کورونا ویکسین کی قلت؛ پنجاب اور سندھ میں ویکسینیشن سینٹر ایک روز کے لیے بند

لاہور /  اسلام آباد / کراچی /  اسلام آباد:  کورونا ویکسین کی قلت کے باعث پنجاب اور سندھ میں ویکسینیشن سینٹر ایک روز کے لیے بند کردیئے گئے ہیں۔

 ملک میں کورونا ویکسی نیشن کے باعث لاہور سمیت پنجاب بھر میں قائم خصوصی ویکسی نیشن سینٹرز اور اسپتالوں میں کورونا ویکسین کا ذخیرہ ختم ہوگیا ہے، جس کے باعث ایک روز کے لیے ویکسی نیشن کا عمل روک دیا گیا ہے۔ لاہور کے ایکسپو سینٹر میں بیرون ملک جانے والے شہریوں کو ویکسین کے لیے ایک ہفتے بعد آنے کی ہدایات دی گئی ہیں۔

سندھ حکومت کی ٹاسک فورس نے بھی گزشتہ روز اجلاس میں ہی صوبے بھر کے ویکسی نیشن سینٹر ایک روز کے لیے بند کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا تھا کہ روسی ویکسین ’اسپوتنک وی‘ جون کے آخری ہفتے میں آجائے گی، اس کے علاوہ 21 جون کو سائینو ویک کی 15 لاکھ خوراکیں، 23 جون کو کینسائینو کی 7 لاکھ اور پاک ویک کی 4 لاکھ خوراکیں صوبے کو مل جائیں گی۔وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بھی ویکسین لگوانے کے لیے آنے والے شہریوں کو واپس بھیجا جانے لگا ہے۔

دوسری جانب این سی او سی کے سربراہ اسد عمر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ گزشتہ دو دنوں سے ملک کے بڑے ویکسینیشن سینٹرز میں ویکسین کی قلت کی خبریں آ رہی ہیں۔ 15 لاکھ ویکسین کی کھیپ آج پہنچ رہی ہے جبکہ اگلے 10 روز میں ملک میں مزید 50 لاکھ کورونا ویکسین کی خوراکیں پہنچ جائیں گی۔

اسد عمر نے کہا کہ 12 سے 18 جون کے دوران ملک بھر میں 23 لاکھ شہریوں کو ویکسین لگائی گئی، اس طرح یومیہ تین لاکھ 32 ہزار سے زائد افراد کی ویکسینیشن کی گئی۔ اگلے ہفتے پاکستان میں کورونا ویکسینیشن کا نیا ریکارڈ قائم ہوگا۔

‘پانی ذخیرہ کرنے کے مثبت نتائج، لاہور میں پانی کی زیر زمین سطح میں کمی رک گئی’

اسلام آباد:  وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ لاہور میں پانی ذخیرہ کرنے کے کی پالیسی کے مثبت نتائج سامنے آنے لگے ہیں۔

وزیراعظم عمران خان نے اپنے ٹویٹر پیغام میں کہا ہے کہ پنجاب حکومت نے لاہور میں پانی کی زیرزمین سطح کم ہونے سے روک لی، پانی ذخیرہ کرنے کیلئے اہداف پر کام کیا اور بہترین پالیسی اپنائی۔

سندھ میں جمہوریت کے نام پر ڈکٹیٹر شپ نافذ ہے، فواد چوہدری

وفاقی وزیر فواد چوہدری نے کہا ہے کہ جب بھی جمہوری سوچ کی بات آتی ہے پیپلز پارٹی اس کی مخالف کھڑی نظر آتی ہے، انہوں نے کہا کہ سندھ میں جمہوریت نہیں بلکہ جمہویت کے نام پر ڈکٹیٹر شپ نافذ ہے۔

کراچی پریس کلب میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان سب سے پہلے غیر جانبدار امپائر لے کر آئے، ایسا میکانزم بنایا کہ جس میں ایسے امپائرز لائے جائے جن پر سب کو اعتبار اور اعتماد ہو۔

