہوگا۔اب پاک اتھارٹی کے لئے آٹھ ارب روپے رکھنے کی تجویز دی گئی۔ پنجاب بھر میں ہسپتالوں کی تعمیر نو کے لئے ساڑھے تین ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔ہیپاٹائٹس کے مریضوں کو مفت ادویات کے لئے ڈیڑھ ارب روپے مختص کئے گئے۔ پنجاب بھر میں 64 کالجز کی تکمیل کے لئے 2 ارب 10 کروڑ روپے مختص ہوئے ہیں۔مفت درسی کتب کی فراہمی کے لئے 2 ارب 84 کروڑ روپے دینے کی تجویز ہے۔ پنجاب حکومت نے آئندہ مالی سال 2019-20ئ کےلئے 23کھرب57کروڑ روپے مالیت کے حجم کا بجٹ پیش کر دیا ،جنرل ریو نیو ریسپٹ کی مد میں 1990اب روپے کی وصولیوں ، ایف این سی کے تحت وفاق سے قابل تقسیم محاصل سے 1601ارب 46کروڑ جبکہ صوبائی محصولات کی مد میں 388ارب40کروڑ روپے کا تخمینہ لگایا گیا ہے ، مالی سال میں جاریہ اخراجات کا کل تخمینہ 1298ارب روپے 80کروڑ لگایا ہے جس مین سے 337ارب60کروڑ روپے تنخواہوں کی مد میں،244ارب90کروڑ پنشن، مقامی حکومتوں کے لئے 437ارب10کروڑ اور سروس ڈیلیوری اخراجات کےلئے279ارب 20کروڑ روپے مختص کرنے کا اعلان کیا گیا ، آئندہ مالی سال میں ترقیاتی بجٹ کی مد میں350ارب روپے جبکہ جاری اخراجات کے لئے1717ارب روپے مختص کئے گئے ہیں، صوبائی ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں وفاق کی طرز پر اضافہ تجویز کیا گیا ہے، بجٹ میں وفاق کی طرز پر 3ارب روپے کی لاگت سے ”پنجاب احساس پروگرام کا اجرائ کرنے کا اعلان کیا گیا جس کے تحت ” باہمت بزرگ پروگرام “ کے تحت 65سال سے زائد عمر کے ایک لاکھ پچاس ہزار بزرگوں کو ماہانہ مالی معاونت کے لئے 2ہزار روپے الا?نس دیا جائے گا،اسی طرح معذور افراد، بیوا?ں اور یتیم بچوں کی کفالت کے لئے بھی پروگرام متعارف کرائے گئے ہیں ، آئندہ مالی سال کے دوران ” پناہ گاہ “ منصوبے کو وسیع کیا جائے گا اور ڈویڑنل ہیڈ کوارٹرز میں مزید 9پنا ہ گاہوں کا قیام عمل میں لایا جائے گا،تعلیم، صحت ، صنعت اور زراعت سمیت دیگر شعبوں میگا پراجیکٹس کے لئے مجموعی طور پر 279ارب روپے مختص کرنے کا اعلان کیا گیا ،پنجاب کے مختلف شہروں میں 40ارب روپے کی لاگت سے 9جدید ہسپتالوں کے قیام کا بھی اعلان کیا گیا۔ آئندہ مالی سال 2019-20ئ کا بجٹ پیش کرنے کے لئے اجلاس مقررہ وقت تین بجے کی بجائے 30منٹ کی تاخیر سے سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی کی صدارت میں شروع ہوا۔ صوبائی وزیر خزانہ مخدوم ہاشم جواں بخت نے آئندہ مالی سال کا بجٹ پیش کیا۔ وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار اور قائد حزب اختلاف حمزہ شہباز بھی ایوان میں موجود تھے۔ وزیر خزانہ نے بجٹ تقریر کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ مےں رب العزت کا شکر گزار ہوں کہ جس نے مجھے اس معزز اےوان مےں پنجاب حکومت کے مالی سال2019-20ئ کابجٹ پےش کرنے کا موقع فراہم کےا۔ حکومت پنجاب کا آئندہ بجٹ پاکستان تحرےک انصاف کی ترجےحات اور پالےسےوں کا آئنہ دار ہے۔ آج اس ملک کا ہر شخص اس حقےقت سے بخوبی واقف ہے کہ گزشتہ حکومت کی غلط پالےسےوں نے پاکستان کو کتنا نقصان پہنچاےا۔ ورثے مےں ملے ہوئے بدترےن معاشی حالات کے باوجود ہماری حکومت اقتصادی بہتری کےلئے ٹھو س اقداما ت کررہی ہے۔ موجود بجٹ تحرےک انصاف کے منشور اور عوام سے کئے گئے وعدوں کی تکمےل کی جانب اہم سنگ مےل ثابت ہوگا۔ آج جب ہم گزشتہ برسوں کے دوران پاکستان اور اس کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کی معےشت کی تباہی کی بات کرتے ہےں تو ہمارے سےاسی مخالفےن کو اس پر بہت تکلےف ہوتی ہے کہ ان کی خواہش ہے کہ ہم ان چےزوں کو بے نقاب نہ کرےں جنہوںنے قومی وسائل کو بے دردی سے استعمال کےا ور پاکستان کو اس حد تک پہنچا دےا کہ آج اس ملک کا ہر پےدا ہونے والا بچہ تقریباً ڈےڑھ لاکھ روپے کا مقروض ہے۔ آج ہر پاکستانی یہ سوال پوچھنے مےں حق بجانب ہے کہ گزشتہ دس سالوں مےں 6ہزار ارب کے قرضے 30ہزار ارب تک کےسے پہنچے ؟گزشتہ پنجاب حکومت کے وہ کون سے اخراجات تھے جنہوںنے سرکاری ملازمےن کا 102ارب روپے کا جی پی فنڈ تک ہڑپ کرنے پر مجبور کردےا ؟اگریہ تمام اخراجات ترقےاتی مقاصد کےلئے کئے گئے تھے توپنجاب کے لاکھوں بچے سکولوں سے باہر کےوں تھے ؟۔ہسپتالوں مےں اےک بستر پر تےن تےن مرےض کےوں دکھائی دےتے رہے ،َچھ برسوں کے دوران اربوں روپے کے فنڈز کی فراہمی کے باوجود عوام کو صاف پانی کےوں نہ ملا ؟بھاری لاگت کے مےگا پراجےکٹس کا آغاز کسی مالی منصوبہ بندی اور وسائل کی فراہمی کے بغےر کےوں کےا گےا ،َان تمام بدانتظامےوں کے نتائج عوام کو بھگتنا پڑے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دس سالوں مےں اےک طرف چند بڑے شہر تھے جو نام نہاد ترقےاتی سرگرمےوں کا مرکز رہے اور دوسری طرف صوبے کا بڑا حصہ جسے ہر طرح کے وساائل سے محروم رکھا گےا۔ دعویٰ تو بار بار یہ کےا گےا کہ ہم جنوبی پنجاب کے عوام کو آبادی مےں تناسب سے زےادہ ترقےاتی رقوم فراہم کررہے ہےں لےکن حقےقی اعدادودشمار کے مطابق پچھلے سات سا لوں مےں جنوبی پنجاب کو کم از کم 265ارب روپے کی خطےر رقم سے محروم کردےاگےا۔وزیر خزانہ نے کہا کہ گزشتہ دس سالوں مےں پےدا کئے گئے سنگےن معاشی بحران کا خاتمہ آٹھ ماہ کے مختصر عرصہ مےں کےسے ممکن ہوسکتا تھا لےکن ہم نے وزےراعظم عمران خان کی قےادت مےں اس سنگےن صورت حال سے پوری جراتمندی کے ساتھ نمٹنے کا تارےخی فےصلہ کےا۔ ہم نے اےڈہاک ازم سے کام لےنے کی بجائے یہ فےصلہ کےا کہ ہم صوبے مےں ادارہ جاتی اصلاحات ذرےعے اےک اےسے انتظامی ڈھانچے کو وجود مےں لائےںگے جو پائےدار معاشی ترقی کے ساتھ ساتھ اےک عام آدمی کی زندگی مےں آسانےاں پےد اکرنے کا باعث ہوگا۔ ہم نے وزےراعظم عمران خان کی سوچ اور وزےراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی رہنمائی مےں یہ کوشش کی ہے آئندہ مالی سال کے لئے پنجاب کا یہ بجٹ محض اعدادو شمار کا مجموعہ ہونے کی بجائے پنجاب کے عوام کے روشن مستقبل کا عہد نامہ ثابت ہو۔ چنانچہ ہم نے اس بجٹ کی بنےادی تےن ترجےحات پر رکھی ہے جو تحرےک انصاف کی حکومت کا منشور کا محور ہےں۔ یہ تےن ترجےحات کم وسےلہ اور محروم طبقات کا تحفظ ،انسانی وسائل کی ترقی اورےکساں علاقائی ترقی ہے۔اس بجٹ کی بنےادی پنجاب گروتھ سٹرےٹجی پر رکھی گئی ہے جسے حال ہی مےں پنجاب کابےنہ نے منظور کےا ہے۔ گروتھ سٹرےٹےجی 2023آئندہ پانچ سال کے لئے تمام شعبوں مےںحکومت پنجاب کو رہنما اصول فراہم کرے گی اسی حکمت عملی کے تحت ہم نے گزشتہ آٹھ ماہ مےں لےبر ، زراعت ، صنعت ، تعلےم ،ٹورازم اور ماحولےات کے شعبوں مےں نئی پالےساں متعارف کروائےں۔ عوامی فلاح اور سماجی تحفظ کے منصوبے تشکےل دئے گئے جن مےں بے سہار افراد کےلئے پناہ گاہوں کا قےام ، سستے گھروں کی فراہمی ، صحت کارڈز کا اجرائ ، نےا پاکستان منزلےں آسان ، کے تحت دےہی سڑکوں کی تعمےر ، زرعی پےداوار مےں اضافے کے لئے اقدامات اور کاروبار مےں آسانی کی سکےمےں شامل ہےں۔ تحرےک انصاف کے منشور کا اےک بنےادی نکتہ فعال لوکل گورنمنٹ سسٹم کا قےام تھا۔ مجھے خوشی ہے کہ حکومت پنجاب نے8ماہ کی قلےل مدت مےں اےک مربوط لوکل گورنمنٹ سسٹم کا نظام وضع کےا اور پارلےمنٹ سے اس اےکٹ کی منظوری حاصل کرلی۔ یہ اےک اےساتارےخی قدم ہے جس پر کورئی بھی حکومت فخر کرسکتی ہے۔ اس اےکٹ کے تحت پاکستان کی تارےخ مےں پہلی مرتبہ اختےارت کی حقےقی معنوں مےں نچلی سطح تک منتقلی کو ےقےنی بناےاگےا ہے۔ اس نظام کے تحت دےہی اور شہری کونسلوں کے قےام اور ان کو ترقےاتی فنڈز کی براہ راست منتقلی حقےقت مےں اےک گےم چےنجز ثابت ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ تحرےک انصاف صرف وعدوں پر نہےں عمل پر ےقےن رکھتی ہے ،حکومت مےں آنے کے بعد پارٹی کے سربراہ وزےراعظم عمران خان اور ان کی ٹےم نے کفاےت شعاری کا آغاز اپنی ذات سے کےا۔ جہاں اےک طرف وفاقی کابےنہ کے اراکےن نے رضاکارانہ طور پر اپنی تنخواہوں مےں 10فےصد کمی کا فےصلہ کےا تو دوسری طرف ہماری بہاد رافواج نے اپنے اخراجات مےں اضافہ نہ کر کے اےک قابل تحسےن مثال قائم کی ہے وہ بھی ان حالات مےں جب سرحدوں پر کشےدگی ہے اور بھارت اپنے دفاعی بجٹ مےں اضافہ کررہا ہے۔ اس طرح پنجاب مےں بھی وزےراعلیٰ اور ان کی کابےنہ نے تنخواہوں اور دےگر اخراجا ت مےںکمی کے ذرےعے اس شاندار رواےت کا برقرار رکھا ہے۔صوبائی وزیر خزانہ نے اپنی تقریر میں بتایا کہ پنجاب کے آئندہ مالی سال2019-20ئ کے بجٹ کا مجموعی حجم 2,300ارب 57کروڑ روپے تجوےز کےا گےا ہے جس مےں سے 350ارب روپے ترقےاتی جبکہ1,717ارب 60کروڑ روپے غےر ترقےاتی مقاصد کےلئے مختص کئے گئے ہےں۔جنرل ریو نیو ریسپٹ کی مد مےں1,990ارب روپے کی وصولےوں کا تخمےنہ لگاےا گےا ہے،اےن اےف سی کے تحت وفاقی حکومت کی جانب سے پنجاب کو 1601ارب 46کروڑ ورپے ملنے کی توقع ہے جبکہ صوبائی محصولات کی مد مےں388ارب 40کروڑ روپے کا تخمےنہ لگاےاگےا ہے۔ مالی سال مےں جاریہ اخراجا ت کا کل تخمےنہ 1298ارب80کروڑ روپے لگاےاگےا ہے جس مےں337ارب 60کروڑ روپے تنخواہوں کی مدمےں244ارب 90کروڑ روپے پنشن ،مقامی حکومتوں کےلئے 437ارب 10کروڑ اور سروس ڈےلےوری اخراجا کےلئے 279ارب 20کروڑ روپے کی رقم مختص کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں اس معزز اےوان کو یہ بتاناچاہتا ہوں کہ حکومت پنجاب کفاےت شعاری کی پالےسی پر سختی سے عمل پےرا ہوتے ہوئے آئند ہ مالی سال کے بجٹ مےں جاریہ اخرجات مےںرواں مالی سال کے مقابلے مےںصرف 2.7فےصداضافہ کےا گےا ہے۔ یہ پنجاب کی تارےخ مےں سال بہ سال ہونے والا سب سے کم اضافہ ہے اوریہ سادگی اور کفاےت شعاری کی بہترےن مثال ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک مےں موجودہ مالی بحران کے پےش نظر حکومت پنجاب کی جانب سے گزشتہ برس کی طرح اس سال بھی 223ارب روپے کی رقم بجٹ مےں سرپلس کے طور رپر رکھی جارہی ہے جو کہ قومی بجٹ خسارہ کم کرنے مےں مدد گار ہوگی اور محصولات کے اہداف کے حصول پر اگلے مالی سال مےں دستےا ب ہوگی۔ وسائل کی کمی اور مشکل اقتصادی صورت حال کے باوجود سالانہ ترقیاتی پروگرام کے لئے 350ارب روپے مختص کئے جارہے ہےں جو کہ پچھلے سال کے مقابلے مےں47فےصد زےادہ ہےں۔ ترقےاتی پروگرام ترجےحات کی روشنی مےں تشکےل دےا گےا ہے اور اس ترقےاتی پروگرام مےں125ارب روپے سوشل سےکٹر ،88ارب انفراسٹرکچر ڈوےلپمنٹ ،34ارب پروڈکشن سےکٹر ،21ارب سروسز سےکٹر17ارب دےگر شعبہ جات23ارب سپےشل پروگرامز ،42ارب پبلک پرائےوےٹ پارٹنر شپ کی مد مےں رکھے گئے ہےں۔ جب تحرےک انصاف کی قےادت رےاست مدےنہ کے ماڈل کی بات کرتی ہے تو ہمارے مد نظر اےسا معاشرہ ہوتا ہے جس مےں پسماندہ اورمحروم طبقات کے تحفظ کو ےقےنی بناےا جاتا ہے اسی تصور کو ممکنہ کے حدتک عملی شکل دےنے کے لئے حکومت پنجاب اےک جامع پنجاب احساس پروگرام کے آغاز کا فےصلہ کےا ہے۔ پنجاب احسا س پروگرام کے تحت 3ارب روپے کی لاگت سے باہمت بزرگ پروگرام کا اجرائ کےا جارہا ہے جس کے تحت 65سا ل سے زائد عمر کے اےک لاکھ پچاس ہزار بزرگوں کی ماہانہ مالی معاونت کے لئے2000ہزار روپے الا?نس دےا جائے گا۔معذور افراد اوران کے خاندانوں کو درپےش مسائل کسی سے پوشےدہ نہےں۔ حکومت ان خاندانوں کی مشکلات مےں کمی کے لئے ”ہم قدم “کے نام سے 3ارب 50کروڑ روپے کی لاگت سے اےک پروگرام کا آغازکرنے جارہی ہے۔ اس پروگرام کے تحت2لاکھ سے زےادہ افراد کو 2000روپے ماہانہ کی مالی امداد مہےا کی جائے گی۔ بےوا?ں اور ےتےم بچوں کی کفالت کے لئے2ارب روپے کی لاگت سے ”سرپرست پروگرام “متعارف کرواےا جارہا ہے۔ اس پروگرام کے تحت بےوہ خواتےن کی مالی معاونت کے لئے ماہانہ2ہزار روپے کا وظےفہ مقرر کےا جائے گا۔ پنجاب مےں فنکاروں اور ہنر مندوں کی مالی امداد مےں خاطر خواہ اضافے کا فےصلہ کےا گےا ہے۔معاشرے کے اےک محروم طبقے ےعنی خواجہ سرا?ں کی فلاح بہبود کےلئے20کروڑ روپے کی لاگت سے ”مساوات پروگرام “کا آغاز کےا جارہا ہے۔تےزا ب گردی جےسے سنگےن جرم کا شکار افراد کی بحالی کےلئے10کروڑ کی لاگت سے ”نئی زندگی پروگرام “کا آغاز کےاجارہا ہے۔ خواتےن کو معاشی طور پر خود مختار بنانے کےلئے 8ارب روپے کی لاگت سے اےک پانچ سالہ منصوبے کا آغاز کےا جارہاہے۔تحرےک انصا ف کی حکومت نے دہشت گردی کا نشانہ بننے والے سرکاری اہلکاروں کی طرح اےک باقاعدہ پالےسی کے تحت عام شہرےوں کے اہل خانہ کی مالی امداد کا بھی فےصلہ کےا ہے۔ ”خراج شہدا ئ پروگرام “کے تحت دہشتگردی کا شکار ہونے والے ان شہرےوں کی بےوا?ں اورےتےموں کی کفالت کو اس وقت تک ےقےنی بناےا جائے گا جب تک وہ اپنے پا?ں پر کھڑے نہ ہوجائےں ، اس مقصد کےلئے 30کروڑ روپے مہےا کئے جائےں گے۔ لاہور مےں بے گھر افراد کے لئے پناہ گاہ منصوبہ بےحد کامےاب رہا ہے۔ پنجاب احساس پروگرام کے تحت پورے پنجاب مےںپناہ گاہوں کے قےام کو ےقےنی بناےا جائے گا۔ آئندہ مالی سال مےں ڈوےڑنل ہےڈ کوارٹرز مےں مزےد9پناہ گاہوں کا قےام عمل مےں لاےا جائے گا۔ ہماری حکومت نے مےگا پراجےکٹس کے تصور کو اےک نےا رخ دےا ہے۔ اب یہ مےگا پراجےکٹس مخص سڑکوں اور پلوں تک محدود نہےں رہےں گے۔ہم نے صحت ، تعلےم ، صنعت اورزراعت سمےت دےگر شعبوں مےں مےگا پراجےکٹس شروع کرنے کا فےصلہ کےا ہے۔ صحت کے شعبہ مےں پنجاب کی تارےخ کاسب سے بڑ بجٹ لار ہے ہےں چنانچہ آئندہ بجٹ مےں صحت کے لئے مجموعی طور پر 279ارب روپے کی خطےر رقم مختص کی جارہی ہے ،اس ضمن مےں مختص کی جانے والی رقم گزشتہ حکمرانوں کے دور حکومت کے آخری بجٹ سے 20فےصد زےادہ ہے۔لاہور مےں محض ٹرانسپورٹ کے اےک زےر تعمےر منصوبے پر صرف ہونے والی مجموعی رقم پنجاب کے طول وعرض مےں کم از کم 50جدےد ترےن ہسپتالوں کی تعمےر عمل مےں لائی جاسکتی تھی۔ یہ افسوس ناک حقےقت ہے کہ لاہور جےسے بڑے شہر مےں گزشتہ کئی ادوار سے اےک بھی نئی جنرل ہسپتال کا قےام عمل مےںنہےں لاےا جاسکا۔وزیر خزانہ نے بتایا کہ پنجاب کے مختلف شہروں مےں تقرےباً40ارب روپے کی لاگت سے 9جدےد ہسپتالوں کے قےام کا اعلان کرتا ہوں ، یہ ہسپتال لیہ، لاہور ، مےانوالی ، رحےم ےارخان ، راولپنڈی ، ڈی جی خان، ملتان اور راجن پور مےں تعمےر کئے جائےں گے۔ اسی طرح صحت عامہ کے وہ منصوبے جو گزشتہ حکومت نے سےاسی وجوہ کی بنا پر سرد خانے کی نظر کرد ئیے تھے ہمار ی حکومت نے وہ تمام منصوبے بحال کرنے کا فےصلہ ہے ،اس ضمن مےں فاطمہ جناح انسٹی ٹےوٹ آف ڈےنےسٹری خاص طور پر ذکر کرنا چاہوں جس پر کام کا آغاز کےا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ تحرےک انصاف کے منشور کے عےن مطابق عوام صحت انصاف کارڈ کے فقےد المثال منصوبے کا آغاز کےا جاچکا ہے ،اس سال کا دائرہ کارپنجاب کے 36اضلاع تک بڑھا دےا جا ئے گا اور آئندہ مالی سال کے بجٹ مےں اس منصوبے کےلئے2ارب روپے مختص کئے گئے ہےں۔قومی ترقی مےں تعلےم کی تمام تر اہمےت کے باوجود گزشتہ دور مےںصحت کی طرح تعلےم کے شعبے کووہ اہمےت نہےں دی گئی جس کا یہ مستحق تھا۔ ہماری حکومت نے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں تعلےم کے شعبے کےلئے383ارب روپے کی رےکارڈ رقم مختص کی ہے۔ہم دےانتداری سے سمجھتے ہےں کہ تعلےم کے شعبے مےں درپےش مسائل انوویٹو قدامات کے بغےر حل نہےں کئے جاسکتے۔ پنجاب مےں انصاف سکول پروگرام کے تحت شام کی شفٹ کا اجرائ ہماری اسی سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔ اس اقدام کے ذرےعے جہاں اےک طرف ہم سکولوں مےں پہلے سے موجودہ سہولوتوں اور مسائل سے فائدہ اٹھاسکےں گے وہاں ہمار ایہ قدم لےٹرےسی رےٹ واضح مےں اضافہ کا باعث بنے گا۔ سکول اےجوکےشن کی طرح ہائر اےجوکےشن بھی ہماری ترجےحات کا حصہ ہے۔مےں آج اس اےوان مےںنہاےت خوشی کے ساتھ صوبے مےں چھ نئی ےونےورسٹےوں کے قےام کا اعلان کررہا ہوں جو کہ مری ، چکوال ، مےانوالی ، بھکر اور روالپنڈی مےں قائم کی جائےں گی ، ان کے علاوہ ننکانہ صاھب مےں بابا گورو نانک ےونےورسٹی کے قےام کا منصوبہ ہے جو کہ اعلی تعلےم کے ساتھ ساتھ پاکستان مےں اقلےتوں کی موثر نمائندگی کی علامت بھی ثابت ہوگی۔پنجاب بھر مےں اس مالی سال کے دوران 63کالجز مکمل کرنے کا فےصلہ کےا ہے ، ان کالجوں کی تعمےر پر 2ارب روپے سے زائد کی رقم صرف ہوگی۔ اسی طرح صوبے کے 68کالجوں مےں عدم موجودہ سہولےات کی فراہمی کے لئے اےک ارب76کروڑ کی رقم مختص کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ حکومت کے صاف پانی کے نام سے شروع کئے گئے نام نہاد منصوبے کا ذکر مےں پہلے بھی کرچکاہوں۔ ہماری حکومت نے اےک جامع حکمت عملی کے تحت صاف پانی کی فراہمی کےلئے آب پاک اتھارٹی تشکےل دی ہے اس مقصد کےلئے 8ارب روپے کی رقم مختص کی جارہی ہے ،صاف پانی کے اس منصوبے کا آغاز پنجاب کے دےہی اور دور دراز علاقوں سے کےا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پنجا ب پورے صوبے مےں وسائل کی منصفانہ تقسےم اور ترقی کے ےکساں مواقع کی فراہمی پر ےقےن رکھتی ہے ، جنوبی پنجاب کے ساتھ کی گئی زےاتےوں کا ذکر مےں پہلے بھی کرچکا ہوں ،اب ان کے ازالے کےلئے آئندہ مالی سال کے ترقےاتی بجٹ کا 35فےصد جنوبی پنجا ب کے لئے مختص کےا جارہا ہے۔ آئندہ جنوبی پنجاب کے علاقوں کے لئے مختص رقوم کو کسی اور مقصد کےلئے استعمال نہےں کےا جاسکے گا۔ چنانچہ حکومت نے پنجاب کابےنہ کی منظوری کے ساتھ یہ فےصلہ کےا ہے جنوبی پنجا ب کےلئے مختص ترقےاتی بجٹ کو صرف جنوبی پنجاب مےں ہی استعمال کےا جائے گا۔آئندہ مالی سال مےں جنوبی پنجاب کے نماےاں ترقےاتی منصوبہ جات مےں ملتان مےں نشتر ٹو ہسپتال ، رحےم ےارخان مےں آئی ٹی ےونےورسٹی فےز llاور شےخ زےد ہسپتال فےز llڈی جی خان مےں انسٹی ٹےوٹ آف کارڈےالوجی ، ٹےکنالوجی ےونےورسٹی اور سےف سٹی پراجےکٹ ، لیہ مےں200بستروں پر مشتمل زچہ بچہ ہسپتال اور بہاولپور مےں چلڈرن ہسپتال کا قےام بھی شامل ہےں۔ تونسہ اورمظفر گڑھ مےں صنعتی سرگرمےوں کے فروغ کےلئے انڈسٹرےل اسٹےٹس کے منصوبے بھی آئندہ بجٹ کا حصہ ہےں۔ حکومت پنجا ب قومی ےکجہتی کے جذ بے کے تحت بلوچی بھائےوں کے لئے کوئٹہ مےں کارڈےالوجی ہسپتال اورخاران مےں ٹےکنےکل ٹرےننگ سنٹر کے قےام کےلئے بجٹ مےں فنڈز مہےاکررہی ہے۔چھوٹے اورانٹر مےڈےٹ شہرو مےںتمام بنےادی شہری سہولتوں کی فراہمی ہمار امشن ہے اس حکمت عملی کے ذرےعے بڑے شہروں پر آبادی کا دبا? بھی کم ہوگا۔ پنجاب کے پانچ بڑے شہروں کو پہلی بار ماسٹرپلےننگ کے ذرےعے شہری سہولےات فراہم کی جائےں گی اس مقصد کےلئے اےک ارب54کروڑ روپے کی لاگت سے اےک بڑے منصوبے کاآغاز کےا جارہا ہے۔وزےراعظم عمران خان نے قومی سے اپنے پہلے خطاب مےںبے گھر اورمستحق افراد کےلئے پچاس لاکھ گھروں کی تعمےر کے عزم کا اظہار کےا تھا۔ مجھے خوشی ہے کہ پنجاب مےںوزےراعظم کے اس عوام دوست اقدام کے تحت تےن مراحل مےں اےک لاکھ سترہزار مکانات کی تعمےر کا باقاعدہ آغا کےا جار ہا ہے۔اب مےں پاکستا ن کی معےشت کے اےک انتہائی اہم شعبے ےعنی زراعت کے بارے مےں آئندہ بجٹ مےں تجوےز کئے گئے اقدامات اورمنصوبوں کا ذکر کرنا چاہوں گا۔ تحرےک انصاف کے نزےدگ زرعی شعبہ کی اہمےت کا اندازہ اس امر سے لگا جاسکتا ہے کہ وزےراعظم عمران خان نے اپنا منصب سنبھالتے ہی نہ صرف اےک جامع زرعی پالےسی کے تحت کمپری ہےنسےو اصلاحات تجوےز کےں بلکہ ان کی اصلاحات پر عملدرآمد کےلئے پانچ برسوں پر محےط 125ارب روپے کے اےک عظےم الشان زرعی پےکج کا اعلان بھی کےا۔ حکومت پنجا ب نے آئندہ مالی سال مےں زراعت کے لئے مختص ترقےاتی بجٹ مےں پچھلے برس کی نسبت 100فےصد سے زائد اضافہ کر نے کا فےصلہ کےا ہے۔آئندہ مالی سال کے بجٹ مےں اس شعبہ مےں مجموعی طور پر 40ارب 76کروڑ روپے کی رقم رکھی گئی ہے۔ محکمہ زراعت کے بجٹ مےں مختلف کھادوں اور بےجوں پر دی جانے والی سبسڈےز ، ای کرےڈےٹ اورفصل بےمہ پروگرام کےلئے7ارب 85کروڑ روپے کی خطےر رقم تجوےز کی گئی ہے۔ حکومت نے کاشتکاروں کو زرعی پےداوار کی مناسب قےمت دلانے کےلئے صوبے مےں ماڈل آکشن مارکےٹس کے قےام کا فےصلہ کےا ہے۔ مارکےٹنگ کے اس جدےد نظام سے کاشتکاروں کے علاوہ زرعی اجناس کے برآمد کنندگان بھی فائدہ اٹھا سکےں گے۔ حکومت نے کاشتکاروں تک براہ راست سبسڈی پہنچانے کےلئے اےگری سمارٹ کارڈ کے اجرائ کا بھی فےصلہ کےا ہے۔ شجرکاری کو فروغ دئیے بغےر بڑھتی ہوئی ماحولےاتی آلودگی اور اس کے نتےجے مےں پےدا ہونے والی طرح طرح کی بےمارےوں پر قابو پانا ممکن نہےں۔ چنانچہ حکومت پنجاب نے آئندہ پانچ برسوں کے دوران محکمہ جنگلات کے تحت 55کروڑ درخت لگانے کا پروگرام تےار کےا ہے، اگلے مالی سال کے بجٹ مےں اس مقصد کے لئے3ارب45کروڑ روپے مختص کئے گئے ہےں۔صنعت کا شعبہ بھی ہماری معےشت کی ترقی اور استحکام کےلئے کلےدی حےثےت کا حامل ہے جو مقامی پےداوار مےں اضافہ اور روزگار کے نئے مواقع پےدا کرنے کا باعث بنتا ہے۔ ہم نے جہاں اےک طرف پنجا ب بےمار صنعتوں کی بحالی کےلئے موثر منصوبے تشکےل دئیے ہےں وہاں ہم نے صوبے کے مختلف حصوں مےں نئے صنعتی مرازک اور سپےشل اکنامک اورسپےشل اکنامک زونز قائم کرنے کا فےصلہ کےا ہے۔وزیر خزانہ نے کہا کہ فےصل آباد میں23ار ب روپے کی لاگت سے علامہ اقبال انڈسٹرےل سٹی کے نام سے اےک بڑے صنعتی مرکز کے قےام کا منصوبہ تےا کےا ہے ہم نے پچھلی حکومت کی بد انتظامی کا شکار قائد اعظم ایپرل پارک شےخو پورہ کو فعال کرنے کا بھی فےصلہ کےا ہے اس کے علاوہ مظفر گڑھ مےں پبلک پرائےوےٹ پارٹنر شپ سے انڈسٹرےل پارک اور تونسہ مےں سمال انڈسٹرےل بناےا جائے گا۔اےزی آف ڈوئنگ بزنس کے تحت کاروبار مےں آسانی کےلئے اہم اقداما ت کئے جارہے ہےں۔بزنس رجسٹرےشن پورٹل کے تحت حکومتی دفاتر کے چکر لگائے بغےر کاروبار کی آن لائن رجسٹرےشن کی جارہی ہے اور اس کے تحت اب تک 14ہزار نئے کاروبار رجسٹرڈ کئے جاچکے ہےں۔ ٹےکس کی ادائےگی کے حوالے سے پنجاب رےونےواتھارٹی کے تحت آن لائن سسٹم کا آغاز کردےا گےا ہے۔ حکومت کی معاشی پالےسی کا اےک بنےادی جز و سےاحت کا فروغ ہے۔ اس مقصد کےلئے اےک مربوط ٹورازم پارلےسی وضع کی جاچکی ہے۔ اس پالےسی کے تحت حکومت پنجاب نے نئے ٹورسٹ مقامات کو ڈوےلپ کرے گی اور اس کے ساتھ سات موجود ہ مقامات پرتمام ترسہولےات مہےا کی جائےں گی۔ محکمہ ٹورازم اب تک9اےسے مقامات کی نشاندہی کرچکا ہے جو ٹوارازم کا پوٹےنشل رکھتے ہےں ان مقامات مےں سون وےلی ،ا ٹک ،کالا باغ ،بہاولپور ،کو ہ سلےمان اور جہلم شامل ہےں۔ پنجاب مےںریلیجس ٹورازم کے فروغ کےلئے بھی اہم اقدامات کئے جارہے ہےں ، حکومت پنجاب پنجاب ٹورازم اتھارٹی قائم کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومتی اثاثوں کے بہترےن استعمال اور وسائل مےں اضافہ کےلئے اےسی تمام تارےخی سرکاری عمارتےں جو ٹورازم کے اعتبار سے پرکشش ہےں سےاحتی اورکمرشل مقاصد کےلئے استعمال کی جائےں گی ، اسی طرح حکومت پنجاب 177رےسٹ ہا?سز کو عام پبلک کےلئے کھولنے کا بے مثال فےصلہ کےا گےاہے۔ انہوںنے کہا کہ نوجوان ہمارا سب سے قیمتی اثاثہ ہیں جنہیں کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ حکومت پنجاب یوتھ پیکج کا آغاز کر رہی ہے جس کے تحت ایجوکیشن ، سکلز ڈویلپمنٹ، سپورٹس، یوتھ اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبہ جات میں مختلف پروگرام متعارف کرائے جارہے ہیں جن کے تحت نوجوانوں کو روزگار اور فنی تربیت کی فرہامی کے ذریعے لیبر فورس کا حصہ بنایا جا سکتا ہے ان پروگرامز میں ٹیوٹا کا ” ہنر مند پروگرام “ او رپنجاب سمال انڈسٹریز کا بلا سود قرضوں کا پروگرام سر فہرست ہیں۔۔ حکومت نے موجودہ مشکل معاشی حالات میں محدود وسائل کے بہتر استعمال کے لئے انوویٹو فنانسنگ کے ذریعے پرائیویٹ سیکٹر کو متحرک کرنے کا فیصلہ کیا ہے اس پالیسی کے تحت پنجاب پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ اتھارٹی کا قیام عمل میں لایا جارہا ہے۔ پرائیویٹ سیکٹر کے وسائل کو استعمال میں لانے کے لئے خاص طور پر انفراسٹر اکچر کا انتخاب کیا گیا ہے اس ضمن میں 13روز کا انتخاب کیا گیا ہے یہاں اس بات کی بھی وضاحت ضروری ہے کہ زیادہ سرکاری وسائل سوشل سیکٹر کی ترقی کے لئے استعمال کئے جائیں گے۔ پنجاب اسمبلی میں آئندہ مالی سال 2019-20ئ کا بجٹ پیش کئے جانے کے موقع پر اپوزیشن نے شدید احتجاج کیا ،اپوزیشن اراکین نے وزیر خزانہ کی بجٹ تقریر کے آغاز سے اختتام تک حکومت کے خلاف نعرے جاری رکھی او رایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ کر ایوان میں پھینکتے رہے جبکہ حکومتی بنچوں سے اراکین نعرے تحریرکر کر ایوان میں لہراتے رہے ، اپوزیشن کی جانب سے پنجاب اسمبلی کے احاطے میں بھی حکومت کے خلاف نعرے بازی کی گئی۔ تفصیلات کے مطابق پنجاب اسمبلی کابجٹ اجلاس مقررہ وقت تین بجے کی بجائے 30منٹ کی تاخیر سے سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی کی صدارت میں شروع ہوا۔ وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار اجلاس کے آغاز پر ایوان میں موجود تھے۔ وزیر اعلیٰ کی آمد پر حکومتی اراکین نے کھڑے ہو کر اور ڈیسک بجا کر ان کا استقبال کیا جبکہ قائد حزب اختلاف بجٹ تقریر کا آغاز ہونے پر ایوان میں آئے جس پر اپوزیشن اراکین نے شیر شیر کے نعرے لگاکر ان کا استقبال کیا۔ سپیکر پنجاب اسمبلی کی جانب سے وزیر خزانہ مخدوم ہاشم جواں بخت کو آئندہ مالی سال کا بجٹ پیش کرنے کا کہا گیا جس پر انہوںنے تین بجکر 35منٹ پر تقریر شروع کی تو اپوزیشن اراکین نے احتجاج کیا کہ بجٹ بکس کہاں ہیں اور شور شرابہ شروع کر دیا جس پر سپیکر نے کہا کہ جب تقریر شروع ہو گی تو آپ کو کاپیاں ملیں گی اور اس کی تقسیم شروع کر دی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی اپوزیشن اراکین نے اپنی نشستوں سے اٹھ کر جھوٹے جھوٹے کے نعرے لگانے شروع کر دئیے۔ اسی دوران اپوزیشن اراکین اپنی نشستوں سے اٹھ کر سپیکر ڈائس کے سامنے جمع ہو گئے اور نعرے بازی کرتے رہے جبکہ اس دوران اپوزیشن اراکین ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ کر ایوان میں اچھالتے رہے۔ اس دوران حکومتی اراکین اپوزیشن کی توجہ بجٹ تقریر کی کتاب پر درج قرآنی آیات کی جانب مبذول کراتے رہے۔اپوزیشن اراکین کے سپیکر ڈائس کے سامنے جمع ہونے پر حکومتی اراکین بھی باہر آ گئے اور ٹولیو کی صورت میں وزیر خزانہ ، سپیکر کے گرد حفاظتی حصار قائم کر لیا جبکہ کچھ اراکین وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کی نشست کے قریب بھی کھڑے ہو گئے۔ اپوزیشن اراکین بجٹ تقریر کے دوران جھوٹے جھوٹے، جعلی بجٹ نا منظور، آٹا مہنگا ہائے ہائے، بجلی مہنگی ہائے ہائے ، چینی مہنگی ہائے ہائے ، گلی گلی میں شور ہے علیمہ باجی چور ہے ، گونیازی گو ، گو عمران گو ، گرتی ہوئی دیواروں کو ایک دھکا اور دو کے نعرے لگاتے رہے جبکہ اس دوران اپوزیشن کی خاتون رکن زینب النسائ سینہ کوبی کرتی رہیں۔ حکومتی بنچوں کی جانب سے اپوزیشن کے نعروں کے جواب میں ایجنڈے کی کاپیوں پر مختلف نعرے تحریر کر کے لہرائے جاتے رہے۔اجلاس کے دوران حکومتی بنچوں سے وقفے وقفے سے ڈیسک بجا کر وزیر خزانہ کو داد بھی دی جاتی رہی جبکہ بجٹ تقریر مکمل ہونے پر حکومتی اراکین نے بھرپور شدت سے آواز بلند کی جبکہ ان کے مقابلے میں اپوزیشن کی جانب سے گو عمران گو کے شدید نعرے لگائے گئے۔اپوزیشن اراکین نے اسمبلی احاطے میں بھی حکومت کے خلاف نعرے لگائے۔
Monthly Archives: June 2019
آج آسڑیلیا بمقابلہ سری لنکا، افغانستان بمقابلہ جنوبی افریقہ میں کڑاکے دارمعرکہ
کارڈف ویلز :(ویب دیسک)ورلڈ کپ میں آج دو میچز کھیلے جائیں گے جس میں پہلامقابلہ آسٹریلیا اور سری لنکا جب کہ دوسرا افغانستان اور جنوبی افریقا کے درمیان ہوگا۔پہلا میچ اوول گراو¿نڈ میں آسٹریلیا اور سری لنکا کے درمیان ہوگا جس کا آغاز پاکستانی وقت کے مطابق دوپہر 2:30 بجے ہوگا۔دوسرے میچ میں افغانستان اور جنوبی افریقا کی ٹیمیں کارڈف ویلز اسٹیڈیم میں مدمقابل ہوں گی اور یہ میچ پاکستانی وقت کے مطابق شام ساڑھے 5 بجے شروع ہوگا۔ایونٹ میں سری لنکا اب تک چار میچز میں سے ایک میں کامیابی حاصل کرسکی ہے جب کہ آسٹریلیا چار میچز میں سے تین میں فاتح رہی۔پوائنٹس ٹیبل کے اعتبار سے آسٹریلیا تیسرے نمبر پر ہے جب کہ سری لنکا پانچویں نمبر پر ہے۔دوسری جانب جنوبی افریقا اور افغانستان کی ٹیمیں اب تک چار میچز کھیل چکی ہیں اور چاروں میچز میں دونوں کو شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔پوائنٹس ٹیبل کے اعتبار سے جنوبی افریقا نویں نمبر جب کہ افغانستان آخری یعنی دسویں نمبر پر ہے۔
پاک بھارت ٹاکرا ، ٹکٹوں کی منہ مانگی قیمت پر بلیک میں فروخت
مانچسٹر(این این آئی)ورلڈ کپ کرکٹ ٹورنامنٹ میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والے میچ کے لیے ٹکٹوں کی بلیک میں فروخت میں اضافہ ہو گیا ہے۔تفصیلات کےمطابق پاکستان اور بھارت کی ٹیمیں اتوار 16 جون کو مانچسٹر کے اولڈ ٹریفورڈ میں مقابلہ کریں گی، اس میچ کو دیکھنے کیلئے دونوں ٹیموں کے شائقین ایک بڑی تعداد میں مانچسٹر پہنچنا شروع ہو گئے ہیں۔دوسری جانب میچ سے تین دن قبل ٹکٹوں کی مانگ میں اضافہ ہو گیا ہے اور جن لوگوں کے پاس ٹکٹس ہیں وہ منہ مانگے دام وصول کر نے لگے پولیس اور آئی سی سی کی وارننگ کے باجود ٹکٹوں کی بلیک مارکیٹنگ میں اضافہ ہو گیا ہے۔پاک بھارت میچوں کی تمام ٹکٹیں تمام فروخت ہو چکی ہیں اور بلیک مارکیٹ میں 150 پاو¿نڈ والا ٹکٹ ڈہائی سے تین ہزار پاو¿نڈ تک میں فروخت ہو رہا ہے لیکن شائقین کے جوش پر بارش پانی پھیر سکتی ہے۔برطانوی محکمہ موسمیات نے اتوار کو بارش کی پیش گوئی کی ہے، صبح 10 بجے سے شام 7 بجے تک بارش کے 40 سے 50 فیصد تک امکانات ہیں۔ مانچسٹر کے ہوٹل مالکان منہ مانگی قیمت وصول کر رہے ہیں اور شہر میں بھی معمول سے زیادہ رونق ہے۔انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی ) کے زیر اہتمام عالمی کپ کرکٹ ٹورنامنٹ میں پاکستان کرکٹ ٹیم پانچواں میچ روایتی حریف بھارت کے خلاف(کل)16 جون کو مانچسٹر میں کھیلے گی۔ تفصیلات کےمطابق روایتی حریفوں پاکستان اور بھارت کا ٹاکرا 16 جون کو مانچسٹر میں ہو گا چھٹا میچ 23 جون کو جنوبی افریقہ کے خلاف لارڈز میں کھیلے گی، ساتواں میچ 26 جون کو نیوزی لینڈ کے خلاف برمنگھم میں کھیلے گی، آٹھواں میچ 29 جون کو افغانستان کے خلاف لیڈز کے مقام پر کھیلے گی جبکہ نواں میچ بنگلہ دیش کے خلاف 5 جولائی کو لارڈز کے مقام پر کھیلے گی۔دوسری جانب ورلڈ کپ کرکٹ ٹورنامنٹ میں ابتدائی چار میں سے دوسرا میچ ہارنے کے بعد پاکستان ٹیم کا سفر مزید مشکل ہوگیا ہے تاہم سیمی فائنل کھیلنے کے لئے گرین شرٹس کو اگلے پانچ میچوں میں اچھی کارکردگی دکھانا ہوگی۔ماہرین کے مطابق بقیہ میچز میں پاکستان کے پاس غلطی کی گنجائش بھی نہیں ہے، کپتان سرفراز احمد نے بھی اعتراف کیا کہ اگر ہم نے بڑی ٹیموں کو ہرانا ہے تو کم سے کم غلطیاں کرنا ہوں گی۔پوائنٹس ٹیبل پر نظر ڈالیں تو 10 ٹیموں کے اس ورلڈ کپ میں پاکستان کا آٹھواں نمبر ہے، نیوزی لینڈ تینوں میچ جیت کر ٹاپ پر ہے، آسٹریلیا نے چار میں سے تین میچ جیتے، اس طرح وہ تیسرے نمبر پر ہے جبکہ انگلینڈ نے تین میں سے دو اور بھارت نے بھی اپنے دونوں میچز جیتے ہیں۔اگلے میچز میں اچھے رن ریٹ کے ساتھ فتح ہی پاکستانی کشتی کو کنارے لگاسکتی ہے۔
جسم کے پر یشر پوائنٹس کب دبا نے چا ہیں
انسانی جسم قدرت نے اس طرح تخلیق کیا ہے کہ ہر چیز اعتدال میں رہ کر کرنے سے ہی انسان صحت مند رہ سکتا ہے۔ اگر جسم میں کسی بھی چیز کی زیادتی ہو گی تو وہ نقصان کا ہی باعث بنتی ہے۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ وزن بڑھنے کی سب سے بڑی وجہ کیا ہوتی ہے، جی ہاں، ضرورت سے زیادہ یا بے وقت کھانا کھانے سے انسان کے وزن میں تیزی سے اضافہ ہوتا ہے۔لیکن، جسم میں کچھ پریشر پوائنٹ ہوتے ہیں جس کو دبانے کے حیرت انگیز طور پر آپ ضرورت سے زیادہ کھانا کھانے کی عادت پر قابو پا سکتے ہیں۔ اچھی بات یہ ہے کہ یہ کام آپ گھر بیٹھے کر سکتے ہیں، اس کے لیے آپ کو کہیں باہر جانے کی ضرورت نہیں اور نہ ہی پیسے خرچ کرنے کی ضرورت ہے۔دماغ کا مرکزی حصہ جو کے کھانے، ہاضمے اور بھوک کا ذمہ دار ہوتا ہے، 3 خاص پریشر پوائنٹس کو دبانے سے درست طریقے سے کام کرتا ہے۔ چلیں ہم آپ کو انہی پریشر پوائنٹس کےبارے میں بتاتے ہیں۔
1. گردن کے پیچھے
اپنی گردن کے پیچھے دنوں ہاتھوں سے ہلکا مساج کریں ، یہ پریشر پوائنٹ گردن کے بلکل پیچھے جہاں سے بال گردن سے ملتے ہیں وہاں موجود ہے۔ اس جگہ کا ہلکے ہاتھوں سے مساج کرنے سے ا?پ ضرورت سے زیادہ کھانے کی عادت سے چھٹکارا حاصل کرسکتے ہیں اور ساتھ ہی دباو¿ یعنی اسٹریس اور سر درد سے بھی نجات حاصل کر سکتے ہیں۔
2. ہاتھ کے پیچھے والا حصہ
اپنے ہاتھ کے انگوٹھے اور انگلی کے درمیان کا حصہ تقریباً 30 سیکنڈ تک زور سے دبا کر رکھیں، اس حصے کو دبانے سے ا?پ کی بھوک کنٹرول میں رہے گی اور جسمانی تکلیف اور دباو¿ کے لیے بھی معاون ثابت ہوگا جب کہ اس پریشر پوائنٹ کو دبانے سے خون میں شکر کی سطح بھی برقرار رہتی ہے
3. ناک کا اوپری حصہ
ناک کا وہ حصہ جو بھوو¿ں کے نیچے سے شروع ہوتا ہے اسے دبانا کافی موثر ثابت ہوسکتا ہے، یہ وہ حصہ ہے جہاں نسوں کی تعداد زیادہ ہوتی ہے۔ اس حصے کو دبانے سے اعصابی نظام درست سمت میں کام کرتا ہے اور زیادہ بھوک محسوس ہونے والی عادت کافی حد تک کم ہوجاتی ہے۔
سینئر صحافی چیف ایڈیٹر روز نا مہ طاقت رحمت علی رازی اچانک دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے
لاہور (وقا ئع نگار) سی پی این ای اسلام آباد کے نائب صدر معروف صحافی کالم نگار اورروزنامہ طا قت کے چیف ایڈیٹر رحمت علی رازی انتقال کر گئے۔ بتایا گیا ہے کہ وہ فیصل آباد میں اپنے بیٹے کے ہمراہ ایک شادی کی تقریب میں شرکت کے بعد لاہور واپس آ رہے تھے کہ انہیں اچانک دل کا دورہ پڑا انہیں فوری طور پر اتفاق ہسپتال لے جایا گیا جہاں وہ جانبر نہ ہو سکے۔ مرحوم نے پسماندگان میں بیوہ‘ 2بیٹیاں اور 2بیٹے چھوڑے ہیں۔ مرحوم کی نمازجنازہ کا اعلان بعد میں ہو گا۔ مرحوم کی بیٹیاں بیرون ملک مقیم ہیں۔
دہشت گردی سے بڑا جرم کرپشن ،اس کی معافی نہیں ہونی چاہیے: طارق ممتاز ، جعلی اکاﺅنٹس سامنے آ رہے ہیںکرپشن اور منی لانڈرنگ نے صورتحال خراب کی : آغا باقر ، فریال تالپور کرپشن میں ملوث ہیں تو انکا احتساب ہونا چاہیے: ثروت روبینہ ، قوم کے معاشی قاتلوں کو سزا ملنی چاہیے، اور بدعنوانی کا سدباب کیا جائے: رانا منیر ، چینل ۵ کے پروگرام ” کالم نگار“ میں گفتگو
لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) کالم نگار ثروت روبینہ نے کہا ہے کہ بطور انسان احترام ہونا چاہئے چاہے خاتون ہو یا مرد ایسا نہیں کہ جنس کی بنیادپر احترام کیا جائے انسان کوئی تبھی کہلائے گا جب اس کا رویہ بھی انسانی ہو۔۔ چینل فائیو کے تجزیوں اور تبصروں پر مشتمل پروگرام ”کالم نگار“ میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فریال تالپور نے غلط کام کیا تو احتساب لازم ہے۔ایسے معاشرے جس میں طاقتور کا احتساب نہ ہو تباہ ہو جاتے ہیں۔کرپشن بڑا جرم ہے۔پیسہ کمانے کے جائز ذرائع بھی ہیں۔ملک معاشی طور پر کمزور ہے سب کو مل کر مشکلات کا سامنا کرنا ہو گا البتہ بہت زیادہ غریب لوگوں کو ریلیف ملنا چاہئے البتہ ٹیکسز لگنے ہی تھے۔ کالم نگارطارق ممتاز نے کہا کہ دنیا بھر میں خواتین پر مقدمات بنتے ہیں ہمارے ہاں ایسی مثالیں کم ہیں خواتین سے نرم رویہ اختیار کیا جاتا ہے دہشت گردی سے بڑا جرم کرپشن ہے اس کی معافی نہیں ہونی چاہئے کرپٹ لوگ پورے معاشرے کے قاتل ہوتے ہیں۔بہت سے لوگ تو وعدہ معاف گواہ بننغے کو تیار ہیں بجٹ کے دوراان اپوزیشن جماعتوں کے شور سے بہتر تاثر نہیں جاتا۔بجائے شور کرنے کے سنجیدگی دکھانی چاہئے تاکہ ایک ایک لفظ سمجھ آئے۔ رانا منیر نے کہا کہ کرپشن ضرورت کے تحت نہیں ہوتی اس کے پیچھے لالچ ہے جو انساان کو اندھا کر دیتی ہے ایسے لوگ معاشرے کو گھن کی طرح کھا جاتے ہیں۔پوری قوم کے معاشی قاتلوں کو سزا ملنی چاہئے اور کرپشن کا سد باب ہونا چاہئے۔احتساب سب کا ہونا چاہئے۔جب سے پاکستان بنا یہ ثابت نہیں ہو سکا پیسہ اگرکسی اور کے نام پر ہے تو ثبوت کیا ہے کہ اس کا نہیں۔ایسے معاملے پر سخت موقف ضروری ہے۔بجٹ اجلاس اسملی کے تمام اجلاسوں سے اہم ہوتا ہے جس میں عوام کی قسمت کا فیصلہ ہوتا ہے۔غریبوں پر ٹیکس نہیں لگنا چاہئے۔کالم نگار آغاباقر نے کہا کہ جعلی اکا?نٹس سامنے آ رہے ہیں یعنی پیسہ کسی کا ہے لیکن کسی اور کے نام پر رکھا گیا ہے یہ بڑی عجیب بات ہے غریب لوگوں کے اکاﺅنٹس سے پیسہ نکل رہا ہے۔ وعدہ معاف گواہ جو جرم میں شریک ہو لیکن معافی کی شرط پر گواہی دے دے۔
دوسری ٹیمیں پلاننگ کرتی ہیں،کپتان کا رول اہم ہوتا ہے:طاہر شاہ کی گگلی میں گفتگو
لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)سابق فرسٹ کلاس کرکٹر طاہر شاہ نے کہا ہے کہ ویسٹ انڈیز کی ٹیم ایک متوازن اور بڑی مضبوط ٹیم ہے لیکن شروع میں اس کا رن ریٹ سست رہا ویسٹ انڈیز کی باﺅلنگ بہت زبردست ہے۔ٹیم کے اوپنرز اگر پرفارمنس نہ دے سکیں تو باقی ٹیم پر بڑا پریشر آ جاتا ہے یعنی اوپنرز پر بڑی بھاری ذمہ داری ہوتی ہے۔ چینل فائیوکے پروگرام گگلی میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دوسری جانب انگلینڈ کی ٹیم ورلڈ کپ کی فیورٹ ہے۔میں سمجھتا ہوں ہم لوگ پلان نہیں کرتے لیکن دنیا کی ٹیمیں پلاننگ کرتی ہیں۔کرکٹ ٹیم میں کپتان بہت اہم ہوتا ہے کپتان کا مضبوط ہونا ضروری ہے۔سلیکشن کمیٹی کے چیئرمین انضمام الحق کے بھتیجے امام الحق کو اگلا کپتان بنانے کے لئے ساری گیم ہو رہی ہے یعنی سرفراز پر پر اعتراضات اٹھیں گے تو امام کو کپتان بنا دیا جائے گا لیکن ایسا ہونا اتنا آسان نہیں۔کاش پاکستانی کرکٹ میں سفارشی سسٹم نہ ہوتا تو بہترین کرکٹرز باہر جا کر دوسروں کے لئے نہ کھیلتے۔لاہور ریجن کابدترین حال ہے کوئی ٹورنامنٹ نہیں ہوتے پہلے کئی ٹورنا منٹس ہوتے تھے۔حفیظ اور شعیب کی عمریں اب کرکٹ کھیلنے والی نہیں گھر بیٹھنے کی ہیں۔جب ماجد خان کی سلیکشن کا معاملہ آیا ان کے والد نے سلیکشن کمیٹی سے استعفیٰ دے دیا تھا کہ کوئی یہ نہ کہے میرا بیٹا سفارشی ہے۔ٹیم میں نوجوان کھلاڑیوں کی بڑی ضرورت ہے۔پاکستان کرکٹ میں مافیا ہے غلط بات پر تو میں تنقید کروں گا۔
ایف بی آر میں اصلاحات ضروری ورنہ نتیجہ پہلے جیسا ہوگا: ڈاکٹر قیس، وکلا ءتقسیم متعدد وکلاءکا خیال ہے شاید جج صاحبان کے خلاف ریفرنسز بدنیتی پر مبنی ہیں: شاہ خاور ، مشکوک ٹرانزیکشن کی تحقیقات 2015ءمیں ایف آئی اے نے شروع کی تھی: منظورملک کی چینل ۵ کے پروگرام ” نیوز ایٹ 7 “ میں گفتگو
لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) ماہر معاشیات ڈاکٹر قیس اسلم نے کہا کہ ہم تو چاہتے ہیں زیادہ بجٹ ترقیاتی کاموں پر صرف ہو صحت و تعلیم کو ترجیح دینی چاہئے امید ہے حکومت سنجیدہ ہے۔ سندھ میں پانی کے مسائل بھی حل ہونا ضروری ہیں سندھ بجٹ کے زیادہ پیسے کراچی پر لگتے ہیں لیکن وہاں بھی مسائل ہیں۔ لوگ ایڈز میں مبتلا ہو رہے ہیں۔ چینل فائیو کے پروگرام نیوز ایٹ سیون میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر لوگوں پر پیسہ خرچ نہ کیا گیا تو بڑا برا حال ہو گا۔ایف بی آر میں اصلاحات ضروری ہیں وگرنہ نتیجہ پہلے جیسا ہو گا۔ سینئر قانون دان شاہ خاور نے کہا ہے کہ وکلائ پڑھا لکھا طبقہ ہوتا ہے اس میں اچنبے والی بات نہیں کہ وکلا احتجاج پر دو حصوں میں تقسیم ہیں بہت سے وکلا کا خیال ہے شاید جج صاحبان کے خلاف ریفرنسز بدنیتی پر مبنی ہیں حالانکہ اس کا فیصلہ تو سپریم جوڈیشل کونسل نے کرنا ہے۔ جعلی اکا?نٹس کیس اینٹی منی لانڈرنگ کے ایکٹ کے تحت آتا ہے۔ اب دیکھنا ہے نیب اس میں کیسا کیس بناتا ہے۔پوری دنیا میں وعدہ معاف گواہ کو بڑا کمزور عنصر سمجھا جاتا ہے کیونکہ اسے اپنی معافی کا لالچ ہوتا ہے۔ خبریں کے ریذیڈنٹ ایڈیٹرملک منظور گرفتاریاں بہت پہلے سے متوقع تھیں مشکوک ٹرانزکشن کا سلسلہ 2015میں ایف آئی اے نے شروع کیا تھا۔ احتسابی عمل جاری رہنا چاہئے سابق ارباب اختیار لوگوں نے ملک کا بہت نقصان کیا۔ اربوں کھربوں کا معاملہ ہے اب یہ کھیل بند ہونا چاہئے۔ نیب کو بھی اپنی تفتیش کی کمزوریاں دور کرنا ہوں گی۔
ڈالر کی قیمت میں اضافہ ، عوام کی مشکلات بڑھ رہی ہیں ، حکومت فوراً کوئی حل نکالے : معروف صحافی ضیا شاہد کی چینل ۵ کے پروگرام ” ضیا شاہد کے ساتھ “ میں گفتگو
لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں و تبصروں پرمشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ اصولی بات تو یہی ہے کہ سب کے ساتھ ایک جیسا سلوک ہونا چاہئے لیکن یہ دیکھنا پڑتا ہے کہ خواتین کے خاص طور پر جب وہ لیڈر خواتین ہوں اور ان کا تعلق بلاول بھٹو کی پھوپھی لگتی ہیں اور آصف رداری کی بہن ہیں اس لئے غالباً رفع شر خیال سے کہ بلا وجہ کوئی ایسی بات نہ ہو جائے جس کو حکومت کے لئے فیس کرنا مشکل ہو اس لئے اس قسم کی پہلے بھی مثالیں موجود ہیں اکثر لوگوں کو ان کے گھروں کو حتیٰ کہ مردوں کو بھی ان کے گھروں میں ہی نظر بند کر دیا جاتا ہے۔ میرا خیال ہے کہ اس سے زیادہ فرق نہیں پڑتا دیکھنا صرف یہ ہے کہ ان پر جو مقدمہ چلتا ہے کیا اس میں تو کوئی رعایت تو نہیں کی جا رہی۔ آج انہوں نے ایل این جی کے بارے میں بھی۔ لہٰذا لگتا ہے کہ جو اتنے دنوں سے افواہ چل رہی تھی کہ اب اگلی باری شاہد خاقان عباسی کی ہے۔ وہ واقعی ان کی باری ہو۔ اس کے علاوہ شہباز شریف کے خلاف بھی گھیرا تنگ بھی ہو رہا ہے اور صوبہ سندھ کے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کے بارے میں ایسی ہی افواہیں آ رہی ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ایک شخص جو منتخب وزیراعلیٰ ہے صوبے کا اس کو حکومت گرفتار کرنے کی متحمل ہو سکتی ہے لیکن ان کے بارے میں بھی فضا ایسی ہے کہ ان کو گرفتار کیا جا سکتا ہے۔ گرفتار لوگوں کے اسمبلی سے پروڈکشن آرڈر کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ضیا شاہد نے کہا کہ چونکہ آئین میں موجود ہے پروڈکشن آرڈر جو ہے سپیکر دے سکتا ہے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ جب تک اسمبلی کا سیشن جاری ہے وہ باہر رہیں گے البتہ جونہی وہ سیشن ختم ہو گا وہ دوبارہ دھر لئے جائیں۔ بلاول بھٹو کے پریس کانفرنس میں 21 جون سے عوامی رابطہ مہم جاری کرنے کے اعلان پر گفتگو کرتے ہوئے ضیا شاہد نے کہا ہر لیڈر کو یہ امید ہوتی ہے کہ اس کی پارٹی اٹھ کھڑی ہو گی ان کی پچھلی کال کا حشر تو اچھا نہیں ہوا اور جب انہوں نے کہا کہ پورے ملک میں یوم احتجاج منایا جائے تو پورے ملک میں نہیں ہوا کراچی کی حد تک اور سندھ میں کچھ جزوی طور پر علامات ظاہر ہوئیں لیکن باقی صوبوں میں بالکل سرے سے قطعی اثر نہیں پڑا۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ دیکھنا یہ ہے کہ بلاول بھٹو کی موجودہ کال کا جو 21 جون کو انہوں نے دے بھی دی ہے۔ انہوں نے نواب شاہ میں جلسہ رکھا ہے گرمی کے باوجود شام کو جلسہ ہو سکتا ہے۔ آصف زرداری کے اس بیان پر کہ اگر عمران خان نے 1947ئ سے کمیشن نہیں بنانا تو کم از کم گزشتہ 20 سال سے کمیشن بنائیں ضیا شاہد نے کہا کہ یہ جب بھی کسی کی پکڑ دھکڑ ہوتی ہے وہ ہمیشہ یہی مطالبہ ہوتا ہے کہ پچھلے 40 سال سے ہو اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ نہ ہو۔ یہ مطالبے ہوتے رہتے ہیں کام بھی چلتا رہتا ہے لہٰذا اس سے فرق نہیں پڑتا کہ کیا مطالبہ ہوا کیونکہ جو احتساب کا عمل جاری ہے اور نیب جو کچھ کر رہی ہے میں نہیں سمجھتا کہ اس کے راستے میں کوئی حقیقی خطرہ موجود ہے۔ پنجاب کے بجٹ اورجنوبی پنجاب کے فنڈز دوسری جگہ منتقلی پر بھی پابندی لگا دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ وزیراعلیٰ اور وزراءکی تنخواہوں میں 10 فیصد کمی دی گئی ہے۔ وفاقی وزرائ کی تنخواہوں میں کمی ہوئی تھی اسش پر گفتگوکرتے ہوئے ضیا شاہد نے کہا کہ یہ کمی اس بات کا شاخسانہ ہے جو ایم این اے ایم پی اے حضرات میں سے ایک مہم چلی تھی اس میں ایم پی اے حضرات نے پنجاب میں اپنے لئے معاوضہ میں اضافہ کر دیا گیا اور سابق وزریراعلیٰ کے لئے بھی بہت ساری سہولتیں منظور کروا لی تھیں لیکن گورنر صاحب نے اس پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا تھا اور عمران خان نے کہا تھا کہ لوگ اسے پسند نہیں کر رہے۔یہ تنخواہوں میں کمی سے یہ تاثر پیدا ہو گا کہ ہم لوگوں پر ٹیکس ہی نہیں لگا رہے بلکہ ہم اپنی تنخواہیں بھی کم کر رہے ہیں میرے خیال میں اس بات کا اچھا تاثر جائے گا۔ کل کا سب سے دھماکہ خیز واقعہ ہے وہ تو ڈالر کی قیمت میں 5 روپے اضافہ ہے ڈالر ایک دم157 پر چلا گیا ہے اب ظاہر ہوتا ہے کہ عمران خان واپس آ رہے ہیں اور آج انہیں اس صورتحال پر قابو پانے کے لئے ایک ہائی لیول میٹنگ بلانی چاہئے اور دیکھنا چاہئے کہ یہ تو بہت ہی بے لوگ طور پر ایک کوئی لائحہ عمل بنانا چاہئے کیونکہ یہ ناقابل برداشت ہوتا جا رہا ہے۔ بجلی کے نرخ میں اضافہ کے حوالہ سے بات کرتے ہوئے ضیا شاہد نے کہا کہ یہ تو میں سمجھتا ہوں کہ کچھ دیر کے لئے بجلی کی قیمت میں اصافہ ضرور روک دینا چاہئے۔ بہت ہو گیا اس سے پیشتر کہ لوگ سڑکوں پر نکلیں اور طوفان کھڑا ہو جائے معلوم نہیں حکومت یہ چاہتی ہے کہ اپوزیشن کے جلسوں میں رونق ہونی چاہئے اور لوگوں کو اتنا تنگ کیا جائے کہ وہ از خود بلبلاتے ہوئے اپوزیشن کے مجمعوں میں شریک ہونے لگیں۔ قومی اسمبلی کے اجلاس میں بجٹ پر بحث کی بجائے حکومتی بنچوں نے انہیں بولنے کا موقع نہیں دیا گیا۔ میرا خیال ہے کہ اس کا سلسلہ ختم ہونا چاہئے دونوں طرف سے صورتحال بہت نامناسب ہے اگر عمران خان کو نہیں بات کرنے دی گئی تو پھر شہباز شریف صاحب کو بدلے میں یہی صورتحال ان کے ساتھ ہے اگر یہ سلسلہ چل نکلا تو نہ لیڈر آف اپوزیشن اس میں گفتگو کر سکتا ہے نہ لیڈر آف دی ہا?س گفتگو کر سکے تو میں یہ سمجھتا ہوں کہ عملاً اسمبلیاں خواہ وہ وفاقی ہوں یا صوبوں کی حد تک آگے بات چل کر پہنچ جائے تو اسمبلیوں کا مقصد ہی باقی نہیں رہ جاتا۔ اگر اسمبلیوں میں بات ہی نہیں ہو سکتی تو پھر اس کا کیا فائدہ ہے میں دونوں اطراف سے اپیل کروں گا کہ براہ کرم اپوزیشن والے رضا کارانہ طور پر یہ اعلان کر دیں کہ وہ احتجاج ضرور کریں گی مگر وہ بات سنیں گے عمران خان، وفاقی وزرائ کی اور دوسری طرف تحریک انصاف کی طرف سے بھی یہ اعلان ہو جائے کہ ہم لیڈر آف اپوزیشن کو جو وہ چاہتے ہیں کرنے دیں گے۔ جمہوریت کا خاصہ یہ ہے کہ لوگوں کو بات کرنے دی جاتی ہے لوگوں کو روکا نہیں جاتا۔بجٹ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ضیا شاہد نے کہا کہ بجٹ میں بھی عوام دشمنی کی بھی کوئی بات نظر نہیں آتی البتہ جو طبقات ایسے بچ گئے ہیں تھے جن پر ٹیکس نہیں تھا ان پر ٹیکس لگا دیا گیا ہے جیسے پنجاب کے بجٹ میں ڈاکٹروں پر ٹیکس لگا ہے ہیرکٹنگ کرنے والوں پر ٹیکس لگا ہے۔ درزیوں پر بھی ٹیکس لگ گیا ہے۔ یہ وہ طبقات تھے جن کی انکم تو ماشائ اللہ کافی ہے لیکن وہ ٹیکس نیٹ میں نہیں کرتے تھے اس سلسلے میں تو کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہئے۔ حمزہ شہباز درست کہتے ہیں کہ بڑی مشکلات ہیں لیکن بات یہ ہے کہ وہ اس بات پر نشاندہی نہیں کر رہے کہ ان کی حکومت اور ان سے پہلے کی حکومتیں آصف زرداری صاحب اور نوازشریف اور شاہد خاقان عباسی کی حکومتیں کیا کرتی رہی ہیں اور آج جو کچھ ہمیں فصل کاٹنی پڑ رہی ہے وہ اس کے بیج تو وہ بو کر گئے تھے۔بشکیک کانفرنس میں عمران خان اور مودی کے درمیان کوئی بات چیت نہ ہونے پر افسوس ہے اگر آمنے سامنے آنے پر بھی کوئی سلام دعا نہیں ہوئی تو پھر مذاکرات کی توقع کیسے کی جا سکتی ہے۔ بھارتی ترجمان کہتے ہیں کہ مستقبل میں مذاکرات کے امکانات پیدا ہو رہے ہیں تاہم مجھے تو ایسا ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔ ضیائ الحق ایک بار کھٹمنڈو گئے تو انہوں خود آگے بڑھ کر بھارتی وزیراعظم سے مصافحہ کیا تھا عمران خان کو بھی کوشش کرنا چاہئے تھی کہ مودی سے رابطہ کرتے، ایسی بڑی کانفرنس میں سائڈ لائن پر ہلکے پھلکے مداکرات اور مختصر ملاقاتیں ہو جاتی ہیں جن سے مستقبل کیلئے راستہ ہموار ہوتا ہے۔ پاک بھارت مذاکرات کے حوالے سے ساری امیدیں اب پیوٹن سے ہیں کیونکہ روس نے دعویٰ کیا تھا کہ اس معاملے پر کردار ادا کرے گا۔ پاکستان نے تو ایک بار پھر روس کو یقین دہانی کرا دی ہے کہ ہم آپ کے فارمولے سے متفق ہیں روس کو چاہئے کہ بھارت سے بات کر کے معاملے کو آگے بڑھانے امریکہ کا رویہ پاکستان سے سخت ہے تاہم ہمیں بہتر تعلقات کیلئے کوشش کرتے رہنا چاہئے۔ اب ہم نے اپنا وزن روس کے پلڑے میں ڈالا ہے تو یہ کوشش مسلسل جاری رکھنی چاہئے کہ وہ بھارت سے مداکرات میں کردار ادا کرے۔ پاکستان کی معیشت کے لئے زراعت ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے بدقسمتی سے سابق ادوار میں اس پر کوئی خاص توجہ نہ دی گئی۔ موجودہ حکومت کا زراعت کے لئے زیادہ فنڈز مختص کرنا خوش آئند ہے۔ دیہاتوں میں شہر سے بہتر فیصد لوگ رہتے ہیں جو زراعت کے ساتھ منسلک ہیں کسان خوشحال ہو گا تو ملک بھی خوشحال ہو گا۔ کسانوں کی تنظیمیں بھی اشتہار دے کر حکومت سے اظہار تشکر کر رہی ہیں جس سے پتہ چلتا ہے کہ حکومت نے واقعی زراعت کے لئے سنجیدگی سے اقدامات کئے ہیں۔ حکومت کو صحت کارڈز تقسیم کرنے کا سلسلہ دوبارہ شروع کرنا چاہئے۔ سستے گھر بنانے کا منصوبہ اچھا تھا اس پر عمل کرتے تو روزگار میں بھی اضافہ ہوتا۔ حکومت کو کئی غیر ممالک اور بڑے نجی اداروں نے ہا?سنگ منصوبہ کیلئے سرمایہ کاری میں دلچسپی ظاہر کی تھی۔ حکومت کو اس پر سنجیدگی سے سوچتے ہوئے عمل کرنا چاہئے تاہم ابھی تک کوئی پیش رفت دکھائی نہیں دے رہی۔ وزیراعظم کا غیر ملکی سرمایہ کی آمد بارے پ±را±مید ہونا اچھی بات ہے تاہم زمینی حقائق کے مطابق تو ابھی تک کوئی سرمایہ کاری نہیں آئی حتیٰ کہ سعودیہ اور چین نے جس سرمایہ کاری کی بات کی تھی وہ بھی ابھی تک نہیں آئی۔
اداکارہ ہانیہ عامر کی سوڈان میں تشدد کے خلاف آواز اٹھانے کی اپیل
کرا چی :(ویب ڈیسک) ا س وقت سوشل میڈیا پر صارفین نیلے رنگ کی ڈسپلے پکچر لگا کر سوڈان میں جاری بربریت کے خلاف اظہار یکجہتی کررہے ہیں اور ایسے میں پاکستانی اداکارہ ہانیہ عامر نے بھی متاثرہ افراد کی مدد اور ظلم کے خلاف آواز اٹھانے کی درخواست کی ہے۔اداکارہ ہانیہ عامر نے گزشتہ روز انسٹاگرام پر ڈسپلے پکچر تبدیل کی جس میں نیلے رنگ کے اطراف میں ایک سوڈانی خاتون کو دیکھا جاسکتا ہے جو سوڈان کا جھنڈا تھامے کھڑی ہیں۔سوڈان میں سوشل میڈیا کیوں نیلے رنگ میں رنگ گیا؟انہوں نے ڈی پی کے ساتھ اسی تصویر کی پوسٹ بھی شیئر کی جس میں وہ لکھتی ہیں کہ سوڈان میں قتل و غارت گری جاری ہے، وہاں لوگوں کو مارا جارہا ہے اور زیادتی کی جارہی ہے، متعدد افراد بچوں کو مساجد میں زیادتی کا نشانہ بنا رہے ہیں۔اداکارہ نے لکھا کہ 50 افراد کو ہلاک کردیا گیا اور 700 افراد زخمی ہیں جب کہ درجنوں افراد کا قتل کرکے انہیں دریائے نیل میں پھینکا گیا ہے۔انہوں نے سوڈانی عسکریت پسندوں پر غصے کا اظہار کرتے ہوئے یہ بھی بتایا کہ فوج کی جانب سے میڈیا کوریج بھی بند کردی گئی ہے تاکہ کوئی یہ نہ جان سکے کہ وہاں کیا ہورہا ہے اور کوئی اپنی مدد کے لیے کسی کو پکار نہ سکے۔ہانیہ عامر نے مداحوں سے مو¿دبانہ گزارش کرتے ہوئے کہا کہ یہ نہ سوچیں کہ وہ ہمارے لوگ نہیں ہیں تو ہم کیا کریں، ہم سب انسان ہیں اور برے وقت کا پتہ نہیں ہوتا۔انہوں نے تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ جہاں تک بتا سکتے ہیں (ظلم و زیادتی سے متعلق) بتائیں اور مدد کریں۔ہانیہ عامر نے آخر میں ایک طریقہ کار بھی بتایا جس کے تحت متاثرہ افراد کی مدد کی جاسکتی ہے۔اس میں انہوں نے یونیسف امریکا، سیف دی چلڈرن اور گو ٹو چینج تنظیم کی ویب سائٹ کی نشاندہی کی جس کے تحت متاثرہ افراد کو ادویات اور غذائی اشیاء فراہم کی جاسکتی ہے۔