برطانوی عدالت نے پولیس افسر پر خاتون کے اغوا اور زیادتی کے الزام میں فرد جرم عائد کردی۔
برطانوی میڈیا کے مطابق برطانوی پولیس افسر وین کوزنز نے سارہ ایوررڈ کے اغوا اور زیادتی کا اعتراف کیا ہے جس کے بعد لندن کی عدالت نے اس پر فرد جرم عائد کردی ہے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق 33 سالہ سارہ کو مارچ میں گھر جاتے ہوئےکلپہم کے علاقے سے اغوا کیا گیا تھا جس کے بعد اس کی لاش ایک ہفتہ بعد کینٹ کے علاقے ایشفورڈ سے ملی تھی۔
بعد ازاں واقعے کی تحقیقات میں48 سالہ پولیس افسر وین کوزنزکو گرفتارکیا گیا جس کے بعد برطانیہ میں بڑے پیمانے پر احتجاج بھی کیا گیا۔
رپورٹس کے مطابق ملزم پر قتل کا بھی الزام ہے تاہم اس حوالے سے مقتولہ کی مزید میڈیکل رپورٹس کا انتظار ہے۔
اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ حکمرانوں کی کرپشن ملکی تباہی کا سبب ہے، بدقسمتی سے ہر جگہ مافیاز بیٹھے ہیں، کسانوں کا معیار زندگی بلند کرنا اولین ترجیح ہے،زرعی اصلاحات کیلئے تمام وسائل بروئے کار لارہے ہیں۔
وزیر اعظم ہاؤس میں کسانوں نے وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی، ملاقات کے دوران کسانوں اور کاشتکاروں نے اپنی مشکلات اور پریشانیوں سے آگاہ کیا۔
مسائل سننے کے بعد گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ کسی لابی کا حصہ ہوں نہ ہی میرے کاروباری مفادات ہیں، میں جدوجہد کر کے اس لیے آیا کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ اللہ نے اس ملک کو ہر طرح کی نعمتوں سے بخشا ہے۔ ہم جب بڑے ہو رہے تھے تو ہم نے اس ملک کو اوپر جاتے دیکھا اور پھر واپس نیچے آتے دیکھا کیونکہ اس ملک میں ناانصافی ہے، جو قوم اللہ کی زمین پر انصاف کرے گی وہ ترقی کرے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم نے اقتدار آتے ہی دیکھا کہ چینی کی قیمت بڑھ رہی ہے لیکن کسانوں کو پیسے نہیں مل رہے، کسانوں کو طے شدہ قیمت بھی نہیں مل رہی تھی اور اس صنعت میں پورا مافیا بیٹھ گیا تھا جو مہنگی چینی بھی بھیجتا تھا کسانوں کو بھی پیسے نہیں دیتا تھا اور منافع بھی ظاہر نہ کر کے ٹیکس بھی نہیں دیتا تھا، بدقسمتی سے اور بھی جگہ مافیا بیٹھا ہوا ہے جو کرپٹ نظام سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ میری جدوجہد حکمرانوں کی کرپشن کے خلاف تھی کیونکہ حکمرانوں کی کرپشن ملک کو تباہ کر دیتی ہے، تیسری دنیا یا ترقی پذیر ممالک کے حکمران پیسہ چوری کر کے ملک سے باہر لے کر جاتے ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ شوگر ملز ایسوسی ایشن اتنی طاقتور تھی کہ جب ابتدا میں ایف آئی اے نے تحقیقات شروع کی تو انہوں نے دھمکی دی کہ اگر تفتیش کرو گے تو ہم چینی غائب کردیں گے اور قیمت مزید اوپر چلی جائے گی، یہ کام بہت مشکل تھا کیونکہ سب طاقتور ایک ہی قطار میں بیٹھے ہیں جو مختلف جماعتوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ کم مدت میں زرعی شعبہ انتہائی تیزی سے ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتا ہے، ابھی اس سلسلے میں ہم نے اتنا کیا ہے کہ کسانوں کو گنے کا پیسہ بروقت اور پورا ملا، ہم نے قانون بنا کر شوگر مل سے کسانوں صحیح وقت پر قیمت دلا دی، اس سے کسانوں اور دیہات میں جو خوشحالی آئی وہ صاف نظر آئی اور ریکارڈ پیداوار ہوئی اور کپاس کے سوا تمام فصلوں نے بہت اچھا کیا۔