انہوں نے کہا کہ یہی کام وہ انتخابات میں کرنا چاہتے ہیں، ہر الیکشن کے بعد شکست کھانے والا نتائج تسلیم کرنے سے انکار کردیتا ہے اور ہر الیکشن متنازع ہوتا ہے تو کیوں نہ ایسا نظام وضع کیا جائے کہ جس میں ہارنے اور جیتنے والا دونوں نتائج کو تسلیم کرے۔

فواد چوہدری نے کہا کہ اس سلسلے میں ہم نے 49 نکات پر مشتمل مسودہ گزشتہ اکتوبر میں پارلیمان میں جمع کروایا لیکن بدقسمتی سے اس پر اپوزیشن کی تجاویز اور مؤقف جو کہ پارلیمنٹ میں آنا چاہیے تھا وہ آل پارٹیز کانفرنس میں پیش کیے جانے کی بات سن رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پارلیمان کے باہر غیر منتخب افراد مثلاً مولانا فضل الرحمٰن جیسے لوگ جو نظام کو پلٹنا چاہتے ہیں ان پر انحصار کر کے پارلیمان کو کمزور کیا جائے گا تو جمہوریت کمزور ہوگی، ایک طرف ووٹ کو عزت دینے کی بات کرتے ہیں تو دوسری جانب ووٹر کو ٹھوکر مار کر پارلیمان سے باہر چلے جاتے ہیں۔

فواد چوہدری نے کہا کہ بلاول بھٹو نے سب سے پہلے اس کی حمایت کی، ایک جانب آپ جمہوریت کے چیمپئن بنتے ہیں لیکن جب بھی جمہوری سوچ کی بات آتی ہے پیپلز پارٹی اس کی مخالف کھڑی نظر آتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ سندھ میں جمہوریت نہیں بلکہ جمہویت کے نام پر ڈکٹیٹر شپ نافذ ہے جس کی وجہ سے سندھ کے وسائل میں یہاں کے عوام کو ان کا حق نہیں مل رہا۔

فاقی وزیر نے کہا کہ کراچی، لاڑکانہ، بدین اور دیگر اضلاع میں آنے والے اربوں روپے کہاں گئے۔جو پیسہ ہم سندھ سرکار کے حوالے کرتے ہیں وہ دبئی کینیڈا یا لاہور سے برآمد ہوتا ہے، آخر احتساب کا طریقہ کار تو بنانا پڑے گا۔

انہوں نے کہا کہ حالیہ بجٹ میں 7 سے ساڑھے 7 سو ارب روپے سندھ کے پاس آرہا ہے جس میں گرانٹس شامل نہیں، اس کے باوجود یہ سننا پڑتا ہے کہ وفاقی حکومت کراچی سے انتخاب جیتی ہے تو ہماری سڑکیں، ہسپتال، اسکولز کیوں ٹھیک نہیں ہیں۔

حکومت پنجاب کا نئے ڈویژن، اضلاع اور نئی تحصیلوں کے قیام پرغور

اہور: پنجاب حکومت نے صوبے میں نئے ڈویژن، نئے اضلاع اور نئی تحصیلوں کے قیام پر غور شروع کردیا ہے۔

 پنجاب حکومت نے صوبے میں نئے ڈویژن ، نئے اضلاع اورنئی تحصیلوں کے قیام پر غورشروع کردیا ہے، جب کہ وزیراعلی پنجاب سردار عثمان بزدار نے خاموشی کے ساتھ  مختلف اداروں کوٹاسک سونپ دیا ہے۔ وزیراعلی پنجاب کی ہدایت پر خفیہ طور پر نئے اضلاع ، تحصیلوں کے لئے کام شروع کردیا گیا ہے، اور مختلف اداروں سے نئے اضلاع کے حوالے سے ابتدائی رپورٹس مانگ لی گئی ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعلی اصولی طور پر نئے اضلاع اور نئی تحصیلوں کے قیام کے حامی ہیں اور انہوں نے نئے فیصلے کے حوالے سے ابتدائی مشاورت بھی کرلی ہے، اور سیاسی طور پر اس فیصلے کے وسیع پیمانے پر اثرات مرتب ہوں گے۔

