مریم نواز کے ساتھ شہباز شریف کا بھی کشمیر کی انتخابی مہم میں اترنے کا فیصلہ

لاہور: مریم نواز کے ساتھ مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے بھی کشمیر کی انتخابی مہم میں اترنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

مسلم لیگ (ن) کے ذرائع کے مطابق مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز 8 جولائی سے آزاد کشمیر میں انتخابی مہم شروع کر رہی ہیں، جس کے بعد پارٹی کے صدر شہباز شریف نے بھی کشمیر کی انتخابی مہم میں اترنے کا فیصلہ کرلیا ہے، اب مریم نواز کے ساتھ وہ بھی کشمیر میں (ن) لیگ کے امیدواروں کی انتخابی مہم چلائیں گے۔

(ن) لیگی ذرائع کا کہنا ہے کہ شہباز شریف کشمیر کے مختلف حلقہ جات میں عوامی اجتماعات سے خطاب کریں گے، اس حوالے سے مسلم لیگ ن نے شہباز شریف کے دورہ کشمیر کے حوالے سے شیڈول کی تیاری شروع کر دی ہے، آئندہ دو سے تین روز میں شہباز شریف کے دورہ کشمیر کے شیڈول کا اعلان کر دیا جائے گا۔

وزیراعظم ایک روزہ دورے پر گوادر پہنچ گئے، میگا پراجیکٹس کا سنگ بنیاد رکھیں گے

اسلام آباد: وزیراعظم ایک روزہ دورے پر گوادر پہنچ گئے۔ عمران خان مختلف ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت کا جائزہ اور دیگر میگا پراجیکٹس کا سنگ بنیاد رکھیں گے۔

وزیراعظم عمران خان کے ہمراہ چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی، وفاقی وزراء اسد عمر، فواد چودھری، شاہ محمود قریشی اور زبیدہ جلال بھی شامل ہیں۔ عمران خان گوادر میں متعدد ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت کا جائزہ لیں گے۔ گوادر میں جاری ترقیاتی منصوبوں کے فیز ٹو کا بھی سنگ بنیاد رکھیں گے۔

وزیراعظم عمران خان گوادر فری زون ایکسپو سینٹر،ایگری کلچرل انڈسٹریل پارک کیساتھ 3 فیکٹریوں کا افتتاح کریں گے۔ گوادر میں پانی اور بجلی کے مسائل کے حل کیلئے سولرائزیشن کے معاہدوں پر دستخط ہوں گے۔ وزیراعظم غیر ملکی سفیروں، سرمایہ کاروں اور چینی ورکرز سے خطاب کریں گے۔

نیب انکوائری پر آصف زرداری کا عبوری ضمانت کیلئے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع

سابق صدر اور پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے قومی احتساب بیورو (نیب) کا نوٹس ملنے پر اسلام آباد ہائی کورٹ سے ضمانت قبل از گرفتار کے لیے رجوع کرلیا۔

نیب کے نوٹس میں نیو یارک کے ایک اپارٹمنٹ کی مبینہ ملکیت کے بارے میں پوچھا گیا تھا۔

خیال رہے کہ انسداد بدعنوانی کے ادارے نے 15 جون کو سابق صدر کو ایک سوالنامے کے ساتھ طلبی کا نوٹس جاری کیا تھا جس میں ان سے اپارٹمنٹ کی تفصیلات پوچھی گئی تھیں۔

جس پر دائر کردہ درخواست میں سابق صدر نے کہا کہ نوٹس بے بنیاد ہے اور انہیں بدنام کرنے کے لیے ان پر بدنیتی پر مبنی الزامات لگائے گئے۔

پٹیشن میں کہا گیا کہ درخواست گزار نوٹس میں بتائے گئے اپارٹمنٹ سمیت نیویارک میں کسی جائیداد کی ملکیت نہیں رکھتا۔

پٹیشن میں مزید کہا گیا کہ نیب نے آصف علی زرداری کو مختلف معاملات میں طلبی کے مختلف نوٹسز جاری کیے ہیں تا کہ ان کی سیاسی ساکھ کو نقصان پہنچایا جاسکے، ان تمام نوٹسز کو اسلام آباد ہائی کورٹ سمیت مختلف فورمز پر ختم کردیا گیا۔

ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا کہ آصف زرداری مختلف بیماریوں میں مبتلا ہیں اور ان کی اسیری نے طبی صورتحال مزید خراب کی ہے۔

درخواست کے مطابق سابق صدر اس وقت ڈاکٹروں کی خصوصی دیکھ بھال میں ہیں اور وہ ان کی صحت کی نگرانی کررہے ہیں۔

پٹیشن میں چیئرمین نیب، ڈائریکٹر جنرل اور 3 دیگر افراد کو فریق بنایا گیا۔

خیال رہے پاکستان تحریک انصاف نے جون 2018 میں الیکشن کمیشن میں ایک درخواست دائر کی تھی جس میں کاغذات نامزدگی میں نیویارک کے اپارٹمنٹ کی ملکیت چھپانے پر ان کی نااہلی کی استدعا کی تھی۔

مذکورہ درخواست خرم شیر زمان نے دائر کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ آصف علی زرداری کو اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین اور الیکشن کمیشن پاکستان کے قواعد کے مطابق سرکاری عہدہ رکھنے سے نااہل قرار دینا چاہیے کیوں کہ میری رائے میں وہ صآدق اور امین نہیں رہے۔

تاہم جنوری 2019 میں خرم شیر زمان نے مذکورہ درخواست واپس لے لی تھی اور کہا تھا کہ انہیں ایسے شواہد ملے ہیں جنہیں صرف اعلیٰ فورمز پر ہی پیش کیا جاسکتا ہے۔

عوام کے لئے ایک اور جھٹکا، سی این جی مہنگی کر دی گئی

پٹرول اور ایل پی جی کے بعد عوام کو ایک اور جھٹکا، سی این جی مہنگی کر دی گئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق حکومت کی طرف سے ٹیکسوں کی شرح میں اضافے کے بعد سی این جی 18 روپے لٹر مہنگی کر دی گئی ہے۔

سی این جی ایسوسی ایشن کا اس ضمن میں کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے ایل این پر 12 فی صد جی ایس ٹی بڑھا دیا گیا ہے، مہنگے داموں ایل این جی خرید کر ہمیں دی جا رہی ہے، پنجاب اور کے پی کے میں سی این جی کی قیمت 88 روپے سے بڑھ کر 106 سے 109 روپے لٹر ہو جائے گی۔

سی این جی ایسوسی ایشن کے گروپ لیڈر عبداللہ پراچہ نے کہا ہے کہ سی این جی کی قیمت بڑھنے سے مالکان مشکلات اور گیس گاڑی مالکان کی قوت خرید سے باہر ہو جائے گی، سی این جی سیکٹر کے تباہ ہونے کا خدشہ ہے جس میں اربوں روپوں کی کثیر سرمایہ کاری ڈوب جائے گی، مسئلے کو حل کرنے کے لئے وفاقی حکومت سے رابطے کیا جائے گا۔

غیاث پراچہ نے مزید کہا ہے کہ اس وقت پنجاب میں سی این جی کی قیمت 88.21 روپے لٹر ہے، سندھ میں سی این جی 30 روپے کلو مزید مہنگی ہو سکتی ہے، اگر حکومت نے اپنے فیصلے پر نظرثانی نہ کی تو تین ہزار سی این جی اسٹیشن بند ہو جائیں گے اور ایل این جی پر عائد 17 فی صد سیلز ٹیکس ختم نہ کیا گیا تو 20 لاکھ گاڑیاں اور 4 لاکھ ملازمین بے روزگار ہو جائیں گے۔

الیکشن کمیشن آزاد کشمیر کا انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر انتباہ

مظفر آباد: آزاد جموں و کشمیر کے الیکشن کمیشن نے 25 جولائی کو ہونے والے انتخابات کے پیش نظر وفاقی کابینہ کے ارکین اور پاکستان سے دورہ کرنے والی دیگر شخصیات کو ‘ضابطہ اخلاق’ کے خلاف کوئی بھی کام کرنے سے خبردار کیا ہے۔

الیکشن کمیشن نے ایک بیان میں کہا کہ انتخابی مہم چلانے والے کسی بھی فرد کی جانب سے ضابطہ اخلاق کی دانستہ خلاف ورزی کا نتیجہ بھی متعلقہ امیدوار کی نااہلی کی صورت میں نکل سکتا ہے۔

