دنیا کے امیر ترین شخص کی مہنگی ترین طلاق

لاہور( ویب ڈیسک ) دنیا کا امیر ترین جوڑا ایک دوسرے سے الگ ہوگیا ہے اور اس حوالے سے انہوں نے تمام معاملات کو طے کرلیا ہے۔

جی ہاں دنیا کے امیر ترین شخص اور ایمازون کے بانی جیف بیزوز اور ان کی اہلیہ میکنزی شادی کے 25 سال بعد ایک دوسرے سے الگ ہوگئے ہیں۔

اس فیصلے کا اعلان دونوں نے رواں سال جنوری میں کیا تھا اور اب مالی معاملات کو طے کرنے کے بعد باضابطہ طور پر علیحدگی کا بیان دونوں نے الگ الگ ٹوئیٹس کی شکل میں جاری کیا۔

میکنزی بیزوز نے اپنے ٹوئیٹ میں لکھا کہ جیف بیزوز اور انہوں نے علیحدگی کے عمل کو مکمل کرلیا ہے اور انہیں ایمازون میں جیف بیزوز کے 25 فیصد شیئرز ملیں گے۔

ٹوئیٹ میں مزید بتایا کہ میکنزی وہ جیف بیزوز کو ایمازون کے 75 فیصد اسٹاک دینے پر خوش ہیں جبکہ اپنے حصص کا ووٹنگ کنٹرول بھی وہ سابق شوہر کو دے رہی ہیں، اس کے علاوہ انہوں نے واشنگٹن پوسٹ اور بلیور اوریجن میں اپنے شیئر بھی جیف بیزوز کے سپرد کردیئے۔

اب میکنزی ایماوزن کے 4 فیصد شیئر کی مالک بن چکی ہیں اور اس کمپنی کی تیسری بڑی شیئر ہولڈر بن چکی ہیں۔

مجموعی طور پر میکنزی ایمازون کے شیئرز کی بدولت 35.6 ارب ڈالرز کی مالک بن چکی ہیں، جبکہ جیف بیزوز اب بھی 115 ارب ڈالرز کے مالک ہونے کے ساتھ دنیا کے امیر ترین شخص ہیں کیونکہ دوسرے نمبر پر موجود بل گیٹس کے اثاثوں کی مالیت 102 ارب ڈالرز ہے۔

اس جوڑے کی جانب سے سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن میں دائر کی گئی طلاق کی درخواست میں یہ تفصیلات سامنے آئیں اور طلاق کا حتمی دستاویز 90 دن میں جاری ہوگا۔

اس دستاویز کے مطابق اگر میکنزی اپنے شیئرز فروخت بھی کردیں تو بھی جیف بیزوز ان حصص کے ووٹنگ کنٹرول کو اپنے پاس رکھ سکیں گے اور ان کا یہ اختیار ایمازون کے بانی کی موت یا قانونی طور پر دستبرداری کی صورت میں ہی ختم ہوگا۔

جنوری میں اس جوڑے کی جانب سے بیان میں بتایا گیا تھا ‘ طویل عرصے تک الگ رہنے کے بعد ہم نے طلاق کا فیصلہ کیا ہے، مگر بطور دوست اپنی زندگیوں کو شیئر کرتے رہیں گے’۔

گوادر کے ساحل پر پائی گئی وہیل، ماہرین کے معائنے سے قبل ہی دفن

لاہور (ویب ڈیسک ) گوادر کے ساحل پر مردہ حالت میں پائی گئی 34 فیٹ لمبی وہیل کو ماہرین کے جائزے سے قبل ہی دفنا دیا گیا۔باخبر ذرائع نے ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ’شاید وہیل کو دفنانے میں جلد بازی اسلیے دکھائی گئی کہ اس کے جسم سے تعفن اٹھ رہا تھا اور قریب ہی سیکیورٹی چیک پوسٹ موجود تھی۔تاہم وہیل کے بارے میں متضاد دعوے سامنے ا?ئے، عالمی ادارہ برائے تحفظ جنگلی حیات (پاکستان) کا کہنا تھا کہ یہ بلیو وہیل کا بچہ تھا جبکہ گوادر ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے منسلک ایک سمندری حیات کے ماہر کا کہنا تھا کہ یہ ایک بروڈی وہیل تھی۔رپورٹس کے مطابق وہیل کی ساحل پر ا?جانے کی اطلاع ملنے کے بعد بھی محکمہ فشریز کے کسی عہدیدار نے مذکورہ مقام کا دورہ نہیں کیا اور صرف تصاویر کی مدد سے وہیل کا جائزہ لیا گیا جو بظاہر سیکیورٹی اہلکاروں نے کھینچی تھیں۔ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے صدر محمد معظم خان کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ وہیل کی موت کے بارے میں مختلف اندازے موجود ہیں، مجھے یقین ہے کہ یہ وہیل مچھلی پکڑنے کے جال میں پھنس کر ہلاک ہوئی کیوں کہ اس کے کسی جہاز سے ٹکرانے کے کوئی شواہد نہیں ملے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ہماری ٹیم نے مچھلی کو دفن کیے گئے مقام کی کھدائی کر کے اس کے گوشت کے نممونے اکٹھے کیے ہیں جنہیں ڈی این اے تجزیے کے لیے بین الاقوامی ماہرین کو بھیجا جائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ ماہی گیروں نے اس کے پیٹ سے عنبر اسود (ایک قسم کا چربیلا مادہ) حاصل کرنے کی کوشش کی جس سے وہیل کے مردہ جسم کو نقصان پہنچا، لیکن وہ اس میں کامیاب نہیں ہوئے کیوں کہ عنبر اسود صرف سپرم وہیل کی ا?نت میں پایا جاتا ہے۔معظم خان نے مزید بتایا کہ 2014 میں بھی اسی نسل کی ایک وہیل کراچی سے 39 کلومیٹر دور کھڈی کریک کے مقام پر بہہ کر ا?گئی تھی۔