ذرائع نے بتایا کہ بجٹ منظوری کے بعد پنجاب میں نئے اضلاع ،نئی تحصیلوں اورنئے ڈویژن کے حوالے سے با ضابطہ کام ہوگا، سیاسی رہنماؤں اور ارکان اسمبلی سے بھی ان کے اضلاع میں ردو بدل کےحوالے سے مشاورت کی جائے گی، پنجاب بھر میں زیادہ آبادی والے بڑے اضلاع میں کانٹ چھانٹ کا امکان ہے اور کئی حلقوں میں ردوبدل متوقع ہے۔

صدارتی الیکشن جیتنے پر وزیراعظم عمران خان کی نو منتخب ایرانی صدر کو مبارکباد

لاہور: (ویب ڈیسک) وزیراعظم عمران خان نے ایران کے صدارتی الیکشن جیتنے کے بعد نو منتخب صدر سیّد ابراہیم رئیسی کو مبارکباد دی ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر جاری کردہ اپنے پیغام میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ایران کے 13 ویں صدارتی الیکشن میں کامیابی پر اپنے بھائی ابراہیم رئیسی کو مبارکباد دیتا ہوں۔

انہوں نے لکھا کہ دونوں ممالک کے مابین برادرانہ تعلقات میں مزید پختگی، علاقائی امن، ترقی اور خوشحالی کےحصول کے لیے میں ان کے ساتھ مل کر کام کرنے کا خواہاں ہوں

تیل، گیس اور کوئلے کی ’’قاتل آلودگی‘‘ نے 10 لاکھ انسان مار ڈالے، تحقیق

واشنگٹن / مونٹریال / بیجنگ: 

ایک نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ رکازی ایندھن (فوسل فیول) کی آلودگی سے 2017 میں دس لاکھ سے زیادہ انسان موت کا نوالہ بن گئے۔

واضح رہے کہ معدنی تیل، گیس اور کوئلے کو مجموعی طور پر ’’رکازی ایندھن‘‘ (فوسل فیول) کہا جاتا ہے۔

امریکی، کینیڈین اور چینی ماہرینِ ماحولیات کی اس مشترکہ تحقیق میں کیمیائی مادّوں کے فضا میں پھیلنے سے متعلق مختلف سائنسی ماڈلز استعمال کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ 2017 میں مجموعی طور پر دنیا بھر میں ہونے والی 5 کروڑ 60 لاکھ اموات میں سے کم از کم 10 لاکھ اموات کی وجہ رکازی ایندھن کے باعث پیدا ہونے والی فضائی آلودگی تھی۔

فضائی آلودگی کی سب سے خطرناک قسم وہ ذرّات ہوتے ہیں جن کی جسامت 2.5 مائیکرون یا اس سے کم ہوتی ہے۔ ماحولیات کی زبان میں انہیں ’’پی ایم 2.5‘‘ (PM2.5) کہا جاتا ہے۔

یہ ذرّات نہ صرف لمبے عرصے تک فضا میں معلق رہتے ہیں بلکہ سانس کے ذریعے پھیپھڑوں تک پہنچتے ہیں اور خون میں جذب ہو کر انسانی صحت کےلیے شدید نوعیت کے خطرات کو جنم دے سکتے ہیں۔

اگر فضا میں پی ایم 2.5 کی آلودگی بڑھ جائے تو یہ متعدد بیماریوں کے علاوہ موت کی وجہ بھی بن سکتی ہے۔