بیان میں اگرچہ ‘آزاد کشمیر کے دورے پر موجود پاکستانی وزیر’ کا حوالہ دیا گیا، تاہم یہ ہدایت واضح طور پر علی امین گنڈاپور کے لیے ہے جو وفاقی وزیر امور کشمیر ہیں اور میر پور اور کوٹلی کے اضلاع میں اپنی جماعت کے امیدواروں کی انتخابی مہم چلانے کے لیے جمعرات کے روز 4 روزہ دورے پر میر پور پہنچے تھے۔

ایک عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے علی امین گنڈاپور نے کہا تھا کہ اگر خطے کے لوگ پی ٹی آئی کو ووٹ دیں گے تو وفاقی حکومت، آزاد کشمیر کو 5 کھرب روپے کا پیکج دے گی۔

اسی جلسے میں انہوں نے گلگت بلتستان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ ترقیاتی کاموں کے لیے خطے کے ہر حلقے کو 6 کروڑ روپے ملتے تھے، لیکن پی ٹی آئی کی وفاقی حکومت نے اس رقم کو بڑھا کر ایک ارب روپے فی حلقہ کردیا تھا۔

ایک اور جلسے میں علی امین گنڈاپور نے یہ بھی یقین دہانی کروائی تھی کہ پی ٹی آئی، آزاد کشمیر میں پینے کے صاف پانی اور بجلی کا مسئلہ حل کرے گی جبکہ سڑکیں، پُل اور کھیل کے میدان تعمیر اور بہتر بنائے جائیں گے اور صحت کی سہولیات کو بھی مزید بہتر بنایا جائے گا۔

الیکشن کمیشن نے ایک بیان میں کہا کہ یہ دیکھا گیا ہے کہ مختلف مقامات پر اپنے خطاب میں انہوں (وفاقی وزیر) نے نہ صرف اس طرح مختلف ترقیاتی منصوبوں کا اعلان کیا کہ جس سے انتخابات کی شفافیت اور غیر جانبداری پر سوالیہ نشان کھڑا ہوتا ہے، بلکہ انہوں نے ایسے اعلانات بھی کیے جن کا براہِ راست مقصد آزاد کشمیر کے عوام کو اپنے ووٹ فروخت کرنے پر مائل کرنا تھا۔

الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ اس طرح کے طرز عمل سے الیکشن کمیشن کے تیار کردہ اور جاری کردہ ضابطہ اخلاق کی صریحاً خلاف ورزی ہوتی ہے۔

کمیشن کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس نے چیف سیکریٹری اور ڈپٹی کمشنرز کو ہدایات جاری کردی ہیں کہ دورے پر آنے والے پاکستان کے حکومتی نمائندوں اور سیاسی شخصیات کو کسی بھی پروگرام میں شرکت سے قبل ضابطہ اخلاق اور خلاف ورزی کے نتیجے سے آگاہ کیا جائے۔

امیدواروں کی حتمی فہرستوں اعلان

علاوہ ازیں الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے قانون ساز اسمبلی کی 45 عام نشستوں پر 25 جولائی کو اپنی قسمت آزمانے والے 701 امیدواروں کی فہرست بھی جاری کردی ہے۔

ایک علیحدہ پریس ریلیز میں کمیشن کا کہنا تھا کہ 579 امیدوار آزاد کشمیر کے 33 حلقوں جبکہ 122 امیدوار پاکستان کے 12 حلقوں میں انتخاب میں حصہ لیں گے۔

بیان کے مطابق 8 امیدوار ضلع میر پور کی 4 نشستوں، 53 بھمبر کی 3 نشستوں، 104 کوٹلی کی 6 نشستوں، 76 باغ اور حویلی کی 4 نشستوں، 114 پونچھ اور سدھنوٹی کی 6 نشستوں، 39 ضلع نیلم کی 2 نشستوں جبکہ 113 امیدوار مظفر آباد اور وادی جہلم کی 7 نشستوں پر پنجہ آزمائی کریں گے۔

اسی طرح مقبوضہ جموں کے مہاجرین کے 6 حلقوں میں 72 اور مقبوضہ وادی کشمیر کے مہاجرین کے 6 حلقوں میں 50 امیدوار مدِمقابل ہوں گے۔

