لاہو ر (صدف نعیم)معرا ج کی رتیاں دھوم یہ تھی ،اک را ج دلا را آیا ہے،حنا نصر اللہ کی مدھر ،شیریں آوا ز میں اس نعت نے سننے وا لوں پر وجد طا ری کر دیا۔خو بصو رت کمپو زیشن اور تلفظ کی ادائیگی نے اس کے حسن کو چا ر چاند لگا دیئے ہیں ۔حسن نصر اللہ کی ہدایا ت میں ریکا رڈ کی گئی یہ نعت بہت جلد عاشقا ن رسو لﷺ کے دلو ں میں جگہ بنانے لگی ہے۔
Monthly Archives: April 2019
ضمانت ملنے کے بعد نیب نے حمزہ شہباز پر پھر بجلیاں گرا دیں
لاہور (ویب ڈیسک )نیب نے حمزہ شہبازشریف کو آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں طلبی کا نوٹس جاری کر دیاہے۔تفصیلات کے مطابق نیب کی جانب سے حمزہ شہبازشریف کو دس اپریل کو پیش ہونے کا کہا گیاہے کہ جبکہ اس سے قبل شہبازشریف دو مرتبہ اس کیس میں پیش ہو چکے ہیں۔ یاد رہے کہ لاہور ئیکورٹ نے حمزہ شہبازشریف کی دس روز کی عبوری ضمانت منظور کر لی ہے اور نیب کو 17 اپریل تک گرفتاری سے روک دیاہے جس کے بعد صوبائی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر واپس روانہ ہو گئے ہیں۔
(ن) لیگ اور پی پی پی کی قیادت کرپشن میں لتھڑی ہوئی ہے۔ صمصام بخاری
لاہور (ویب ڈیسک )دونوں بڑی اپوزیشن جماعتوں (ن) لیگ اور پیپلز پارٹی کی قیادت کرپشن میں لتھڑی ہوئی ہیں۔ بد عنوان قیادت کی وجہ سے یہ جماعتیں جمہوری نظام میں فعال اپوزیشن کے کردار سے محروم ہو چکی تھیں۔ دونوں جماعتوں کے کرپٹ قائدین کو عوام سے کوئی لینا دینا نہیں نہ ہی انہیں عوام کے دکھ درد ک احساس ہے۔ وہ صرف اور صرف کرپشن کے کیسوں سے ہر ممکن طریقے سے اپنی جان چھڑانے کیلئے ہاتھ پاو¿ں مار رہے ہیں۔ لیکن یہ مشکل ہے کیونکہ احتسابی اداروں کو عوام کی مکمل سپورٹ اور حمایت حاصل ہے۔ ان خیالات کا اظہار صوبائی وزیر اطلاعات و ثقافت سید صمصام علی بخاری نے آج اپنے ایک بیان میں کیا۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ (ن) لیگ اور پی پی پی کی کرپٹ قیادت کے خلاف نیب کی کارروائیوں میں حکومت کا کوئی عمل دخل نہیں۔ ان عناصر کو قوم پر رحم کرتے ہوئے اپنی لوٹ مار سے حاصل کر دہ رقوم فوری واپس کر دینی چاہیے۔ ان نام نہاد رہنماو¿ں کے جرائم اسی لحاظ سے خوفناک ہیں کہ انہوں نے قومی خزانے کی لوٹ مار کا نام سیاست رکھ دیا تھا۔آ مدن سے زیادہ جائیدادیں ، منی لانڈرنگ ، بے نامی اکاو¿نٹس اور بیرون ملک اربوں روپے کے اثاثے جیسے گھناو¿نے جرائم کے بعد عوام کا نام لیتے ہوئے ان لوگوں کو شرم آنی چاہیے۔ پی ٹی آئی حکومت وطن عزیز میں سیاسی لوگوں کو کرپشن کی پوری سزا ملنے اور پاکستان میں صاف ستھری سیاسی روایات پر یقین رکھتی ہے۔
‘
راحت فتح علی کا انکم ٹیکس آڈٹ شروع،فنکاروں میں تشویش
لاہور(ویب ڈیسک )ایف بی آر نے عالمی شہرت یافتہ گلوکار راحت فتح علی خان کا سال 2016ئ کا انکم ٹیکس آڈٹ شروع کر دیا ہے۔فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے گلوکار کے ملک بھر کے بینک اکا?نٹس کی تفصیلات طلب کر لی ہیں۔اطلاعات کے مطابق ایف بی آر نے معروف گلوکار راحت فتح علی خان سے سال 2016ئ کا تمام ریکارڈ طلب کرتے ہوئے تفصیلات کی فراہمی کے لیے انہیں 7 روز کی مہلت دے دی ہے۔ایف بی آر ذرائع کے مطابق گلوکار نے اگر 7روز تک تفصیلات فراہم نہ کیں تو ان کے خلاف قانونی کاروائی عمل لائی جائے گی۔یاد رہے کہ اس سے قبل راحت فتح علی کا 2014ئ اور2015ئ کا آڈٹ بھی ہو چکا ہے۔