آن لائن ریسرچ جرنل ’’نیچر کمیونی کیشنز‘‘ کے تازہ شمارے میں شائع ہونے والی اس رپورٹ کے مطابق، اگر صرف چین اور بھارت میں بڑے پیمانے پر کوئلہ جلانے سے خارج ہونے والے پی ایم 2.5 ذرّات ختم کردیئے جائیں تو دنیا بھر میں آلودگی سے پیدا ہونے والی بیماریاں بھی 20 فیصد کم ہوجائیں گی۔

پی ایم 2.5 کی فضائی آلودگی لکڑی اور کوئلہ جلانے والے گھریلو چولہوں سے لے کر تیل، گیس اور کوئلے پر چلنے والے بڑے بجلی گھروں تک سے خارج ہوتی ہے۔

اگر فضا میں پی ایم 2.5 ذرّات کی فی مکعب مقدار 35 مائیکروگرام سے بڑھ جائے تو وہ انسانی صحت کےلیے خطرہ بن جاتے ہیں جبکہ 250 سے 500 مائیکروگرام کی شرح پر یہ ’’ہلاکت خیز‘‘ فضائی آلودگی قرار دیئے جاتے ہیں؛ کیونکہ تب کھلی فضا میں سانس لینا، موت کو دعوت دینے کے مترادف ہوتا ہے۔

تازہ تحقیق میں دنیا کے 21 علاقوں سے فضائی آلودگی اور اموات سے متعلق 2017 کا ڈیٹا جمع کرکے کھنگالا گیا جو مجموعی طور پر 204 ملکوں اور 200 مقامات (بالخصوص شہروں) کا احاطہ کرتا ہے۔

تجزیئے سے معلوم ہوا کہ 2017 کے دوران بیشتر ملکوں میں فضائی آلودگی کی شرح، عالمی ادارہ صحت کی مقرر کردہ محفوظ حد سے کہیں زیادہ رہی جبکہ اُس سال تقریباً 20 فیصد اموات، ممکنہ طور پر پی ایم 2.5 ذرّات کی فضائی آلودگی سے ہوئی تھیں۔

البتہ ان میں سے بھی 10 لاکھ اموات کی تقریباً یقینی وجہ فضائی آلودگی کو قرار دیا جاسکتا ہے۔

اس تحقیق سے مزید معلوم ہوا کہ زیادہ فضائی آلودگی والے ملکوں میں اموات بھی زیادہ واقع ہوئیں جبکہ اضافی اموات کے ظاہری اسباب میں دل کی بیماریاں، فالج، سانس کے مختلف امراض، پھیپھڑوں کا سرطان اور ذیابیطس تک شامل تھے۔

فضائی آلودگی سے بڑے پیمانے پر اموات کے علاوہ بچوں کی قبل از وقت پیدائش، پیدائشی نقائص اور بیماریوں جیسے اضافی مسائل بھی آج ایک تلخ حقیقت کا درجہ رکھتے ہیں جسے نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔

ویسے تو بیشتر ممالک نے فضائی آلودگی کم کرنے کےلیے ہنگامی بنیادوں پر کام شروع کردیا ہے لیکن اب بھی بہت سے ملک اس مسئلے کی سنگینی کو سمجھنے سے گریز کررہے ہیں جس کی وجہ سے بڑھتی ہوئی فضائی آلودگی اب تک قابو سے باہر ہے۔

نواز شریف ملک سے فرار ہیں، انہیں واپس لانا ہے تاکہ سزا پوری کریں، فواد چوہدری

وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ سابق وزیراعظم نوازشریف اور ان کی بیٹی مریم نواز کو کرپشن کے مقدمات میں سزا ہو چکی ہے۔

اسکردو میں صحافیوں سے گفتگو میں فواد چوہدری کا کہنا تھاکہ گلگت بلتستان سی پیک کے اہم روٹ پر ہے لیکن ماضی کی حکومتوں نے گلگت بلتستان کے انفراسٹرکچر پر کوئی توجہ نہیں دی۔

انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت میں سیاحت کو فروغ ملا ہے، پی آئی اے نے ماضی کے مقابلے زیادہ فلائٹس کھولی ہیں۔