زمین اگر کسی وجہ سےاچانک گردش کرنا بند کر دے تو کیا ہوگا؟ نئی تحقیق

سائنسدانوں کے مطابق زمین سورج کے گرد 1670 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گردش کرتی ہے مگر اس کی یہ تیز رفتاری ہمیں محسوس نہیں ہوتی ہے۔

سائنسدانوں نے اس بات پر بھی تحقیق کی ہے کہ اگر زمین اچانک گردش کرنا چھوڑ دے اور رک جائے تو اس کے اس زمین پر اور اس کے رہنے والوں پر کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

1-ماہرین کے مطابق ان اثرات میں سے کچھ اس طرح سے ہو سکتے ہیں۔

اگر یہ گردش اچانک ختم ہو جائے گی تو زمین کے اندر ہر چیز حرکت کرنا شروع ہو جائے گی-

زمین کی تہہ میں موجود لاوا ابلنے لگے گا اور زمین کی سطح سے باہر آنے کے لیے زور لگائے گا جس سے زلزلے آئیں گے۔

2-اگر زمین اپنی گردش ختم کر دے گی تو چاند کا محور بھی چھوٹا ہونا شروع ہو جائے گا اور وقت کے ساتھ ساتھ وہ زمین کے قریب تر آنے لگے گا اور ایک وقت آئے گا جب وہ زمین سے ٹکرا جائے گا۔

3-زمین کے اندر دن رات کا ہونا اور موسموں کی تبدیلی اس کی گردش کے سبب ہی ممکن ہے اگر زمین کی گردش رک جائے گی تو موسم کی تبدیلی بھی تھم جائے گی زمین کا جو حصہ سورج کے سامنے ہو گا وہ شدید گرم اور جو پیچھے ہو گا وہ شدید ٹھنڈا ہو جائے گا۔

4-اگر زمین کی گردش رک جائے تو اس سے سمندر میں موجود پانی بھی آزاد ہو جائے گا جس سے بڑی بڑی لہریں پیدا ہوں گی ۔

ان لہروں کے سبب سونامی کا خطرہ پیدا ہو جائے گا اور ساری زمین پانی کے اندر ڈوب جانے کے خطرات بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔

عید الاضحیٰ کے موقع پر کورونا وائرس کے دوبارہ سر اٹھانے کا خدشہ

اسلام آباد: کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے عائد پابندیاں اٹھائے جانے کے محض 2 ہفتوں بعد ہی ملک میں انفیکشنز اور کیسز مثبت آنے کی شرح دوبارہ بڑھنا شروع ہوگئی ہے۔

ماہرین صحت کو خدشہ ہے کہ عیدالاضحیٰ کے موقع پر وائرس کو دوبارہ سر اٹھانے کا موقع مل سکتا ہے۔

دریں اثنا عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے بین الاقوامی سفر کے لیے ممالک کو نئی رہنما ہدایات جاری کی ہیں جس میں تجویز کیا گیا ہے کہ کسی ملک میں داخلے اور اخراج کے لیے کووڈ ویکسی نیشن کا ثبوت شرط نہیں ہونا چاہیے۔

خیال رہے کہ 9 جون کو نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) نے متعدد فیصلے کیے تھے جس میں 15 جون سے پابندیوں میں نرمی کا فیصلہ بھی شامل تھا۔

این سی او سی نے سرکاری ملازمین کے ویکسین لگوانے کی حتمی تاریخ 30 جون مقرر کی تھی، 18 سال سے زائد عمر کے افراد کے لیے واک ان ویکسی نیشن کی سہولت 11 جون سے شروع کی گئی تھی اور ویکسی نیشن مراکز کے اوقات کار کو صبح 8 بجے سے رات 10 بجے تک کر دیا گیا تھا۔

15 جون سے ہفتے میں 2 دن کاروباری بندش کو ختم کرکے ایک روز کردیا تھا جبکہ ویکسی نیٹڈ افراد کے لیے انڈور جمز بھی کھولنے کی اجازت دے دی گئی تھی۔

