‘فوج کے خلاف بھارت کی پروپیگنڈا مشین جیسی زبان استعمال ہورہی ہے’

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ملک کی تاریخ میں جس طرح سیاسی اپوزیشن جماعتوں نے فوج پر حملہ کیا وہ اس سے پہلے کبھی نہیں ہوا اور وہ زبان استعمال کی جارہی ہے جو بھارت کی پروپیگنڈا مشین پاکستان کے خلاف استعمال کرتی ہے۔

چکوال میں یونیورسٹی کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ اس سے قبل جنرل (ر) پرویز مشرف پر تنقید کی جاتی تھی لیکن وہ سیاسی شخصیت تھے کیوں کہ وہ ملک کے سربراہ بن چکے تھے۔

وزیراعظم نے کہا کہ یورپی یونین کی ڈس انفو لیب نے انکشاف کیا کہ ہندستان نے 700 جعلی نیوز ویب سائٹس بنا رکھی تھیں جس میں مردہ اشخاص کے ناموں کو بھی استعمال کیا اور اس کا واحد مقصد یہ تھا کہ پاکستان کو دنیا میں برے انداز میں پیش کیا جائے تا کہ باہر سے کوئی پاکستان میں سرمایہ کاری نہ کرے۔

وزیراعظم نے مزید کہا کہ خاص طور پر پاکستانی فوج کو ہدف بنایا گیا کیوں کہ بھارت طویل عرصے سے چاہتا ہے کہ پاکستانی فوج کمزور ہو اور ان کی پوری منصوبہ بندی ہے کہ دنیا میں پاکستانی فوج کو اس طرح پیش کیا جائے کہ جیسے وہ دہشت گرد ہیں جبکہ نریندر مودی تو گزشتہ آرمی چیف کو دہشت گرد کہہ بھی چکا ہے۔

وزیراعطم نے کہا کہ بدقسمتی سے معلوم ہوا کہ یہ جعلی نیوز سائٹس اپوزیشن کی اس پی ڈی ایم کو بھی فروغ دے رہے تھے اور کئی ایسے صحافی بھی ہیں جو اس ڈس انفارمیشن کا حصہ تھے اور پی ڈی ایم کو سپورٹ کرتے تھے۔

انہوں نے کہا کہ پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ پاکستان کی اپوزیشن پہلی مرتبہ اس طرح پاکستانی فوج ، آرمی چیف، آئی ایس آئی چیف کو اس طرح ہدف بنا رہی ہے اس سے قبل اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔

ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کا مؤقف یہ ہے کہ الیکشن میں فوج نے دھاندلی کروائی اس لیے حکومت سلیکٹڈ لیکن کوئی ان سے پوچھے کہ اگر انتخابات می دھاندلی ہوئی ہے تو کیا آپ الیکشن کمیشن، سپریم کورٹ گئے یا پارلیمنٹ میں آئے کسی فورم پر آپ نے کہا کہ دھاندلی ہوئی ہے۔

عمران خان نے کہا کہ امریکی انتخابات میں جب ری پبلکنز نے کہا کہ دھاندلی ہوئی ہے تو میڈیا پہلے کہتا تھا کہ انہوں نے ابھی تک کوئی ثبوت نہیں دیے۔

بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نہ دھاندلی کے کوئی ثبوت دیے نہ کسی فورم پر گئے اور پاکستانی فوج پر حملہ کرنا شروع کردیا کہ وہ ایک سیلیکٹڈ حکومت لے کر آئے۔

ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے ملک میں بدترین کرپشن کی، آصف زرداری کو نواز شریف نے کرپشن ہر پی جیل میں ڈالا تھا، انہی دونوں جماعتوں کی وجہ سے ملکی قرضے میں اضافہ ہوا، جبکہ مولانا فضل الرحمٰن نے خود فیصلہ کرلیا کہ میں صادق و امین ہوں اور کسی کو جوابدہ نہیں۔

انہوں نے کہا کہ ‘خود کو جمہوریت پسند کہلانے والے کہتے ہیں کہ جمہوری حکومت گرا دو، اپوزیشن کا صرف ایک مطالبہ ہے کسی طرح انہیں این آر او دے دیں لیکن کسی نے انہیں این آر او دیا تو وہ کام کرے گا جو دشمن کرتا ہو اور کسی نے ان چوروں کو این آر او دیا تو ملک سے غداری کرے گا’۔