وفاقی وزیر اطلاعات کا کہنا تھاکہ  نوازشریف اور مریم نواز کو کرپشن کے مقدمات میں سزا ہو چکی ہے جبکہ نواز شریف ملک سے فرار ہیں، انہیں واپس لانا ہے تاکہ سزا پوری کریں۔

ان کا کہنا تھاکہ نواز شریف کو جیل میں نہیں رکھنا چاہتے، چاہتے ہیں کہ وہ لوٹی ہوئی رقم واپس کریں۔

فواد چوہدری کا کہنا تھاکہ عدالت سے شہبازشریف کے کیس کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت کی درخواست کرچکے ہیں۔

انڈر ٹیکر نے اکشے کمار کو فائٹ کے لیے چیلنج کردیا

ممبئی: ڈبلیو ڈبلیو ای کے ’ڈیڈ مین‘ ریسلر دی انڈر ٹیکر نے بھارتی اداکار اکشے کمار کو فائٹ کے لیے چیلنج کردیا ہے۔

اداکار اکشے کمار کچھ  روز قبل اپنی فلم ’کھلاڑیوں کا کھلاڑی‘ کے 25 سال مکمل ہونے پر جشن منا رہے تھے۔ اکشے کمار نے میم کے طور پر ریسلر براک لزنر،ٹرپل ایچ اور رومان رينز کے ساتھ اپنی تصویر ٹوئٹ کی جس پر لکھا تھا کہ ’جو دی انڈر ٹیکر کو شکست دے چکے ہیں وہ اپنا ہاتھ اٹھائیں‘۔

اکشے کمار کو مذاق اس وقت مہنگا پڑ گیا جب ٹوئٹر پوسٹ معروف ریسلر دی انڈر ٹیکر تک جا پہنچی۔ انڈر ٹیکر نے اس پر ردعمل دیتے ہوئے اکشے کمار کیلئے لکھا کہ جب وہ فائٹ کے لیے تیار ہو جائیں تو مجھے بتا دیں۔

اکشے کمار ریسلر کے ردعمل پر یہ کہہ کر پتلی گلی سے نکل لیے کہ وہ اپنی انشورنس چیک کر لیں پھر بتائیں گے۔

افغانستان کی نئی سیاسی صورتحال کیلئے تیار رہنے کی ضرورت ہے، شیخ رشید

وزیر داخلہ شیخ رشید نے کہا ہے کہ افغانستان میں نئی سیاسی صورتحال کا سامنا کرنے کےلیے ہر اعتبار سے تیار رہنے کی ضرورت ہے۔

قومی اسمبلی میں افغانستان سے متعلق بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ افغانستان میں 38 مقامات پر لڑائی جارہی ہے جبکہ 24 سو افغان اہلکاروں نے ہتھیاروں کے ساتھ طالبان گروپ میں شمولیت اختیار کرلی ہے۔

مزیدپڑھیں: نواز شریف کو برطانیہ سے اللہ ہی لاسکتا ہے، شیخ رشید

انہوں نے کہا کہ ایسی صورتحال میں ہم طورخم میں شینواریز اور پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں پاک افغان سرحد پر واقع انگور اڈہ میں وزیر کو جانے کی اجازت دیں گے۔

شیخ رشید نے کہا کہ ہم محسوس کرتے ہیں کہ آئندہ کے دو سے تین مہینے بہت اہم ہیں، ہم سب سیاسی جماعتوں کو رونما ہونے والی صورتحال کے لیے تیار رہنا چاہے۔

ملکی صورتحال پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا کہ ملک میں موجودہ معاشی صورتحال کی اصل وجہ مہنگے بجلی کے معاہدے ہیں اور اگر ان معاہدوں پر نظر ثانی کرلیا جائے تو تمام سارے مسئلے اپنی موت آپ مر جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: کمپیوٹر سے ٹائپ شدہ استعفے غیر قانونی ہیں، شیخ رشید