کباڑ بیچنے والے طالب علم نے یونیورسٹی میں گولڈ میڈل حاصل کرلیا
پشاور (ویب ڈیسک )خیبر پختونخوا کے ضلع چار سدہ کی تحصیل شبقدرمیں کباڑ بیچنے والے غریب طالب علم نے یونیورسٹی میں ٹاپ کرلیا۔طالب علم سلیم خان کا تعلق شبقدر کے علاقے سبحان خوڑ سے ہے۔ جس نے غربت کو آڑے نہیں آنے دیا اور کوڑا کرکٹ بیچ کر اپنے تعلیمی سفر کو جاری رکھتے ہوئے عبدالولی خان یونیورسٹی مردان میں ٹاپ کر لیا، سلیم خان نے عبدالولی خان یونیورسٹی میں ماسٹر آف انگلش میں پہلی پوزیشن حاصل کی، جس پر یونیورسٹی نے انھیں سالانہ کانووکیشن میں گولڈ میڈل کیلیے نامزد کر دیا، سلیم خان جب میٹرک میں تھے تو ان کے پاس کتابیں خریدنے کے پیسے نہیں تھے، وہ اسکول سے واپس آکر کباڑ اکٹھا کرتے اور اسے بیچ کر کتابیں خریدتے، سلیم خان نے میٹرک میں بھی ٹاپ کیا تھا، سلیم خان کے والد بے روزگار جبکہ والدہ لوگوں کے گھروں میں جا کر کپڑے دھوتی تھیں، 2012 میں سلیم کے بھائی کامران نے ساتویں جماعت تک اول پوزیشن لی، سلیم کے بھائی نے نیا یونیفارم نہ ملنے کی وجہ سے خود کشی کر لی تھی۔
کہ وہ اپنے بیٹے سلیم کو بڑا آدمی بنتے دیکھنا چاہتی ہیں، اگر وزیر اعظم میرے بیٹے کو یونیورسٹی یا کالج میں پروفیسر کی نوکری دے دیتے ہیں تو یہ ایک ماں کا سنہرا خواب پورا ہو جائے گا، سلیم خان نے عبدالولی خان یونیورسٹی سے ٹاپ کرنے پر دلی مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم میری طاقت ہے، بچپن سے خواہش تھی کہ میں پروفیسر بنوں، اگر مجھے یونیورسٹی یا کالج میں پروفیسر کی نوکری ملتی ہے تو میں غریب بچوں کو مفت تعلیم دوں گا۔
سلیم خان کا کہنا تھا کہ ماسٹر کے بعد ایم فل اور پی ایچ ڈی کرنا چاہتا ہوں لیکن میرے پاس پیسے نہیں، ایم فل میں داخلہ میرے بس کی بات نہیں، حکومت اگر مجھے اسکالر شپ پر ایم فل میں ایڈمیشن دلوا دے تو میں اپنا تعلیمی سفر ا?گے بڑھا سکتا ہوں، سلیم خان کے ٹیچر مردان عبدالولی خان یونیورسٹی میں انگلش ڈپارٹمنٹ کے پروفیسر عرفان اللہ نے کہا کہ سلیم باصلاحیت، محنتی اور اچھے اخلاق کا طالب علم ہے، بہت غریب ہے لیکن علم کے لحاظ سے کلاس میں سب سے مالدار تھا، اس نے غربت کو بھلا کر اپنے مشن پر دن رات ایک کیا، گولڈ میڈل حاصل کرنے کا اپنا خواب پورا کیا، پروفیسر عرفان اللہ کا کہنا تھا کہ ارادے پختہ ہوں تو منزل ضرور ملتی ہے، سلیم نے جو کیا وہ اس ملک و قوم کیلیے اور ا?نے والی نسلوں کیلیے مثال ہے۔
پاکستان پوسٹ کی خدمات پوری دنیا تک وسیع کرنے کا فیصلہ