مریم نواز اور بلاول بھٹو زرداری پر تنقید کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ کوئی ان سے پوچھے کہ آپ دونوں کی اہلیت کیا ہے؟ دونوں نے زندگی میں ایک گھنٹہ کام نہیں کیا اور ملک چلانے جارہے ہیں، ان دونوں کا تجربہ یہ ہے کہ یہ بڑی شان و شوکت سے پلے بڑھے ہیں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان میں صحت کا نظام 10 سال میں ایسا ہوگا جو امیر ترین ملکوں کا بھی نہیں ہوگا، نجی ہسپتالوں کے لیے کم قیمت پر زمینیں فراہم کریں گے جبکہ پوری کوشش ہے کہ اسکولوں کو ڈی سینٹرلائز کردیں۔

اداکارہ سارہ خان کے والد انتقال کر گئے

حال ہی میں گلوکار فلک شبیر کے ساتھ رشتہ ازدواج میں منسلک ہونے والی اداکارہ سارہ خان کے والد انتقال کر گئے۔

گزشتہ رات اداکارہ سارہ خان کی شادی کی تمام تر تقریبات میں فوٹوگرافی کرنے والے عبدالصمد ضیاء نے اپنی انسٹاگرام پوسٹ کے ذریعے سارہ خان کے چاہنے والوں کو اس افسردہ خبر سے آگاہ کیا۔

عبدالصمد ضیاء نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ ‘ سارہ خان کے والد کا انتقال ہو گیا ہے، اللہ انہیں اور ان کے گھر والوں کو صبر جمیل عطاء فرمائیں آمین’۔

—اسکرین گریب

دوسری جانب اداکارہ سارہ خان نے بھی انسٹاگرام پر ایک اسٹوری شیئر کی اور بتایا کہ ان کے  والد کا نماز جنازہ نماز ظہر کے بعد ہو گا۔

مولانافضل الرحمن پر اصولی تنقیدکرنے والوں کو پارٹی سے نکالنا آمریت کی بدترین شکل ہے: شبلی فراز

 شبلی فراز کا کہنا ہے کہ مولانافضل الرحمن پر اصولی تنقیدکرنے والوں کو پارٹی سے نکالنا آمریت اور فسطائیت کی بدترین شکل ہے۔ فیصلے نے ثابت کردیا کہ جے یوآئی(ف) میں ڈکٹیٹرشپ مسلط ہے۔ اپنے دیرینہ ساتھیوں کی زرا سی تنقید برداشت نہ کرنے والوں نے قوم کودکھادیا کہ وہ اندر سے کتنے جمہوری ہیں۔

 سماجی ربطہ کی ویب سائٹ ٹویٹر پر لکھا کہ دوسروں کو اسلام کی مثالوں کے حوالے دینے والوں سے پوچھتا ہوں کہ کیا اسلام میں سوال پوچھنے پر ایسا ہی سلوک کیاجاتا ہے؟ آپ کی جماعت میں آزادی اظہارکا یہ عالم ہے؟عہدے بھائیوں اور چہیتوں میں بانٹ کر جماعت پر جمہوریت کا لیبل چپکانے سے لوگوں کو دھوکہ نہیں دیاجاسکتا۔

سابق انگلش بولر اور معروف کمنٹیٹر رابن جیکمین انتقال کر گئے

کیپ ٹاون: انگلینڈ کے سابق فاسٹ بولر اور معروف بین الاقوامی کمنٹیٹر رابن جیکمین انتقال کر گئے۔

1945 میں پیدا ہونے والے سابق فاسٹ بولر رابن جیکمین کو 2012 میں کینسر کی تشخیص ہوئی تھی اور انتقال کے وقت ان کی عمر 75 برس تھی۔

رابن جیکمن نے 1981 میں ٹیسٹ ڈیبیو کیا تھا اور انہوں نے انگلینڈ کی جانب سے 4 ٹیسٹ اور 15 ون ڈے انٹرنیشنل میچز کھیلے تھے۔

انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کے بعد رابن جیکمین کمنٹیری سے وابستہ ہو گئے تھے۔

شاداب سنگین انجری کا شکار، 6ہفتے کرکٹ نہیں کھیل سکیں گے

دورہ نیوزی لینڈ پر انجری کا شکار آل راؤنڈر شاداب خان چھ ہفتوں کے لیے کرکٹ سے دور ہو گئے ہیں اور جنوبی افریقہ کے خلاف سیریز سے بھی باہر ہو گئے ہیں۔