انہوں نے قومی اسمبلی میں حالیہ ہنگامہ آرائی سے متعلق کہا کہ تعلیمی یافتہ طبقے میں اسمبلی کو اچھی نظر سے نہیں دیکھا گیا لیکن خدا کا شکر کہ اب بہتری کی فضا قائم ہے۔

شیخ رشید نے کہا کہ میں ایک سیاسی ورکر ہوں اور حقیقت یہ ہے کہ عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے پاس تو سارے ہی جاتے ہیں، سب ہی لوگ جاتے ہیں کیونکہ یہ مجبوری ہے جس پر پردہ نہیں ڈالا جا سکتا۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ پہلی مرتبہ وزیر اعظم عمران خان کی قیادت میں اوورسیز پاکستانیوں نے 9 ارب ڈالر ترسیلات زر بھیجی اور اگر ایسا نہ ہوتا ہمیں پڑوسی ممالک میں کشکول لے کر جانا پڑتا۔

شیخ رشید نے کہا کہ ہم ای پاسپورٹ کے اجرا کرنے والے ہیں اور رواں ہفتے تک زیر التوا تمام ویزے کے معاملات ختم ہوجائیں گے، وزیراعظم عمران خان کو کریڈٹ جاتا ہے کہ تمام ویزے آن لائن ہوگئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ای ویزا سروس کی وجہ سے کرپشن کی حوصلہ شکنی ہوئی ہے، کسی ایک پر الزام نہیں لگاتا کیونکہ پورا سسٹم ایسا تھا کہ کسی آدمی کو ویزا کی ضرورت تھی وہ نچلے عملے سےلین دین کرتا تھا۔

شیخ رشید نے واضح کیا کہ 3 لاکھ زیر التوا ویزوں کا معاملہ اب ختم ہوجائے گا، جس کو جہاں سے اپلائی کرنا ہے وہ آن لائن درخواست دے سکتا ہے اور ایگزٹ ویزا بھی آن لائن ہوگیا ہے۔

علاوہ ازیں انہوں نے بتایا کہ پہلا شناختی کارڈ فری ہے جبکہ 2 ہزار 180 روپے اضافی فیس کے ساتھ ایک ہی دن میں پاسپورٹ حاصل کیا جاسکے گا، تمام اضلاع میں نادرا دفتر کھولنے کا اختیار رکن قومی اسمبلی کو دیا ہے۔

وزیر داخلہ شیخ رشید نے کہا کہ الیکشن سے قبل تحفظات دور نہیں ہوئے تو ایک مرتبہ پھر شفاف الیکشن متنازع ہوجائیں گے اور صورتحال سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روس جیسا ہوگا۔

انہوں نے زور دیا کہ حکومت کے چوتھے سال میں انتخابی اصلاحات پر تمام جماعتوں کو مل کر مفاہمتی عمل مکمل کرنا چاہیے۔

امریکا کا ہواوے پر مزید پابندیاں عائد کرنے پر غور

امریکا کے فیڈرل کمیونیکشنز کمیشن (ایف سی سی) نے ہواوے سمیت مختلف چینی کمپنیوں پر نئی پابندیوں کی تجویز پیش کی ہے۔

ہواوے، زی ٹی ای اور دیگر چینی کمپنیوں پر نئی پابندیوں کا مقصد ان کی جانب سے تیار کردہ 5 جی وائرلیس اور دیگر ٹیکنالوجیز کے استعمال کو مزید محدود کرنا ہے۔

ایف سی سی نے متفقہ طور پر مجوزہ پابندیوں کو آگے بڑھانے کی منظوری دی جس کے اطلاق کی صورت میں ہواوے سمیت 5 کمپنیوں کے تیار کردہ ٹیلی کمیونیکشنز اور ویڈیو سرویلنس آلات کا استعمال مستقبل میں ممنوع ہوگا۔

ان تمام کمپنیوں کو امریکا کی جانب قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرر دیا جاتہا ہے اور اس نئی تجویز کے تحت اس وقت تمام نیٹ ورکس میں موجود ان کمپنیوں کے آلات کو نکالا جائے گا۔

