لاہور (خصوصی رپورٹ) سابق وزیراعظم پاکستان میاں محمد نوازشریف نے بجلی اور گیس سستی کرنے کے دعوﺅں کو غلط ثابت کرنے کیلئے موجودہ قیادت نے بجلی پیدا کرنے اور اس کے ریٹ بڑھانے والوں کو کھلی چھٹی دے دی ہے۔ سب سے کم بجلی استعمال کرنے والے غریبوں پر سب سے زیادہ بل بڑھانے کا بم گرا دیا گیا ہے۔ 100اور 200یونٹس تک بجلی استعمال کرنے والوں کے بل دوگنا ہو جائیں گے جبکہ سب سے زیادہ بجلی استعمال کرنے والوں پر 80سے 60پیسے فی یونٹ فرق پڑے گا۔ سردیوں میں بجلی کے کم استعمال کے باوجود غریبوں کو امیروں کے بلوں کی شرح کے برابر بل ادا کرنے پڑیں گے۔ 200یونٹس بجلی استعمال کرنے والوں کے بل 1747روپے ماہانہ سے بڑھ کر 3000روپے ماہانہ تک‘ 100یونٹ بجلی استعمال کرنے والوں کے بل بھی 1120روپے سے بڑھ کر 1420روپے سے زائد پہنچ جائیں گے۔ 300یونٹس بجلی استعمال کرنے والوں کو 3237سے 4000روپے تک ماہانہ ادا کرنا پڑیں گے۔ سنگل فیز میٹر رکھنے کی صورت میں 75روپے ماہانہ مزیداور تھری فیز رکھنے والوں کو 150روپے اضافی بل میں ادا کرنے پڑیں گے۔ 7000یا اس سے زیادہ یونٹس بجلی استعمال کرنے والوں پر زیادہ بوجھ نہیں ڈالا گیا۔ بجلی سپلائی کرنے والی کمپنیاں بجلی چوری اور لائن لاسز کے 235ارب روپے صارفین سے نکلوانا چاہتے تھے لیکن ان کو اجازت نہ ملی۔ شبہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ آئندہ برس پھر بجلی کے ریٹس بڑھا دیئے جائیں گے۔ 2لاکھ کے بل پر 25ہزار‘ 3سے 4لاکھ کے بل پر 30سے 35ہزار‘ 5سے 6لاکھ بل ادا کرنے والوں پر 40ہزار اور 10لاکھ کے بل پر ایک لاکھ تک اضافی بوجھ بڑھنے کا امکان ہے۔ بجلی کے ساتھ گیس کی چوری کے پیسے بھی صارفین پر ڈالنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔ اس ضمن میں گیس کی چوری کے ڈیڑھ فیصد تک اضافہ کیا جانے کا امکان ہے۔ گیس کے گھریلو صارفین کے بلوں میں اضافہ ہو جائے گا۔ ذرائع کے مطابق 500روپے کی ماہانہ گیس جلانے والوں پر 100روپے تک اضافہ پڑے گا اور 1000روپے تک 200اضافی بل آئے گا۔ 2000روپے کی گیس جلانے والوں کو 400روپے اضافی دینے پڑیں گے۔
Monthly Archives: September 2017
شہباز شریف نے بھید کھول دیا, حیرت انگیز انکشاف
لاہور (اپنے سٹاف رپورٹر سے) وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف نے ڈیرہ غازی خان او رمظفر گڑھ میں الگ الگ بڑے جلسوں سے خطاب کے دوران جنوبی پنجاب کی ترقی اوروہاں کے عوام کی خوشحالی کے لئے اربوں روپے کے منصوبوں کے آغاز تعمیر کا افتتاح کیا اور اربوں روپے کے نئے منصوبوں کا اعلان کیا- وزیراعلی نے ڈیرہ غازی خان اور مظفر گڑھ میں علیحدہ علیحدہ تقریبات میں ڈیرہ غازی خان۔مظفرگڑھ دو رویہ سڑک کے آغاز تعمیر کے منصوبے کا افتتاح کےا۔ وزےراعلیٰ نے ڈےرہ غازی خان مےں مےٹروبس سروس شروع کرنے ،ڈی جی خان ٹیچنگ ہسپتال مےںکڈنی اورد ل کے امراض کے وارڈوں کے قےام اور صفائی کے نظام کو بہتر بنانے کے لئے سالڈ وےسٹ مےنجمنٹ کمپنی کے قیام کا اعلان کےا ۔ وزےراعلیٰ نے مظفرگڑھ سے ہےڈ پنجندتک 90کلو مےٹر طویل سڑک کو دورویہ کرنے کے منصوبے کا اعلان کیاجبکہ مظفرگڑھ مےں بہاوالدےن ذکرےاےونےورسٹی کا کےمپس بنانے کا بھی اعلان کےااور کہاکہ جلد ہی مظفر گڑھ مےں بھی مےٹروبس چلے گی۔وزیراعلی پنجاب محمد شہبازشریف نے ڈیرہ غازی خان میں ڈیرہ غازی خان۔مظفرگڑھ دو رویہ سڑک کے آغاز تعمیر کے منصوبے کے افتتاح کے بعد بہت بڑے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ اس اہم ترین منصوبے پر 13 ارب 38 کروڑ روپے لاگت آئے گی اور55 کلومیٹر طویل سڑک کی تعمیر و توسیع سے علاقے اور دیگر صوبوں کے عوام کو آمد و رفت کی بہترین سہولت ملے گی۔ ڈےرہ غازی خان -مظفر گڑھ دو رویہ سڑک اےک تارےخی منصوبہ ہے اور بلوچستان، سندھ اور خیبرپختونخوا کو ملانے والی اس شاہراہ سے پنجاب آنے جانے کے روابط بڑھیں گے۔مظفرگڑھ سے ڈیرہ غازی خان تک سفر کے دوران آمد و رفت میں آسانیاں پیدا ہوں گی۔ انہوںنے کہا کہ جنوبی پنجاب کےساتھ دیگر صوبوں میں بسنے والے ہمارے بھائی بھی اس اہم منصوبے سے فائدہ اٹھائیں گے اورجنوبی پنجاب کی ترقی و خوشحالی کیلئے اتنا بڑا منصوبہ ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ میں اس منصوبے کے کام کے معیار اور رفتار میں کمی نہیں آنے دوں گااورکام کی رفتار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ انہوںنے کہا کہ قیام پاکستان کے بعد اس علاقے کی ترقی و خوشحالی کےلئے اس منصوبے کو ایک بڑا منصوبہ قرار دیا جا رہا ہے اوراس سڑک کے معےار کی نگرانی ہم سب نے ملکر کرنی ہے اور اس ضمن میں ،میں صوبائی وزراء، ممبران اسمبلی اور محکموںکونگرانی کا کام کرنا ہے۔سڑک کی تعمےر پر عوام کا پےسہ اوران کے خون پسےنے کی کمائی خرچ ہورہی ہے اوراس کے شفاف استعمال کو ہر قےمت پر ےقےنی بنانا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جب تک جنوبی پنجاب کو ترقی کے لحاظ سے وسطی پنجاب سے نہ ملا دوں ،میں چےن سے نہےں بےٹھوں گا۔ آج جس عظےم الشان منصوبے کا سنگ بنےاد رکھاگےا ہے اس سے ڈےرہ غازی خان سے مظفرگڑھ تک دوروےہ سڑک بنے گی،55کلو مےٹر طوےل سڑک کے اس تارےخی منصوبے پر 13ارب روپے سے زائد خرچ ہوںگے اوراس عوامی منصوبے کو اگلے سال 30جون تک مکمل کرلےاجائے گا۔اگر چہ ےہ سڑک نےشنل ہائی وے اتھارٹی اور وفاقی حکومت کی ہے لےکن ےہ پاکستان کا حصہ ہے اوراس منصوبے کےلئے پنجاب حکومت اپنے وسائل سے 13ارب روپے فراہم کررہی ہے-انہوں نے کہا کہ مجھے اےک مرتبہ پھرجنوبی پنجاب اورڈیرہ غازی خان آنے کا موقع ملا ہے جس کے ساتھ مےری ےادےں2010ءکے سےلاب کے حوالے سے وابستہ ہےںاورےہ ےادےں مےرے دل اوردماغ سے قےامت تک نہےں نکل سکتیں۔مجھے سےلاب کے وہ دن ےاد ہے جب ڈی جی خان ،راجن پور اورجنوبی پنجاب کے دیگراضلاع سےلابی پانی مےں گھرے ہوئے تھے اور میں نے گاڑےوں ،موٹرسائےکلوں اورپےدل سفر کر کے ان علاقوں کا دورہ کیا اوراپنے بہن بھائیوں تک پہنچا او ران کی مدد کی۔جنوبی پنجاب کو100سالہ تارےخ کے سب سے بڑے سےلاب کا سامنا تھا جب سےلابی پانی سمندر کی شکل اختےار کرگےا تھا۔ پاکستان مسلم لےگ(ن) کی پنجاب حکومت نے اس بدترےن سےلاب سے نمٹنے کےلئے ہر قسم کے وسائل آپ کے قدموں مےں نچھاور کئے اور آپ کی بحالی تک میں چین سے نہیں بیٹھا۔جب مےں سےلاب کے دوران کوٹ سبزل سے لےکر مےانوالی تک اس علاقے مےں گھوما تو پھر مجھے سمجھ آےا کہ جنوبی پنجاب کے مسائل کےا ہےں اور میں نے اس وقت اللہ تعالی سے وعدہ کیا کہ میں جنوبی پنجاب کی محرومیاں دور کرنے تک چین سے نہیں بیٹھوں گا۔ انہوںنے کہا کہ اس دورویہ سڑک کی تعمیر کے دوران درےائے سندھ پر پل بھی تعمےر کےاجارہا ہے اس مےں کچھ وقت ضرور لگے گا کےونکہ اس درےاپر اےک اور پل بناےا جارہا ہے ۔اس دوران علاقے کے عوام کی مشکلات کے ازالے کے لئے عارضی پل بناےا جائے گاتاکہ لوگوں کو آنے جانے مےں مشکل پےش نہ آئے۔وزےراعلیٰ نے کہا کہ سےاسی مخالفےن گلہ پھاڑ پھاڑ کرکہتے ہےں کہ بڑی کرپشن ہے۔جب انہوں نے ےہ الزام لگاےا کہ مےں نے جاوےد صادق نامی شخص سے 27ارب روپے کی رشوت لی تو مےںنے خان صاحب کو نوٹس دےاجس کا انہوں نے کوئی جواب نہ دےا۔پھرنےازی صاحب نے کہا کہ پاناما کےس مےں نوازشرےف خاندان کو بچانے کےلئے مےں نے 10ار ب رشوت دی ۔اس پر بھی مےں نے انہےں نوٹس بھجواےا لےکن انہوںنے کوئی جواب نہ دےااورنہ ہی خان صاحب عدالت مےں حاضر ہوئے ۔انہوںنے کہا کہ خان صاحب ملک کی دولت کو لٹےروں سے بچانے کے لئے اتنے چےمپےن بنتے ہےں تو مےں انہےں چےلنج کرتاہوں کہ مجھ پر اےک دھےلے کی اگر کرپشن کا الزام ہے تو عدالت مےں ثبوت دو۔