اسلام آباد (ویب ڈیسک ) وزیر مواصلات و پوسٹل سروسز مراد سعید نے کہا ہے کہ 7 ممالک میں کامیاب آزمائشی سروس کے بعد پاکستان پوسٹ کی خدمات کا دائرہ پوری دنیا تک وسیع کرنے جا رہے ہیں۔پاکستان پوسٹ آج سے پوری دنیا کیلیے ای ایم ایس پلس سروس کا آغاز کرے گا، ان خیالات کا اظہار انھوں نے اپنے ایک بیان میں کیا، وزیر مواصلات و پوسٹل سروسز مراد سعید کا کہنا تھا کہ محض 72 گھنٹوں کے کم وقت میں امریکا، کینیڈا، آسٹریلیا، سعودیہ، امارات، انگلینڈ، جاپان سمیت 50 ممالک میں سامان کی محفوظ ترسیل کی جائے گی۔سامان کی ترسیل کے اخراجات بھی دیگر نجی کمپنیوں سے کہیں کم وصول کیے جائیں گے، نادرا کے ساتھ مل کر پاکستان پوسٹ فرنچائز کی یہ سروسز پیر سے فعال ہو جائیں گی، انھوں نے کہا کہ چند ماہ کی قلیل مدت میں فرنچائزز کی تعداد 15 ہزار سے تجاوز کرنے کے امکانات نہایت روشن ہیں، ملک بھر کے 170 شہروں میں نادرا کی 611 فرنچائزز کی نشاندہی کر چکے ہیں، مراد سعید نے کہاکہ ”پاکستان پوسٹ، سب کا دوست“ کے سلوگن کے تحت اسے صحیح معنوں میں قومی اثاثہ بنائیں گے۔
حمزہ شہباز کی درخواست ضمانت پر سماعت آج ہوگی
لاہور (ویب ڈیسک ) رہنما (ن) لیگ حمزہ شہباز کی درخواست ضمانت پر سماعت آج لاہور ہائیکورٹ میں ہوگی۔ن لیگی رہنما اور پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف حمزہ شہباز کی درخواست ضمانت پر سماعت آج لاہور ہائیکورٹ میں ہوگی، ذرائع کے مطابق نیب نے حمزہ شہباز کے خلاف چارج شیٹ تیار کرلی ہے جس میں حمزہ شہباز پر کھاتوں میں جعلی اکاو¿نٹس سے لاکھوں ڈالر منتقل کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ حمزہ شہباز کے اثاثہ جات میں 200 فیصد تک اضافہ ہوا، خدشہ ہے کہ حمزہ شہباز ریکارڈ میں ردوبدل نہ کرلیں لہذا ان سے تفتیش کیلئے گرفتاری انتہائی ضروری ہے۔
حمزہ شہباز کی جانب سے درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ میرے خاندان کو ہمیشہ سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا گیا، نیب اس وقت موجودہ حکمرانوں کا آلہ کار بنا ہوا ہے، ڈی جی نیب شریف خاندان کے خلاف بیان بازی کرتے ہیں اور خفیہ دستاویزات میڈیا کو بھجوائی جاتی ہیں۔
اس خبر کو بھی پڑھیں : لاہور ہائیکورٹ نے حمزہ شہباز کو 8 اپریل تک گرفتار کرنے سے روک دیا
درخواست میں کہا گیا ہے کہ نیب نے ہمارے خلاف آشیانہ، رمضان شوگر اور اثاثے کیس ناجائز طور پر بنائے، نیب سے مکمل تعاون کر رہا ہوں جس کے بعد گرفتاری اور چھاپوں کی ضرورت نہیں،عدالت ضمانت قبل ازگرفتاری منظور کرے جب کہ نیب کو چھاپوں اور گرفتاری سے روکنے کا حکم دے۔
حمزہ شہباز کی ہائی کورٹ میں پیشی کے موقع پر سیکورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے ہیں، عدالت کو جانے والے راستوں پر پولیس اور سادہ کپڑوں میں اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ جمعہ اور ہفتے کے روز حمزہ شہباز کو نیب کی جانب سے گرفتار کرنے کی کوشش کی گئی تھی جس کے بعد لاہور ہائیکورٹ نے حمزہ شہباز کو 8 اپریل تک گرفتار نہ کرنے کا حکم دیا تھا۔
موسمیاتی تبدیلیوں سے متاثر درجنوں والرس پہاڑوں سے گر کر ہلاک ہونے لگے
