شعیب اختر نے سونالی بیندرے اور دیا مرزا کے ساتھ معاشقے پر خاموشی توڑدی

کراچی:(ویب ڈیسک) راولپنڈی ایکسپریس شعیب اختر نے بالاخر بالی ووڈ اداکاراو¿ں سونالی بیندرے اور دیا مرزا کے ساتھ معاشقے اور سونالی بیندرے کو اغوا کرنے کی خبروں پر خاموشی توڑ ہی دی۔پاکستان کے سابق فاسٹ باو¿لر شعیب اختر کی شخصیت کے سحر میں تو کئی خواتین گرفتار رہیں لیکن بھارتی اداکاراو¿ں سونالی بیندرے اور دیا مرزا کے ساتھ ان کا نام سب سے زیادہ جوڑا گیا۔ ماضی میں میڈیا پر چلنے والی خبروں کے مطابق شعیب اختر سونالی کی محبت میں اس حد تک آگے بڑھ چکے تھے کہ انہوں نے کہا تھا اگر سونالی نے ان سے شادی کرنے سے انکار کیا تو وہ انہیں اغوا کرلیں گے۔اب پہلی بار شعیب اختر نے سونالی بیندرے اوردیا مرزا کے ساتھ اپنے معاشقے کی خبروں پر خاموشی توڑتے ہوئے اس بات کی تردید کردی ہے کہ انہوں نے کبھی سونالی بیندرے کو اغوا کرنے کی بات کہی تھی۔ راولپنڈی ایکسپریس نے پنے یوٹیوب چینل پر ایک ویڈیو جاری کی ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ وہ سونالی بیندرے کو بطوراداکارہ جانتے ہیں لیکن وہ اج تک کبھی سونالی سے ملے ہی نہیں ہیں، ہاں جب انہوں نے سونالی بیندرے کی کینسر میں مبتلا ہونے کی خبر سنی اور ان کی کینسر کے خلاف جنگ دیکھی تو ان کی ہمت دیکھ کر ان کے مداح ہوگئے اور یہ دیکھ کر بہت اچھا لگا کہ ایک خاتون اتنی باہمت اور دلیر بھی ہوسکتی ہیں۔شعیب اختر نے اپنے کمرے میں سونالی بیندرے کی تصویر کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ میرے کمرے میں صرف عمران خان کی تصویر لگی ہوتی تھی اس کے علاوہ کسی کی نہیں۔ اسی طرح شعیب اختر نے بالی ووڈ اداکارہ دیا مرزا کے ساتھ شادی کی خبروں پر بھی پہلی بار کھل کر بات کرتے ہوئے کہا کہ میری آج تک دیا مرزا سے بھی ملاقات نہیں ہوئی۔ اس طرح کی جھوٹی خبریں دینے پر شعیب اختر نے بھارتی میڈیا کو بھی آڑے ہاتھوں لیا۔اپنے وی لاگ میں سابق کرکٹر نے ثانیہ مرزا اور وینا ملک کی حال ہی میں ہونے والی لڑائی پر بھی اظہار خیال کیا۔ شعیب اختر نے ثانیہ مرزا کو بدقسمت خاتون قرار دیتے ہوئے کہا کہ ثانیہ مرزا بھارتی خاتون ہیں اورانہوں نے پاکستانی کرکٹر سے شادی کی ہے لہٰذا وہ چاہے کچھ بھی کرلیں انہیں دونوں ممالک کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنایاجاتا ہے۔شعیب اختر نے کہا ثانیہ مرزا صرف اپنے شوہر کے ساتھ کھانا کھانے گئی تھیں انہوں نے شعیب کو یہ تو نہیں کہا تھا کہ تم اچھی پرفارمنس نہیں دو اگر شعیب اچھی پرفارمنس نہیں دے رہے تو اس میں ثانیہ کا کیا قصور ہے۔ شعیب اختر نے تمام لوگوں سے درخواست کرتے ہوئے کہا کہ کسی کی فیملی اور کسی خاتون کے بارے میں بات کرنے سے پہلے سوچ لیں، کیونکہ آپ کو کوئی حق نہیں پہنچتا کسی کی فیملی کے بارے میں بات کرنے کا۔

382 رنز کے جواب میں بنگلادیش کی آسٹریلیا کیخلاف بیٹنگ

ناٹنگھم(ویب ڈیسک) ورلڈ کپ کے 26ویں میچ میں آسٹریلیا نے بنگلادیش کو جیت کے لیے 382 رنز کا ہدف دے دیا۔ناٹنگھم میں کھیلے جارہے میچ میں دفاعی چیمپئن آسٹریلیا کے کپتان ایرون فنچ نے بنگلادیش کے خلاف ٹاس جیت کر پہلے خود بیٹنگ کرنے کا فیصلہ کیا، کپتان ایرون فنچ اور ڈیوڈ وارنر نے اننگز کا آغاز کیا اور 121 رنز کا اوپننگ اسٹینڈ فراہم کیا، کپتان فنچ 53 رنز بنا کر کیچ آﺅٹ ہوئے۔دوسری وکٹ پر وارنر اور عثمان خواجہ نے 192 رنز جوڑے اور مجموعے کو 313 تک پہنچایا، وارنر نے شاندار بیٹنگ کرتے ہوئے 166 رنز بنائے، ان کی اننگز میں 5 چھکے اور 14 چوکے شامل تھے جب کہ عثمان خواجہ 10 چوکوں کی مدد سے 89 بنا کر آﺅٹ ہوئے۔میکسویل 32 اور اسمتھ ایک رن بنا کر پویلین لوٹے جب کہ اسٹوئینس 17 اور کیرے 11 رنز کے ساتھ ناٹ آﺅٹ رہے۔بنگلادیش کی جانب سے سومیا سرکار نے 3 اور مستفیض الرحمان نے ایک وکٹ حاصل کی۔دونوں ٹیمیں آج ایونٹ میں اپنا چھٹا میچ کھیل رہی ہیں،آسٹریلیا 5 میں سے 4 کامیابیاں حاصل کرکے 8 پوائنٹس کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے جب کہ نے 2 کامیابیاں سمیٹی ہیں البتہ ایک میچ بارش کی نذر ہونے کی وجہ سے بنگال ٹائیگرز 5 پوائنٹس کے پانچویں نمبر پر ہے۔