خان صاحب اتنے ہی چیمئین بنے پھرتے ہیں تو وہ میرے نوٹس پر جواب بھی دیں لیکن انہوںنے کوئی جواب نہیں دیا -10ارب روپے کی رشوت کی پیشکش کی بے بنیاد بات کی اس کا بھی کوئی جواب نہیں دیا بلکہ خان صاحب عدالت سے بھاگتے ہیں-میں نے منصوبوں میں شفافیت کو یقینی بنا کر قوم کے اربوں روپے بچائے ہیں اور سیلاب کے دنوں میں قسم کھائی تھی کہ جنوبی پنجاب کی حالت بدلوں گا او ریہ میری زندگی کا مشن ہے،ان لوگوں کو ملتان میٹرو کی تکلیف ہے،ڈینگی آیا تو ہم نے اپنے بھائیوں کی مدد کے لئے ہر طرح کے تعاون کی پیشکش کی او رسب کچھ لے کر حاضر ہوئے -مےں کئی بار کہہ چکا ہوں کہ اگر مےرے تےنوں ادوار مےں اےک دھےلے کی کرپشن بھی ثابت ہوجائے تو عوام کا ہاتھ اورمےرا گرےبان ہوگا۔ےہی نہےں اگر مےرے مرنے کے بعد بھی ایک دھیلے کی کرپشن ثابت ہوجائے مجھے قبر سے نکال کر لٹکا دےا جائے۔انہوںنے کہا کہ نےازی صاحب اےسا شخص ہے جو دن رات جھوٹ بولتا ہے اوراسے وہ بات بھی ےاد نہےں رہتی جو وہ آدھا گھنٹہ پہلے کہہ چکا ہوتا ہے ۔اگر اےسا شخص عوامی لےڈر بن کر سامنے آرہا ہے تو قوم خود فےصلہ کرے کے وہ اپنے بچوں کو کےسے عظےم معمار بناسکتے ہےں ۔ انہوںنے کہا کہ مےں نے اپنے 9سالہ دور مےں غرےب قوم کی محنت اورخون پسےنے کی کمائی کے اربوں روپے بچائے ہےں ۔مےر ے خلاف ملتان مےٹروبس کرپشن کا اےک بے بنےاد الزام اورڈھکوسلہ گھڑا گےا۔الزام تھا کہ مےں نے ملتان مےٹروبس کے شاندار منصوبے مےں اپنی کمپنی کے ذرےعے 1ارب 70کروڑ روپے چےن منتقل کےے ہےں ۔مےں نے چےلنج دےا کہ 48گھنٹے مےں ثبوت لے آو¿ اوراگر اےک دھےلے کی بھی کرپشن ثابت ہوجائے تو مےں اللہ تعالیٰ اورعوام کی عدالت کا مجرم ہوں ۔چےن کی حکومت نے بھی اس الزام کو جھوٹ اورفراڈ قرار دےا۔ملکی اداروں نے بھی اس کی تحقےقات کیں اوراس الزام کے فراڈ کوسامنے لے کرآئے۔انہوںنے کہا کہ وسائل قو م کی امانت ہےں اوراس کی اےک اےک پائی عوام کی ترقی اورخوشحالی پر خرچ کرنا ہمارا فرض ہے جب تک عوام ہمےں ےہ ذمہ داری دےتے رہےں گے ہم اسے نبھاتے رہےں گے۔وزےراعلیٰ نے کہا کہ جب پنجاب کو ڈےنگی کی وباءکا سامنا کرنا پڑا تو نےازی صاحب نے نوازشرےف اور مجھے ڈےنگی برادران کہااور2011ءمےں خان صاحب نے ےہ سرٹےفکےٹ ہمےں دےا ،مجھے اس کی کوئی پروا ہ نہیں ۔اب ےہی وباءپشاور مےں آئی ہے ،ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ پشاور کے عوام کو اس وباءسے جلد نجات دلائے۔انہوںنے کہا کہ پنجاب ،سندھ،کے پی کے ،بلوچستان ،گلگت بلتستان اورآزاد کشمےر سے ملکر پاکستان بنتا ہے اور اگر کسی علاقے کے لوگ کسی مشکل مےں پھنستے ہےں تو ان کی مددکرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے ۔بدقسمتی سے پشاور مےں جب ڈےنگی کی وباءآئی تو خان صاحب پہاڑوں پر چڑھ گئے اور وہاں سےر کرتے رہے ۔خان صاحب کو پہاڑوں کی سےر چھوڑ کرصوبے کے عوام کے دکھ درد بانٹے کےلئے ان کے ساتھ ہوناچاہےے تھالےکن شاےد ان کے دل مےں عوام کا کوئی درد نہےں ہے۔ وزےراعلیٰ نے کہاکہ پاکستان مسلم لےگ(ن) کی سےاست کا مقصد عوام کی خدمت ہے اوراس کے لئے ہم نے دن رات اےک کےا ہے ۔وسائل عوام کو تعلےم ،صحت اوردےگر بنےادوں سہولتوں کی فراہمی پر نہاےت شفاف انداز سے صرف کےے جارہے ہےں۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب کے عوام کو پےنے کے صاف پانی کی فراہمی کا اےک بڑا پروگرام ترتےب دےاگےاہے جس کا آغاز جنوبی پنجاب کے ضلع ڈےرہ غازی خان سے کےا جارہاہے ۔قبائلی علاقوں مےں اس حوالے سے سروے کا کام مکمل ہوگےا ہے اور رواں سال نومبر،دسمبر مےں پروگرام پر عملدرآمد کے حوالے سے کمپنےوں سے معاہدے ہوجائےں گے اورانشاءاللہ جنوبی پنجاب کی 55تحصےلوں مےںنہاےت شفاف طرےقے سے صاف پانی کی فراہمی کے پروگرام کے ٹھےکے اس سال کے آخر تک دےئے جاچکے ہوں گے اور اگلے سال اللہ تعالیٰ کو منظور ہوا تو جنوبی پنجاب کے عوام کو صاف پانی ملے گا۔جنوبی پنجاب کے عوام کو پےنے کے صاف پانی کی فراہمی کے پروگرام کےلئے 15ارب روپے رکھے گئے ہےں۔انہوںنے کہاکہ ڈےرہ غازی خان مےں دانش سکول بن چکا ہے جبکہ اس کی تحصےل تونسہ مےں دانش سکول کی تعمےر کا آغاز ہوچکا ہے۔دانش سکول تعلےم کے ایسے دانش کدے ہےں جہاں غرےب ترےن گھرانوں کے بچوں کواعلی تعلےم مفت دی جارہی ہے۔ جن بےواو¿ں کے بچوں اوربے سہارا ےتےموںپر اےچی سن کالج جےسے تعلےمی اداروں کے دروازے بند تھے، دانش سکولوں نے ان بچوں کے لئے معےاری تعلےم کے دروازے کھول دےئے ہےں جس طرح بے سہارا اورےتےم بچوں کا داخلہ ایچی سن کالج جیسے معروف تعلےمی اداروں مےں بندہے ،اسی طرح امےروں کے بچے دانش سکولوں مےں داخلہ نہیں لے سکتے-انہوںنے کہاکہ ڈےرہ غازی خان کے عوام نے اتنی بڑی تعداد مےں جلسہ گاہ مےں آکر مےری تھکاوٹ اتار دی ہے اور مجھے ےقےن ہے کہ 2018ءکے انتخابات مےں ڈی جی خان پاکستان مسلم لےگ(ن) کا قلعہ ثابت ہوگا۔انہوںنے کہا کہ اگر جنوبی پنجاب کے عوام نے مسلم لےگ(ن) کو اےک بار پھر خدمت کا موقع دےا تو ہم ڈی جی خان،مظفرگڑھ اورجنوبی پنجاب کے دےگر شہروں کو لاہور کے برابر لانے کےلئے دن رات اےک کردےںگے۔وزےراعلیٰ نے ڈےرہ غازی خان مےں ترقےاتی منصوبوں کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ انتظامےہ اورپولےس لوکل گورنمنٹ کا ساتھ دےں اورترقےاتی منصوبوں کی تکمےل مےں ان کی بھر پور معاونت کرےں اگر انہوں نے اےسا نہ کےا تو خمےازہ بھی بھگتنا پڑے گاکےونکہ ےہ لوگ عوام کے منتخب نمائندے ہےں ۔انہوںنے کہاکہ پنجاب حکومت نے کم ترقی ےافتہ علاقوں مےں ترقےاتی منصوبو ں کا جال بچھا دےا ہے ۔ خادم پنجاب دےہی روڈز پروگرام نے دےہی زندگی مےں انقلاب بر پا کرےا ہے ۔پاکستان کی تارےخ کا ےہ عظےم الشان منصوبہ ہے ، جس کی کوئی اورمثال موجود نہےں ۔بعدازاںوزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف نے مظفر گڑھ میں بھی مظفر گڑھ -ڈیرہ غازی خان دورویہ سڑک کے منصوبے کے آغاز تعمیر کا سنگ بنیاد رکھا اور وزیراعلی نے فےصل سٹےڈےم مظفرگڑھ مےں اےک بڑے عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جو دن رات کرپشن کے خاتمے کی بات کرتے ہےں وہ جھوٹ بولتے ہےں کےونکہ انہوںنے اپنے صوبے مےں اےک دھےلے کا بھی کام نہےں کےاہے ۔جو جھوٹ بولتے ہےں،کرپشن کرتے ہےںاورپاکستان کو قائد ؒو اقبالؒ کاپاکستان نہےں بننے دےنا چاہتے اور پاکستان کی ترقی و خوشحالی کی مخالفت کرتے ہےں ،آپ نے ان کامقابلہ کرنا ہے،ان کے ساتھ لڑنا ہے اورانہےں ان کے مذموم ارادوں مےں ناکام بنانا ہے۔ہمےں ڈےنگی برادران کا طعنہ دےنے والے کے اپنے صوبے کو جب اس وباءنے لپٹ مےں لےاہے تو وہ اپنے عوام کی مدد کرنے کی بجائے سےرو سےاحت کےلئے پہاڑوں پر چڑ ھ گئے ۔جب ہم نے پنجاب سے ڈاکٹروں کی ٹےم بھجوائی اور موبائل ہسپتال روانہ کےا تو خان صاحب نے اسے بھی کام نہ کرنے دےا۔ہم نے پنجاب سے ڈےنگی کے خاتمے کےلئے دن رات اےک کےا اورہماری محنت رنگ لائی اورصوبے سے اس وباءکا خاتمہ ہوا۔مےری عوام سے اپےل ہے کہ جب ےہ لوگ آپ سے آئندہ ا لیکشن میں ووٹ مانگنے آئےں تو انہےں آئےنہ ضروری دکھائےں۔وزےراعلیٰ نے کہاکہ محمد نوازشرےف کی قےادت میں پاکستان مسلم لےگ(ن) نے 2013ءکے انتخابات مےں عوام سے جو وعدے کےے تھے انہےں پورا کےا ہے ۔ان مےں سب سے بڑا وعدہ ملک سے لوڈ شےڈنگ کے خاتمے کا تھا۔اگر عوام نے مسلم لےگ(ن) کو اےک بار پھر خدمت کا موقع دےا تو اسی زورو شور سے ترقی کا سفر جاری رکھےں گے۔انہوںنے کہاکہ گزشتہ 15سال سے جاری توانائی بحران نے ملک کی صنعت ،زراعت اور دےگر شعبوں کو بے پناہ نقصان پہنچاےاہے ۔ ہماری توانائی بحران کے خاتمے کےلئے شب و روز کی کاوشےں رنگ لارہی ہےں۔دےہاتوں اورشہرو ں مےں ہمےشہ کے لئے لوڈ شےڈنگ کے خاتمے کا وقت آگےاہے۔سابق حکمرانوں نے توانائی بحران کے خاتمے پر توجہ دےنے کی بجائے لوٹ مار کی اوررےنٹل پاور پراجےکٹ کے نام پر کرپشن کی ،نندی پورپاور پراجےکٹ کو روک کر غرےب قوم کو اربوں روپے کا نقصان پہنچاےا۔ گزشتہ حکومت نے کبھی رینٹل پاور کے نام پر لوٹ مار کی او رکبھی نندی پور پراجیکٹ میں 5برس کی تاخیر کی گئی ،اس طرح پاکستان کو ترقی کے سفر سے دور کیا گیا-پاکستان مسلم لیگ(ن) کی حکومت نے جنوبی پنجاب کے عوام کی حقیقی معنوں میں خدمت کی ہے اور2010ءکے سیلاب میں جنوبی پنجاب کا کوئی ا یسا کونہ نہ تھا جہاں میں نہ گیا ہوں-انہوںنے کہاکہ عوام کی خدمت کے لئے مٹی کے سا تھ مٹی ہوتا پڑتا ہے -دن رات جھوٹ بولنے والوں نے اپنے صوبے میں دھیلے کا کام نہیں کیا-ڈینگی آیا تو خان صاحب پہاڑوں پر چڑھ گئے -70برس کے دوران وہ پاکستان مسلم لیگ(ن) کی ہی حکومت ہے جس نے جنوبی پنجاب کے لئے اربوں روپے کے منصوبے شفافیت اور معیار کے ساتھ مکمل کئے ہیں-انہوںنے کہاکہ جب تک جان میں جان ہے میں دن رات آپ کی خدمت کرتا رہوں گا-پاکستان مسلم لےگ(ن) کی حکومت نے توانائی بحران کے خاتمے کےلئے سنجےدگی سے کام کےا۔ساہےوال مےں 1320مےگاواٹ کے کول پاور پلانٹ ،جھنگ ،بھکی اوربلوکی گےس پاورپراجےکٹس کی تکمےل سے بجلی کی پےداوار شروع ہوچکی ہے۔حکومتی اقدامات کے باعث دےہاتوں اورشہروں سے لوڈشےڈنگ کا خاتمہ کسی معجزے سے کم نہےں ہے۔ےہ اللہ تعالیٰ کا خاص انعام ہے اور اس سال کے آخر مےں بجلی کی لوڈ شےڈنگ ہمےشہ کےلئے دفن ہوجائے گی اور لوڈشیڈنگ کے اندھیروں کا خاتمہ ہوجائے گا۔ملک سے کرپشن کا خاتمہ ہوگااورملک تےزی سے آگے بڑھے گا۔انہوںنے کہا کہ جنوبی پنجاب کے عوام کے لئے ےہ بڑی خوشخبر ی ہے کہ ڈی جی خان ،مظفرگڑھ دوروےہ سڑک کا سنگ بنےاد رکھ دےاگےا ہے۔55کلومےٹر طوےل ےہ دوروےہ اعلی معےار کی سڑک اگلے سال30جون تک مکمل ہوگی اور اس سڑک کا معیار موٹروے جیسا ہوگا۔ےہ مےں لفاظی سے کام نہےں لے رہا ،آپ مجھے2010ءکے سےلاب کے حوالے سے اچھی طرح جانتے ہےں۔میں جو بات کرتا ہوں، اس پر عمل کرنے کی پوری کوشش کرتا ہوں۔جنوبی پنجاب مےں اربوں روپے کے منصوبے لگ رہے ہےں ۔لودھراں ،خانےوال روڈ کے تعمےر کے منصوبے پر 23ارب روپے خرچ کےے جارہے ہےں اور ےہ منصوبہ اگلے سال مکمل ہوگا۔ترک حکومت نے 60بستروں پر مشتمل رجب طےب اردوان ہسپتال بناےا۔ پنجاب حکومت نے پہلے اس ہسپتال کو 120 بستروں تک بڑھایا اوراب پنجاب حکومت اس ہسپتال میں 250بستروں کا اضافہ کررہی ہے -انشاءاللہ اس سال 25دسمبر تک اس ہسپتال کا توسیعی منصوبہ چالوہوجائے گااورجنوبی پنجاب کے عوام کو طبی سہولتوں کی فراہمی شروع کر دے گااوراس ہسپتال مےں علاقے کے عوام کو شاندار علاج معالجہ مےسر آئے گا۔ملک کی 70سالہ تارےخ مےں کونسا اےسا موقع آےا جب کسی نے جنوبی پنجاب مےں اربو ں روپے کی لاگت سے ترقےاتی منصوبے شفافےت اوراعلی معےار کے بنائے ہوں۔ےہ اعزاز اللہ تعالیٰ نے پاکستان مسلم لےگ(ن) کوہی عطا کےا ہے۔انہوںنے کہا کہ پورے پنجاب مےں سڑکوں کا جال بچھاےا جا رہا ہے۔اس سال کے آخر تک خادم پنجاب دےہی روڈز پروگرام کے تحت دےہی سڑکوں کی تعمےر و بحالی پر 85ارب روپے خرچ کےے جاچکے ہوں گے اوراس پروگرام نے دےہاتی زندگی مےں انقلاب بر پا کردیاہے اوراب دےہی آبادی کو ٹوٹی پھوٹی سڑکوں کی بجائے اسفالٹ سڑکیںمیسر ہیں اوراےسی شاندارسڑکوں کی پورے ملک مےں کوئی اورمثال نہےں۔ےہ سب محنت ،امانت اوردےانت کانتیجہ ہے۔انہوںنے کہا کہ وفاقی اورصوبائی حکومت کے بھر پور تعاون سے کسانوں کو سستی کھاد دی گئی اورےہ ملک کی 70سالہ تارےخ کا پہلا موقع ہے کہ چھوٹے کاشتکاروں کو بلاسود قرضے مل رہے ہےں ۔دےکھتی آنکھ نے کبھی اےسا منظر پہلے نہےں دےکھا تھا۔اب تک پونے دو لاکھ چھوٹے کسانوں کو چار ارب روپے کے بلاسود قرضے دےئے جاچکے ہےں ۔ انہوںنے کہا کہ 2010ءکے سےلاب مےںاپنی ناسازی طبع کے باوجودوےگن مےںلےٹ کر اپنے سےلاب مےںگھرے بہن بھائےوں کے پاس پہنچا۔مےں ہر سےلاب زدہ علاقے مےں گےااورمصےبت مےں پھنسے ہوئے اپنے عوام کی بھر پور مددکی۔ انہوںنے کہاکہ مےں اس وقت تک چےن سے نہےں بےٹھوں گا جب تک مظفر گڑھ ،ڈی جی خان،بہاولپور ،ملتان،خانےوال اورجنوبی پنجاب کے دےگر شہروں کو لاہور، سےالکوٹ اورگوجرانوالہ کا ہم پلہ نہ بنادوںاور یہ میری زندگی کا مشن ہے۔انہوںنے کہاکہ ملتان مےں مےٹروبس سروس عوام کو معےاری سفری سہولتےں فراہم کررہی ہے ۔انشاءاللہ وہ وقت بھی آئے گا جب مظفر گڑھ مےں بھی مےٹروبس چلے گی۔ وزےراعلیٰ نے مظفرگڑھ سے ہےڈ پنجندتک 90کلو مےٹر طویل سڑک کو دورویہ کرنے کے منصوبے کا اعلان کیاجبکہ مظفرگڑھ مےں بہاوالدےن ذکرےاےونےورسٹی کا کےمپس بنانے کا بھی اعلان کےا۔انہوںنے کہاکہ مظفرگڑھ سے ہےڈ پنجند تک سڑک کی تعمےر کےلئے اس سال کچھ فنڈ دئےے جائیں گے اور اگر اگلے برس عوام نے ہمیں اپنی خدمت کے لئے دوبارہ منتخب کیا تو اس منصوبے کو مزید فنڈز دے کر مکمل کریں گے-انہوںنے کہاکہ صاف پانی ہر ماں،ہر بےٹی،ہر بےٹے،ہر بھائی،ہر بہن اورہر شہری کا بنےادی حق ہے اور ہم نے ےہ حق انہےں دےنے کے لئے صاف پانی کا اےک بڑا پروگرام بناےا ہے۔صاف پانی کی فراہمی پورے پاکستان کا چےلنج ہے تاہم ہم نے صاف پانی کی فراہمی کے پروگرام کا آغاز جنوبی پنجاب سے کردےا ہے اوراس سال اس پروگرام پر عملدر آمد کےلئے15ارب روپے رکھے گئے ہےں ۔اس منصوبے کی تکمےل سے پنجاب کے ہر شہری کو صاف پانی ملے گا،بےماریاں ختم ہوگی اور صحت مند معاشرہ تشکےل پائے گا۔ انہوںنے کہا کہ پاکستان غرےب ملک ہے لےکن ےہ کب تک غرےب رہے گا،ہمےں اسے ملکرمعاشی قوت بنانا ہے ۔جو ممالک ہم سے ترقی مےں پےچھے تھے وہ آگے نکل گئے ہےں۔بھارت ہمےں آنکھےں دکھاتا ہے اسے اس بات کو سامنے رکھنا چاہےے پاکستان اےک نےوکلےئر طاقت ہے اورہماری جری اوربہادر فوج ہےں،جو دشمن کو منہ توڑ جواب دےنے کی پوری صلاحےت رکھتی ہےں۔ انہوںنے کہا کہ ہم نے پاکستان کو عظےم سے عظےم تر ملک بنانا ہے اورےہ مقصد محنت ،عزم ،امانت اوردےانت جےسے سنہری اصولوں کو اپنا کر حاصل کےا جاسکتا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف نے ڈیرہ غازی خان میں انسداد دہشت گردی فورس پنجاب کے شہید کانسٹیبل جاوید اقبال کی اہلیہ اور دیگر اہلخانہ سے ملاقات کی۔ وزیراعلیٰ نے شہید جاوید اقبال کی ملک و قوم کیلئے عظیم قربانی کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا اور شہید کی اہلیہ کو ایک کروڑ روپے کی مالی امداد کا چیک دیا۔ وزیراعلیٰ نے شہید کانسٹیبل جاوید اقبال کی اہلیہ اور بچوں کیلئے ایک کروڑ 35 لاکھ روپے مالیت کا گھر دینے کا اعلان کیا جبکہ گھر کے علاوہ شہید کی فیملی کو 7 مرلے کا پلاٹ بھی دیا جائے گا۔ وزیراعلیٰ نے شہید کانسٹیبل کے بچے کو پولیس میں ملازمت دینے کا اعلان کیا جبکہ شہید کے اہلخانہ کی دیکھ بھال اور ٹرانسپورٹ کیلئے ماہانہ 20 ہزار روپے وظیفہ بھی دیا جائے گا اور شہید کی مدت ملازمت پوری ہونے تک اہلیہ کو پوری تنخواہ ملتی رہے گی۔ وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف نے شہید کانسٹیبل جاوید اقبال کی اہلیہ اور دیگر اہلخانہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شہید کانسٹیبل کے اہل خانہ کو مفت طبی سہولتیں ملیں گی اور شہید کے بچوں کے تعلیمی اخراجات پنجاب حکومت برداشت کرے گی۔