اسپیکر قومی اسمبلی کی کاوش رنگ لے آئیں، قانون سازی پر کمیٹی تشکیل

اسلام آباد: قومی اسمبلی کے اہم ترین سیشن میں ایک دوسرے پر الزامات کی بارش کرنے والے اراکین قومی اسمبلی بالاآخر قانون سازی کے لئے ایک پیچ پر آگئے۔

تفصیلات کے مطابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر قومی اسد قیصر کی کاوشیں رنگ لے آئیں ، قومی اسمبلی میں اپوزیشن اور حکومتی ارکان پر مشتمل پارلیمانی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔

کمیٹی کو قانون سازی سے متعلق جلد ٹی او آرز طے کرنی ہدایت کی گئی ہے جس کے بعد کمیٹی ٹی او آرز تیار کرکے جلد اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کو ارسال کرے گی۔

کمیٹی قومی اسمبلی میں قانون سازی سے متعلق اپنی سفارشات اسپیکرقومی اسمبلی کوپیش کرے گی، کمیٹی میں حکومت کی جانب سے پرویز خٹک، اسدعمر، طارق بشیرچیمہ، فہمیدہ مرزا، بابراعوان، خالد مقبول صدیقی اور خالد مگسی شامل کئے گئے ہیں جبکہ اپوزیشن کی نمائندگی شاہدخاقان عباسی، ایازصادق، راناثنااللہ، شاہدہ اختر علی،نوید قمر، شازیہ مری اور آغاحسن بلوچ کریں گے۔

یکم جولائی سے کسی ٹیکس چور کو نہیں چھوڑیں گے: وزیر خزانہ

وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا ہے یکم جولائی سے ٹیکس اقدامات پر عملدرآمد شروع ہو جائے گا، نئے بجٹ میں کسی ٹیکس چور کو نہیں چھوڑیں گے۔

اپنے ایک بیان میں شوکت ترین کا کہنا تھا کہ ماضی میں ٹیکس چور ٹیکس نوٹس نظرانداز کر دیتے تھے، اب ایف بی آر کے نوٹسز نظرانداز کرنے والوں کو نقصان ہو گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ٹیکس افسر کسی ٹیکس گزار کو ہراساں نہیں کر سکے گا، نئے بجٹ میں ٹیکس چور کے لیے کوئی رعایت نہیں ہے۔

وزیراعظم عمران خان اور بل گیٹس کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان اور مائیکرو سافٹ کے بانی بل گیٹس کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا۔

وزیراعظم عمران خان اور بل گیٹس نے پولیوکیسز میں کمی اور عوامی صحت سے متعلق دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا جب کہ عمران خان  نے بل گیٹس کو ملک میں انسداد پولیو مہم سے متعلق آگاہ کیا۔

وزیراعظم نے مائیکرو سافٹ کے بانی کو کورونا سے متعلق چیلنجز سے نمٹنے کے لیے حکومت اقدامات سے بھی آگاہ کیا جب کہ وزیراعظم نے بل گیٹس فاؤنڈیشن کی پسماندہ لوگوں کی معاشی ترقی کے اقدامات کو سراہا۔

وزیراعظم نے انسداد پولیو کیلئے بل گیٹس کے پاکستان کے ساتھ تعاون پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پولیو کا خاتمہ ہماری ترجیحات میں شامل ہے اور کورونا وبا میں بھی انسداد پولیو مہم جاری ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے کہاکہ اس سال 3 کروڑ 30 لاکھ بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے گئے۔

زرداری ق لیگ’ اے ان پی کو ملا کرنیا سیاسی اتحاد بنانے کیلئے متحرک

زرداری نے راجہ پرویز اشرف کو بلاول ہاؤس طلب کر کے پنجاب کی سیاسی شخصیات سےرابطوں کا ٹاسک دے دیا 2013ء میں دوسری پارٹیوں سے الیکشن لڑنے والی مت متعدد شخصیات نے پیپلز پارٹی میں واپسی کیلئے حامی بھری