دورہ نیوزی لینڈ کے دوران ٹی20 سیریز میں قومی ٹیم کی قیادت کرنے والے شاداب خان ران کی انجری کا شکار ہوئے اور اسکواڈ کے ترنگا پہنچنے کے بعد ان کی انجری کا ایم آر آئی اسکین کرایا گیا۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق شاداب خان کی بائیں ٹانگ کے ریکٹس فیمورس میں بڑے گریڈ کا ٹیئر ہے جس کے بعد انہیں کم از کم 6 ہفتے آرام کا مشورہ دیا ہے۔

پی سی بی کے معالج ڈاکٹر سہیل سلیم کا کہنا ہے کہ ایم آر آئی اسکین میں تشخیص ہوئی ہے کہ شاداب خان کی یہ انجری پرانی نہیں بلکہ نئی ہے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل زمبابوے کے خلاف ہوم سیریز میں بھی شاداب خان انجری کی وجہ سے شرکت نہیں کر سکے تھے۔

ڈاکٹر سہیل سلیم نے کہا کہ ہم اس انجری کے حوالے سے احتیاط برتنا چاہتے ہیں لہٰذا انہیں چھ ہفتے کا آرام تجویز کیا ہے، میڈیکل پینل شاداب کی انجری کا جائزہ لیتا رہے گا جس کے بعد ان کی مسابقتی کرکٹ میں واپسی کے حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔

انجری کے باوجود شاداب نیوزی لینڈ میں قومی ٹیم کے ہمراہ ہی رہیں گے جہاں پی سی بی کا میڈیکل پینل ان کا ری ہیب پروگرام جاری رکھے ہوئے ہے۔

اس انجری کی وجہ سے شاداب خان نہ صرف نیوزی لینڈ کے خلاف دوسرے ٹیسٹ میچ بلکہ جنوبی افریقہ کے خلاف آئندہ ماہ ہوم سیریز سے بھی باہر ہو گئے ہیں۔ پاکستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان دو ٹیسٹ اور تین ٹی20 میچوں کی سیریز 26 جنوری سے 14 فروری تک کھیلی جائے گی۔

نامور شاعرہ پروین شاکر کی 26 ویں برسی آج منائی جارہی ہے

ملک کی نامور شاعرہ پروین شاکر کی 26 ویں برسی آج منائی جارہی ہے ۔ وہ اپنے خوبصورت اشعار کے ذریعے وہ چمن اردومیں ہمیشہ مہکتی رہیں گی۔اردو ادب کے منفرد لہجے کی حامل پروین شاکر 24نومبر 1952ءکو کراچی میں ایک مذہبی گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ اردو ادب کی منفرد لہجے کی شاعرہ ہونے کی وجہ سے بہت کم عرصے میں اندرون اور بیرون ملک بے پناہ شہرت حاصل ہوگئی، انہیں پرائڈ آف پرفارمنس اور آدم جی ایوارڈز سے بھی نوازا گیا ۔26دسمبر 1994 ءکو شعروں کی مہک بکھیرنے والی شاعرہ اسلام آباد میں ایک ٹریفک حادثے میں شاعری کی دنیا کو سونا کرکے ہمیشہ کیلئے چلی گئیں۔

160 ارکان پنجاب اسمبلی میں سے 159کے استعفے میرے پاس آگئے ہیں: مریم نواز

مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کا کہنا ہے کہ پنجاب کے 160 اراکین اسمبلی میں سے 159 کے استعفے میرے پاس آ گئے ہیں۔

سکھر روانگی سے قبل جاتی عمرہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مریم نواز کا کہنا تھا کہ بینظیر بھٹو شہید نے جمہوریت کے لیے جدوجہد کی اور ملک کیلیے جان دی، میاں نواز شریف اور بی بی شہید نے ملک کے لیے میثاق جموریت کیا، میں اور بلاول میثاق جمہوریت لے کر آگے بڑھیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کے لیے کچھ چیزیں ایسی ہیں جن کے لیے ہم سب پارٹیاں اکھٹی ہیں، مولانا فضل الرحمان اور دیگر پارٹیاں کلیئر ہیں کہ جعلی حکومت سے کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے، حکومت کو این آر اونہیں دیں گے۔

مریم نواز کا کہنا تھا کہ یہ حکومت دھاندلی کی پیداوار ہے، ان کی پرفارمنس بھی خراب ہے، یہ جتنی کوشش کر لیں ناکام ہوں گے اور حکومت کو گھر جانا پڑے گا۔