انہوں نے کہا کہ آپ کے غم اور نقصان کا ازالہ نہیں کیا جاسکتا، تاہم آپ اور آپ کے خاندان کی کفالت کی ذمہ داری ہماری ہے جو ہر صورت پوری کریں گے۔انہوں نے کہا کہ انسداد دہشت گردی فورس پنجاب نے دہشت گردی کےخلاف جنگ میں بڑی روشن مثالیں قائم کی ہیں اور کانسٹیبل جاوید اقبال کی شہادت اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔انہوں نے کہا کہ قرآن کی روسے شہید زندہ ہوتے ہیں اورشہید پوری قوم کے محسن ہیں۔ دہشت گردی کےخلاف جنگ میں تاریخ کانسٹیبل جاوید اقبال جیسے شہداءکی عظیم قربانیوں کو یاد رکھے گی اور مورخ شہداءکے نام دہشت گردی کےخلاف جنگ کی تاریخ میں سنہرے حروف میں لکھے گا۔ انہو ںنے کہا کہ پاکستان کی بنیادوں میں شہیدوں کا لہو شامل ہے اور ملک کا استحکام بھی شہیدوں کا مرہون منت ہے۔ وزیراعلیٰ نے شہید کانسٹیبل جاوید اقبال کے بلندی درجات کیلئے فاتحہ خوانی بھی کی۔ واضح رہے کہ انسداددہشت گردی فورس پنجاب کے کانسٹیبل جاوید اقبال کو تحصیل تونسہ شریف میں دہشت گردوں نے 31 اگست کو ڈیوٹی سے گھر واپس آتے ہوئے راستے میں گولیاں مار کر شہید کردیا تھا۔ شہید کانسٹیبل جاوید اقبال نے دہشت گردوں کےخلاف اہم معلومات اکٹھی کیں جس کی بنیاد پر کامیاب آپریشن کئے گئے اور 7 دہشت گردوں کوہلاک کیا گیا اور متعدد گرفتار کئے گئے۔ وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریفنے آج جنوبی پنجاب کے 2اہم اضلاع ڈیرہ غازی خان اور مظفر گڑھ میں بڑے جلسوں سے خطاب کیا-یہ جلسے ڈیرہ غازی خان او رمظفر گڑھ کی تاریخ کے بڑے جلسوں میں شمار ہوتے ہیں اور دونوں جلسوں میں عوام کی بہت بڑی تعداد نے شرکت کی-ڈیرہ غازی خان اور مظفر گڑھ کے جلسوں کے دوران مقررین نے اپنی تقاریر میں وزیراعلی شہبازشریف کے 2010ءکے سیلاب کے دوران جنوبی پنجاب کے عوام کے ساتھ دن رات وقت گزارنے اور ان کی بھر پور مدد کا ذکر کیا اور کہاکہ آج بھی جنوبی پنجاب کے عوام آپ کے ساتھ دلی لگاﺅ رکھتے ہیں او رآپ سے محبت کرتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ان جلسوں میں بہت بڑی تعداد میں شہری شریک ہوئے ہیں-وزیراعلی نے دونوں جلسوں میں عوام کی بڑی تعداد میں شرکت پر ان کا شکریہ ادا کیا او رکہاکہ آپ کا جوش وخروش اور جذبہ دیکھ کر میری تھکن دور ہوگئی ہے او ر میں ڈیرہ غازی خان مظفر گڑھ او رجنوبی پنجاب کے دیگر شہروں کو لاہور ، گوجرانوالہ کی طرح ترقی یافتہ اور خوشحال بنانے تک چین سے نہیں بیٹھوں گا-وزیراعلی نے پشاور میں ڈینگی کی وبا کے مشکل وقت میں اپنے صوبے کے عوام کو تنہا چھوڑنے پر عمران نیازی کو آڑے ہاتھوں لیا اور کہاکہ ڈینگی کی وباءلاہور میں بھی آئی تھی لیکن ہم نے ایک ٹیم کے طور پر اس کا مقابلہ کیا اور اس پر قابو پایا لیکن پشاور میں ڈینگی کی وباءآئی تو خان صاحب عوام کا ساتھ دینے کی بجائے پہاڑوں پر چڑھ گئے ،جس پر جلسہ گاہ میں موجود لوگوں نے” شیم شیم “کے نعرے لگائے-وزیراعلی کا ڈیرہ غازی خان اور مظفر گڑھ میں شاندار استقبال کیا گیا اور جلسہ گاہوں میں موجود مسلم لیگ(ن) کے کارکن اور عوام” دیکھو دیکھو کون آیا ، شیر آیا ، شیر آیا“ اور شہبازشریف زندہ باد کے نعرے لگاتے رہے۔
لندن سے گرین سگنل کا انتظار
اسلام آباد(خصوصی رپورٹ)وفاقی وزیر خزانہ اسحق ڈار کے ضمانتی مچلکے گزشتہ روز تیار کرائے گئے تاہم انہیں احتساب عدالت میں جمع کرانے کے لئے لندن سے گرین سگنل کا انتظار کیا جارہا تھا۔ لندن سے گرین سگنل ملنے کے بعد ضمانت کے مچلکوں کو آج احتساب عدالت میں جمع کرایا جاسکتا ہے۔ اسحق ڈار جو لندن میں ہیں اور ان کو منصب سے الگ کئے جانے کی اطلاعات تسلسل سے میڈیا میں آرہی ہیں۔ وفاقی وزیر خزانہ کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ اپنی قانونی ٹیم کے ساتھ رابطہ میں ہیں اور ان کی مشاورت ہی سے معاملہ پر کوئی فیصلہ کیا جائے گا۔ وزیر خزانہ نے وطن واپسی کا فیصلہ کیا تو آج مچلکے عدالت میں داخل کرا دئیے جائیں گے۔ بہ صورت دیگر وفاقی وزیر خزانہ کچھ عرصہ تک بیرون ملک رہیں گے۔ ذرائع نے بتایا ہے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اسحاق ڈار خواجہ آصف گزشتہ دنوں لندن میں تھے جن کی سابق وزیراعظم میاں نوازشریف سے مختلف ایشوز پر طویل مشاورت ہوئی ہے۔ ذرائع نے بتایا اسحاق ڈار نے بیرون ملک رہنے کا فیصلہ کیا تو وہ منصب سے خود الگ ہوجائیں گے۔ اسلام آباد میں تواتر سے یہ اطلاعات گردش کر رہی ہیں اسحاق ڈار کی جگہ مشیر خزانہ وزیر مملکت خزانہ کے طور پر تعیناتی کی جائے گی۔ اس سلسلے میں حتمی فیصلہ وزیراعظم کے بیرون ملک سے اسلام آباد واپس آنے کے بعد ہوگا۔ اس سلسلے میں حکومت کے پاس جو آپشن دستیاب ہیں ان میں منصوبہ بندی کمشن کے ڈپٹی چیئرمین سرتاج عزیز سرفہرست ہیں جو اس سے قبل وزیر خزانہ رہ چکے ہیں۔ وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کو بھی یہ ذمہ داریاں مل سکتی ہیں۔ اسلام آباد میں سرمایہ کاری بورڈ کے سربراہ مفتاح اسماعیل اس وقت مشیر خزانہ کی ذمہ داریاں حاصل کرنے کے لئے زبردست لابی کر رہے ہیں۔ مفتاح اسماعیل اس سے قبل گورنر سندھ کے منصب کے لئے بھی کوشاں رہے ہیں ۔ اس وقت مشیر ریونیو کے طور پر ہارون اختر خان کام کر رہے ہیں جو ایک دستیاب چوائس ہیں۔
2خواتین سمیت 7خودکش بمبار اس وقت کہاں ہیں؟ اہم خبر نے پولیس حکام کی نیندیں اُڑادیں
لاہور، سرگودھا(خصوصی رپورٹ)سی ٹی ڈی نے محرم الحرام میں سرگودھا، خوشاب، بھکر، میانوالی اور جھنگ میں دہشت گردوں کو خوشاب کے علاقے میں کارروائی کے دوران گرفتار کرکے ان کے قبضہ سے دستی بم اور دھماکہ خیز مواد برآمد کرلیا۔ سرفراز اور اصغر علی کا تعلق کالعدم تحریک طالبان سے ہے دونوں افغانستان سے تربیت یافتہ اور مختلف ممالک کی زبانیں بولنے پر عبور رکھتے ہیں، سی ٹی ڈی حکام کے مطابق گرفتار دہشت گردوں نے محرم الحرام کے دوران مختلف اضلاع میں تخریب کاری کا منصوبہ بنا رکھا تھا، انہیں نامعلوم مقام پر منتقل کرکے تحقیقات کا دائرہ وسیع کردیا گیا، مزید انکشافات اور گرفتاریوں کی بھی توقع ہے۔دریں اثناءصوبائی دارالحکومت سمیت اہم اضلاع کی 964 امام بارگاہوں اور مساجد کو دہشت گردی کے خدشے کے حوالے سے ا نتہائی حساس قرار دیدیا گیا جبکہ مجالس و جلوسوں میں سبیل ، نیازاورلنگرکو بھی خصوصی طور پر چیک کرنے کی ہدایات جاری کردی گئی ہیں ،جلسے و جلوس کے راستوں ، امام بارگاہوں اورمساجد کی قریبی خالی اور زیر تعمیر عمارتوں میں خود کش بمبار وں کی موجودگی کی بھی اطلاع پائی جاتی ہے ۔ذرائع کے مطابق قانون نافذ کرنے والے ادارے نے پولیس افسروں کو پیشگی اطلاع دی ہے کہ لاہور کی 24 امام بارگاہیں کربلا گامے شاہ ،موچی گیٹ مسجد کشمیراں ،سادات کالونی ،کالی کوٹھی سٹاپ اقبال ٹاﺅن ،کرشن نگر ،سمن آباد امامیہ مسجد فقہ جعفریہ،ظفرکالونی قصر بتول ،قصر ابو طالب ، قصر زینب وحدت روڈ، شاہدرہ اوردیگر امام بارگاہوں کو حساس قرار دیا گیا۔ اس کے علاوہ فیصل آباد کی امام بارگاہ دھوبی گھاٹ ،جھنگ ،سرگودھا ،ساہیوال ،شیخوپورہ ،گوجرانوالہ ،قصور ،خانیوال ،منڈی بہاﺅالدین ،ڈیرہ غازی خان سمیت دیگر اضلاع کی اہم امام بارگاہوں کو بھی حساس قرار دیا گیا ہے ۔ حساس قرار دی گئی تمام امام بارگاہوں کی فول پروف سکیورٹی بنانے کیلئے اعلی پولیس افسروں ،بم ڈسپوزل سکواڈ و دیگر امدادی ٹیموں کو الرٹ رہنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ رپورٹ میں لکھا گیا ہے کہ پولیس اہم بارگاہوں کی قریبی خالی اور زیر تعمیر عمارتوں ،مارکیٹوں اور گھروں کو خصوصی طور پر چیک کرے اور وہاں سنائپرز تعینات کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ رپورٹ میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ شر پسند سبیل ،لنگر، نیاز میں کوئی کیمیکل ،زہر وغیرہ شامل کرسکتے ہیں۔ رپورٹ میں مزید لکھا گیا ہے کہ جلوس ومجالس میں کوئی خود کش بمبار سیاہ لباس میں ملبوس ہوکر شامل ہونے کی کوشش کرے گا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ سرچ آپریشن کرنے کا خصوصی ٹاسک رینجرز کے سپرد کردیا گیا ہے۔ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ 2خواتین سمیت 5 خود کش بمبار پنجاب میں داخل ہوئے ہیں ،نویں اور دسویں محرم کوفوج کو بھی تعینات کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے جبکہ اہم جلوسوں کی ہیلی کاپٹرز کے ذریعے فضائی نگرانی کی جائیگی جس میں ایک پولیس افسر اور فوجی سنائپرز موجود ہونگے ۔ انسپکٹر جنرل پولےس پنجاب کیپٹن (ر) عارف نواز خان نے کہا ہے کہ محرم الحرام کے دوران صوبے کے تمام اضلاع میں امن و امان کی فضا برقرار رکھنے اور حساس مجالس اور جلوسوں کو 4لیئر سکیورٹی فراہم کرنے کیلئے پنجاب پولیس کے ایک لاکھ 25ہزارسے زائد افسران و اہلکار سکیورٹی کے فرائض سر انجام دیں گے۔ تمام آر پی اوز اور ڈی پی اوز اپنے اضلاع اور ڈوےژن کے بڑے اور حساس جلوسوں اور مجالس کا سکیورٹی پلان خود تشکیل دیں اور اس بات کو ےقےنی بنائےں کہ سکےورٹی پر مامور اہلکاروں کوڈیوٹی سے قبل موجودہ حالات کے تناظر میں ڈےوٹی کی نوعیت اور حساسےت کے حوالے سے روزانہ کی بنےاد پر برےفنگ دی جائے تا کہ وہ اپنے فرائض بطریق احسن اور بھرپور جذبے سے سر انجام دے سکیں۔ تمام افسران جلوسوں اور مجالس کے اوقات کار کی پابندی پر عملد رآمد ہر قےمت پر ےقےنی بنائیںاور تمام اضلاع کے حساس جلوسوں اور مجالس کے مقامات کے گرد روزانہ کی بنیاد پر سرچ، سویپ اور کومبنگ آپریشنز کئے جائیں۔ ان خےالات کا اظہار انہوں نے سنٹرل پولےس آفس لاہور مےں آر پی اوز اور ڈی پی اوز سے وےڈےولنک کانفرنس کے دوران خطاب کرتے ہوئے کےا۔ کانفرنس مےں اےڈےشنل آئی جی ڈسپلن اینڈ انسپکشن اعجاز حسین شاہ ، ایڈیشنل آئی جی پی ایچ پی امجد جاوید سلیمی ، اےڈےشنل آئی جی آپرےشنزمحسن حسن بٹ ، ایڈیشنل آئی جی اسٹیبلشمنٹ اظہر حمید کھوکھر، ڈی آئی جی آپرےشنز پنجاب، عامر ذوالفقار، ڈی آئی جی اسٹیبلشمنٹ 1سلمان احمد چودھری، آر پی او سرگودھا ذوالفقار حمید، ڈی آئی جی ڈسپلن اینڈ انسپکشن شہزادہ سلطان، ڈی آئی جی اسٹیبلشمنٹII- خرم علی شاہ، ڈی آئی جی سپیشل برانچ زعیم اقبال شیخ سمیت دیگر اعلیٰ افسران نے شرکت کی جبکہ تمام آر پی اوز اور ڈی پی اوز نے وےڈےو لنک کے ذرےعے اپنے اضلاع میں سکیورٹی پلان کے حوالے سے بریفنگ دی۔ اجلاس میں آئی جی پنجاب کو بتایا گیا کہ محرم الحرام میں پنجاب کے تمام اضلاع میںمنعقد ہونے والی 36216مجالس کی سکیورٹی کیلئے 124537 اہلکار و افسران تعینات کیے جائیں گے جن میں 37398 پولیس قومی رضاکار، 5580سپیشل پولیس اور 85515والنٹیئرز بھی شامل ہوں گے۔ اسی طرح عشرہ محرم کے 9173 جلوسوں کی سکیورٹی کیلئے 135370اہلکار و افسران پر مشتمل نفری فرائض سر انجام دے گی جن میں 26534پولیس قومی رضاکار، 5590سپیشل پولیس اور67692والنٹئیرزبھی پولیس کی معاونت کریںگے۔آئی جی پنجاب نے ایڈیشنل آئی جی سپیشل برانچ کو ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ محرم الحرام کے جلوسوں کے آغاز سے قبل روٹ کی سکریننگ اور سکیننگ کو ہرصورت یقینی بنایا جائے اور حساس جلوسوں اور مجالس کے ارد گرد ریڑھی، ٹھیلے اور خوانچہ فروشوں کو بطور خاص چیک کیا جائے۔
ن لیگ کا قومی اسمبلی توڑ کر جلد الی کشن کرانے کا فیصلہ
اسلام آباد (آن لائن) پاکستان مسلم لیگ (ن) نے اگلے عام انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کے لئے لندن میں خطرناک حکمت عملی کو حتمی شکل دیدی ہے۔ لندن پلان کے تحت قومی اسمبلی کو جلد توڑ دیا جائے گا جبکہ صوبائی حکومتیں برقرار رہیں گی، در پردہ ترتیب دی گئی اس حکمت عملی کو سابق صدر آصف علی زرداری کی بھی حمایت حاصل ہے۔ لندن منصوبہ کا واحد مقصد پاکستان تحریک انصاف کا راستہ روکنا اور اگلے عام انتخابات میں حکومتی وسائل اور اثر رسوخ کی بنیاد پر کامیابی حاصل کرنا ہے۔ لندن پلان کے تحت قومی اسمبلی کو توڑنے کی ہدایت وزیراعظم شاہد خاقان عباسی دیں گے جس کے نتیجہ میں وفاق میں عبوری حکومت قائم کی جائے گی جبکہ چاروں صوبوں میں موجودہ صوبائی حکومتیں برقرار رہیں گی۔ لندن پلان ترتیب دینے ولاے ایک ذرائع نے بتایا کہ مسلم لیگ ن کی اعلیٰ قیادت کے علاوہ آصف علی زراری ، مولانا فضل الرحمن کی بھی لندن پلان پر حمایت حاصل کر لی گئی ہے جبکہ ایم کیو ایم اور پی ٹی آئی کو نئے منصوبے سے بے خبر رکھا گیا ہے۔ نئے پلان کے تحت قومی اسمبلی کے تحلیل کے بعد پنجاب میں شہباز شریف حکومت انتخابات کرائے گی جبکہ سندھ میں سید مراد علی شاہ کی حکومت قومی اسمبلی کے عام انتخابات کی نگرانی کرے گی۔ اس طرح بلوچستان میں ثناءاللہ زہری حکومت ، کے پی کے میں پرویز خٹک حکومت عام انتخابات کی نگرانی کرے گی جبکہ وفاق میں ایک عبوری سیٹ اپ قائم کیا جائے گا۔ حکومتی ذرائع نے بتایا کہ آئین کے تحت قومی اسمبلی کو وزیراعظم کی ہدایت پر صدر مملکت تحلیل کر سکتے ہیں اور قبل از وقت انتخابات کرانے کا حکم دے سکتے ہیںں جس کے لئے وفاق کی سطح پر ایک عبوری سیٹ اپ قائم کیا جائے گا۔ نئے لندن پلان کے مطابق ملک کی چاروں صوبائی حکومتی اپنی مدت پوری کریں کی اور موجودہ صوبائی حکومتیں ہی قومی اسمبلی کے انتخابات کی نگرانی کریں گی۔ ملک کے ماہر آئین محمد اکرام چوہدری نے کہا کہ آئین میں وزیراعظم کسی بھی وقت صدر کو قومی اسمبلی کو تحلیل کر کے نئے انتخابات کی ہدایت کر سکتے ہیں جبکہ آئین میں صوبائی حکومتوں کی تحلیل کی ہدایت صرف اور صرف متعلقہ صوبے کے وزیراعلیٰ ہی کر سکتے ہیں۔ ایک اعلیٰ حکومتی ذرائع نے بتایا کہ مسلم لیگ ن کی قیادت کا یہ فیصلہ ہے کہ پنجاب میں فتح صرف شہباز شریف کی سربراہی میں قائم صوبائی حکومت ہی حاصل کر سکتی ہے۔ اگر پنجاب کے عبوری سیٹ اپ میں عام انتخابات کرائے جائیں تو پنجاب مسلم لیگ ن کے ہاتھ سے نکل جائے گا اور پی ٹی آئی پنجاب میں واضح اکثریت حاصل کرلے گی۔ سندھ میں زرداری گروپ کو بھی عبوری سیٹ اپ کے تحت انتخابات جیتنا مشکل نظر آ رہا ہے۔ان حالات کی مجبوریوں نے مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی وقت سے قبل صرف قومی اسمبلی کی تحلیل کے معاملہ پر متفق ہوئے ہیں اور امید کی جا رہی ہے کہ دسمبر کے ماہ میں قومی اسمبلی کے انتخابات ملک میں ممکن ہو سکیں۔ قومی اسمبلی کی تحلیل کی اہم وجہ یہ بنائی جائے گی کہ اراکین قومی اسمبلی نے ایوان کے اجلاس میں آنا بند کر رکھا ہے اور گزشتہ اجلاس کورم کی کمی کے باعث برخاست کرنا پڑا ہے ۔ کورم کی کمی کی بڑی وجہ قرار دے کر قومی اسمبلی کی فوری تحلیل کا بہانہ بنایا جا رہا ہے۔
خوددار اچھا نعرہ مگر خود کفیل ہونا ضروری ہے ”خوددار پاکستان تقاضے اور امکانات“ میں ضیا شاہد کا اہم خطاب
