لاہور ( صدف نعیم ) پنجاب اسمبلی میں آج لوکل گورنمنٹ بل پیش ہونے پر مسلم لیگ(ن) کے ارکان نے بدزبانی اور بدتہذیبی کا مظاہرہ کیا اور اپنے رویئے سے سپیکر کی کرسی کی توقیر خراب کرنے کی کوشش کی جو قابل مذمت ہے۔ ان خیالات کا اظہار صوبائی وزیراطلاعات و ثقافت سید صمصام علی بخاری نے آج ڈی جی پی آر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے اپنے ارکان کی اخلاقی تربیت نہیں کی۔ ان ارکان نے اسمبلی میں شوروغوغا کر کے عوام کی توجہ کرپشن کے ان الزامات سے ہٹانے کی کوشش کی جو ان کے قائدین پر عائد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے ارکان نے جو رویہ الفاظ کا انتخاب سپیکر کی چیئر کے لئے کیا وہ کسی بھی پارلیمینٹیرین کو زیب نہیں دیتا۔ یہی وجہ ہے کہ ڈپٹی سپیکر دوست محمد مزاری نے عظمیٰ بخاری، اشرف رسول اور میاں عبدالرو¿ف کو رواں سیشن کے لئے معطل کر دیا جو بالکل درست فیصلہ تھا۔انہوں نے کہا کہ نئے بلدیاتی نظام کا بل جس کمیٹی نے اسمبلی کی منظوری کے لئے پاس کیا اس میں ن لیگ کے لوگ بھی شامل تھے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کی تبدیلی یا پنجاب کابینہ میں ردوبدل کا کوئی امکان نہیں اور اس سلسلے میں میڈیا میں آنے والی باتیں محض پراپیگنڈہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے عوام سے کیا ہوا اپنا بنیادی وعدہ پورا کرتے ہوئے نئے بلدیاتی نظام کا بل اسمبلی میں پیش کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کی طرف سے اجلاس کو چلنے سے روکا جا رہا ہے تاہم ان کی یہ کوشش ناکام بنا دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی احتساب کا عمل اور اسمبلی کی توقیر کو ساتھ ساتھ لے کر چلنا چاہتی ہے۔ کرپٹ عناصر کے خلاف احتساب کا عمل جاری رہے گا کیونکہ عوام نے پی ٹی آئی حکومت کو یہی مینڈیٹ دیا ہے۔ کرپشن میں ملوث سیاسی رہنماو¿ں کے فرنٹ مین پکڑے جا رہے ہیں اور ان کے اربوں روپے کے بے نامی اکاو¿نٹس اور منی لانڈرنگ کے انکشافات ہو رہے ہیں۔ ایسے میں احتساب پر مامور ادارے نیب کا گھیرا بھی ان عناصر کے گرد تنگ ہو رہا ہے جس سے ان کی چیخیں نکل رہی ہیں۔ قبل ازیں لاہور ہائی کورٹ بار میں پاکستان تحریک انصاف کے 23ویں یوم تاسیس کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صمصام بخاری نے کہا کہ پارٹی کے تمام رہنما ایک پیج پر ہیں۔ گورنر، وزیراعلیٰ اور سپیکر میں کسی قسم کا اختلاف نہیں۔ وزیراعلیٰ کی تبدیلی محض ایک شوشہ ہے جو مخصوص مفادات کا حامل ٹولہ چھوڑ رہا ہے۔ وزیراعلیٰ عثمان بزدار پر وزیراعظم عمران خان کو پورا بھروسہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ 23سال قبل وزیراعظم عمران خان نے تن تنہا اپنی سیاسی جدوجہد کا آغاز کیا تھا۔ ان کی جدوجہد آج ایک تناور درخت کی شکل میں پاکستان کی حکومت کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ عمران خان کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ انہوں نے شوکت خانم ہسپتال، نمل یونیورسٹی یا کرکٹ ورلڈ کپ سمیت جو بھی مشن شروع کیا اسے مکمل کر کے دم لیا۔ انہوں نے کہا کہ ہماری پارٹی احتساب کے نام پر اقتدار میں آئی ہے اور ہم اس عمل کو وسیع کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ نیب ایک آزاد اور خودمختار ادارہ ہے اور نیب کی کرپٹ لوگوں کے خلاف کارروائی میں پی ٹی آئی حکومت کی کسی قسم کی پک اینڈ چوز پالیسی کا عمل دخل نہیں۔
Monthly Archives: April 2019
پنجاب اسمبلی میں حمزہ شہباز کا مسلم لیگ ن کے تین اراکین اسمبلی کی معطلی پر رد عمل، اوچھے ہتھکنڈوں سے اپوزیشن کی آواز کو دبایا نہیں جا سکتا
لاہور ( صدف نعیم ) پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف حمزہ شہباز نے ڈپٹی اسپیکر کی جانب سے 3 اراکین پنجاب اسمبلی کی معطلی کو قابل مذمت اقدام قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے اوچھے ہتھکنڈوں سے اپوزیشن کی آواز کو دبایا نہیں جا سکتا، حمزہ شہباز نے کہا کہ موجودہ نا اہل حکومت کو آئینہ دکھایا گیا تو برا مان گئے ہیں لیکن اپوزیشن اپنے فرائض ادا کرتی رہے گی اور ایسی کسی کاروائی کے دباو¿ میں نہیں آئے گی، حمزہ شہباز نے کہا کہ بلدیاتی نظام پر شب خون مارنا کسی طور بھی آئینی اقدام نہیں اور مسلم لیگ ن کے اراکین پنجاب اسمبلی نے اسی کے خلاف آواز بلند کی تھی جس پر ڈپٹی سپیکر نے یکطرفہ کارروائی عمل میں لاتے ہوئے ناجائز اقدام اٹھایا ہے، حمزہ شہباز کا کہنا تھا کہ عام انتخابات میں دھاندلی کے تمام ذرائع استعمال کرنے کے باوجود عمران نیازی اور ان کے حواری سادہ اکثریت بھی حاصل نہیں کر سکے اور اب انہوں نے بلدیاتی اداروں کا رخ کر لیا ہے لیکن یہاں بھی انہیں منہ کی کھانہ پڑے گی، حمزہ شہباز نے مزید کہا کہ اگر ایسی کارروائیوں کا سلسلہ جاری رہا تو پنجاب اسمبلی کا بزنس چلانا حکومت کے بس میں نہیں رہے گا اور مسلم لیگ ن کے اراکین اسمبلی پنجاب اسمبلی کے اندر اور باہر اپنے احتجاج کا حق ضرور استعمال کریں گے ۔
قائمہ کمیٹی نے بلدیاتی قانون 2019کے مسودے کی منظوری دے دی:راجہ بشارت
لاہور ( صدف نعیم )صوبائی وزیر قانون، پارلیمانی امور و بلدیات راجہ بشارت نے کہا ہے کہ پنجاب اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائےلوکل گورنمنٹ نے نئے بلدیاتی قانون2019 کے مسودے کی منظوری دے دی ہے۔ انہوں نے قائمہ کمیٹی کے اجلاس کے بعد گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ قائمہ کمیٹی کی منظوری کے بعد اب یہ بل پنجاب اسمبلی کے ایوان میں منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔راجہ بشارت نے کہا کہ لوکل گورنمنٹ بل 2019 پر قائمہ کمیٹی میں طویل غورو خوض اور ہر زاویے سے بحث کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ قبل ازیں کمیٹی کے ارکان کو لوکل گورنمنٹ بل 2019 کے تمام نکات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی اورقائمہ کمیٹی کے تمام ارکان نے اجلاس میں بھرپور شرکت کی۔ وزیر قانون نے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نئے بلدیاتی بل کی منظوری کے تمام مراحل احسن طریقے سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ انشا اللہ قوم اس حوالے سے جلد خوشخبری سنے گی کیونکہ یہ قانون تحریک انصاف کے منشور کے ایک حصے پر عملدرآمد کو یقینی بنائے گا جس کے ساتھ ہی پنجاب میں حقیقی تبدیلی کا ویڑن پورا ہو سکے گا اور عوام کو وہ اختیارات مل سکیں گے جن کا وعدہ عمران خان نے ان سے کر رکھا ہے ۔