دنیا کے سب سے لمبے سینگوں والے بیل کا گنیزبک نے اعتراف کر لیا

الباما: (ویب ڈیسک)امریکا کے ایک دیہات میں موجود بیل کو گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ نے دنیا کا سب سے دراز سینگوں والا بیل تسلیم کیا ہے۔چھ سالہ بیل کا نام پونچو ویا ہے اور یہ اس وقت ایک چھوٹے سے دیہات گڈ واٹر کے ایک فارم پر موجود ہے۔ ایک کنارے سےدوسرے کنارے تک اس کے سینگوں کی لمبائی 10 فٹ 7.4 انچ کے قریب ہے جس کی پرورش ایک کسان خاندان نے کی ہے جو پوپ فیملی کے نام سے مشہور ہے۔خاندان کے سربراہ کو دیگر بڑے سینگوں والی گائیں اور بیل دیکھ کر شوق چرایا کہ کسی طرح ان کے گھر بھی بڑے سینگوں والا کوئی جانور لایا جائے اور یوں پونچو کو چھ ماہ کی عمر میں فارم تک لایا گیا۔ یہ بیل ایسی نسل سے تعلق رکھتا تھا جس کے بڑے بڑےسینگ ہوتے ہیں۔تاہم کچھ روز بعد گھر میں ’مو‘ نامی ایک اور بڑے سینگوں والا بیل لایا گیا اور ان دونوں کےدرمیان طویل سینگوں کو مقابلہ شروع ہوگیا۔ لیکن حیرت انگیز طور پر پونچو ویا کے سینگ بہت برق رفتاری سے بڑھے لیکن حیرت انگیز طور پر وہ مڑے نہیں بلکہ قدرےسیدھے رہے۔ صرف اس سال اپریل سے مئی کے دوران اس کے سینگوں کی لمبائی میں نصف انچ کا اضافہ ہوا ہے۔بیل کے مالکان کہتے ہیں کہ یہ جانور بہت ذہین ہے اور گھومتے پھرتے وقت اپنے سینگوں اور رکاوٹوں کا خیال رکھتا ہے۔ یہاں تک کہ کہ گھنی جھاڑیوں سے گزرتے ہوئے بھی ممکنہ رکاوٹوں کا احساس رکھتا ہے اور وزن بڑھنے کے باوجود چلتے وقت اپنے سینگوں کے کناروں کا خیال رکھتا ہے۔اس سال اکتوبر میں اس کی عمر سات برس ہوجائے گی اور ماہرین کے مطابق اس کے سینگ مسلسل بڑھتے رہیں گے تاہم عمر کے آخری حصے میں ان کی نشوونما رک جائے گی

پاکستان کرکٹ بورڈ نے ریٹائرڈ کرکٹرز سے رابطوں کا فیصلہ کرلیا

لاہور: (ویب ڈیسک)پاکستان کرکٹ بورڈ نے ریٹائرڈ کرکٹرز سے رابطوں کا فیصلہ کرلیا ہے۔ذرائع کے مطابق ورلڈکپ کے بعد سابق کپتان اور کرکٹ کمیٹی کے رکن مصباح الحق کو بورڈ میں مزید ذمہ داریاں سونپے جانے کا امکان ہے۔ بورڈ سربراہ احسان مانی اور ایم ڈی وسیم خان دور حاضر کے ریٹائرڈ کرکٹرز سے نوجوانوں کی گرومنگ کا کام لینا چاہتے ہیں۔پی سی بی نے اس سے قبل یونس خان، محمد یوسف اور مصباح الحق کو انڈر 19 ٹیم کے ساتھ کام کرنے کی آفر کی تھی لیکن کسی کے ساتھ بات فائنل نہیں ہوپائی تھی۔ کوچز کی تقرری سمیت اہم فیصلوں کا اختیار ملنے کے بعد وسیم خان ایک بار پھرسابق کرکٹرز کو اکیڈمی اور یوتھ ٹیموں کے ساتھ کام کے لیے آمادہ کریں گے۔بورڈ حکام گراس روٹ سطح پر کرکٹ میں بہتری لانے اور یوتھ ماڈل کو بھارت سے زیادہ کامیاب کرنے کے خواہاں ہیں اور اس تجویز کو عملی جامہ پہنانے کے لیے دور حاضر کے ریٹائرڈ کرکٹرز کی ہر صورت خدمات لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

