یو ٹیلٹی ملاز مین کیلئے بری خبر

لاہور (نیا اخبار رپورٹ) اربوں روپے کے مالی خسارے کے بعد یوٹیلٹی انتظامیہ نے پاکستان بھر سے ہزاروں ملازموں کو نکالنے کا فیصلہ کر لیا ہے پہلے مرحلے میں ڈیلی ویجرز اور کنٹریکٹ ملازمین کو فارغ کیا جا رہا ہے جن کی تعداد پاکستان بھر میں 2600 سے زیادہ ہے دوسرے مرحلے میں مستقل ملازمین کو گولڈن شیک ہینڈ سے نکالا جائے گا جن کی تعداد 226 سے بھی زیادہ ہے یوٹیلٹی سٹور کارپوریشن کو روزانہ کی بنیاد پر دو کڑور روپے کا نقصان ہو رہا ہے ماہانہ 32 کروڑ روپے اور سالانہ 4 ارب روپے سے زیادہ کا نقصان ہوا ہے۔ ذرائع کے مطابق ملازمین کی فراغت سے کارپوریشن کی یومیہ 50 لاکھ روپے کا فائدہ ہو گا۔ ذرائع کے مطابق ایم ڈی کی ہدایت پر ملازموں کو نکالنے کیلئے فہرستیں تیار کی جا رہی ہیں۔ قومی امکان ہے کہ اگلے ماہ کے وسط سے ملازموں کی مرحلہ وار فارغ کرنے کا سلسلہ شروع کیا جائے گا گولڈن شیک ہینڈ کی زد میں آنے والے ملازمین کی رپورٹ وزرات خزانہ کو کر دی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق ڈیلی ویجز اور کنٹریکٹ پر رکھے گئے زیادہ تر ملازموں کا تعلق کراچی حیدر آباد سکھر ملتان پشاور کوئٹہ اور لاہور سے ہے سیاسی جماعتوں نے یوٹیلیٹی سٹور کارپوریشن میں اربوں روپے کے خسارے کے باوجود من پسند کارکنوں کو جائز اور نا جائز طریقوں سے بھرتی کروایا۔ حکومت نے مالی سال 2017.18 کے بجٹ میں یوٹیلیٹی سٹور کے ملازمین کی تنخواہوں میں بھی 10 فیصد کے حساب سے اضافہ کیا تھا لیکن سنگین مالی خسارے کی وجہ سے آج تک انہیں تنخواہوں میں اضافہ نہیں دیا گیا۔

زہریلہ دودھ تیار کرنیوالی فیکٹریوں کے متعلق دل دہلا دینے والے انکشافات۔

لاہور (خصوصی رپورٹ) پنجاب میں زہریلا دودھ بنانے کی دو ہزارسے زائد چھوٹی بڑی فیکٹریاں جن میں تین سو سے زائد فیکٹریاں معروف قومی و بین الاقوامی برانڈز کے دودھ جعلی طریقوں سے بنا کر فروخت کر رہی ہیں جبکہ صرف لاہور شہر کے اندر 452 فیکٹریاں موجود ہیں جو زہریلا دودھ بنا رہی ہیں۔ زہریلے دودھ کے حوالے سے چیف جسٹس کے سخت ترین ریمارکس کےبعد اس حوالے سے بننے والی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پنجاب کے اندر دو ہزارسے زائد ایسی فیکٹریاں موجود ہیں جو مختلف ناموں سے ڈبوں میں خشک دودھ تیار کرکے فروخت کر رہی ہیں جبکہ کھلا دودھ فروخت کرنے والی ڈیریز کی تعداد میں اس سے کئی گنا زیادہ ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ لاہور سمیت دیگر اضلاع میں ڈبوں میں پیک دودھ کی تیاری بڑی فیکٹریوں کے علاوہ گھروں کے اندر بنی ہوئی چھوٹی فیکٹریوں میں بھی ہوتی ہیں جبکہ متعلقہ محکمے اور مقامی پولیس سب اپنا حصہ وصول کرتے ہیں۔ رپورٹ میں اس بات کا بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ اس وقت بہت سی فیکٹریاں تو معروف ترین برانڈز کے ناموں سے جعلی اور زہریلا دودھ بنا کر مختلف سٹوروں پر فروخت کر رہی ہیں اور ان مختلف بڑے سٹورز پر ان دودھ کے ڈبوں کو جو معروف ترین برانڈز ہیں ان کو انتہائی سستے داموں دیاجاتا ہے جو آگے مہنگے داموں فروخت کرکے بھاری منافع کی خاطر موت بیچتے ہیں جبکہ اس زہریلے خشک دودھ کو جہاں بڑے سٹوروں پر فروخت کیا جا رہا ہے وہی پر معروف ترین ہوٹلوں، درمیانے درجے کے ہوٹلوں میں چائے کیلئے بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔ معروف بیکریوں اور مٹھائی کی دکانوں میں بھی ڈیری دودھ کی بجائے غیر معیاری خشک دودھ کو پانی میں ڈال کر استعمال کیا جا رہا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اندرون لوہاری مارکیٹ، شاہ عالم میں تھوک کے حساب سے اس دودھ کی فروخت ہو رہی ہے جبکہ اسی فیصد تعلیمی اداروں کے اندر یہی زہریلا خشک دودھ فروخت کیا جا رہا ہے۔ تعلیمی اداروں کے اندر یہ خشک دودھ چائے میں استعمال کیا جاتا ہے چھوٹی بڑی آئس کریم فیکٹریاں بھی اسی دودھ کو استعمال کر رہی ہیں۔ سرکاری دفاتر اور ہسپتالوں کے اندر بھی سرکاری کھاتے سے اس زہریلے خشک دودھ کو سستے داموں خرید کر زیادہ ریٹ لکھ کر پیسے کمائے جاتے ہیں اور پھر اس دودھ کو کسی معروف برانڈ کے دودھ کے نام سے استعمال کیا جاتا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس زہریلے دودھ کے خلاف ہدایات کے باوجود اس وقت لاہور سمیت پنجاب بھر میں نوے فیصد سٹوروں اور ہوٹلوں میں یہی دودھ استعمال کیا جا رہا ہے۔

