لائیو: 22-2021 کے وفاقی بجٹ کا حجم 8 ہزار 487 ارب روپے رکھا گیا ہے، شوکت ترین

اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین مالی سال 22-2021 کا وفاقی بجٹ پیش کررہے ہیں۔

قومی اسمبلی کے اجلاس میں وزیراعظم عمران خان بھی موجود ہیں۔ وفاقی وزیر کی بجٹ تقریر شروع ہوتے ہی اپوزیشن ارکان نے اسمبلی میں شور شرابا شروع کردیا۔

وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا کہ وفاقی بجٹ کا حجم 8 ہزار487 ارب روپے رکھا گیا ہے۔

وزارت خزانہ کے ذرائع کے مطابق مالی سال برائے 22-2021 کا بجٹ تقریباً 8 ہزار ارب روپے کا ہے  جس میں ترقیاتی بجٹ کا حجم 900 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے جو رواں مالی سال کے ترقیاتی بجٹ کے مقابلے میں38 فیصد زیادہ ہے۔

ذرائع کے مطابق مجموعی ملکی ترقیاتی بجٹ کا حجم 2 ہزار 105 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے، سول گورنمنٹ کے لیے 510 ارب روپے مختص کیے جانے کی تجویز ہے جو رواں مالی سال 488 ارب روپے تھے۔

ذرائع کا کہنا ہےکہ ایف بی آر کے لیے ٹیکس وصولیوں کا حجم 5 ہزار 705 ارب روپے رکھا جا رہا ہے، دفاع کے لیے 35 ارب روپے اضافے کے ساتھ ایک ہزار 330 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے ، رواں سال دفاعی بجٹ کا حجم ایک ہزار 295 ارب روپے تھا۔

قرض اور اس پر سود کی مد میں ادائیگیوں کے لیے 3 ہزار 105 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے، رواں سال اس مد میں 2 ہزار 920 ارب روپے رکھے گئے تھے۔

ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کی پنشن کے لیے 10 ارب اضافے کے ساتھ 480 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے، مختلف شعبوں کے لیے سبسڈی کی مد میں 501 ارب روپے مختص کیے جانے کا امکان ہے، رواں سال اس مد میں 400 ارب روپے مختص تھے، سبسڈی کا 30 فیصد پاور سیکٹر کے لیے ہے۔

ذرائع کے مطابق وفاقی بجٹ میں چاروں صوبوں،گلگت بلتستان اور مختلف وفاقی اداروں کے لیے 994 ارب روپے کی گرانٹس جاری کرنے کی تجویز ہے۔

ذرائع کا کہنا ہےکہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے سے متعلق فیصلہ بجٹ پیش کیے جانے سے پہلے کابینہ اجلاس میں ہو گا۔

بجلی چوری والے علاقوں میں لوڈشیڈنگ بڑھ سکتی ہے: وزیر توانائی نے خبردار کردیا

اسلام آباد: وفاقی وزیر توانائی حماد اظہر نے خبردار کیا ہےکہ بجلی چوری والے علاقوں میں لوڈشیڈنگ بڑھ سکتی ہے۔

ٹوئٹر پر جاری بیان میں حماد اظہر نے کہا کہ گزشتہ 48 گھنٹوں میں سسٹم میں 1500میگا واٹ بجلی شامل کی اور سسٹم میں آج مزید بجلی شامل کردی جائے گی۔

نہوں نے کہا کہ گزشتہ 12 گھنٹوں میں کہیں لوڈ شیڈنگ نہیں کی جارہی البتہ بجلی چوری کرنے والے علاقوں بجلی کی لوڈشیڈنگ بڑھ سکتی ہے جب کہ مقامی سطح پر ترسیلی نظام میں بریک ڈاؤن پربھی بجلی معطل ہوسکتی ہے۔

وزیر توانائی کا کہنا تھا کہ  تمام بجلی کی تقسیم کارکمپنیوں میں غیراعلانیہ لوڈ شیڈنگ صفرہے البتہ جن علاقوں میں بجلی بندش ہے وہاں وجہ واجبات کی عدم ادائیگی ہے اور سسٹم میں تکنیکی مسائل کےباعث بجلی بندش کا سامنا ہو سکتا ہے۔

بجٹ سے سب خوش ہوں گے: وزیراعظم عمران خان

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے بجٹ سے سب خوش ہوں گے۔

وزیراعظم عمران خان وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد بجٹ سیشن میں شرکت کے لیے پارلیمنٹ ہاؤس پہنچے۔

اس موقع پر صحافی نے وزیراعظم سے سوال کیا کہ خان صاحب کیا عوام دوست بجٹ ہوگا؟ اس پر وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ آج سب خوش ہوں گے۔

واضح رہےکہ آئندہ مالی سال کے لیے وفاقی بجٹ آج پیش کیا جارہا ہے جس میں کابینہ نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پینشن میں 10 فیصد اضافے کی منظوری دی ہے۔

امریکی سینیٹ نے پہلے مسلم امریکی وفاقی جج زاہد قریشی کی تعیناتی کی منظوری دیدی

واشنگٹن: امریکی سینیٹ نے پہلے مسلم امریکی وفاقی جج زاہد قریشی کی تعیناتی کی منظوری دے دی، ان کے حق میں 81 اور مخالفت میں 16 ووٹ آئے۔

پاکستانی نژاد جج زاہد قریشی کو امریکی تاریخ کے پہلے مسلم امریکی وفاقی جج بننے کا اعزاز حاصل ہوا ہے، ان کی بطور وفاقی جج نامزدگی وائٹ ہاؤس کی طرف سے کی گئی تھی، وہ اس سے پہلے مجسٹریٹ جج کے طور پر کام کرتے رہے ہیں، زاہد قریشی ڈسٹرکٹ نیوجرسی میں وفاقی جج کی ذمے داریاں نبھائیں گے۔

‘بیروزگاری کی شرح میں ریکارڈ اضافہ عمران خان کی تبدیلی کا اصل چہرہ ہے’

کراچی:  بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ ملکی تاریخ میں بیروزگاری کی شرح میں ریکارڈ اضافہ عمران خان کی تبدیلی کا اصل چہرہ ہے، عوام پی ٹی آئی ایم ایف بجٹ کے بوجھ اٹھا رہے ہیں۔

پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اکنامک سروے 2021 کے حوالے سے اپنے بیان میں کہا کہ اقتصادی سروے میں غربت، بیروزگاری کا ذکر اس لئے نہیں کیونکہ ان میں تاریخی اضافہ ہوا، خیبرپختونخوا کے اندر غربت میں تاریخی اضافہ ہوا، اسی وجہ سے اکنامک سروے سے غربت کا ذکر نہیں۔

بلاول بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ غربت اور بیروزگاری کے اعدادوشمار کو چھپانا اور مہنگائی کیلئے بہانہ بنانا مسئلے کا حل نہیں ہے، اگر اکنامک سروے میں عوامی مسائل کی درست نشاندہی نہیں ہوگی تو حل کیسے ہوںگے، عوام مہنگائی، بیروزگاری اور غربت کی صورت میں عمران خان کی نااہلی کی مہنگی قیمت کو بھگت رہے ہیں۔

طویل عرصے بعد ملک معاشی استحکام کی طرف بڑھ رہا ہے: فواد چودھری

اسلام آباد:  فواد چودھری نے کہا ہے کہ پاکستان کے تمام معاشی اعشاریے مثبت ہیں، طویل عرصے بعد ملک معاشی استحکام کی طرف بڑھ رہا ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ چاہتے ہیں اپوزیشن احتساب کو اصلاحات سے علیحدہ دیکھے، انتخابی اور عدالتی اصلاحات پر بات چیت ہونی چاہیے۔