سیاسی ملزم کو پاکستان کی حوالگی بارے معاملہ : جیری ہنٹ کا شاہ محمود کو کورا جواب

لندن (وجاہت علی خان سے) برطانیہ میں موجود پاکستان کو مطلوب کسی سیاسی ملزم کو پاکستان کے حوالے نہیں کیا جائیگا‘ حکومت برطانیہ نے ملزموں کی حوالگی کے معاملہ میں دی جانے والی پاکستان کی متعدد درخواستوں کو ریجیکٹ کرتے ہوئے اس بات سے صاف انکار کیا ہے کہ وہ ایسی کسی درخواست پر غور نہیں کرے گا اور نہ ہی کسی مطلوب شخص کو پاکستان کے حوالے کریگا۔ دورہ برطانیہ پر آئے ہوئے پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی موجودگی میں داخلہ امور کے برطانوی سیکرٹری جیری ہنٹ نے کہا ہے کہ برطانیہ پاکستان کے ساتھ کبھی ”ملزموں کی حوالگی“ کا ایسا معاہدہ نہیں کرے گا جس میں برطانیہ میں مقیم کسی پاکستانی مطلوب شخص کو سیاسی بنیادوں پر سزا دینے یا چارج کئے جانے کا خطرہ موجود ہو‘ جیری ہنٹ نے کہا میں اپنی حکومت کی طرف سے اس معاملہ میں بے حد کلیئر ہوں‘ جیری ہنٹ کے اس کورے جواب پر شاہ محمود قریشی نے کہا یقیناً پاکستان بھی کسی شخص کو سیاسی بنیادوں پر سزا دینے یا چارج کرنے کا خواہاں نہیں ہے۔ یاد رہے کہ ”پی ٹی آئی“ حکومت بارہا کہہ چکی ہے کہ پاکستان جلد برطانیہ کے ساتھ EXTRADITION TREATY(ملزموں کی حوالگی کا معاہدہ) پر دستخط کرے گا‘ برطانیہ کے خارجہ سیکرٹری کی طرف سے اس کورے جواب کے بعد پاکستان حکومت کی یہ امید بھی دم توڑ گئی ہے کہ وہ اسحاق ڈار یا حسن اور حسین نواز سمیت دیگر افراد کو پاکستان لے جا کر سزا دے گی‘ اگر پاکستان برطانیہ کیساتھ امن معاہدے پر دستخط کرنے میں کامیاب ہو جاتا تو وہ ان 105ممالک کی لسٹ میں شامل ہو جاتا جن کا برطانیہ کے ساتھ اس قسم کا معاہدہ موجود ہے۔ ذرائع کے مطابق برطانیہ ایسے ممالک کے ساتھ کبھی ملزمان کی حوالگی کا معاہدہ نہیں کرتا جہاں پے در پے مارشل لائ کی ایک تاریخ ہو اور پولیس و عدلیہ کے نظام میں خامیاں ہوں۔ دولت مشترکہ کے ممالک میں صرف بھارت ایک ایسا ملک ہے جس کے ساتھ برطانیہ کا یہ معاہدہ موجود ہے یہ معاہدہ 1992ئ میں ہوا تھا لیکن اس کے باوجود بھی گزشتہ 28سال کے دوران بھارت کیطرف سے برطانیہ کو دی گئی متعدد درخواستوں کے بعد بھی برطانیہ نے کسی ملزم کو بھارت کے حوالے نہیں کیا‘ صرف 2017ئ میں ایک مطلوب شخص کو بھارت کے حوالے کیا گیا لیکن بہت سی شرائط لگانے کے بعد۔ بھارت کو مطلوب بہت سے ملزم آج بھی برطانیہ میں مقیم ہیں جن میں للت مودی‘ ٹائیگر حنیف‘ ندیم سیفی‘ روی شکرن اور وجے مالیا سرفہرست ہیں۔

اپوزیشن کی میثاق معیشت کی پیشکش کو حکومت کی جانب سے مثبت انداز میں لینا چاہیے: امجد اقبال ، اپوزیشن لیڈر لوٹی ہوئی دولت دیدیں تو تنخواہیں سو فیصد بڑھ جائیں گی: اعجاز حفیظ ، بجٹ سے اشرافیہ بھی متاثر ہوئی اپوزیشن کا 50فیصد تنخواہیں بڑھانےکا مطالبہ غیرضروری ہے: ضمیر آفاقی ، قومی اسمبلی کے اجلاس میں 4روز میں عوام کے ٹیکس کے 10کروڑ ضائع کرائے گئے: شاہد بھٹی ، چینل ۵ کے پروگرام ” کالم نگار“ میں گفتگو

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)چینل فائیو کے تجزیوں اور تبصروں پر مشتمل پروگرام ”کالم نگار“میں گفتگو کرتے ہوئے شاہد بھٹی نے کہا ہے کہ قومی اسمبلی کے اجلاس میں چار روز میں عوام کے ٹیکس کے 10کروڑ ضائع کرنے کے بعد بالآخربجٹ بحث شروع ہوئی۔حکومت دبا? میں ہے۔ عمران خان کو ہسپتالوں کی صورتحال پر پکڑنا چاہیئے وہ شوکت خانم کے حوالے سے قوم کے رول ماڈل تھے۔اسمبلی میں حکومت اور اپوزیشن ایکدوسرے کو صرف طعنے دے رہے ہیں۔ پاکستان کیخلاف سازشوں میں مصروف بھارت کو مذاکرات کے لیے ٹویٹس کیے جار ہے ہیں مگر میثاق معیثت پر ہم مل بیٹھنے کو تیار نہیں۔ آئی ایم ایف مطمئن ہے کہ ڈالر 150سے اوپر نہیں جانا چاہیئے تاہم اگر حکومت کے لوگ ہی کہیں کہ ڈالر 170پر جائے گا تو جائے گا۔ بیماری پر سیاست نہیں ہونی چاہیئے۔ سندھ کے بعد پنجاب میں ایڈز کے مریض سامنے آرہے ہیں۔میزبان تجزیہ کارامجد اقبال نے کہا کہ حکومتی ادراک سے اسمبلی میںبجٹ بحث کا آغاز ہوا ہے۔ سابق حکومت کی نسبت موجودہ حکومت کے نو ماہ میں ٹیکس اہداف میں شارٹ فال400ارب سے زائد کا ہے۔ اپوزیشن کی میثاق معیثت کی پیشکش کو حکومت کی جانب سے مثبت لینا چاہیئے۔فیصل آباد میں ایڈز کے 2680کیسز سامنے آنا بے حد خوفناک ہے۔ قومی اسمبلی میں اس مسئلے کے حل پر بحث ہونی چاہیئے نہ کہ سیاست کی نظر کر دینا چاہیئے۔میثاق معیثت کی طرح میثاق صحت بھی ہونا چاہیئے۔تجزیہ کاراعجاز حفیظ خان نے کہا ہے کہ شعبدہ شریف کے دور کے ہسپتالوں سے آج کی حکومت میں ہسپتال بہتر ہیں۔ شہباز شریف اسمبلی میں اپنے لوٹے ہوئے پیسے کا ذکر کرتے، انکی منی لانڈرنگ پر وعدہ معاف گواہ بھی سامنے آگئے ہیں۔اپوزیشن لیڈر اپنی لوٹی ہوئی دولت دیدیں تو تنخواہیں سو فیصد بڑھ جائیں گی۔پاکستان کا جھنڈا جلانے والے آج اپنی چوری بچانے کے لیے اکٹھے ہیں تاہم بجٹ بحث کا آغاز خوش آئند ہے۔اپنے ابا جی کو بچانے کے لیے نکلنے والے میثاق معیثت پر بھی حکومت سے مطالبات کریں گے۔نواز شریف اور زرداری کے پاس قوم کے لوٹے ہوئے 500ارب ڈالرز ہیں۔ ڈالر کریسی ، بیوروکریسی سے آگے چلی گئی ہے مگر حکومت چاہے تو ڈالر 125روپے تک آسکتا ہے۔ہمارے معاشرتی مسائل ایڈز پھیلانے کا سبب بن رہے ہیں۔کالم نگارضمیر آفاقی نے کہا ہے کہ حکومتی بجٹ سے اشرافیہ بھی متاثر ہوئی ہے۔ اپوزیشن کا بچاس فیصد تنخواہیں بڑھانے کا مطالبہ غیر ضروری ہے تاہم مہنگائی سمیت دیگر ایشوز پر بحث ہونی چاہیئے۔لاہور میں تعلیمی اداروں کی بہت بری حالت ہے۔ اسمبلی میں عوامی نمائندگان نے اپنے رویے تبدیل نہ کیے تو انہیں عوام اٹھا باہر پھینک دیں گے اور جوتیاں ماریں گے۔ حکومت نے ملک میں پکر دھکڑ کر کے خوف پھیلا دیا ہے ، ڈالر 200روپے تک بھی جا سکتا ہے۔بین الاقوامی سطح پر پاکستان میں ایڈز ایمرجنسی لگادی گئی ہے حکومت کو اس معاملے کو بہت سنجیدگی سے لینا چاہیئے کیونکہ اس بیماری میں ایک مہینے کی دوا60ہزار کی ہے۔