پیپلز پارٹی پنجاب میں مستقبل میں کم بیک چاہتی ہے آصف زرداری نے ملاقات میں چودھری پرویرالٰہی سے پنجاب کے کچھ اضلاع میں ق لیگ سے تعاون منگ لیا جس میں جھنگ،گجرات،منڈی بہاولدین،قصور کے حلقے شامل ہیں

ملک میں تیل کا بحران پیدا ہونے کا خدشہ

اسلام آباد: پاکستان سٹیٹ آئل ( پی ایس او) اور پیٹرولیم ڈویژن کے درمیان غلط فہمیاں پیداہونے

کی وجہ سے ملکمیں تیل کا بحران پیدا ہونے کا خدشہ ہے ۔

 تفصیلات کے مطابق آئل ریفائنریاں اورپاکستان سٹیٹ آئل ( پی ایس او) مناسب مقدار میں تیل درآمد کے سودے نہ کر سکیں۔ آئل ریفائنریوں کے پاس وافر مقدار میں فرنس آئل کا ذخیرہ موجود ہے۔ تیل کے نئے سودے نہ ہو سکے، پی ایس او نے پیٹرولیم کو مطلع کر دیا ہے ۔

پیٹرولیم ڈویژن نے ممکنہ طلب اطلاع نہیں دی ہے ۔پی ایس ترجمان کا مزید کہناتھا کہ آنے والے دنوں میں  مطلوبہ مقدار میں تیل کی درآمد کے سودے نہ ہو سکے ہیں ۔ فرنس آئل کی کھپت نہ ہونے کے باعث ریفائنریوں نے نئے معاہدے نہ کیے۔

چین کے دوشہروں کے درمیان کوانٹم ڈیٹا رابطے کا کامیاب تجربہ

بیجنگ: 

چین کے سائنسدانوں نے دو شہروں کے درمیان انتہائی محفوظ کوانٹم رابطے کا کامیاب تجربہ کیا گیا ہے ۔ یہ دونوں شہر ایک دوسرے سے 511 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہیں۔ تاہم اس کے درمیان ایک روایتی ریلے سسٹم موجود تھا۔ تاہم آگے چل کر یہ ایک محفوظ کوانٹم نیٹ ورک کی صورت اختیار کرسکتا ہے۔

اس عمل کو کوانٹم میکانیات کی ایک خاصیت یعنی کوانٹم الجھاؤ (اینٹینگلمنٹ) کی بدولت انجام دیا گیا ہے۔ اس میں دو ذرات فاصلے پر رہتے ہوئے بھی ایک دوسرے پر اثرانداز ہوتے ہیں یعنی جب ایک ذرے کی کیفیت معلوم کرلی جاتی ہے تو دوسرے ذرے کے خواص کا پتا چلانا آسان ہوجاتا ہے۔

تجربے میں جب روشنی کے دو ذرات یعنی فوٹون کو کوانٹم الجھاؤ سے گزارا جاتا ہے تو کوانٹم انکرپشن یعنی کوانٹم خفیہ سازی کا عمل واقع ہوتا ہے۔ اس طرح انتہائی خفیہ اور محفوظ معلومات طویل فاصلے تک بھیجی جاسکتی ہیں۔ اس ضمن میں کئی ماہ قبل چینی ماہرین دو ڈرون سے سادہ کوانٹم معلومات کا تبادلہ کراچکے ہیں۔

اس طرح کوانٹم سطح پر محفوظ ’کیز‘ وضع کی جاسکتی ہیں۔ اب یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے سائنسدانوں نے ایک کیبل کی بدولت طویل فاصلے تک کوانٹم رابطے کا تجربہ کیا ہے۔ اس میں درمیان میں کئی مراحل ہیں لیکن وہ ڈیٹا کو نہیں پڑھتے اور نہ ہی راز فاش کرتے ہیں۔

فائبر آپٹک تار کے دونوں جانب لیزرسے فوٹون بھیجے گئے۔ ان ذرات کی کیفیات(فیز) رینڈم تھے یعنی ان کی موجی حرکات میں نشیب بھی تھے اور فراز بھی۔ جب درمیانی راہ میں ایک فوٹون کا جوڑا اپنے سے یکساں فیز کے ذرات سے ملا تو سسٹم نے فوری طور پر بھیجنے اور وصول کرنے والے کو روایتی ڈیٹا لنک سے خبردار کیا۔