معاون خصوصی شہباز گل نے اپنے ٹویٹر پیغام میں کہا کہ تاریخ کے بدترین خساروں کے ساتھ حکومت سنبھالنے کے بعد عمران خان نے معیشت کو ٹھیک کرنے کا بیڑہ اٹھایا، آج بین الاقوامی ادارے پاکستان کی معیشت درست سمت میں آگے بڑھنے کی گواہی دے رہے ہیں، اس بجٹ کا محور عام آدمی کی زندگی میں آسانی پیدا کرنے کے اقدامات ہوں گے۔

ادھر سینیٹر فیصل جاوید کا سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہنا تھا کہ اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے کا بل قومی اسمبلی سے منظور ہونا خوش آئند ہے، یہ ہمارے اور سیز کا حق ہے، اپوزیشن کی بل کی مخالفت سے یہ آشکار ہے کہ وہ صرف ذاتی مفاد کی قانون سازی چاہتے ہیں، اپوزیشن عوامی قانون سازی پر بارگین چاہتی ہے۔

فیصل جاوید نے مزید کہا کہ اوور سیز ووٹنگ کا بل سینیٹ سے بھی منظور ہو جائیگا، اپوزیشن جماعتوں نے اپنے ادوار میں صرف اپنا ہی سوچا، ماضی میں بیرون ملک محب وطن پاکستانیوں کو اپنا سرمایہ نہیں سمجھا گیا، عمران خان جو کہتے ہیں وہ کر کے دکھاتے ہیں۔

پی ایس ایل 6 : لاہور قلندرز نے پشاور زلمی کو 10 رنز سے شکست دے دی

ابو ظبی: (ویب ڈیسک) پی ایس ایل سکس کے اہم میچ میں لاہور قلندرز نے پشاور زلمی کو دس رنز سے شکست دے دی۔ لاہور قلندرز نے پشاور زلمی کو 171 رنز ٹارگٹ دیا تھا جسے پشاور زلمی حاصل نہ کر پائے۔

پی ایس ایل سکس کے سترہویں میچ میں لاہور قلندرز نے پشاور زلمی کو جیت کیلئے 171 رنز کا ہدف دیا۔ جواب میں پشاور زلمی 6 وکٹوں کے نقصان پر صرف 73 رنز ہی بناسکے۔

میچ کے مقررہ اوورز میں پشاور زلمی کی ٹیم نے 8 کھلاڑیوں کے نقصان پر 160 رنز بنائے، لاہور قلندرز کے راشد خان نے شاندار باؤلنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے 5 شکار کیے۔ پشاور زلمی کی جانب سے شعیب ملک 73 رنز بنا کر نمایاں رہے جبکہ عمید آصف 23 رنز بناسکے۔

ابتدا میں شدید مشکلات کے باوجود لاہور نے شاندار کم بیک کیا۔ قلندرز کے چار بلے باز 50 رنز پر پویلین لوٹ گئے تھے۔ ٹم ڈیوڈ اور بین ڈنک نے 81 رنز کی شراکت قائم کی۔

ٹم ڈیوڈ نے 36 گیندوں پر 64 رنز کی جارحانہ اننگزکھیلی۔ بین ڈنک 48 رنز بناکر آؤٹ ہوئے۔ پشاور کی جانب سے فیبین ایلن نے 2، وہاب ریاض، محمد عرفان، عمید آصف اور محمد عمران نے ایک ایک وکٹ حاصل کی۔

قبل ازیں پہلے میچ میں ملتان سلطانز نے کراچی کنگز کو 12 رنز سے شکست دی تھی۔ کراچی کی ٹیم 177 رنز کے تعاقب میں 7 وکٹوں پر 164 رنز بنا سکی۔ بابر اعظم کی 85 رنز کی ناقابل شکست اننگز رائیگاں گئی۔ ملتان سلطانز کے عمران خان نے 3 اور عمران طاہر نے 2 وکٹیں حاصل کیں۔

مالی سال 2022-2021ء کا وفاقی بجٹ آج پیش کیا جائے گا

اسلام آباد: وفاقی حکومت آئندہ مالی سال کیلئے تقریباً8 ٹریلین روپے (8ہزار ارب روپے) کا نیا سالانہ بجٹ آج (جمعہ کو) پیش کر رہی ہے۔ وفاقی وزیرخزانہ ومحصولات شوکت ترین بجٹ پیش کریں گے۔سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں پندرہ فیصد اضافہ متوقع ہے۔

تفصیلات کے مطابق مالی سال 2021-22 کا وفاقی بجٹ جمعہ کو پیش ہو گا۔ بجٹ کا مجموعی 8000 ارب روپے، خسارہ 3050 ارب ر وپے ہوگا۔ ٹیکس آمدن کا ہدف 5820 ارب اور نان ٹیکس آمدن کا ہدف 1420 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے۔ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 15 فیصد اضافہ متوقع ہے۔

دستاویز کے مطابق کابینہ ڈویژن کے لیے 33 ارب ،ایوی ایشن ڈویژن کیلئے 14 ارب ،وزارت تجارت کیلئے 17 ارب روپے ا ور وزرات مواصلات کے لیے 239 ارب مختص کیے جائیں گے۔

وزارت تعلیم و تربیت کے لیے 22 ارب روپے جبکہ وزارت خارجہ کے لئے 22 ارب 78 کروڑ روپے مختص کیے جانے کا امکان ہے۔ آئندہ مالی سال وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس کیلئے 14 ارب، صنعت و پیداوار کے لیے 7 ارب، وزارت اطلاعات کے لئے 11 ارب اور وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کے لئے 14 ارب روپے رکھے جائیں گے۔

وزارت داخلہ کو 160 ارب روپے، وزارت امور کشمیر ،شمالی علاقہ جات و گلگت بلتستان کو 199 ارب، وزارت قانون کو 18 ارب جبکہ وزارت غذائی تحفظ کو29 ارب روپے ملیں گے۔

اجلاس سے قبل وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوگا جس میں بجلی مہنگی نہ کرنے، آٹا، گھی اور چینی پر 500 ارب روپے سے زائد کی سبسڈی دینے اور تنخواہوں اور پنشن میں اضافے سے متعلق حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔

اس سے قبل وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے مالی سال 21-2020 کا قومی اقتصادی سروے پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب معیشت کے استحکام کے بجائے نمو پر توجہ دینی ہے۔

اسلام آباد میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مالی سال 2021 کا آغاز عالمی وبا کورونا وائرس کے دوران ہوا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس حکومت نے مؤثر پالیسی کی بدولت کووِڈ کے اثرات کو زائل کیا اور گزشتہ برس جولائی میں معاشی سرگرمیاں بحال ہونا شروع ہوگئیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے دور اندیش فیصلے کیے جس میں وزیراعظم کا اسمارٹ لاک ڈاؤن کا بڑا فیصلہ بھی شامل ہے اس کے علاوہ مانیٹری اور معاشی فیصلے ہوئے، اہم وزارتوں میں مراعات کے فیصلے کیے گئے جن میں تعمیرات کا شعبہ بھی شامل ہے اور وزیراعظم نے اس میں آئی ایم ایف سے خصوصی مراعات لیں۔

وزیر خزانہ نے بتایا کہ اس کے بعد تیزی سے ویکسینیشن کا سلسلہ شروع ہوا اور این سی او سی کا قیام اور ایک چھت تلے فیصلہ لینا بہت بڑا عمل تھا جس کی وجہ سے گزشتہ برس بھی کووِڈ پر قابو پایا گیا اور فروری مارچ میں تیسری لہر کے دوران بھی اسے کنٹرول کرلیا گیا۔

شوکت ترین نے بتایا کہ جب کووِڈ 19 شروع ہوا اس وقت تقریباً 5 کروڑ 60 لاکھ افراد برسرِ روزگار تھے جن کی تعداد گر کر 3 کروڑ 50 لاکھ پر آگئی یعنی 2 کروڑ لوگ بے روزگار ہوگئے۔

ان کا کہنا تھا کہ کووڈ سے متعلق وزیراعظم کی بڑی محتاط قسم کی پالیسیاں تھیں جس پر بہت سے ممالک نے عمل نہیں کیا بلکہ خود ہمارے ملک میں ابتدا میں اس پر شک و شبہ ظاہر کیا جاتا رہا۔