ساتویں کی انگریزی میں مقبوضہ کشمیر کو بھارتی حصہ قرار دیدیا گیا

ملتان (رانا طارق عزیز سے) پنجاب ٹیکسٹ بُک بورڈ نے مقبوضہ کشمیر کلاس 7کی انگلش میں بھارت کا حصہ قرار دے دیا۔ واضح رہے کہ اس سے پہلے ایک نجی سکول کی کتابوں میں بھی اسی قسم کا مواد شامل تھا۔ میڈیا میں خبریں آنے کے بعد کتابوں کو سکولوں سے اُٹھایا گیا جبکہ اب خود پنجاب ٹیکسٹ بُک بورڈ نے مقبوضہ کشمیر کو انڈیا کا حصہ قرار دیتے ہوئے بچوں کو پڑھانا شروع کردیا ہے۔ کلاس 7کی انگلش بُک ایڈیشن 2016-17ءکے لکھنے والوں میں پروفیسر مرزا غلام محمد بیگ، پروفیسر ممتاز احمد، مسز منزہ تجمل، مسز طیب صدف، ایڈیٹرز میں مرزا غلام محمد بیگ، پروفیسر ممتاز احمد، سپروائزر میں محمد زبیر (اے ایس ایس) اور ڈیزائننگ میں محمد عمیر، محمد عارف شامل ہیں۔ اس ایڈیشن کی 66ہزار کتابیں شائع ہوئیں۔ سبق نمبر14 جن کا عنوان A Terrible Earth Quake (ایک خوفناک زلزلہ) ہے جوکہ اکتوبر 2005ءمیں اسلام آباد اور کشمیر کے علاقوں میں آیا تھا اور اس میں خوفناک تباہی ہوئی تھی۔ سبق نمبر14 کے صفحہ نمبر164 پر لکھا گیا کہ Destruction in many areas of Kashmir (AJK), Khyber Pakhtunkhwa and western and southern parts of occupied Kashmir. آزاد کشمیر چند پختونخوا اور مقبوضہ کشمیر کے مغربی اور شمالی حصوں میں بہت تباہی ہوئی جبکہ پنجاب ٹیکسٹ بُک بورڈ کے 2017-18ءکے ایڈیشن میں اسی کتاب کے سبق نمبر14 کے صفحہ 164 پر ایڈیشن (2016-17ئ) شائع کرنے والی ٹیم نے مقبوضہ کشمیر کی جگہ انڈیا کا علاقہ مانتے ہوئے لکھا کہ Destruction in many areas of Azad Kashmir, Khyber Pakhtunkhwa and India western and southern Kashmir آزاد کشمیر، خیرپختونخوا اور انڈیا کے مغربی اور شمالی کشمیر کے بہت سے علاقوں میں تباہی ہوئی اور اس ایڈیشن کی 42ہزار کاپیاں شائع کرکے مارکیٹ میں فروخت کے لئے دی گئیں جبکہ پنجاب ٹیکسٹ بُک بورڈ کی طرف سے شائع ہونے والے 2018-19ءکے ایڈیشن میں اسی ٹیم جس نے ایڈیشن 2016-17ئ، 2017-18ءاور 2018-19ءشائع کیا، نے ایک مرتبہ پھر غلطی دور کرنے کے بجائے مقبوضہ کشمیر کو انڈیا کا علاقہ مانتے ہوئے یہ شائع کیا کہ Destruction in many areas of Kashmir, Khyber Pakhtunkhwa and India western and southern Kashmir آزاد کشمیر، خیبرپختونخوا اور انڈیا کے مغربی اور شمالی کشمیر کے بہت سے حصوں میں تباہی ہوئی۔ اس ایڈیشن کی 44ہزار کاپیاں شائع کرکے مارکیٹ میں بھیجی گئیں جبکہ حیران کُن امر یہ ہے کہ سرکاری سکولوں میں بھیجے گئے ایڈیشن 2019-20ءجس پر لکھا ہوا ہے کہ یہ کتاب برائے فروخت نہیں ہے (Not for Sale)، اس ایڈیشن کو بھی اسی ٹیم نے مرتب کیا اور پنجاب ٹیکسٹ بُک بورڈ نے شائع کیا اور اس میں بھی مقبوضہ کشمیر کا فقرہ درست کرنے کے بجائے انڈیا کے ساتھ (S) کا اضافہ کردیا گیا جس کا مطلب ہے کہ بالکل انڈیا کا ہے۔ فقرہ کچھ یوں لکھا گیا ہے کہ Desturction in many areas of Azad Kashmir (AJK) Khyber Pakhtunkhwa and India’s western and southern Kashmir آزاد کشمیر، خیبرپختونخوا اور انڈیا کے شمالی اور مغربی کشمیر کے بہت سے حصوں میں تباہی ہوئی۔ حیران کُن امر یہ ہے کہ پہلے مقبوضہ کشمیر کا لفظ ختم کرکے انڈین کشمیر کے لفظ کا اضافہ کیا گیا۔ اس غلطی کو درست کرنے کے بجائے ”S“ کا اضافہ کردیا گیا جس کا مطلب یقینی ہوتا ہے۔ تعلیمی حلقوں نے شدید تنقید کرتے ہوئے غلطی درست کرنے اور کتاب دوبارہ شائع کرکے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
مقبوضہ کشمیر

انجلینا جولی اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے عہدے کی امیدوار

لاس اینجلس (وائس آف ایشیا)اقوام متحدہ کی خیرسگالی کی سفیرہ 43 سالہ امریکی ماڈل انجلینا جولی نے کہا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے عہدے کے حصول کی کوشش کررہی ہیں۔ انہیں امید ہے کہ وہ جلد اس اہم عہدے پر فائ۔۔ ہوجائیں گی۔خبر رساں اداروں کے مطابق انجلینا جولی نے جریدہ’پیپل’ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ مجھے قطعا مایوس نہیں کہ میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا عہدہ حاصل نہیں کر سکتی۔ میرا ویژن مجھے ایک دن اس عہدے تک پہنچا سکتا ہے مگر جولی کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ لیڈر شپ کے لیے دوسروں ک مطلع کریں گی۔اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کے لیے قائم کردہ ہائی کمیشن خدمات کے بارے میں بات کرتے ہوئے انجلینا جولی کا کہنا تھا کہ پناہ گزینوں کے تحفظ کے لیے مزید امن فوج کی تعیناتی کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پناہ گزینوں کو جنسی تشدد کے حربوں سے بچانے کے لیے عالمی برادری کو موثر اقدامات کرنا ہوں گے۔خیال رہے کہ برڈ پٹ سے علاحدگی کے بعد انجلینا جولی نے اپنی توجہ اپنے چھ بچوں اور پیشہ وارانہ کام پر مرکوزکردی ہے۔ انجلینا کا بیٹا ماڈوکس آئندہ سال یونیورسٹی میں داخل ہو جائے گا۔

شعیب ملک قومی فٹبالرز کی حمایت میں سامنے آگئے‘ فیفا سے تنازع حل کرنے کا مطالبہ

لاہور (وائس آف ایشیا) آل راو¿نڈر شعیب ملک بھی پاکستان میں فٹ بال کی صورتحال پر تشویش میں مبتلا ہیں اور انھوں نے فیفا سے اپیل کی ہے کہ وہ اس تنازع کے حل میں اپنا کردار ادا کرے تاکہ پاکستان ٹیم ورلڈ کپ کوالیفائرز میں شرکت کرسکے۔ سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر اپنے پیغام میں شعیب ملک نے کہا ہے کہ ”موجودہ حالات میں پاکستانی فٹ بالرزغیر یقینی کیفیت سے دوچار ہیں، فیفا سے درخواست ہے کہ اس مسئلے کا جائزہ لے تاکہ پاکستانی قوم اپنے کھلاڑیوں کو ایکشن میں دیکھ سکے“۔ عالمی باڈیز کی نظر میں بدستور سید فیصل صالح حیات ہی پاکستان فٹبال فیڈریشن (پی ایف ایف) کے آئینی صدر ہیں، اس صورتحال میں پاکستان پر معطلی کی تلوار لٹک رہی ہے، ورلڈ کپ کوالیفائرز سمیت انٹرنیشنل مقابلوں میں پاکستان ٹیم کی شرکت پر سوالیہ نشان موجود ہے۔ فیفا نے بھی پاکستان فٹبال کو فنڈز کی فراہمی روک دی ہے۔

احتساب عدالت میں جعلی اکاﺅنٹس کیس کا پہلا نیب ریفرنس سماعت کیلئے مقرر

اسلام آ باد (خبر نگار خصوصی)احتساب عدالت میں جعلی اکاونٹس کیس کا پہلا نیب ریفرنس سماعت کے لیے مقرر کرلیا گیا،احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے تمام ملزمان کی طلبی کے سمن جاری کرتے ہوئے سابق ایڈمنسٹریٹر کراچی محمد حسین سید سمیت تمام ملزمان کو 19 اپریل کو طلب کرلیا،عدالت کی جانب سے جن ملزمان کو طلب کیا گیا ہے ان میں سابق صدر آصف علی زرداری کے قریبی ساتھی یونس کوڈواوی، کراچی میٹرو پولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی)کے 4 سابق اور 4 موجودہ افسران بھی شامل ہیں،ملزمان پر فلاحی مقاصد کے لیے مخصوص پلاٹس غیر قانونی طور پر الاٹ کرنے کا الزام ہے،وا ضح رہے کہ 2 اپریل کو نیب ایگزیکٹو بورڈ نے جعلی اکاونٹس کیس میں نیب راولپنڈی کی جانب سے بھیجے گئے ریفرنس کی منظوری دی تھی۔