انٹارکٹک (ویب ڈیسک )ایک خوفناک ویڈیو منظرِ عام پر آنے کے بعد دنیا بھر کے لوگ آرکٹک اور انٹارکٹک میں موسمیاتی تبدیلیوں (کلائمیٹ چینج) پر شدید مضطرب دکھائی دے رہے ہیں۔اس ویڈیو میں والرس اور سی لائن کو پہاڑ کی چوٹیوں سے گرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔ اگرچہ اس پر مزید غور کرنے کی ضرورت ہے لیکن ماہرین نے اس کی ایک ممکنہ وجہ بیان کی ہے۔ ایک جانب تو علاقے میں برف تیزی سے ختم ہورہی ہے اور دوم والرس اگر پانی سے باہر ہو تو اسے بہتر دکھائی نہیں دیتا اور یوں وہ پریشان یا کنفیوز ہوکر پہاڑیوں اور ٹیلوں کی اس بلندی تک جارہے ہیں جہاں انہیں چڑھنا نہیں چاہیے۔ پھر واپسی میں وہ اپنے وزنی وجود کے ساتھ چوٹیوں سے پھسل کر نیچے گر کر ہلاک ہورہے ہیں اور اب تک ایسے کئی واقعات دیکھے گئے ہیں۔جنگلی حیات اور ماحولیات کے بین الاقوامی ماہر سر ڈیوڈ ایٹن بورو نے کہا کہ یہ بہت عجیب اور ہولناک صورت ہے کہ والرس بلندی تک جارہے ہیں اور ناہموار اور نوکیلی چٹانوں سے گر کر زخمی یا ہلاک ہورہے ہیں۔ برف پیچھے جانے کی وجہ سے ان کا یہ احساس ختم ہوچکا ہے کہ وہ پیچھے ہٹتے ہٹتے کس قدر بلندی تک پہنچ چکے ہیں۔’پانی کے اندر والرس کی نظریں ٹھیک رہتی ہیں لیکن باہر ا?تے ہی ان کی نظر درست نہیں رہتی۔ البتہ وہ دیگر ساتھیوں کا احساس ضرور رکھتے ہیں اور بھوک مٹانے کےلیے دوبارہ سمندر کا رخ کرتے ہیں۔ اب اسی عجلت میں وہ پہاڑوں سے گر رہے ہیں،‘ ڈیوڈ ایٹن بورو نے بتایا۔ڈیوڈ ایٹن بورو کا خیال ہے کہ عموماً والرس اتنی بلندی تک نہیں جاتے اور اسی وجہ سے اب تک شاید سیکڑوں والرس گر کر ہلاک ہوچکے ہوں گے۔ یہ اس وجہ سے ہوا ہے کہ شکار اور کھانے کے بعد والرس برف کے ٹکڑوں پر ا?رام کرتے ہیں۔ اب موسمیاتی تبدیلی سے وہ برف کم ہونے کے بعد اب پہاڑوں اور نوکیلی چوٹیوں کا رخ کررہے ہیں۔
صرف ایک گھنٹے کی جسمانی ورزش، گٹھیا اور معذوری سے بچاتی ہے
واشنگٹن (ویب ڈیسک ) اگر آپ کے معمول میں مسلسل بیٹھے رہنا شامل ہیں تو اس سے جوڑوں کا درد، کم عملی اور دیگر جان لیوا امراض بھی لاحق ہوسکتے ہیں۔ اس کےتدارک کے لیے ضروری ہے کہ ا?پ ہر ہفتے کم ازکم ایک گھنٹے کی سخت یا درمیانی شدت کی ورزش کریں جن میں دوڑنا، تیز قدموں سے چلنا اور دیگر سرگرمیاں شامل ہیں۔
ایک نئے مطالعے سے معلوم ہوا ہے کہ ہفتے میں ایک گھنٹے کی جسمانی ورزش گٹھیا، جوڑوں کے درد اور دیگر ایسی کیفیات کو دور کرتی ہے جو ا?گے چل کر معذوری یا محتاجی کو جنم دیتے ہیں۔
یہ تحقیق امریکی جرنل ا?ف پری وینٹوو میڈیسن میں شائع ہوئی ہے۔ اس میں سال 2008 سے 2104 کے درمیان ایسے لوگوں کو شامل کیا گیا جو گھٹنے کے درد اور گٹھیا (اوسٹیوا?رتھرائٹِس) کے قریب پہنچ چکے تھے۔ اس کیفیت میں جوڑوں میں سوزش بڑھتی ہے اور دھیرے دھیرے مریض چلنے سے معذور بھی ہوجاتا ہے۔
پہلے پہل مریضوں کو گھٹنے میں درد، سختی اور کمزوری محسوس ہوتی ہے جو ابتدائی گٹھیا کی علامات ہیں۔ پاکستان سمیت دنیا بھر میں کروڑوں مریض اس کے شکار ہیں اور چلنے پھرنے میں شدید تکلیف محسوس کرتے ہیں۔ اس مرض میں گھٹنے کی ک±رک±ری ہڈی (کارٹلیج) گِھس کر ختم ہوجاتی ہے اور ہڈیاں ایک دوسرے سے رگڑنے لگتی ہیں جس سے اذیت ناک تکلیف ہوتی ہے۔
سروے میں شامل مریضوں سے ہر سال ان سے ورزش اور دیگر معمولات کے بارے میں پوچھا گیا۔ ان میں سے جن مریضوں نے ہفتے میں 50 منٹ سے ایک گھنٹے کی سخت یا درمیانے درجے کی ورزش کی ان میں ورزش نہ کرنے والوں کے مقابلے میں چلنے سے معذوری کا خطرہ 86 فیصد تک کم ہوچکا تھا۔
