وزیراعظم عمران خان نے قومی ٹیم کے سابق کپتان رمیز راجہ کی بطور چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) تقرری کی منظوری دے دی ہے۔
ذرائع کا بتانا ہے کہ وزیراعظم آفس نے رمیز راجہ کو فون کر کے چیئرمین پی سی بی بنائے جانے کی اطلاع دی۔
گفتگو میں سابق ٹیسٹ کرکٹر رمیز راجہ نے چیئرمین پی سی بی نامزد کیے جانے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ چیئرمین پی سی بی بننا میرے لیے بہت اعزاز کی بات ہے۔
سابق کپتان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کے اعتماد پر شکر گزار ہوں، مجھے عوام کی سپورٹ اور دعاؤں کی ضرورت ہے۔
ایک غیر ملکی ویب سائٹ سے گفتگو کرتے ہوئے سابق کپتان رمیز راجہ کا کہنا تھا کہ میں نے پی سی بی چیئرمین کا عہدہ قبول کرلیا ہے، بہتری کا حصول میرا ہدف ہے۔
بورڈ آف گورنرز سے منتخب ہوکر پریس کانفرنس کروں گا، رمیز راجہ
نامزد چیئرمین پی سی بی رمیز راجہ نے جیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کرکٹ کے لیے میرے پاس کئی منصوبے ہیں ، بورڈ آف گورنرز سے منتخب ہوکر پریس کانفرنس کروں گا۔
رمیز راجہ کا مزید کہنا تھا کہ وزیر اعظم ہاؤس سے چیئرمین پی سی بی بنانے کا بتایا گیا ہے، ابھی نہیں بتا سکتا کہ گورننگ بورڈ میں وزیر اعظم کا دوسرا رکن کون ہوگا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اسد علی خان کو بھی پی سی بی بورڈ آف گورنرز کیلئے نامزد کیا گیا ہے۔
رمیز راجہ نے 1984 سے 1997 تک پاکستان کی نمائندگی کی، وہ پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان اور پی سی بی کے چیف ایگزيکٹو بھی رہے ہیں۔
احسان مانی کا مزید کام کرنے سے انکار
پاکستان کرکٹ بورڈ کے موجودہ چیئرمین احسان مانی کے حوالے سے یہ خبریں تھیں کہ انہیں کام جاری رکھنے کی اجازت مل گئی ہے تاہم اب احسان مانی نے خود ہی مزید کام کرنے سے انکار کردیا ہے۔
گفتگو میں احسان مانی نے اس بات کی تصدیق کی کہ انہوں نے بطور چیئرمین پی سی بی مزید کام کرنے سے معذرت کر لی ہے۔
امریکی اور اتحادی افواج نے 31 اگست تک افغانستان سے حتمی انخلا کے لیے پاکستان سے مدد کی درخواست کردی۔
طالبان سے جنگ کے دوران امریکی اور اتحادی افواج کی معاونت کرنے والے تین سے چار ہزار افراد کراچی لائے جائیں گے، انہیں پاکستان کا ویزا دیا جائے گا اور انہیں امریکا منتقلی سے پہلے ایک ماہ کراچی میں رکھا جائے گا۔
حکومت پاکستان نے فیصلہ کیا ہے کہ امریکی و اتحادی افواج کے معاونت کاروں کے کراچی میں رہنے کا بندوبست سندھ حکومت کرے گی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کابل سے غیر ملکیوں کو لے کر اڑان بھرنے والی متعدد پروازیں کل سے کراچی میں لینڈ کرنا شروع کردیں گی۔
جیو نیوز کو ذرائع نے بتایا کہ افغانستان سے انخلا میں مدد کی درخواست امریکی فوج اور نیٹو نے کی ہے۔
ذرائع کے مطابق انخلا میں مدد کے لیے پاکستان میں اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا جس میں وزارت خارجہ حکام اور ڈائریکٹر جنرل سول ایوی ایشن اتھارٹی (سی اے اے) نے شرکت کی۔