لاہور (سپیشل رپورٹر) خوددار ملک بننے کےلئے خود کفالت ضروری ہے۔ بھکاری یا مقروض قوم کبھی خوددار نہےں ہوسکتی۔ خودداری کا تقاضا ہے کہ ہم کفاےت شعاری سے کام لےں‘ غیر ملکی قرضوں سے نجات حاصل کرےں اور آئندہ بےس پچےس سالوں کے لئے سادہ طرزِ زندگی اپنالےں۔ ہمارا دوست عوامی جمہورےہ¿ چےن اسی راہ پر چل کر عظےم اقتصادی طاقت بنا ہے۔ ان خےالات کا اظہار ممتاز صحافی‘ دانشور اور کونسل آف پاکستان نےوز پےپرز اےڈےٹرز(CPNE) کے صدر ضےاشاہد نے اےوانِ کارکنانِ تحرےک پاکستان لاہور مےں منعقدہ فکری نشست بعنوان ”خوددار پاکستان، تقاضے اور امکانات“ مےں اپنے کلےدی خطاب کے دوران کےا۔ نشست کا اہتمام نظرےہ¿ پاکستان ٹرسٹ نے تحرےک پاکستان ورکرز ٹرسٹ کے اشتراک سے کےا تھا جس مےں مختلف شعبہ¿ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے خواتےن و حضرات کے علاوہ محکمہ¿ تعلےم حکومت پنجاب کے لنک پروموشن آفےسرز نے بھی بطور خاص شرکت کی۔ نشست کا آغاز حسب دستور تلاوت قرآن مجےد‘ نعت رسول کرےم اور قومی ترانے سے ہوا۔ تلاوت کی سعادت محمد بلال ساحل نے حاصل کی جبکہ بارگاہِ رسالت مآب مےں ہدےہ¿ نعت محمد وصاف ہمدانی نے پےش کےا۔ نشست کی صدارت نظرےہ¿ پاکستان ٹرسٹ کے وائس چےئرمےن پروفےسر ڈاکٹر رفےق احمد نے کی۔ نشست میں چوہدری نعیم حسین چٹھہ‘ پیر اعجاز ہاشمی‘ سید نوبہار شاہ اور میاں ثاقب خورشید نے خصوصی شرکت کی۔ تحرےک پاکستان کے مخلص کارکن‘ سابق صدر مملکت اور نظرےہ¿ پاکستان ٹرسٹ کے چےئرمےن جناب محمد رفےق تارڑ نے نشست کے شرکاءکے نام اپنے پےغام مےں کہا کہ پاکستان اےک خوددار اور جرا¿ت اےمانی سے مالا مال انسان قائداعظم محمد علی جناحؒکی جدوجہد کا ثمر ہے۔ اس پر بسنے والی قوم بھوک پےاس تو برداشت کرلےتی ہے مگر اپنی خودداری اور عزت نفس پر کبھی سمجھوتہ نہےں کرتی۔ ضےاشاہد نے اپنے خطاب مےں کہا کہ امرےکہ کے حالےہ ڈرون حملوں کے بعد وزےراعظم شاہد خاقان عباسی کو جنرل اسمبلی کے اجلاس مےں شرکت کے لئے امرےکہ جانے سے قبل نہ تو امرےکی سفےر سے ملاقات کرنی چاہےے تھی اور نہ ہی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی آمےز تقرےر اور پاکستان پر پابندےاں عائد کرنے کے امرےکی عزائم کے بعد امرےکہ کے نائب صدر سے ملاقات مےں اس اُمےد کا اظہار کرنا چاہےے تھا کہ دونوں ممالک کے تعلقات بہتر ہوجائےں گے۔ ےہ طرز عمل خودداری کے برعکس ہے۔ مےں سمجھتا ہوں کہ امرےکہ کبھی بھی پاکستان کے ساتھ اچھا سلوک نہےں کرے گا۔ اُنہوں نے کہا کہ پاکستانی قوم کو خودداری اور غےرت مندی سے جےنے کے لئے بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناحؒ کی حےات و خدمات کا مطالعہ کرنا چاہےے۔ بالخصوص اسے کفاےت شعاری اور گڈگورننس کے بارے قائداعظمؒ کے نظرےات کو اپنانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ بانی¿ پاکستان اپنے فکر و عمل کے طفےل پاکستانی قوم کے لئے اےک بہترےن رول ماڈل ہےں۔ وہ بڑے دولت مند تھے مگر فضول خرچی کو سخت ناپسند کرتے تھے۔ ضےاشاہد نے زور دے کر کہا کہ جب کوئی ملک پاکستان کو امداد دےتا ہے تو وہ بہت سی شرائط بھی عائد کرتا ہے چاہے وہ ہمارے لئے کتنی ہی ناپسندےدہ کےوں نہ ہوں۔ اکثر ےہ شرائط ہماری خودمختاری اور خودداری کے خلاف ہوتی ہیں۔ اگر ہم اےسی صورتحال سے خود کو محفوظ رکھنا چاہتے ہےں تو خود کفالت کی راہ پر چلنا ہوگا۔ غےر ملکی امداد کے ساتھ بعض اوقات اےسے اےڈوائزر بھی ساتھ آتے ہےں جن کی تنخواہوں کی ادائےگی حکومت پاکستان کے ذمے ہوتی ہےں۔ اس طرح غےر ملکی امداد کا بڑا حصہ واپس چلا جاتا ہے۔ علاوہ ازےں اےسی امداد مےں کمےشن بھی لےا جاتا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ ورلڈ بنک کے حکام کے مطابق پاکستان دنےا کا واحد ملک ہے جہاں بنک کی فراہم کردہ کل امداد کا 30فےصد غےرپےداواری اخراجات کی نذر ہوجاتا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ بلوچستان مےں اےسی امداد کا ضےاع سب سے زےادہ ہے کےونکہ وہاں کے مقامی سردار اپنے علاقوں مےں ترقےاتی منصوبے شروع کرنے سے قبل حکومت سے بھاری رقوم وصول کرتے ہےں۔ ہر حکومت بلوچستان کے لئے رےلےف پےکجز کا اعلان کرتی ہے مگر حقےقت ےہ ہے کہ وہاں اےک سڑک کاغذوں مےں چھ چھ بار بنتی ہےے مگر اس کا کہےں وجود نہےں ہوتا۔ اس سے اندازہ لگاےا جاسکتا ہے کہ بدعنوانی کا لےول کےا ہوچکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک پاکستان کے حکمران طبقات اپنے طرز زندگی مےں سادگی اختےار نہےں کرےں گے‘ تب تک خودداری کی منزل حاصل نہےں کی جاسکتی۔ جب ےہ لوگ غےر ملکی دوروں پر جاتے ہےں تو چالےس پچاس اےسے افراد بھی ہمراہ لے جاتے ہےں جن کا اس دورے سے کوئی تعلق واسطہ نہےں ہوتا۔ ےہ لوگ اس ملک سے ذاتی ساز و سامان خرےدتے ہےں جو بعدازاں پی آئی اے کے جہازوں سے بلامعاوضہ پاکستان پہنچاےا جاتا ہے۔ اُنہوں نے واضح کےا کہ خودداری کی منزل پانے کے لئے خود کفالت اور کفاےت شعاری بنےادی تقاضے ہےں۔ اُنہوں نے کہا کہ سی پی اےن ای کے اجلاسوں مےں اعلیٰ حکام نے ہمےں بتاےا کہ چےن کی مدد سے شروع کردہ منصوبوں کے حوالے سے پاکستان اور چےن مےں ےہ معاہدہ طے پاےا ہے کہ ان کے لئے ٹےنڈرز جاری نہےں کئے جائےں گے اور اےک کمےٹی ےہ فےصلہ کرے گی کہ کس کمپنی کو کام تفوےض کرنا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ آج کل سوشل مےڈےا پر افواجِ پاکستان کے خلاف مہم چلائی جارہی ہے جو انتہائی نامناسب ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ جب نظرےہ¿ پاکستان ٹرسٹ کے پلےٹ فارم سے چلائی جانے والی خوددار پاکستان کی مہم پاےہ¿ تکمےل کو پہنچ جائے تو خود کفےل پاکستان کی مہم بھی شروع کی جانی چاہےے۔ اُنہوں نے پاکستان پر غےر ملکی قرضوں کے روز افزوں بوجھ پر اظہارِ تشوےش کرتے ہوئے کہا کہ اس کے باعث نہ صرف غربت مےں بہت زےادہ اضافہ ہوجائے گا بلکہ اس قرض کی ادائےگی کرتے ہوئے ہماری آئندہ نسلوں کے چودہ طبق روشن ہو جائےں گے۔ اُنہوں نے بتاےا کہ قائداعظمؒ کے دست راست اور پاکستان کے پہلے وزےراعظم نوابزادہ لےاقت علی خان کی اہلےہ محترمہ بےگم رعنا لےاقت علی خان ہالےنڈ مےں پاکستان کی سفیر تھیں تو وہاں کی حکومت نے انہیں ایک محل تحفے میں دیا مگر بیگم رعنا لیاقت علی خان نے وہ محل حکومت پاکستان کو دے دیا تاکہ وہاں پاکستان کا سفارت خانہ قائم کیا جا سکے۔ اسی طرح امریکہ میں پاکستان کے سفارت خانے کے لیے تحریک پاکستان کے ایک ممتاز رہنما ایم اے ایچ اصفہانی نے اپنی ذاتی رہائش گاہ فراہم کی تاکہ نوزائیدہ مملکت پر مالی بوجھ نہ پڑے۔ پاکستانی حکمرانوں اور عوام کو اپنے ان بے لوث رہنماﺅں کی پیروی کرنی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ذہنی اور جسمانی طور پر آسائش پسند ہو گئے ہیں اور پیسے کے پیچھے بھاگ رہے ہیں۔ جن لوگوں کے پاس مالی وسائل ہوں‘ انہی کو بڑا آدمی تصور کیا جاتا ہے۔ چند ایک دوست احباب یا اپنے خاندان کے چار پانچ افراد کے کھانے پر پندرہ بیس ہزار روپے اڑا دئیے جاتے ہیں حالانکہ ہمارے ملک میں ایسے گھرانے بھی موجود ہیں جن کی ماہانہ آمدنی بھی بیس ہزار روپے نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں غیر ملکی امداد پر عیش کرنا ترک کر کے خود انحصاری اور کفایت شعاری کی راہ پر چلنا ہو گا۔ اگر ہم ایسا کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو امداد دینے والے ممالک ہمیں کبھی ذلیل و رسوا کرنے کی کوشش نہیں کریں گے۔ پروفیسر ڈاکٹر رفیق احمد نے صدارتی کلمات میں کہا کہ ضیاشاہد نے حقیقت پر مبنی گفتگو کی۔ قوم کے ذہن کو تبدیل کرنے کے لیے ایسی فکری نشستوں کی اہمیت مسلمہ ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ اﷲ تعالیٰ نے ہمیں بیش بہا وسائل سے نواز ہے اور ان کے مفید استعمال کے ذریعے ہم اپنی معاشی حالت کو بہت بہتر بنا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی نوجوانوں میں ترقی کرنے اور آگے بڑھنے کا بے پناہ جذبہ اور عزم موجود ہے اور انہیں جدید تعلیم سے آراستہ کر کے ہم پاکستان کو ترقی یافتہ ممالک کے ہم پلہ بنا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خودداری کی منزل حاصل کرنے کے لیے ہمیں تعلیم کو عام کرنا ہو گا کیونکہ تعلیم ہی وہ ہتھیار ہے جس سے انقلاب برپا کیا جا سکتا ہے۔ نظریہ¿ پاکستان ٹرسٹ کے سیکرٹری شاہد رشید نے نشست کی غرض و غایت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں پاکستان کے عوام میں خود اعتمادی اور خود انحصاری کا جذبہ اجاگر کرنا ہے۔ ہمارے ملک میں بے شمار وسائل موجود ہیں۔ اگر عوام کی صلاحیتوں سے بھرپور فائدہ اٹھایا جائے تو ہم ملک کو مضبوط بنا سکتے ہیں انہوں نے کہا کہ اﷲ تعالیٰ کے فضل و کرم اور برصغیر کے مسلمانوں کے اتحاد کی موثر قوت کے ذریعے ہمارے بزرگوں نے قائداعظمؒ کی قیادت میں پاکستان حاصل کیا۔ اس وقت نہ ہتھیار تھے نہ فوج تھی نہ پولیس تھی نہ ہی خزانہ تھا۔ آج جب کہ ہمارے پاس سب کچھ ہے اور ہم ایٹمی طاقت بھی ہیں تو ہمیں خوداعتمادی سے ترقی کی منزل کی طرف بڑھنا چاہئے۔