صوبائی وزیراطلاعات و ثقافت کا یونیورسٹی آف لاہور کی تقریب میں طلباوطالبات سے خطاب ، پنجاب سنسر بورڈ اور پنجاب کلچرل پالیسی کا جلد اعلان
لاہور ( صدف نعیم ) صوبائی وزیر اطلاعات و ثقافت سید صمصام علی بخاری نے آج مستحق فنکاروں میں آرٹسٹ سپورٹ فنڈ کی مد سے امدادی چیک تقیسم کئے۔ صوبائی وزیر نے مستحق فنکاروں نے جن میں خواتین بھی شامل تھیں 70لاکھ روپے سے زائد کے چیک تقسیم کئے۔ تقریب میں ایگزیکٹو ڈائریکٹر الحمرائ اطہر علی خان ودیگر افسران نے شرکت کی۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے صوبائی وزیرنے کہا کہ فنکاروں کے لئے مخصوص یہ فنڈ وائس آف پنجاب نام کے پراجیکٹ میں منتقل کر دیا گیا تھا تاہم ہم نے فنکاروں کے مالی حالات کے پیش نظر یہ فنڈ واپس حاصل کیا ہے اور اس سے فنکاروں کی مدد کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وائس آف پراجیکٹ ختم نہیں کیا گیا بلکہ اگلے سال تک ملتوی کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آرٹسٹوں کے لئے آرٹسٹ ہیلتھ کارڈ کا منصوبہ بھی تیار کیا جا رہا ہے اور بہت جلد فنکاروں کو مفت طبی سہولیات کی فراہمی بھی شروع ہو جائے گی۔ ایک سوال کے جواب میں صوبائی وزیرنے کہا کہ سنسر بورڈ سمیت محکمہ ثقافت کے ماتحت چلنے والے تمام بورڈز ایک ماہ میں بحال کر دیئے جائیں گے۔ اسی طرح پنجاب کلچرل پالیسی پر کام جاری ہے اور یہ پالیسی اپنے حتمی مراحل میں ہے اور بہت جلد اس کا اعلان کر دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ ثقافت پنجاب ایسے ثقافتی پروگرام اور شو پیش کرنے پر یقین رکھتا ہے جو ہماری ہذہبی اور ثقافتی روایات کے مطابق ہیں۔ قبل ازیں یونیورسٹی آف لاہور کے زیراہتمام ایکسپو سینٹر میں پندرہویں لائف سٹائل ایکسپو 2019ئ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیراطلاعات نے کہا کہ پاکستان کی نوجوان نسل کو اپنی تہذیب و ثقافت اور پاکستانیت پر فخرمحسوس کرنا چاہیے۔ ہمارے نوجوانوں کو اپنے قومی پرچم کا سفید رنگ کبھی نہیں بھولنا چاہیے۔ ہمارے ہاں اقلیتوں کے لفظ کی بجائے نان مسلم پاکستانی کی ٹرم استعمال ہونی چاہیے۔ پاکستان دہشت گرد ملک نہیں بلکہ دہشت گردی کا شکار ملک ہے۔ اب اٹلانٹک کے دوسری طرف رہنے والوں کو بھی دہشت گردی کے خلاف ڈومور کرنا چاہیے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمارے نوجوان ہمارا قیمتی ورثہ ہیں۔ نوجوانوں کو اپنے رہن سہن اور بول چال میں اپنی تہذیبی روایات کو ملحوظ رکھنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ 70 سال کے ضیاع کے بعد اب ہمیں ہر قیمت پر آگے بڑھنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے پی ٹی آئی کو حکومت کے لئے نہیں بلکہ عوام کی بھلائی کے لئے کام کرنے کا موقع دیا ہے۔ کسی کے کام نہ آ سکے تو ہمارے عہدوں کا کوئی فائدہ نہیں۔ تقریب سے بیگم پروین سرور نے بھی خطاب کیا۔ ڈاکٹرمجاہدکامران، فائزہ امجد، عائشہ رو¿ف ایم پی اے اور دیگر شخصیات بھی اس موقع پر موجود تھیں۔
واٹسن کابگ بیش سے بھی ریٹائرمنٹ کا اعلان ،پی ایس ایل کھیلیں گے
سڈنی(آئی این پی) آسٹریلیا کے مایہ ناز آل رانڈر شین واٹسن نے آسٹریلین ٹی 20 ٹورنامنٹ بگ بیش لیگ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا ہے کہ مگر وہ چند غیر ملکی ٹورنامنٹس کھیلتے رہیں گے جن میں پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل)بھی شامل ہے۔37سالہ شین واٹسن نے 2016میں بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ لی تھی اور بگ بیش لیگ میں سڈنی تھنڈرز کی قیادت کر رہے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ میرے ساتھ بہت سی شاندار یادیں ہیں جن میں سے ایک 2016میں بگ بیش جیتنا ہے اور یہ میں کبھی نہیں بھول سکوں گا۔انہوں نے کہا کہ میں اس لیگ میں بہت سے بہترین کھلاڑیوں کیساتھ کھیلا ہوں اور پوری سنجیدگی کیساتھ آنے والے سیزن کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کرتا ہوں۔ شین واٹسن نے گزشتہ سیزن میں برسبین ہیٹ کیخلاف صرف 62گیندوں پر سنچری سکور کی تھی جبکہ حالیہ آئی پی ایل میں بھی انہوں نے 53گیندوں پر 96رنز کی اننگز کھیلی ہے۔
وائٹ کالر کرائم غربت ختم کر دینگے : عمران خان
بیجنگ (اے پی پی‘ مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان پر امن اور خوشحال دنیا کے ویژن کو کامیاب بنانے کے لئے اپنا کردار جاری رکھے گا، بین الاقوامی تعاون کےلئے دوسرے بیلٹ اینڈ روڈ فورم سے خطاب باعث اعزاز ہے، ایک سڑک اور ایک خطے کا نظریہ حقیقت میں بدل رہا ہے، چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبہ بی آر آئی کا ایک بڑا جزو ہے،گوادر تیزی سے تجارتی مرکز بنتا جا رہا ہے، چین کے ساتھ پاکستان کی شراکت داری اور بھائی چارے کا رشتہ مستحکم بنیادوں پر استوار ہے، پاکستان میں قومی سطح پر 10 ارب درخت لگانے کے منصوبے کا آغاز کیا ہے،عالمی شراکت داری کے فروغ کے حوالے سے اہم ایونٹ کے انعقاد پر چین کے صدر ژی جن پنگ اور عوامی جمہوریہ چین کی حکومت کو مبارکباد پیش کرتا ہوں، فورم میں شراکت داروں اور دوستوں کی شرکت سے بیلٹ اینڈ روڈ (بی آر آئی) ویژن کےلئے مستقبل کاایجنڈا تشکیل دینے میں مدد ملے گی۔ جمعہ کو بیجنگ میں دوسری بیلٹ اینڈ روڈ فورم سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ جغرافیائی وسیاسی غیر یقینی کی عالمی صورتحال، عدم مساوات میں اضافہ اور تجارتی رکاوٹوں کے خاتمہ کے لئے بی آر آئی بین الاقوامی تعاون، شراکت داری، رابطوں کے فروغ اور مشترکہ خوشحالی کا بہترین ماڈل پیش کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی آر آئی سے گلوبلائزیشن کی موجودہ صورتحال میں دنیا کی اقوام کو ترقی کے حوالے سے ایک نئے اور اہم مرحلہ کے لئے مواقع دستیاب ہوں گے۔ فورم میں بین الاقوامی رہنماﺅں کی کثیر تعداد میں شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم نے نا امیدی کی بجائے امید اور اختلافات پر قابو پانے کےلئے باہمی تعاون کا انتخاب کیا ہے۔ وزیر اعظم نے کہاکہ بی آر آئی کے ویژن کے تحت تاریخی ترقی کے نظریہ پر 122 ممالک اور 49 بین الاقوامی اداروں نے دستخط کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان بی آر آئی میں شرکتدار ہونے پر فخر محسوس کرتا ہے اور ہم چین کے ساتھ عالمی ترقی اور خوشحالی کے خواب کو حقیقت میں بدلنے کے لئے بنیادی شراکت دار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان بی آر آئی کی ابتداءسے ہی منصوبہ میں شامل ہے اور چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبہ (سی پیک) بی آر آئی کا ایک بڑا جزو ہے اور اس ویژن کے تحت شروع کیا جانے والا پہلا منصوبہ ہے جو بھرپور ترقی کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں توانائی کی فراہمی میں جامع اضافہ ہوا ہے جبکہ ہم نے بنیادی ڈھانچے کی خامیوں پر کامیابی سے قابو پایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گوادر جو کبھی ایک چھوٹا سا مچھیروں کا گاﺅں ہوتا تھا تیزی سے تجارتی مرکز بنتا جا رہا ہے اور گوادر میں تعمیر ہونے والا ایئرپورٹ ملک کا سب سے بڑا ایئرپورٹ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور چین مل کر سی پیک کے دوسرے مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں جس میں سماجی و اقتصادی ترقی، غربت کے خاتمے ، زرعی تعاون اور صنعتی ترقی پر خصوصی توجہ مرکوز کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہم تعلیم، نئی ایجادات اور ٹیکنالوجی کے شعبہ میں بھی باہمی رابطوں کے فروغ سے پاک چین شراکت داری کو وسعت دے رہے ہیں۔ وزیراعظم نے کہاکہ سی پیک کے ساتھ ساتھ خصوصی اقتصادی زونز قائم کئے گئے ہیں جہاں پر پاکستانی، چینی اور بین الاقوامی اداروں کو سرمایہ کاری کے مواقع پیش کئے جا رہے ہیں۔ سی پیک کے دوسرے مرحلے پر اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ ہم چین کے ساتھ پاک چین آزادانہ تجارت میں مزید اضافہ کے لئے معاہدہ کررہے ہیں۔ وزیر اعظم نے چین اور اس کی قیادت کی جانب سے پاکستان کی بھرپور معاونت پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ہماری دوستی لازوال اور پرانی ہے جبکہ چین کے ساتھ پاکستان کی شراکت داری اور بھائی چارے کا رشتہ مستحکم بنیادوں پر استوار ہے جو ہر مشکل کی گھڑی میں پورا اترا ہے۔ بی آر ایف سے خطاب کے موقع کو اہم قرار دیتے ہوئے وزیراعظم نے فورم کے شرکاءکو دعوت دی کہ وہ پاکستان میں آزادانہ غیر ملکی سرمایہ کاری کے ماحول سے استفادہ کریں اور ہماری معیشت میں شراکت دار بنیں۔ انہوں نے بین الاقوامی برادری کو پاکستان کے بنیادی ڈھانچے، ریلویز، ڈیموں کی تعمیر، آئی ٹی اور مینوفیکچرنگ کے شعبوں میں سرمایہ کاری کی خصوصی دعوت دی۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ایک سڑک اور ایک خطے کا نظریہ مزید مستحکم ہو رہا ہے۔ انہوں نے کانفرنس کے شرکاءکو عالمی سطح پر عوام کی فلاح و بہبود پر توجہ دینے کی دعوت دی اور کہا کہ اس سے ہم پائیدار معاشی ترقی کے مطلوبہ اہداف کے حصول کی جانب کامیابی سے سفر کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چین کے صدر ژی جن پنگ نے اپنے خطاب میں کچھ چیزوں کا ذکر کیا ہے جبکہ میں بھی اس حوالے سے چند ترجیحات پیش کرنا چاہتاہوں جن میں سے سب سے پہلی ترجیح موسمیاتی تبدیلیوں کے نقصانات کو کم کرنے کے حوالے سے مشترکہ منصوبے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے صوبہ خیبرپختونخوا میں گزشتہ 5 سال کے دوران ایک ارب درخت لگانے کا منصوبہ کامیابی سے مکمل کیا ہے جبکہ چلی کے صدر نے بھی موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے اپنے خطاب میں خصوصی ذکر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے پاکستان میں قومی سطح پر 10 ارب درخت لگانے کے منصوبے کا آغاز کیا ہے اور میں تجویز پیش کرتا ہوں کہ ہمیں دنیا میں آئندہ 2 سال کے دوران 100 ارب درخت لگانے کے لئے مشترکہ منصوبے شروع کرنے چاہئیں تاکہ ہم اپنی آنے والی نسلوں کو موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے محفوظ رکھتے ہوئے اس سے ہونے والے نقصانات کو کم سے کم کر سکیں۔ وزیر اعظم نے کہاکہ ہمیں بی آر آئی کے تحت سیاحت پر خصوصی توجہ دینی ہوگی، پاکستان سیاحت کی ترقی و فروغ پر خصوصی توجہ دے رہا ہے تاکہ ہم عوام کے عوام سے رابطوں کو بڑھانے کے ساتھ ساتھ بین الثقافتی ہم آہنگی کو فروغ دے سکیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ہماری تیسری ترجیح بدعنوانی کے تدارک کے لئے باہمی تعاون ہونا چاہیے تاکہ ہم مل کر وائٹ کالر کرائمز پر قابو پاسکیں کیونکہ وائٹ کالر جرائم سے دنیا بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان بد عنوانی کے تدارک اور وائٹ کالرز کرائم پر قابو پانے کے لئے جامع اقدامات کررہا ہے جس میں عالمی برادری کی شراکت داری سے مطلوبہ اہداف کے نتائج کو آسان بنایا جاس سکتا ہے۔ وزیراعظم نے چوتھی ترجیح کے بارے میں کہا کہ عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ غربت کے خاتمہ کے لئے مل کر اقدامات کرے۔ پاکستان نے بھی ملک میں غربت کے خاتمے اور غذائی قلت پر قابو پانے کے لئے قومی سطح پر کاوشیں شروع کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ہم نے حال ہی میں غربت کے خاتمہ کےلئے احساس پروگرام شروع کیا ہے جس کا مقصد چین کے ماڈل پر لوگوں کو غربت سے نکالنا ہے کیونکہ چین نے تین دہائیوں کے دوران اپنے 800 ملین افراد کو غربت سے نکالنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ پاکستان کی پانچویں ترجیح کے بارے میں وزیراعظم نے کہاکہ ہم تجارت میں مزید آسانیوں اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لئے جامع اقدامات کررہے ہیں تاکہ مختلف مشترکہ منصوبوں میں ہماری کاروباری برادری اور نجی شعبہ کی حوصلہ افزائی ہو سکے۔ وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ چین کی شاندار تہذیب نے دنیا بھر کو شعور، باہمی عزت و احترام، برداشت اور استحکام دیا ہے۔ انہوں نے کہا چینی ثقافت سے بین الاقوامی سطح پر انسانیت کو کئی تحائف دیئے گئے اور اس کے علاوہ چین نے بڑی اہم اور نمایاں ایجادات متعارف کرانے کے ساتھ ساتھ آرٹ اور کلچر سمیت بین الاقوامی سطح پر اتفاق کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ ایک مشہور چینی مقولہ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ”سمندر اس لئے وسیع ہوتا ہے کیونکہ وہ کسی دریا کو مسترد نہیں کرتا“۔ وزیر اعظم نے کہاکہ پاکستان باہمی عزت اور مساوات کی بنیاد پر اپنا عمل جاری رکھے گااور چین سمیت بی آر آئی کے دیگر شراکت داروں کے ساتھ مل کر ہم اپنے عوام کے بہتر مستقبل کو یقینی بنانے کے لئے کام جاری رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پر امن اور خوشحال دنیا کے ویژن کو کامیاب بنانے کے لئے اپنا کردار جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہاکہ ہم مل کر کام کرنے کے خواہش مند ہیں تا کہ مستقبل میں امید اور خوشحالی کے خواب حقیقت کا روپ دیا جاسکے۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ سی پیک منصوبہ بیلٹ اینڈ روڈ کی صورت میں پاکستان کیلئے انتہائی اہم ہے، پاک چین کوریڈور منصوبے کی بدولت دوسرے ممالک پاکستان میں سرمایہ کاری کا سوچ رہے ہیں، چین کے تعاون سے گوادر بڑا تجارتی مرکز بن گیا، بھارت سے الیکشن کے بعد مذاکرات شروع ہونے کی توقع ہے.عمران خان نے پاک چین فرینڈ شپ ایسوسی ایشن کی جانب سے ظہرانے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چین اور پاکستان کے درمیان تعاون کی کئی جہتیں ہیں، چین دنیا میں تیزی سے ترقی کرتی معیشیت اور پاکستان کا آزمودہ دوست ہے۔ چین نے گزشتہ 30 برس میں تیزی سے ترقی کی منزلیں طے کیں، پاکستان غربت میں کمی کیلئے چین سے سیکھنا چاہتا ہے جس کیلئے چین کی حکومت کا بھرپور تعاون حاصل ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاک چین دوستی کےحوالے سے ایسوسی ایشن کی کوششوں کا معترف ہوں۔ وزیراعظم عمران خان چینی صدر کی جانب سے عالمی رہنماﺅں کے اعزاز میں دی گئی تقریب میں پہنچ گئے، گریٹ ہال آمد پر شی جن پنگ نے ان کا استقبال کیا۔ تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان جو ان دنوں چین کے چار روزہ دورے پر بیجنگ میں موجود ہیں، اس موقع پر چینی صدر کی جانب سے عالمی رہنماﺅں کے اعزاز میں ایک خصوصی تقریب کا بھی اہتمام کیا گیا ہے، جس میں وزیراعظم عمران خان بھی مدعو ہیں۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق عمران خان تقریب میں شرکت کیلئے بیجنگ کے گریٹ ہال پہنچ گئے ہیں، جہاں ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا، اس موقع پر انہوں نے چینی صدر شی جن پنگ سے مصافحہ کیا۔ دونوں رہنماﺅں نے تصاویر بھی بنوائیں۔ یاد رہے کہ چینی صدر اور وزیراعظم عمران خان کی ون آن ون ملاقات 28 اپریل کو شیڈول ہے۔
ملتان کے تاریخی قلعہ پر تاریخی ایونٹ :” خبریں “ نے پاکستان کا سب سے بڑا کسان میلہ سجا دیا ، بھر پور پذیرائی
ملتان (رپورٹنگ ٹیم) ”خبریں“ میڈیا گروپ اور ایڈکون ایف ٹی آر کے باہمی اشتراک سے اپنی نوعےت کے منفرد اور پاکستان کے سب سے بڑے 3 روزہ کسان مےلہ کا گزشتہ روز سے رنگا رنگ افتتاح ہوگےا۔ قلعہ کہنہ قاسم باغ سٹےڈےم مےں کسان مےلہ 2019ءکی افتتاحی تقرےب کو جدےد زرعی مصنوعات متعارف کروانے والی مختلف پاکستانی کمپنےوں کے خوبصورت سجے سٹالوں اور پہلے ہی روز کاشتکاروں کے جم غفےر کی دلچسپی نے ےادگار بنا دےا۔قابل ذکر امر ےہ ہے کہ کاشتکاروں کی دلچسپی کا بھر پور سامان سموئے ےہ اےونٹ فےملےز کےلئے تفرےح کا بھی بہترےن ذرےعہ ثابت ہوا۔ فےملےز افتتاحی روز بچوں کے ہمراہ کسان مےلہ کے سٹالز دےکھنے جوق در جوق قاسم باغ سٹےڈےم کا رخ کرتی رہےں۔ ڈھول کی تھاپ پر جھمر پارٹےوں نے سرائےکی وسےب کے رواےتی رقص پےش کرکے ثقافتی رنگ بکھےرے۔سونے پر سہاگہ کے مصداق کشتی دنگل مےں نامور پہلوانوں کی شہ زوری نے کسان مےلہ دےہی ثقافت کے رنگوں مےں خوب نہلاےا۔جبکہ رات کو کسان مےلہ مےں آتش بازی کے شاندار مظاہرہ نے آسمان پر رنگوں کی کہکشاں بکھےر دی۔ ”خبریں“ میڈیا گروپ اور ایڈکون ایف ٹی آر کے باہمی اشتراک سے قلعہ کہنہ قاسم باغ پر تین روزہ ”کسان میلہ“ کا افتتاح وفاقی وزیر تحفظ خوراک اور تحقیق صاحبزادہ محبوب سلطان نے کیا۔ چیف ایگزیکٹو ”خبریں“ میڈیا گروپ جناب ضیاشاہد نے کسان میلے میں سیمینار کی صدارت کی۔ وفاقی وزیر تحفظ خوراک و تحقیق صاحبزادہ محبوب سلطان اور چیف ایگزیکٹو ”خبریں“ میڈیا گروپ جناب ضیاشاہد نے کسان میلہ میں لگائے گئے مختلف کمپنیوں اور زرعی فرموں کے سٹالز کا معائنہ کیا۔ وہ فرداً فرداً ہر سٹال پر گئے اور وہاں موجود کمپنیوں کے نمائندوں سے ان کی مصنوعات بارے معلومات حاصل کیں۔ افتتاحی تقریب کا آغاز قاری حق نواز سعیدی نے تلاوت قرآن پاک، شوکت سعیدی نے گلہائے عقیدت پیش کرتے ہوئے کیا جبکہ نظامت کے فرائض ڈپٹی ایڈیٹر سجاد بخاری نے انجام دیئے۔ پاکستان کے سب سے بڑے کسان میلے میں کسانوں کے علاوہ بڑی تعداد میں خواتین اور بچے بھی شریک ہوئے۔ پورا شہر کسان میلے میں اُمڈ آیا۔ کسان میلے میں ماحول کو یخ بستہ رکھنے کیلئے ایئر کنڈیشنڈ لگائے گئے تھے اور شرکاءکی سہولت کیلئے ہر ممکن سہولت کا خیال رکھا گیا۔ کسان میلے میں 40 مختلف کمپنیوں سمیت 70 سٹالز لگائے گئے جس میں زرعی ادویات، بیج، ٹریکٹر، زرعی آلات، ڈیٹرجنٹ پاﺅڈر، شمع بناسپتی، آٹو موبل آئل کمپنی کی جانب سے گاڑیوں کے سٹال سجائے گئے تھے جہاں شہریوں کی بڑی تعداد مختلف مصنوعات بارے سٹالز پر جا کر نمائندوں سے تفصیلات اور معلومات حاصل کرتی رہیں۔ افتتاحی تقریب میں ڈپٹی ایڈیٹر سجاد بخاری نے قرارداد پیش کی کہ آئندہ یوم پاکستان اور یوم آزادی کے موقع پر کاشتکاروں اور کسانوں کیلئے بھی قومی ایوارڈ کا اعلان کیا جائے جسے شرکاءنے متفقہ طور پر منظور کرلیا۔ کسان میلے میں شرکت کرنے والوں کی تواضع بھی کی گئی۔ کسان میلے میں ریذیڈنٹ ایڈیٹر میاں غفار، وفاقی سیکرٹری برائے نیشنل فوڈ سکیورٹی اینڈ ریسرچ ڈاکٹر محمد ہاشم پوپلزئی، سی ای او تارا گروپ ڈاکٹر میاں محمد خالد، ڈائریکٹر مارکیٹنگ اکبر علی، سی او ایڈ کون ایف ٹی آر محمد صہیب شاہ، فیصل نسیم، عبداللہ چانڈیہ، سردار جاوید اقبال، اعجاز یوسف، جنرل منیجر ”خبریں“ ملتان طاہر خان، چیئرمین تارا گروپ میاں محمد ساجد، وائس چانسلر نوازشریف زرعی یونیورسٹی ڈاکٹر آصف علی، ڈین پروفیسر ڈاکٹر شفقت محمود، پاکستان کراپ پروٹیکشن ایسوسی ایشن کے فدا حسین گاڈی، پی سی جی اے کے سابق چیئرمین ملک محمد اکرم، شہزاد علی خان اور رانا امیر حسین سمیت ہزاروں افراد شریک ہوئے۔ وائس چیئرمین کاٹن جنرز ایسوسی ایشن میر اشرف مہار، مختار بلوچ، ایم ڈی تارا گروپ چودھری مسعود احمد، ڈاکٹر راﺅ آصف علی، ڈاکٹر منیر احمد چیئرمین پی اے آر سی اسلام آباد، امیر حمزہ، ڈائریکٹر پی اے آر سی ملتان، ایس ایس او ڈاکٹر ولی محمد، ایس او محمد آصف ذوالفقار سلیمی، ایس او رانا اکبر علی ودیگر بھی موجود تھے۔ملتان (رپورٹنگ ٹیم) جب تک ملک کا غریب کسان خوشحال نہیں ہوگا ملک ترقی نہیں کرے گا۔ تبدیلی کیلئے ہم سب کو ذمہ داریوں کا احساس کرنا ہوگا۔ ان خیالات کا اظہار وفاقی وزیر تحفظ خوراک و تحقیق صاحبزادہ محبوب سلطان نے سہ روزہ ”خبریں“ کسان میلہ کے پہلے دن بطور مہمان خصوصی خطاب میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ جناب ضیاشاہد کا مشکور و ممنون ہوں جنہوں نے مجھے اس کسان میلے میں آنے کی دعوت دی اور اس کے ساتھ ساتھ انہیں مبارکباد پیش کرتا ہوں کہ انہوں نے ملک اور ہمارے غریب کسانوں کی خوشحالی کی خاطر اقدامات اٹھائے۔ وقت کی قلت کے باعث مختصر بات کروں گا۔ میری نسبت خانوادہ حضرت سلطان باہوؒ سے ہے۔ تیسری بار ممبر قومی اسمبلی منتخب ہوا ہوں یہ اللہ کا کرم ہے کہ لوگ ہم پر اعتماد کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ زراعت میں کوئی راکٹ سائنس نہیں ہے جیسا کہ جناب ضیاشاہد نے کہا کہ ہماری آبادی کا 70فیصد طبقہ زراعت اور لائیوسٹاک سے منسلک ہے۔ اٹھارہویں ترمیم سے قبل اس شعبے کا بجٹ 38ارب روپے تھا لیکن اب چاروں صوبوں اور وفاق کا بجٹ جمع کریں تو 15 ارب روپے بھی نہیں ہے جس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ پچھلی حکومتوں نے عوام کی کتنی خدمت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے جتنے بھی اقدامات اٹھائے ہیں وہ صرف عام لوگوں کی خوشحالی کیلئے اٹھائے ہیں۔ ہماری حکومت بیرون ممالک کے ماہرین کے ساتھ مل کر کسانوں اور ملک کے عوام کو جدید ٹیکنالوجی سے روشناس کروانا چاہتی ہے جو ہم ضرور کروائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک ملک کا غریب کسان اور کاشتکار خوشحال نہیں ہوگا ملک ترقی نہیں کرے گا۔ جب ہم فیصلہ کرلیں گے کہ ہم نے اس ملک کے غریب کسان اور کاشتکار کو خوشحال بنانا ہے تو وہ وقت دور نہیں جب ہم اپنا مقصد حاصل کرلیں گے اور ہمارا کسان خوشحال ہوگا۔ ہم4 ارب روپے کا خوردنی تیل درآمد کرتے ہیں یہاں تک کہ دالوں میں بھی خودکفیل نہیں بن سکے۔ اس کی وجہ ایک ہی ہے کہ ہم نے زراعت پر توجہ نہیں دی۔ اس ملک میں تبدیلی اس وقت آئے گی جب ہم اپنی ذمہ داریوں کا احساس کریں گے تمام لوگوں سے توقع کرتا ہوں کہ ہم نے ملک کو صحیح ٹریک پر چلانے کیلئے متحد ہونا ہے اور ہم نے غربت کا خاتمہ کرنا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جدید ٹیکنالوجی، موسمی تبدیلیوں اور ریسرچ کے شعبے میں کوشش کرنی ہے کہ ہم جدید ٹیکنالوجی سے کسانوں اور کاشتکاروں کو روشناس کروائیں۔ یہ سب ایسے کسان میلوں اور لوگوں کو آگاہی دینے سے ہی ممکن ہے۔ اس ملک میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے اللہ تعالیٰ نے ہمارے ملک میں کسی چیز کی کمی نہیں رکھی ہم نے ہمیشہ اپنی ذاتی ترجیحات کو آگے رکھا ہے اور عام آدمی کو ترجیحات میں شامل نہیں کیا۔ ہماری حکومت کی ترجیح صرف عام لوگ اور غریب عوام ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کوشش کریں گے کہ لوگوں کو صحیح راستے پر لگا سکیں جب صحیح راستے کا تعین کرلیں گے تو وہ وقت دور نہیں جب ہم منزل حاصل کرلیں گے۔ کسان میلے کا انعقاد کرنے والوں کا مشکور اور شکرگزار ہوں۔
محبوب سلطان
ٹورمیچ میں مختلف کمبی نیشن کوآزماناچاہیے:طاہرشاہ ، ٹیم میں نمبر6اور7کےلئے پوزیشنزاور4باﺅلرزکاتعین کرناہوگا:منورحسین کی گگلی میں گفتگو
لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک ) سابق فرسٹ کلاس کرکٹرطاہرشاہ نے کہا ہے کہ قومی ٹیم نے آج کینٹ کیخلاف پریکٹس میچ کھیلنا ہے جس میں مختلف کمبی نیشن کا تجربہ کیاجاسکتاہے اوربیٹنگ آرڈرمیں تبدیلی کی جاسکتی ہے،چینل ۵ کے پروگرام گگلی میں گفتگوکرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میچ میں فخراورامام الحق سے اوپننگ کراکے عابدکوتیسرے نمبرپربھیجاجائے،پھر بابراعظم اورسرفرازکو بیٹنگ کرائی جاسکتی ہے۔سپورٹس جر نلسٹ منورحسین نے کہا کہ چھٹے،ساتویں پربیٹنگ کےلئے کئی پلیئرزموجودہیں جن میں حفیظ،شعیب ملک،فہیم اشرف اورعمادکے نام موجودہیں۔اس کے علاوہ ہمیں 4باﺅلرزکو بھی ایڈجسٹ کرناہے۔ٹورمیچ میں تجربات کےلئے کئی آپشنزہیں،ہمیں اپنی تیاریوں کا بھی بہترطریقے سے اندازہ ہوجائیگا۔
زرعی ترقی کیلئے کسان کو قومی ہیرو کے طور آگے لانے کی ضرورت ہے: ضیا شاہد ، سابق وزیر خزا نہ اسد عمر نے کہا تھا عوام کا کچومر نکل جائیگا مگر عمران خان نے کہہ دیا پیسہ آ رہا جس سے عوام کو حوصلہ ملا ہے، اللہ کاشکر ہے ہمیں ایسے حکمران ملے ہیں جو عوام کادکھ بانٹنا چاہتے ہیں:چیف ایگزیکٹو ”خبریں“ گروپ کا کسان میلہ کی افتتاحی تقریب سے خطاب
ملتان (رپورٹنگ ٹیم) ”خبریں“ کے چیف ایگزیکٹو جناب ضیاشاہد نے کہا کہ کسان کو قومی ہیرو کے طور پر آگے لانے کی ضرورت ہے تاکہ زرعی شعبہ ترقی کرسکے اور ملک تمام اجناس میں خودکفیل ہو۔ 23مارچ اور 14اگست کی تقاریب میں فلمی اداکاروں، گلوکاروں، ادیبوں، شاعروں، محققین، انجینئرز اور ڈاکٹرز سمیت تمام شعبوں کے لوگوں کو نمایاں کارکردگی پر ایوارڈ ملتے ہیں اگر نہیں ملتے تو غریب کسان اور کاشتکار کو نہیں ملتے۔ جو زمین کا سینہ چیر کر ہمارے لئے خوراک پیدا کرتا ہے۔ وہ گزشتہ روز ”خبریں“ میڈیا گروپ اور دیگر زرعی فرموں اور اداروں کے تعاون سے منعقد ہونے والے کسان میلہ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ جب سے صوبوں کو زراعت سونپی گئی ہے تب سے زراعت کی بری حالت ہے۔ ہم اب تک پانچ زرعی ایوارڈز کی تقاریب منعقد کرا چکے ہیں۔ آخری ایوارڈ سید یوسف رضا گیلانی کے دور میں دیا گیا۔ اس کے علاوہ میاں نوازشریف، پرویز مشرف، شوکت عزیز اور سکندر حیات بوسن کے دور میں بھی ایوارڈز کا انعقاد کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اس قسم کی تقریب یا پروگرام منعقد کرانا ہمارا کام نہیں ہے بلکہ حکومت کا کام ہے۔ وزیراعظم عمران خان سے ملاقات میں انہیں باور کرایا تھا کہ جتنا کام زراعت کے شعبے میں کرنے کی ضرورت ہے کسی اور شعبہ میں نہیں۔ جب تک آبادی کے 70فیصد طبقے کی حالت بہتر نہیں ہوگی ملک ترقی نہیں کرے گا۔ جناب ضیاشاہد نے کہا کہ چند روز قبل وہ وزیراعلیٰ پنجاب کے پاس گئے تھے اور انہیں کہا کہ وہ خود دیہاتی آدمی ہیں ان کے کاشتکار رشتہ داروں کے فون آ رہے ہیں کہ حالیہ ژالہ باری اور بارش سے فصلیں تباہ ہوگئی ہیں۔ ہم برباد ہوگئے ہیں لہٰذا حکومت سے متاثرہ کسانوں کیلئے مالی امداد اور سبسڈی کا اعلان کرائیں۔ جن کی فصلیں تباہ ہوئیں ان کو سہولیات فراہم کی جائیں اور مدد کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی وزیر غذائی تحفظ صاحبزادہ محبوب سلطان ہمارے درمیان موجود ہیں وہ بھی وفاق کی نمائندگی کرتے ہوئے کسانوں کیلئے اقدامات کا اعلان کریں۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کے سابق وزیر خزانہ اسد عمر تقاریب میں برملا کہتے تھے کہ وہ وقت آنے والا ہے جب عوام کی کمر ٹوٹ جائے گی، عوام کا کچومر نکل جائے گا۔ تاہم اپنے دورہ وزیرستان کے دوران وزیراعظم عمران خان عوام کو تسلی اور ان کا حوصلہ بڑھایا کہ فکر نہ کریں بہت پیسہ آرہا ہے، بہت جلد ملک کے مالی حالات بہتر ہو جائیں گے جس سے لوگوں کو حوصلہ ملا ہے۔ جناب ضیاشاہد نے کہا کہ جو کسان سبزیوں، پھلوں، آم، کنوں، گنا، کپاس، مکئی کی فی ایکڑ پیداوار اضافہ کرتے ہیں انہیں قومی ہیرو کی حیثیت سے آگے لانا چاہیے۔ ان کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ کھیتوں میں دن رات محنت کرتے ہیں مگر کوئی ان کی تعریف اور عزت نہیں کرتا، ان کےلئے کرسی چھوڑ کر کھڑا نہیں ہوتا، بہتر پیداوار دینے والے کسان عزت، توقیر اور حوصلہ افزائی کے مستحق ہیں۔ وہ اس بات کے منتظر ہیں کہ کب کسانوں اور فصل پیدا کرنے والوں کی عزت و احترام ہوگا۔ ان کے دکھوں کا مداوا کیا جائے گا۔ جناب ضیاشاہد نے کہا کہ حکمران کیوں نہیں سوچتے کہ غریب کسانوں اور کاشتکاروں کو امداد اور رہنمائی کی ضرورت ہے انہیں جدید ٹیکنالوجی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی وزیر غذائی تحفظ صاحبزادہ محبوب سلطان حکومت کی نمائندگی کرنے کے بجائے اپنے غریب کسانوں، محنت کشوں اور ووٹرز کی نمائندگی کرتے ہوئے اقدامات کا اعلان کریں ۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ ایسے حکمران ملے ہیں جو صحیح معنوں میں عوام کا دکھ بانٹنا چاہتے ہیں۔ جناب ضیاشاہد نے کہا کہ اس کسان میلے کے منتظمین، ”خبریں“ کے کارکنوں، زرعی کمپنیوں، اداروں اور اس کاوش میں اپنے فرائض انجام دینے والے تمام لوگوں کے شکر گزار ہیں جنہوں نے اتنا خوبصورت میلہ سجایا۔وزیراعلیٰ پنجاب اور کل گورنر پنجاب اس میلے کے مہمان خصوصی ہونگے۔
ضیا شاہد
نثار ، عمران ایک دوسرے بارے اچھی رائے نہیں رکھتے، فواد کے جھگڑے زیادہ تھے ، ڈر ہے پاکستان میں بڑی دہشت گردی نہ ہو جائے، چودھری سرور کے گورنر رہنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا: شیخ رشید کی چینل ۵ کے پروگرام ” نیوز ایٹ 7 “ میں گفتگو
لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) چینل فائیو کے پروگرام ”نیوز ایٹ سیون“میں وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان منفی اور مثبت پہلو دیکھے بغیر اصولی فیصلے کرتے ہیں۔ عمران خان نے اصولی طور پر ایک وزیر کو بدلا اور طوفان کھڑا کر دیا گیا۔ اسد عمر نے خود استعفیٰ دیا۔ کابینہ میں 5سال میں 3,3مرتبہ وزارتیں بدلی گئی ہیں، اسمیں کچھ انہونی بات نہیں۔ جب تک تحریک انصاف رہے گی تب تک اسد عمر رہیں گے کا بیان عمران خان نے نہیں دیا ہوگا، انکو پتہ ہی نہیں تھا کہ تحریک انصاف رہے گی یا نہیں رہے گی۔ تحریک انصاف عمران خان کا نام ہے اور اسد عمر تحریک انصاف کیوجہ سے اسلام آباد سے منتخب ہوئے۔ اسد عمر میرے بہت اچھے دوست اور قیمتی انسان ہیں۔ میں انہیں حکومت میں واپس لیکر آﺅں گا۔ جن وزراءکی وزارتیں تبدیل کی گئی ہیں ان میں سے کوئی ناراض نہیں سب اجلاس میں شامل تھے۔ وزراءکی کارکردگی کے معیار پر تبدیلی ہونی چاہیے۔ وزیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ اکانومسٹ ہونے کے ساتھ بہت اصولی اور ایماندار آدمی ہیں معیشت کو سنبھالیں گے۔ اسد عمر بھی زبردست آدمی ہیں مگر انکی تمام تر خدمات کے باوجود عبدالحفیظ شیخ غیر معمولی صلاحیت کے حامل شخص ہیں، خواہ وہ پارٹی کے باہر سے ہیں۔ چور ، ڈاکو ، لٹیرے ، نواز ، شہباز اور زرداری ملک لوٹ کے چلے گئے، اس ملک میں پالیسی دینے کا رواج نہیں۔ جس ملک میں ریلوے کے انجن چلانے کے لیے آئل کے پیسے نہیں تھے، اس ملک میں ہم نے 24نئی ٹرینیں چلائی ہیں۔ ریلوے میں تیل کی 17لاکھ لٹر چوری پکڑی۔ 15سے 30جون کے درمیان سرسید ایکسپریس سمیت تاریخی کام کریں گے۔
پارٹیوں میں جھگڑے ہوتے ہیں، نوازشریف اور شہباز شریف کے درمیان جھگڑا ہے، ایک وکٹ کے دونوں جانب کھیل رہا ہے اور ایک ہسپتال ،ہسپتال کھیل رہا ہے ۔حمزہ اور مریم نواز کے درمیان بھی جھگڑا ہے اور لوگ جانتے ہیں۔
عمران خان ضرورت سے زیادہ3سے 5 گھنٹے تک کابینہ کے معاملات پر تبادلہ خیال کرتے ہیں اور تواضع کی مد میں صرف ایک کپ چائے اور بسکٹ دیا جاتا ہے۔ پارٹی میں تمام فیصلے مفاہمت سے ہوتے ہیں۔ پاکستان دنیا کے جس معاشی بحران سے گزر رہا ہے اسمیں اسد عمر کے بعد شیخ حفیظ بہترین انتخاب ہیں اور بڑے فیصلے لینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے حوالے سے سوال پر شیخ رشید نے کہاکہ عثمان بزدار کو شریف انسان پایا مگر اس ملک میں مولا جٹ کی ضرورت ہے۔ عمران خان اس وقت تک عثمان بزدار کیساتھ کھڑے ہیں۔ اسد عمر کو نکالے جانے کیوجہ نہیں جانتا، ان پر ایسے الزام بھی لگے جن میں انکا دخل نہیں تھا، ہم اپنی غلط کارکردگی بھی اسد عمر کے سر ڈال دیتے تھے۔ عمران خان ملکی معاشی صورتحال کے بارے میں پریشان ہیں مگر نہیں جانتا کہ وہ کیا کریں گے۔ ڈالر کی قیمت بڑھنے سے حکومت کی 90دن کی کارکردگی خاک ہوگئی تھی۔ فردوس عاشق اعوان کو انکے تجربے کی بنیاد پر عمران خان نے وزیر اطلاعات بنایا۔ فواد چوہدری نے پہلے ارشد خان کو نکالا انکے لڑائی جھگڑے تھے مگر دونوں کو عہدوں سے جانا پڑا۔