50 فیصد ملازمین کے گھر سے کام کرنے کی پالیسی ختم کرکے دفاتر میں 100 فیصد حاضری کی اجازت دے دی گئی تھی، اسی طرح بین الصوبائی ٹرانسپورٹ پر 2 دن کی پابندی اٹھاتے ہوئے پبلک ٹرانسپورٹ میں 50 فیصد کے بجائے 70 فیصد مسافروں کو بٹھانے کی اجازت دے دی گئی تھی۔

27 جون کو دنیا اور ملک میں کووِڈ کی صورتحال مزید بہتر ہونے کی وجہ سے بین الاقوامی پروازوں کی آمد کو مرحلہ وار معمول پر لانے کا فیصلہ کیا گیا، ریپڈ اینٹیجن ٹیسٹ والے افراد کے لیے گھروں میں قرنطینہ کی شرط ختم کردی گئی تھی اور ایئرپورٹ پر کورونا مثبت آنے والے افراد کو حکومتی ہسپتالوں کے بجائے گھروں میں قرنطینہ کی اجازت دے دی گئی تھی۔

این سی او سی کی ویب سائٹ کے مطابق 25 جون کو کورونا کے نئے کیسز کی تعداد 4 ہندسوں سے کم ہو کر 3 ہندسوں تک رہ گئی تھی اور 27 جون کو تقریباً 900 جبکہ 28 جون کو کیسز کی تعداد کم ہو کر 735 تک ہوگئی تھی۔

تاہم کیسز کی تعداد میں بتدریج اضافہ ہونا شروع ہوا اور صرف ایک ہفتے میں دوبارہ دگنے ہوئے، جون میں کیسز مثبت آنے کی شرح 2 فیصد ہوگئی تھی لیکن اب یہ 3 فیصد ہوگئی ہے۔

ایک عہدیدار کا کہنا تھا کہ وزارت کو معلوم تھا کہ تمام پابندیاں ختم کیے جانے سے صورتحال خراب ہونا شروع ہو جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ ‘اب کاروبار کھل چکے، ہفتے کے اختتام پر شہروں کے درمیان ٹرانسپورٹ پر سے پابندیاں ختم اور تعلیمی اداروں میں کلاسز بحال کردی گئیں، لوگ بند شادی ہالز میں تقریبات میں شرکت کر رہے ہیں، عید کی خریداری کر رہے ہیں، یہ سب وائرس پھیلنے کی وجوہات بن رہی ہیں اور ہمیں خدشہ ہے کہ عید کے بعد دوبارہ وائرس پھیل سکتا ہے۔

ایک دوسرے عہدیدار کا کہنا تھا کہ دنیا سنگین عالمی وبا کی زد میں ہے اور پاکستان بھی اس سے مستثنیٰ نہیں ہے۔

وزارت قومی صحت کے ترجمان ساجد شاہ نے ڈان کو بتایا کہ اب تک ملک میں کورونا سے بچاؤ کی ویکسین کی ایک کروڑ 67 لاکھ خوراکیں لگائی جاچکی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ سائنوفارم کی 20 لاکھ خوراکیں چین سے اسلام آباد پہنچنے والی ہیں۔

ویکسینیشن سرٹیفکیٹ کو سفر کیلئے شرط نہ بنایا جائے، عالمی ادارہ صحت

دوسری جانب عالمی ادارہ صحت نے کووِڈ 19 کے تناظر میں ممالک کو نئی رہنما ہدایات جاری کی ہیں۔

ان ہدایات کے اہم نکات یہ ہیں کہ عالمی وبا کے دوران بین الاقوامی سفر کو ضروری مقاصد کے لیے ترجیح دی جائے جس میں ہنگامی انسانی امدادی مشنز، اہم افراد کے سفر، وطن واپسی اور ضروری اشیا کا کارگو ٹرانسپورٹ شامل ہے۔

اس حوالے سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ کسی ملک میں داخلے یا اخراج کے لیے کووِڈ ویکسی نیشن کا ثبوت شرط نہیں ہونی چاہیے۔

ساتھ ہی کہا گیا کہ بین الاقوامی سفر کے لیے ٹیسٹنگ یا قرنطینہ کو شرط بنانے والے حکام ویکسی نیشن یا پہلے وائرس کا شکار ہونے سے حاصل ہونے والی قوت مدافعت کی بنیاد پر ان اقدامات سے استثنیٰ دینے کے انفرادی طریقوں پر غور کر سکتے ہیں۔