چونکہ ہر کنارے سے معلوم ہوجاتا ہے کہ کیا بھیجا گیا ہے اور کیا وصول کیا جارہا ہے یا ایک ذرہ دوسرے سے میچ کررہا ہے یا نہیں ، تو ماہرین اس عمل سے کوانٹم کی کا تبادلہ کرسکتے ہیں۔ اب اس کی کے ذریعے ڈیٹا کو خفیہ کیا جاسکتا ہے خواہ اسے روایتی نیٹ ورک سے ہی کیوں نہ بھیجا گیا ہو۔ اس دوران درمیان میں سے کوئی بھی ڈیٹا شناخت نہیں کرسکتا ۔

حال ہی میں کیمبرج میں توشیبا یورپ نے بھی عین اسی ٹیکنالوجی سے 600 کلومیٹر فاصلے پر کوانٹم معلومات کا تبادلہ کیا ہے لیکن سارا سامان ایک ہی جگہ رکھا گیا تھا۔ تاہم چینی ٹٰیم نے حقیقی طور پر دو شہروں کے درمیان 511 کلومیٹر دور کوانٹم معلومات کا تبادلہ کیا ہے ۔ اس کے لیے جینان اور چنگ ڈاؤ کا انتخاب کیا گیا ہے جبکہ مرکزی ریسور مزان شہر میں نصب تھا۔

تاہم کیمبرج تجربے کے ماہرین نے چینی کاوش کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس دوران کوانٹم تبادلے میں درجہ حرارت اور دیگر بیرونی عوامل کے باوجود سینکڑوں کلومیٹر دور معلومات کا تبادلہ کرانا بہت اہم کارنامہ ہے۔

قومی ائیر لائن کا کم ایندھن والے 4 نئے جدید طیارے خریدنے کا فیصلہ

کراچی:قومی ائیر لائن نے ہوائی بیڑے میں جدید کم ایندھن خرچ کر نے والے 4 نئے طیارے شامل کرنے کا فیصلہ کر لیا ۔

تفصیلات کے مطابق قومی ایئرلائن پی آئی اے نے کم ایندھن والے چار نئے جدید طیار ے خریدنے کا فیصلہ کر لیا، پی آئی اے  کی جانب سے  نیرو باڈی کے4 نئے جہاز 6 سال کیلئے ڈرائی لیز پر لیے جائیں گے۔ جولائی کے وسط میں پہلا ایئر بس 320 پی آئی اے فلیٹ میں شامل ہوجائےگا  ، دوسراطیارہ اگست میں بیڑے میں شامل ہوگا جبکہ مزید 2طیارے اکتوبر اور دسمبر تک پی آئی اے کو مل جائیں گے۔

 پی آئی اے انتظامیہ  کے مطابق پی آئی اے کاروبار کی ضروریات کے مطابق نئے طیارے حاصل کررہی ہےجبکہ  پی آئی اے بزنس پلان میں 8 سے زائد طیارے شامل کر نے کی منصوبہ بندی ہے ۔ پی آئی اے کے ہوائی  بیڑے میں بوئینگ 777طیارہ بھی شامل کئے جائیں گے ۔

آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس: خواجہ آصف کی درخواستِ ضمانت منظور

لاہور ہائیکورٹ نے آمدن سے زائد اثاثوں اور منی لانڈرنگ کیس میں مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ آصف کی درخواست ضمانت منظور کرلی اور ضمانتی مچلکے جمع کروانے پر انہیں جیل سے رہا کرنے کا حکم دے دیا۔

جسٹس عالیہ نیلم کی سربراہی میں جسٹس شہباز رضوی پر مشتمل لاہور ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ نے خواجہ آصف کی درخواست ضمانت پر سماعت کی۔