ایک اور احتجاج کی تیاری ۔

لاہور (وقائع نگار) امیر جماعت اسلامی پنجاب میاں مقصود احمد اور کستان اتحاد کے رہنما خالد کھوکھر نے مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ جماعت اسلامی اور کسان تنظیمیں مل کر 9 جنوری کو پنجاب اسمبلی کے باہر زبردست احتجاج کریں گی اور اس حوالے سے صوبہ بھر کے کسانوں کو متحرک کیا جائے گا۔ اس موقع پر انکے ہمراہ سرفراز احمد خان‘ عبدالجبار خاں‘ انور گوندل‘ سیف الرحمان جسرا ایڈووکیٹ‘ محمد فاروق چوہان‘ عمران الحق و دیگر موجود تھے۔ میاں مقصود احمد اور خالد کھوکھر نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مزید کہا کہ شریف فیملی کی رمضان شوگر مل چنیوٹ کے باہر احتجاجی مظاہرہ 5 جنوری کو کیا جائے گا۔ گنے کے کاشتکاروں کا معاشی استحصال کسی بھی صورت میں قبول نہیں کریں گے۔ حکومت پنجاب اپنے ہی مقرر کردہ نرخ 180 روپے ادا کرنے کی بجائے لیت و لعل سے کام لے رہی ہے۔ کین ایکٹ 1934 کے تحت شوگر ملیں اپنے قریبی ایریاز میں کنڈے لگانے کی پابند ہے۔ مگر تھوڑے پیسے بچانے کی خاطر اس پر عمل درآمد نہیں ہورہا اور کسانوں کے اربوں روپے غصب کر رکھے ہیں۔ حکومت پنجاب مسلسل اس معاملے میں مجرمانہ غفلت‘ بے حسی اور ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کررہی ہے جس کی وجہ سے گنے کے کاشتکاروں کا مسئلہ ایک سنگین شکل اختیار کرچکا ہے۔ امیر جماعت اسلامی پنجاب میاں مقصود احمد نے کہا کہ حکومت کا فرض ہے کہ وہ کاشتکاروں کی فصلوں کا تحفظ کرے مگر بدقسمتی سے یہاں الٹی گنگا بہتی ہے۔ کوئی بھی گنے کا کاشتکاروں کا پرسان حال نہیں ہے۔ حکمرانوں نے بھی شوگر مل مالکان کے ساتھ مل کر مظالم کی انتہا کر دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نے کاشتکاروں کو ریلیف فراہم کرنے کی غرض سے لاہور ہائیکورٹ میں رٹ بھی درج کروا رکھی ہے۔ ان شاءاللہ ہم پر امید ہیں کہ وہاں سے بھی کسانوں کو فتح ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ شوگر مل مالکان نے خود مڈل مینوں کو کھڑا کیا ہے تاکہ کسانوں کو جائز کمائی سے محروم کیا جاسکے۔ کسانوں کے جائز مطالبات کی منظوری تک ہمارا احتجاج جاری رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے جہاں 72 فیصد آبادی کا دارومدار اس شعبہ سے وابستہ ہے۔ ہم کاشتکاروں کے ساتھ ہر سطح پر کھڑے ہیں۔ اس موقع پر کسان اتحاد کے مرکزی رہنما خالد کھوکھر نے کہا کہ وزیراعلی پنجاب سے ہماری 7 ملاقاتیں ہوچکی ہیں مگر ہر بار طفل تسلیوں کے سوا کچھ نہیں ملا۔

شریف فیملی کے لیے ایک اور مشکل۔

لاہور (آن لائن) نیب لاہور نے سابق وزیراعظم میاں نواز شریف ان کی صاحبزادی مریم نواز اور نواز شریف کے داماد کیپٹن (ر) صفدر کیخلاف ایک سپلمنٹری ریفرنس تیار کرلیا ہے جسے نیب عدالت میں سماعت کیلئے دائر کر دیا جائیگا بتایا گیا ہے کہ نیب لاہور نے یہ ریفرنس پاکستان مسلم لیگ ن کی مذکورہ تینوں شخصیات کی جانب سے پیشی پر عدالت میں پیش نہ ہونے اور اپنا بیان ریکارڈ نہ کرانے کے زمرے میں تیار کیا ہے جب کہ نیب لاہور نے لندن سے انکوائری کے دوران اکھٹے کئے گئے شواہد کو بھی سپلمنٹری ریفرنس میں شامل کرلیا ہے۔