انہوں نے کسانوں کو یقین دہانی کرائی کہ اب ہم نے یہاں پر رکنا نہیں ہے بلکہ آگے جانا ہے ، آپ سے مسلسل ملاقاتیں کرتے رہیں گے اور فخر زمان اور جمشید پورے پاکستان میں کسانوں سے ملاقاتیں کر کے ان کے مسائل معلوم کریں گے۔ دنیا بہت ترقی کر چکی ہے، ترقی یافتہ ممالک میں گائے یہاں کے مقابلے میں پانچ سے چھ گنا زیادہ دودھ دیتی ہے، ہم چین کے تعاون سے آپ کو ان کی مختلف تکنیک سے روشناس کرائیں گے تاکہ آپ ہمیں بتا سکیں کہ آپ کس طرح کی اشیا کی مدد درکار ہے۔
عمران خان نے کہا کہ ہمارے بڑے پیمانے کی صنعت میں بھی بہت اچھی پیداوار ہوئی ہے، انڈسٹری پاکستان کے لیے بہت ضروری ہے اور اس کے بغیر ہم قرضے واپس نہیں کر سکتے، ہم ان کی بھی پوری کرنا چاہتے ہیں لیکن منافع اور ناجائز منافع میں فرق ہے، منافع ضرور بڑھائیں لیکن معاشرے میں ٹیکس ادا کر کے اپنے کردار ادا کریں لیکن یہ نہ کریں کہ گٹھ جوڑ کر کے مصنوعی طریقے سے قیمتیں بڑھائیں اور ہماری حکومت پرعزم ہے کہ آپ کا کسی بھی قسم کا استحصال نہیں ہونے دیں گے۔
وزیر اعظم نے مہنگی بجلی کی وجہ پچھلی حکومتوں کی جانب سے کیے گئے معاہدوں کو قررا دیتے ہوئے کہا کہ اگر ہم قیمتیں نہیں بڑھاتے تو گردشی قرضے بڑھ جاتے ہیں اور قیمت میں اضافہ کرتے ہیں تو صنعت اور کسان شور مچاتے ہیں، اس کا حل یہ ہے کہ ہم ٹیوب ویل شمسی توانائی پر چلانے ککے بارے میں سوچ رہے ہیں کیونکہ اب شمسی مصنوعات کی قیمتیں تیزی سے نیچے آتی جا رہی ہیں۔
اسلام آباد: وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ کینیڈا میں پاکستانی نژاد خاندان کا قتل اسلاموفوبیا اور دہشتگردی کی واضح مثال ہے۔ اسلاموفوبیا کے حوالے سے عالمی سطح پر موثر اقدامات کرنے کی اشد ضرورت ہے۔
یہ بات انہوں نے پاکستان میں تعینات کینیڈین ہائی کمشنر وینڈی گلمور سے بات چیت کرتے ہوئے کہی جنہوں نے منگل کو وزارتِ خارجہ میں ان سے ملاقات کی۔
ملاقات کے دوران کینیڈا میں پاکستانی نژاد خاندان کے ساتھ پیش آنے والے المناک واقعے، اسلاموفوبیا کے بڑھتے ہوئے رجحان سمیت باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ ءخیال کیا گیا۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ کینیڈا میں پاکستانی نژاد فیملی کے ساتھ پیش آنے والا المناک واقعہ پر بہت رنجیدہ ہیں اور پاکستانی نژاد خاندان کا قتل اسلاموفوبیا اور دہشتگردی کی واضح مثال ہے۔
شاہ محمود قریشی نے کینیڈین وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو کے مثبت ردعمل کا خیر مقدم کیا اور کہا کہ مغرب میں مسلمانوں کے خلاف بڑھتی ہوئے نفرت آمیز واقعات، اسلاموفوبیا کی موجودگی کا ثبوت ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان اور میں بطور وزیر خارجہ بین الاقوامی سطح پر اسلاموفوبیا کے بڑھتے ہوئے رجحان کے خلاف آواز اٹھاتے آ رہے ہیں۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ اسلاموفوبیا کے حوالے سے عالمی سطح پر موثر اقدامات کرنے کی اشد ضرورت ہے۔کینیڈین ہائی کمشنر نے اس المناک واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے، کینیڈین حکومت کی جانب سے، اس واقعہ میں مکمل تحقیقات اور ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی کی یقین دہانی کروائی۔