انہوں نے کہا کہ ان پالیسیوں کی بدولت اکتوبر 2020 میں برسر روزگار افراد کی تعداد دوبارہ تقریباً کروڑ 30 لاکھ ہوگئی اس کا مطلب ساڑھے 5 کروڑ میں سے 25 لاکھ کے قریب لوگ باقی رہ گئے اور معیشت بھی بحالی کی جانب گامزن ہونا شروع ہوگئی۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ گزشتہ بجٹ میں حکومت کا اپنا اندازہ 2.1 فیصد شرح نمو کا تھا جبکہ آئی ایم ایف اور عالمی بینک کا تخمینہ تو اس سے بھی کم تھا لیکن حکومت نے جو فیصلے لیے، جن میں مینوفیکچرنگ، ٹیکسٹائل، زراعت اور تعمیراتی شعبے کو گیس، بجلی اور دیگر مد میں مراعات دی گئیں اور اس کے نتیجے میں بڑے پیمانے کی مینوفیکچرنگ نے مثبت نمو کا مظاہرہ کیا جو تقریباً 9 فیصد تھی۔

سروے کے مطابق پاکستان میں مالی سال 21-2020 میں عبوری شرح نمو 3.94 فیصد رہی، جو مجموعی طور پر تمام شعبوں میں ریباؤنڈ کی بنیاد پر حاصل ہوئی۔

ان کا کہنا تھا کہ زراعت نے 2.77 فیصد نمو کی حالانکہ کپاس خراب ہونے کی وجہ سے ہمیں نمو منفی ہونے کا اندیشہ تھا لیکن باقی 4 فصلوں، گندم، چاول، گنا اور مکئی نے بہتر کارکردگی دکھائی۔

صنعتی شعبے میں 3.6 فیصد اضافہ ہوا جبکہ خدمات میں 4.4 فیصد اضافہ ہوا حالانکہ اس کا ہدف 2.6 فیصد تھا۔ گزشتہ برس جب شرح نمو 0.4 فیصد تھی تو صنعت اور خدمات میں بالترتیب 2.6 اور 0.59 فیصد پر منفی تھی۔

شوکت ترین نے کہا کہ لارج اسکیل مینوفیکچرنگ (ایل ایس ایم) میں 9 فیصد اضافہ ہوا، جس سے مجموعی طور پر شرح نمو میں اضافے میں مدد ملی۔

انہوں نے کہا کہ ترسیلات زرِ نے ریکارڈ قائم کردیا اور اس وقت ترسیلات زر 26 ارب ڈالر سے تجاوز کرچکی ہیں اور ہمارے اندازے کے مطابق 29 ارب ڈالر تک جائے گی۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ معیشت نے نمو کرنا شروع کیا تو تیل کی قیمت بڑھی اور اشیائے خورونوش کی درآمد میں اضافہ ہوا، ہم نے گندم اور چینی درآمد کی اور جو پاکستان، اشیائے خورونوش برآمد کرنے والا تھا وہ درآمد کنندہ بن گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ترسیلات زرِ میں اضافہ سمندر پار پاکستانیوں کا وزیراعظم عمران خان سے خصوصی تعلق کو ظاہر کرتا ہے، عالمی بینک اور متعدد تحقیقات میں خیال ظاہر کیا گیا تھا کہ کووِڈ بحران کے باعث ترسیلات زر میں کمی آئے گی لیکن اللہ کا کرنا یہ ہوا کہ اس وقت 29 فیصد سے بڑھ رہی ہیں جو ریکارڈ ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ترسیلات زر کو اللہ نے ہمارے لیے فرشتہ بنا کر بھیج دیا کیوں کہ ہمارے غیر ملکی زرِ مبادلہ کے لیے یہ انتہائی اہم تھا جس سے ہمارا کرنٹ اکاؤنٹ گزشتہ 10 ماہ سے سرپلس ہے۔

وزیر خزانہ نے بتایا کہ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس میں ایک ارب ڈالر سے زیادہ رقم آچکی ہے جبکہ اسٹیٹ بینک کے زرِ مبادلہ کے ذخائر جو 19-2018 میں 7 ارب ڈالر پر چلے گئے تھے اب 16 ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں جو 4 سال کی بلند ترین سطح ہے۔

شوکت ترین نے کہا کہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کے حوالے سے اچھی کارکردگی ہے اور ہمارا خیال ہے کہ آئندہ جائزاتی اجلاس میں ہمیں ریلیف مل جائے گا، میں اس وقت یہ پیش گوئی نہیں کرسکتا کہ ہم گرے سے وائٹ لسٹ پر آجائیں گے لیکن ان کی کمیٹیوں سے ملنے والا فیڈ بیک خاصہ تسلی بخش ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی ٹیکس کلیکشن بھی بہت بہتر ہے اور 11 ماہ کے دوران ہم 42 کھرب روپے تک پہنچ گئے ہیں جو گزشتہ برس کے مقابلے میں 18 فیصد سے زائد ہے حالانکہ مالی سال کے آغاز میں کسی کو اتنا بہتر ہونے کا اندازہ نہیں تھا۔

انہوں نے بتایا کہ مارچ کے بعد سے ماہانہ بنیاد پر ٹیکس کلیکشن کی نمو 50 سے 60 فیصد زیادہ ہے اس لیے ہمارا اندازہ ہے کہ ہم 47 کھرب روپے کے تخمینے سے بھی آگے نکل جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ اسی اندازے کی بنیاد پر اگلے سال کے بجٹ میں یہ تخمینہ 58 کھرب روپے رکھا ہے، پرائمری بیلنس کو سرپلس میں لے کر چلے گئے ہیں جو 12 سال میں پہلی مرتبہ ہوا۔

سروے کے مطابق مالی سال 2021 کے دوران جب دنیا کو کووڈ کے باعث معاشی مشکلات کا سامنا تھا تو پاکستان کی بیرونی ترسیلات زر نے مزاحمت دکھائی۔

انہوں نے کہا کہ جولائی سے مارچ میں مالی سال 2021 کے دوران کرنٹ اکاؤنٹ 95 کروڑ 90 لاکھ ڈالر (جی ڈی پی کا 0.5 فیصد) سرپلس تھا جس کے مقابلے میں گزشتہ برس خسارہ 4 ہزار 141 ملین ڈالر تھا جو جی ڈی پی کا 2.1 فیصد تھا۔ کرنٹ اکاؤنٹ کے توازن میں بہتری کے لیے بنیادی کردار بیرونی ترسیلات میں بے پناہ اضافہ تھا۔

اس حوالے سے مزید کہا کہ  انفلو میں سالانہ اضافہ اس دورانیے میں 26.2 فیصد تھا جبکہ اسی دوران گزشتہ سال کم تھی اور عام توقعات بھی کمی کی تھیں۔

سروے میں کہا گیا کہ مالی سال 2021 میں جولائی سے مارچ کے دوران مصنوعات کی برآمدات میں 2.3 فیصد سے 18.7 ارب ڈالر اضافہ ہوا جو ایک سال قبل اسی دوران 18.3 ارب ڈالر تھیں۔

مصنوعات کی درآمدات 9.4 فیصد 37.4 ارب ڈالر اضافہ ہوا جو گزشتہ برس 34.2 فیصد تھی، جس کے نتیجے میں تجارتی خسارہ 17.7 فیصد 18.7 ارب ڈالر تھا جبکہ ایک سال قبل 15.9 ارب ڈالر تھا۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی کی بات ہوتی ہے لیکن ہم خالصتاً اشیائے خورونوش درآمد کرنے والا ملک بن گئے ہیں ہم گندم، چینی، دالیں، گھی درآمد کررہے ہیں جس کی وجہ سے بین الاقوامی سطح پر قیمتوں میں آنے والے اتار چڑھاؤ سے متاثر ہیں اس سے بچ نہیں سکتے۔