سی اے اے ذرائع کا کہنا ہے کہ افغانستان سے امریکی مدد گاروں کو نکالنے والی 5 ابتدائی پروازیں کراچی میں اتریں گی۔ اسلام آباد میں رش کے باعث انخلا میں مصروف طیاروں کو کراچی میں اتارنے کا فیصلہ ہوا اور مجاز اتھارٹی سے منظوری کے بعد طیاروں کا کل کراچی میں لینڈ کرنے کا امکان ہے۔
ذرائع کا مزید بتانا ہے کہ افغانستان سے 3 سے 4 ہزار افراد کراچی لایا جائے گا، ان افراد کو حکومت سندھ رہائش فراہم کرے گی، افغانستان سے نکالے گئے افراد کو امریکا منتقل کیے جانے سے پہلے ایک ماہ تک کراچی میں رکھا جائے گا۔
کراچی پہنچنے والے افراد کو ایک ماہ کا ویزا دیا جائے گا جبکہ افغانستان سے آنے والی پروازیں ملتان، فیصل آباد اور پشاور بھی لائی جائیں گی۔
امریکا، برطانیہ اور آسٹریلیا نے شہریوں کو کابل ائیرپورٹ جانے سے روک دیا
امریکا، برطانیہ اور آسٹریلیا نے اپنےشہریوں کو کابل ائیرپورٹ کی طرف جانے سے روک دیا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق تینوں ممالک کی جانب سے جاری ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ دہشت گرد حملے کا خدشہ ہے لہٰذا شہری کابل ائیرپورٹ سے دور رہیں۔
افغانستان کی موجودہ صورتحال کا پس منظر
خیال رہے کہ گزشتہ روز طالبان نے کہا تھا کہ 31 اگست تک امریکا اور برطانیہ اپنا انخلا مکمل کریں اور اگر 31 اگست کے بعد بھی امریکی فوجی موجود رہتے ہیں تو اسے قبضے میں توسیع سمجھا جائے گا اور نتائج کے ذمہ دار وہ خود ہوں گے۔
طالبان کے اس بیان کے بعد برطانیہ، فرانس، جرمنی و دیگر ممالک نے کہا تھا کہ وہ ڈیڈلائن میں توسیع کے لیے اپنے شراکت داروں اور طالبان سے رابطے میں ہیں جبکہ امریکی صدر جو بائیڈن نے امید ظاہر کی تھی کہ 31 اگست تک انخلا کا آپریشن مکمل کرلیا جائے گا۔
یاد رہے کہ 15 اگست کو طالبان افغان دارالحکومت کابل میں بھی داخل ہوگئے تھے جس کے بعد ملک کا کنٹرول عملی طور پر ان کے پاس چلا گیا ہےاور افغان صدر اشرف غنی سمیت متعدد حکومتی عہدے دار فرار ہوچکے ہیں۔
طالبان کے کابل میں داخل ہونے کے بعد غیر ملکی اور افغان شہریوں کی بڑی تعداد ملک سے نکلنے کی خواہش میں کابل ائیرپورٹ پر موجود ہیں جبکہ ائیرپورٹ کا انتظام امریکی فوجیوں نے سنبھال رکھا ہے اور روزانہ درجنوں پروازیں شہریوں کو وہاں سے نکال رہی ہیں۔
کراچی: بلاول بھٹو زردار ی نے کہا ہے کہ پیپلزپارٹی کی ہوا چل پڑی ہے، اگلا انتخاب جیالے جیتیں گے، ملک بھر سے مختلف پارٹیوں کے سیاسی رہنما ہمارے رابطے میں ہیں۔
پیپلزپارٹی پارلیمنٹرینز کے صدر آصف علی زرداری اور چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری سے سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے بلاول ہاوس کراچی میں ملاقات کی، جس میں پیپلزپارٹی شعبہ خواتین کی مرکزی صدر فریال تالپور بھی شریک ہوئیں۔ آصف علی زرداری، بلاول بھٹو اور راجہ پرویز اشرف نے ملکی سیاسی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا۔ راجہ پرویز اشرف نے قیادت کو پنجاب سے پارٹی میں شمولیت کے خواہاں افراد کے معاملے سے آگاہ کیا۔ پنجاب میں پارٹی کی تنظیمی صورت حال پر بھی بات چیت کی گئی۔