ایف سی سی کی قائم مقام سربراہ جیسیکاا روزن ورسل نے ایک بیان میں کہا کہ ہم نے ناقابل اعتبار آلات اور کمپنیوں کے خلف براہ راست اقدام کی تجویز دی ہے۔

دوسری جانب ہواوے کے ایک ترجماان نے اس نئے فیصلے کو گمراہ کن اور غیرضروری قرار دیتے ہوئے کہا کہ کسی مخصوص ملک کی کمپنی یا برانڈ کے آلات کی خریداری کو بلاجواز بلاک کرنے سے امریکا کے کمیونیکشنز نیٹ ورکس یا سپلائی چینز کو کوئی تحفظ نہیں ملے گا۔

زی ٹی ای کی جانب سے فی الحال اس حوالے سے کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا۔

ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے صدر جو بائیڈن کی جانب سے ہواوے کے خلف سخت مؤقف اختیار کیا گیا ہے اور چینی کمپنی کی مشکلات میں کوئی کمی نہیں آسکی ہے۔

خیال رہے کہ امریکی حکومت نے مئی 2019 میں ہواوے کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے بلیک لسٹ کردیا تھا جس کے بعد بتدریج پابندیوں کو سخت کیا گیا۔

امریکی پابندیوں کے نتیجے میں ہواوے کی اسمارٹ فونز کی فروخت گوگل سروسز کی محرومی کے باعث بہت زیادہ متاثر ہوئی اور وہ اب دنیا کی سرفہرست اسمارٹ فون کمپنیوں میں شامل نہیں۔

ایف سی سی کی مجوزہ پابندیوں پر پہلے عوامی رائے حاصل کی جائے گی اور پھر حتمی ووٹنگ کی جائے گی۔

کرونا ویکسین کی قلت ،لاہور 50،کراچی 30،اسلام آباد 27،ملتان میں 22سنٹر بند چند سنٹر پر ویکسین دستیاب، شہریوں کی لمبی قطاریں لگی رہیں ، 20لاکھ ڈوز موجود،جہاں رش زیادہ وہاں ویکسین کی قلت ہے، حکومت کا مﺅقف

کرونا ویکسین کی قلت ،لاہور 50،کراچی 30،اسلام آباد 27،ملتان میں 22سنٹر بند چند سنٹر پر ویکسین دستیاب، شہریوں کی لمبی قطاریں لگی رہیں ، 20لاکھ ڈوز موجود،جہاں رش زیادہ وہاں ویکسین کی قلت ہے، حکومت کا مﺅقف

افغانستان سے امریکا کی واپسی کے بعد امن کا قیام صرف پاکستان کی ذمہ داری نہیں‘

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا کے بعد خطے میں قیام امن کی تمام تر ذمہ داری کا بوجھ اکیلے پاکستان کے کندھوں پر نہیں ڈالا جاسکتا۔

ترک میڈیا کو انٹرویو میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ افغانستان کی صورتحال پیچدہ ہے اور اس وقت افغانستان کے اندر طاقت کے حصول کے لیے رسا کشی جاری ہے۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا کے بعد خطے میں قیام امن کی تمام تر ذمہ داری کا بوجھ اکیلے پاکستان پر نہیں ڈالا جا سکتا۔

انہوں نے مزید کہا کہ خطے میں امن کے لیے دیگر عالمی طاقتوں کا کردار بھی شامل ہے، افغانستان اور خطے میں قیام امن کے لیے پاکستان ایک شراکت دار ہے اور تمام شراکت داروں کو باہمی تعاون سے ملکر یہ ذمہ داری نبھانا ہو گی۔

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ مسئلہ کشمیر جیسے ایشو جنوبی ایشیا میں معاشی ترقی اور استحکام کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں، بین الاقوامی برادری کو اس طرف بھی فوری توجہ دینی چاہیے۔