مظفرگٹرہ میں شادی شدہ خاتون سے دل دہلا دینے والاواقع

مظفرگڑھ (ڈسٹرکٹ رپورٹر) شادی شدہ خاتون کو اغوا کر کے جعلی طلاق نامہ، نکاح نامہ، زیادتی اور برہنہ ویڈیو بنانے کے واقعہ میں ملوث کھر اور ہنجرا خاندان کے پروردہ سابق نائب ناظم کے سامنے قانون بے بس، ملزم آزاد، متاثرہ شوہر انصاف کیلئے دربدر، پیروی پر سنگین نتائج کی دھمکیاں۔ تفصیلات کے مطابق تحصیل کوٹ ادو کے چک نمبر138 ایم ایل کے رہائشی منیر احمد جٹ ولد غلام رسول نے خبریں ہیلپ لائن کو بتایا کہ چوک سرور شہید کے سابق نائب ناظم محمد ارشد آرائیں سکنہ چک نمبر 632 ٹی ڈی اے اڈہ محمد والہ نے اس کی 3 بچوں کی ماں اہلیہ صوبیہ کوثر کو زبردستی اغوا کیا اور اپنے ڈیرہ پر لے جا کر زیادتی کا نشانہ بنایا، بدقماش محمد ارشد نے نہ صرف خاتون کے ساتھ زیادتی کرتے ہوئے اپنی ویڈیو فلم بنائی بلکہ علاقہ میں بھی پھیلا دی۔ جس پر تھانہ چوک سرور شہید پولیس نے ملزم کیخلاف مقدمہ درج کر لیا۔ کھر اور ہنجرا خاندان کے پروردہ بااثر اور جعلساز ملزم محمد ارشد آرائیں نے قانونی کارروائی میں تحفظ کی کوششوں کے دوران نہ صرف جعلسازی سے صوبیہ کوثر کا جعلی طلاق نامہ تیار کیا بلکہ اپنا صوبیہ کے ساتھ بوگس نکاح نامہ بھی تیار کروایا جس میں اپنی قماش کے محمد علی قیصر اور حنیف احمد کو گواہ رکھا۔ متاثرہ منیر احمد کے مطالبہ پر پولیس نکاح نامہ کا کیس یونین کونسل میں کوئی اندراج نہیں، بوگس نکاح کا ایک گواہ محمد علی قیصر اپنی بیٹی کے ہاتھوں قتل بھی ہو چکا ہے۔ متاثرہ منیر احمد جٹ کے مطابق ملزموں کے خلاف مقدمہ کے اندراج کے عدالتی حکم کے باوجود جو کہ سرور شہید اور کوٹ ادو پولیس بااثر ملزم کے خلاف کارروائی سے انکاری ہے۔ وہ ڈیڑھ سال سے انٹی کرپشن میں بھی سابق نائب ناظم ملزم کے خلاف کارروائی کے لئے دھکے کھا رہا ہے۔ سرکل آفیسر اینٹی کرپشن تاحال معاملہ کی انکوائری کر رہے ہیں اور مدعی کو اس حوالے سے باخبر رکھنے سے گریزاں ہے۔ متاثر منیر احمد جٹ نے کہا کہ ملزم ارشد آرائیں نے اس کے خاندان کا وقار برباد کر دیا اس کے بچے 3 معصوم بچے اغوا، زنا، زیادتی کی ویڈیو علاقہ میں پھیلانے کے واقعہ سے متاثر ہو کر معاشرہ کے طنز اور طعنوں کا شکار ہو کر ذہنی مریض بن چکے ہیں وہ ڈیڑھ سال سے اپنے خاندان کو برباد کرنے والے بدکردار ملزم کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کی کوششوں میں دربدر ہے جبکہ بااثر ملزم تاحال دندناتے ہوئے اسے سنگین نتائج کی دھمکیاں دے رہا ہے۔ متاثرہ منیر احمد نے وزیراعلیٰ پنجاب ڈی پی اینٹی کرپشن اور آئی جی پنجاب سے دادرسی کا مطالبہ کیا ہے۔