اس موقع پر بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ عمران خان عوام کے سامنے بے نقاب ہوچکے، پیپلزپارٹی ملک کو بحرانوں سے نکالے گی، پیپلزپارٹی ملک میں اپوزیشن کی مضبوط اور ایک توانا آواز ہے، ہم نے ملک کے کونے کونے میں جاکر عوام دشمن پی ٹی آئی حکومت کو آئینہ دکھایا ہے۔
تحریک انصاف حکومت کی تین سالہ کارکردگی کے حوالے سے اسلام آباد میں خصوصی تقریب کا انعقاد کیا گیا ہے۔
وزیراعظم عمران خان اپنی حکومت کی تین سالہ کارکردگی کے حوالے سے قوم سے خطاب کریں گے۔
وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ کسی اور سیاسی جماعت میں ایسا کرنے کی جرأت نہیں، تیس تیس سال حکومت کرنے والے منہ چُھپا رہے ہیں ، ہم فخر سے کچھا چٹھا پیش کریں گے۔
پاکستان تحریک انصاف کی حکومت 25 جولائی 2018 کو ہونے والے عام انتخابات کے نتیجے میں قائم ہوئی تھی۔
عمران خان نے 18 اگست 2018 کو وزیر اعظم کے عہدے کا حلف اٹھایا تھا۔
ناقدین کہتے ہیں کہ وزیراعظم عمران خان کے دور میں مہنگائی میں بے پناہ اضافہ ہوا جب کہ ڈالر کی قدر بھی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی جس کی وجہ سے امپورٹڈ اشیاء اور گاڑیاں بے پناہ مہنگی ہو گئی ہیں۔
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ازبکستان اور تاجکستان کے صدور سے ملاقات میں افغانستان کی صورتحال پر قریبی روابط اور مشترکہ لائحہ تشکیل دینے کی ضرورت پر زور دیا۔
شاہ محمود قریشی ایک دن قبل تاجکستان، ازبکستان، ترکمانستان اور ایران سمیت چار ملکی دورے پر روانہ ہوئے تھے تاکہ پڑوسی ملک افغانستان میں تازہ پیشرفت پر پاکستان کے نقطہ نظر سے آگاہ کیا جا سکے۔
دفتر خارجہ کے مطابق وزیر خارجہ مخدو م شاہ محمود قریشی نے بدھ کو تاشقند میں ازبکستان کے صدر شوکت مرز ا ایوف سے ملاقات کی جس میں انہوں نے ازبک صدر کو وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے نیک خواہشات کا پیغام پہنچایا۔
انہوں نے وزیر اعظم عمران خان کے حالیہ دورہ ازبکستان کا حوالہ دیتے ہوئے کثیرالجہتی شعبہ جات میں دو طرفہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔
ازبک صدر شوکت مرزاایوف نے کہا کہ ازبکستان پاکستان کے ساتھ دو طرفہ مراسم کو انتہائی اہمیت دیتا ہے اور باہمی دلچسپی کے تمام شعبوں بالخصوص ٹرانسپورٹ اور رابطہ سازی کے حوالے سے دو طرفہ تعاون کے فروغ کا متمنی ہے۔
وزیر خارجہ نے ازبک صدر کو افغانستان کی بدلتی ہوئی صورتحال کے حوالے سے پاکستان کے نقطہ نظر سے آگاہ کیا اور کہا کہ ہمیں توقع ہے کہ افغان قیادت اجتماعیت کے حامل سیاسی تصفیے کی جانب بڑھے گی تاکہ خطے میں مضبوط تجارتی و اقتصادی روابط کی راہ ہموار ہو سکے۔
ازبک صدر نے اس بات سے اتفاق کیا کہ افغانستان میں قیام امن سے خطے میں تجارت، معیشت اور روابط میں بہتری کے امکانات پیدا ہوں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ اگلے ماہ تاجکستان میں متوقع شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے موقع پر وزیر اعظم عمران خان خان کے ساتھ ملاقات کے منتظر ہیں۔
