الطاف حسین کرونا کا شکار، آئی سی یو میں داخل

متحدہ قومی موومنٹ کے بانی الطاف حسین کرونا وائرس کا شکار ہوکر لندن کے اسپتال کے آئی سی یو میں داخل ہیں۔ پارٹی ترجمان نے تصدیق کرتے کردی۔

ایم کیو ایم لندن کے ترجمان قاسم علی رضا نے سماء ڈیجیٹل سے گفتگو میں بتایا کہ الطاف حسین کو 24 روز قبل اسپتال منتقل کیا گیا تھا، اب وہ کافی بہتر محسوس کررہے ہیں۔

رابطہ کمیٹی ایم کیو ایم لندن کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ منگل کو الطاف حسین کے کئی ٹیسٹ کئے گئے، ان کے نتائج سابقہ رپورٹس کے مقابلے میں بہتر آئے ہیں۔

الطاف حسین، جو کسی زمانے میں شہری سندھ کی طاقتور ترین شخصیت تھے،  کو ان کی 22 اگست 2016ء کی متنازع تقریر کے باعث سیاست سے علیحدہ کردیا گیا تھا۔ ان پر پاکستان کیخلاف نعرے لگانے اور پارٹی کارکنان کو میڈیا کے دفاتر میں توڑ پھوڑ کیلئے اکسانے کے الزامات ہیں۔

پارٹی رہنماؤں نے الطاف حسین سے قطع تعلق کرتے ہوئے پارٹی کو لندن کے بجائے پاکستان سے چلانے کا اعلان کیا تھا، جس کا نام ایم کیو ایم پاکستان رکھا گیا۔

الطاف حسین کو 11 جون 2019ء کو لندن میں ان کے گھر پر چھاپے کے دوران 2016ء کی اشتعال انگیز تقریر کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا تاہم بعد ازاں انہیں ضمانت پر رہا کردیا گیا تھا۔

نومبر 2020ء میں پاکستان فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) نے ایم کیو ایم بانی کا نام 1210 افراد پر مشتمل انتہائی مطلوب افراد اور ہائی پروفائل دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کردیا تھا۔ یہ پیشرفت اسلام آباد کی انسداد دہشتگردی کی عدالت کے چند ماہ قبل ان ریمارکس کے بعد سامنے آئی جس میں کہا گیا تھا کہ انہوں نے ایم کیو ایم کے رہنما ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کا حکم دیا تھا۔

دیگر دو ملزمان خالد شمیم اور معظم علی کو 16 ستمبر 2010ء کے واقعے میں ملوث ہونے کا جرم ثابت ہونے پر سزائے موت سنائی گئی تھی۔ الطاف حسین خود پر لگے الزامات کی تردید کرتے ہیں

بجلی کی قیمتوں میں اضافے پر300 یونٹ تک کے گھریلوصارفین کو سبسڈی دینے کا فیصلہ

بجلی کی قیمت میں اضافے کے بعد فی یونٹ قیمت 16 روپے 79 پیسے مہنگی کرنے اور بعض صارفین کو ایک روپے 84 پیسے فی یونٹ سبسڈی دینے کی تجویز پیش، نیپرا 4 فروری کو سماعت کرے گا

اسلام آباد (ویب ڈیسک) حکومت نے300 یونٹ تک کے گھریلوصارفین کو سبسڈی دینے کا فیصلہ کیا ہے، حکومت کی درخواست پر بجلی کی قیمت میں ایک روپے 95 پیسے اضافے کی نیپرا 4 فروری کو سماعت کرے گا،بجلی کی فی یونٹ اوسط قیمت 16روپے 79 پیسے اوربعض صارفین کو ایک روپے 84 پیسے فی یونٹ سبسڈی دینے کی تجویزپیش کی گئی ۔تفصیلات کے مطابق بجلی کی قیمت میں ایک روپے 95پیسے اضافے کی سفارشات کردی گئی ہیں، حکومت کی درخواست پر نیپرا 4 فروری کو سماعت کرے گا،بجلی کی فی یونٹ اوسط قیمت 16روپے 79 پیسے اوربعض صارفین کو ایک روپے 84پیسے فی یونٹ سبسڈی دینے کی تجویزپیش کی گئی ہے،حکومت کی جانب سے 300یونٹ تک کے گھریلوصارفین کو سبسڈی دی جائے گی، بجلی کے 300سے 700یونٹس استعمال کرنے والے صارفین کیلئے48پیسے فی یونٹ اضافے کی تجویز دی گئی ہے۔