پروٹیز ٹیم میں بڑے نام، کارکردگی صفر، نیوزی لینڈکی کارکردگی میں تسلسل ہے : کامران اکمل ، کوئی ہار ے یا جیتے پاکستان کو اپنی پوزیشن مضبوط بنانا ہوگی: طاہر شاہ کی گگلی میں گفتگو

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) کرکٹرکامران اکمل نے کہا کہ گزشتہ تین چار سال سے پاکستانی ٹیم نے کارکردگی نہیں دکھائی جب تک بڑی ٹیموں سے نہیں جیتیں گے اعتماد کیسے بحال ہو گا میں نے تو ایک سال قبل ہی کہہ دیا تھا کہ ہم نے جیسی ٹیم بنائی ہے اس ٹیم سے کوئی امید نہ لگائی جائے۔ چینل فائیو کے پروگرام گگلی میں گفتگوکرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میرے خیال میں میڈیا کو بھی کھلاڑیوں پر پرزیادہ تنقید نہیں کرنی چاہئے اس سے کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔۔جو لڑکے فارم میں ہیں انہیں ہی کھلایا جائے۔کوئی پلااننگ نہیں بیٹنگ آرڈر درست نہیں ہماری تو دعا ہے پاکستان آئندہ میچز جیتے لیکن ٹیم میں اعتماد نہیں۔جو پرفارم کرے کھیلے کسی کی ذاتی زندگی میں مداخلت نہیں ہونی چاہئے۔سابق فرسٹ کلاس کرکٹر طاہر شاہ نے کہا ہے کہ نیوزی لینڈ کے کپتان ولیم سن بہترین تجربے کے حامل ہیں۔نیوزی لینڈ نکلتی ہوئی ٹیم ہے۔ماضی میں جنوبی افریقہ کی ٹیم بڑی متوازن تھی۔صرف نام کافی نہیں میدان میں خود کو ثابت کرنا پڑتا ہے۔پہلے بھی کہہ چکا ورلڈ کپ وہی ٹیم جیتے گی جو ناصر ف پرفارم کرے گی بلکہ مضبوط اعصاب کی مالک اور بہترین منصوبہ بندی کی صلاحیت رکھتی ہو گی۔خاص طور پر کپتان کا ذہنی طور پر مضبوط ہونا بہت ضروری ہے۔کوئی ٹیم جیتے یا ہارے پاکستان کو اس کا فائدہ یا نقصان نہیں پاکستان کو اپنی پوزیشن بہتر کرنا پڑے گی بنگلہ دیش کی ٹیم تو بہت بہتر ہے جس طرح کی ہماری ٹیم ہے ڈر ہے افغانستان سے ہم نہ ہار جائیں۔جب تک کرکٹ میں سفارش سسٹم ختم نہیں ہو گی ٹیم بہتر نہیں ہو گی۔پھر پی سی بی میں بھاری تنخواہیں لینے والے ارکان کو بغیر کارکردگی کیوں رکھا گیا ہے۔ نجی زندگی اپنی جگہ لکن کھلاڑی ایسی حرکت مت کریں کہ ملک بدنام ہو۔

جمہویت کیلئے حکومت اور اپوزیشن کو مل کر کام کرنا چاہیے: محسن شاہ ، بھارت کیخلاف پاکستان نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ نہ کرکے بڑی غلطی کی: سینیٹر فیصل جاوید ، شور اپوزیشن کا حق ،بجٹ پاس ہو جائےگا: خالد مقبول ، بجٹ پاس کرانے کیلئے حکومتی انداز مناسب نہیں:آیت اللہ درانی ، پروڈکشن آرڈر آئینی حق:روبینہ خالد ، بجٹ ضرور پاس کرائیں گے:آفتاب جہانگیرکی چینل ۵ کے پروگرام ” نیوز ایٹ 7 “ میں گفتگو