کینیڈین ہائی کمشنر نے وزیر خارجہ کو اس افسوس ناک واقعہ کے بعد وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو اور روب فورڈ آف اونٹوریو کے مذمتی بیانات سے بھی آگاہ کیا۔
کینیڈا کے جنوبی صوبہ اونٹاریو میں ایک شخص نے پک اپ ٹرک ایک مسلمان خاندان پر چڑھا دیا جس کے نتیجے میں 4 افراد جاں بحق ہوگئے، پولیس نے واقعے کو ‘سوچا سمجھا’ حملہ قرار دیا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں اداروں کی رپورٹس کے مطابق ایک عہدیدار نے بتایا کہ 20 سالہ ملزم، جس نے ‘زرہ’ کی طرح کی کوئی چیز پہنی ہوئی تھی، حملے کے بعد موقع سے فرار ہوگیا اور جسے بعد ازاں جائے وقوع سے 7 کلومیٹر دور اونٹاریو کے شہر لندن کے ایک مال سے گرفتار کیا گیا۔
بعد ازاں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے عہدیدار نے کہا کہ ‘اس بات کے شواہد موجود ہیں کہ یہ منصوبہ بندی کے ساتھ سوچا سمجھا حملہ تھا جس کی وجہ نفرت تھی، حملے میں افراد کو اس لیے نشانہ بنایا گیا کیوں کہ وہ مسلمان تھے’۔
متاثرہ افراد کے نام جاری نہیں کیے گئے البتہ لندن شہر کے میئر ایڈ ہولڈر نے بتایا گیا کہ ان میں ایک 74 سالہ خاتون، ایک 46 سالہ مرد، 44 سالہ خاتون اور ایک 15 سال کی لڑکی شامل ہے جو ایک ہی خاندان کی 3 نسلیں تھیں’۔
حملے کے بعد ایک 9 سالہ بچے کو بھی ہسپتال میں داخل کروایا گیا جہاں اب وہ صحتیاب ہو رہا ہے۔
میئر ہولڈر کا کہنا تھا کہ ‘میں یہ واضح کردوں کہ یہ مسلمانوں کے خلاف بڑے پیمانے پر قتل و غارت گری تھی جس کی جڑیں ناقابل بیان نفرت میں تھیں’۔
حملہ آور کی شناخت نیتھانیئل ویلٹمین کے نام سے ہوئی جس پر 4 افراد کے قتل اور ایک قتل کی کوشش کا الزام عائد کیا گیا ہے، پولیس کے مطابق حملہ آور متاثرہ افراد کو نہیں جانتا تھا۔
پولیس نے یہ بھی بتایا کہ حکام ‘ممکنہ دہشت گردی’ کی فرد جرم عائد کرنے کے لیے وفاقی پولیس اور اٹارنی جنرل کے ساتھ رابطے میں ہیں۔
انہوں نے تفتیش کی مختصر سی تفصیل فراہم کی اور کہا کہ پولیس نے ملزم کی سوشل میڈیا پر پوسٹنگ کا جائزہ لیا ہے۔
عہدیدار نے بتایا کہ پولیس کو ابھی یہ معلوم نہیں کہ ملزم کسی گروپ کا حصہ تھا یا نہیں اور اس کی جانب سے ممکنہ نفرت پر مبنی حملے کی نشاندہی کرنے والے ثبوت کی تفصیلات دینے سے بھی انکار کردیا گیا، البتہ یہ کہا کہ حملہ منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا۔
دوسری جانب وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے کہا کہ وہ اس حملے سے ‘خوفزدہ’ ہیں، انہوں نے کہا کہ ان لوگوں کے پیاروں کے لیے جو کل کی نفرت انگیز عمل سے دہشت زدہ ہیں، ہم آپ کے لیے حاضر ہیں۔
کینیڈین وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ لندن اور ملک بھر کی مسلم برادری جانتی ہے کہ ہم آپ کے ساتھ کھڑے ہوئے ہیں، ہماری کسی بھی برادری میں اسلاموفوبیا کی گنجائش نہیں ہے، یہ نفرت حقیر ہے اسے روکنا ہوگا۔
دوسری جانب لندن کے میئر نے شہر میں پرچم 3 روز تک سرنگوں رکھنے کا اعلان کیا جہاں 4 لاکھ افراد کی آبادی میں 30 سے 40 ہزار مسلمان مقیم ہیں۔
وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے کہا کہ اگلے مال سال میں پی ایس ڈی پی منصوبوں کے لیے مجموعی طور 2.1 کھرب روپے کا تخمینہ لگایا گیا ہے، جس میں ملک بھر میں منصوبے شامل ہیں۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی اسد عمر نے پی ایس ڈی پی میں شامل منصوبوں سے متعلق تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ اگلے سال قومی ترقیاتی اخراجات کا تخمینہ 2ہزار 102 ارب روپے (2.1 کھرب روپے) ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ رقم گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 36.4 فیصد زیادہ ہے اور یہ منصوبے ابھی جاری ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اس میں اچھی بات یہ ہے کہ وفاق کے منصوبوں میں اضافہ ہو رہا ہے اسی طرح خیبر پختونخوا کے علاوہ دیگر تمام صوبوں میں خاطر خواہ اضافہ نظر آرہا ہے، کےپی نے گزشتہ مالی سال میں ترقیاتی اخراجات زیادہ کیے تھے۔
اسد عمر نے کہا کہ اگلے سال شرح نمو 4.8 فیصد سے زیادہ ہوسکتی ہے، اس کی ایک وجہ ترقیاتی اخراجات میں خاطر خواہ اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ صرف پیسہ زیادہ خرچ کرنے کی بات نہیں ہے، ایک وزیراعظم عمران خان کا وژن ہے اور دوسرا پاکستان تحریک انصاف کا منشور ہے اور ہم طویل عرصے سے کچھ ترجیحات کی بات کرتے آئے ہیں اور یہ منصوبہ انہی ترجیحات کے مطابق ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ 5 سال قبل 56 فیصد بجلی اور سڑکوں کے منصوبوں پر خرچ کیا جارہا تھا، وہ حصہ 2021-22 میں 40 فیصد پر آرہا ہے، مواصلات کے شعبے میں ترقیاتی کام کم نہیں ہور ہا ہے لیکن پی ایس ڈی پی کے اندر ایلوکیشنز کم ہو رہی ہیں۔
اسلام آباد: کورونا ویکسین فائزرز کے حوالے سے این سی او سی نے گائیڈ لائنز جاری کر دیں، جس کے مطابق فائزرز ویکسین 18 سال اور زائد عمر کے افراد کو لگائی جاسکتی ہے۔
نینشل کمانڈ اینڈ کنٹرول سنٹر کی گائیڈ لائنز کے مطابق پاکستان میں فائزر ویکسین کی محدود مقدار ہی دستیاب ہے، فائزر کورونا کے ہائی رسک بیمار مریضوں کو لگائی جائے، فائزر ویکیسن عازمین حج، سٹڈی اور ورک ویزہ کے حامل افراد کو لگائی جائے گی، ویکسین حاملہ اور دودھ پلانے والی ماؤں کو بھی لگائی جاسکتی ہے۔
گائیڈ لائنز کے مطابق امراض جگر اور دائمی پیپاٹائٹس کے مریض بھی فائزر لگوا سکتے ہیں، ٹرانسپلانٹ کے منتظر افراد دو ہفتے قبل فائزر لگوا سکتے ہیں، ٹرانسپورٹ کروانے کے ایک ماہ بعد مریض ویکسین لگوا سکتے ہیں، بخار میں مبتلا افراد کو فائزر ویکسین مت لگائی جائے، کورونا کے مریضوں کو بھی فائزر ویکسین نہ لگائی جائے، شدید الرجی کا شکار افراد کو بھی فائزر مت لگائی جائے، فائزر ویکسین کو روشنی سے بچایا جائے، فائزرز ویکسین تیاری کے بعد 6 گھنٹے روم ٹمپریچر پر رکھی جاسکتی ہے۔
دوسری جانب نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق کورونا وائرس سے 53 افراد جاں بحق ہوگئے، جس کے بعد اموات کی تعداد 21 ہزار 376 ہوگئی۔ پاکستان میں کورونا کے تصدیق شدہ کیسز کی تعداد 9 لاکھ 35 ہزار 13 ہوگئی۔
گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ایک ہزار 383 نئے کیسز رپورٹ ہوئے، پنجاب میں 3 لاکھ 42 ہزار 805، سندھ میں 3 لاکھ 24 ہزار 535، خیبر پختونخوا میں ایک لاکھ 34 ہزار 781، بلوچستان میں 25 ہزار 893، گلگت بلتستان میں 5 ہزار 655، اسلام آباد میں 81 ہزار 806 جبکہ آزاد کشمیر میں 19 ہزار 538 کیسز رپورٹ ہوئے۔
ملک بھر میں اب تک ایک کروڑ 36 لاکھ 19 ہزار 766 افراد کے ٹیسٹ کئے گئے، گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 46 ہزار 882 نئے ٹیسٹ کئے گئے، اب تک 8 لاکھ 67 ہزار 447 مریض صحتیاب ہوچکے ہیں جبکہ 3 ہزار 196 مریضوں کی حالت تشویشناک ہے۔
پاکستان میں کورونا سے ایک دن میں 53 افراد جاں بحق ہوئے جس کے بعد وائرس سے مرنے والوں کی تعداد 21 ہزار 376 ہوگئی۔ پنجاب میں 10 ہزار 349، سندھ میں 5 ہزار 144، خیبر پختونخوا میں 4 ہزار 164، اسلام آباد میں 766، بلوچستان میں 290، گلگت بلتستان میں 107 اور آزاد کشمیر میں 556 مریض جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
دوحہ:الجزیرہ نے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی عرب اور شام کے درمیان سفارتی تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے بیک ٹو ڈور مذاکرات کامیابی کے قریب پہنچ گئے ہیں۔
قطر کے نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق سعودی عرب اور شام سفارتی تعلقات معمول پر لانے کے لیے ایک معاہدےکے قریب پہنچ گئے ہیں۔ یہ پیشرفت سعودی عرب اور ایران کے درمیان مفاہمت کے ذریعے مسائل کو حل کرنے پر اتفاق کے بعد سامنے آئی ہے۔
الجزیرہ سے بات کرتے ہوئے شام کی اپوزیشن جماعت فری آفیسر موومنٹ کے ایک سینئر عہدیدار جو سعودی وزارت خارجہ اور جنرل انٹیلی جنس ڈائریکٹوریٹ سے قریبی رابطے میں ہیں نے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی عرب کا سیاسی مزاج تبدیل ہوچکا ہے اور خود ولی عہد بھی بشار الاسد سے تعلقات کی بحالی کے خواہش مند ہیں۔
الجزیرہ کی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ مفاہمت کی کوششوں کا آغاز ہوا اُس وقت ہوا تھا جب مئی میں سعودی ڈائریکٹر انٹیلی جنس جنرل خالد حمیدان کی سربراہی میں ایک انٹلیجنس وفد کو دمشق روانہ کیا تھا اسی طرح شام نے وزیر سیاحت رامی مارتینی کی سربراہی میں 10 سال میں اپنا پہلا وزارتی وفد سعودی عرب بھیجا تھا۔
2011 میں شامی صدر بشار الاسد سے صلح کرنے والے اپوزیشن جماعت فری آفیسر موومنٹ کے عہدیدار نے اس صورت حال پر تبصرہ کیا کہ وقت بدل گیا ہے، عرب کی تاریخ تبدیل ہو رہی ہے اور ایک نئے مستقبل کی جانب بڑھ رہی ہے۔ جلد ہی جغرافیائی اور علاقائی تنازعات دم توڑ جائیں گے۔
واضح رہے کہ کئی برسوں کی کشمکش کے بعد سعودی عرب علاقائی مفادات کو آگے بڑھانے کے لیے شامی تعاون کی افادیت کو اہمیت دے رہے ہیں کیوں کہ سعودی عرب کی خواہش ہے کہ شام سے ایران کی موجودگی اور اثر و رسوخ کو جلد از جلد یا تو ختم یا کم کردیا جائے۔
پنجاب کی تاریخ میں پہلی بار افسروں کو سرکاری فرائض کی ادائیگی میں مکمل آزادی کوئی دباﺅ نہ سیاسی مداخلت ہے
اپوزیشن کا کرونا کی طرح ٹرین حادثہ پر سیاست چمکانا افسوسناک ،بے رحم ٹولا پوائنٹ سکورنگ کرتا رہا،بیان