سا بق صدر کی طاہر ا لقادری سے ملاقات پرکن راہنماوںکو اعتراض؟ٓ

اسلام آباد( آن لائن) پاکستان پیپلزپارٹی عوامی تحریک کے سربراہ طاہرالقادری کے ساتھ ہاتھ ملانے کے معاملہ پر سخت اختلافات کا شکار ہوگئی ہے اور پارٹی میں اس حوالے سے واضح دھڑے بندی ہوگئی ہے ذرائع نے آن لائن بتایا کہ آصف زرداری کی قادری سے ملاقات پر پیپلز پارٹی کے کئی سینئر رہنمائ ناخوش ہیں اور انہوں نے قادری سے کسی بھی قسم کے سیاسی اور انتخابی اتحاد کی مخالفت کر دی ہے ان سینئر رہنماﺅ ں میں سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر اعتزا ز احسن اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ بھی شامل ہیں سینئر رہنماﺅ ں نے آصف زرداری کو اپنے تحفظات سے آگاہ بھی کر دیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ آصف زرداری کو قادری سے ملاقات کے لیے خود نہیں جانا چاہئے تھا، کیونکہ وہ اس ملک کے سابق صدر رہنے کے ساتھ ساتھ ایک بڑی پارٹی کے عملی سربراہ بھی ہیں ان رہنماﺅ ں کا کہنا ہے کہ قادری سے اظہار یکجہتی کے لیے دوسرے درجے کی قیادت کو بھیجا جانا چاہئے تھا اور قادری ملاقات کے لیے زرداری ہاﺅ س آتے تو اعتراض نہ ہوتا ، سینئر رہنماﺅ ں نے قادری سے کسی قسم کے اتحاد کو پیپلزپارٹی کے لیے نقصان دہ قرار دیدیا ہے اور کہا ہے کہ ہمیں نادیدہ قوتوں کے کھیل کا حصہ نہیں بننا چاہئیے ،قادری کو نوابزادہ نصراللہ سے تشبیہ دینے پر بھی رہنماﺅ ں کی جانب سے تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔

زبیدہ آپا سے متعلق خبر نے سب کورنجیدہ کردیا

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) معروف شیف زبیدہ آپا انتقال کر گئیں۔ نجی ٹی وی ذرائع کے مطابق معروف دانشور انور مقصود کی بہن، زبیدہ آپا انتقال کرگئیں۔ وہ کچھ عرصہ سے علیل تھیں۔ ان کی نماز جنازہ آج بعد نماز جمعہ کراچی میں ادا کی جائے گی۔ وہ ایک معروف شیف تھیں اور ان کے ٹوٹکے بہت مشہور ہوئے۔

امریکہ کا رویہ نا تو اتحادی کا ہے اور نہ ہی دوست کا :وزیر خارجہ خواجہ آصف

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)وزیر خارجہ خواجہ آصف نے کہا ہے کہ اگر امریکا نے جارحیت کی کوشش کی تو پوری پاکستانی قوم کی جانب سے متفقہ جواب دیا جائے گا۔خواجہ آصف نے نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹوئٹ کے بعد پچھلے 4 روز میں پیدا ہونے والی صورت حال انتہائی کشیدہ ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ نکی ہیلی اور مک ماسٹر کے بیان کے بعد امریکا کا رویہ نا تو اتحادی کا ہے اور نا ہی دوست کا۔وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکا سپر پاور ہے اور وہ دنیا کے کسی بھی کونے میں پڑی ہوئی سوئی بھی دیکھ لیتے ہیں لیکن حقانی نیٹ ورک کے معاملے میں ان کی تمام ٹیکنالوجی ناکام ہو گئی ہے اور وہ کہتے ہیں کہ حقانی نیٹ ورک پاکستان سے بیٹھ کر افغانستان میں حملے کرتا ہے۔خواجہ آصف نے کہا کہ ہم نے امریکا سے کہا ہے کہ ہمیں حقانی نیٹ ورک کی پاکستان میں موجودگی کے ثبوت فراہم کریں لیکن انہوں نے کوئی ثبوت نہیں دیے۔انہوں نے کہا کہ پچھلے تین برسوں میں پاکستان میں امریکی ڈرون حملے بہت کم ہو گئے ہیں اور پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں بھی کمی آئی ہے اس کی یہی وجہ ہے کہ ہم نے فوجی آپریشن کے ذریعے قربانیاں دے کر دہشت گردوں کی پناہ گاہیں ختم کر دی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اگر پاکستان میں دہشت گردوں کی پناہ گاہیں ہوتیں تو ڈرون حملے بھی اسی شدو مد کے ساتھ جاری ہوتے جس طرح پہلے ہو رہے تھے۔

 

چاہتا ہوں میاں صاحب راز فاش کردیں انہیں ہیوی مینڈیٹ کہاں سے ملا، زرداری

میرپور خاص(ویب ڈیسک)پیپلزپارٹی کے شریک چیرمین آصف زرداری کا کہنا ہے کہ چاہتا ہوں میاں صاحب سارے رازفاش کر دیں لیکن اس سے پہلے یہ بتادیں آپ نے ہمیشہ ہیوی مینڈیٹ کہاں سے لیا۔میر پورخاص میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پیپلزپارٹی کے شریک چیرمین آصف زرداری نے نوازشریف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے پاور میں آنے کیلئے کوئی سہارانہیں لیا، میں وڈیروں کے ساتھ نہیں بلکہ ہاریوں کے ساتھ ہوں اور ہر وہ کام کروں گا جس میں ہاری اور مزدوروں کا فائدہ ہو۔