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) چینل فائیو کے پروگرام نیوز ایٹ سیون کی ٹیم بجٹ اور قومی کرکٹ ٹیم کی کارکردگی کے حوالے سے پارلیمنٹیرینز کی رائے جاننے کے لئے پارلیمنٹ کے باہر پہنچ گئی۔تحریک انصاف کے رہنمائ فیصل خان نے کہا کہ بھارت کے خلاف پاکستان نے ٹاس جیت کر پہلے نہ کھیل کر بڑی غلطی کی۔گزشتہ حکومت نے کرکٹ پر کوئی کام نہیں کیا سٹرکچر تبدیل کرنا پڑے گا۔بجٹ پر انہوں نے کہا اپوزیشن کے بجٹ منظور نہ کرنے سے کچھ نہیں ہو گا بجٹ پاس کرا لیں گے۔محسن شاہ نواز نے بتایا کہ بجٹ سیشن کے دوران ممبران کو پراڈکشن آرڈر ملنا چاہئے تھا یہ اہم معاملہ ہے۔اگر ایسا نہ ہوا ہم اپنی حکمت عملی تیار کریں گے۔اب عمران خان کی دھمکیوں میں وزن نہیں رہا۔میری دعا ہے پاکستانی ٹیم ورلڈ کپ جیتے۔ایم کیو ایم کے خالد مقبول صدیقی نے کہا شور اپوزیشن کا حق ہے اس کے باوجود بجٹ پاس ہو جائے گا۔میرے خیال میں کرکٹ جسمانی سے زیادہ ذہنی مضبوطی کا متقاضی کھیل ہے۔کراچی میں الیکشن ہوں تو ساری سیٹیں ایم کیو ایم لے جائے گی۔پیپلز پارٹی کے آیت اللہ درانی نے کہا کہ حکومت کو سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا پڑے گا صورتحال نازک ہے بجٹ پاس کرانے کے لئے حکومتی انداز مناسب نہیں۔کرپشن پر کمیشن بنانا ہے تو سب کا احتساب کریں صرف چند کا نہیں۔بجٹ میں اپوزیشن کا احتجاج تو بنتا ہے۔سینیٹر روبینہ خالد نے کہا پراڈکشن آرڈر سب کا آئینی حق ہے ہم کوئی ناجائز مطالبہ نہیں کر رہے حکومت ہارس ٹریڈنگ میں ملوث ہے۔کے پی میں بجٹ پاس کرنے کے لئے دھمکی دی گئی۔دس سالوں کا نہیں بیس سالوں کا احتساب کریں۔تحریک انصاف کے آفتاب جہانگیر نے کہا ہے کہ بجٹ ضرور پاس کرائیں گے اپوزیشن بلاجواز شور کر رہی ہے حکومت کی سمت بالکل درست ہے ملک ترقی کی جانب گامزن ہے۔مسلم لیگ ن کے ناصر تمام پارٹیز نے محسوس کیا شور شرابے سے صورتحال بگڑے گی۔جہاں تک بجٹ کا تعلق ہے لوگوں کی تو کمر ہی ٹوٹ گئی ہے یہ بجٹ عوامی نہیں مخالفت کریں گے۔ایک سابق کھلاڑی کے وزیراعظم ہوتے ہوئے کرکٹ کی صورتحال افسوسناک ہے۔بھارت سے ہار پر قوم کا دل ٹوٹا۔

اپوزیشن بجٹ روک کر غیر جمہوری عمل کو راستہ نہ دکھائے :معروف صحافی ضیا شاہد کی چینل ۵ کے پروگرام ” ضیا شاہد کے ساتھ “ میں گفتگو