وزیر خزانہ کے مطابق گزشتہ 12 ماہ کے دوران چینی کی عالمی قیمتیں 58 فیصد بڑھیں جبکہ ہمارے ہاں چینی کی قیمت 19 فیصد بڑھی، پام آئل کی قیمت میں 102 فیصد، سویابین کی قیمت میں 119 فیصد ہوا جبکہ ہمارے ہاں پام آئل کی قیمت میں صرف 20 فیصد اضافہ ہوا۔

انہوں نے کہا خام تیل کی قیمت میں 119 فیصد اضافہ ہوا جس کے اثرات ہم نے عوام تک پہنچنے نہیں دیے اور گزشتہ سوا ماہ سے بالکل بھی تیل کی قیمت میں اضافہ نہیں کیا جارہا، مجموعی طور پر ہمارے ہاں تیل کی قیمت میں 32 فیصد اضافہ ہوا یعنی 86 فیصد ہم نے جذب کرلیا۔

وزیر خزانہ کے مطابق عالمی منڈی میں گندم کی قیمت میں 29 فیصد اضافہ ہوا تو ہمیں بھی 29 فیصد ہی بڑھانی پڑی اس میں فرق نہیں ہے البتہ چائے کی قیمت 8 فیصد بڑھی لیکن ہم نے کوئی اضافہ نہیں کیا۔

انہوں نے کہا کہ ہم قیمتیں کنٹرول کرنے کی کوشش کررہے ہیں لیکن یہ ابھی بھی زیادہ ہیں جس کا اثر عام آدمی پر پڑ رہا ہے اور اس کا حل اپنی زرعی پیداوار میں اضافہ کرنا ہے جس پر بجٹ میں بہت زور دیا گیا ہے اور ہماری کوشش ہے کہ ہم دوبارہ نیٹ ایکسپورٹر بنیں کیوں کہ اپنی پیداوار کی قیمتیں ہم کنٹرول کرسکتے ہیں۔

وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ ہول سیل مارکیٹ میں لوگ بہت زیادہ مارجن بنا رہے ہیں جسے ہم ختم کرنا چاہتے ہیں ہم زرعی شعبے اشیائے خورونوش کے گودام اور کولڈ اسٹوریج لارہے ہیں جس سے آڑھتیوں سے جان چھوٹے گی اور ہم 4 سے 5 اہم چیزوں، گندم، چینی، دالیں میں اسٹریٹجک ریزرو بنا رہے ہیں تا کہ ذخیرہ اندوزی نہ ہوسکے۔

انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ ہماری اسٹاک مارکیٹ ایشیا میں سب سے بہترین ہے، شرح سود میں اضافہ، ایکسچینج ریٹ بڑھنے سے قرضوں کی ادائیگیاں 15 سو ارب سے بڑھ کر 3 ہزار ارب روپے تک جا پہنچیں۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ مارچ کے اختتام تک ہمارا مجموعی قرض 380 کھرب روپے تھا جس میں سے ڈھائی سو کھرب مقامی قرض جبکہ تقریباً 120 کھرب غیر ملکی قرض ہے جس میں گزشتہ برس کے مقابلے صرف تقریباً 17 کھرب روپے کا اضافہ ہوا ہے جبکہ اس سے پہلے والے سال میں یہ اضافہ 36 کھرب روپے تھا۔

انہوں نے بتایا کہ اس دفعہ قرضوں میں اضافہ گزشتہ برس کے مقابلے میں نصف سے بھی کم ہے، گزشتہ برس کے مقابلے میں غیر ملکی قرض 7 کھرب روپے کم ہے اور یہ جون 2020 میں 131 کھرب روپے تھا جو 125 کھرب روپے پر آگیا ہے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ قرض مجبوری ہے مالی خسارہ زیادہ ہوگا تو کہیں سے تو ریفنڈ کرنا ہے یا تو ریونیو بڑھ جائے اور یہ عارضی بھی تھا کیوں کہ ایک وقت میں شرح سود 13.25 فیصد تک جا پہنچی تھی جو واپس 7 فیصد پر آنے سے اس میں استحکام آتا جارہا ہے۔ پاکستان بین الاقوامی مارکیٹ میں گیا تو 5 ارب 30 کروڑ روپے کی ڈیمانڈ تھی جس پر ڈھائی ارب ڈالر لیے گئے۔

انہوں نے مزید کہا کہ صنعتوں میں سستے ٹیرف کے ذریعے بجلی کی کھپت بڑھانے کی کوشش کی جس کے نتیجے میں 26 فیصد اضافہ ہوا، سیلولر فونز 18 کروڑ 20 لاکھ ہوگئے ہیں جبکہ براڈ بینڈ کے تقریبا 10 کروڑ سبسکرائبر ہوگئے ہیں۔  احساس پروگرام کو ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے ایک کروڑ 50 لاکھ گھرانوں تک پہنچایا اور اس میں ایمرجنسی کیش اور دیگر مراعات دی گئیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اسی طرح وزیراعظم نے کامیاب جواب پروگرام کا اجرا کیا جس سے ساڑھے 8 سے 9 ہزار افراد مستفید ہوچکے ہیں، بلین ٹری سونامی کے تحت ایک ارب درخت لگائے جاچکے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ریٹنگ اداروں موڈیز، فچ وغیرہ نے ہماری کریڈٹ ریٹنگ بہتر کی یہ اس بات کی سند ہے کہ ہمارا استحکام کا پروگرام کامیاب ہوا اور اب ہمیں پائیدار معاشی نمو کی جانب جانا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کب تک ہم معیشت مستحکم کرنے میں لگے رہیں گے معیشت کا پہیہ تیز چلا کر جب شرح نمو 7 سے 8 فیصد پر لے جائیں گے اسی وقت نوجوان نسل کو درکار روزگار فراہم کرسکیں گے۔

انہوں نے بتایا کہ اس مرتبہ بجٹ میں سب سے بڑی چیز یہ ہوگی کہ ہم نے غریب کا خیال رکھنا ہے، استحکام کے دوران اور 74 سال سے غریب پس رہا ہے جسے ہم خواب دکھاتے رہے ہیں کہ اوپر سے معیشت ترقی کرے گی تو اس کے اثرات نیچے آئیں گے حالانکہ یہ اس وقت ہوسکتا ہے جب نمو پائیدار اور 20 سے 30 سال تک مسلسل ہو جیسے چین، بھارت اور ترکی میں ہے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ جو ممالک پائیدار ترقی کرتے ہیں انہوں نے ہی 20 سے 30 سال تک مستحکم نمو کی ہے جبکہ ہماری نمو پیسے ادھار لے کر، کریڈٹ کی بنیاد پر ہوتی ہے اور 4 سے 5 سال بعد ہم دوبارہ وہیں کھڑے ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس سے غریب شخص کے لیے گھر، کاروبار، صحت سہولیات، اسکل ڈیولپمنٹ صرف خواب ہی رہ جاتا ہے لیکن اس مرتبہ آپ بجٹ میں دیکھیں گے کہ ہم نے اس پر توجہ دی ہے، جو پہلے اس لیے نہیں ہوا کہ انہیں طریقہ نہیں آتا تھا لیکن ہم اب طریقہ سکھائیں گے۔

وزیرخزانہ نے کہا کہ ہمارے کمرشل بینکوں کو نچلے طبقے کو قرض دینا آتا ہی نہیں لیکن ہم بجٹ میں بتائیں گے 40 سے 60 لاکھ غریب گھرانوں کے خواب کو کس طرح پورا کریں گے۔