آئندہ الیکشن ایم کیو ایم سے ملکر لڑ سکتے ہیں : عمران خان

اسلام آباد (نامہ نگار خصوصی) وزیراعظم عمران خان نے حیدرآباد یونیورسٹی کا سنگِ بنیاد رکھ دیا، اپنے خطاب میں ا±ن کا کہنا تھا کہ اس طرح سڑکوں کے افتتاح ہوتے تھے مگر یونیورسٹی کا افتتاح کر کے بہت زیادہ خوشی ہورہی ہے۔ تفصیلات کے مطابق اسلام آباد مین حیدرآبادیونیورسٹی کے قیام کی تقریب ہوئی جس میں وفاقی وزرا سمیت وزیراعظم عمران خان نے شرکت کی۔ سنگِ بنیاد کے بعد شرکاء سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ سڑکیں بنتی رہتی ہیں مگر قوم کو لوگوں پر خرچ کرناچاہیے، کبھی کوئی قوم تعلیم کے بغیر آگے نہیں بڑھی۔ ا±ن کا کہنا تھا کہ جنگ بدر کے بعد ہمارے نبی نے بڑا قدم اٹھایا تھا اور قیدیوں کو پیش کش کی تھی کہ وہ بچوں کو تعلیم دے کر رہائی حاصل کرسکتے ہیں، مجھے یونیورسٹی کا سنگ بنیاد رکھنے پر بہت خوشی ہوئی، اگر ہم لوگوں پر سرمایہ کاری کریں گے تو ملک ترقی کرے گا۔ ا±ن کا کہنا تھاکہ اصل سیکیورٹی تعلیم کےذریعے ملتی ہے، صرف سنگاپور یونیورسٹی کا بجٹ پورے پاکستان کی یونیورسٹیوں سے زیادہ ہے، 21کروڑ پاکستانیوں کی ایکسپورٹ مشکل سے 24ارب ڈالر ہے جبکہ چھوٹے سے سنگاپورسے330ارب ڈالرکی ایکسپورٹ ہوتی ہے۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ معاشرہ تعلیم کے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتا، ہمارے پاس 60فیصدپاکستانی 30سال سے کم عمر ہیں،اگر ہم نے ان نوجوانوں کو تعلیم دے دی تو یہ پاکستان اور اس کی معیشت کو اٹھا دیں گے۔ حیدرآباد یونیورسٹی کو ٹیکنیکل بیس بنائیں گے، مستقبل میں ایسا تعلیمی ادارہ بھی بنے گا جہاں صرف سائنس اور صوفی ازم کی تعلیمات دی جائیں گی عمران خان کا کہنا تھا کہ قائد اعظم اور علامہ اقبال کی سوچ بہت بڑی تھی، غربت اور بے روزگاری سے معاشرہ مشکل میں آجاتا ہے، خالد مقبول کی بات سے اتفاق کرتا ہوں جس نام پر پاکستان بنایا گیا تھا یہ وہ ملک نہیں ہے، انسان سب کچھ سہہ جاتا ہے مگر کفر کانظام نہیں چل سکتا۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ماضی میں حیدرآباد یونیورسٹی کی مخالفت ہوئی یہ بات میری سمجھ سے باہر ہے، خالد مقبول صدیقی مجھے ا±ن لوگوں کا نام بتائیں جو رکاوٹ تھا کیونکہ اگر آپ تعلیم کو فروغ نہیں دے سکتے تو اس کے قیام کی خلاف ورزی بھی نہیں کرنی چاہیے۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ حیدرآبادیونیورسٹی کو ٹیکنیکل بیس بنائیں گے اور مستقبل میں عبدالقادر نامی ایسی یونیورسٹی بنائیں گے جہاں سائنس اور صوفی ازم ان دو مضامین کی تعلیم دی جائے گی۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ بلاول بھٹو اسمبلی میں انگریزی میں تقریر کرتے ہیں جبکہ 90 فیصد پاکستانی صرف اردو زبان سے ہی واقفیت رکھتے ہیں، انگریزی میں تقریر کرکےاردوبولنےوالوں کی توہین کرتے ہیں، لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ انگریزی میں بولیں گے تو پڑھالکھا سمجھاجائے گا۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ماضی کے اختلافات کے باوجود سمجھتا تھا کہ ایم کیو ایم اور تحریک انصاف کا نظریہ ایک جیسا ہے، حکومت میں آنے کے بعد ایم کیو ایم سے اتحاد ہوا تو دو وزارتیں متحدہ کو دیں، خالد مقبول اور فروغ نسیم ہر معاملے میں نفیس ثابت ہوئے، انشاءاللہ اگلا الیکشن پی ٹی آئی اور ایم کیو ایم ایک ساتھ ہی لڑے گی۔ اپنی تقریر کے اختتام پر وزیر اعظم نے یقین دہانی کروائی کہ ’حیدرآباد یونیورسٹی کے حوالے سے جو بھی مشکلات درپیش آئیں وہ میرے علم میں لائی جائیں، میں ذاتی طور پر حکومت سے خود بات کروں گا، یونیورسٹی کے لیے سرکاری زمین فراہم کریں گے‘۔ وزیراعظم عمران خان نے تحریک انصاف اور ایم کیو ایم کے نظریے کو برابر قرار دیا اور مولانا فضل الرحمان اور بلاول بھٹو زرداری پر تنقید کی۔ عمران خان نے کہا کہ ہمارے پاس مغرب کو جواب دینے والا کوئی نہیں، اب مولانا فضل الرحمان دنیا کو کیا جواب دیں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہم نے او آئی سی، اقوام متحدہ میں جا کر پہلی بار بات کی یہ اظہاررائے کی آزادی کا غلط استعمال ہے کہ جس کے جو دل میں آئے،مسلمانوں کے بارے میں کہے دے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم اپنے نوجوانوں کو اچھی تعلیم دے دیں تو یہ ملک کو آگے لے جائیں گے لیکن اگر یہ نہ کیا تو بے روزگاری ہوگی، غربت ہوگی جو معاشرے کے لیےمسائل پیدا کرے گی۔ وزیراعظم نے کہا کہ نئے پاکستان میں انصاف اور تعلیم کی بہت زیادہ اہمیت ہوگی۔ نہیں جانتا کہ کون لوگ ہیں جو یونیورسٹی کی مخالفت کررہے ہیں۔ عمران خان نے کہا کہ ہمارے بچے اسٹیو جابزاور بل گیٹس کے بارے میں پڑھتے ہیں لیکن پوری دنیا کو نظام بدلنے والے بنی کریم کے بارے میں نہیں پڑھایا جاتا۔ وزیراعظم نے کہا کہ نوے فیصد لوگوں کو انگریزی کی سمجھ نہیں آتی لیکن ٹی وی اورپارلیمنٹ میں انگریزی میں تقریریں کرکے اپنے لوگوں کی توہین کی جاتی ہے، اگر برطانیہ میں فرانسینی میں تقریر کریں تو لوگ ہنسیں گے، ہم اس طرح اپنے لوگوں کو احساس کمتری میں مبتلا کرتے ہیں۔ عمران خان نے اس دوران جہلم کے پاس سوہاوہ کے قریب نجی شعبے کے تحت یونیورسٹی بنانے کا اعلان بھی کیا ۔وزیراعظم عمران خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ ایم کیو ایم کے ارکان سے زیادہ نفیس لوگ کابینہ میں نہیں،ایم کیو ایم اورپی ٹی آئی اگلا الیکشن اکٹھا لڑیں گے،90فیصد پاکستانیوں کو انگریزی نہیں آتی، ٹی وی پر بیٹھ کر لوگوں نے انگریزی بولنا شروع کردی ،سمجھ نہیں آتا ہمیں اردو سمجھ آتی ہے اور آپ انگریزی بولنا شروع کردیتے ہیں، بلاول بھٹو زرداری بھی پارلیمنٹ میں آکر انگریزی میں تقریر شروع کردیتے ہیں،وزیراعظم نے کہا کہ صوفی ازم میں نبی پاک کی حیات طیبہ پر ریسرچ کرائیں گے،نجی شعبے کی القادر یونیورسٹی میں سائنس اور صوفی ازم پڑھایا جائے گا ۔ اس موقع پر وزیراعظم نے جہلم کے پاس سوہاوہ کے قریب نجی شعبے کے تحت یونیورسٹی بنانے کا اعلان بھی کردیا۔وزیراعظم نے کہا کہ ہمارے پاس وہ اسکالرز ہی نہیں ہیں جو مغرب کوجواب دے سکیں،مولانا فضل الرحمان یورپ یا امریکا کو کیا جواب دیں گے۔انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو بے راہ روی سے بچانے کیلیے میانوالی میں یونیورسٹی بنائی ،مسلمانوں نے تعلیم پر توجہ دی تو 700 سال دنیا پر حکمرانی کی ،اگر کسی جگہ یونیورسٹی بنتی ہے آپ مدد نہیں کرسکتے تو مخالفت تو نہ کریں،خالد مقبول سے پوچھوں گا یہ کون لوگ ہیں جو حیدرآباد یونیورسٹی کے مخالف ہیں،حیران ہوں حیدرآباد میں یونیورسٹی کی مخالفت کون کر رہا ہے اور کیوں ہورہی ہے ،میں نہیں سمجھ سکتا کہ یہ کونسی ذہنیت ہے جو یونیورسٹی کی مخالفت کرتی ہے،حیران ہوں کہ حیدرآباد میں یونیورسٹی کی مخالفت کون اور کیوں ہورہی ہے ، وزیراعظم نے کہا کہ عظیم ملک بننے کا خواب تعلیم کے بغیر پورا نہیں ہوسکتا،نوجوانوں کو تعلیم نہیں دی گئی تو ملک نیچے چلا جائے گا، نوجوانوں کو تعلیم دی تو یہ پاکستان کو اوپر لیکر جائیں گے، انہوں نے کہاکہ عظیم ملک بننے کا خواب تعلیم کے بغیر پورا نہیں ہو سکتا۔