ڈبلیو ایچ او کا کہنا تھا کہ جہاز میں سوار ہوتے ہوئے اور پرواز کے دوران ذاتی حفاظتی اقدامات مثلاً ماسک کا استعمال اور سماجی فاصلے کے اقدامات تمام بین الاقوامی مسافروں کو جاری رکھنے چاہیے۔

ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا کہ بین الاقوامی مسافروں کو پہلے سے کووِڈ 19 کا مشتبہ کیس یا رابطے میں آنے والا فرد یا ٹیسٹنگ کے لیے ترجیحی گروہ نہیں سمجھنا چاہیے۔

عالمی ادارہ صحت نے اپنی ہدایات میں مزید کہا کہ جب سفر سے متعلق بین الاقوامی اقدامات کا فیصلہ اور ان پر عمل درآمد کیا جائے تو کمیونٹیز کی مجموعی صحت اور دیکھ بھال کو مدِنظر رکھا جائے اور ان اقدامات سے بروقت عوام کو آگاہ کیا جائے۔

ٹوئٹر پر دو بڑی تبدیلیوں کا امکان

سماجی رابطے کی مقبول ترین ویب سائٹ ٹوئٹر اپنے پلیٹ فارم پر دو نئے فیچرز لانے پر غور کررہا ہے۔

تفصیلات کے مطابق کمپنی ایسے خیال پر کام کررہی ہے جس کے تحت ٹوئٹر پر ٹوئٹس محدود کیے جاسکیں گے اسی طرح صارفین کے لئے دوسری سہولت ریپلائیز کو فلٹر کرنے کے حوالے سے ہے جس سے صارفین مخصوص الفاظ یا جملوں کا انتخاب کرسکیں گے ،اگر کوئی بھی فرد آپ کے لئے جملہ لکھتا ہے اور وہ آپ پسند نہیں کرتے تو ٹوئٹر فوراً متنبہ کردے گا کہ یہ الفاظ اس فرد کی ترجیح کے خلاف ہے۔

مستقبل میں ٹوئٹر پر کسی صارف کے تمام فالورز مخصوص افراد کو نظر آیا کریں گے ،پلیٹ فارم آپ کو آپشن دے گا کہ یہ ٹوئٹر دوستوں یا پھر سب کے لئے ہے۔

اس کے علاوہ ٹوئٹر کے فیچر میں 2 آڈینس گروپس ہوں گے ایک ایوری ون اور دوسرا ٹرسٹڈ فرینڈز جن میں سے کسی ایک کا انتخاب ٹوئٹ کرتے ہوئے کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ ٹوئٹر کی جانب سے یہ ابھی خیال ہے اس پر عملی اقدامات کے حوالے سے کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔

کیپٹن کرنل شیر خان شہید نشان حیدر کا 22واں یوم شہادت

کارگل کے محاذ پر وطن عزیز کا دفاع کرتے ہوئے جامِ شہادت نوش کرنے والے کیپٹن کرنل شیر خان نشان حیدر کا آج بائیسواں یومِ شہادت ہے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ کیپٹن کرنل شیرخان نشان حیدرکا22واں یوم شہادت آج پانچ جولائی کو ہے۔

کارگل جنگ کے ہیرو شیرخان نے اپنےخون سے تاریخ رقم کی، انہوں نے معرکۂ کارگل میں لازوال بہادری،جرات کا مظاہرہ کیا اور وطن عزیز کی حفاظت کے لیے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق  مادروطن کی حفاطت کیلئےکرنل شیرخان کا جذبہ اٹل تھا۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ہمیں کیپٹن کرنل شیرخان شہید پر فخر ہے‘۔

لاہور ہائیکورٹ کے ریٹائر ہونیوالے چیف جسٹس نے 35 ہزار سے زائد کیسز نمٹائے

لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس قاسم خان آج اپنے عہدے سے سبکدوش ہوجائیں گے۔

لاہور ہائیکورٹ کے ریٹائر ہونے والے چیف جسٹس محمد قاسم خان 6 جولائی 1959 کو ملتان میں پیدا ہوئے اور انہوں نے وکالت کا امتحان پاس کرنے کے بعد پریکٹس کا آغاز بھی ملتان سے کیا۔