گزشتہ سماعت میں خواجہ آصف کے وکیل اپنے دلائل مکمل کرچکے تھے اور آج کی سماعت میں قومی احتساب بیورو (نیب) کے وکیل فیصل بخاری نے دلائل مکمل کیے۔

نیب کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ یکم مارچ 2018 کو عثمان ڈار نے خواجہ آصف کے خلاف نیب کو درخواست دی، 4 ستمبر کو انکوائری شروع ہوئی اور پھر انکوائری راولپنڈی سے لاہور منتقل ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ 29 دسمبر کو خواجہ آصف کو اسلام آباد سے گرفتار کیا گیا تھا ان کے خلاف انکوائری کو انوسٹی گیشن میں تبدیل کر دیا گیا۔

نیب کے وکیل کا کہنا تھا کہ 1991 میں خواجہ آصف پہلی مرتبہ سینیٹر منتنخب ہوئے، 1993 میں خواجہ آصف کے اثاثے 51 لاکھ روپے کے تھے اور 1993 سے 2018 تک خواجہ آصف ایم این اے بنتے رہے۔

انہوں نے کہا کہ خواجہ آصف کو لوکل بزنس سے 5 کروڑ روپے کے لگ بھگ آمدن ہوئی، مجموعی طور پر انہیں تقریباً 33 کروڑ 30 لاکھ روپے کی آمدن ہوئی۔

نیب وکیل نے کہا کہ خواجہ آصف نے 15 کروڑ 70 لاکھ روپے کی سرمایہ کاری کی اور ان کے مجموعی اخراجات 45 کروڑ 40 لاکھ روپے ہیں۔

وکیل نیب نے کہا کہ خواجہ آصف کا بیلنس منفی آرہا ہے، دبئی سے پیسہ خواجہ آصف کے پاس آیا، اس کی منی ٹریل نہیں دی گئی انہیں تنخواہ کی مد میں پیسہ ملا یا ان کی کوئی پارٹنر شپ تھی یہ بھی نیب کو نہیں بتایا گیا جبکہ ان کے اکاؤنٹ میں آنے والے 8 کروڑ روپے کا ماخذ بھی نہیں بتایا گیا۔

جسٹس عالیہ نیلم نے استفسار کیا کہ خواجہ آصف کے اکاؤنٹ میں ڈالر میں رقم آتی تھی یا پاکستانی روپوں میں؟

جس پر نیب کے وکیل نے کہا کہ خواجہ آصف کو بیرون ملک سے ڈالرز میں رقم آتی رہی بعد میں اسے پاکستانی روپوں میں تبدیل کرایا جاتا تھا، ایف آئی اے نے خواجہ آصف کے خلاف صرف اقامہ کی تحقیقات کیں۔

جسٹس عالیہ نیلم نے مزید استفسار کیا کہ سیلری کا معاملہ ایف آئی اے کے پاس بھی آیا تھا کیا وہی نیب پوچھ رہا ہے جس پر نیب کے وکیل نے کہا کہ ایف آئی اے کے پاس صرف اقامہ کی سیلری کا معاملہ آیا تھا جبکہ نیب نے خواجہ آصف سے آمدن سے زائد اثاثوں سے متعلق تحقیقات کیں۔

عدالت نے نیب وکیل سے دریافت کیا کہ خواجہ آصف نے اپنے اختیارات کا کیا غلط استعمال کیا؟ اور نیب کے پاس اس کا کیا ثبوت ہے؟

جس پر نیب وکیل بولے کہ خواجہ آصف کے خلاف نیب کا کیس کک بیکس اور کرپشن کا نہیں بلکہ آمدن سے زائد اثاثوں کا ہے خواجہ آصف کا 23 کروڑ روپے کا منفی بیلنس تھا جو کم ہوکر 15 کروڑ روپے رہ گیا ہے۔

عدالت نے استفسار کیا کہ جو منفی بیلنس کم ہوا ہے کیا نیب نے اپنی رپورٹ میں یہ بات درج کی؟ جس پر نیب وکیل نے کہا کہ رپورٹ میں یہ بات نہیں لکھی لیکن نیب کے پاس ساری دستاویزات موجود ہیں۔