700سے زائد یونٹ والے 2روپے 4پیسے اضافے کی تجویز دی گئی ہے۔ٹی اویو آف پیک صارفین کیلئے 3روپے 23پیسے اضافے کی تجویز دی گئی ہے۔دوسری جانب دوسری جانب عوام کو سستی بجلی کی فراہمی کیلئے حکومت نے مزید 18 کمپنیوں سے معاہدے کر لیے۔ حکومتی ٹیم اور مزید 18 آئی پی پیز کے درمیان مذاکرات کامیاب ہو گئے، کیپکو سمیت 18 آئی پی پیز معاہدے پر باضابطہ دستخط کرنے کے لیے تیار ہو گئے۔18 آئی پی پیز میں 1600 میگا واٹ کی کوٹ ادو پاور کمپنی بھی شامل ہے، رضا مند ہونے والے دیگر 17 آئی پی پیز ونڈ پاور یونٹ پر مشتمل ہیں۔ معاہدے کے تحت آئی پی پیز ٹیرف میں کمی اور دیگر رعایتیں دینے پر رضا مند ہو گئے ہیں، چیئرمین واپڈا مزمل حسین نے معاہدے پر دستخط کی تقریب میں شرکت کی۔حکومت کے ساتھ باضابطہ معاہدے پر دستخط وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد ہوں گے، واضح رہے کہ اب تک 41 آئی پی پیز ٹیرف میں کمی اور رعایتوں پر متفق ہو چکے ہیں، مجموعی طور پر 47 آئی پی پیز کے ساتھ حکومت نے بات چیت کی ہے۔یاد رہے کہ ستمبر 2020 میں عالمی بینک نے پاکستان میں متبادل توانائی کے منصوبوں کے لیی45 کروڑ ڈالر فنڈنگ کی منظوری دی تھی، اس رقم سے خیبر پختون خوا کے پن بجلی اور شمسی توانائی کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کی جائے گی، جب کہ متبادل توانائی کے ان منصوبوں سے سستی اور ماحول دوست بجلی کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔

جنوبی افریقہ کم بیک کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، بابراعظم

قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان بابراعظم کا کہنا ہے کہ جنوبی افریقہ کرکٹ ٹیم باؤنس بیک کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، ہم ٹیسٹ سیریز جیتنے کیلیے برعزم ہیں۔

بابراعظم نے آن لائن پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ روالپنڈی ٹیسٹ میں کنڈیشنز کو دیکھ کر پلئینگ الیون کا اعلان کرینگے۔ یہاں کا موسم کراچی سے مختلف ہے تو فاسٹ بولرز اپنا رول پلے کرسکتے ہیں۔

بابر نے عبداللہ سفیق اور سعود شکیل کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ ڈومیسٹک میں اچھی پرفارمنس دے چکے ییں، منجمنٹ نے نوجوان کرکٹرز سے کہا ہے کہ اپنا نیچرل گیم کھلیں اور پرفارم کریں۔

انھوں نے اپنی پرفارمنس کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا میری کوشش ہوگی کہ بڑی اننگز کھیلوں اور مری پرفارمنس سے ٹیم سیریز جیتے۔ بابر نے کہا کہ کپتانی کو انجوائے کرتا ہوں، سینئیرز اور جونئیرز سپورٹ کررہے ہیں۔

 بابراعظم نے مزید کہا کہ فواد عالم اور اظہر کو کریڈٹ دیتا ہوں کہ انھوں اچھی پاٹنرشپ کے ذریعے کراچی ٹیسٹ جتوایا، دونوں نے اپنے تجربے کی بنیاد پر ٹیم کو مشکلات سے نکالا۔

نیب کا خواجہ سعد رفیق کو کلین چٹ دینے کا فیصلہ

نیب لاہور نے حافظ آباد ٹرین حادثے کی تحقیقات مکمل کر لیں، لیگی رہنما کیخلاف کوئی ثبوت نہ ملا

لاہور (ویب ڈیسک ) نیب کا خواجہ سعد رفیق کو کلین چٹ دینے کا فیصلہ۔ تفصیلات کے مطابق مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما اور سابق وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق کیلئے بڑی خوشخبری سامنے آئی ہے۔ نیب کی جانب سے لیگی رہنما کیخلاف اہم ترین کیس بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس حوالے سے ذرائع کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ خواجہ سعد رفیق کیخلاف نیب لاہور نے حافظ آباد ٹرین حادثے کی تحقیقات شروع کر رکھی تھیں، جو اب مکمل کر لی گئی ہیں۔سابق وزیر ریلوے پر الزام تھا کہ ٹرین حادثے کی انکوائری ٹھیک نہیں کرائی گئی تھی۔ سال 2015 میں پاکستان ریلوے کی ٹرین کو پیش آئے خوفناک حادثے میں کئی فوجی افسران اور عام شہری جاں بحق ہوگئے تھے۔ چھناواں پل ٹوٹنے سے ٹرین کا انجن اور تین بوگیاں لوئر چناب نہر میں جا گریں تھیں۔