انہوں نے بتایا کہ اس وقت شرح نمو 4 فیصد پہنچنے میں بڑے پیمانے کی مینوفیکچرنگ کا حصہ 9 فیصد ہے لیکن چھوٹی اور متوسط صنعتوں (ایس ایم ایز) پر توجہ دی جائے گی جو 60 سے 80 لاکھ ہیں لیکن بینکنگ سیکٹر میں ان کا قرض محض ایک لاکھ 80 ہزار ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ کہاں کا انصاف ہے کہ 75 فیصد کریڈٹ کارپوریٹ سیکٹر لے جائے اور ایس ایم ایز کو صرف 6 فیصد ملے جسے ہم نے بہتر کرنا ہے ساتھ ہی بڑے پیمانے کی مینوفیکچرنگ کو ٹھیک کرنے کے علاوہ برآمدات بہتر بنانی ہے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ اس مرتبہ ہم اپنا پیراڈئم تبدیل کردینا ہے اور وزارت خزانہ یا ایف بی آر کے بجائے وزارت تجارت بتائے گی کہ کس صنعت کو کتنی مراعات دی جائیں گی۔ اس وقت انفارمیشن ٹیکنالوجی کا شعبہ 40 سے 50 فیصد نمو کررہا ہے جسے ہم آئندہ برس 100 فیصد تک پہنچانا چاہتے ہیں اور اس سلسلے میں مراعات دی جائیں گی۔

انہوں نے کہا کہ سال 2000 میں بھارت کی آئی ٹی ایکسپورٹ ایک ارب ڈالر تھی جو 2010 تک 100 ارب ڈالر پر پہنچ گئی تھی یعنی 10 سال میں 100 گنا بڑھی تو کیا ہم 40 سے 50 فیصد نہیں بڑھا سکے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں برآمدات میں اضافہ کرنا ہے کیوں کہ جب بھی درآمدات بڑھتی ہے تو اس سے ڈالر ختم ہوجاتے ہیں اس لیے ہمیں ایکسپورٹ، ایف ڈی آئی میں اضافہ کرنا ہے اپنے پاس ڈالر کا انفلو بڑھانا ہے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ ہاؤسنگ سیکٹر نے گزشتہ برس ساڑھے 8 فیصد ترقی کی جس میں اضافے کی گنجائش ہے اور ہم اس میں نمو چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ توانائی ہمارے لیے بہت بڑا بلیک ہول ہے، گنجائش میں ضرورت سے زیادہ اضافہ کردیا گیا اور اس کی ادائیگیاں اب ہمیں کرنی پڑ رہی ہیں کیوں کہ جتنی گنجائش ہم پیدا کرچکے ہیں تو آئندہ 5 سے 6 برسوں میں 7 سے 8 فیصد نمو کرنے پر بھی مشکل سے ہی استعمال ہوگی۔

انہوں نے مزید کہا کہ آئی ایم ایف کی جانب سے بجلی کے نرخ بڑھانے پر اصرار کیا گیا لیکن وزیراعظم نے بڑھانے سے انکار کردیا اس لیے ہماری کوشش ہے کہ اس میں جدت لائیں جس سے نرخ بھی نہ بڑھیں اور گردشی قرض بھی ختم ہوجائے۔

شوکت ترین نے کہا کہ رواں برس کے وسط میں ساڑھے 4 سو ارب روپے کا گردشی قرض آنا تھا جو 2 سے ڈھائی سو ارب کے درمیان رہا اور ہم چاہتے ہیں کہ یہ صفر اور بتدریج کم ہونا شروع ہوجائے۔ توانائی کا شعبہ ہمارے لیے چیلنج ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ اس چیلنج پر پورا اتریں۔

پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کے حوالے سے وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا کہ سی پیک کے تحت انفرا اسٹرکچر بنایا گیا ہے اور خصوصی اقتصادی زونز بھی قائم کیے جاچکے ہیں لیکن گزشتہ 6، 7 برسوں سے ہم سے کوتاہی ہوئی کہ ہمیں یہاں سرمایہ کار لے کر آنے چاہیے تھے، ہم چاہیں گے کہ وہ سی پیک استعمال کریں۔

انہوں نے کہا کہ چین آئندہ 10 برسوں میں 8 کروڑ 50 لاکھ روز گار دیگر ممالک کو دے رہا ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ ہمیں بھی حصہ ملے، اس لیے ہم انہیں کہہ رہے ہیں کہ آپ بتائیں ان اکنامک زونز میں آپ کو کیا مراعات چاہیے ہم دینے کو تیار ہیں آپ یہاں مینوفیکچرنگ کے لیے سرمایہ کاروں کو لائیں، کیوں کہ ہمیں سرمایہ کاری اور قرضوں کی ادائیگی کے لیے ڈالر بھی کمانے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ریاستی ملکیت کے اداروں پر پیسہ ضائع ہونے کی بات ہوتی ہے تو 30 سال سے نجکاری کی باتیں ہورہی ہیں لیکن نجکاری نہیں ہوئی کیوں کہ جب سیاسی جماعتوں اور وزارتوں کے ہاتھ میں اداروں کا اختیار آجاتا ہے تو انہیں اسے اپنے پاس ہی رکھنا اچھا لگتا ہے لیکن یہ ہمارے لیے ٹھیک نہیں ہے۔

انہوں مزید کہا کہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں، پی آئی اے، ریلویز سب خسارے میں ہیں اس لیے ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ نجکاری کمیشن میں پروفیشنلز کا بورڈ بنائیں گے اور 15 اداروں کو وزارت سے نکال کر ان کے ماتحت کردیں گے جو انہیں اہداف دیں گے اور 26 فیصد فروخت کردیں گے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ بات کی جاتی ہے بینکوں کی نجکاری ہوگئی لیکن بینکنگ کیا کررہی ہے بینکنگ فٹ پرنٹ مجموعی ملکی پیداوار کا صرف 33 فیصد ہے جو دنیا کی کم ترین شرح میں سے ایک ہے بنگلہ دیش کی جی ڈی پی میں بینکنگ کی شرح 50 فیصد، کوریا کی 180 فیصد، چین کی 225 فیصد ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہماری صرف 33 فیصد ہے اور اس میں بھی اے ڈی آر 50 فیصد سے کم ہے اس کا مطلب یہ کہ 16 فیصد فارمل بینکنگ جی ڈی پی کو سپورٹ کرتی ہے جسے ٹھیک کرنا ہے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ ملک کے 9 شہر بینکنگ کا 85 فیصد کریڈٹ لے جاتے ہیں باقیوں کا کیا قصور ہے اسے ٹھیک کرنا ہے، ریجنل بینکس، ریجنل ہاؤسنگ بینکس بنانے ہیں جس کے فنانشل سیکٹر کی ری اسٹرکچرنگ کرنے پڑے گی۔

قومی اسمبلی میں حکومت نے کلبھوشن یادیو سمیت 21 بل منظور کرالیے

اسلام آباد: حکومت نے حزب اختلاف کے شدید احتجاج اور بائیکاٹ کے دوران قومی اسمبلی کی کارروائی کے اصول معطل کرتے ہوئے 21 قوانین کی منظوری دے دی جس میں متنازع انتخابی (ترمیمی) بل 2020 اور بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کو اپیل کا حق فراہم کرنا بھی شامل ہے۔

 رپورٹ کے مطابق اپوزیشن کے ممبران نے واک آؤٹ کیا اور تین بار کورم کی نشاندہی کی لیکن ہر بار چیئرمین نے ایوان کو ترتیب میں قرار دیا اور کارروائی جاری رکھی جس کی وجہ سے اپوزیشن کو شور شرابہ احتجاج کرنے پر مجبور ہوگئی۔

ایک موقع پر اپوزیشن نے ایک تحریک پر اسپیکر اسد قیصر کے رولز کو معطل کرنے کے لیے زبانی ووٹنگ کے فیصلے کو چیلنج کیا جس پر اسپیکر نے فزیکل ووٹ کا حکم دیا اور اپوزیشن کو 101-112 ووٹ سے شکست ہوئی۔

اپوزیشن کے اراکین اسپیکر کی ڈائس کے سامنے جمع ہوئے اور ‘مودی کا جو یار ہے غدار ہے’ اور ‘کلبھوشن کو پھانسی دو’ جیسے نعرے لگائے۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رکن اسمبلی احسن اقبال نے نشاندہی کی کہ حکومت نے بھارتی جاسوس کو ریلیف دینے کے لیے بھاری قانون سازی کے ایجنڈے میں اس بل کو شامل کیا۔