جسٹس عالیہ نیلم نے کہا کہ نیب کے 2 جوابات میں مختلف مؤقف سامنے آیا ہے، آپ کو بتانا ہو گا کہ خواجہ آصف نے کتنی کتنی رقم اکاؤنٹس میں جمع کروائی، اس وقت ہمارے سامنے نیب کے 2 جواب ہیں جو ایک دوسرے سے متضاد ہیں۔

نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ ایسا ہرگز نہیں ہے، پہلے جواب میں 23 کروڑ روپے کا منفی بیلنس تھا دوسرے میں منفی بیلنس 15 کروڑ روپے کردیا گیا جس پر عدالت نے سوال کیا کہ آپ نے مخلتف رپورٹس میں وقت اور دورانیہ کیوں تبدیل کیا؟ جس کا نیب کے وکیل نے جواب دیا کہ یہ تو نیب کی نیک نیتی ہے کہ خواجہ آصف کی متنازع رقم میں کمی کی۔

عدالت نے کہا کہ رپورٹ میں بتایا گیا کہ انوسٹی گیشن جاری ہے، نیب کے تفتیشی افسر نے بیان دیا کہ ریفرنس حتمی منظور کے لیے چیئرمین نیب کو بھجوایا گیا ہے، یہ سب کیا ہے کوئی ایک بات کریں۔

اس دوران خواجہ آصف کے وکیل نے خواجہ آصف کا اقامہ عدالت میں پیش کیا۔

نیب کے وکیل نے کہا کہ بیرون ملک کمپنی سے خواجہ آصف کو 9 ہزار درہم ملتے تھے وہ جس کمپنی سے تنخواہ لیتے تھے ان کو لکھا ہے لیکن کمپنی نے تحقیقات میں شمولیت اختیار نہیں کی اور جواب دیا کہ وہ کسی عدالتی فورم پر جواب دیں گے۔

خواجہ آصف کے وکیل نے بتایا کہ ان کی دبئی کی کمپنی میں 8 کروڑ 70 لاکھ روپے تنخواہ تھی جس پر نیب وکیل نے کہا کہ یہ ساری معلومات نیب خواجہ آصف سے مانگتا رہا لیکن خواجہ آصف نے فراہم نہیں کیں۔

جسٹس عالیہ نیلم نے کہا کہ تھوڑی آنکھیں تو کھولیں خواجہ آصف کے اقامہ میں یہ سب کچھ لکھا ہوا ہے، دستاویزات میں سب درج ہے کہ کس ماہ کتنی سیلری آئی۔

وکیل نیب کا کہنا تھا کہ سال 2004 سے 2011 تک خواجہ آصف نے اپنی انکم ڈکلیر نہیں کی، جس پر عدالت نے ان سے استفسار کیا کہ آپ اقامے کو مانتے ہیں لیکن اس کی شرائط کو نہیں مانتے کیا ایسا ہی ہے؟

نیب وکیل نے کہا کہ ہم تو اقامے کو بھی نہیں مانتے یہ کہیں سے بھی تصدیق شدہ نہیں ہے جس پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ عدالت نے اقامے کی تصدیق کرا لی ہے۔

وکیل نیب نے مزید کہا کہ خواجہ آصف کے خلاف 161 کے بیانات بھی ریکارڈ پر موجود ہیں، انہوں نے بیرون ملک زن ریسٹورنٹ میں 25 ہزار ڈالر کی انوسٹمنٹ کی، وہ انوسٹمنٹ کہاں سے آئی خواجہ آصف نے کچھ نہیں بتایا۔

بعدازاں لاہور ہائی کورٹ خواجہ آصف کی درخواست ضمانت پر فیصلہ سناتے ہوئے ان کی ضمانت منظور کرلی اور مچلکے جمع کروانے پر جیل سے رہا کرنے کا حکم دے دیا۔

خواجہ آصف کی گرفتاری

مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ آصف کو قومی احتساب بیورو نے 29 دسمبر 2020 کی رات گرفتار کیا تھا اور اگلے ہی روز راولپنڈی کی احتساب عدالت میں پیش کر کے ان کا ایک روزہ راہداری ریمانڈ حاصل کرنے کے بعد انہیں نیب لاہور منتقل کردیا تھا۔