اس خوفناک حادثے میں پاک فوج کے 4افسران،1 افسر کی اہلیہ، 2 بچے، 1صوبیدار میجر، 5 سپاہی، 3 عام شہریوں سمیت کل 16 افراد جاں حق ہوئے تھے۔

واقعے کے بعد اس وقت کے وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق پر سنگین الزامات عائد کیے گئے تھے۔ سعد رفیق پر الزام عائد کیا گیا کہ انہوں نے تحقیقات پر اثرانداز ہو کر حادثے کے اصل ذمے داران کو بچایا۔ تاہم اب ذرائع کا کہنا ہے کہ نیب کو تحقیقات میں خواجہ سعد رفیق کے انکوائری پر اثر انداز ہونے کے شواہد نہیں ملے۔ اسی لیے نیب کے پراسکیوشن ونگ نے تجویز دی ہے کہ خواجہ سعد رفیق کیخلاف انکوائری بند کردی جائے۔ اس حوالے سے نیب کی جانب سے جلد باقاعدہ اعلامیہ جاری کیے جانے کا امکان ہے۔ نیب کے اس فیصلے کو خواجہ سعد رفیق کیلئے بڑا سیاسی ریلیف بھی قرار دیا جا رہا ہے۔

کورونا وائرس: سعودی عرب نے پاکستان سمیت 20 ممالک سے مسافروں کی آمد پر پابندی لگادی

سعودی عرب نے 20 ممالک سے مسافروں کے داخلے پر پابندی عائد کردی جس میں پاکستان بھی شامل ہے تاہم اس پابندی سے سفارت کاروں، سعودی شہریوں اور کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے میں معاونت کرنے کے لیے ڈاکٹروں اور ان کے اہلِ خانہ کو استثنٰی حاصل ہے۔

سرکاری خبررساں ادارے سعودی پریس ایجنسی کے مطابق سعودی وزارت داخلہ نے اعلان کیا ہے کہ یہ ‘عارضی پابندی’ بدھ کے روز صبح 9 بجے سے نافذ العمل ہوگی۔

علاوہ ازیں اس پابندی کا اطلاق پڑوسی ممالک مصر اور متحدہ عرب امارات سے لے کر خطے میں لبنان اور ترکی تک ہوگا۔ یورپ میں جن ممالک سے مسافروں کی آمد پر پابندی ہوگی ان میں برطانیہ، فرانس، جرمنی، آئرلینڈ، اٹلی، پرتگال، سویڈن اور سوئٹزرلینڈ شامل ہیں۔

ان کے علاوہ امریکا، ارجنٹینا، برازیل، پاکستان، بھارت، انڈونیشیا،جاپان اور جنوبی افریقہ بھی اس فہرست میں شامل ہیں۔

سعودی عرب کے سفارت خانے نے اس سلسلے میں وزارت خارجہ کو ایک خط بھی ارسال کیا ہے جس کی ایک نقل ڈان کے پاس دستیاب ہے۔

خط میں کہا گیا ہے کہ ‘ان میں دیگر ممالک سے آنے والے وہ افراد بھی شامل ہیں جو سعودی عرب میں داخلے کی خواہش سے پہلے کے 14 روز کے دوران مذکورہ بالا ممالک سے گزرے ہوں تاہم مملکت سعودی وزارت صحت کے متعین کردہ حفاظتی اقدامات کے تحت ان ممالک سے بلا تعطل سپلائی چین اور شپنگ کی نقل و حرکت یقینی بنائے گی’۔

خط میں کہا گیا کہ اگر سعودی شہری، سفارتکار اور طبی ماہرین اپنے اہلِ خانہ کے ہمراہ مذکورہ بالا ممالک سے آرہے ہوں یا 14 روز کے دوران یہاں سے گزرے ہوں تو انہیں آنے کی اجازت البتہ انہیں سعودی وزارت صحت کے ایس او پیز اور حفاظتی اقدامات پر عمل کرنا ہوگا۔مطابق پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز کے ترجمان نے کہا کہ سعودی عرب نے پاکستان سے مسافروں کی آمد پر 3 فروری کی صبح 9 بجے سے دوبارہ پابندی عائد کردی ہے جس کے بعد کوئی مسافر پاکستان سے سعودی عرب سفر نہیں کرسکتا۔

 

اس پابندی سے قبل پی آئی اے کی پروازیں سیالکوٹ سے دمام، ملتان سے مدینہ اور اسلام آباد سے ریاض کے لیے معمول کے مطابق اڑان بھر رہی تھیں۔