تاہم دیگر امریکی ادارے مثلاً سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پری وینشن (سی ڈی سی) کا اصرار ہے کہ بالغ افراد 150 منٹ ہر ہفتے کی ورزش ضرور کریں جس سے بہت فوائد حاصل ہوتے ہیں۔ دنیا بھر کے ڈاکٹر متفق ہیں کہ تیزقدموں سے چلنے یا کسی اور جسمانی ورزش سے دماغ بہتر رہتا ہے۔ نئے خلیات پیدا ہوتے ہیں اور دماغی تناو¿ والے ہارمون بھی کم ہوتے ہیں۔ اس لیے ورزش اور واک کو کسی بھی طرح نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔
بُلٹ پروف جیکٹ پہن کر ایک دوسرے پر گولیاں برسانے والے دوست گرفتار
آرکینساس (ویب ڈیسک ) امریکہ میں شراب نوشی کے بعد ب±لٹ پروف جیکٹ پہنا کر ایک دوسرے پر فائرنگ کرنے والے پڑوسیوں اور دوستوں کو پولیس نے گرفتار کرلیا ہے۔یہ واقعہ چند روز قبل آرکینساس میں پیش آیا جب دو افراد نے بلٹ پروف جامعے پہن کر ایک دوسرے پر گولیاں برسائیں۔ اس واقعے کے بعد ایک شخص کے سینے پر گولی کے دباو¿ سے سرخ نشان نمودار ہوگیا جس کے بعد وہ ایک بینٹن کاو¿نٹی ہسپتال گیا جہاں ڈاکٹروں نے اسے گولی کا نشان قرار دیتے ہوئے پولیس کو اطلاع دی کیونکہ 50 سالہ چارلس فیرس جھوٹ بول رہا تھا۔لیکن فیرس نے اپنی جھوٹی کہانی اپنی بیوی کو نہیں بتائی تھی اور جیسے ہی علیحدگی میں پولیس نے اس کی بیوی سے پوچھا تو اس نے پورا سچ بتادیا جو کچھ یوں تھا۔چارلس فیرس کی بیوی لیزلی فیرس نے کہا کہ اس کا شوہر چارلس اور اس کا پڑوسی دوست کرسٹوفر ایک اور دوست کے گھر بیٹھ کر شراب نوشی میں مشغول تھے۔ اتنے میں چارلس نے بلٹ پروف جیکٹ پہن کر کرسٹوفر کو پوانئٹ ٹو ٹو گن دے کر اس پر فائر کرنے کو کہا۔ کرسٹوفر نے پہلی گولی سینے پر چلادی جس سے چارلس کے سینے پر ایک سرخ نشان آگیا جو بہت تکلیف دہ بھی تھا۔اس کے بعد چارلس نے اپنی بڑی رائفل اٹھائی اور شراب کے نشے میں 5 فائر کرسٹوفر پر کئے لیکن خوش قسمتی سے اس نے بھی بلٹ پروف جیکٹ پہن رکھی تھی اور وہ معجزانہ طور پر محفوظ رہا۔ تاہم پڑوسیوں نے کہا کہ اس خطرناک کھیل میں دونوں نے ایک دوسرے پر 50 سے 100 گولیاں فائر کیں۔
سودخور 20ہزار دیکر 36ہزار وصول کر چکا ،پھر بھی 12سالہ لڑکی اغواءکر لی
لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان مسلم لیگ کی سابق ایم پی اے اور” دی پوسٹ“ کی سابق ایڈیٹر حمیرا اویس شاہد نے کہا ہے کہ 2002ءمیں وہ ایم پی اے بنیں 2003ءمیں نجی سود خوری کے خلاف انہوں نے پنجاب اسمبلی میں ایک بل جمع کرایا تھا جس کی راہ میںہت سی رکاوٹیں بھی آئیں۔یہ بل 1960ءکے ایک آرڈیننس کوٹارگٹ کر رہاتھا جس کے تحت نجی سود خوری کی لائسنس کے طور پر اجازت تھی۔میں نے جو بل جمع کرایا اس کے مطابق اس قسم کی سود خوری پر دس سال قید، دس لاکھ جرمانہ ہونا چاہئے اور اس جرم کی ضمانت نہیں ہونی چاہئے یہ بہت سخت بل تھا جس کے باعث بڑی مخالفت بھی کی گئی۔ سود خوروں نے کوئی ایک گھر نہیں بلکہ پورے پورے محلے گاﺅں اور ٹاﺅنز کو سود کی جکڑ میں لیا ہوا تھا۔