رولز کو معطل کرنے کے بعد بل کو ایجنڈے پر لانے کے حکومتی اقدام پر اپوزیشن نے احتجاج کیا۔

اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اپوزیشن جماعتوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کی کہانی تم نے بگاڑی اور مجھے اپوزیشن بینچوں سے پاکستان کی نہیں، ہندوستان کا مؤقف سنائی دے رہا ہے۔

ی: قومی اسمبلی سے کلبھوشن سے متعلق آرڈیننس میں 4 ماہ کی توسیع منظور

ایوان میں عالمی عدالت انصاف کے فیصلے کو مؤثر بنانے کے لیے نظر ثانی کا بل آرڈیننس 2020 منظور کرلیا گیا، بل وفاقی وزیر فروغ نسیم کی جانب سے پیش کیا گیا۔

اس بل کی منظوری کے بعد اب بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو سمیت تمام غیر ملکیوں کو فوجی عدالتوں کی سزا کے خلاف اپیل کا حق مل جائے گا۔

وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم نے اس بل کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یہ بل بھارت کے عزائم کے خلاف لائے ہیں، کلبھوشن کو قونصلر رسائی مسلم لیگ(ن) کے دور میں نہیں دی گئی اور اگر ہم یہ قانون نہ لاتے تو بھارت سلامتی کونسل میں چلا جاتا۔

ان کا کہنا تھا کہ عالمی عدالت انصاف نے واضح طور پر اپیل کا قانون لانے کا حکم دیا تھا اور اگر ہم یہ بل نہ لاتے تو بھارت ہمارے خلاف عالمی عدالت کی توہین کا مقدمہ درج کرواتا۔

اس حوالے سے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اسپیکر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن کا حق ہے کہ ان کی رائے بھی لی جائے، میں آپ پر تنقید نہیں بلکہ اپیل کررہا ہوں کہ آپ اپنی طاقت استعمال کریں گے اور رولز کو منسوخ نہیں کریں گے، اگر ہنگامی مسئلہ ہو، قومی سانحہ ہے اور ہمیں کچھ فوری طور پر کرنا ہے تو ہم ضرور کرنے کو تیار ہوں گے لیکن آپ اپنی ذمے داری نبھائیں، فورم کو صحیح طریقے سے استعمال کریں، کمیٹیز کو بھی صحیح طریقے سے چلائیں تاکہ ہم عوام کے مسائل حل کر سکیں اور عوام کے لیے زیادہ مصیبت پیدا نہ کریں۔

قومی اسمبلی اجلاس میں اپوزیشن کا شدید احتجاج

اس موقع پر شاہ محمود قریشی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آپ یقیناً عوامی جماعتیں ہیں اور عوام کو ریلیف دینے آئے ہیں لیکن اگر عوام کو ریلیف دینے کے لیے ہم گنجائش پیدا کرنا چاہتے ہیں تو مجھے امید ہے کہ آپ اس میں رخنہ اندازی نہیں کریں گے فراخ دلی سے آگے بڑھیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ کچھ اراکین پارلیمنٹ نے رولز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ رولز میں گنجائش نہیں ہے اور آپ رولز کی نفی کر کے کارروائی بڑھا رہے ہیں، وزیر پارلیمانی اور وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور نے اس کا مفصل جواب دے دیا ہے کہ رولز میں گنجائش ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزرا نے اس کارروائی کی وجوہات بتائیں کہ ہماری خواہش ہے کہ اس وقت جو قوانین لے کر آئے ہیں ان پر قانون سازی ہو جائے، کیونکہ کل بجٹ ہے، اجلاس ہونا ہے اور اس میں بہت سے ایسے قوانین ہیں جن کا مقصد براہ راست عوام کو ریلیف پہنچانا ہے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ فاضل رکن اسمبلی نے کہا کہ بل پر بحث ہونی چاہیے، بالکل ہونی چاہیے لیکن اس حوالے سے دو گنجائشیں ہیں، ایک بل جب مرتب ہوتا ہے تو ایوان میں متعارف کرایا جاتا ہے اور قائمہ کمیٹی کو بھیجا جاتا ہے جہاں اپوزیشن کی نمائندگی موجود ہے، تصور یہ کیا جاتا ہے کہ ہر جماعت کا رکن اپنی جماعت کا نقطہ نظر قائمہ کمیٹی میں لائے گا، اپنا مؤقف پیش کرے گا اور اپنی رائے ریکارڈ کرائے گا، اگر قائمہ کمیٹی میں اس کی رائے کو اہمیت نہیں دی جاتی تو اس حوالے سے خط لکھ کر آگاہ کرے گا لیکن بل کو اکثریت سے ایوان میں پیش کیا جاتا ہے تو وہ آ سکتا ہے۔

مالی سال 2022 کیلئے ترقیاتی اخراجات میں 40 فیصد اضافے کی منظوری

ان کا کہنا ہے کہ جب بل پیش کیا جاتا ہے اور اگر کسی کو اعتراض ہے تو قانون کے مطابق وہ رکن ترامیم پیش کر سکتا ہے، ترامیم کو آپ ایوان کے سامنے رکھ سکتے ہیں، جو معترض ہوتا ہے، اس کو موقع ملتا ہے کہ وہ ترمیم پر اپنی رائے کا اظہار کرے اور جمہوریت یہ کہتی ہے کہ اکثریت کی بات کو ترجیح دی جاتی ہے اور اگر ایسا نہ ہو تو یہ جمہوریت کی نفی ہو گی۔

انہوں نے بلاول کی بات کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ رکن اسمبلی نے درست کہا کہ مشاورت اور بات چیت کا موقع ملنا چاہیے، آپ نے انتخابی اصلاحات کا حوالہ دیا جن کے وسیع پیمانے پر اثرات مرتب ہوں گے اور تب ہی ہم نے کہا تھا کہ انتخابی اصلاحات پر بائیکاٹ مت کیجیے، ہم نے آپ کو بارہا دعوت دی لیکن آپ آنے کو تیار نہیں ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ جب ہم دعوت دیتے ہیں تو آپ آنے کو تیار نہیں ہیں، جب ہم قائمہ کمیٹی میں جاتے ہیں تو آپ اپنا نقطہ نظر ریکارڈ نہیں کراتے، جب ہم اسمبلی میں آتے ہیں تو آپ بات کرنے کی گنجائش نہیں نکالتے، جب ہم اکثریت پوری کرتے ہیں تو آپ واک کر جاتے ہیں، یہ جمہوریت کی روح کی نفی کررہے ہیں۔

واضح رہے کہ وزیر خارجہ کی تقریر کے دوران اپوزیشن خصوصاً پیپلز پارٹی کے اراکین نے احتجاج کرنا شروع کیا اور متعدد مرتبہ تقریر میں خلل ڈالنے کی کوشش کی۔

سال 22-2021: ترقیاتی منصوبوں پر 2.1 کھرب روپے کے اخراجات کا تخمینہ لگایا ہے، اسد عمر