1947سے2018 تک کب پاک امریکہ تعلقات خراب ہوئے؟

لاہور (نیا اخبار رپورٹ)پاکستان اور امریکا کے درمیان تعلقات پاکستان بننے کے دو ماہ بعد ہی قائم ہوگئے تھے لیکن دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کئی بار خراب ہوئے،امریکا نے پاکستانی امداد روک کر حقانی نیٹ ورک کیخلاف کارروائی اور سی آئی اے کیلئے کام
کرکے ایبٹ آباد آپریشن میں کردار ادا کرنے والے ڈاکٹر شکیل آفریدی کی رہائی کا بھی مطالبہ کیا،واشنگٹن 1998ءمیں جوہری تجربات،1999ءمیں نواز شریف کو اقتدار سے ہٹانے پر امریکا بھی خوش نہیں تھا، اس کے علاوہ پاک افغان سرحد پر سلالہ چیک پوسٹ حملے پر دونوں ملکوں میں تناﺅ بڑھا،تفصیلات کے مطابق امریکا ان چند ممالک میں شامل ہے جنہوں نے پاکستان بننے کے بعد اس سے سفارتی تعلقات قائم کیے،20 اکتوبر 1947 ءکو 2 ماہ اور6 روز بعد ہی پاکستان اور امریکاکے تعلقات قائم ہوئے گزشتہ 7 دہائیوں میں دونوں ملکوں کے کئی بار تعلقات میں تناﺅ آیا ،ریسرچ کے مطابق امریکا نے پاکستان کو انسداد دہشتگردی اور تعلیم سمیت دیگر شعبوں کیلئے 70 ارب ڈالرز دیئے،یہ رقم پاکستان کو وقتاً فوقتاًدی گئی اور کئی مقامات پر امریکی امداد روکی بھی گئی،ریسرچ کے مطابق 1972ءمیں رچرڈ نکسن کے چین کے دور ے کے موقع پر پاکستان نے اہم کردار ادا کیا،1979 ءمیں پاکستان کے جوہری پروگرام پر امریکا نے تحفظات کا اظہار کیا،1990 ءمیں امریکی صدر نے کانگریس میں کہا کہ پاکستان کے پاس نیو کلیئر ہتھیار نہیں ہیں اور ان کا یہ بیان مثبت رہا لیکن جب پاکستان نے 28 مئی 1998 ءکو نیوکلیئر تجربات کیے تو امریکا ایک بار پھر ناراض ہوگیا ،1999ءمیں جنرل مشرف کے نوازشریف کو اقتدار سے ہٹانے پر بھی امریکا خوش نہیں تھا، حالیہ برسوں میں 27 جنوری 2011 ءکو سی آئی اے کنٹریکٹرریمنڈ ڈیوس کی لاہور میں فائرنگ کا واقعہ پیش آیا ،2 مئی 2011 ءکو اسامہ کیخلاف ایبٹ آباد آپریشن کے واقعے پر بھی دونوں ملکوں کے تعلقات میں کشیدگی ہوگئی،اسی طرح سال 2011 ءمیں ہی 26 نومبر کو پاک افغان سرحد پر سلالہ چیک پوسٹ پر حملے کا واقعہ پیش آیا جس میں 28 پاکستانی فوجی شہید ہوئے۔دونوں ملکوں کےدرمیان تعلقات میں مزید تناﺅ بڑھ گیا۔اس کے بعد امریکی انتظامیہ نے ایبٹ آباد میں سی آئی آپریشن کے کردار ڈا کٹر شکیل آفریدی کی رہائی کامطالبہ کردیا ،فروری 2015 ءمیں امریکی محکمہ خارجہ نے 2016 ءکے عالمی بجٹ میں سے تقریباً900 ملین ڈالرز پاکستان کیلئے دینے کا کہا جس میں سے 500 ملین ڈالرز انسداد دہشتگردی کیلئے تھے۔ اس کے بعد مئی 2016 ءمیں امریکی کانگریس نے ایف -16ڈیل کیلئے ایک ہفتہ قبل امداد روک کر پاکستان پر حقانی نیٹ ورک کیخلاف کارروائی کیلئے دباﺅ ڈالا ،پھر مئی 2016 ءمیں ہی ایک بار پھر پاکستان پر ڈاکٹر شکیل آفریدی کی رہائی کیلئے دباﺅ کی بات ہوئی ، امریکی صدر ٹرمپ اس وقت سپر پاور کی صدارت کیلئے انتخابی امیدوار تھے،اس وقت کے پاکستانی وزیر داخلہ چودھر ی نثار نے ٹرمپ کو اپنے ردعمل میں کہا کہ پاکستان امریکی کالونی نہیں ہے اور ڈاکٹر شکیل کا فیصلہ پاکستان کریگا ،اس کے بعد امریکا نے جماع الدعوةکے امیر حافظ سعید کے سر کی قیمت 10 ملین ڈالرز مقرر کردی ،امریکی سیکرٹری ویندے نے بھارت دورے کے موقع پر کہا کہ حافظ سعید اور عبدالرحمن مکی کے سر کی قیمت مقرر کی گئی ہے۔امریکا اور بھارت نے 26 نومبر 2008 ءکو ممبئی حملوں کا الزام حافظ سعید پر لگایا،سال 2014 ءاور 2015 ءمیں پاکستان اور امریکا میں ڈرون حملوں پر بات کی گئی اور امریکا نے پاکستان کوانتہائی مطلوب دہشتگردملا فضل اللہ پر ڈرون حملہ کیا جس میں وہ بچ گیا ،پاکستان میں امریکی نمائندوں اور سفارتخانوں پر حملوں کے بھی واقعات پیش آئے ،نومبر 1979 ءمیں ایسی اطلاعات سامنے ا ٓئیں کہ امریکا مسجد حرام میں قبضے میں ملوث ہے جس کے بعد ایک مشتعل ہجوم نے اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے پر آگ لگادی اور جانی نقصان ہوا،سال 1989ءمیں اسلام آباد میں امریکی مرکز پر حملہ ہوا اور اس میں 6 پاکستانی جاں بحق ہوئے۔مارچ 1995 ءمیں کراچی میں ایک حملہ ہو جس کے نتیجے میں 2 امریکی ملازمین ہلاک اور ایک زخمی ہوا۔نومبر 1997 ءمیں 4 امریکی بزنس مین کراچی میں قتل ہوئے ،مارچ 2002 ءمیں اسلام آباد کے ایک چرچ میں ایک خودکش حملہ آور نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا جس کے نتیجے میں امریکی سفارتخانے کے 2 اہلکار ہلاک ہوئے ۔مئی 2002 ءمیں امریکی سفارتخانے پر دہشتگردوں کا ایک حملہ ناکام ہوا ،اس کے بعد بھی دونوں ملکوں کے تعلقات خراب ہوگئے ،نومبر 2005ءمیں کراچی میں امریکی اور دیگر بزنسس کے قریب ایک بم حملہ ہوا جس میں 3 افراد ہلاک اور 15 زخمی ہوئے۔2 مارچ 2006ءکو دھماکا خیز مواد سے بھری کار کا خودکش دھماکہ ہوا جس میں امریکی وزارت خارجہ کے ایک افسر کو نشانہ بنایا گیا ،کراچی میں ہونے والے اس حملے کے نتیجے میں 3 افراد ہلاک جبکہ 52 دیگر زخمی ہوئے تھے،ستمبر 2008 ءمیں دھماکا خیز مواد سے بھرے ٹرک سے میریٹ ہوٹل اسلام آباد پر حملہ کیا گیا اس حملے میں امریکی سفارتخانے کا ایک اہلکار ہلاک ہوا۔