اس سے قبل وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے دوشنبے میں تاجکستان کے صدر امام علی رحمٰن سے ملاقات کی جس میں دورہ افغانستان سمیت باہمی دلچسپی کے دیگر امور پت تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزیر خارجہ نے تاجک صدر کو وزیراعظم عمران خان کی جانب سے نیک خواہشات کا پیغام دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور تاجکستان کے مابین گہرے تاریخی برادرانہ تعلقات ہیں جو یکساں مذہبی، تہذیبی اور ثقافتی بنیاد پر استوار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ باعث مسرت بات یہ ہے کہ دونوں ممالک کی اعلیٰ قیادت، ان دو طرفہ مراسم کو مزید وسعت دینے اور مستحکم بنانے کے لیے پرعزم ہے۔
وزیر خارجہ نے تاجکستان کے ساتھ باہمی دلچسپی کے کثیرالجہتی شعبہ جات میں دو طرفہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے عزم کا اعادہ اور تاجک صدر کو افغانستان کی موجودہ صورتحال کے حوالے سے پاکستان کے نقطہ نظر سے آگاہ کیا۔
انہوں نے مشترکہ مقاصد کے حصول کے لیے متفقہ لائحہ عمل اپنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں امن و استحکام، پاکستان اور تاجکستان سمیت پورے خطے کے لیے اقتصادی تعاون بڑھانے اور روابط کے فروغ کے حوالے سے یکساں اہمیت کا حامل ہے۔
تاجک صدر امام علی رحمٰن نے وزیر خارجہ کو تاجکستان میں آمد پر خوش آمدید کہتے ہوئے افغانستان کی صورتحال کے پیش نظر مشترکہ مقاصد کے حصول کے لیے مربوط نقطہ نظر اپنانے کی تجویز سے اتفاق کیا۔
وزیر اعظم عمران خان سے روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے ٹیلیفونک رابطہ کیا ہے۔
ٹیلیفونک رابطے میں دونوں رہنماؤں نے افغانستان کی بدلتی صورتحال اور دو طرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال کیا۔
اس موقع پر وزیراعظم کا کہنا تھاکہ پرامن اور مستحکم افغانستان پاکستان اور خطے کے استحکام کیلئے اہم ہے، افغان عوام کے تحفظ،سلامتی اور انسانی حقوق کے ساتھ ساتھ مسئلے کا سیاسی حل ضروری ہے۔
ان کا کہنا تھاکہ افغان عوام کی سکیورٹی اور حقوق کا تحفظ یقینی ہونا چاہیے۔
وزیراعظم نے مطالبہ کیا کہ عالمی برادری افغان عوام کی مدد کیلئے آگے بڑھے اور افغانستان میں معاشی استحکام کیلئے کردار ادا کرے۔
وزیراعظم نے بدلتی صورتحال سے نمٹنے کیلئے مربوط نقطہ نظر کی اہمیت پر زور دیا۔
وزیرِاعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کسانوں کی معاونت حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
تفصیلات کے مطابق وزیرِ اعظم عمران خان کی زیرِ صدارت کسان کارڈ کی کارکردگی پر جائزہ اجلاس ہوا جس میں معاونینِ خصوصی جمشید اقبال چیمہ، ڈاکٹر شہباز گِل، شہزاد اکبر، وزیرِ اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار، صوبائی وزراء ہاشم جواں بخت، حسین جہانیاں گردیزی اور متعلقہ اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔
اجلاس میں وزیرِاعظم کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا گیا کہ قلیل مدت میں ہی 3 لاکھ 75 ہزار سے زیادہ کسان کارڈ کا اجراء ہو چکا ہے اور یہ تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے، کسان کارڈ کی بدولت سبسڈی کی مد میں کسانوں نے اب تک 5 لاکھ 95 ہزار ٹرانزیکشنز کی ہیں اور مجموعی طور پر تقریباً 60 کروڑ کی سبسڈی سے استفادہ حاصل کیا ہے۔