زرداری پر پریشر ڈالنے کیلئے شریف برادران کو تھوڑا سا ریلیف دیا گیا ہے: شاہد بھٹی ، شہباز کو باہر جانے کی اجازت ملنا نیب پر سوالیہ نشان، مہنگائی پر قابو پانا ہوگا: ضمیر آفاقی ، نواز شریف اگر شہباز شریف کی باتوں پر عمل کرتے تو آج اتنے زیادہ مسائل نہ ہوتے: عبدالباسط ، پاکستان آج اتنا مضبوط ہے کہ کوئی بھی میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا: امجد اقبال ، چینل ۵ کے پروگرام ” کالم نگار “ میں گفتگو

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) کالم نگار شاہد بھٹی نے کہا کہ اسلامی دنیا کے 60کی دہائی کے سب سے بڑے لیڈر کو ایٹم بم بنانے کی پاداش میں ایک سازش کے تحت پھانسی پر لٹکا دیا گیا لیکن اس وقت کی پیپلز پارٹی اور آج کی پیپلز پارٹی میں بڑا فرق ہے۔ قائد اعظم کے بعد بھٹو صاحب کا نعم البدل نہیں۔ چینل فائیو کے تجزیوں اور تبصروں پر مشتمل پروگرام ”کالم نگار“ میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کشمیر کے مسئلے پر بھی بھٹو صاحب نے سٹانس لیا تھا۔ بہت تھوڑی مدت میں انہوں نے اپنی سیاسی قوت منوائی اور بہت کچھ کر گئے لیکن ان کے بارے میں سازشیوں نے منفی باتیں پھیلائیں۔ جب زرداری پر پریشر ڈالنا ہوتا ہے تو شریف برادران کو تھوڑا ریلیف دے دیا جاتا ہے۔ ڈیل نہیں ہو رہی البتہ ڈھیل ضرور ہو رہی ہے۔ پارلیمنٹیرینز کی گرومنگ ہونی چاہئے۔ غریب شخص کو روٹی نہیں ملتی مہنگی ادویات کہاں سے خریدے گا۔ کالم نگارضمیرآفاقی نے کہا کہ بدقسمی سے ہم ان لوگوں کو مار دیتے ہیں جو پاکستان کے لئے کچھ کرنا چاہتے ہیں۔ بھٹو ہی تھے جنہوں نے پاکستان کو پوری دنیا میں متعارف کرایا۔ بعد میں ججوں نے بھی اعتراف کیا ان کا عدالتی قتل ہوا۔ انہوں نے کہا کہ شہباز شریف کو باہر جانے کی اجازت مل گئی اس سے نیب پر سوالیہ نشان اٹھتا ہے کہ نیب ثبوت پیش کیوں نہیں کرتا۔ اس وقت بلاول بھٹو فرنٹ فٹ پر کھیل رہے ہیں جس سے حکومت پریشان ہے۔ پانامہ کیس میں دوسرے ملکوں نے بہت پیسہ ریکور بھی کر لیا لیکن ہم نے کیا کیا اتنا بڑا سکینڈل بنایا گیا جیسے پانامہ کے پیسے سے دنیا میں پیسے کی ریل پیل ہو جائے گی۔ حکومت کو چاہئے مہنگائی پر قابو پائے ادویات کی قیمتیں بڑھنا تشویش ناک ہے۔ کالم نگار عبدالباسط نے کہا کہ ذوالفقار بھٹو کی ملکی دفاع کو مضبوط بنانے کے لئے خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ کشمیر کے ایشو پر بھی انہوں نے پوری دنیا میں آواز اٹھائی۔ بھٹو صاحب ایک دم نہیں آگئے تھے ان کی بہت جدوجہد تھی۔ چین سے دوستی کی بنیاد بھی انہوں نے ہی رکھی تھی ان میں بہت خوبیاں تھیں بلاکی خود اعتمادی تھی۔ شہباز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالے جانے پر تجزیہ کار بیک ڈور کی بات کرتے ہیں اگر شہباز شریف کی بات پر نواز شریف عمل کرتے تو اتنے مسائل میں نہ ہوتے۔ میں سمجھتا ہوں حکومت کو صرف اپنا کام کرنا چاہئے حکومت مسائل پر توجہ دے اور نیب اپنا کام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کو قانون سازی کرنی چاہئے۔ سینئر صحافی امجد اقبال نے کہا ہے کہ چار اپریل کو پاکستان کی ایسی شخصیت کو پھانسی دی گئی جس نے قوم کو زبان دی تھی ذوالفقار علی بھٹو کی برسی پیپلز پارٹی نے انہیں خراج تحسین پیش کیا۔ جن حالات میں بھٹو صاحب کو اقتدار ملا سب جانتے ہیں۔ ان کی سفارتکاری کے بھی سبھی معترف ہیں۔ آج پاکستان اتنا مضبوط ہے کہ کوئی بھی میلی آنکھ نہیں ڈال سکتا۔ انہوں نے کہا کہ مہنگائی بڑھ رہی ہے آخر ادارے کیا کر رہے ہیں۔

وزن میں کمی کا ٹوٹکا خاتون کیلئے بڑے نقصان کا باعث بن گیا

لاہور (ویب ڈیسک ) وزن میں کمی کے لیے بعض افراد ڈائٹنگ سے لے کر جم تک جاتے ہیں اور ہر ممکن طریقے سے جلد از جلد اضافی چربی کو گھلانے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن کبھی کبھی کچھ طریقے نقصان دہ بھی ہوسکتے ہیں۔کچھ ایسا ہی اسرائیل کی ایک خاتون کے ساتھ ہوا جو وزن میں کمی کے لیے ٹھوس غذا کے بجائے صرف پانی اور جوس پر گزارا کرنے کے بعد دماغ کو نقصان پہنچنے کی وجہ سے ہسپتال پہنچ گئیں۔ڈیلی میل کی رپورٹ کے مطابق تل ابیب کے ہسپتال میں داخل ہونے والی خاتون ایک تھراپسٹ کے مشورے پر عمل کرتے ہوئے 3 ہفتے سے ڈائٹنگ کر رہی تھیں۔ڈائیٹ کے تحت انہیں صرف پھلوں کا جوس اور پانی پینے کی اجازت دی گئی تھی جس کی وجہ سے ان کے دماغ میں نمک کی مقدار غیر متوازن ہوگئی۔خاتون گزشتہ 3 روز سے زیر نگرانی ہیں اور ڈاکٹروں کو خدشہ لاحق ہے کہ ان کے دماغ کو پہنچنے والا نقصان مستقل ہوسکتا ہے۔منفرد لیکن نقصان دہ ٹوٹکے کی وجہ سے خاتون کا وزن 40 کلو گرام سے بھی کم ہوگیا تھا۔اسرائیل میں تھراپسٹ کہلوانے کے لیے کسی قابلیت کی ضرورت نہیں، کوئی بھی خود کو تھراپسٹ کہہ کر صحت سے متعلق مشورے دے دیتا ہے۔خاتون کی حالت سے متعلق کچھ خاص نہیں بتایا گیا لیکن اس بات کے امکانات زیادہ ہیں کہ وہ ‘ہائپوناٹریمیا’ کا شکار ہوگئی ہیں جسے عام زبان میں ‘واٹر انٹوکسیکیشن’ کہا جاتا ہے۔یہ حالت خون میں سوڈیم کی کم مقدار کی وجہ سے ہوتی ہے اور اکثر اوقات ان افراد کے ساتھ ایسا ہوتا ہے جو معدے کے مسائل کی وجہ سے بہت زیاد پانی پیتے ہیں۔

آصف زرداری کا گھیرا تنگ ہوتا ہے تو فوراً سندھ کارڈ کھیل دیتے ہیں : معروف صحافی ضیا شاہد کی چینل ۵ کے پروگرام ” ضیا شاہد کے ساتھ “ میں گفتگو