اس وقت سود کے خلاف خبریں نے بھی مہم چلائی اور جب ایک اشتہار چلایا تو خبریں میں ایک ہفتے میں سات سو فیملیز آئی تھیںجس میں ہر قسم کے کیسز تھے کسی کی بچی کو اغواءکیا گیا تھا،کسی کی جائیداد پر قبضہ کیا گیا تھا کسی کے بیٹے کو قتل کیا گیاتھا ۔سود خوروں کا پنجاب کے جرائم سے بھی بڑا تعلق تھا یہی لوگ جوئے ڈرگز، سودی کاروبار میں ملوث تھے جس کے خلاف ہم نے ایک وسیع مہم چلائی اور لوگوں میں شعور بیدار کیا اس مہم کے نتیجے میں عوام کی ہمیں بہت سپورٹ ملی۔سود تو ویسے بھی اسلام میں حرام ہے اللہ پاک سود کو اپنے اور اپنے نبی کے خلاف جنگ قرار دیتے ہیں۔ جیسا کہ ہمارے وزیراعظم پاکستان کو مدینہ طرز کی ریاست بنانا چاہتے ہیں لیکن سود تو معاشرے کو معاشی طور پرختم کر دیتا ہے۔سود کے خلاف پنجاب اسمبلی کے ممبران نے میرا ساتھ دیا اور2007ءمیں میں بل پاس ہوا۔اس کے بعد بلوچستان اسمبلی اور کے پی اسمبلی میں اس بل کی نقل تیار کی گئی اس وقت یہ بل تین صوبوں میں نافذ ہے۔البتہ جس طرح یہ بل عملی طور پر نافذ ہونا چاہئے وہ نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا تحصیل جتوئی میں سود خور نے پیسوں کی عدم ادائیگی پر بارہ سالہ لڑکی اغوا کر لی یہ بڑی خوفناک بات ہے۔ملزمان کے پولیس کے ساتھ روابط کے باعث پولیس کارروائی کرنے سے گریزاں ہے ملزمان کی پشت پناہی ہو رہی ہے۔پولیس ہی جب لوگوں کی حفاظت کے بجائے ملزموں سے مل جائے تو جرائم دھڑلے سے ہوں گے۔اگر حکومت دعویٰ کرتی ہے ہم مدینہ طرز کی ریاست بنانا چاہتے ہیں تو پھر سود تو حرام ہے وزیراعظم عمران خان کو سوچنا چاہئے جرائم اور اس طرح کی قانون کی خلاف ورزیاں معاشرے کے لئے اچھی نہیںاس قسم کے جرائم پر قومی سطح کی پالیسی وضع کرنی چاہئے چھوٹے چھوٹے کمیشن بنائے جائیں ہم اور باقی میڈیا سود خوروں اور ایسے جرائم کی نشاندہی کریں گے لیکن ظاہر ہے فیصلہ تو حکومت نے ہی کرنا ہے ریاست کی رٹ نافذ کرنا تو حکومت کی ذمہ داری ہے ۔جو بل ہم نے پیش کیا تھا یہ صرف کسی فرد نہیں بلکہ تمام این جی اوز جو مارک اپ کے نام پر سود لیتی ہیں اور سود کو دس لفظوں میں چھپا کر سود لیتی ہیں ایسے تمام مالی ادارے جو سٹیٹ بینک کی ریگولیشن میں نہیں آتے جس طریقے سے بھی یہ سود لیتے ہیں سب اس بل کے قانون کے تحت قابل گرفت ہیں البتہ بینکس کو اس بل میں ٹارگٹ نہیں کیا گیا۔اس سے بڑا تضاد اور کیا ہو گا آدھی نجی چیزوں پر سود حرام جبکہ باقی ریاست کی سطح پر سود حلال ہے جبکہ ہمارا آئین 38ایف کے تحت کہتا ہے کہ ریاست کو جتنی جلد ممکن ہو سود ختم کرنا چاہئے۔حمیرا اویس شاہد نے بتایا ان کی کتاب ڈیووشن اینڈ ڈیفنس کتاب امریکہ سے پیلش ہوئی تھی جس میں میں نے بتایا جب آپ پارلیمنٹ کے رکن ہوتے ہیں اور کوئی قانون بنانا چاہتے ہیں تو سسٹم کس طرح رکاوٹ ڈالتا ہے میں نے پانچ میں سے چار سال اس بل پر لگائے پنجاب اسمبلی کی تاریخ میں یہ پہلا بل ہے کہ کسی پرائیویٹ ممبر نے نیا قانون بنایا ہو۔پھر کتاب میں ذکر ہے جب تک آپ کا اثرورسوخ نہ ہو پولیس آپ کی ایف آئی نہیں کاٹتی۔اس پر بڑی مہم شروع ہوانی چاہئے حکومت ساتھ شامل ہو ہم حکومت کے ساتھ ہیں تمام میڈیا یکجا ہو کر مہم چلائے تاکہ سود خورے خدا خوفی کریں۔راجہ بشارت کو چاہئے اس پر کارروائی کریں۔