ضیا شاہد بہت بڑے صحافی و دانشور تھے،دکھ ہے وہ آج ہم میں نہیں،خبریں،چینل5کا جو پودا لگایا امید ہے وہ پھلتا پھولتا رہے گا:وزیر خارجہ
یو این او میں پاکستان کا ہدف اسرائیل،فلسطین سیز فائر کرانا تھا،سلامتی کونسل کے اجلاسوں میں جو کام نہ ہو سکا وہ ہماری کوششوں سے ایک نشست سے ہو گیا،یہودی مصنوعات کا بائیکاٹ بہترین اقدام ہے
مسئلہ کشمیر،فلسطین اور اسلام فوبیا بڑے ایشو بن چکے ،مسلمانوں کی دل آزاری،نفرت پر مبنی باتوں کو سپورٹ کی جاتی ہے،بہتر منصوبہ بندی کرکے بند باندھنا ہو گا،اسرائیل کو ہرگز تسلیم نہیں کرینگے
ضیا شاہد نے امتنان شاہد کی خود ٹریننگ کی،بطریق احسن اپنی ذمہ داریاں پوری کر رہے ہیں ،جنوبی پنجاب کا سیکرٹریٹ ایک ہی بلڈنگ میں ہو گا:چینل5 پروگرام آج پاکستان میں خصوصی گفتگو
وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پولیو کا جڑ سے خاتمہ کریں گے۔
تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت قومی ٹاسک فورس برائے انسداد پولیو کا اجلاس ہوا۔
اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے کہا گیا کہ پولیو کے قطرے پیلانے کے لئے تمام بچوں تک رسائی ایک بڑا چیلینج ہے۔
بریفنگ دیتے ہوئے مزید کہا گیا کہ حکومت کی کوششوں کی بدولت پولیو کیسز میں کمی ہوئی، رواں سال صرف ایک پولیو کیس رپورٹ ہوا۔
اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ملک بھر میں بھر پور مہم کا آغاز کیا جا رہا ہے۔
عمران خان نے یہ بھی کہا کہ حکومت نے پولیو کے خاتمے کے لیے جامع قومی ایمرجنسی ایکشن پلان مرتب دیا ہے۔
وزیراعظم عمران خان نے مزید کہا کہ انسداد پولیو مہم پر عملداری وفاق اور صوبائی حکومتیں مشترکہ طور پر کر رہی ہیں، پولیو کا جڑ سے خاتمہ کریں گے۔
واضح رہےکہ موجودہ حکومت کی کوششوں کی بدولت اس سال ملک میں اب تک صرف ایک پولیو کیس رپورٹ ہوا ہے تاہم تمام بچوں تک رسائی ایک بڑا چیلینج ہے جس کے لیے بھر پور مہم کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
حکومت نے پولیو کے خاتمے کے لیے جامع قومی ایمرجنسی ایکشن پلان ترتیب دیا ہے جس کی عملداری وفاق اور صوبائی حکومتیں مشترکہ طور پر کر رہی ہیں۔
اسلام آباد: قومی اسمبلی کے اجلاس میں ٹرین حادثے پر حکومت اور اپوزیشن آمنے سامنے آگئے، اپوزیشن نے اسپیکر ڈائس کا گھیراؤ کرکے گو نیازی گو کے نعرے لگائے۔
قومی اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کی زیر صدارت ہوا۔ آج کے اجلاس میں ریتی اور ڈھرکی میں ہونے والے ٹرین حادثے کی بازگشت سنائی دیتی رہی۔
نکتہ اعتراض پرپاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے ٹرین حادثے کو افسوس ناک قرار دیتے ہوئے ایوان میں مکمل بحث کا مطالبہ کردیا۔ جب کہ مسلم لیگ (ن) کے احسن اقبال نے اس حادثےکو قومی سانحہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ٹرین حادثے کی ذمے داری پی ٹی آئی حکومت پر عائد ہوتی ہے، انہوں نے وزیراعظم عمران خان اور وزیر ریلوے سے مستعفی ہونے کا مطالبہ بھی کردیا۔