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں و تبصروں پرمشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ پرانے زمانے میں جو ایک مجسٹریٹی سسٹم تھا یعنی مجسٹریٹ کے پاس پاور تھی وہ کسی بھی وقت چھاپے مار سکتا تھا اور قیمتوں کے تعین پر نظر رکھتا تھا۔ میری اکرم چودھری صاحب سے جو مشیر ہیں مہنگائی کے سلسلے میں ابھی چند روز قبل وزیراعلیٰ پنجاب نے ان کو سپیشل ٹاسک بھی دیا ہے کہ مہنگائی پر قابو پانے کے لئے اپنی صلاحیتیں بروئے کار لائیں انہوں نے مجھے بتایا ہے کہ اب وہ سسٹم موجود نہیں ہے اب ان ڈائریکٹلی مجسٹریٹ جو ہیں وہ کام کرتے ہیں لیکن انہیں رکاوٹیں ان کے کام ہیں لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ دوبارہ پرانا سسٹم بحال کیا جائے جب جگہ جگہ مجسٹریٹ چھاپے مار سکیں اور جہاں کہیں وہ ضرورت سے زیادہ نرخ پر چیزیں بیچتے پائی جائیں تو اس کو چیک کر سکیں۔ اکرم چودھری صاحب نے جو خود کالم نویس ہیں بڑا اچھا لکھتے ہیں لاہور کے اخبار میں مسلسل وہ کالم بھی لکھتے رہتے ہیں انہوں نے یہ کہا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے والد صاحب کا انتقال ہو گیا وہ اس سلسلے میں گئے ہوئے وہ واپس آئے ہیں میری تجویز یہ تھی کہ فوراً ایک بریفنگ رکھیں اخبار والوں سے تمام اخبار والوں کو اس میں بلا کر بڑے کھلے طریقے سے سوال و جواب کا سیشن کریں تو اس پر انہوں نے کہا آج وزیراعلیٰ پنجاب نے اپنے والد صاحب کے قل رکھے ہوئے ہیں اور البتہ انہوں نے وعدہ کیا ہے کہ وہ پرسوں یہ پریس بریفنگ کا اہتمام کر رہے ہیں۔ اکرم چودھری صاحب نے جو دقت بتائی ہے وہ یہ ہے کہ اب مجسٹریٹ اس طرح سے ایکٹ نہیں کر سکتا اس کو دوسرے شخص کی اعانت درکار ہوتی ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ پرانا مجسٹریٹی سسٹم تھا اس کو بحال کر دیا جائے۔
اکرم چودھری کا کہنا ہے کہ چینی کی قیمتیں بھی عنقریب لگ رہا ہے کہ بڑھ جائے گی چینی افغان اور چائنا کو ایکسپورٹ کی جا رہی ہے اور اس سے جس طریقے سے اجازت دی گئی ہے اس سے لگتا ہے کہ چینی باہر چلی جائے گی اور اس سے لوکل مارکیٹ میں اس کی قیمتیں بڑھ جائیں گی اس کو کنٹرول میں نہیں رکھا جا سکے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلے ایکسپورٹ کی اجازت نہ دی جائے تا کہ چینی کی قیمتیں جو ہیں وہ حد تک زیادہ نہ بڑھنے پائیں تو میں یہ سمجھتا ہوں جو کہ اقدامات کئے جائیں یہ ضروری ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب پرسوں ایک بہت بڑی بریفنگ میں دو تین گھنٹے تک سوال و جواب کی نشست رکھیں اور اس میں ہر آدمی کو کھل کر بات کرنے کا موقع دیا جائے اس میں تاجروں کے نمائندے بھی ہوں اور اس میں اخبار نویس بھی ہوں اور اس میں ریٹیلر لوگ بھی موجود ہوں اور اس میں تھوک کے بڑے بڑے تاجر موجود ہوں۔ میں یہ سمجھتا ہوں کوئی وجہ نہیں کہ سب مل کر بیٹھیں تو ہم قیمتوں پر ایک خاص حد سے بڑھنے سے روکنے میں کامیاب نہ ہوں۔
ادویات کی قیمتوں میں اضافہ کو ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا گیا ہے اس بارے گفتگو کرتے ہوئے ضیا شاہد نے کہا کہ میں ایک اور بات بھی سمجھتا ہوں کہ یہ اسے سیاسی طور پر اورنٹیشن اس کی ہے اس لئے کہ جو جماعتیں اس وقت حکومت میں نہیں ہیں اور اپوزیشن میں ہیں ان کے جوو حامی ہیں وہ بھی اس کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہے ہیں لگتا ہے کہ قیمتیں ہیں وہ تو ہیں ہی لیکن اس سے زیادہ بڑھا چڑھا کر کوشش کی جا رہی ہے کہ مہنگائی اور زیادہ بڑھ جائے۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ عوام کے ساتھ بڑی زیادتی ہو گی کیونکہ سیاسی مقاصد کے لئے مسائل کو جنم دینا اور پھر عام آدمی کو تنگ کرنا یہ ایک انتہائی غیر شائستہ فعل ہے۔
ذوالفقار علی بھٹو کی برسی کے موقع پر آصف زرداری صاحب کا خطاب میں انہوں نے کہا ہے کہ وقت آ گیا ہے کہ ہم اسلام آباد کوچ کریں سڑکوں پر رہیں گے اور ان کو ہٹا کر واپس آئیں گے۔ آصف زرداری صاحب نے کہہ دیا کہ اگر ہم نے مزید ان کو حکومت میں رہنے دیا تو ملک مزید 100 سال پیچھے چلا جائے گا۔ انہوں نے اہم بات کہی کہ میرے اوپر جتنے کیسز بنائے جا رہے ہیں وہ اٹھارویں ترمیم کے خلاف بنائے جا رہے ہیں کیونکہ 18 ویں ترمیم ختم کرنے کی سازش کی جا رہی ہے۔ ضیا شاہد نے کہا کہ جناب آصف زرداری صاحب کا ایک کافی دیر سے یہ موقف ہے اور جب بھی کبھی ان کے گرد گھیرا تنگ ہونے لگتا ہے وہ فوراً سندھ کارڈ کھیلنے لگتے ہیں وہ کہنا شروع کر دیتے ہیں کہ میری اٹھارویں ترمیم کے جدوجہد ہو رہی ہے اور ہماری صوبائی حکومت کے اختیارات کو چیلنج کیا جا رہا ہے تو میں یہ سمجھتا ہوںکہ یہ بہت دفعہ بات ہو چکی ہے۔ بہرحال اب ایک تو عمران خان کا یہ کہنا ہے کہ بلاول بھٹو انگریزی میں گفتگو کرتے ہیں اور پاکستان میں 95 فیصد لوگ تو انگریزی سمجھتے ہی نہیں وہ کن کو سناتے ہیں دوسری بات یہ ہے کہ وہ جو بھی چاہیں جس زبان میں چاہیں وہ بات کریں ہمیں تو کوئی اعتراض نہیں اگر ان کی بات زیادہ لوگوں تک نہیں پہنچ پائے گی تو اس کا نقصان خود انہی کو ہو گا البتہ ایک بات طے شدہ ہے کہ اب اعتزاز احسن صاحب نے یہ کہا ہے اور میرے تین دن ایک سوال کے جواب میں اعتزاز احسن نے کہا تھا کہ بلاول پنجاب کا رخ کریں اور آج انہوں نے پیش کش کر بھی دی ہے کہ بلاول بھٹو پنجاب کے دورے پر آئیں گے اور یہاں عوام کو مہنگائی سے تنگ ہیں وہ ان کے بڑے پیمانے پر استقبال کریں گے۔ دو چار دن اور ہیں دیکھتے ہیں کہ بلاول پنجاب میں آئیں ان کا ملک ہے ان کا صوبہ ہے پیپلزپارٹی نے ماضی میں بڑی بھاری اکثریت سے ووٹ لئے ہیں دیکھنا یہ ہے کہ کچھ برسوں سے پنجاب میں پیپلزپارٹی کی گرپ ختم ہو رہی ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا بلاول بھٹو پیپلزپارٹی کو دوبارہ زندہ کرنے میں کامیاب ہو سکیں۔ آنے والے دنوں میں اس کا اندازہ ہو جائے گا۔ زرداری صاحب کا یہ کہنا کہ اگر اٹھارویں ترمیم ختم کی گئی تو ایک لات مار کر حکومت گرا دیں گے۔ اصل میں یہ بات اتنی دفعہ دہرائی جا چکی ہے کہ جونہی ان کے خلاف کوئی شکنجہ کسنا شروع ہوتا ہے انہیں 18 ویں ترمیم یاد آ جاتی ہے اب دیکھیں منی لانڈرنگ کے کیسز سامنے آ رہے ہیں۔ اب تو ان افسروں کے نام بھی سامنے آ گئے ہیں جن کو اس ضمن میں پکڑا جانا ہے یہ خبر بھی ہے یونس قدوائی صاحب نے 60 کروڑ کے دو پلاٹ بھی سرنڈر کر دیئے۔ یہ افسران بھی صوبائی حکومت کے ہیں یہ حکومت پیپلزپارٹی چلاتی ہے تو اب کس کو مورد الزام ٹھہرائیں کیونکہ اگر یہ سب پیپلزپارٹی کی حکومت میں ہو ہو رہا تھا۔
وزیراعظم عمران خان نے حیدرآباد یونیورسٹی کے قیام کا سنگ بنیاد رکھ دیا۔ سندھ میں پیپلزپارٹی کیخلاف تحریک انصاف اور متحدہ کے سیاسی اتحاد کا مستقبل نظر آتا ہے تاہم اس کیلئے دونوں پارٹیوں کو کچھ بدلنا ہو گا۔
پیپلزپارٹی کے سابق وزیر تعلیم پیر مظہرالحق نے ماضی میں حیدرآباد یونیورسٹی کے قیام کی مخالفت کی تھی تو یہ غلط اقدام تھا۔ تعلیمی ادارے تو ملک میں زیادہ سے زیادہ ہونے چاہئیں اور کسی سیاستدان کو ان کے قیام کی راہ میں رکاوٹ بننے کا اختیار نہیں ہونا چاہئے اسلامی نظریاتی کونسل کا ملزموں کو ہتھکڑیاں پہنانے کو غیر شرعی قرار دینا ایک لحاظ سے ٹھیک ہے کہ اگر کوئی ملزم ہے اور اس پر کیس چل رہا ہے تو سزا سنائے جانے تک تو اسے کوئی سزا نہیں ملنی چاہئے جب الزام ثابت ہو جائے اور عدالت سزا سنا دے تو پھر ہتھکڑی ضرور لگانی چاہئے۔ شیخ رشید نے گالف کنٹری کلب کیس لڑنے کا اعلان کیا ہے یہ عدالتی معاملات ہیں ان کو بات کرتے ہوئے بڑی احتیاط کرنی چاہئے۔ ریلوے میں بہتری کیلئے وقت کا انتظار کرنا ہو گا۔