شیخ رشید نے کہاکہ میں تحریک انصاف نہیں عمران خان کی دوستی اور ساتھ کا پابند ہوں، تحریک انصاف غلط کام کرے گی تو کھلے عام تنقید کروں گا۔ عمران خان بہت محنت کر رہے ہیں۔ انکی ٹیم کو اور زیادہ محنت سے انکی امیدوں پر پورا اترنے کی کوشش کرنی چاہیے، وزراءکی مایوس کارکردگی پر تبدیلی سے کوئی قیامت نہیں آتی۔ وزیر ، وزیر ہوتا ہے، کوئی بھی وزارت دے دی جائے، میں نے ایک سال میں دو سے تین وزارتیں بدلیں۔
چین سے واپسی پر اشتہار دوں گا کہ 12سال پہلے میں نے ایم ایل ون کے معاہدے پر دستخط کیے تھے، اس وقت کا وہی چینی ڈائریکٹر اب ریلوے کا وزیر ہوگیاہے، اب میں اس کیساتھ معاہدے پر دستخط کروں گا۔
چوہدری سرور کو 30سال پہلے کہا تھا کہ آپ پاکستان کی سیاست میں آئیں گے تو انہوں نے توبہ کی تھی۔ پاکستان کی سیاست میں بڑی کشش، گلیمر اور کمپنی کی مشہوری ہے۔ چوہدری سرور مشہور آدمی تھے مگر گورنر ،گورنر ہوتا ہے۔ چوہدری سرور گورنر ہی رہیں گے، انکے گورنر رہنے سے بھی کوئی فرق نہیں پڑتا۔ چوہدری نثار حلف نہیں اٹھائیں گے۔میرے پڑوسی چوہدری نثار کا مسئلہ ہے کہ نہ وہ عمران خان کے بارے میں اچھی رائے رکھتے ہیں اور نہ عمران خان انکے بارے میں ،چوہدری نثار اور نواز شریف بھی ایکدوسرے کے بارے میں اچھی رائے نہیں رکھتے اورپیپلز پارٹی سے چوہدری نثار کے تعلقات ہی نہیں ہیں۔کیا وہ پیرا شوٹ سے آئیں گے؟میڈیا ٹی وی کے 24گھنٹے فل کرنے کے لیے ایسی بریکنگ نیوز چلاتا ہے۔
آج چیف جسٹس آف پاکستان سے اپیل کی ہے کہ بیچارہ فالودے والا، پاپڑ والا،دہی بھلے والا، نمک مسالے والاسب جیل میں ہیں اور جنکے اکاﺅنٹ تھے وہ سب باہر پھر رہے ہیں۔ تحریک انصاف کے احتساب کے حوالے سے شیخ رشید کا کہنا تھا کہ پرویز خٹک نے کہا ہے کہ انکاایسا کوئی کیس نہیں ہے تاہم شاہد خاقان عباسی کیخلاف ایک سنجیدہ کیس کی وہ شہادت دے چکے ہیں۔خسرو بختیار مذاقاً کہتے ہیں کہ مجھے پتا چلا ہے میں نے ایرا میں 5شوگر ملز بنا لی ہیں۔
شریف اور زرداری خاندان جو مرضی کر لیں انکی سیاست ختم ہے۔ شہباز شریف لندن میں جاگنگ کر رہے تھے ، یہ لندن میں فٹ رہتے ہیں ۔ انکے ڈاکٹر بھی انکو کھلی فضامیں رکھنے کا علاج لکھتے ہیں جو انہیں صرف لندن کی پسند ہے۔ انکی پیدائش گوالمنڈی کی ہے، وہاں رہنے کی بات پر انکا دم گھٹتا ہے۔ چھوٹے لوگ بڑے کام ۔ ہمیں بے وقوف بنا کر لوٹنے اور مال بیچنے کے لیے شریف خاندان کے پاس بڑی کمائی ہے۔ بلاول بیچارہ چیکو سا ، ایسے ہی زرداری کے ہتھے چڑھ گیا ہے اور وہ اسکو استعمال کر رہے ہیں۔ آصف زرداری نے بے نظیر کی وصیت کو بھی استعمال کیا، وہ وصیت جو انکی آیا کے پرس سے نکلی تھی۔بے نظیر کی شہادت کے کیس کی پیروی کے لیے 7سال کوئی پیشی پر نہیں گیا اور سیاست انکی لاش پر کی۔ انکی شہادت کے مسلمہ شاہدین بھی منظرسے غائب ہوگئے۔مُردوں کے نام پر اکاﺅنٹ کھلوانے والے سیاستدانوں کو قوم لیڈر سمجھتی ہے تو انا للہ وانا الیہ راجعون۔
ن لیگ اور پیپلز پارٹی کا اتحاد نہیں ہو سکتا، ہو بھی گیا تو کچھ نہیں کر سکتے۔ ابھی تک شہبازشریف کو امید ہے کہ وہ راستہ نکال لیں گے۔ ان سب کا مسئلہ ایک ہے کہ این آر او سے نجات دیدیںتو یہ عمران خان کو 10سال کے لیے حکومت کا سرٹیفکیٹ دے دیں۔ نیب کیس کی باری نہیں جانتا مگر شاہد خاقان عباسی کے کیس کے فیصلے کا منتظر ہوں ۔ پھر انکی لاہور ہائی کورٹ سے ضمانت ہو جائے گی۔ شہباز شریف کا بیانیہ بدل چکا ہے اور نواز شریف کی خاموشی صحیح وقت کا انتظار کر ہی ہے۔ شہباز شریف کو ڈھیل ملی ہوئی ہے ، ڈیل کی درخواست کرتے میں نے انکو دیکھا اور سنا ضرور ہے مگر نہیں جانتا ڈیل ہوئی یا نہیں۔ عمران خان کی حد تک یقین ہے کہ ڈیل نہیں ہو سکتی۔ نواز شریف جیل نہیں کاٹ سکتے مر بھی جائیں تو 5روپے نہیں دیں گے مگر اولاد کے لیے اتنا اکاﺅنٹ چھوڑ جائیں گے کہ وہ عزت بھی نہیں پاسکیں گے۔آصف زرداری کھلے دل کے آدمی ہیں وہ پیسہ دے سکتے ہیں ، وہ پروفیشنل ہیں اور جیل بھی کاٹ سکتے ہیں۔ 3مرتبہ وزیراعظم بنائے جانے والے شخص کی اولاد غیر ملکی شہری ہو، ایسی سیاست پر لعنت ہے۔
عمران خان نے غیر معمولی حالات میں ایران کا دورہ کیا، یہ عمران خان ہی کر سکتا تھا۔عمران خان اپنی سوچ پر تنز کی پرواہ نہیں کرتے۔ پاک ایران بارڈر پر باڑ لگ جانے سے مسئلہ حل ہو جائے گا۔ وزیر خارجہ نے ایران کے حوالے سے جو بیان دیا ٹھیک دیا ہوگا۔ افغان طالبان کا مذاکراتی عمل مسائل کا شکار ہے۔ امریکی فوجیں افغانستان سے شاید واپس چلی جائیں، مگر خانہ جنگی کے حالات ٹھیک نہیں ہوں گے۔ ڈر ہے پاکستان میں بڑی دہشتگردی نہ ہوجائے۔ مودی کے الیکشن جیتنے یا ہارنے پر سیاست مختلف ہوگی۔ مودی نے ہندو ووٹ جیب میں ڈال لیا ہے۔اقلیتیں سب سے زیادہ ہندوستان میں غیر محفوظ ہیں، مسلمان وہاں کسمپرسی کی حالت میں ہیں۔کبھی نہیں سوچا تھا کہ بھارت امریکا کی گو دمیں بیٹھ کر جیب کی گھڑی اور ہاتھ کی چھڑی بن جائے گا۔ بھارت نے ایسی بڑی تبدیلی کی جس نے شیخ رشید کو حیران کیا۔
ایف اے ٹی ایف میں پاکستان مشکلات کا شکار ہے۔ آئی ایم ایف سے چند دنوں میں ڈیل ہوجائے گی۔ چین بھی چاہتا ہے کہ پاکستان آئی ایم ایف سے رابطے میں رہے۔ گیس اور پیٹرول کی قیمتوں کیوجہ سے مہنگائی میں اضافہ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کی نظر میں ہے مگر ملک کے اکاﺅنٹس کی بہتری کے لیے یہ ضروری ہے۔ ملک میں سرمایہ کار اور مولوی کبھی مطمئن نہیں ہوتے انکے اپنے اہداف ہوتے ہیں۔
موجودہ حکومت میں میں اپنے فیصلوں میں آزاد ہوں، جو ماضی کی حکومتوں میں نہیں تھا۔ میں نے ایک کتاب فرزند پاکستان لکھی ہے۔ اب ایک اور کتاب لکھوں گا جسکا عنوان میں نے ’سب اچھا‘رکھا تھا مگر تبدیل کروں گا۔ یہ کتاب بہت قیمتی ہوگی ۔سعد رفیق نے ریلوے میں خریدوفروخت اور کمیشن کھانے کے علاوہ کوئی کام نہیں کیا۔ایم ایل ون ہو گیا تو 5سال میں ڈیڑھ لاکھ لوگوں کو روزگار دیں گے۔ چین نے اتنے سالوں میں منصوبے کا نام ’حویلیاں ڈرائی پورٹ ‘تبدیل نہیں کیا۔ ریلوے نے فریٹ ٹرینیں 8سے 12کی ہیں جنہیں 20کیا جائےگا، اس وقت کوچز نہیں ہیں۔ عید کے بعد ریلوے کرایوں میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث اضافہ کیا جائے گا۔ چاہتے ہیں کہ عوام رمضان اور عید خوشی سے گزار لیں۔ ریلوے نے 25ارب قرض لیا ہوا ہے، ادارہ نادھندہ ہے مگر تنخواہیں دینے کے قابل ہے اور اپنے ریونیو سے چل رہا ہے۔ ریلوے میں کرپشن ہے،آج پرچیز کمیٹی مکمل تبدیل کردی کیونکہ یہ کرپشن نہیں چھوڑتے انکے منہ کو خون لگا ہے۔ مسافر کو خدمت پہنچانا ، دین ودنیا کی خدمت ہے۔