ٹرمپ کے بعد اسکا مشیر بھی زہر اگلنے لگا، پاکستان پر سنگین الزامات کی بوچھاڑ

واشنگٹن (ویب ڈیسک)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشیر برائے قومی سلامتی جنرل (ر) ایچ آر مک ماسٹر نے الزام عائد کیا ہے کہ دہشت گردی پاکستان کی خارجہ پالیسی کا حصہ ہے اور اسلام آباد بعض دہشت گرد گروہوں کو اپنی خارجہ پالیسی کے جزو کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔وائس آف امریکا کو دیئے گئے خصوصی انٹرویو میں مک ماسٹر کا کہنا تھا، ‘ڈونلڈ ٹرمپ پاکستان کے رویے سے مایوس ہیں، پاکستان بدستور دہشت گرد گروہوں کی مدد کر رہا ہے، اس نے اپنی حدود میں دہشت گردوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی نہیں کی، یہ بلیم گیم نہیں’۔ان کا کہنا تھا کہ امریکا نے پاکستان کو واضح طور پر بتا دیا ہے کہ ہمارے تعلقات مزید تضادات کا بوجھ برداشت نہیں کرسکتے۔امریکی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے مک ماسٹر نے کہا، امریکا کو تشویش یہ ہے کہ پاکستان طالبان اور حقانی نیٹ ورک کی قیادت کو محفوظ ٹھکانے اور مدد فراہم کرکے اپنے ہی عوام کے مفادات کے خلاف جارہا ہے، یہ گروہ صرف افغانستان ہی نہیں بلکہ پاکستان کے بعض علاقوں میں بھی تباہی مچاتے ہیں۔مک ماسٹر نے مزید کہا کہ ‘ہمیں افغانستان کو مستحکم کرنے کے لیے مل کر کام کرنا ہوگا، اس سے پاکستان کو بھی فائدہ ہوگا’۔انٹرویو کے دوران مک ماسٹر نے ایران میں ہونے والے پرتشدد مظاہروں کے حوالے سے بھی بات کی اور کہا کہ ایرانی شہری عوام کی ضروریات پوری کرنے کے بجائے دہشت گردوں کو برآمد کرنے والے نظام کے خلاف مایوسی کا اظہار کر رہے ہیں اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ان کی بھرپور حمایت کر رہے ہیں۔مک ماسٹر کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یکم جنوری کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر پاکستان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ امریکا نے گزشتہ 15 برسوں میں اسلام آباد کو احمقوں کی طرح 33 ارب ڈالر امداد کی مد میں دیے لیکن بدلے میں اسے جھوٹ اور دھوکہ ملا۔
ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے لکھا، ‘امریکا نے گزشتہ 15 برس میں احمقوں کی طرح پاکستان کو 33 ارب ڈالر امداد کی مد میں دیے اور انہوں نے ہمیں جھوٹ اور دھوکے کے سوا کچھ نہیں دیا’۔امریکی صدر نے اپنے بیان میں مزید کہا تھا کہ ‘پاکستان نے ہمارے حکمرانوں کو بے وقوف سمجھا، جن دہشت گردوں کو ہم افغانستان میں ڈھونڈتے رہے پاکستان نے انہیں محفوظ پناہ گاہیں دیں اور ہماری بہت کم معاونت کی، لیکن اب مزید نہیں’۔
بعدازاں وائٹ ہاو¿س کی ترجمان سارا سینڈرز نے کہا تھا کہ امریکا نے پاکستان کی 255 ملین ڈالرز (25 کروڑ 50 لاکھ ڈالر) یعنی 28 ارب روپے کی فوجی امداد پر پابندی برقرار رکھنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