چین کے ناقابل یقین منصوبے نے دنیا کو حیران کردیا

لاہور( ویب ڈیسک ) چین فن تعمیرات اور اپنے کاروباری منصوبوں کے حوالوں سے اپنی مثال آپ ہے، گزشتہ ایک دہائی چین نے اپنے کئی منصوبوں سے نہ صرف اپنی معیشت اور سیاحت کو فروغ دیا ہے بلکہ اس نے ان منصوبوں کو دنیا کو بھی حیران کردیا۔چینی انجنیئرز کئی بار ایسے کام کرجاتے ہیں جو ناممکن لگتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ وہ پوری دنیا کو حیران کردیتے ہیں۔ایسا ہی کچھ چین کے شہر شیامین میں بھی دیکھنے میں آیا جہاں انجنیئرز نے ایک پورے بس ٹرمینل کو گرائے بغیر ایک سے دوسری جگہ منتقل کردیا۔اور یہ کوئی عام بس ٹرمینل نہیں تھا بلکہ یہ ایک 5 منزلہ عمارت تھی جس کا وزن 30 ہزار ٹن تھا اور 4 ایفل ٹاور کے برابر یہ عمارت حیران کن طور پر ہائیڈرولک جیک کی مدد سے ایک سے دوسری جگہ سلائیڈ کرکے منتقل کیا گیا۔یہ بس اسٹیشن بلٹ ٹرین کی تعمیر کے لیے ایک سے دوسری جگہ منتقل کیا گیا تھا جس کی 3 منزلہ سطح زمین سے اوپر جبکہ باقی 2 منزلیں زیرزمین تھیں جس کی تعمیر 2015 میں 26 کروڑ چینی یوآن کی لاگت سے مکمل ہوئی تھی۔مگر نئے ٹرانسپورٹ پلان کے تحت اس ٹرمینل کو قریبی گلی میں منتقل کرنا تھا تاکہ تیز رفتار ریلوے پراجیکٹ کو مکمل کیا جاسکے۔طویل مشاورت کے بعد شہر کی انتظامیہ نے پوری عمارت کو دوسری گلی میں منتقل کرنے کا فیصلہ کیا جس کے لیے عمارت کو 90 ڈگری موڑ کر ایک سے دوسری جگہ لے جانا تھا۔اتنی بڑی اور بھارتی عمارت کو منتقل کرنا کسی چیلنج سے کم نہیں تھا اور اسے پورا کرنے کے لیے پہلے کھدائی کرکے عمارت کی لوکیشن اور نئی لوکیشن کے درمیان زمین کو ہٹایا گیا اور پھر ریلوے ٹریک بچھا دیئے گئے۔

صحت کے لیے تمباکو نوشی سے بھی زیادہ تباہ کن غذا

لاہو(ر ویب ڈیسک ) ویسے ہر قسم کا کھانا ضرور کھائیں مگر جنک فوڈ اور بہت زیادہ نمک کا استعمال فالج، دل کے امراض، کینسر اور ذیابیطس ٹائپ ٹو سے موت کا خطرہ بڑھا دیتے ہیں۔یہ انتباہ ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آیا۔دنیا کے 195 ممالک میں ہونے الی تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ ناقص یا صحت کے لیے نقصان دہ غذا کا استعمال ہر سال ایک کروڑ 10 لاکھ یا ہر پانچ میں سے ایک موت کا باعث بنتا ہے، یعنی تمباکو نوشی سے بھی زیادہ اموات اس کے باعث ہوتی ہیں۔تحقیق میں بتایا گیا کہ ایسی غذائیں جن میں نمک کی مقدار بہت زیادہ جبکہ اجناس اور پھلوں کی مقدار کم ہوتی ہے، وہ زندگی کو مختصر کردیتی ہیں۔اس تحقیق کے دوران 1995 ممالک کے رہائشیوں کی غذائی عادات کا جائزہ مختلف سروے رپورٹس، غذائی اشیا کی فروخت اور گھریلو اخراجات کے ڈیٹا کی مدد سے لیا گیا۔محققین نے دریافت کیا کہ 2017 میں ایک کروڑ 10 لاکھ اموات ناقص غذائی عادات کا نتیجہ تھی جن میں سے ایک کروڑ اموات ہارٹ اٹیک، فالج یا خون کی شریانوں کے مسائل، 9 لاکھ 13 ہزار اموات کینسر جبکہ 3 لاکھ 39 ہزار اموات ذیابیطس ٹائپ ٹو کے نتیجے میں ہوئیں۔محققین کا کہنا تھا کہ نتائج سے ثابت ہوتا ہے کہ ناقص غذا کا استعمال دنیا بھر میں اموات کی بڑی وجوہات میں سے ایک ہے اور صحت کے لیے نقصان دہ غذائیںصحت کے حوالے سے تمباکو نوشی سے زیادہ تباہ کن ثابت ہوتی ہیں۔انہوں نے بتایا کہ بہت زیادہ نمک کا استعمال جبکہ اناج سے دوری 30 لاکھ اموات کا باعث ہے جبکہ پھلوں کو بہت کم کھانا 20 لاکھ اموات کا باعث بنتا ہے۔نمک زیادہ کھانا بلڈ پریشر کو بڑھاتا ہے جس کے نتیجے میں خون کی شریانوں سے جڑے امراض جیسے امراض قلب، ہارٹ اٹیک اور فالج کا خطرہ بڑھتا ہے جبکہ پھلوں، سبزیوں اور اناج کو زیادہ کھانا ہارٹ اٹیک اور فالج کا خطرہ کم کرتا ہے۔محققین نے لوگوں کو مشورہ دیا کہ وہ اناج، پھل، گریاں، بیج، سبزیاں، مچھلی اور سی فوڈ کا زیادہ استعمال کریں جبکہ نمک، میٹھے مشروبات اور پراسیس شدہ گوشت کو کم از کم کھائیں۔اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے دی لانسیٹ میں شائع ہوئے جس میں محققین نے سب سے زیادہ زور اس بات پر دیا کہ لوگوں کو نمک کا استعمال کم از کم کرنا چاہئے۔2017 میں امریکا کی ٹفٹس یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ غذا میں گریوں کا استعمال نہ کرنا، پراسیس گوشت یعنی جنک فوڈ، مچھلی، سبزی، پھل کم کھانا جبکہ میٹھے مشروبات کو پسند کرنا بھی اموات کا خطرہ بڑھا دیتا ہے۔