ترجمان نے مزید بتایا کہ پی آئی اے سعودی عرب سے مسافروں کو واپس پاکستان لانے کے لیے پروازیں جاری رکھے گی تاہم جن مسافروں نے پاکستان سے سعودی عرب جانے کے لیے نشستیں بک کروائیں تھیں انہیں سعودی پابندی سے مطلع کردیا گیا ہے۔

قبل ازیں اتوار کے روز سعودی وزیر صحت کی جانب سے انتباہ جاری کیا گیا تھا کہ اگر شہریوں اور مقیم افراد نے صحت سے متعلق ہدایات پر عمل نہیں کیا تو نئی کورونا وائرس پابندیاں لگائی جاسکتی ہیں۔

سعودی عرب میں اب تک کورونا وائرس کے 3 لاکھ 68 ہزار کیسز اور 6 ہزار 400 اموات ہوچکی ہیں جو خلیجی ممالک میں سب سے بڑی تعداد ہے۔

 

جنوری کے آغاز میں یومیہ رپورٹ ہونے والے کیسز کی تعداد 100 سے کم ہوگئی ہے جو کہ جون میں سب سے زیادہ 5 ہزار کیسز یومیہ تک پہنچ گئی تھی تاہم اب نئے یومیہ کیسز بڑھ گئے ہیں اور منگل کے روز 310 کیسز سامنے آئے۔

خیال رہے کہ سعودی عرب نے فائزر-بائیواین ٹیک ویکسین کی پہلی شپمنٹ موصول ہونے کے بعد 17 دسمبر سے کورونا وائرس ویکسینیشن مہم کا آغاز کیا تھا۔

قومی ٹیم پنڈی ٹیسٹ جیت کر سیریز بھی نام کرے گی: شاداب خان

قومی کرکٹر شاداب خان کا کہنا ہے کہ پاکستان ٹیم پنڈی ٹیسٹ میں بھی اچھا پرفارم کرے گی اور ٹیسٹ جیت کر سیریز اپنے نام کرے گی۔

‏ شاداب خان دورہ نیوزی لینڈ میں فٹنس مسائل سے دوچار ہو ئے تھے اور اسی وجہ سے وہ ان دنوں ری ہیب مکمل کر رہے ہیں اور پاکستان اسکواڈ کا حصہ نہیں ہیں۔

جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے ‏ شاداب خان نے کہا کہ ٹیم میں نہ ہونے سے فرسٹریشن تو ہوتی ہے لیکن جو چیز میرے ہاتھ میں نہیں ہے میں اس کی ٹینشن نہیں لیتا، فٹنس یا انجری میرے ہاتھ میں نہیں البتہ ضرور جلد ٹیم کا حصہ ہوں گا۔

انہوں نے کہا کہ  میں نہیں کھیل پا رہا تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ٹیم اچھا نہیں کھیل رہی، پاکستان ٹیم اس وقت بہت اچھا کھیل رہی ہے، ٹیم نے کراچی ٹیسٹ میں بھی فائٹ کی اور کامیابی حاصل کی، ہم پنڈی ٹیسٹ جیتیں گے اور سیریز بھی اپنے نام کریں گے۔

‏ پاکستان سپر لیگ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہو ئے اسلام آباد یونائیٹڈ کے کپتان شاداب خان نے کہا کہ پی ایس ایل میں کراؤڈ نہ ہوا تو اسے مس کریں گے کیونکہ فینز بڑی تعداد میں اسٹیڈیمز آتے ہیں اور وہ کھلاڑیوں کو اسپورٹ کرتے ہیں جس سے حوصلہ افزائی ہو تی ہے، ہمیں امید ہے کہ فینز کو اسٹیڈیمز میں آنے کی اجازت ملے گی اور وہ ہمیں اسپورٹ کریں گے۔

قومی کرکٹر کا کہنا تھا کہ حسن علی کی ہمیں اپنی ٹیم میں ضرورت تھی اس لیے انہیں اسلام آباد یونائیٹڈ میں لیا،  ہم دوست سب ایک جگہ ا کٹھے ہو گئے ہیں، یہ اپنی جگہ درست بات ہے لیکن سب سے بڑھ کر یہ چیز ہے کہ حسن علی اچھا پرفارم کرتے ہو ئے آرہے ہیں، وہ اسی طرح پرفارم کریں گے اور ہمیں پی ایس ایل کا چیمپئین بنانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔

ن لیگی باغی ارکان نے نواز شریف کو را کا ایجنٹ قرار دیدیا،میاں صاحب سچے ہیں تو عدالتوں کا رخ کریں، جلیل شرقپوری

پاکستان مسلم لیگ ن کے باغی رہنما نشاط ڈاہا نے نواز شریف کو را کا ایجنٹ قرار دیا . تفصیلات کے مطابق لاہور میں وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار سے ملاقات کے بعد نیوز کانفرنس کرتے ہوئے ناراض لیگی ارکان نے اپنی توپوں کا رخ مریم نواز اور نواز شریف کی جانب کر دیا .