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں و تبصروں پرمشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ اپوزیشن لیڈر کے طور پر شہباز شریف جو بھی مناسب سمجھیں ان کو حق حاصل ہے کہ جو چاہیں کہیں البتہ میں سمجھتا ہوں کہ یہ بہتر فیصلہ ہے کہ ایوان میں ایک دوسرے کو پوری بات کرنے کا موقع دیا جائے اور میرا خیال ہے کہ شہباز شریف کی طرف سے اور باقی لیڈروں کی طرف سے جو دھمکیاں دی گئیں اس کے نتیجے میں جو دھمکی عمران خان صاحب کی طرف سے آئی کہ اینٹ کا جواب پتھر سے دیں گے میں سمجھتا ہوں کہ اس کے نتیجے میں دونوں طرف یہ احساس پیدا ہوا کہ ایک دوسرے کو بات کرنے کا موقع دیا جائے۔ یہ بہتر فیصلہ ہوا۔ البتہ ایک بات بڑی غور لب ہے کہ وہ یہ کہ آج بھی شہباز شریف صاحب نے وہی کہا کہ ہم بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے اب سوال یہ ہے کہ بجٹ پاس نہ ہونے کا مطلب ہے کہ حکومت گر جائے گی حکومت اگر گر جائے گی تو ان ہا?س تبدیلی بھی آ سکتی ہے لیکن یہ دیکھ لینا چاہئے کہ اس قسم کے حالات پیدا ہوں تو پاکستان جیسے ملکوں میں جس کی تاریخ میں طویل ترین مارشل لا ادوار رہے ہیں دس سال ایک، 11 سال ایک اور 9 سال تو پھر اس بات کی گنجائش موجود ہے کہ کوئی غیر جمہوری عمل بھی سامنے آ سکتا ہے میں یہ سمجھتا ہو ںکہ اس سلسلے میں جہاں ایک بہتر فیصلہ کیا ہے دوسرا بہتر فیصلہ بھی اپوزیشن کو کر لینا چاہئے کہ اس قسم کی باتوں سے کہ ہم بجٹ نہیں پاس ہونے دیں گے اس قسم کی باتوں سے غیر جمہوری راستوں کا خود تعین کر رہے ہیں۔ضیا شاہد نے کہا ہے کہ بجٹ پاس ہو گا یا نہیں یہ تو آنے والا وقت بتائے گا لیکن ایک بات واضح ہے کہ یہ جو اتنا ہنگامہ کیا جا رہا تھا کہ اگر اختر مینگل کے 4 ووٹ حکومتی پارٹی کے ساتھ نہ رہے تو حکومت ٹوٹ جائے گی ہم نے جو تجزیہ چھاپا ہے اس کی اب تک تو تردید نہیں ہوئی ہو بھی کیسے سکتی ہے کہ سینٹ سے لئے ہوئے اعداد و شمار ہیں۔ بدقسمتی کی بات ہے کہ ہمارے ہاں طویل تقریر کرنی اچھی بات ہے اور اس کو صبر سے سننا بھی اچھی بات ہے لیکن بجٹ تقریر میں تو پھر اپنی تعریف کی بجائے بجٹ پر تنقید ہونی چاہئے بجٹ کی بہت چیزیں تھیں جن پر تنقید کی جا سکتی تھی لیکن شہباز شریف صاحب نے شاید اسے مناسب نہیں سمجھا پہلے بھی شہباز شریف پر یہ الزام عائد کیا جاتا ہے بلکہ اپوزیشن حلقوں سے بھی کہ وہ اپنی اور اپنی حکومت کی تعریفیں کرتے رہتے ہیں اس کے علاوہ وہ اصل موضوع پر بات نہیں کرتے۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ بجٹ تقریر جو حماد اظہر صاحب نے کی تھی ظاہر ہے کہ وزیراعظم وزیرخزانہ ہیں لیکن اب لیڈر آف اپوزیشن کی تقریر کے بعد اس بات کا تقاضا موجود ہے کہ اپوزیشن اور حکومت بجٹ کو موضوع بنائیں۔ مریم نواز نے کہا ہے کہ سعد رفیق کے پروڈکشن ا??رڈر اس کے لئے نہیں ہو رہے کہ سعد رفیق نے وزیراعظم کو الیکشن میں ہرایا ہے اور اس بات کا تعلق نیب کی گرفتاری پر ہے سعد رفیق پر الزامات ہیں جس پر جواب دے رہے ہیں اور یقینا ان کے بھائی پر بھی الزامات ہیں اس کا وہ عدالت میں جواب دیں گے میں نہیں سمجھتا کہ اس کا تعلق اس بات سے ہے کہ انہوں نے الیکشن میں عمران خان کو ہرایا تھا۔ عمران خان پچھلی دفعہ بھی 5,4 حلقوں سے کھڑے ہوئے تھے تو میں نہیں سمجھتا کہ جو جو شخص عمران خان سے جیتا ہے عمران خان اس سے ساری عمر بدلہ لیتے رہیں گے۔ معلوم ہوتا ہے کچھ گرد بیٹھ رہی ہے آج جس طرح قومی اسمبلی میں تقریریں ہوئیں اور آئندہ بھی اس کی توقع ہے میرا خیال ہے کہ فریقین کو ایک دوسرے کو قبول کرنا پڑے گا اور لگتا ہے کہ معمول کی کارروائی شروع ہو جائے گی۔ پنجاب اسمبلی میں ابھی بجٹ پر بحث شروع ہونی ہے مجھے ا±مید ہے کہ اب ایک دوسرے کی بات سنی جائے گی اور بات کہنے کا موقع بھی ملے گا اپوزیشن کو بھی بات کرنے کا موقع ملنا چاہئے اور حکومتی ارکان کو بھی اپنی بات کرنے کا موقع ملنا چاہئے۔ اسمبلیاں اس لئے ہوتی ہیں کہ ان میں اظہار خیانل ہو اس لئے نہیں ہوئیں کہ ایک دوسرے کو بات ہی نہ کر دی جائے۔ عمران خان کی طرف سے یہ بیان کہ کسی بھی محکمے میں کرپشن برداشت نہیں کی جائے گی۔ ضیا شاہد نے کہا کہ یہ اچھی پالیسی ہے اور اگر وہ اس پر قائم رہے تو اس کے اچھے اثرات برآمد ہوں گے فوری طور پر ہو سکتا ہے اس کا کوئی ردعمل زیادہ اچھا نہ ہو لیکن آخر کار کرپشن کا خاتمہ ملک کو صحیح پٹڑی پر ڈال دے گا۔ اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں 13 نکاری ایجنڈے پر غور کیا گیا کہ 40 ہزار روپے کے انعامی بانڈ کو لازماً رجسٹر کروانا ہو گا ضیا شاہد نے کہا کہ رجسٹریشن نہ ہو تو جس کا بھی بانڈ نکلتا تھا وہ اس کا بانڈ ٹیکس کاٹنے کے بعد 25 لاکھ ایک کروڑ سے کٹ جاتا تھا اس لئے جس کا بانڈ نکلتا تھا فوراً بلیک منی والے لینے جاتے تھے اور وہ ان سے پورے ایک کروڑ کا خرید لیتے تھے اور کالے دھن والے 25 لاکھ کٹوا کر کالا دھن سفید کر لیتے تھے اب رجسٹریشن ہو گی تو پھر میرا خیال ہے اس کو بلیک منی والے استعمال نہیں کر سکیں گے۔ یہ ایک لحاظ سے اچھی اصلاحی تجویز ہے۔ مریم نواز نے کراچی سے احتجاجی مہم کا آغاز اور پہلا جلسہ کراچی میں کرنے کا اعلان کیا ہے ضیا شاہد نے کہا کہ عام طور پر سمجھا جاتا ہے کہ ن لیگ صرف پنجاب کی حد تک ہے اس لئے اس تاثر کو ختم کرنے کے لئے کراچی میں جلسہ کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ لیکن وہاں لیگ ن یا مریم نواز پذیرائی نہیں ملے گی وہ اپنا شوق پورا کر لیں۔ بلاول جلسہ کریں مریم نواز یہ عوامی رابطہ مہم ہے یہ الیکشن کی تیاری نہیں ہے۔ ن لیگ کو کراچی اور پیپلزپارٹی کو لاہور میں کوئی پذیرائی نہیں ملے گی۔ اسحق ڈار لندن میں ہوم آفس میں 4 گھنٹے تک موجود رہے ہیں وہاں ان کا سیاسی پناہ کے لئے دوسرا انٹرویو ہے۔ ضیا شاہد نے کہا ہے کہ فی الحال کوئی دعویٰ نہیں کیا یہ تو وقت ہی بتا سکتا ہے لیکن مشکل ہے۔ چیف جسٹس کے کہنے میں کافی وزن ہے کہ اسمبلیوں میں گزشتہ دنوں یہی کچھ ہوتا رہا ہے اور خدا کا شکر ہے ایک مشکل تو ختم ہوئی اور ایک دوسرے کو برداشت کرنے کی رسم شروع ہو جائے تو یہ ایک بہتر صورت حال ہو گی۔ لیکن بجٹ کے معاملہ میں بجٹ پر بات کی جائے۔ معیشت پر بات کی جائے۔چیف جسٹس پاکستان کی باتوں میں وزن ہے ایوانوں میں وہی کچھ نظر آ رہا ہے جس کی بات انہوں نے کی تاہم اب کچھ بہتری نظر آنے لگی ہے حکومتی اور اپوزیشن ارکان ایک دوسرے کی بات سننے لگے ہیں۔ بجٹ اجلاس میں صرف معاشی مسائل پر بات کی جانی چاہئے ادھر ادھر کی باتیں اور سابق حکوومتوں کے موازنے نہیں کرنے چاہئیں مقبوضہ کشمیر میں جس طرح قتل عام جاری ہے بیگناہ کشمیریوں کے خون سے جس طرح ہاتھ رنگے جا رہے ہیں یہ نسل کشی کی ہی ایک صورت ہے۔ اقوام متحدہ میں پاکستانی مندوب ملیحہ لودھی نے یہ معاملہ وہاں اٹھایا ہے بھارت میں مسلمانوں کی نسل کشی کئی طریقوں سے کی جا رہی ہے ”خبریں“ میں اس معاملے کو اٹھانے پر دن بھر لوگوں کی فون کالز کا تانتا بندھا رہا، لوگ سخت ردعمل اور افسوس کا اظہار کرتےے رہے۔ بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے اس پر پاکستان میں ردعمل برھتا جائے گا کیونکہ اسے سنجیدہ معاملات پر خاموشی نہیں رہ سکتی۔ مختلف تنظیموں کی جانب سے بھی ردعمل سامنے آئے گا بھارت کے ناپاک عزاز پر خاموشی اختیار نہیں کی جا سکتی۔ اقوام متحدہ کی مقبوضہ کشمیر میں ظلم پر خاموشی کی ایک وجہ غیر مسلم ممالک کی بے حسی بھی ہے۔ بھارت کا دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کے دعوے کو امریکہ تسلیم کرتا ہے اس سے باقی دنیا بھی متاثر ہوتی ہے، حالانکہ وہاں اصل صورتحال یہ ہے کہ 22 کروڑ مسلمانوں کا ایک نمائندہ بھی منتخب نہیں ہونے دیا گیا، یہ رویہ بھی جمہوریت کی نفی ہے، بھارت کے آئین میں سیکولر ازم صرف لفظ کی حد تک ہی رہ گیا ہے۔ کانگریس کی حکومت میں تو مسلمانوں کو کچھ نشستیں اور ایک آدھ وزارت دے دی جاتی تھی اب بی جے پی حکومت نے تو کھلم کھلا کہہ دیا ہے کہ مسلم ووٹوں کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ بھارت ایک طرف تو او آئی سی میں نمائندگی کے لئے پہنچ جاتا ہے کہ ہمارے یہاں 22 کروڑ مسلمان ہیں دوسری جانب برملا کہا جاتا ہے کہ مسلمانوں کے ووٹروں کی ضرورت نہیں ہے بھارت کے اس منافقانہ رویے بارے پاکستان میں آگہی بڑھ رہی ہے اور لوگ جان رہے ہیں کہ وہاں مسلمانوں کے ساتھ کیا ناروا رویہ اختیار کیا جا رہا ہے۔