افغانستان میںامن بھارت اور افغان حکومت کے مفاد میں نہیں ، زلمے خلیل زاد بھی افغان امن عمل سپوتاژ کرناچاہتے ہیں، عمران کویت، اومان اور بحرین کے بھی دورے کریں: سابق سفیر عمر شیر زئی کی چینل ۵کے پروگرام ” ڈپلو میٹک انکلیو “ میں گفتگو

اسلام آباد ( انٹرویو : ملک منظور احمد ،تصاویر :نکلس جان)پاکستان کے سعودی عرب میںسابق سفیر عمر شیر زئی نے کہا ہے کہ پاکستان میں ہونی والی دہشت گردی میں بل واسطہ یا بلا واسطہ بھارت ملوث ہے لیکن ہماری حکومت اور میڈیا اس کے باوجود بھارت کا نام نہیں لیتے پا کستان کو اس حوالے سے ایک مضبوط اور جا رحا نہ قومی پالیسی کی ضرورت ہے ،مودی پا کستان کے ساتھ حالات خراب کرکے الیکشن جیتنا چاہتا ہے ،افغانستان میں امن بھارت اور افغان حکومت دونوں کے مفاد میں نہیں ہے اگر افغانستان میں امن آگیا تو افغان صدر اشرف غنی کو بوریا بستر باندھ کر امریکہ جانا پڑے گا ، امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغانستان و پاکستان زلمے خلیل زاد بھی افغان امن عمل کو سبوتاژ کرنا چاہتا ہے ،امریکہ دنیا کی ایک بڑی طاقت ہے پا کستان کو امریکہ کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی کو شش کرنی چاہیے ،امریکہ کو یہ یقین دلا نا چا ہیے کہ پا کستان ان کے مفاد کے خلاف کام نہیں کر رہا ہے پاکستان کا سعودی عرب کے خاص برادرانہ تعلق ہے اور دونوں ملکوں نے ہمیشہ مشکل حالات میں ایک دوسرے کا ساتھ دیا ہے ، ان خیا لات کا اظہار انھوں نے چینل فائیو کے پروگرام ڈپلومیٹک انکلیو میں خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کیا ایک سوال کے جواب میں عمر شیر زئی نے کہا کہ اس حکومت کے اچھے اقدامات میں سب سے اچھا قدم یہ ہی ہے کہ اس حکومت نے سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کو بڑھا یا ہے اور ان تعلقات کو ایک نئی سطح تک پہنچایا ہے سعودی عرب کے ساتھ جو پاکستان کے تعلقات ہیں وہ اور کسی ملک کے ساتھ نہیں ہیں ہمارے سعودی کے عرب کے ساتھ سیاسی ،سماجی ،تجارتی اور سب سے بڑھ کر حرمین شرفین کے حوالے سے سب سے الگ ہیں ۔اس بات میں بھی کوئی شک نہیں ہے کہ سعودی عرب نے مشکل کی ہر گھڑی میں پا کستان کی ہمیشہ بھرپور مدد کی ہے جب پا کستان میں سیلاب بھی آیا تھا تو اس دور میں بھی سعودی عرب نے پا کستان کی بے مثال اور بھرپور مدد کی ۔لیکن یہ رشتہ یک طرفہ نہیں ہے پا کستان نے بھی ہر مشکل وقت میں سعودی عرب کا ساتھ دیا ہے پا کستان کی خارجہ پالیسی میں سعودی عرب کے ساتھ تعلقات ستون کی حیثیت رکھتے ہیں ۔پاکستان میں بھی جس طرح وزیر اعظم عمران خان نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کا جس انداز میں استقبال کیا گیا اور جس طرح سعودی عرب نے پاکستان میں 20ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا جس سے پاکستان کو بہت فائدہ ہو گا اب سعودی عرب اپنا پیسہ امریکہ اور یورپی ممالک سے میں نہیں رکھنا چا ہتا اس کی کوشش ہے کہ اب اپنا پیسہ دیگر عرب ممالک میں پیسہ رکھنا چا ہتا ہے سعودی حکومت کے اس فیصلے کے بعد مزید سعودی سرمایہ کار بھی پا کستان کا رخ کریں گے ۔ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ جب میں سعودی عرب میں پا کستان کا سفیر تھا تو اس وقت ہماری یہی کوشش تھی کہ پا کستان کا سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ ہو جائے اور اگر کسی ایک ملک پر حملہ کیا جائے تو دوسرا ملک اس کی مدد کو آئے ۔پا کستان لی ملٹری اکیڈمی میں کئی سعودی کیڈٹس زیر تربیت ہیں اور وہ پاکستان میں فراہم کی جانے والی عسکری تربیت سے بہت ہی مطمئن ہیں ان کا کہنا ہے کہ پا کستان میں ان کو وہ چیزیں بھی سکھائی جارہی ہیں جو کہ ددیگر ممالک میں نہیں سکھائی جاتیں یا پھر جان بوجھ کر راز کھیں جاتیں ہیں ۔دونوں ممالک مل کر مو ثر طور پر دہشت گردی کا سامنا کر رہے ہیں انٹیلجنس اطلاعات کا تبا دلہ بھی کیا جا رہا ہے دونوں ممالک ایک دوسر کو فائدہ پہنچا رہے ہیں ۔ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ سی پیک ایک گیم چینجر منصوبہ ہے اور سعودی عرب کی اس منصوبے میں شمولیت خوش آئند بات ہے چین بھی سعودی عرب کی اس منصوبے میں شمولیت پت خوش ہے چین کی برآمدات پوری دنیا میں ہیں عرب ممالک کو بھی چین سے تجارت بڑھانے کے لیے ایک راستہ چاہیے ایک ایسا کوریڈرو جس کے ذریعے عرب دنیا کی برآمدات کو بھی فروغ حاصل ہو اور ان تیل بھی چین تک پہنچ سکے ۔اگر ایک مرتبہ یہ سلسلہ چل نکلا تو بعد میں چین اور عرب ممالک کے درمیان دفاعی تعاون بھی بڑھ جائے گا ۔ایک سوال کے جواب میں سابق سفیر کا کہنا تھا کہ عمران خان حکومت کی اب تک کی سب سے بڑی کامیابی سعودی حکومت کے ساتھ بہترین تعلقات ہیں پا کستان کے حجاج کو مکہ شریف کو ریڈور سے بہت ہی زیادہ فائدہ ہو گا اور یہ منصوبہ پا کستان کے لیے بھی بہت اہمیت کا حامل ہے ۔ہمارے شہریوں کو سعودی عرب میں بہت سی مشکلات کا سامنا تھا لیکن اب ان کے لیے آسانیاں پیدا ہوں گیں اور مجھے پوری امید ہے کہ مستقبل میں پا کستانی شہریوں کو عرب ممالک میں امریکہ کی طرز پر لوکل امیگریشن کی سہولت میسر ہو جائے گی ۔سعودی عرب کے دل میں جو خلوص پا کستانیوں کے لیے ہے وہ اور کسی کے لیے نہیں ہے اور پا کستانیوں کو تو حرمین شریفین کے ساتھ جنونی لگاﺅ ہے پا کستانی سعودی عرب میں کام کرنے کو عبادت سمجھتے ہیں ۔سعودی عرب کو چاہیے کہ دیگر قومیتوں کی بجائے پا کستانیوں کو اپنے ملک میں زیادہ سے زیادہ نو کریاں فراہم کرے ۔ایک سوال کے جواب میں عمر شیر زئی نے کہا کہ میں جب سعودی عرب میں بطور پاکستانی سفیر تعینات تھا تو اس وقت میرے شہزادہ نائف کے ساتھ بہت ہی قریبی تعلقات تھے وہ مجھے اپنا چھوٹا بھائی کہتے ہیں اور میرے دور کے دوران سعودی حکومت نے 10ہزار پا کستانی قیدی رہا کیے تھے ۔