نیب کی جانب سے جاری کردہ خواجہ آصف کی تفصیلی چارج شیٹ کے مطابق وہ نیب آرڈیننس 1999 کی شق 4 اور اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ 2010 کی دفعہ 3 کے تحت رہنما مسلم لیگ (ن) کے خلاف تفتیش کررہے تھے۔

اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ عوامی عہدہ رکھنے سے قبل 1991 میں خواجہ آصف کے مجموعی اثاثہ جات 51 لاکھ روپے پر مشتمل تھے تاہم 2018 تک مختلف عہدوں پر رہنے کے بعد ان کے اثاثہ جات 22 کروڑ 10 لاکھ روپے تک پہنچ گئے جو ان کی ظاہری آمدن سے مطابقت نہیں رکھتے۔

انہوں نے کہا کہ خواجہ آصف نے یو اے ای کی ایک فرم بنام M/S IMECO میں ملازمت سے 13 کروڑ روپے حاصل کرنے کا دعوی کیا تاہم دوران تفتیش وہ بطور تنخواہ اس رقم کے حصول کا کوئی بھی ٹھوس ثبوت پیش نہ کر سکے، اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ملزم نے جعلی ذرائع آمدن سے اپنی حاصل شدہ رقم کو ثابت کرنا چاہا۔

احتساب کے ادارے کے مطابق ملزم خواجہ آصف اپنے ملازم طارق میر کے نام پر ایک بے نامی کمپنی بنام ’طارق میر اینڈ کمپنی‘ بھی چلا رہے ہیں جس کے بینک اکاؤنٹ میں 40 کروڑ کی خطیر رقم جمع کروائی گئی، اگرچہ اس رقم کے کوئی خاطر خواہ ذرائع بھی ثابت نہیں کیے گئے۔

نیب نے کہا کہ نیب انکوائری کا مقصد یہ معلوم کرنا تھا کہ کیا خواجہ آصف کی ظاہر کردہ بیرونی آمدن آیا درست ہے یا نہیں اور انکوائری میں ظاہر ہوا کہ مبینہ بیرون ملک ملازمت کے دورانیہ میں ملزم خواجہ آصف پاکستان میں ہی تھے جبکہ بیرون ملک ملازمت کے کاغذات محض جعلی ذرائع آمدن بتانے کے لیے ہی ظاہر کیے گئے۔

میرے لئے بطور کپتان ٹیم کا فائنل میں پہنچنا اعزاز کی بات ہے ، وہاب ریاض

پشاور زلمی کے کپتان وہاب ریاض نے کہا کہ میرے لئے بطور کپتان ٹیم کا فائنل میں پہنچنا اعزاز کی بات ہے۔

تفصیلات کے مطابق پشاور زلمی کے کپتان وہاب ریاض نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے  کہا کہ زازائی جس طرح پرفارم کر رہا ہے ٹیم کے لئے بہت فائدہ مند ہے۔

انہوں نے کہا کہ کوشش کریں گے پلے آف کی طرح فائنل میں بھی جیت حاصل کریں ، پشاور زلمی کی جیت میں پوری ٹیم نے کردار ادا کیا ، محمد اکرم اور ڈیرن سیمی نے ٹیم کا مورال بلند رکھا ، بطور کپتان ذمہ داری نبھاتے ہوئے پریشانی ضرور ہوتی ہے۔

پشاور زلمی کے کپتان نے کہا کہ ٹیم بناتے ہوئے کمبینیشن کو مدنظر رکھتے ہیں ، اپنی پرفارمنس سے مطمئین ہوں، قومی ٹیم میں سلیکٹ کرنا سلیکٹرز کا کام ہے ، میرا دل ہمیشہ پاکستان ٹیم میں کھیلنے کے لئے دھڑکتا ہے ، حیدر علی آوٹ فارم ضرور ہیں لیکن وہ میچ ونر کھلاڑی ہے۔