بریفنگ دیتے ہوئے مزید کہا گیا کہ کسانوں کو مزید سہولت دینے کیلئے ڈیلرز کو کارڈ کے استعمال کی مشینوں کی فراہمی بھی یقینی بنائی جارہی ہے۔
بریفنگ دیتے ہوئے مزید کہا گیا کہ امید کی جارہی ہے کہ سبسڈی کی بدولت اس سال کپاس کی پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ ہوگاجبکہ کسان کارڈ کے اجراء سے ٹوکن سسٹم کا خاتمہ ہورہا ہےجس سے کسانوں کو انکا حق براہِ راست پہنچایا جا سکے گا اور کرپشن کا خاتمہ بھی ہوگا ۔
اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیرِاعظم عمران خان نے کہا کہ کسانوں کی معاونت حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، زراعت ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔
وزیرِاعظم عمران خان نے مزید کہا کہ حکومت ایگریکلچرل ٹرانسفارمیشن پلان سے زرعی شعبے میں بڑے پیمانے پر اصلاحات لا رہی ہے جن کے مثبت اثرات سامنے آ رہے ہیں۔
پاکستان کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ مصباح الحق کا جمیکا میں کورونا ٹیسٹ مثبت آگیا۔
پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے مطابق کورونا مثبت آنے کے بعد مصباح الحق اب 10 روز تک جمیکا میں قرنطینہ کریں گے جس کے بعد انہیں وطن واپسی کی اجازت ہوگی۔
بورڈ کا کہنا ہے کہ جمیکا میں موجود قومی اسکواڈ میں شامل تمام ارکان کی وطن واپسی سے قبل دو مرتبہ کورونا ٹیسٹنگ کی گئی اور ان ٹیسٹنگ کے نتائج میں صرف مصباح الحق ہی وہ واحد رکن ہیں جن کے دونوں ٹیسٹ کی رپورٹ مثبت آئی۔
بورڈ کے مطابق ٹیسٹ مثبت ہونے کے باوجود مصباح الحق میں کورونا کی کوئی علامت ظاہر نہیں ہوئی۔
بورڈ کا کہنا ہے کہ پی سی بی کرکٹ ویسٹ انڈیز کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔
پی سی بی کے مطابق میزبان بورڈ نے تصدیق کی ہے کہ مصباح الحق کو 10 روزہ قرنطینہ کیلئے جلد دوسرے ہوٹل منتقل کردیا جائے گا جہاں میڈیکل اسپیشلسٹ ان کی دیکھ بھال کرنے کیلئے موجود ہوں گے۔
خیال رہے کہ گزشتہ روز پاکستان ٹیم نے دوسرے ٹیسٹ میں ویسٹ انڈیز کو شکست دیکر سیریز 1-1 سے برابر کردی تھی۔
کورونا وائرس سے ہونے والی بیماری کووڈ سے ویکسینیشن سے ملنے والا تحفظ وقت کے ساتھ کم ہوجاتا ہے۔
یہ بات برطانیہ میں ہونے والی ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی جس میں بتایا گیا کہ فائزر/بائیو این ٹیک اور آکسفورڈ/ایسٹرا زینیکا ویکسینز کی 2 خوراکوں سے کووڈ 19 کے خلاف ملنے والے تحفظ کی شرح وقت کے ساتھ گھٹ جاتی ہے۔
ماہرین کا کہنا تھا کہ وقت کے ساتھ ویکسینز کی افادیت غیرمتوقع نہیں مگر ویکسینز بریک تھرو انفیکشنز (ویکسینیشن کے بعد کووڈ سے متاثر ہونے والے افراد کے لیے استعمال ہونے والی اصطلاح) پر لوگوں بیماری کی سنگین شدت سے بچانے میں بہترین کام کرتی ہیں۔
حقیقی دنیا میں ہونے والی اس تحقیق میں مئی سے جولائی 2021 کے دوران ویکسینیشن مکمل کرنے والے 10 لاکھ سے زیادہ افراد کے پی سی آر ٹیسٹوں کے نتائج کے ڈیٹا کو مدنظر رکھ کر نتائج مرتب کیے گئے۔
تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ فائزر ویکسین کی 2 خوراکوں کے استعمال کے ایک ماہ بعد بیماری سے تحفظ کی شرح 88 فیصد ہوتی ہے جو 5 سے 6 ماہ میں گھٹ کر 74 فیصد تک آجاتی ہے۔
ایسٹرا زینیکا ویکسین سے ملنے والے تحفظ کی شرح 4 سے 5 ماہ میں 77 فیصد سے گھٹ کر 67 فیصد رہ جاتی ہے۔
کورونا وائرس کی علامات کا ڈیٹا اکٹھا کرنے والی ایپ زوئی کووڈ سیمپٹم اسٹڈی نے برطانیہ میں ویکسینز کی افادیت کے حوالے سے ڈیٹا اکٹھا کیا۔
تحقیقی ٹیم کے سربراہ اور کنگز کالج لندن کے پروفیسر ٹم اسپیکٹر نے بتایا کہ نتائج سے حالیہ ہفتوں میں ویکسین کی 2 خوراکیں استعمال کرنے والے کچھ افراد میں کووڈ کی تشخیص کی وضاحت ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ویکسینز کی افادیت میں کمی متوقع تھی اور یہ ویکسنیشن نہ کرانے کا کوئی جواز نہیں۔
انہوں نے کہا کہ ویکسینز سے آبادی کی زیادہ تر تعداد کو بیماری بالخصوص کورونا کی زیادہ خطرناک قسم ڈیلٹا کے خلا ٹھوس تحفظ ملتا ہے، تو زیادہ سے زیادہ افراد کی ویکسینیشن مکمل کرائی جانی چاہیے۔
انہوں نے تخمینہ لگایا کہ سال کے آغاز میں جن افراد کی ویکسینیشن مکمل ہوچکی تھی ان کے لیے ویکسینز کی افادیت میں موسم سرما تک 50 فیصد تک کمی آسکتی ہے اور اضافی خوراک کی ضرورت ہوسکتی ہے۔
برطانیہ میں کچھ افراد کو ستمبر 2021 سے ویکسینیز کی تیسری خوراک دینے پر غور کیا جارہا ہے مگر اس کے لیے خودمختار کونسل کی سفارشات کا اتنظار کیا جارہا ہے۔
پروفیسر ٹم اسپیکٹر نے کہا کہ بیشتر افراد کو بوسٹر ڈوز کی ضرورت نہیں ہوگی، کووڈ کو شکست دینے والے کچھ افراد کو قدرتی طور پر اضافی تحفظ حاصل ہوگا، تو ہمارے خیال میں ہر ایک کو تیسری خوراک دینے کا فیصلہ سب کچھ مدنظر رکھ کر کرنا چاہیے، اس حوالے سے مخصوص اہداف کو حاصل کرنا بہتر ہوگا۔
اس سے قبل 19 اگست 2021 کو برطانیہ کے آفس فار نیشنل اسٹیٹکس اور آکسفورڈ ویکسین گروپ کی جانب سے بھی اسی طرح کی تحقیق کے نتائج جاری کیے گئے تھے۔
اس تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ کورونا وائرس کے تحفظ کے لیے ویکسینیشن کی افادیت ڈیلٹا قسم کے خلاف 3 ماہ کے اندر کم ہوجاتی ہے۔
30 لاکھ سے زیادہ ناک اور حلق کے سواب ٹیسٹ کے نمونوں کے تجزیے پر مبنی اس تحقیق میں بتایا گیا کہ کورونا کی اس نئی قسم کے خلاف فائزر/بائیو این ٹیک کی ایم آر این اے ویکسین اور ایسٹرا زینیکا ویکسین کی افادیت میں ویکسینیشن کے ابتدائی 90 دن کے بعد کمی آئی۔
تحقیق کے نتائج سے عندیہ ملتا ہے کہ فائزر یا ایسٹرازینیکا ویکسین استعمال کرنے والے افراد میں ڈیلٹا سے بیمار ہونے کا امکان وائرس کی دیگر اقسام کے مقابلے میں زیادہ ہوتا ہے۔
دونوں کی دوسری خوراک کے استعمال کے 2 ہفتے بعد فائزر ویکسین کی افادیت 85 فیصد اور ایسٹرا زینیکا کی 68 فیصد تھی مگر 90 دن بعد یہ افادیت گھٹ کر 75 فیصد (فائزر ویکسین) اور 61 فیصد (ایسٹرا زینیکا ویکسین) رہ گئی۔
ویکسینز کی افادیت میں یہ کمی 35 سال یا اس سے زائد عمر کے افراد میں زیادہ نمایاں تھی۔
محققین نے یہ نہیں بتایا کہ وقت کے ساتھ ویکسینز سے ملنے والے تحفظ میں مزید کتنی کمی آسکتی ہے مگر انہوں نے عندیہ دیا کہ اس حوالے سے مزید کام جاری رکھا جائے گا۔