انہوں نے ایک درخواست دائر کرنے کا کہا تاکہ اقوام متحدہ کو اس مسئلے پر نظرثانی کرے۔اداکارہ نے متاثرہ افراد کے لیے فنڈز کی اپیل بھی کی اور کہا کہ میں اس کے لیے لنکس اور اسکرین شاٹس اسٹوری میں پوسٹ کروں گی۔ہانیہ عامر نے سب سے گزارش کرتے ہوئے کہا کہ انسانیت کے لیے آواز اٹھائیے، سوڈان کے لیے خاموشی توڑیں۔واضھ رہےکہ رواں ماہ کے آغاز میں سوڈان کے دارالحکومت خرطوم میں فوج کے ہیڈکوارٹر کے باہر پرامن احتجاج کیا جارہا تھا جس میں مظاہرین نے فوج سے اقتدار سول انتظامیہ کے سپرد کرنے کا مطالبہ کیا۔اس دوران 26 سالہ انجینئر اور لندن کے برونیل یونیورسٹی کے گریجویٹ محمد مطار کو 3 جون کو ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) نے گولی مار دی جس نے احتجاج میں شامل دو خواتین کو نقصان سے بچانے کی کوشش کی تھی ۔ سوڈان میں صرف قتل و غارتگری جاری نہیں بلکہ خواتین کے ساتھ زیادتی، بچوں کو ہراساں کرنا اور دیگر مظالم بھی عروج پر ہیں، ایسے میں پوری دنیا سوشل میڈیا پر سوڈان کے لوگوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرنے کے لیے نیلے رنگ کی ڈی پی لگا رہی ہے جو محمد عطار کا پسندیدہ رنگ تھا۔
سونے کی نئی قیمت نے ملکی تاریخ کے تمام ریکارڈ توڑ دیئے
کراچی(ویب ڈیسک) سونے کی قیمت میں 2700 روپے اضافے کے بعد فی تولہ سونا ملکی تاریخ کی بلند ترین 75 ہزار 900 روپے پر پہنچ گیا۔ذرائع مطابق ملکی تاریخ میں ڈالر بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے، جمعے کے روز اوپن مارکیٹ میں ڈالر 4 روپے کے اضافے کے ساتھ 157 روپے 50 پیسے کا ہوا تو انٹر مارکیٹ میں ڈالر 155 روپے 84 پیسے کی بلند ترین سطح پر بند ہوا، ڈالر کی بڑھتی قیمت کے بعد سونے کی قیمت نے بھی پروان بھرتے ہوئے ایک ہی دن میں 2700 روپے کی مسافت طے کی اور تمام ریکارڈ توڑ دیئے۔جمعے کے روز کراچی، حیدرآباد، سکھر، ملتان، فیصل آباد، لاہور، اسلام آباد، راولپنڈی، پشاور اور کوئٹہ کی صرافہ مارکیٹوں میں سونے کی فی تولہ اور دس گرام قیمت میں بالترتیب 2700 اور 2315 روپے کا اضافہ ہوا، فی تولہ سونا ایک ہی دن میں 27 سو روپے مہنگا ہونے کے بعد ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح 75 ہزار 900 روپے پر پہنچ گیا، جب کہ دس گرام سونے کی قیمت 2 ہزار 315 روپے اضافے کے ساتھ 65 ہزار 72 روپے ہوگئی۔
جدہ میں نائٹ کلب کھلنے پر لوگ برہم
جدہ(ویب ڈیسک)سعودی عرب میں گزشتہ چند سال سے اصلاحاتی منصوبے کے تحت تیزی سے بہت بڑی تبدیلیاں کی جارہی ہیں۔سعودی عرب میں 2015 میں شاہ سلمان کے بادشاہ بننے کے بعد کئی اقدامات پہلی بار دیکھنے میں آئے ہیں، جس سے وہاں کا ماحول تیزی سے تبدیل ہوتا جا رہا ہے۔سعودی عرب میں 2018 میں جہاں خواتین نے پہلی بار ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی، وہیں 35 سال بعد سینما گھر کھو لے گئے جبکہ گزشتہ سال سے سعودی عرب میں پہلی بار فیشن ویکس کا بھی اہتمام کیا جانے لگا ہے۔اسی طرح جہاں سعودی عرب میں گزشتہ برس پہلی بار کسی خاتون کو مرد اینکر کے ساتھ ٹی وی پر پروگرام کرنے کی اجازت دی گئی، وہیں سعودی عرب کی پہلی تھیٹر اداکارہ بھی سامنے آئی۔اور اسی سلسلے کے تحت ہی رواں برس اپریل میں پہلی بار سعودی عرب کے 5 ہزار سالہ قدیم کھنڈرات میں میوزک فیسٹیول کا اہتمام کیا گیا۔اور اب خبر سامنے آئی ہے کہ سعودی عرب کے ساحلی شہر جدہ میں حکومتی اجازت کے بغیر ہی نائٹ کلب کھولا گیا ہے، جس پر سعودی حکومت نے تفتیش کرنے کا اعلان کردیا۔عرب نیوز کے مطابق سوشل میڈیا پر جدہ میں ہونے والے ایک ایونٹ کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد سعودی عرب کی حکومت نے اس کی تحقیقات کرنے کا اعلان کردیا۔رپورٹ کے مطابق سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک تقریب کی ویڈیو میں مرد و خواتین کو ایک کلب میں دیکھا گیا تھا اور سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا گیا تھا کہ یہ تقریب جدہ میں کھلنے والے نئے نائٹ کلب میں ہوئی۔سوشل میڈیا پر تقریب کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد صارفین نے مختلف قسم کی پوسٹنگ شروع کردیں اور دعویٰ کیا کہ اس نائٹ کلب میں اگرچہ الکوحل دستیاب نہیں ہوگی، تاہم وہاں پر لباس کی کوئی قید نہیں ہوگی۔نائٹ کلب میں ہونے والی تقریب کی ویڈیو اور تصاویر وائرل ہونے کے بعد سعودی عرب کی انٹرٹینمنٹ اتھارٹی نے اپنے بیان میں کہا کہ ادارہ اس تقریب اور نائٹ کلب کھلنے کی تحقیقات کرے گا۔’دی سعودی جنرل انٹرٹینمنٹ اتھارٹی‘ (جی ای اے) نے ٹوئیٹ کے ذریعے وضاحت کی کہ ادارے نے ایسے نائٹ کلب کھولنے کے لیے کوئی گرین سگنل نہیں دیا تھا۔ساتھ ہی اعلان کیا گیا کہ اتھارٹی جدہ میں ہونے والی مبینہ تقریب کی تحقیقات کرے گی۔دوسری جانب الجزیرہ نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ سعودی انٹرٹینمنٹ اتھارٹی کا کہنا ہے کہ انہوں نے جدہ میں ایک دوسری تقریب کی اجازت دی تھی، لیکن جس طرح کی تقریب کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہیں اس کی اجازت نہیں دی گئی۔الجزیرہ کے مطابق متعدد مقامی نیوز ویب سائٹس اور اداروں نے جدہ میں 13 جون کو نائٹ کلب کھلنے کی رپورٹس شائع کیں اور نائٹ کلب کو ’حلال کلب‘ کا نام دیا۔رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ نائٹ کلب کھولے جانے کی افتتاحی تقریب میں امریکی گلوکار اور ریپر نی یو نے بھی پرفارمنس کی۔سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہےکہ نائٹ کلب میں لوگ موسیقی پر رقص کر رہے ہیں اور تقریب میں مردوں کے ساتھ خواتین بھی دکھائی دے رہی ہیں۔جدہ میں نائٹ کلب کھولے جانے اور اس میں الکوحل کے دستیاب نہ ہونے پر کئی عرب صارفین نے سوشل میڈیا پر ’ڈسکو حلال کلب‘ کے ہیش ٹیگ سے میمز بھی شیئر کیں۔
پنجاب کے وزیر جنگلات سبطین خان گرفتار
لاہور(ویب ڈیسک) قومی احتساب بیورو (نیب) نے پنجاب کے وزیر جنگلات سبطین خان کو گرفتار کرلیا۔نیب حکام کے مطابق سبطین خان 2007 میں مسلم لیگ (ق) کی حکومت میں صوبائی وزیر معدنیات تھے اور انہیں چنیوٹ میں مائنز ٹھیکہ کیس میں گرفتار کیا گیا ہے۔نیب حکام کا کہنا ہے کہ سبطین خان پر چنیوٹ میں اربوں روپے کے ٹھیکے میں من پسند کمپنی کو نوازنے کا الزام ہے، ملزم نے 2007 میں نجی کمپنی کو ٹھیکہ دینے کے لیے غیر قانونی احکامات جاری کیے۔نیب نے بتایا کہ ملزم نے شریک ملزمان سے ملی بھگت کرکے ٹھیکہ خلاف قانون فراہم کیا، پنجاب حکومت نے 2018 میں نیب کو آگاہ کیا جس پر دوبارہ کارروائی ہوئی۔نیب حکام کے مطابق نجی کمپنی ماضی میں کان کنی کے تجربے کی حامل نہیں تھی، تجربہ نہ ہونے کے باوجود سابق وزیر نے ملی بھگت سے کمپنی کو ٹھیکہ فراہم کیا، پنجاب مائنز ڈیپارٹمنٹ نے بڈنگ میں دوسری کمپنی کو شامل ہی نہیں کیا اور نہ ہی ملزمان نے ایس ای سی پی کو منصوبے کی تفصیلات فراہم کیں۔نیب کے مطابق سبطین خان نے چنیوٹ کے اربوں روپے مالیت کے معدنی وسائل 25 لاکھ مالیت کی کمپنی کو فراہم کیے، ملزم کو ریمانڈ لینے کے لیے کل احتساب عدالت میں پیش کیا جائےگا۔سردار سبطین خان پنجاب اسمبلی کے حلقہ پی پی 88 میانوالی 4 سے تحریک انصاف کے ٹکٹ پر منتخب ہوئے ہیں اور موجودہ کابینہ میں وزیر جنگلات ہیں۔یاد رہے کہ اس سے قبل سینئر صوبائی وزیر عبدالعلیم خان کو بھی نیب نے گرفتار کیا تھا تاہم وہ اب ضمانت پر رہا ہیں۔


