جسٹس قاسم خان فروری 2010 میں لاہور ہائیکورٹ کے جج اور 19 مارچ 2020 کو چیف جسٹس بنے، جسٹس قاسم خان نے بطور جج لاہور ہائیکورٹ تاریخ ساز فیصلے دینے کے علاوہ کئی قانونی اصول بھی وضع کیے۔

چیف جسٹس نے انتظامی کمیٹی کی منظوری کے بعد سابق جج ارشد ملک کو ویڈیو اسکینڈل کیس میں عہدے سے ہٹانے کا حکم دیا۔

کورونا کے دوران عدالتوں کا کام جاری رکھنے کا بھی فیصلہ کیا اور اس دوران ایک لاکھ 45 ہزار 53 کیسز نمٹائے گئے۔

 فروری 2010 میں لاہور ہائیکورٹ کے جج بننے والے جسٹس قاسم خان نے 35 ہزار سے زائد کیسز نمٹائے جب کہ کمرشل کورٹس کے قیام کا نظریہ بھی انہوں نے پیش کیا تھا۔

چیف جسٹس قاسم خان نے بطور جج سانحہ ماڈل ٹاؤن پر فیصلے کے علاوہ، 2018 میں سوشل میڈیا سے توہین آمیز مواد ہٹانے، توشہ خانہ کے تحائف کی خفیہ نیلامی اور پیٹرول بحران پر بھی فیصلے دیے۔

جسٹس محمد قاسم خان نے ہائیکورٹ کا جج بننے کے بعد 31 مئی تک 35 ہزار 475 کیسز کے فیصلے کیے۔

5 جولائی 1977کی بغاوت نے دہشت گردی کے بیج بوئے ،بلاول بھٹو

کراچی :  پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ 5جولائی 1977کی بغاوت نے ملک میں دہشت گردی کے بیج بوئے ،ہم آج بھی پاکستان کی جمہوری بقا کے لیے لڑ رہے ہیں،جمہوری اور آمریت پسند قوتوں کے درمیان جنگ آج بھی جاری ہے۔

تفصیلا ت کے مطابق پی پی چیئرمین بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ ذوالفقار بھٹو نے دوراندیش سیاسی تدبر سے عالم اسلام کی قیادت کی اور بڑی بہادری کے ساتھ عوام کے حقوق کے لیے جنگ لڑی،ذوالفقار بھٹو نے کہا تھا کہ اقتدار عوام کو دیا جائے،ورنہ سب کچھ ختم ہو جائے گا،انہوں نے ملک و قوم کے حقوق پر سمجھوتہ نہیں کیااور جان نچھاور کرنے کو ترجیح دی، ان کے حامی اور پیروکاروں کو بھی ہر قسم کے تشدد کا نشانہ بنایا گیا،بھٹو کواذیتیں دینے والے ملامت جھیلنے کے لیے کوڑے دان میں پڑے ہیں۔

دہشت گردی میں ملوث ہونے کے بھارتی ثبوب فیٹف سے شیئر کردیے، شاہ محمود قریشی

لاہور: وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ اسلام آباد نے پاکستان میں بھارت کی دہشت گردی کی مالی اعانت کے ’ٹھوس ثبوت‘ شیئر کیے ہیں اور فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) سے بھارت کو کٹہرے میں لانے اور اس کی دہشت گردی پرمشتمل سرگرمیوں پر سوال اٹھانے کا مطالبہ کیا ہے۔

 قومی سلامتی کے مشیر معید یوسف، وزیر اطلاعات فواد چوہدری اور آئی جی پنجاب انعام غنی کی اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے بعد شاہ محمود قریشی نے ایک نجی نیوز چینل سے گفتگو کرتے ہوئے زور دے کر کہا کہ ایف اے ٹی ایف کے رکن ممالک کی کارروائی بھارت کی دہشت گردی کے لیے مالی اعانت کے ثبوت دیکھنے کے بعد طے کرے گی کہ یہ تکنیکی ہے یا سیاسی فورم‘ ہے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ وہ خود اور معید یوسف پہلے ہی تشویش کا اظہار کر چکے ہیں کہ بھارت پاکستان میں دہشت گردی کی حمایت کر رہا ہے اور ہماری تشویش ثبوتوں کے بعد دور ہوگئی کہ بھارت، پاکستان میں دہشت گردوں کو ہتھیاروں، مالی اعانت فراہم کرنے اور تربیت فراہم کررہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت، افغانستان کی سرزمین کو بھی پاکستان کے خلاف استعمال کررہا ہے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ’لاہور میں جوہر ٹاؤن بم دھماکے نے ہمارے خدشات کو ثابت کیا‘۔