واشنگٹن: ایسے وقت میں جب امریکا افغانستان سے اپنے شہریوں اور فوجیوں کو بحفاظت نکلانے کی کوششوں میں مصروف ہے ، امریکی پارلیمان کے دو اپوزیشن اراکین غیرقانونی خفیہ دورے پر کابل پہنچ گئے۔
امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کو اس معاملے سے واقف دو افراد نے بتایا ہے کہ ریپبلکن ارکان سیٹھ مولٹن اور پیٹر میجر نےکابل کا غیرقانونی اور خفیہ دورہ کیا جس پر امریکی محکمہ خارجہ اور پینٹاگون کے کئی عہدیدار مشتعل ہوگئے ۔
واضح رہے کہ ریپبلکن رکن سیٹھ مولٹن اور پیٹر میجر دونوں سابق فوجی ہیں جنہوں نے عراق جنگ میں بھی حصہ لیا اور وہ صدر جو بائیڈن کی افغانستان پالیسی کے سخت ناقد ہیں۔
کابل سمیت تقریباً پورے افغانستان میں اس وقت طالبان کا کنٹرول ہے اور امریکی فوجی صرف کابل کے ہوائی اڈے پر موجود ہے جب کہ امریکی حکام اپنے شہریوں ، افغان مترجموں اورفوج کے لیے کام کرنے والے ٹھیکیداروں کو وہاں سے نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔
اتوار کو امریکا کی قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان نے خبردار کیا کہ اسلامک اسٹیٹ کی جانب سے ائیرپورٹ پر حملے کا خطرہ ‘حقیقی’ اور ‘شدید’ہے۔
سیٹھ مولٹن کے ترجمان ٹم بیبا نے واشنگٹن پوسٹ کو بتایا کہ وہ پہلے متحدہ عرب امارات گئے اور پھر افغانستان جانے والی خالی فوجی پرواز کے ذریعے کابل پہنچے۔
ترجمان کے مطابق دونوں ریپبلکن ارکان کابل پہنچنے کے 24 گھنٹوں سے بھی کم وقت میں امریکیوں کے انخلا کے لیے استعمال کیے جانے والے ایک ہوائی جہاز میں واپس چلے گئے تھے۔
ٹم بیبا نے کہا کہ دونوں نے اس بات کو یقینی بنایا کہ وہ صرف اسی صورت میں کابل سے نکلیں گے جب انہیں کسی طیارے میں تین خالی نشستیں دستیاب ہوں گی کیونکہ وہ نہیں چاہتے تھے کہ وہ کسی اصل حقدار کی سیٹوں پر سفر کریں۔
ترجمان نے اخبار کو مزید بتایا کہ اس سفر کا مقصد ایسے علاقے میں جانا تھا جہاں ملک چھوڑنے والے افراد کو عارضی طور پر رکھا جا رہا تھا تاکہ انہیں اضافی معلومات اوران کی مؤثر نگرانی میں مدد مل سکے۔
سیٹھ مولٹن اور پیٹر میجر نے کابل میں کیا کیا؟
ایک مشترکہ بیان میں ، سیٹھ مولٹن اور پیٹر میجر نے واشنگٹن پوسٹ کو بتایا کہ انہوں نے کابل میں سروس ممبران اور محکمہ خارجہ کے عہدیداروں کے ساتھ بات کی اور ان کا ماننا ہے کہ بائیڈن کو امریکیوں اور افغان شہریوں کو افغانستان سے نکالنے کے لیے 31 اگست کی آخری تاریخ میں توسیع کرنی چاہیے۔
کئی امریکی عہدیداروں اور سفارت کاروں نے دونوں کانگریس اراکین پر شدید تنقید کی اور کہا ہے کہ انہوں نے فوجی اور سویلین کارکنوں کی توجہ ہٹا دی جو کہ لوگوں کو جلد از جلد افغانستان سے نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ایک ناراض سفارت کار نے واشنگٹن پوسٹ کو بتایا کہ یہ ایک انتہائی غیر ذمہ دارانہ کام ہے جو انہوں نے ایک قانون ساز کو کرتے ہوئے سنا ہے۔
امریکی انتظامیہ کے ایک اور سینیئر عہدیدار نے اس عمل کو ‘بدمعاشی ‘ قرار دیا اور کہا کہ یہ خودغرضی کی انتہا ہے کہ آپ امریکیوں اور خطرے سے دوچار افغانوں سے صرف اس لیے نشستیں لے لیں تاکہ آپ کو کیمروں کی توجہ مل جائے ۔