امریکی ڈیڈلائن ختم ، اب کیا فیصلہ ہونے والا ہے ۔۔۔؟

واشنگٹن (خصوصی رپورٹ) حقانی نیٹ ورک، جماعة الدعوہ اور دہشت گردوں کی مبینہ پناہ گاہوں کے خلاف کارروائی کے لئے پاکستان کو دی گئی 48 گھنٹوں کی امریکی ڈیڈلائن آج (جمعرات) کو ختم ہوگئی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ واشنگٹن دباﺅ بڑھانے کے لئے کیا قدامات کرتا ہے۔ منگل کو وائٹ ہاﺅس کی ترجمان سارا مینڈرز نے اعلان کیا تھا کہ پاکستان پر دباﺅ بڑھانے کے لئے 24 سے 48 گھنٹوں میں مخصوصاً اقدامات کا اعلان کی جائے گا۔ اس حوالے سے امریکی ڈلائن لائن کا آج آخری دن ہے۔ بعض امریکی حکام اور میڈیا نے عندیہ ظاہر کیا ہے کہ امریکہ مبینہ دہشت گرد کیمپوں‘ حقانی نیٹ ورک اور طالبان رہنماﺅں کو نشانہ بنانے کے لئے پاکستان کے اندر خود کارروائی اور ڈرون حملے کرسکتا ہے۔ پاکستانی وزیر دفاع خرم دستگیر نے بھی اس امکان کو رد نہیں کیا‘ ان کا کہنا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ پارہ صفت انسان ہیں‘ اس لئے امریکی کارروائی کا امکان رد نہیں کیا جاسکتا۔ہمارے خیال میں اس کا امکان کم ہے واشنگٹن کو پتہ ہے اس کے بعد پاکستان کے پاس بھی سپیس کم رہ جائے گی۔ وزیرداخلہ احسن اقبال نے واضح کیا کہ رعب اور دباﺅ میں نہیں آئیں گے‘ کسی کو حق نہیں کہ ہماری عزت نفس پر حملہ کرے۔ اقوام متحدہ میں پاکستانی سفیر ملیحہ لودھی نے امریکی سفیر کو جواب دیتے ہوئے واضح کیا کہ اگر دہشت گردی کے خلاف پاکستان کردار کو نہ سراہا تو ہم اپنے تعلقات اور تعاون پر نظرثانی کرسکتے ہیں۔ امریکہ کو اپنی غلطیوں اور ناکامیوں کا ملبہ دوسروں پر نہیں ڈالنا چاہئے۔ یکطرفہ حملے کی اطلاعات پر پاکستانی حکام نے واضح کیا کہ اپنی سلامتی‘ خودمختاری اور حدود کی حفاظت کرنا چاہتے ہیں۔ کسی بھی یکطرفہ کارروائی یا ڈرون حملے کا سخت جواب دیں گے۔ امریکہ کے انتہائی سخت بیانات‘ دھمکیوں‘ پاکستان کے اندر کارروائیاں کرنے کے اشاروں اور پاکستانی ردعمل نے دونوں ملکوں کے تعلقات کو خطرناک ترین موڑ پر پہنچا دیا ہے۔ پاکستانی سول و عسکری قیادت‘ مادر وطن کے دفاع اور جغرافیائی حدود کے تحفظ کے لئے متحدہ و مشفق اور عزم کئے ہوئے ہیں۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے مادر وطن پر تین بیٹے اور دو بھتیجے قربان کرنے والے محمد علی خان کے گھر پر بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو دھمکانے والی بیرونی قوتیں سمجھ لیں جس قوم کے پاس ایسے والدین اور بچے ہوں ان کا کوئی بال بیکا بھی نہیں کرسکتا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ وہ ایسی فوج کے چیف ہیں جس کے جوان ہر وقت ملک پر جان قربان کرنے کو تیار رہتے ہیں۔ آرمی چیف نے کہا کہ کوئی رقم ان بہادروں کی حب الوطنی اور قربانیوں کی قیمت نہیں چکا سکتی۔ ان کی قربانیاں ہی ہمیں پرامن اور مستحکم پاکستان کی طرف لے جارہی ہیں۔ شمالی وزیرستان کے علاقے گڑھ جیل کرک محمد علی خان کے چھ بچے پاک فوج کا حصہ رہے،3بچوں نے اپک وطن کی حفاظت کیلئے شہادت پائی جبکہ ان کے بھتیجے بھی شہید ہوئے۔ دریں اثنا آئی ایس پی آر ڈی جی میجر جنرل آصف جنجوعہ نے امریکی صدر ٹرمپ کے بیان پر سابق وزیراعظم نواز شریف کے ردعمل کو خوش آئند قرار دیا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ وقت کی ضرورت ہے کہ سیاسی و عسکری قیاد تاور عوام یک زبان ہو کر ایک بیانیہ اپنائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ ہمارا اتحادی ہے اس سے جنگ نہیں ہوسکتی۔ لیکن واشنگٹن ایسا کوئی ایکشن لیتا ہے تو فیصلہ ریاست اور حکومت نے کرنا ہے۔ میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان غلط فہمیاں ایک تیسری قوت بڑھانا چاہتی ہے ہم سے شمالی وزیرستان آپریشن اور حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا جاتا تھا۔ امریکہ کی قومی سلامتی کے مشیر جنرل (ر) ایچ آرمک ماسٹر نے الزام عائد کیا کہ پاکستان بعض دہشتگردوں کو اپنی خارجہ پالیسی کے ایک جزو کے طورپر استعمال کر رہا ہے۔ وائس آف امریکہ انٹرویو دیتے ہوئے مک ماسٹر نے کہا کہ پاکستان بدستور دہشت گرد گروہوں کی مدد کر رہا ہے اور اس نے اپنی حدود میں دہشت گرد گروہوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی نہیں کی۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا پاکستان سے متعلق حالیہ ٹوئٹ پاکستان کے اس رویے کے بارے میں صدر کی مایوسی کا اظہار ہے۔ امریکی مشیر نے کہاکہ پاکستان سے کیے جانے والے مطالبات محض الزامات کا تبادلہ نہیں بلکہ اس کا مقصد پاکستان پر واضح کرنا ہے کہ دونوں ملکوں کے تعلقات مزید تضادات کے متحمل نہیں ہو سکتے۔