وزیر خارجہ نے دعوی کیا کہ پاکستان کی خفیہ ایجنسیوں نے بھارت کو بے نقاب کیا ہے اور اب پاکستان میں سفارتی کور اور پی 5 ممالک کے سفیروں کے ساتھ اقوام متحدہ اور میڈیا کے ساتھ بھی ٹھوس ثبوت شیئر کردیے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کیا یہ ایف اے ٹی ایف کی ذمہ داری نہیں ہے کہ وہ بھارت کو کٹہرے میں لائے اور سوال کرے کہ وہ پاکستان میں دہشت گردی کی پشت پناہی کیوں کررہا ہے۔

خیال رہے کہ اس سے قبل وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری اور آئی جی پنجاب انعام غنی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئےمشیر قومی سلامتی معید یوسف نے کہا تھا کہ لاہور میں گزشتہ ماہ ہونے والے دھماکے کے تانے بانے پاکستان کے اندر بھارت کی جانب سے ہونے والی دہشت گردی سے جڑتے ہیں اور ماسٹر مائنڈ کا تعلق بھارت اور اس کی خفیہ ایجنسی ‘را’ سے ہے۔

معید یوسف نے کہا کہ ‘آج میں کسی ابہام کے بغیر وثوق سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اس سارے حملے کے تانے بانے بھارت کی پاکستان کے خلاف اسپانسر شپ دہشت گردی سے جڑتے ہیں’۔

یاد رہے کہ 23 جون کو لاہور کے علاقے جوہر ٹاؤن میں ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں پولیس اہلکار سمیت 3 افراد جاں بحق اور 21 زخمی ہوگئے تھے۔

اس ضمن میں سی سی پی او لاہور غلام محمود ڈوگر نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے پولیس اہلکار سمیت 3 افراد کے جاں بحق اور 21 کے زخمی ہونے کی تصدیق کی تھی۔

پولیس نے ابتدائی رپورٹ میں بتایا تھا کہ دھماکے میں 15 سے 20 کلو گرام دھماکا خیز مواد استعمال ہوا اور دھماکے میں غیرملکی ساختہ مواد استعمال ہوا۔

جوہر ٹاؤن دھماکے کے تانے بانے بھارت سے جڑتے ہیں، عالمی ادارے کارروائی کریں، وزیراعظم پاکستان

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے جوہر ٹاؤن دھماکے کے تانے بانے بھارت سے ملنے پر دنیا کے تمام ممالک سے بڑا مطالبہ کردیا۔

 وزیر اعظم عمران خان نے جوہر ٹاؤن دھماکے کی تفتیش کے حوالے سے ہونے والی پریس کانفرنس کے بعد ایک اہم بیان جاری کیا۔

انہوں نے کہا کہ ’ٹیم کوہدایت کی آج جوہرٹاؤن دھماکےکی تحقیقات پر قوم کو تفصیل فراہم کریں، پنجاب پولیس کے انسداد دہشت گردی محکمے نے زبردست کارکردگی دکھائی جس کو  میں سراہتا ہوں‘۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ’سول،ملٹری انٹیلی جنس ایجنسیوں کے بہترین رابطوں کی تعریف بھی کرتا ہوں کیونکہ ان باہمی روابط کے نتیجے میں دہشت گردوں کے عالمی رابطوں کی نشاندہی ہوئی‘

وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان کے خلاف دہشت گردی بھارتی سرپرستی میں ہوئی، جوہر ٹاؤن دھماکے کی منصوبہ بندی اور فنڈنگ کے تانے بانے بھارت سے ملتے ہیں‘۔

عمران خان نے مطالبہ کیا کہ ’دنیا بھارت کی مذموم حرکتوں کے خلاف  عالمی اداروں کو متحرک کرے اور اس قسم کی کارروائیوں پر کارروائی کرے‘۔