ضیا شاہد نے کہا ہے کہ 20 ہزار روپے سود پر دینے کے بعد36 ہزار وصول بھی کر لئے اور اس کے بعد 12 سالہ لڑکی بھی اغوا کر لی۔ یہ ظلم کی انتہا ہے اس سلسلے میں میں نے پنجاب کے وزیر قانون بشارت راجہ سے بات کی۔ انہوں نے وعدہ کیا ہے کہ میں اِس وقت آرڈر کردوں گا۔ مجھے کاغذات بھجوا دیں میں ڈی پی او سے بھی ریکارڈ طلب کروں گا۔ کس طریقے سے اس نے بچی کے کیس کو معمولی لین دین کا مسئلہ قرار دیا ہے۔ میں کہتا ہوں کہ لین دین کے مسئلے پرکیا گھر والوں کو ڈنڈے مارے جاتتے ہیں ہم اس کو ایک ٹیسٹ کیس بنائیں گے اور ہم سود خور بندے کو پکڑوائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ سود خور اتنے بااثر ہیں کہ لوگ ان کے خلاف قانون کی مدد حاصل کرنے کے لئے سامنے نہیں آتے لوگ ڈرتے ہیں۔لاہور کے دو علاقے جن میں لٹن روڈ جو رکشہ مارکیٹ کے نام سے مشہور ہے رکشے قسطوں پر دیے جاتے ہیں جن پر بے تحاشا سود لیا جاتا ہے۔سو روپے پر اسی روپے سود وصول کیا جاتا ہے۔کرشن نگر میں سود خوروں کے باقاعدہ منظم گروہ ہیںجن کے پاس ڈنڈے، سوٹے اور اسلحہ بھی ہوتا ہے جن کو یہ گروہ سود دیتے ہیں اس کی پراپرٹی یعنی گھر وغیرہ رہن رکھوا لیتے ہیں۔اتنا پیسہ چارج کیا جاتا ہے لوگ بیچارے سود دیتے رہتے ہیں اور اس چنگل سے نکل نہیں پاتے۔مجبور لوگوں سے انگوٹھے و دستخط کروا لیے جاتے ہیں پیسے ادا نہ کرنے کی صورت میں گھر پر قبضہ کر لیا جاتا ہے بےچارہ اچھا بھلا شخص گھر سے محروم ہو جاتا ہے۔آج کے کیس میں جتوئی تحصیل میں ایک شخص نے بیس ہزار سود پر قرض لیا۔سود خور نے مجبور شخص سے چھتیس ہزار وصول کر لئے لیکن اس کے باوجود وہ کہتا ہے ابھی تمہارے پاس پیسے رہتے ہیں اور اس پاداش میں قرض لینے والے کی بارہ سال کی لڑکی سود خور نے اغوا کر لی باپ اور لڑکی کو ڈنڈوں سے مارا ایک ہفتے لڑکی سے گھر پر برتن صاف کرائے بڑی مشکل سے منت ترلے کر کے لڑکی کے باپ نے بچی واپس لی۔ایک امام مسجد نے نے بتایا کہ سود پر پیسے لئے گئے جبکہ ڈی پی او کہتا ہے معمولی لین دین کا جھگڑا ہے میں پوچھتا ہو ں اگر لین دین کا معمولی جھگڑا تھا تو بارہ سال کی لڑکی کیوں اغوا کی گئی۔ میں سمجھتا ہوں کراچی پاکستان کا معاشی حب ہے لیکن سب سے زیادہ سود خوری کراچی میں ہے۔اندرون سندھ کا ہاری یا مزارعہ تو سود کے باعث وڈیرے کے پاس نسلوں سے گروی پڑا ہے اس کی پوری زندگی سود چکاتے گزر جاتی ہے۔بلاول کے نام سے نیا خون سیاست میں آیا میں ان کی عزت کرتا ہوں لیکن سندھ میں پرائیویٹ سود خوری کے خلاف قانون کیوں نہیں۔ہاری کا تو پورا وجود ہی سود کی جکڑ میں ہے میری بلاول سے درخواست ہے سندھ میں پرائیویٹ منی لینڈنگ کے خلاف کارروائی کریں اور سندھ اسمبلی میں سود خوری کے خلاف قانو ن بنوانے کے لئے اقدامات کرنے چاہئیں۔ سودی کاروبار کا جرائم سے گہرا تعلق ہے جو سود پر پیسے دیتا ہے وہ عورتوں کا بھی کاروبار کرتا ہے غیر اخلاقی حرکتوں کا مرتکب ہوتا ہے سود خور کو پولیس تحفظ دیتی ہے سود، خور کو لوگوں کا پیٹ پھاڑ کر پیسے نکالنے کے لئے پولیس کی مدد کی ضرورت ہوتی ہے سود خور کا تھانے کچہری کے بغیر کام نہیں چل سکتا تھانے سود کو ختم کرنے کے بجائے اسے پروان چڑھاتے ہیں۔