خبریں بنا مظلوم کی آواز : بہاولنگر 13 لڑکی کا اغوا ، ایس ایچ او اور سب انسپکٹر گرفتار
بہاولنگر ( ملک مقبول احمد سے) جہاں ظلم وہاں خبریں بنا مظلوم کی آواز منڈی صادق گنج میں تیرہ سالہ لڑکی حمیرہ بی بی کو اغوا کر لیا گیا اغوا کرنے والے علی رضا ،محمد طارق اورا ٓمنہ بی بی کے خلاف تھانہ منڈی صادق گنج میں درخواست دی گئی جس پر پولیس نے مقدمہ درج کر لیا مگر تین ماہ گزرنے کے باوجود اغو ہونے والی بچی حمیرہ بی بی کو بازیاب نہ کروا سکی اور مختلف حیلوں بہانون سے مقدمہ کی مدعیہ رانی بی بی کو ٹالتے رہے اور اغوا ہونے والی تیرہ سالہ بچی حمیرہ کی والدہ تین ماہ سے تھانہ منڈی صادق گنج میں پولیس کے ہاتھوں ذلیل و خوار ہو رہی تھی تھانہ منڈی صادق گنج کے ایس ایچ او عبدالرزاق نے اور ایس آئی نزیر احمد کانسٹیبل اعظم نے مقدمہ کی مدعیہ سے بچی کو بازیاب کروانے کے عوض دولاکھ سے زائد رقم بطور رشوت لی جو کہ مختلف اوقات میں لی گئی اور مدعیہ کو آئے روز یہ بہانہ کرتے کہ ہم لڑکی کو برآمد کرنے کے لیئے ریڈ کر رہے ہیں بچی اغوا کیس میں ایس ایچ او تھانہ منڈی صادق گنج نے دیگر کئی افراد کو بھی گرفتار کیا اور رشوت لیکر انہیں چھوڑ دیا گیا باوثوق ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ ایس ایچ او تھانہ منڈی صادق گنج عبدالرزاق و دیگر نے اپنے رہائش گاہ کو بھی قبحہ خانہ اور عیاشی کا اڈا بنا رکھا تھا جہا ںکھلے عام شراب اور شباب کی محفلیں لگتی تھیں اور کھلے عام تھانہ میں رشوت کا بازار گرم تھا اور منڈی صادق گنج کی عوام بھی ایس ایچ او کے رویہ سے سخت پریشان اور تنگ تھے اور لوگوں میں ایک خوف کی فضا پائی جا رہی تھی تیرہ سالہ بچی حمیرہ اغوا کیس کی مدعیہ رانی بی بی کی شکایات پر ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر بہاولنگر میڈم عمارہ اطہر نے اس تمام صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے ایس ایچ او عبدالرزاق ایس آئی نزیر احمد کانسٹیبل اعظم اور عبدالشکور کو فوری طور پر معطل کر کے ایس پی انوسٹی گیشن کو اس واقعہ کی انکوائیری کا حکم دیا اور اڑتالیس گھنٹو ں میں ایس پی انوسٹی گیشن سے رپورٹ طلب کی جس پر ایس پی انوسٹی گیشن نے حمیرہ بی بی اغوا کیس کی مکمل انکوائیری کرتے ہوئے رپورٹ ڈی پی او بہاولنگر میڈم عمارہ اطہر کو پیش کی جس میں ایس ایچ او ودیگر پولیس اہلکاروں کے خلاف کاروائی کی سفارش کی گئی جس پر ڈی پی او نے فوری ایکشن لیتے ہوئے ایس ایچ او عبدالرزاق ایس آئی نزیر احمد اور دیگر پولیس ملازمیں کے خلاف مقدمہ درج کرکے گرفتار کر لیا گیا مدعیہ اور اہل علاقہ نے شدید احتجاج کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ پنجاب اور آئی جی پولیس سے انصاف کی اپیل کی ہے۔
نوازشریف کو بیرون ملک علاج کی اجازت مل گئی تو وہ علاج کرا کر واپس آ جائینگے: خالد چودھری ، ایسا لگ رہا ہے جیسے نوازشریف کے ساتھ مک مکا ہو رہا ہے: طارق ممتاز ، وزیراعظم عمران خان نے چین میں لکھی ہوئی بڑی اچھی تقریر کی: امجد اقبال ، بنیادی حقوق نہیں ملتے وہاںسرمایہ کار کبھی ڈر کی چھتری تلے پیسہ نہیں لگاتا: منور انجم ، چینل ۵ کے پروگرام ” کالم نگار “ میں گفتگو
لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے پروگرام ’کالم نگار‘ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی اور تجزیہ کار خالد چودھری نے کہا ہے کہ سی پیک منصوبہ آسانی سے نہیں بنے گا۔ سرمایہ کار کا کوئی مذہب نہیں ہوتا، ماضی میں یہاں بہت بڑی تعداد میں سیاح آتے تھے سیاحت کو بحال کرنا ہے۔ ماحول کو دوستانہ بنانا ہو گا۔ وزیراعظم مران خان کا چین کا دورہ اہم ہے۔ نوازشریف کی بیرون ملک علاج کی اجازت مل گئی تو وہ علاج کرا کر واپس آ جائیں۔ ایسے بھی مریض تھے جن کے کمر درد تھا باہر جا کر ڈانس کرتے نظر آتے تھے۔ پاکستان میں دو طبقے ہیں ایک کو دنیا کی ہر سہولت حاصل دوسرے کے پاس کچھ نہیں ہے۔
سینئر تجزیہ کار طارق ممتاز نے کہا کہ نوازشریف کا یہاں اپنا بہترین ہسپتال ہے وہاں سے علاج کیوں نہیں کراتے کیا ان کا علاج صرف لندن میں ممکن ہے۔ اگر اتفاق ہسپتال میں علاج نہیں ہو سکتا۔ اسے بند کر دیں ایسا لگ رہا ہے جیسے مک مکا ہو رہا ہے۔
تجزیہ کار منورا انجم نے کہا کہ سرمایہ کار کبھی ڈر کی چھتری تلے پیسہ نہیں لگاتا جس ملک میں لوگوں کے بنیادی حقوق نہیں ملتے کوئی مستقل پالیسی نہ ہو وہاں کوئی کیوں سرمایہ کاری کرے گا۔ انسانی ہمدردی کے تحت نوازشریف کو علاج کیلئے باہر جانے کی اجازت دینی چاہئے وہ علاج کرا کر واپس آ جائیں گے۔ نیب کو طریق کار بدلنا ہو گا پہلے انویسٹی گیشن اور پھر پکڑا جانا چاہئے سینئر صحافی اور کالم نگار امجد اقبال نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے چین میں بڑی اچھی تقریر کی، اس بار انہوں نے لکھی ہوئی تقریر کی۔ نوازشریف کا علاج تو بیرون ملک ہی ہو سکتا ہے تو انہیں جانے دینا چاہئے۔ طبقاتی نظام صرف پاکستان ہی نہیں دنیا بھر میں موجود ہے۔ بڑی مچھلی چھوٹی کو کھا جاتی ہے یہی فطرت کا قانون ہے۔
وزیراعظم نے اقتصادی رابطہ کمیٹی کی تشکیل نو کردی
اسلام آباد(ویب ڈیسک) وزیراعظم عمران خان نے اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کی تشکیل نو کردی۔وزیراعظم نے کابینہ کمیٹی برائے توانائی اور نجکاری کی بھی تشکیل نو کی جن کا نوٹیفیکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق وزیراعظم کے مشیر برائے خزانہ عبد الحفیظ شیخ اقتصادی رابطہ کمیٹی کے چیئرمین ہوں گے اور کمیٹی 14 ارکان پر مشتمل ہوگی۔نوٹیفکیشن میں کابینہ کمیٹی برائے توانائی کا چیئرمین بھی مشیر خزانہ کو مقرر کیا گیا ہے اور یہ کمیٹی 7 ارکان پر مشتمل ہوگی۔کابینہ کمیٹی برائے نجکاری کے چیئرمین بھی عبدالحفیط شیخ کو بنایا گیا ہے، یہ کمیٹی 8 ارکان پر مشتمل ہوگی۔یاد رہے کہ سابق وزیرخزانہ اسد عمر کی جانب سے مستعفیٰ ہونے کے بعد ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کو وزیراعظم کا مشیر برائے خزانہ بنایا گیا ہے۔


