ناراض رہنما جلیل شرقپوری نے کہا کہ میاں صاحب سچے ہیں تو عدالتوں کا رخ کریں. اس میں کوئی بری بات نہیں.میاں صاحب کے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہے تو میدان میں رہیں.اگر نواز شریف وطن واپس نہیں آتے تو ہم سمجھتے ہیں کہ دال میں کچھ کالا ہے،

جلیل شرقپوری نے مزید کہا کہ اکثریت عمران خان اور عثمان بزدار کے پاس ہے اگر موکودہ حکومت سے مہنگائی کنٹرول نہیں ہوتی تو اگلے الیکشن میں عوام ان سے جواب لے گی. ناراض رہنما اشرف انصاری نے کہا کہ ہم نے اس ملک اور پارٹی کے لیے اپنا خون دیا ہے.

جس پارٹی کے لیے خون دیا اس پر اب میاں صاحب آپ کو قبضہ نہیں کرنے دیں گے.اور نہ ہی میاں صاحب کو ملک میں عورت کی حکمرانی کی راہ ہموار نہیں کرنے دیں گے.لندن میں بیٹھ کر نواز شریف ملکی سلامتی کے اداروں پر الزام لگا رہے ہیں، قیادت کو ایسی باتیں زیب نہیں دیتیں.اشرف انصاف نے نواز شریف پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ نواز شریف نے ثابت کر دیا کہ وہ قیادت کے اہل نہیں رہے بلکہ کبھی تھے ہی نہیں. پرویز مشرف کا دور میں بھی نواز شریف ساتھیوں کو چھوڑ کر چلے گئے اور قوم سے کہا کہ ہمیں جلا ونی پر مجبور کیا گیا بعد میں پتہ چلا معاہدہ کر کے چلے گئے،باغی رہنما نشاط ڈاہا کا کہنا تھا کہ نواز شریف را کے ایجنٹ ہیں، کہاں ایسا ہوتا ہے کہ جہاز کے جہاز بغیر ویزے کے آئیں اور شادی کھائیں اور واپس چلے جائیں.نشاط ڈاہا نے سعد رفیق پر بسوں سے بھتہ لینے کا بھی الزام عائد کیا.

فضل الرحمن نے کبھی راولپنڈی کی جانب مارچ کی بات نہیں کی، دوستوں کا خیال تھا استعفے دیدئیے جائیں، سندھ حکومت ختم ہوجائے تو سینٹ الیکشن نہیں ہوپائیگا، قمر زمان کائرہ کی چینل۵ کے پروگرام” ضیاءشاہد کے ساتھ“میں گفتگو

لاہور (ویب ڈیسک)چینل۵ کے تجزیوں اور تبصروں پر مشتمل پروگرام ”ضیاءشاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے قمر زمان کائرہ نے کہا کہ ہم نے حکومت کو 31 جنوری کی ڈیڈلائن دی تھی جس کے بعد طے ہوا تھا کہ مل کر فیصلہ کریں گے۔ کہ لانگ مارچ کب کرنا ہے۔ استعفے کب دینے ہیں۔ ہم اپنی بات پر قائم ہیں۔ 4فروری کو ہمار اجلاس ہے۔ ہمارے دوستوں کا خیال تھا کہ استعفے دے دیے جائیں۔ سندھ حکومت ختم ہوجائے تو سینٹ الیکشن نہیں ہو پائے گا۔ جبکہ ہمارا موقف تھا کہ ایسا نہیں ہوگا۔ ہمیں سینٹ الیکشن میں حصہ لینا چاہیے۔ اور ہمارے چوٹی کے وکلاءنے بھی رائے دی کہ سینٹ الیکشن ہرصورت ہوں گے۔ چاہے سند حکومت ختم بھی ہوجائے۔ مولانا فضل الرحمن نے کبھی بھی راولپنڈی کی جانب مارچ کی بات نہیں کی۔ استعفے دینا آخری آپشن ہوگا۔ حکومت چاہتی ہے کہ اپوزیشن اتحاد منتشرہوجائے۔

شوگر سے 45منٹ میں چھٹکارہ،برطانیہ نے علاج دریافت کر لیا

سائنٹیفک رپورٹس میں آج شائع ہونے والی یہ دریافت ذیابیطس کے بہتر علاج کے ل  کھول سکتی ہے۔