انہوں نے کہا کہ حکومتی اجلاس میں بات ہوتی ہے کہ فلاں لیڈر پی ڈی ایم کے جلسے میں نہیں آیا لہذا دراڑ پڑ گئی، بلاول مردان میں نہیں آئے تو کہا جاتا ہے پی ڈی ایم میں دراڑ پڑ گئی، مجھے ان لوگوں کی حالت پر ترس آتا ہے۔

محمد علی درانی کی شہباز شریف سے جیل میں ملاقات کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر مریم نواز کا کہنا تھا کہ جیل میں ہوتے ہیں تو معلوم نہیں ہوتا کہ ملاقات کے لیے کون آ رہا ہے، جیل میں آچانک بتایا جاتا ہے کہ کون ملنے آ رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ شہباز شریف اپنے بھائی کے ساتھ وفادار ہیں اور اسی پاداش میں بیٹے کے ساتھ جیل میں ہیں، شہباز شریف وفادار نہ ہوتے تو آج اس نالائق کی جگہ خود وزیراعظم ہوتے، دونوں لیگی ارکان اسمبلی کی نیت پر کوئی شک بھی نہیں کر سکتا۔

ان کا کہنا تھا محمد علی درانی سے پہلے بھی حکومتی وزرا کی جانب سے ہمارے ساتھ رابطے کیے جاتے رہے ہیں، یہ بات واضح ہے کہ اس جعلی حکومت سے کسی قسم کے مذاکرات نہیں ہوں گے، عجیب بات ہے کہ جہاں خاندان والوں کو ملاقات کی اجازت نہیں وہاں دوسروں کی ملاقات کیسے ہو رہی ہے۔

سابق ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی مرتضیٰ جاوید عباسی کے استعفے سے متعلق سوال پر مریم نواز کا کہنا تھا کہ مرتضیٰ جاوید عباسی خود حیران ہیں کہ ان کے استعفے حکومت کے پاس کیسے پہنچے، 31 دسمبر تک استعفے پارٹی قیادت کو جمع کرانے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ مجھے 160 ارکان صوبائی اسمبلی میں سے 159کے استعفے آگئے، استعفے اسپیکر کے پاس جمع کرانے کی تاریخ کا تعین پارٹی خود کرے گی، مسلم لیگ ن کے لوگ پیچھے نہیں ہٹ رہے، لوگ مسلم لیگ ن اور پی ڈی ایم کی طرف دیکھ رہے ہیں۔

جمیعت علما اسلام کے رہنماؤں کو پارٹی سے نکالے جانے سے متعلق سوال پر مریم نواز کا کہنا تھا کہ جے یو آئی کے لوگوں کو توڑنےکی کوشش کی تو بیک فائر ہوا اور انہیں منہ کی کھانی پڑی۔

پہلا ٹیسٹ: ڈراپ کیچز اور ولیمسن، ٹیلر کی بدولت نیوزی لینڈ کی پوزیشن مستحکم

نیوزی لینڈ نے پاکستان کے خلاف پہلے ٹیسٹ میچ میں کپتان کین ولیمسن اور روس ٹیلر کی ذمے دارانہ بیٹنگ کی بدولت میچ کے پہلے دن تین وکٹوں کے نقصان پر 222 رنز بنا کر اپنی پوزیشن مستحکم کر لی ہے۔

ماؤنٹ منگنوئی میں کھیلے جا رہے سیریز کے پہلے ٹیسٹ میچ میں پاکستان کے قائم مقام کپتان محمد رضوان نے ٹاس جیت کر پہلے باؤلنگ کا فیصلہ کیا جو ابتدائی چند اوورز میں بالکل درست ثابت ہوا۔

پاکستان نے باؤلنگ کا آغاز کیا تو اننگز کی پہلی ہی گیند پر ٹام لیتھم آؤٹ ہونے سے بال بال بچے اور گیند گلی کے پاس سے ہوتی ہوئی باؤنڈری پار کر گئی۔

البتہ ایک گیند بعد ہی شاہین آفریدی کی ایک اور گیند کو لیتھم سمجھنے میں ناکام رہے اور سلپ میں اظہر علی کو کیچ دے بیٹھے۔

میچ کے ابتدائی چند اوور میں پاکستانی باؤلرز شاہین شاہ آفریدی اور محمد عباس نے انتہائی نپی تلی باؤلنگ کا مظاہرہ کیا جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ میچ کی پہلی گیند کے بعد ابتدائی 10 اوورز میں کیویز کوئی بھی باؤنڈری نہ مار سکے۔