وہاب ریاض نے کہا کہ جب سے پی ایس ایل کھیل رہا ہوں نمبر ون بولر نہیں بن سکا ، کوشش کروں گا فائنل میں آوٹ کر کے لیگ کا نمبر ون بولر بنوں ، ہار جیت کھیل کا حصہ ہے، کوشش کریں گے اچھی کرکٹ کھیلیں ، میچز جیتنے کے لئے تمام شعبوں میں ڈسپلن رہنا پڑتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ انضمام الحق کا ٹیم کے ساتھ ہونا بہت فائدہ مند ثابت ہوا ، شعیب ملک کی وجہ سے مجھے ہمیشہ بہت فائدہ ہوا ، شعیب ملک جیسے پلئیر کا مڈل آرڈر میں ہونا ٹیم کے لئے فائدہ مند ہے۔

وزیراعظم نے سیکیورٹی معاملات سے متعلق خصوصی کمیٹی تشکیل دے دی

اسلام آباد : وزیراعظم  عمران خان نےسیکیورٹی معاملات سے متعلق خصوصی کمیٹی تشکیل دے دی ، کمیٹی میں وزیر داخلہ شیخ رشید ،وزیر اطلاعات فواد چوہدری بھی شامل ہوں گے۔

تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی آئی ایس آئی ہیڈ کوارٹرز کا دورہ کیا ، اس موقع پر ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید نےوزیراعظم کا استقبال کیا۔

وزیراعظم کی زیرصدارت آئی ایس آئی ہیڈکوارٹرز میں اعلیٰ سطح اجلاس ہوا، اجلاس میں مسلح افواج کےسربراہان ، انٹیلی جنس ایجنسی کے سربراہان سمیت سینئر وفاقی وزرا فوادچوہدری اور شیخ رشید بھی شریک ہوئے جبکہ انٹیلی جنس بیورو اور ایف آئی اے حکام بھی اجلاس میں موجود تھے۔

جلاس میں اندرونی اور بیرونی سیکیورٹی صورتحال سمیت افغان امن عمل اور انٹیلی جنس کوآپریشن بڑھانے پر بریفنگ دی گئی، وزیراعظم نے نیشنل انٹیلی جنس کوآرڈینیشن کی کارکردگی پر اظہار اطمینان کیا۔

ذرائع کے مطابق وزیراعظم نےسیکیورٹی معاملات سے متعلق خصوصی کمیٹی تشکیل دے دی ، کمیٹی میں وزیر داخلہ شیخ رشید ،وزیر اطلاعات فواد چوہدری اور انون نافذ کرنے والے اداروں کے نمائندے بھی شامل ہوں گے۔

خصوصی کمیٹی کے زریعے سیکیورٹی ، سلامتی سے متعلق امور میں کوآرڈینیشن مزید مضبوط کی جائے گی۔

وزیراعلیٰ پنجاب کا جوہر ٹاؤن میں دھماکے کی شدید مزمت

وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے جوہر ٹاؤن کے علاقے میں دھماکے کی شدید مزمت کی۔

تفصیلات کے مطابق وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے جاں بحق افراد کے لواحقین سے دلی ہمدردی اور اظہار تعزیت کی اور انہوں نے دھماکے میں 2 افراد کے جا ں بحق ہونے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار بھی کیا۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ پنجاب حکومت جاں بحق افراد کے لواحقین کے دکھ میں برابر کی شریک ہے، ہماری تمام تر ہمدردیاں جاں بحق افراد کے لواحقین اور زخمیوں کے ساتھ ہیں۔

عثمان بزدار نے مزید کہا کہ یہ واقعہ امن و امان کی فضا کو سبوتاژ کرنے کی مزموم کارروائی ہے، دھماکے کے ذمہ دار قانون کی گرفت سے نہیں بچ پائیں گے۔

وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے مزید یہ بھی کہا کہ مٹھی بھر دہشت گرد قوم کے پختہ عزم کو متزلزل نہیں کر سکتے، ملک دشمن عناصر ایسی بزدلانہ کارروائیاں کر کے عدم و استحکام پیدا کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