وزیر خارجہ نے کہا کہ آپ الیکٹرانک ووٹنگ کی بات کررہے ہیں، اس پر دو رائے ہو سکتی ہیں اور ہم آپ کے نقطہ نظر کا احترام کرتے ہیں لیکن جو ہم کررہے ہیں وہ انہونی نہیں، ہمارے پڑوسی ملک ہندوستان میں الیکٹرانک ووٹنگ کئی سالوں سے رائج ہے، امریکا سمیت کئی ممالک میں رائج ہے، کیا وہاں جمہوریت نہیں ہے، کیا وہاں جمہوری اقدار نہیں ہیں، کیا ان کے الیکشن دنیا تسلیم نہیں کرتی؟، کرتی ہے، اگر وہاں کرتی ہے تو یہاں مضائقہ کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اوورسیز پاکستانیوں پر مجھے اور حکومتی نشستوں پر بیٹھے اراکین کو فخر ہے، وہ اس ملک میں ترسیل کرتے ہیں اور ایک طبقہ ایسا ہے جو اس ملک کو لوٹ کر پیسہ باہر بھیجتا ہے اور اوورسیز پاکستانی وہ طبقہ ہے جو پیسہ کما کر ملک میں بھیجتا ہے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اگر ہم ان اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دیتے ہیں، پاکستان کی قانون سازی اور معاملات میں ان کو اسٹیک ہولڈر بنانا چاہتے ہیں، آج کیفیت یہ ہے کہ وہ پاکستان کی برآمدات سے زیادہ پیسے بھیج رہے ہیں، آپ کہتے ہیں کہ آپ اوورسیز پاکستانیوں کے علمبردار ہیں لیکن ان کے گلے کو دبوچنا چاہتے ہیں، ان کا حق سلب کرنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے اوورسیز پاکستانیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ گواہ رہنا، تاریخ رقم ہو رہی ہے، ہم اوورسیز پاکستانیوں کو ان کا حق دے رہے ہیں اور یہ اوورسیز پاکستانیوں کے حقوق کا قتل کررہے ہیں، یہ ان کے حقوق کے قاتل ہیں۔

پاکستان نے کلبھوشن یادیو کیس پر بھارت کا بے بنیاد بیان مسترد کردیا

اس موقع پر انہوں نے بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کے معاملے پر بھی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کلبھوشن یادیو کی کہانی ہم نے نہیں، تم نے بگاڑی، ہم تو پاکستان کے وقار کی بات کرتے ہیں لیکن ہندوستان عالمی عدالت انصاف میں جا کر یہ کہنا چاہتا ہے کہ پاکستان نے عالمی عدالت کی سفارشات پر عملدرآمد نہیں کیا اور ہم کہہ رہے ہیں کہ ہم انہیں قونصلر تک رسائی دینا چاہتے ہیں.

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ میں حیران ہوں کہ مجھے اپوزیشن بینچوں سے پاکستان کی نہیں، ہندوستان کا مؤقف سنائی دے رہا ہے، یہ آج ہندوستان کی بولی بول رہے ہیں۔

اس پر پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے شدید احتجاج کیا اور کہا کہ ‘کیا آپ بھارت کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ ملک کی آدھی آبادی اس کے ساتھ ہے جب کہ ہم نے نصف پاکستانیوں کے ووٹ حاصل کیے ہیں؟ اپنے الفاظ واپس لیں’۔

بعدازاں اپوزیشن ممبران نے اجلاس کے بیشتر حصے کی صدارت کرنے والے ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کے خلاف این اے سیکرٹریٹ میں تحریک عدم اعتماد جمع کرائی اور کہا کہ انہوں نے ‘اسمبلی رولز کو مبینہ طور پر نظرانداز کیا اور حکومتی ممبران کے ساتھ غیر قانونی طور پر تعاون کیا اور اپوزیشن کے کورم کی نشاندہی پر عمل نہیں کیا’۔

اپوزیشن نے چار مواقع پر کورم کی نشاندہی کی تھی تاہم ڈپٹی اسپیکر نے اپوزیشن کو روک دیا اور ہیڈکاؤنٹ کا حکم نہیں دیا تھا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اسمبلی نے جنریشن، ٹرانسمیشن اینڈ ڈسٹری بیوشن آف الیکٹرک پاور (ترمیمی) بل 2021 کو بھی منظور کرلیا جو اسی روز اس سے قبل قائمہ کمیٹی برائے بجلی کے ایجنڈے میں تھا تاہم وفاقی وزیر توانائی حماد اظہر کی عدم موجودگی کی وجہ سے اس معاملے کع اٹھایا نہیں گیا تھا۔

اسمبلی کی جانب سے منظور کیے گئے دیگر بلز میں مالیاتی ادارے (محفوظ لین دین) (ترمیمی) بل 2021، پورٹ قاسم اتھارٹی (ترمیمی) بل 2021م گوادر پورٹ اتھارٹی (ترمیمی) بل 2021، اینٹی ریپ (انوسٹی گیشن اینڈ ٹرائل) بل 2020 اور کووڈ 19 (ذخیرہ اندوزی کی روک تھام) بل 2020 شامل ہے۔

ابھی ان بلز کو اپوزیشن کی اکثریتی سینیٹ سے منظور ہونا باقی ہے۔

واضح رہے کہ کلبھوشن یادیو کیس میں آئی سی جے کے فیصلے کے فوراً بعد ہی حکومت نے گزشتہ سال مئی میں ایک آرڈیننس کے ذریعے قانون نافذ کردیا تھا۔

اپوزیشن کی جماعتوں کی طرف سے کی جانے والی سخت مزاحمت کے باوجود قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف نے بھی گزشتہ سال 21 اکتوبر کو اس بل کو منظوری دے دی تھی۔

اسی طرح پارلیمانی امور سے متعلق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نے اپوزیشن کے احتجاج کے درمیان 8 جون کو انتخابات (ترمیمی) ایکٹ 2021 کو منظور کیا تھا۔

انتخابات (ترمیمی) بل 2020 کو قومی اسمبلی میں 16 اکتوبر 2020 کو پیش کیا گیا اور اپوزیشن کے احتجاج کے درمیان 8 جون کو متعلقہ قائمہ کمیٹی نے اسے منظور کیا تھا۔

اسرائیلی فوج کی کارروائی، مغربی کنارے میں 3 فسلطینی جاں بحق

اسرائیلی فوج نے فلسطین کے مغربی کنارے کے قصبے جینن میں گرفتاریوں کے لیے کارروائیوں کے دوران فائرنگ کرکے 3 فلسطینیوں کو قتل کردیا۔

خبر ایجنسی اے پی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل اور فلسطینی اتھارٹی (پی اے) نے حماس اور دیگر گروپوں کے خلاف کارروائی کی، جو بظاہر کے ان کے مخالف ہیں۔

فلسطینی اتھارٹی اور اسرائیل کے اس تعاون پر مغربی کنارے میں فلسنطینیوں میں بے چینی اور غصے میں اضافہ ہوگیا ہے۔

فلسطینی صدر محمود عباس کے ترجمان نبیل ابو ردینہ نے واقعے کو ‘اسرائیل کا بدترین ظلم’ قرار دیتے ہوئے مذمت کی۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیلی اسپیشل فورسز نے 3 افراد کو نشانہ بنایا اور انہوں نے کارروائی کے دوران خود کو عرب ظاہر کیا۔

نبیل ابو ردینہ نے عالمی برادری اور امریکا سے مطالبہ کیا کہ وہ مداخلت کرکے اس طرح کے حملوں کو روکیں۔

دوسری جانب اسرائیل کی فوج اور پولیس نے اس حوالے سے فوری طور پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔

اسرائیلی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق اسپیشل سیکیورٹی فورسز نے جینن میں اسلامک جہاد کے دو ارکان کو گرفتار کرنے کے لیے چھاپہ مارا اور اسی دوران فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس کے نتیجے میں ایک فلسطینی جاں بحق جبکہ سیکیورٹی فورسز کے دو ارکان بھی ہلاک ہوئے۔

اسرائیلی فورسز کی ہلاکتوں کے حوالے سے کوئی رپورٹ سامنے نہیں آئی۔

رپورٹ کے مطابق ایک آن لائن ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ فلسطینی سیکیورٹی افسران ایک گاڑی کی حفاظت پر امور ہیں اور اسی دوران فائرنگ کی آواز آتی ہے اور اسرائیلی انڈر کور فورسز کے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ ہوتا ہے۔

فلسطینی حکام کا کہنا تھا کہ جاں بحق دو افسران ملیٹری انٹیلی جنس فورس کے اراکین تھے۔

خیال رہے کہ 1990 میں طے پانے والے عبوری معاہدے کے تحت فلسطین اتھارٹی کو محدود خود مختاری حاصل ہے اور مشترکہ طور پر مغربی کنارے کے 40 فیصد علاقے پر قبضہ ہے۔