اب بھی سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے دورے کے بعد پاکستانی قیدیوں کو سعودی جیلوں سے رہا کیا جا رہا ہے اس پا کستانیوں کے دل میں سعودی عرب کے لیے محبت اور بڑھے گی ۔سعودی حکومت کو چاہیے کیے معمولی جرائم میں گرفتار کیے گئے پا کستانیوں شہریوں کو ملازمتیں بھی فراہم کرے اس سے گڈ ول بڑھے گی ۔عرب ممالک کے ساتھ پا کستان کے تعلقات کے حوالے سے سوال کا جواب دیتے ہوئے عمر شیر زئی نے کہا کہ اس حکومت نے عرب ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات بہت بہتر کیے ہیں اور خاص طور پر پا کستان کے سعودی عرب ،قطر اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ تعلقات میں بہت بہتری آئی ہے ۔قطر کے امیر نے پا کستانیوں شہریوں کے کے لیے ایک لاکھ ویزوں کا اعلان کیا ہے جو کہ ایک بہت ہی مثبت پیشرت ہے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات بھی پا کستان میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں ۔وزیر اعظم عمران خان کو چاہیے کہ کویت ،اومان ،اور بحرین کے دورے بھی کریں میں جب قطر میں ایکٹنگ سفیر تھا تو اس دور میں عراق نے کویت پر حملہ کر دیا تھا خدشہ تھا کہ عراق کے سکڈ مزائل قطر تک بھی پہنچ جائے گے قطر میں ہندوستان کے سفیر نے اعلان کر دیا کہ تمام ہندوستانی شہری قطر سے واپس چلے جائیں جبکہ میں نے پا کستان کی طرف سے اعلان کیا کہ تمام پا کستانی شہری آخری دم تک اپنے قطری بھائیوں کے ساتھ مل کر برے حالات کا سامنا کرے گے ۔اس اعلان سے قطری حکومت اور عوام بہت متاثر ہوئے اور یہ ہی وجہ ہے کہ قطر میں آج تک پاکستا نیوں کو عزت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے ۔سعودی ولی عہد کے پا کستان میں 20ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے کے اعلان کے بعد دیگر عرب ممالک بھی اس کے بعد پا کستان میں اپنا سرمایہ لے کر آئیں گے ۔پا ک افغان تعلقات کے حوالے سے سوال کا جواب دیتے ہوئے عمر شیر زئی کا کہنا تھا کہ پا کستان اور افغانستان کے درمیان اصل ایشو ٹراعتماد کی کمی ہے اور اس کی بڑی وجہ افغان حکومت کے اوپر ہندوستان کا کنٹرول ہے ،افغان حکومت بھارت کے زیر اثر ہے ہندوستان کے مفاد میں نہیں ہے کہ افغانستان میں امن ہو ہندوستان نے افغانستان میں بہت زہادہ سرمایہ کاری کر رکھی ہے ،افغانستان میں ہی ہندوستان کا بیرون ملک سب سے بڑا نٹیلی جینس نیٹ ورک موجود ہے اور افغان سرزمین سے ہی پاکستان کے خلاف دہشت گرد کاروائیاں بھی کاروائی جاتیں ہیں ۔بھارت کی کو شش ہے کہ پاکستان کو مغربی اور مشرقی سرحد دونوں اطراف سے انگیج رکھا جائے ،افغانستان کے لیے امریکی نمائندہ زلمے خلیل زاد بھی مشکوک کردار ہے جب وہ افغانستان میں امریکی سفیر کی حیثیت سے تعینات تھا تو مسلسل پا کستان کے خلاف زہر اگلتا رہا اب بھی اس نمائندے کی طرف سے دوغلا کھیل جاری ہے ایک طرف تو افغانستان میں پاکستان کی مدد سے افغان طالبان سے مذاکرات کر رہے ہیں تو دوسری طرف اقوام متحدہ میں پا کستان کے خلاف طالبان کی مدد کا کیس بھی بنا یا جارہا ہے ،زلمے خلیل زاد پر بھی ہندوستان کا اثر ہے اور وہ بھی افغان امن عمل کو ثبوتاز کرنا چا ہتا ہے افغانستان کا 60فیصد علاقہ ابھی بھی طالبان کے زیر اثر ہے طالبان کو یہ بھی یقین ہے کہ اگر افغانستان میں شفاف الیکشن ہوں تو طالبان الیکشن جیت جائیں گے ۔افغان حکومت بھی اس حق میں نہیں ہے کہ افغانستان میں امن ہو اگر افغانستان میں امن ہو تو اشرف غنی کی کیا حیثیت ہو گی وہ تو اپنا بوریا بستر سمیٹ کر امریکہ چلا جائے گا ۔اشرف غنی کا افغانستان میں کوئی مستقبل نہیں ہے ۔ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ بھارت کے حوالے سے ہماری حالیہ پالیسی بہت ہی کامیاب رہی ہے ان کے سارے دعوے پاکستان نے جھوٹ کا پلندہ ثابت کر دیے ہیں ۔مودی کی کوشش ہے کہ پا کستان کے ساتھ حالات خراب کر کے الیکشن جیت جائیں وہ اس کوشش میں لگے ہوئے ہیں پا کستان کے ساتھ ایسے حالات پیدا کیے جائیں کہ ان کی سیاست چمک سکیں ۔پا کستان میں ہونی والی بے شتر دہشت گردی میں بھارت ملوث ہوتا ہے لیکن پا کستانی حکومت یا میڈیا اس پر ایسا شور نہیں ڈالتا جیسا کہ اس کو ڈالنا چاہیے ۔ہمیںان امور پر توجہ دینا ہو گی ۔پا ک امریکہ تعلقات کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ ایک مستقل مزاج آدمی نہیں ہے کبھی وہ پا کستان کو دھمکیاں دیتا ہے اور کبھی پا کستان کے ساتھ اچھے تعلقات کی خواہش کا اظہار کرنے لگ جاتا ہے ۔پا کستان کو امریکہ کے ساتھ اچھے تعلقات رکھنے کی کوشش کرنی چاہیے امریکہ کو پیسی فائے رکھنا چاہیے ان کا یقین دلا نا چاہیے کہ پا کستان ان کے مفادات کے خلاف کام نہیں کرے گا ۔پا کستان تحریک انصاف حکومت کی نئی ٹورزم پالیسی کے حوالے سے سوال کا جواب دیتے ہوئے سابق سفیر نے کہا کہ یہ بہت اچھی پا لیسی ہے اس پالیسی میں پا کستان میں سیا حت کو فروغ اور قومی آمدنی میں اضافہ ہو گا لیکن سیاحوں کی حفاظت کے لیے ایک خصوصی فورس کا قیام ضروری ہے اس کے ساتھ سیاحوں کے لیے خصوصی قانون سازی بھی کی جانی چاہیے ۔بھارت ،افغانستان سمیت کئی ملک نہیں چاہتے کہ پا کستان ترقی کی طرف جائے ہمیں ان معا ملات میں احتیاط کرنے کی ضرورت ہے ۔ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ ترکی سمیت بہت سے یورپی ملک بھی سی پیک کا حصہ بننا چاہتے ہیں اس منصوبے سے پا کستان کو بے شمار فوائد حاصل ہوں گے پا کستان میں لیبر سستی ہے اور معدنیات بھی موجود ہیں یورپی ممالک سے ہمیں سرمایہ اور ٹیکنا لوجی حاصل ہوجائے گی ۔ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے خارجہ امور کے لیے سابق سفیروں پر مشتمل مشاورتی قونصل کے قیام کا فیصلہ خوش آئند ہے اس سے پا کستان کے لیے ایک فا ورڈ لوکنگ خارجہ پالیسی بنانے میں مدد ملے گی ،کسی بھی ملک کی خارجہ پالیسی اس کے اندرونی حالات کا عکاس ہوتی ہے جب تک ہمارے اندرونی معا ملات بہتر نہیں ہوں گے ہماری خارجہ پالیسی بھی مضبوط نہیں ہو سکے گی ۔