کوئٹہ سے گوادر تک چار گھنٹے میں تیز رفتار ٹرین سے وہاں کی قسمت بدل جائے گی۔خوش قسمتی سے حمیرا اویس شاہد نے پنجاب اسمبلی میں چوہدری پرویز الٰہی کے وزارت اعلی کے دور میں انہوں نے پرائیویٹ ممبر ڈے کی بنیاد پرانہوں نے نجی سودخوری کے خلاف قانون بنوایا تھا جس کے بعد کے پی، بلوچستان میں بھی یہ قانون بناصرف سندھ میں یہ قانون نہیں۔ سود خوروں کا باقاعدہ نیٹ ورک ہے جو زورآور بندے رکھ کر وصولی کرتے ہیں یہ نیٹ ورک ایک دوسرے کی مدد کرتا ہے۔
میری نظر میں محمد عامر قومی ٹیم کے اگلے کپتان ہیں، وسیم اکرم
لاہور(این این آئی)قومی ٹیم کے سابق کپتان اور لیجنڈ آل راو¿نڈر وسیم اکرم نے کہا ہے کہ میری نظر میں محمد عامر قومی ٹیم کے اگلے کپتان ہیں۔میڈیا سے بات کرتے ہوئے وسیم اکرم نے کہا کہ 2019 کا ورلڈ کپ 1992 کی طرز پر ہو رہا ہے ، پاکستان ٹیم ورلڈ کپ جیتنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔وسیم اکرم نے کہا کہ بریانی کھا کر دنیا کی بہترین ٹیموں کے خلاف نہیں کھیلا جاسکتا، وقار یونس اور میں چھوٹی عمر میں قومی ٹیم کا حصہ بنے۔ انہوںنے کہاکہ 10 سال میں قومی کرکٹ کے ناروا سلوک کیا گیا، کرکٹ کے لئے محکموں کی بڑی خدمات ہیں۔محمد عامر کے حوالے سے وسیم اکرم نے کہا کہ بے شک عامر پچھلے کئی میچوں میں زیادہ وکٹیں حاصل نہیں کرسکے تاہم ابھی بھی دنیا کے بہترین باو¿لر ہیں، میری نظر میں محمد عامر قومی ٹیم کے اگلے کپتان ہیں۔
محمد عامر کی نا کامیوں پر کپتان بھی تشویش میں مبتلا
کراچی (آئی این پی)قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان سرفراز احمد نے ورلڈ کپ میں فاسٹ باولرمحمد عامر کی شمولیت پرسوالیہ نشان لگا دیا۔سرفراز احمد کا کہنا ہے کہ ٹیم کا اسٹرائیک بولر وکٹیں نہ لے رہا ہو تو کپتان کو پریشانی ہوتی ہے،محمد عامر کی رفتار اور سوئنگ دونوں میں کمی آگئی۔مسلسل ناقص کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے محمد عامر کی ورلڈ کپ کیلیے قومی اسکواڈ میں شمولیت خطرے میں پڑ چکی ہے، چیمپئنز ٹرافی فائنل کے بعد 14 ون ڈے میچز میں کبھی ایک سے زیادہ وکٹ حاصل نہ کر پانے والے پیسر کے مستقبل کا فیصلہ 18 اپریل کو ہوگا، جب کھلاڑیوں کو میگا ایونٹ میں شرکت کے پروانے جاری کیے جائیں گے۔اپنے ایک انٹرویو میں سرفراز احمد نے کہا کہ محمد عامر مین اسٹرائیک بالر ہیں لیکن آج کل وکٹیں نہیں لے پا رہے۔سرفراز کے مطابق ایک کپتان کیلئے یہ بات پریشان کن ہوتی ہے کہ اس کا اہم بالر وکٹیں نہ لے رہا ہو، عامر کیلئے دعا کریں کہ وہ وکٹیں حاصل کرلیں۔محمد عامر ورلڈ کپ کیلئے آٹو میٹک چوائس ہیں یا کارکردگی دیکھتے ہوئے ورلڈ کپ میں ان کی شمولیت کا فیصلہ کیا جائے گا؟ اس سوال کے جواب میں کپتان بولے کہ اس سوال کا جواب چند روز میں مل جائے گا۔سرفراز نے کہا کہ جواب ہمارے ذہنوں میں تو واضح ہے لیکن ٹیم کا اعلان ہو گا تو آپ کو بتائیں گے۔


