یہ مطالعہ امپیریل کالج لندن ، اور نوٹنگھم اور مانچسٹر کی یونیورسٹیوں کے ساتھ ، ڈائمنڈ لائٹ ماخذ کے ساتھ کیا گیا تھا۔

گلیسین ایک مصنوعی تیزی سے اداکاری کرنے والا مصنوعی انسولین ہے جسے سنوفی-ایوینٹس نے تیار کیا ہے – آپیڈرا کے تجارتی نام کے ساتھ۔ یہ بالغوں اور ذیابیطس والے بچوں میں بلڈ شوگر کنٹرول کو بہتر بنانے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔

اس نئی تحقیق میں ، سائنس دانوں نے گلیسین کے عین مطابق ڈھانچے کو قائم کرنے کا آغاز کیا ، اور یہ کہ اس ڈھانچے سے جسم میں برتاؤ کرنے کے انداز کو کیسے متاثر کیا جاسکتا ہے۔

اس ٹیم کا مقصد یہ تھا کہ اس کے ڈھانچے کی جانچ کرکے ذیابیطس کے انتظام میں گلوئسین کیا بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ ان نتائج سے ممکنہ طور پر مریضوں کے لئے بہتر مصنوعی انسولین پیدا ہوسکتی ہے ، جس کے کم ضمنی اثرات ہیں۔

پاکستان بھر میں کورونا سے بچاؤ کی ویکسین لگانے کے عمل کا آغاز

ملک بھر میں ہیلتھ ورکرز کو کورونا ویکسین لگانے کے عمل کا آغاز کردیا گیا۔

اسلام آباد میں نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) میں ہیلتھ ورکرز کو کورونا ویکسین دینے کا آغاز ہوا جہاں مرکزی تقریب میں چاروں وزرائے اعلیٰ، وزیراعظم آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے وزیراعلیٰ بھی ویڈیو لنک کے ذریعے شریک ہوئے۔

این سی او سی میں ہیلتھ ورکرز کو کورونا ویکسین دی گئی اور اس موقع وفاقی وزیر اسد عمر، فواد چوہدری، چینی سفیر اور این سی او سی کے حکام سمیت طبی عملہ بھی موجود تھا۔

این سی اوسی میں پمز اسپتال کی انچارج نرس رضوانہ یاسمین، ڈی ایچ او آفس اسلام آبادکے جاوید اقبال اور نجی اسپتال کےفہد محمودکو ویکسین لگائی گئی۔

اس کے علاوہ کراچی میں وزیراعلیٰ سندھ نے اوجھا اسپتال میں ویکسی نیشن کا آغاز کیا  جہاں تقریب میں گفتگو کرتے ہوئے صوبائی وزیر صحت نےکہا کہ ویکسین لگانا قومی فریضہ ہے تاہم ویکسین لگانے کے بعد بھی ماسک کا استعمال ضرور کیا جائے۔

ادھر کے پی کے میں  محمود خان نے ویکسی نیشن کے عمل کا افتتاح کیا اور طبی عملے کو شیلڈز تقسیم کیں۔

کوئٹہ میں  انسداد کورونا ویکسی نیشن پروگرام کی تقریب وزیراعلیٰ سیکریٹریٹ میں ہوئی جہاں جام کمال نے ویکسی نیشن کا افتتاح کیا۔

بلوچستان میں کورونا سے بچاؤ کی پہلی ویکسین پی ایم اے کے صدر ڈاکٹر آفتاب کو لگائی گئی اور دوسری ویکسین ڈاکٹر نوراللہ موسی خیل کو لگائی گئی۔

واضح رہے کہ منگل کو وزیراعظم عمران خان نے کورونا ویکسینشن مہم کا آغاز کیا تھا۔

پی ڈی ایم کا استعفے دینے اور لانگ مارچ پر مکمل اتفاق ہے، مریم نواز

مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز شریف نے اپنے طنزیہ ٹویٹ میں کہا ہے کہ بتاتے ہیں استعفے کیا ہوتے ہیں، تھوڑا صبر تو کرو۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر جاری بیان میں مریم نواز شریف نے لکھا کہ ہمارے استعفے “ایماندار بندے” جیسے نہیں ہوں گے کہ سپیکر بلائے تو غائب ہو جاؤ۔

مریم نواز شریف کا کہنا تھا کہ سڑک پر کھڑے ہو کر صبح شام اسمبلی کو گالیاں دیتے رہو، پھر اُسی اسمبلی میں آ بیٹھو اور سال بھر کی غیر حاضری کی تنخواہیں اور الاؤنسز بھی وصول کرلو۔