میچ کے 11ویں اوور کی دوسری گیند پر ٹام بلنڈل نے باہر جاتی ہوئی گیند کو کھیلنے کی غلطی کی جس کے نتیجے میں وہ تیسری سلپ میں کھڑے یاسر شاہ کو کیچ دے بیٹھے۔

نسیم شاہ بدقسمت باؤلر رہے اور ان کی گیند پر دو کیچ ڈراپ ہوئے— فوٹو: اے ایف پی

اس کے بعد کپتان کین ولیمسن کا ساتھ دینے روس ٹیلر اور آئے اور دونوں کھلاڑیوں نے باؤلرز کی نپی تلی باؤلنگ کے باوجود ذمے دارانہ کھیل پیش کرتے ہوئے کھانے کے وقفے تک مزید کوئی وکٹ نہ گرنے دی۔

کھانے کے وقفے سے قبل پاکستان کو کین ولیمسن کی قیمتی وکٹ لینے کا موقع ملا لیکن نسیم شاہ کی گیند پر دوسری سلپ میں موجود شان مسعود کیچ نہ لے سکے۔

نیوزی لینڈ کرکٹ کی اس کامیاب ترین جوڑی نے دوسرے سیشن میں کوئی وکٹ نہ گرنے دی اور عمدہ شراکت قائم کرتے ہوئے ٹیم کو مشکل صورتحال سے نکالا۔

چائے کے وقفے کے بعد شاہین شاہ آفریدی نے پاکستان کو ایک اور اہم کامیابی دلاتے ہوئے 70 رنز بنانے والے روس ٹیلر کی اننگز کا بھی خاتمہ کردیا جنہوں نے ولیمسن کے ساتھ مل کر دوسری وکٹ کے لیے 120رنز کی شراکت قائم کی۔

دوسرے اینڈ سے ولیمسن نے عمدہ بیٹنگ کا سلسلہ جاری رکھا اور پاکستانی فیلڈرز کی مدد سے اننگز جاری رکھنے والے ہنری نکولس کے ساتھ ایک اور اچھی شراکت قائم کی۔

نکولس 7 رنز پر کھیل رہے تھے جب عباس نے ان کا کی ڈراپ کردیا اور اس مرتبہ بھی بدقسمت باؤلر نسیم شاہ ہی تھے۔

شاہین شاہ آفریدی تین وکٹوں کے ساتھ سب سے کامیاب باؤلر رہے— فوٹو: اے ایف پی

پاکستان کو دن کے اختتام سے قبل ایک مرتبہ پھر ولیمسن کو آؤٹ کرنے کا موقع ملا لیکن اس مرتبہ شاہین کی گیند پر پہلی سلپ میں موجود حارث سہیل ان کا کیچ نہ لے سکے۔

جب 87 اوورز کے کھیل کے بعد میچ کے پہلے دن کا کھیل ختم ہوا تو نیوزی لینڈ نے تین وکٹوں کے نقصان پر 222رنز بنائے تھے۔

18 اور 86 رنز پر کیچ ڈراپ ہونے کی بدولت نیوزی لینڈ کے کپتان کین ولیمسن 94 رنز بنا کر ناٹ آؤٹ ہیں جبکہ نکولس 42 رنز کے ساتھ ان کا ساتھ نبھا رہے ہیں۔

پاکستان ی جانب سے شاہن شاہ آفریدی واحد کامیاب باؤلر رہے جنہوں نے تین وکٹیں حاصل کیں۔

عمران خان حکومت نے معاشی کارکردگی کا ایک اور سنگ میل عبور کر لیا،زرمبادلہ ذخائر بلند ترین سطح پر آگئے

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کورونا ‏وائرس کی وبا کے باوجودمعیشت کےبارےمیں اچھی خبر ہےکہ یہ کمال انداز میں بہتر ہو رہی ہے‘زرمبادلہ کے ذخائر تین سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے ہیں ۔منگل کو اپنے بیان میں عمران خان نے کہا کہ کرنٹ اکاؤنٹ نومبر کےدوران بھی 447 ملین ڈالر سر پلس رہا۔گزشتہ مالی سال کے1.7 ارب ڈالر کے خسارےکی بجائے کرنٹ اکاؤنٹ اس سال اب تک 1.6 ارب ڈالرسرپلس ہوچکاہے۔ مرکزی بنک کے ذخائر13 ارب ڈالر تک بڑھ چکےہیں جو 3 برس میں سب سےزیادہ ہیں۔