دوسری جانب حماس نے غزہ میں 2007 سے اپنی الگ فورس بنالی تھی جو حکومت سازی میں الفتح کے صدر محمود عباس سے اختلافات کے بعد غزہ میں حکمران ہے۔

اسرائیلی فورسز اسی معاہدے کی آڑ میں فلسطینی اتھارٹی کی حکمرانی میں شامل مغربی کنارے کے شہروں اور قصبوں میں اسی طرح کے چھاپے مارتی ہیں اور گرفتاریاں بھی عمل میں لائی جاتی ہیں۔

فلسطین میں 15 برس بعد رواں سال اپریل میں انتخابات ہونے تھے لیکن صدر محمود عباس نے فتح پارٹی کے اندر اختلافات کے باعث انہیں ملتوی کردیا کیونکہ انہیں حماس سے ایک اور شکست کا خطرہ تھا جبکہ گزشتہ ماہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے دوران بھی انہیں زیادہ ترجیح نہیں دی گئی۔

محمود عباس مقبوضہ مغربی کنارے، مشرقی بیت المقدس اور غزہ پر مشتمل آزاد فلسطینی ریاست کے لیے مذاکرات کے ذریعے حل کے لیے پرعزم ہیں، جہاں اسرائیل نے 1967 کی مشرق وسطیٰ جنگ میں قبضہ کیا تھا۔

فلسطینی صدر کی کوششوں کے باوجود دہائیوں بعد بھی مذاکرات کے حل ذریعے پرامن حل نظر نہیں آرہا ہے۔

آزاد کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کے انتخابات 25 جولائی کو منعقد کرنے کا اعلان

آزاد جموں و کشمیر کے چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) جسٹس ریٹائرڈ عبدالرشید نے اعلان کیا ہے کہ خطے کی قانون ساز اسمبلی کے لیے عام انتخابات 25 جولائی کو عیدالاضحیٰ کے تیسرے یا چوتھے روز منعقد ہوں گے۔

سول سیکریٹریٹ کے کمیٹی روم میں الیکشن کمیشن کے آئینی طور پر مقرر کردہ اراکین راجا فاروق نیاز اور فرحت علی میر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں کہا کہ تمام تر انتظامات کر لیے گئے ہیں اور یہ یقینی بنایا جارہا ہے کہ دسویں عام انتخابات آزادانہ، منصفانہ اور غیر جانبدارانہ انداز میں ہوں۔

انہوں نے کہا کہ 45 براہ راست نشستوں میں سے 33 آزاد جموں و کشمیر کے علاقے میں واقع ہیں جہاں 28 لاکھ 17 ہزار سے زائد رجسٹرڈ ووٹرز ہیں جن میں 12 لاکھ 97 ہزار خواتین شامل ہیں جبکہ 12 پاکستان کے دیگر حصوں کی ہیں جس کے 4 لاکھ 30 ہزار 456 رجسٹرڈ ووٹرز ہیں جن میں ایک لاکھ 70 ہزار 931 خواتین شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان 12 نشستوں پر انتخابات کرانے کے لیے الیکشن کمیشن آف پاکستان اپنے عہدیداران کو ڈسٹرکٹ ریٹرننگ آفیسرز (ڈی آر اوز) اور ریٹرننگ آفیسرز (آر اوز) کے عہدے پر آزاد جموں و کشمیر الیکشن کمیشن کے حوالے کرے گا۔

خطے میں قیام امن کیلئے پاکستان اور امریکا کی سوچ میں مماثلت ہے، وزیرخارجہ

اسلام آباد: وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان اور امریکا کے مابین دیرینہ دو طرفہ تعلقات ہیں۔ خطے میں قیام امن کے حوالے سے دونوں ممالک کی سوچ میں مماثلت ہے۔ پاکستان، افغانستان سمیت خطے میں امن کا خواہاں ہے۔

وزیر خارجہ نے یہ بات ‏امریکی ایوانِ نمائندگان کی خارجہ امور کمیٹی کے چیئرمین گریگوری ویلڈن مِیکس کے ساتھ بذریعہ ویڈیو لنک رابطہ گفتگو کرتے ہوئے کہی۔

دونوں رہنماؤں کے درمیان ٹیلی فونک گفتگو میں پاکستان اور امریکا کے مابین دو طرفہ تعلقات، اسلاموفوبیا کے بڑھتے ہوئے رجحان اور اہم علاقائی وعالمی امور پر تبادلہ خیال کیا۔

اس موقع پر وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان اپنی توجہ جغرافیائی اقتصادی ترجیحات پر مرکوز کیے ہوئے ہے۔ پاکستان اور خطے کی اقتصادی ترقی کیلئے افغانستان میں امن کا قیام ناگزیر ہے۔ خطے میں روابط کے فروغ کیلئے قیام امن بنیادی ضرورت ہے۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ خطے میں قیام امن کیلئے پاکستان اور امریکٓ کے مابین تعاون بہتر نتائج کے حصول کیلئے اہمیت کا حامل ہے۔ نیویارک میں اقوامِ متحدہ جنرل اسمبلی کے ہنگامی اجلاس کے موقع پر میرے امریکی ممبران پارلیمنٹ سے رابطے انتہائی سودمند رہے۔ میں نے انہیں اہم علاقائی اور عالمی امور کے حوالے سے پاکستان کے موقف سے آگاہ کیا۔

وزیر خارجہ نے امریکی ایوان نمائندگان کی قائمہ کمیٹی برائے امور خارجہ کے چیئرمین کو دنیا بھر میں اسلاموفوبیا کے بڑھتے ہوئے رجحان پر پاکستان کی تشویش سے آگاہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان، اقوام متحدہ سمیت مختلف عالمی فورمز پر، نفرت آمیز بیانیے اور اسلاموفوبیا کے بڑھتے ہوئے رجحان کے خلاف مسلسل آواز اٹھا رہا ہے۔ اسلاموفوبیا کے تدارک اور “پرامن بقائے باہمی” کو یقینی بنانے کیلئے عالمی برادری کو مشترکہ اقدامات اٹھانا ہوں گے۔

چیئرمین امریکی پارلیمنٹ فارن افیرز کمیٹی نے کہا کہ پاکستان خطے کا اہم ملک ہے۔ خطے میں امن و استحکام کیلئے پاکستان کی کوششیں قابل تعریف ہیں۔ انہوں نے کینیڈا میں مقیم پاکستانی فیملی کے ساتھ پیش آنے والے المناک واقعے اور چار معصوم شہریوں کی ہلاکت پر وزیر خارجہ کیساتھ اظہار تعزیت کیا۔

 

امریکی صدر کی جی سیون اجلاس میں شرکت کیلئے برطانیہ آمد، روسی صدر سے ملاقات طے

واشنگٹن:  امریکی صدر جوبائیڈن جی سیون سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے برطانیہ پہنچ گئے، 16جون کو جنیوا میں روسی صدر پیوٹن سے ملاقات کریں گے۔

امریکی صدر نے رائل ایئر فورس ملڈن ہال بیس پر امریکی فوجیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ یورپی ممالک سے مضبوط اتحاد کو فروغ دینے آئے ہیں۔ بائیڈن نے خطاب میں روس کو خبردار کر دیا، ان کا کہنا تھا کہ روس غلط سرگرمیوں میں ملوث رہا تو اسے نتائج بھگتنا ہوں گے۔

دورے کے دوران امریکا اور برطانیہ کے درمیان نئے اٹلانٹک معاہدے پر بھی اتٖفاق رائے کی امید ہے، جوبائیڈن آج برطانوی وزیراعظم بورس جانسن اور اتوار کو ملکہ برطانیہ سے ملاقات کریں گے۔

صدر جوبائیڈن کو فوجیوں سے باتوں میں مشغول دیکھ کر اہلیہ نے کہا ادھر توجہ دیں، امریکی صدر کو خاتون اول کو سلیوٹ مارنا پڑگیا جس پر محفل کشتِ زعفران بن گئی۔