اس سے قبل اپنے ایک بیان میں مریم نواز نے کہا کہ تنقید برائے تنقید نہیں کرتے، ہر روز مہنگائی میں اضافے پر تکلیف ہے۔ لوگ موجودہ حکومت کو بددعائیں دے رہے ہیں۔ لانگ مارچ پر تمام پی ڈی ایم جماعتوں کا اتفاق ہے، ن لیگ اور دیگر جماعتیں استعفے دینے پر یقین رکھتی ہیں۔

اسلام آباد روانگی سے قبل لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ایک نالائق اور نااہل شخص کو اقتدار میں لایا گیا۔ وزیراعظم کی ترجیحات صرف اپوزیشن کو تنقید کا نشانہ بنانا ہے، عوام کی ذمہ عمران خان کی ترجیحات میں شامل نہیں، عوام کو وہ جواب دیتے ہیں جنہیں منتخب کریں، ہر روز مہنگائی میں اضافہ ہو رہا ہے، لوگ بلبلا اٹھے ہیں۔

مریم نواز کا کہنا تھا کہ ملک پر قبضہ مافیا مسلط ہے، حکومتی بے حسی اور نالائقی زیادہ دیر چل نہیں سکتی، آئینی دائرہ کار سے باہر رہ کر کوئی غلط کام ہوگا تو تنقید کریں گے، 4 فروری کو پی ڈی ایم کا سربراہی اجلاس ہوگا، اس میں لائحہ عمل بنائیں گے، بلاول بھٹو تحریک عدم اعتماد اور ان ہاؤس تبدیلی کی بات کریں گے تو غور کیا جائے گا، اجلاس میں استعفوں کا کیا طریقہ کار ہوگا اس کا فیصلہ کیا جائے گا، لانگ مارچ اور دھرنا کتنے وقت کے لئے ہوگا، یہ بیٹھ کر طے کریں گے۔

لیگی رہنما نے مزید کہا کہ اللہ نہ کرے عوام پر حکومت کا عذاب رہے، میرا نہیں خیال مہنگائی کر کے حکومت پانچ سال پورے کرلے گی۔

پاکستان مخالف پروپیگنڈا مہم کے بھارتی مہرے بے نقاب، مہدی شاہ کا بھارت کے ہاتھوں استعمال ہونے کا اعتراف

اسلام آباد : بھارت کی گلگت بلتستان میں شر انگیزیوں کے شواہد سامنے آگئے ، گلگت بلتستان کے نوجوان مہدی شاہ رضوی نے پاکستان مخالف بیانیے کے لیے ہندوستان کے ہاتھوں استعمال ہونے کا اعتراف کر لیا۔

تفصیلات کے مطابق ہندوستان کے تمام مہرے ایک ایک کر کے بے نقاب ہورہے ہیں ، بھارت کی گلگت بلتستان میں شر انگیزیوں کے شواہد اور ہندوستان کی پاکستان مخالف پروپیگنڈا مہم کے کردار سامنے آ گئے۔

ای یوڈس انفو لیب کےمرکزی کردار ایک ایک کر کے منظر عام پرآناشروع ہوگئے ہیں ، گلگت بلتستان کے نوجوان مہدی شاہ رضوی کوبھارتی پراکسیزاستعمال کرتی رہیں ، سید حیدر شاہ رضوی مرحوم کےبیٹےمہدی شاہ رضوی نےاعتراف کر لیا ہے۔

مہدی شاہ رضوی نے بتایا مافیاز نے والدکوگمراہ کر کےپاکستان مخالف بیانیےپرمجبورکیا، پیسے کمائے او ر پھر وہی کہانی اِن کے ساتھ بھی دہرائی گئی۔

اسکاٹ لینڈ میں مقیم ڈاکٹرامجد ایوب مرزا ، برطانیہ میں مقیم سجاد راجہ اورشوکت کشمیری بھی ملوث نکلے، تینوں افراد جی بی کے عوام کو پاکستان مخالف بیانیے کیلئے استعمال کررہے تھے۔

سید حیدر شاہ رضوی کی موت کو ایجنسیوں پرڈال کر بیٹے کو ورغلایا گیا ، مہدی شاہ نے پاکستان مخالف بیانیہ اپنا کرفرانس میں سیاسی پناہ کی درخواست دی

ہارس ٹریڈنگ روکنا الیکشن کمیشن کا کام، آئین کسی ممبر کو پارٹی لائن کیخلاف ووٹ دینے سے نہیں روکتا، سپریم کورٹ

اسلام آباد: سپریم کورٹ کے جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے ہیں کہ آئین کسی ممبر کو پارٹی لائن کے خلاف ووٹ دینے سے نہیں روکتا۔