خیبرپختونخوا: برطانیہ سے آئے 2 افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص

برطانیہ سے خیبرپختونخوا پہنچنے والے مسافروں کے کورونا وائرس ٹیسٹ شروع کردیے گئے جبکہ 2 افراد کے نتائج مثبت بھی آگئے۔

اس حوالے سے سیکریٹری صحت خیبرپختونخوا سید امتیاز حسین شاہ کا کہنا تھا کہ برطانیہ سے آنے والے 2 افراد کا کورونا وائرس ٹیسٹ مثبت آیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ابھی تک 38 افراد سے ٹیسٹ کے لیے نمونے لیے ہیں، جس میں سے 2 کے نتائج مثبت آئے ہی ہیں اور یہ نمونے مزید ٹیسٹ کے لیے قومی ادارہ صحت اسلام آباد کو ارسال کردیے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ متاثرہ افراد کو گھروں میں الگ کردیا ہے، ساتھ ہی انہوں نے بتایا کہ برطانیہ سے آنے والے دیگر افراد کا بھی ٹیسٹ کریں گے۔

واضح رہے کہ دنیا بھر میں کروڑوں لوگوں کو متاثر اور لاکھوں کو ہلاک کرنے والے اس مہلک کورونا وائرس کی نئی قسم بھی سامنے آچکی ہے اور اس کے برطانیہ میں کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔

نئی برطانوی قسم جسے وی یو آئی 202012/01 یا لائنیج بی 117 کے نام سے جانا جاتا ہے، کا پہلی بار اعلان 14 دسمبر کو برطانوی وزیر صحت میٹ ہینکوک نے کیا تھا۔

یہ نئی قسم دنیا بھر میں تشویش کا باعث بن چکی ہے، جس کے نتیجے میں برطانیہ کے مختلف حصوں میں بیماری کے پھیلاؤ کی شرح میں اضافہ ہوا ہے۔

اس نئی قسم کے باعث مختلف ممالک نے برطانیہ سے آنے والی پروازوں پر پابندی لگائی تھی اور پاکستان نے بھی 21 دسمبر سے وہاں سے آنے والے مسافروں پر عارضی پابندیاں عائد کردی تھی۔

علاوہ ازیں گزشتہ دنوں وزیراعظم کی کورونا ٹاسک فورس کمیٹی برائے سائنس و ٹیکنالوجی کے چیئرمین ڈاکٹر عطاالرحمٰن نے انکشاف کیا تھا کہ کراچی میں کورونا وائرس کے کچھ نمونوں میں اسپائیک پروٹین سے متعلق تبدیلیاں پائی گئی ہیں۔

انہوں نے کہا تھا کہ جامعہ کراچی میں قائم ادارے انٹرنیشنل سینٹر فار کیمیکل اینڈ بائیولوجوکل سائنسز میں وائرس کا جینیاتی تجزیہ کیا گیا جس میں سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ وائرس تبدیل ہورہا ہے۔

انہوں نے بتایا تھا کہ 48 نمونوں میں 109 تبدیلیوں کی نشاندہی ہوئی ہے اور ان میں کچھ تبدیلیاں اسپائیک پروٹین سے تعلق رکھتی ہیں۔

تاہم وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان نے کہا تھا کہ پاکستان میں برطانیہ اور جنوبی افریقہ سے کورونا وائرس کی نئی قسم آنے کے کوئی ثبوت نہیں ملے۔

ایک مذاکرے (ویبنار) میں ڈاکٹر فیصل سلطان نے کہا تھا کہ ‘ہمارے پاس جنوبی افریقہ یا برطانیہ سے نئے وائرس کی منتقلی کے ثبوت نہیں ہیں اور ہم اس کو ڈھونڈ رہے ہیں جن لوگوں میں یہ ملنے کا خدشہ ہے لیکن میرے پاس کوئی ثبوت نہیں ہیں’۔

خیال رہے کہ پاکستان میں اب تک کورونا وائرس کے مجموعی کیسز کی تعداد 4 لاکھ 67 ہزار 222 ہوگئی جس میں سے 4 لاکھ 18 ہزار 958 صحتیاب ہوئے ہیں جبکہ 9 ہزار 753 کا انتقال ہوا ہے جبکہ فعال کیسز کی مجموعی تعداد 38 ہزار 511 ہے۔