نیوزی لینڈ نے جنوبی افریقا کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد شکست دیدی

برمنگھم(ویب ڈیسک) ورلڈکپ کے 25 ویں میچ میں نیوزی لینڈ نے جنوبی افریقا کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد 4 وکٹوں سے شکست دےدی۔برمنگھم میں کھیلے جارہے میچ کا ٹاس پچ گیلی ہونے کی وجہ سے تاخیر سے ہوا، وقت ضائع ہونے پر فی اننگز میں ایک اوور کی کٹوتی کی گئی، نیوزی لینڈ کے کپتان کین ولیمسن نے ٹاس جیتا اور پچ پر نمی سے فائدہ اٹھانے کے لیے پہلے بولنگ کرنے کو ترجیح دی۔کیوی کپتان کا فیصلہ بولرز نے درست ثابت کردکھایا اور نپی تلی بولنگ سے بلے بازوں کو شروع سے ہی دباﺅ کا شکار کیے رکھا، عمدہ بولنگ کی بدولت پروٹیز مقررہ 49 اوورز میں 6 وکٹوں پر 241 رنز ہی بنا سکے۔جنوبی افریقی ٹیم کا آغاز اچھا نہ رہا اور اوپننگ جوڑی 9 رنز پر ہی ٹوٹ گئی، ڈی کوک صرف 5 رنز بنا کر بولڈ ہوگئے، ابتدائی نقصان کے بعد کپتان ڈوپلیسی نے تجربہ کار ہاشم آملہ سے مل کر دوسری وکٹ پر 50 رنز جوڑے، ڈوپلیسی 23 رنز بنا کر وکٹ گنوا بیٹھے جب کہ مارکرم اور آملہ نے محتاط انداز میں اننگز کو آگے بڑھایا تاہم 111 کے مجموعے پر ا?ملہ مارکرم کا ساتھ چھوڑ گئے، انہوں نے 55 رنز بنائے۔136 پر مارکرم کے پویلین لوٹنے پر جارح مزاج ڈیوڈ ملر اور وینڈر ڈوسن نے 72 رنز جوڑ کر مجموعے کو 208 تک پہنچایا، ملر 36 رنز بنا کر آﺅٹ ہوئےالبتہ وینڈر ڈوسن نے 67 رنز بنا کر ٹیم کے اسکور کو 242 تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کیا، انہوں نے 3 چھکے اور 2 چوکے لگائے۔نیوزی لینڈ کی جانب سے فرگوسن نے سب سے زیادہ 3 وکٹیں حاصل کیں،بولٹ، گرینڈہومے اور سینٹنر نے ایک ایک وکٹ حاصل کی۔