کلثوم نواز کی جیت بارے پیشگوئی کرنیوالی خاتون کی نئی پیشگوئی
لاہور(خصوصی رپورٹ)بین الاقوامی پیشگو سید نصرت بخاری کی کلثوم نواز کی جیت کے حوالے سے پیشگوئی درست ثابت ہوئی تفصیلات کے مطابق سید نصرت بخاری نے الیکشن سے قبل پیشگوئی کی تھی کہ کلثوم نواز60ہزارسے زائد ووٹ لیکر 14 سے15ہزار ووٹوں کے مارجن سے کامیاب ہونگی،گزشتہ روز سید نصرت بخاری کی رہائشگاہ پر ایک میٹنگ ہوئی جس میں علاقہ کے معززین نے بھرپور تعداد میں شرکت کی اور نصرت بخاری کی پیش گوئی درست ثابت ہونے پر ان کو مبارکباد پیش کی ۔اس موقع پر سید نصرت بخاری نے مزید پیشگوئی کی کہ مریم نواز ملکی سیاست میں ایک خاص مقام حاصل کریں گی اور آئندہ کئی عرصہ تک ن لیگ کی قیادت کریںگی۔ انہوں نے کہا کہ آنے والے وقت میں شریف فیملی میں بھٹو خاندان کی طرح مریم نواز راج کریگی۔
لاہور کا ضمنی الیکشن فوج کی کس شخصیت نے سپر وائز کیا
لاہور (ویب ڈیسک) حلقہ این اے 120 کے حوالہ سے سوشل میڈیا پر پاک فوج کے خلاف شرانگیز پروپیگنڈا جاری ہے جس میں کہا جا رہا ہے کہ کور کمانڈر لاہور ضمنی الیکشن سپروائز کر رہے تھے۔ ہر پولنگ سٹیشنز پر ایک کپتان تھا۔ باقی رینجرز اور سپاہیوں کا انچارج سے فوجی افسر لاہور کو کمانڈر کو رپورٹ کر رہا تھا۔ آئی ایس آئی، رینجرز کے ماتحت تھے۔ ہر پولنگ اسٹیشنز پر کپتان کے پاس مکمل پلان تھا۔ میڈیا کے لوگوں کے پاس الیکشن کمیشن کے کارڈ تھے۔ مگر سب کپتانوں کا ایک جواب تھا کہ کارڈ Valid نہیں ہیں۔ صحافیوں کو دھکے مارے گئے اور فوجیوں نے گریبان بھی پکڑے۔ الیکشن کمیشن کا سٹاف اور ووٹر روتا رہا کہ فوج ہمارے ماتحت اور سکیورٹی کے لئے آئی تھی مگر ٹیک اوور کور کمانڈر نے کر لیا۔ یونین کونسل کا چیئرمین مین کردار تھا۔ 3 دن پہلے رینجرز نے تمام لوگوں کو اغوا کر کے آئی ایس آئی کے دفتر پہنچایا۔ سیاسی ورکروں اور صحافیوں کے موبائل فون چھین لئے گئے۔ صحافیوں کو موقع پر دھمکایا گیا۔ آئی ایس پی آر کے بریگیڈیئر عتیق نے حود کور کمانڈر لاہور سے رابطہ کیا۔ صحافیوں کی ہاتھا پائی کی شکایت کی۔ رپورٹرز کو پھر بھی اجازت نہیں دی گئی۔ شیر کی پرچی والے لوگوں کو کہا گیا کہ یہ نہیں ہے یہاں آپ کا ووٹ نہیں ہے۔ لائنیں بنائیں۔ اندر نہیں گھسنے دیا گیا۔ 5 بجے کے بعد انکار کر دیا۔ صحافیوں کو کہا فوج کے خلاف غداری نہ کرو۔ اللہ رسول کے نام پر 7500 خادم رضوی کی پارٹی کو ملا حافظ سعید کے نام پر 13 ہزار ووٹ توڑے گئے۔ ہزاروں لوگوں کو ووٹ دینے سے روکا گیا۔ ہمارے ٹیکس پر چلنے والی فوج نے کھل کر مداخلت کی۔
خوشاب میں مخالفین کو چُن چُن کر قتل کرنیوالے بارے خاص خبر
خوشاب(خصوصی رپورٹ)ملک چراغ المعروف چراغ بالی کے اکلوتے بیٹے ملک ظفراللہ نے 72سالہ خاندانی دشمنی کو سینکڑوں افراد کی موجودگی میں ختم کرنے کا اعلان کردیا۔ صلح کی تقریب ضلع خوشاب کے علاقہ ہڈائی جھگی بالیاں میں ہوئی، تقریب میں ایم این اے مالک شاکر بشیر، ایم پی اے ملک جاوید، سابق ایم پی اے تصور خان اور دونوں برادریوں کے سینکڑوں افراد نے شرکت کی، چراغ بالی کے والد حیات محمد کے پانچ بیٹے اور پانچ بیٹیاں تھیں، حیات محمد ، بڑا بیٹیا میاں احمد اور مڈل پاس چراغ محمد العمروف چراغ بالی انگریز فوج میں ملازم تھے اور وائسرائے ہندے کے سکیورٹی دستے میں شامل تھے اور ان کی تعیناتی کلکتہ میں تھی۔ 1946ءمیں ہڈالی جھگی بالیاں میں قریبی رشتہ داروں سے جھگڑا ہوا تو اطلاع ملنے پر چراغ بالی کلکتہ سے باگ نکلا، بدلے کی آگ میں چراغ بالی اور ساتھیوں نے لاٹھیوں ، چھریوں اورکلہاڑیوں سے مخالف برادری کے تین افراد قتل کیے اور یوں اشتہاری ہوگیا۔ متعدد بار جیل ہوئی اور کبھی ضمانت پر اور کبھی جیل سے فرار ہونے میں کامیاب ہوتا رہا اور اپنے مخالفین کو چن چن کر قتل کرتا رہا، میانوالی جیل میں چراغ بالی کی دوستی نواب اکبر بگٹی سے ہوئی، چراغ بالی کے اکلوتے بیٹے ظفراللہ کی پرورش ڈیرہ بگٹی میں ہوئی، لگ بھگ 35قتل ، ڈکیتی اور راہزنی کی وارداتوں کے بعد چراغ بالی کے سر کی قیمت دو مربع زرعی اور پچیس ہزار روپے رکھی گئی ، آخر کار چراغ بالی 1973ءمیں پولیس میں مقابلہ مارا گیا ، بگٹی نے دس سال قتل کی بات چھپائے رکھی۔ ملک ظفراللہ کا کہنا ہے کہ اس نے گریجوایشن کی ہے اور اس کی فیملی 1988ءمیں کراچی شفٹ ہوگئی۔ ان کی بڑی بیٹی ایم بی اے دوسری بیٹی بی اے کرچکی ہے اور تیسری بیٹی بی ایس سی جبکہ بڑا بیٹا بی بی اے کررہا ہے اور چھوٹا بیٹا او لیول میں زیر تعلیم ہے۔ کراچی میں قیام کے دوران انہوں نے مختلف ڈرامے بنانا شروع کئے۔ ملک ظفراللہ کے مطابق ایک طویل معروف ڈرامہ سریل لاڈلا انہوں نے ہی بنایا تھا اور ان کے بیٹے اسد اللہ نے اس سریل میں ٹائٹل رول کیا۔ ظفراللہ بالی 4سال قبل تلہ گنگ میں اپنے آبائی گاﺅں ہڈالی لوٹ گئے اور اپنے آباﺅ اجداد کی زمینیں سنبھال لیں جہاں کاشت کاری کے ساتھ ساتھ وہ کراچی میں پراپرٹی کا کام بھی کرتے ہیں۔ اپنے والد چراغ بالی کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں ملک ظفراللہ بالی نے کہا کہ ان کا والد حکومت کی نظر میں ڈاکو تھا مگر پورے علاقے کے لوگ انہیں روبن ہڈ کے نام سے پکارتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ ان کے والد اور خاندان کو علاقے کے لوگ انتہائی عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھتے ہیں،ان کے والد غریبوں کی مدد کرتے تھے، ضرورت مندوں کی ضرورتوں کا خیال رکھتے تھے اور یہی مشن لے کر وہ علاقے کے مکینوں پر زور اصرار پر دو بڑی سیاسی جماعتوں کے مقابلے میں سیاست میں حصہ لے رہے ہیں۔ چراغ بالی کی زندگی پر 91ءمیں فلم بنی جس میں سلطان راہی نے چراغ بالی کا کردار ادا کیا تھا۔
پشاور میں ڈینگی کا آدم خوری سے پیٹ نہ بھرا ،ہلاکتیں 30ہوگئیں
پشاور(خصوصی رپورٹ)صوبائی دارلحکومت پشاور میں ڈینگی بخار نےخاتون سمیت دو مزید افراد کی جان لے لی، صوبے میں جاں بحق افراد کی تعداد 30تک پہنچ گئی، جبکہ ڈینگی سے متاثرہ 270مزید کیسز سامنے آگئے۔ ڈینگی رسپونس یونٹ کے مطابق سفید ڈھیری کے رہئشی 45سالہ احسان اللہ اور 50 سالہ ارمرہ دختر محمد دین سکن ہبورڈ بازار کو 19ستمبر کو ہسپتال میں داخل کیا گیا تھا جہاں وہ گزشتہ روز دم توڑ گئے، دونوں مریضوں میں ڈینگی وائرنس کی تصدیق کی گئی ، ہسپتالوں میں 1682 مزید افراد کا ٹیسٹ کیا گیا جن میں 270 میں مرض کی تشخیص کی گئی،117 مریضوں کو داخل کیا گیا جبکہ 134 کو صحت یابی کے بعد ڈسچارج کردیا گیا۔ خیبرپختونخوا میں ڈینگی نے اب تک 30افراد کی جان لے لی ہے۔
بھارتی سورماﺅں کی پاک فوج کو پھر گیڈر بھبکی ،بڑا حملہ