پاکستان اور لندن میں ٹریک ٹو ڈائیلاگ شروع:محمد علی درانی شوشا ہے:نواز شریف

سابق وزیر اعظم و مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کا کہنا ہے کہ عمران خان کو لانے والے اب گرینڈ نیشنل ڈائیلاگ کا شوشہ چھوڑ رہے ہیں۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹوئٹ میں نواز شریف نے کہا کہ ‘ووٹ چوری کرکے عمران خان کو لانے والے اب گرینڈ نیشنل ڈائیلاگ کا شوشہ چھوڑ رہے ہیں، جس کا مقصد اس نااہل و کرپٹ حکومت اور سلیکٹرز کو پی ڈی ایم سے سے این آر او دلوانا ہے’۔

انہوں نے کہا کہ ‘ہماری جدوجہد عوامی مشکلات کے حل اور ووٹ کو عزت دو کے لیے ہے جبکہ ایسے کسی ڈائیلاگ کا حصہ بننا اپنے مقدس مقصد سے پیچھے ہٹنے کے مترادف ہوگا’۔

دوسری جانب مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے ٹوئٹ میں کہا کہ ‘پی ڈی ایم کا فیصلہ ہے کہ کوئی مذاکرات نہیں کیے جائیں گے اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد پوری طرح اس موقف کے ساتھ کھڑے ہیں’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘اس لیے کسی طرح کے مِنی یا گرینڈ ڈائیلاگ کی باتیں بے معنی ہیں، اس جعلی اور کٹھ پتلی حکومت کو کسی طرح کا این آر او نہیں ملے گا اور یہ پوری قوم کا فیصلہ ہے’۔

واضح رہے کہ سیاسی حلقوں میں ان دنوں حکومتی اور پی ڈی ایم رہنماؤں کے درمیان پس پردہ بات چیت کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔

رپورٹس کے مطابق جمعرات کو مسلم لیگ فنکشنل کے رہنما محمد علی درانی نے جیل میں مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف سے ملاقات کی تھی۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ اس ملاقات میں محمد علی درانی نے شہباز شریف کو ڈائیلاگ کے ذریعے درمیانی راستہ نکالنے کی تجویز دی تھی۔

خیال رہے کہ پی ڈی ایم جماعتوں کی جانب سے حکومت کو مستعفی ہونے کے لیے 31 جنوری 2021 تک کی مہلت دی گئی ہے، بصورت دیگر اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کیا گیا ہے۔

ساتھ ہی حکومت پر دباؤ بڑھانے کے لیے پی ڈی ایم تقریباً ہر ہفتے ملک کے مختلف شہروں میں عوامی جلسے بھی منعقد کر رہی ہے۔

دوسری جانب حکومت ان جلسوں اور اسمبلیوں سے استعفوں کی دھمکی کو این آر او لینے کی کوشش قرار دیا جارہا ہے اور وزیر اعظم عمران خان کسی بھی صورت میں وزارت عظمیٰ چھوڑنے کا انکار کر چکے ہیں۔

جے یو آئی (ف) نے مولانا شیرانی، حافظ حسین احمد کو پارٹی سے نکال دیا

جمعیت علمائے اسلام (ف) نے پارٹی فیصلوں سے انحراف کرنے پر مولانا محمد خان شیرانی اور حافظ حسین احمد سمیت 4 رہنماؤں کی پارٹی رکنیت ختم کردی۔

پارٹی کے مرکزی ترجمان محمد اسلم غوری نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ مولانا محمد خان شیرانی، حافظ حسین احمد، مولانا گل نصیب خان اور مولانا شجاع الملک کو پارٹی سے خارج کردیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مرکزی مجلس شوریٰ کی انضباطی کمیٹی نے مولانا عبدالقیوم ہالیجوی کی صدارت میں یہ متفقہ فیصلہ کیا، جبکہ قائمقام امیر مولانا محمد یوسف کی صدارت میں مرکزی مجلس عاملہ اور صوبائی امرا و نظما نے اجلاس میں فیصلے کی توثیق کردی۔

اسلم غوری نے کہا کہ جماعت سے خارج کیے گئے افراد کو فیصلے کی کاپیاں بھجوا دی گئی ہیں اور ان کے بیانات اور رائے کا پارٹی سے کوئی تعلق نہیں ہوگا۔