بلوچستان کا 419 ارب روپے کا بجٹ پیش، تنخواہوں میں 10 فیصد اضافہ

کوئٹہ(ویب ڈیسک) بلوچستان حکومت نے آئندہ مالی سال 20-2019 کے لیے 419 ارب روپے حجم کا بجٹ پیش کردیا جب کہ تنخواہوں اور پنشن میں 10 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔بلوچستان اسمبلی کا بجٹ اجلاس پونے 3 گھنٹے کی تاخیر سے اسپیکر میر عبدالقدوس بزنجو کی صدارت میں شروع ہوا، وزیر خزانہ و اطلاعات بلوچستان ظہور بلیدی نے 419 ارب روپے کا صوبائی بجٹ پیش کردیا جس میں 48 ارب روپے کا خسارہ ظاہر کیا گیا ہے۔بجٹ میں ترقیاتی منصوبوں کے لئے 128ارب روپے جب کہ غیر ترقیاتی اخراجات کے لئے 291ارب روپے رکھے گئے ہیں، تعلیم کیلئے 60ارب روپے، امن وامان کے لئے 44 ارب 70 کروڑ روپے، لائیو اسٹاک اور جنگلات کیلئے 2 ارب 98کروڑ اور صحت کیلئے 26ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔صوبائی وزیر خزانہ نے کہا کہ روزگار کی فراہمی کے لئے بلاسود قرض پروگرام شروع کیا جارہا ہے، صوبائی ملازمین کی تنخواہوں میں گریڈ ایک سے 16 کے لئے 10 فیصد اور گریڈ 17 سے 20 کے لئے 5 فیصد اضافہ کیا جارہا ہے، 6 ہزار نئی ملازمتوں کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔بجٹ اجلاس کے دوران اپوزیشن اراکین نے ایوان میں ڈیسک بجا کر شدید احتجاج کیا اور بجٹ ”نامنظور نامنظور“ کے نعرے لگاتے ہوئے بجٹ کی کاپیاں پھاڑ کر اسے مسترد کردیا اور ایوان سے واک آﺅٹ کرگئے۔اپوزیشن نے الزام لگایا کہ حکومت نے بجٹ میں ان کے حلقوں کو نظرانداز کیا ہے جس کے بعد بجٹ اجلاس 22 جون شام 4 بجے تک ملتوی کردیا گیا۔

گیدڑ بھبکیاں دینے والے بجٹ کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے، فردوس عاشق اعوان

اسلام آباد(ویب ڈیسک) معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات فردوس عاشق اعوان کا کہنا ہے کہ گیدڑ بھبکیاں دینے والے بجٹ کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے۔اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ شہبازشریف نے ڈھائی گھنٹے تقریر کی جو 3 دن سے چل رہی تھی، جس کو کمر میں تکلیف ہو وہ ڈھائی گھنٹے قوم کو لیکچر نہیں دیتے، قوم کو مبارکباد کہ شہبازشریف صحت یاب ہوگئے ہیں، شہبازشریف نے آج پھر اپنی تشہیر کا آغاز کیا ہے۔فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ عمران خان کو چور دروازوں سے آنے والے مشن سے نہیں ہٹا سکتے، بجٹ قومی سلامتی اور ملکی دفاع کا ضامن ہے، گیدڑ بھبکیاں دینے والے بجٹ کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ غنڈہ گردی سے نہیں آئینی طریقے سے اپوزیشن ترامیم لائے، قبول کریں گے جب کہ بجٹ سے ناطہ توڑنا عوام سے ناطہ توڑنے کے مترادف ہے۔

پی سی بی گورننگ بورڈ نے ٹیم، مینجمنٹ اورسلیکشن کمیٹی کے احتساب کی منظوری دیدی

لاہور(ویب ڈیسک) پی سی بی گورننگ بورڈ اجلاس کا اعلامیہ جاری کردیا گیا۔پی سی بی گورننگ بورڈ نے ورلڈ کپ کے بعد ٹیم ، مینجمنٹ ، سلیکشن کمیٹی کے احتساب کی منظوری دے دی، چیئرمین کی جگہ ایم ڈی کو تمام بڑے اختیارات منتقل ہوگئے، کوچز اور سلیکشن کمیٹی ممبران کے تقرر اور ڈومیسٹک کرکٹ کا اختیار بھی ایم ڈی کے پاس ہوگا تاہم کپتان کا انتخاب چیئرمین کے پاس ہی رہے گا۔اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ ورلڈکپ کے بعد تمام کھلاڑیوں، ٹیم انتظامیہ اور سلیکشن کمیٹی کی تین سالہ کارکردگی کا جائزہ لیا جائے گا۔اس حوالے سے چیئرمین مزید تجویز کیلے رپورٹ پیش کریں گے۔ایم ڈی وسیم خان نے اپنے دورہ انگلینڈ کی رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ کے ساتھ پلیئرز اور آ فیشل ایکسچینج پروگرام شروع ہوگا جب کہ بورڈ ممبران نے ٹیم کی کارکردگی پر مایوسی کا اظہار کیا اورآ ئندہ میچوں میں ٹیم سے عمدہ کارکردگی کی توقع کا اظہار کیا۔ایم ڈی نے واضح کیا کہ آئندہ سال پاکستان ایشیاءکپ اور ٹی ٹوئنٹی کی میز بانی کرے گا جس پرگورننگ بورڈ اراکین نے ایشیا کپ کی میزبانی ملنے پر چیئرمین پی سی بی کو مبارکباد دی۔ ایشیاءکپ پاکستان میں کرکٹ کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