سیالکوٹ(بیورورپورٹ)سیالکوٹ کے سرحدی علاقہ سجیت گڑھ ،کندن پور، راجہ ہرپال اور چارواہ سےکٹر میں بھارتی فوج کی بلااشتعال فائرنگ اور شیلنگ سے6فراد شہید،15 سے زائدافراد زخمی ہوگئے، متعدد زخمیوں کی حالت نازک، ضلعی انتظامیہ نے سول ہسپتال اور سی ایم ایچ میں ہائی الرٹ جاری کردیا، ریسکیو1122کا عملہ زخمیوں کو ہسپتال لانے میں مصروف ۔تفصیلات کے مطابق سیالکوٹ کے سرحدی علاقوں سجیت گڑھ ، ہرپال ، چارواہ و دیگر علاقوں میں جنگی جنون میں مبتلا بھارتی فورسز نے بلا اشتعال فائرنگ اورمارٹر گولوں کا سلسلہ گزشتہ شام 6بجے کے قریب شروع کر دیا ۔بھارتی فوج نے پسرور اور سےالکوٹ کے سرحدی علاقہ مےں کندن پور، چارواہ اور ہرپال سےکٹر کے علاقہ مےں مختلف دےہات پر بلا اشتعال فائرنگ کی اور مارٹر شےل فائر کئے جس کے نتےجہ مےں موضع بےنی سلہرےاں،باجرہ گڑھی ،کندن پور میں مریم ،اشرف ، نذیر نامی سمیت چار افراد شہید ہوئے ہیںجبکہ موضع باجرہ گڑھی و دیگر ملحقہ علاقوں مےں 15افرادکے زخمی ہونے کی اطلاعات ہےں۔ضلعی حکومت نے سی ایم ایچ سیالکوٹ اور گورنمنٹ علامہ اقبال ٹیچنگ میموریل ہسپتال میں ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے ۔ ڈپٹی کمشنر سےالکوٹ ڈاکٹر فرخ نوےد میڈیا کو بتاےا کہ متاثرےن کی امداد کےلئے پنڈی بھاگو، چوبار،ڈھلوالی ہ اور موضع ورک مےں رےلےف کےمپ قائم کر دےے گئے ہےںجہاں محکمہ صحت، لائےو سٹاک، رےسےکےو1122 اور رےونےو ڈےپارٹمنٹ کا عملہ 24گھنٹے موجود ہے ۔رےسکےو اور محکمہ صحت کی آٹھ اےمبولےنس پسرور کے علاقوں جبکہ پانچ سےالکوٹ تحصےل کے علاقوں سے زخمےوں کو منتقل کر رہی ہےں جبکہ وہ خود امدادی سرگرمےوں کی نگرانی کر رہے ہےں۔ ڈپٹی کمشنر نے بتاےا کہ چاروں رےلےف سنٹرز مےں متاثرہ افراد کو طبی اور دےگر سہولےات کی فراہمی کے ساتھ علاقہ سے محفوظ مقام پر منتقل ہونے کےلئے شٹل سروس بھی فراہم کی جارہی ہے نےز رےلےف سنٹرز مےں بھی متاثرہ فےملےز کےلئے رہائش کا انتظام کےا گےا ہے۔ انہوںنے بتاےا کہ بھارتی فورسز کی شےلنگ کےوجہ سے علاقہ مےں تعلےمی سرگرمےاں بھی بری طرح متاثر ہوئی ہےں اور اس علاقہ مےں 3درجن کے قرےب سکولوں مےں تدرےسی سرگرمےاں معطل ہو کر رہ گئی ہےں۔ انہوں نے بتاےا کہ بھارتی فورسز کی کئی روز سے جاری اشتعال انگےزی اور جارحےت مےں آج اضافہ ہوگےا ہے جس کے بعد سی اےم اےچ سےالکوٹ اور سول ہسپتال سےالکوٹ مےں اےمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔ آخری اطلاعات کے مطابق سرحدی علاقوں میں بھارتی سکیورٹی فورسز کی جانب سے بد ترین بلا اشتعال فائرنگ اور گولہ باری سے متعدد افرادکی شہادتوں اور درجنوں افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔پنجاب رینجرز کی جانب سے بھارت کو بھرپور جوابی کارروائی جاری ہے ۔
اورنج لائن ٹرین کی ٹکٹ ،قیمت جان کر آپ بھی حیران رہ جائینگے
لاہور (خصوصی رپورٹ) حکومت پنجاب لاہور میں میٹرو بس کی طرح اورنج لائن ٹرین چلانے کیلئے بھی سالانہ 5ارب روپے کی سبسڈی دے گی۔ معلومات کے مطابق میٹرو ٹرین کا انتظام بھی میٹرو بس سروس کی طرز پر چلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس کی ٹکٹ 75روپے مقرر کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ اس ضمن میں ٹرین میں سفر کرنے والے 20روپے سٹاپ ٹو سٹاپ ادا کریں گے جبکہ حکومت 55روپے کی سبسڈی دے گی۔ ابتدائی طورپر کئے گئے اعدادوشمار میں اس کی یکطرفہ ٹکٹ 75روپے مقرر کرنے پر غور کیا گیا ہے۔ ٹرین میں روزانہ اڑھائی لاکھ سے زائد مسافر سفر کریں گے جس کی تعداد 2025ءتک 5لاکھ تک جا پہنچے گی۔ اورنج لائن ٹرین میںشہریوں کو سفر کی سہولیات فراہم کرنے کیلئے حکومت ٹکٹ کی مد میں سالانہ 5ارب روپے خرچ کرے گی۔ اس منصوبے کو رواں برس حکومت پنجاب نے پاک چین اقتصادی راہداری کے تحت چینی معاونت سے 1.6ارب ڈالر کی مالیت سے شروع کیا تھا۔ اورنج لائن 27.1کلومیٹر (16.8میل) طویل ہو گی۔ اورنج لائن ٹرین کے روٹ میں علی ٹاﺅن‘ نیاز بیگ‘ ہنجروال‘ اعوان ٹاﺅن‘ سبزہ زار‘ شاہ نور‘ صلاح الدین بند‘ سمن آباد‘ گلشن راوی‘ چوبرجی‘ جیل روڈ‘ لکشمی چوک‘ سلطان پورہ‘ انجینئرنگ یونیورسٹی‘ باغبانپورہ‘ شالیمار باغ‘ پاکستان ٹکسال‘ محمود اسلام پارک‘ سلام پور ڈیرہ گجراں کے علاقے شامل ہیں۔ اس منصوبے کے مطابق چار الگ الگ پٹڑیوں اورنج لائن‘ گرین لائن‘ پرپل لائن اور بلیولائن کو مختلف مراحل میں تعمیر کیا جانا ہے جس کے ابتدائی مرحلے میں اورنج لائن منصوبے کو شروع کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ اس سے قبل لاہور میں شروع کی گئی میٹرو بس سروس میں روزانہ 70ہزار مسافر سفر کرتے ہیں جس کا یکطرفہ کرایہ 20روپے سٹاپ ٹو سٹاپ مقرر کیا گیا ہے جس میں حکومت سالانہ 2ارب روپے سبسڈی دیتی ہے۔ میٹرو بس سروس 27کلومیٹر طویل سڑک پر مشتمل ہے جس کے روٹ میں گجومتہ سے شاہدرہ تک کا علاقہ شامل ہے اور اس کا سفر ایک گھنٹے میں سمٹ آیا ہے۔ روٹ میں 27بس سٹیشن ہیں اور اس منصوبے کی لاگت تقریباً 25پاکستانی روپیہ تھی۔ میٹرو بس 115بسوں کا ایک نظام ہے اور ہر بس میں 150مسافروں کی گنجائش ہے جبکہ روزانہ 70ہزار مسافر اس میں سفر کرتے ہیں اور حکومت کواس میں سالانہ ارب روپے کا خسارہ برداشت کرنا پڑتا ہے۔
اورنج ٹرین
چونکا دینے والی خبر ،متحدہ پاکسان اور تحریک انصاف میں معاملات طے،قومی اسمبلی میں کیا ہونے والا ہے،دیکھئے خبر
کراچی(اسٹاف رپورٹر) پاکستان تحریک انصاف اور ایم کیو ایم پاکستان کے مابین قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کی تبدیلی کے معاملات طئے پا گئے ہیں، جس کی وجہ سے پاکستان تحریک انصاف کے چئرمین عمران خان نے حیدر آباد میں جلسہ عام اور کراچی کے دورے کے دوران ایم کیو ایم پاکستان اور الطاف حسین پر کسی بھی قسم کی تنقید کرنے سے گریز کیا، جس پر خود پی ٹی آئی سندھ کے رہنما بھی حیرت زدہ ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ ایم کیو ایم پاکستان اور پی ٹی آئی کے مابین گذشتہ چھ ماہ سے اس سلسلے میں رابطہ تھا، تاہم 11اگست2017کو نئے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی سے ایم کیو اسیم پاکستان کے سربراہ فاروق ستار کی قیادت میں وفد کی ملاقات اور وزیراعظم کی جانب سے بند دفاتر کھولنے کے معاملے میں حکومت سندھ سے رجوع کرنے کا مشورہ دینے کے بعد پی ٹی آئی اور ایم کیو ایم پاکستان کے درمیان قربتیں بڑھ گئیں اور بالآخر معاملات طئے پا چکے ہیں، تاہم ان ملاقاتوں کو انتہائی خفیہ رکھا گیا اور پیپلز پارٹی سمیت کسی کو کانوں کان خبر نہ ہوئی۔ ذرائع کے مطابق گذشتہ دنوں جب پی ٹی آئی کے رہنما شاہ محمود قریشی نے اپوزیشن لیڈر کی تبدیلی کے حوالے سے معاملات طئے پانے کی بات کی تو پیپلز پارٹی کے حلقوں میں بھونچال آگیا اور اپوزیشن لیڈر سید خورشید احمد شاہ نے مفاھمت کے بادشاہ آصف علی زرداری کو تمام تر صورتحال سے آگاہ کیا اوراس پر واضع کردیا کہ اگر وہ اپوزیشن لیڈر نہ رہے تو نگران حکومت کے قیام کے وقت ان کی اہمیت نہ صرف ختم ہو کر رہ جائے گی، بلکہ انہیں آنے والے وقت میں سیاسی نقصان اٹھانا پڑے گا۔ ذرائع کے مطابق آصف علی زرداری کی ہدایت پر حکومت سندھ نے ایم کیو ایم پاکستان کو مطلوبہ فنڈز کے علاوہ ان کے دیگر مطالبات جن میں واٹر بورڈ، کے بی سی اے سمیت دیگر اداروں کے اختیارات کی منتقلی کا بھی یقین دلایا ہے، مگر ذرائع نے بتایا کہ اب پی ٹی آئی کے ساتھ ایم کیو ایم پاکستان کے معاملات طئے پا چکے ہیں اور محرم کے بعد قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کی تبدیلی کا معاملہ مکمل ہو جائے گا۔


