واضح رہے کہ 21 دسمبر کو جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سینئر رہنما اور اسلامی نظریاتی کونسل کے سابق چیئرمین مولانا محمد خان شیرانی نے کوئٹہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن سے اختلاف سے متعلق واضح جواب دیے بغیر کہا تھا کہ ‘ہماری قسمت ایسی ہے کہ علما اور قومی زعما جب ان پر صاف ستھرا جھوٹ ثابت ہوجائے نہ وہ شرماتے ہیں نہ ان کے چہرے پر نہ آنکھوں میں کوئی تغیر آتا ہے، بڑی ڈھٹائی سے کہتے ہیں کہ یہ تو حکمت عملی ہے اور جب وعدہ خلافی ان پر ثابت ہوجائے تو کھل کھلا کر کہتے ہیں کہ یہ تو سیاست ہے، رات گئی بات گئی’۔

ان کا کہنا تھا کہ جب دھوکا ثابت ہوجائے تو پھر بڑے آرام سے تکیہ لگا کر کہتے ہیں کہ یہ تو مصلحت ہے، جب خود غرضی ثابت ہوجائے تو کہتے ہیں کہ یہ تو دانائی ہے۔

مولانا محمد خان شیرانی نے کہا کہ مولانا فضل الرحمٰن نے میرے ساتھ تو دھوکا نہیں کیا۔

ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کی تحریک مخاصمت برائے مفاہمت ہے تاکہ ان کو بھی حصہ ملے۔

دوسری جانب پارٹی کے ایک اور سینیئر رہنما حافظ حسین احمد نے نجی چینل ‘اے آر وائی’ کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ مولانا فضل الرحمٰن جس اسمبلی کو جعلی کہتے تھے وہاں سے صدارتی الیکشن لڑا اور ان کے بیٹے بھی وہیں موجود ہیں۔

قبل ازیں نومبر میں نواز شریف کے بیانیے سے اختلاف کرنے پر جے یو آئی (ف) نے حافظ حسین احمد کو مرکزی ترجمان کے عہدے سے ہٹادیا تھا اور انہیں شوکاز نوٹس جاری کیا تھا۔

حافظ حسین احمد نے نواز شریف کے کوئٹہ میں بیان سے اختلاف کیا تھا۔

‘ایم کیو ایم ہماری اتحادی ہے اور رہے گی’

لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب کی معاونِ خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ حکومت کے ساتھ کھڑی ہونے والی جماعت دراصل پاکستان کے ساتھ کھڑی ہے، ایم کیو ایم پاکستان ہماری اتحادی تھی اور رہے گی، شہباز شریف اسمبلیوں سے استعفے دینے کے حق میں نہیں ہیں۔

اے آر وائی نیوز کی رپورٹ کے مطابق فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم کے تحفظات جائز ہیں مگر وہ حکومت سے اتحاد ختم نہیں کرے گی، ایم کیوایم ہماری اتحادی ہےاوررہےگی۔

اُن کا کہنا تھا کہ ہروہ جماعت جوپاکستان کیساتھ کھڑی ہےوہ حکومت کے ساتھ ہے۔

فردوس عاشق اعوان نے بتایا کہ ’محمدعلی درانی پیر پگارا کا اہم پیغام لیکر شہباز شریف کے پاس گئےتھے، اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ مسلم لیگ ن کے تابوت میں اپنے گھر سے ہی کیل ٹھکا ہے‘۔

معاونِ خصوصی نے دعویٰ کیا کہ ’شہبازشریف اسمبلیوں سے استعفوں کےحق میں نہیں ہیں‘۔

فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ لانگ مارچ، استعفوں کے دعوے زمین میں دفن ہوگئے ہیں، اسپیکر صاحب کے پاس  2 استعفے پہنچے تو ن لیگ میں ہلچل مچ گئی، انہوں نے ایوان چھوڑنا نہیں ہے اس لیے اب استعفے لطیفے بن گئے ہیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ ’نوازشریف کی سالگرہ کےدن حکومت کےخاتمےکا تحفہ دینے نکلے تھے مگر آپ میاں صاحب اپنی سالگرہ کے دن پاکستان میں موجود نہیں ہیں، انہیں چاہیے کہ آج ہی اپنی واپسی کی تاریخ کا اعلان کریں اور پاکستان آکر قانون کا سامنا کریں‘۔

فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ ’اپنےبچوں کوشاہی محل میں رکھ کر آپ نے قوم کے پیسوں سے روزگار،کاروبار کیے، قائداعظم ڈے پر آپ نے اپنی سالگرہ تو رکھ لی مگرقائدکے افقارسے روح گردانی کی‘۔