33ارب ڈالر کی خا طر اپنی عزت کا سودا کرتے رہے ،شہباز شریف

لاہور(ویب ڈیسک) وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف کا کہنا ہے کہ امریکا کی طرف سے آج ہم پر طعنے اور زہر آلود تیر برسائے جارہے ہیں جو جرنیلوں، سیاستدانوں سمیت ہر ایک کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔لاہور میں سیف سٹی پراجیکٹ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شہبازشریف نے کہا کہ 70 سال گزر گئے، آج ہم پر طعنے اور زہر آلود تیر برسائے جارہے ہیں جو جرنیلوں، سیاستدانوں سمیت ہر ایک کے لیے لمحہ فکریہ ہے، اس سے بہتر تو عزت کی موت ہے، امریکی صدر کا بیان قومی وقار کے مناف اور عزت نفس مجروح کرنے کے مترادف ہے۔انہوں نے کہا کہ اس سے بڑا اور کوئی لمحہ نہیں آیا جب اتنی دیدہ دلیری سے آپ کے وقار کا تیا پانچا کیا گیا، قصور ہمارا اپنا ہے، 33 ارب ڈالر کی طرح بھیک کے پیچھے رہے، اس کے اوپر اپنی عزت کا سودا کرتے رہے لیکن آج بھی ہوش کے ناخن لیں، ہمیں امریکا یا کسی اور ملک سے کوئی لڑائی نہیں لڑنی، امریکا بہت بڑی طاقت ہے، ہمیں عزت و وقار کے ساتھ مشاورت کے ساتھ فیصلہ کرنا چاہیے، امریکا سے کہیں آپ سے عزت کے ساتھ معاملات کریں گے، آپ کے پیسے، امداد اور قرض نہیں چاہیے۔وزیراعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ روکھی سوکھی کھالیں گے، کشکول اور مانگے تانگے کی زندگی میں عزت نہیں ملتی، اسٹیک ہولڈرز مل کر مشاورت سے فیصلہ کریں اور ایسی امداد سے توبہ کرلیں، اس سے چھٹکارا حاصل کرلیں جس پر صبح شام طعنہ زنی ہو، اس چیز کا سامنا کرنا آسان نہیں، ہمیں شرمندہ کیا جائے ہماری بے توقیری کی جائے۔شہبازشریف نے مزید کہا کہ فیصلہ اشرافیہ نے کرنا ہے، عوام نے کبھی پاو¿نڈز اور ڈالرز نہیں دیکھے، عوام محنت کرکے خون پسینہ گراکر مشکل سے رزق حلال کماتے ہیں، ہمیں سوچ سمجھ کر قوت ارادی کے ساتھ جواب دینا ہوگا، امریکا سے کہیں آپ نے جو پیسے لیے اس کا حساب لیں۔انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنے آپ اور اس نظام سے جنگ کرنا ہے، اس نظام کو دفن کرنا ہے جس نے اس مقام پر پہنچایا جس میں ہم پر دن رات طعنہ زنی ہورہی ہے، ہمارے بزرگوں نے خون بہا کر ملک اس لیے نہیں بنایا کہ 70 سال بعد جو اٹھے پگڑی اچھال دے اور دشنام طرازی کرے۔وزیراعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ پچھلے چار سالوں میں ہزاروں میگاواٹ بجلی کے منصوبے جو سی پیک سے ہٹ کر قائم کیے گئے وہ حکومت پاکستان نے اپنی جیب سے لگائے، ماضی کی 70 سالہ تاریخ میں پانچ سو میگاواٹ کا منصوبہ لگانے کے لیے ہم کشکول لے کر چل پڑتے تھے۔شہبازشریف نے کہا کہ ہمیں فخر ہونا چاہیے کہ ایک دھمکی آئی اور چین ہمارے ساتھ کھڑا تھا۔