سپریم کورٹ میں سینیٹ انتحابات سے متعلق صدارتی ریفرنس پر سماعت ہوئی۔ وکیل رضا ربانی نے کہا کہ معاملہ پارلیمنٹ میں آچکا ہے، حکومت بھی سمجھتی ہے کہ آئین میں ترمیم کرنا ہوگی، ایسا نہ ہو کہ دو آئینی ادارے آمنے سامنے آجائیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ حکومت ریفرنس واپس لے تو ٹھیک ورنہ عدالت اپنی رائے دے گی، آپ کی بات مان لیں تو آرٹیکل 186 غیر موثر ہو جائے گا۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ ریفرنس پر جواب دینے کے سو راستے ہوسکتے ہیں، ایک راستہ ہے کہ آئینی ترمیم کی ضرورت نہیں، دوسرا راستہ ہے کہ آئینی ترمیم کرنا ہو گی، دونوں صورتوں میں عدالت اور پارلیمان آمنے سامنے کیسے ہوں گے؟، کیا آئین کی تشریح کرنا عدالت کا کام نہیں؟۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ اٹھارہویں ترمیم میں 101 آرٹیکلز ترمیم کیے گئے جبکہ میثاق جمہوریت میں کیا گیا وعدہ پورا نہیں کیا گیا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ بدقسمتی سے ہمارے ملک کی سیاست ایسی ہی ہے۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ اپوزیشن چاہتی ہے ایوان بالا میں ووٹ فروخت کرنے دیے جائیں، ہر لڑائی فتح کے لیے نہیں لڑی جاتی، یہ سیاست نہیں کچھ اور ہی چل رہا ہے۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ اپوزیشن اوپن بیلٹ پر متفق کیوں نہیں ہورہی؟۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ اپوزیشن دس سال پہلے متفق تھی اب وعدہ پورا نہیں کر رہی۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ عام انتخابات کے ووٹ بھی الیکشن کمیشن دھاندلی کے الزامات پر کھولتا ہے، ووٹ کے کاؤنٹر فائل پر بھی شناختی کارڈ نمبر لکھا ہوتا ہے۔

اٹارنی جنرل نے موقف اختیار کیا کہ اوپن بیلٹ میں پرچی کے پیچھے ووٹر کا نام لکھا ہوگا، اٹھارویں ترمیم میں میثاق جمہوریت لکھنے والے کیوں بھول گئے، اٹھارویں ترمیم اور میثاق جمہوریت کرنے والے عدالت اور تاریخ کو جوابدہ ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ آئین میں الیکشن کا طریقہ کار درج نہیں تو پارلیمان قانون سازی کرسکتی ہے۔

اس پر اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ بل پارلیمنٹ پر ہو تب بھی عدالت ریفرنس پر رائے دے سکتی ہے، حسبہ بل کیس میں عدالت گورنر کو بل پر دستخط سے بھی روک چکی ہے۔

اعجاز الاحسن نے کہا کہ ہارس ٹریڈنگ اور ووٹوں کی خریدو فروخت روکنا الیکشن کمیشن کا کام ہے، آئین کسی ممبر کو پارٹی لائن کے خلاف ووٹ دینے سے نہیں روکتا۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ الیکشن کمیشن تو خفیہ ووٹنگ کے حق میں ہے، الیکشن کمیشن نے الگ سے وکیل بھی مقرر کیا ہے۔ صدر ، وزیراعظم اور وزراء اعلی کے انتحابات کا الیکشن ایکٹ میں کوئی ذکر نہیں، آئین میں صرف سینیٹ کی تشکیل کا ذکر ہے، اختیار استعمال کرنا آتا ہو تو الیکشن کمیشن بہت طاقتور ادارہ ہے، اوپن بیلٹ صرف شفافیت کے لیے چاہتے ہیں، ایم پی اے کو عوام کو بتانا چاہیے کہ اس نے ووٹ کس کو دیا۔

چیف جسٹس نے پوچھا کہ کیا اوپن بیلٹ میں پارٹی لائن سے ہٹ کر ووٹ نہیں دیا جائے گا۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ الیکشن کمیشن چاہتا ہے کسی طرح بھی ہو اوپن بیلٹ سے الیکشن نہ ہو، جے یو آئی اور جماعت اسلامی نے ریفرنس کی مخالفت کی ہے، کم از کم پارٹی کو علم ہو گا کس نے ووٹ کس کو دیا، سیاسی جماعتیں پارٹی لائن کے خلاف ووٹ دینے والوں کو ٹکٹ نہیں دیں گی۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ووٹ فروخت کرنے کا نتیجہ کیا نکلے گا؟ ثابت کرنا ہوگا کہ پارٹی کے خلاف ووٹ دینے والے نے ضمیر بیچا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن نے صدارتی ریفرنس کی مخالفت نہیں کی۔