اجلاس میں وفاقی وزیر فواد چودھری نے سابق حکم رانوں کی پالیسیوں کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ ریلوے میں کئی سال کی کوتاہیوں کے سبب حادثات ہو رہے ہیں، اگر اورنج لائن کا پیسہ ریلوے ٹریک پر خرچ ہوتا تو ایسے حالات نہ ہوتے۔ فواد چودھری کا کہنا تھا کہ نواز شریف دور میں منگلا سے ایک ٹریک جاتا تھا جو ختم ہو گیا، پتا چلا کہ اتفاق فاؤنڈری نے پورا ٹریک ہی خرید لیا ہے۔ ان لوگوں نے کرپشن اور سینہ زوری کی بنیاد رکھی۔
یہاں ایسے حکم ران مسلط رہے جنہیں قوم کی پرواہ نہیں تھی، ملک کو تباہ کرنے والے آج ہمیں درس دے رہے ہیں۔ ریلوے حادثات کا خون (ن) لیگ اور پیپلز پارٹی کے ہاتھوں پر ہے، سیاسی بھرتیوں کے ذریعے سرکاری اداروں کو تباہ کیا گیا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ اپوزیشن عدالتی اور انتخابی اصلاحات کے بجائے صرف نیب کیسز ختم کرانا چاہتی ہے۔ اگلے انتخابات تک یہ جماعتیں صرف چند حلقوں تک محدود رہ جائیں گی۔ ہم اپوزیشن کے ساتھ آگے چلنا چاہتے ہیں لیکن یہ جماعتیں مقدمات سے آگے بڑھنے والی نہیں۔
مسلم لیگ ن کے رہنما احسن اقبال نے کہا کہ وزیراعظم جو کہ مغربی جمہوریت میں پی ایچ ڈی کرچکے ہیں بتائیں ٹرین حادثے پر استعفی کون دے گا؟ کیا سابق وزیر ریلوے استعفی دیں گے جو تین سال ن میں ش اور ش میں سے ن نکالتے رہے، انہوں نے کہا کہ اگر سابق وزیر ریلوے نے ٹریک کا جائزہ لیا ہوتا تو آج یہ افسوس ناک واقعہ رونما نہ ہوتا۔
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین نے گھوٹکی حادثے کی ذمہ داری کے حوالے سے کہا ہے کہ سابق وزیر ریلوے سعد رفیق کے گناہ پر اعظم سواتی استعفیٰ دے دیں؟ یہ بے تکی بات ہے۔
جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیر خامیوں کی نشاندہی کر کے ان کا حل بتاتا ہے جب ان پر عملدرآمد ہوجائے اور پھر بھی حادثہ ہو تو وہ ذمہ دار ہوگا۔
فواد چوہدری نے کہا کہ ماضی میں پالیسیز اور فیصلہ سازی غلط رہی ہے، ہمیں پچھلی حکومتوں کے غلط فیصلوں کی وجہ سے مشکلات کا سامنا ہے اور ہم بھگت رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے ایم ایل ون اور دیگر منصوبے شروع کیے ہیں جن کی تکمیل پر حادثات میں کمی آئے گی۔
بعدازاں وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی شبلی فراز اور مشیر پارلیمانی امور بابر اعوان کے ہمراہ اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ بدقسمتی سے طویل عرصے سے ریلوے کے نظام اور دیگر محکموں میں جو سرمایہ کاری ہونی چاہیے تھی وہ نہیں ہوئی جس کی وجہ سے تمام ادارے تنزلی کا شکار ہیں۔
وزیر اطلاعات نے بتایا کہ 6 بج کر 30 منٹ تک امدادی ٹیمز اور حکام جائے حادثہ پر پہنچ چکے تھے۔
وزیراعظم کو جیسے ہی حادثے کی اطلاع ملی انہوں نے فوری طور پر وزیر ریلوے اعظم سواتی کو جائے حادثہ پر پہنچنے کی ہدایت کی جس پر وہ خصوصی طیارے سے 9 بجے جائے وقوع پر پہنچے۔
انہوں نے بتایا کہ ٹرین حادثے کے نتیجے میں 31 افراد جاں بحق جبکہ 100 سے زائد زخمی ہیں اور جاں بحق افراد کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے، پوری قوم ان خاندانوں کے دکھ میں شریک ہیں اور اس کی ابتدائی انکوائری کے نتائج سے عوام کو آگاہ کیا جائے گا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ 74 سال بعد ریلوے میں ایم ایل ون سب سے بڑا منصوبہ ہے جو ہماری حکومت لائی ہے اس کے بعد ریلوے کی ہیئت اور نوعیت تبدیل ہوگی۔