کراچی(ویب ڈیسک ) تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین نے ایم کیو ایم کی قیادت سے ملاقات میں وفاقی حکومت میں شمولیت کی دعوت دی ہے۔ متحدہ کے کنوینئر خالد مقبول صدیقی کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف اور ایم کیو ایم کے تمام سیاسی معاملات پر ایک جیسے خیالات ہیں۔متحدہ رہنماوں سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جہانگیر ترین کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کیلئے ایم کیو ایم سب سے اہم جماعت ہے، اس لئے مرکز میں حکومت بنانے میں ایم کیو ایم کو دعوت دی گئی ہے۔ دوسری جانب خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ دونوں جماعتوں کے رہنماوں کے درمایں ہونے والے تمام امور رابطہ کمیٹی کے سامنے رکھے جائیں گے اس کے بعد ہونے والے فیصلوں سے پی ٹی ا?ئی قیادت کو آگاہ کر دیا جائے گا۔درایں اثنا تحریک انصاف کے رہنما فواد چودھری نے کہا ہے کہ تحریک انصاف نے مرکز اور پنجاب میں حکومت بنانے کے لئے اکثریت حاصل کر لی ہے۔ اس حوالے سے قومی اسمبلی میں 168 اور پنجاب اسمبلی میں 180 ارکان پارلیمنٹ کی حمایت حاصل ہے۔ انھوں نے کہا کہ عمران خان جلد وزیراعلی پنجاب کے نام کا اعلان کریں گے۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ عمران خان نے وزیراعلی کے پی کیلئے عاطف خان کو موزوں امیدوار قرار دیا ہے۔
Monthly Archives: July 2018
ڈالر 122روپے کا ہوگیا، مزید کمی کا امکان
لاہور (اپنے رپورٹرسے )ڈالر کی قیمت ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ روپے کے مقابلے میں یک مشترک 5روپے سے زائد کی حد تک نیچے آئی ہے ، پی ٹی آئی کی حکومت بننے تک ڈالر کی قیمت میں مزید کمی ہونے کا امکان موجود ہے ، ڈالر کی قیمت میں کمی کے باعث ذخیرہ اندزوں میں تشویش کی لہر کی دوڑ گئی ، اپنا منافع بچانے کےلئے بیشتر کرنسی ایکسچینج سے وابستہ ، ڈیلرز اور خفیہ سرمایہ کاروں کی جانب سے ڈالر کی اوپن مارکیٹ میں فروخت شروع کر دی ، ڈالر کی قیمت میں کمی کے باعث پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں واقع ہونے ساتھ ساتھ مہنگائی کو کنٹرول کیا جا سکے ، ادارہ شماریات کی جانب سے ڈالر کی قیمت میںکمی سے اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں کمی ہونے کی نوید سنا ڈالی ، ڈالر کی قیمت میں کمی کے باعث سونے کی قیمت میں بھی کمی واقع ہوئی جس کا تسلسل مزید جاری رہے گا ،ڈالر کی قیمت میں اضافہ اور ذخیرہ کرنےوالے مافیہ میں خوشی کی لہر دوڑ گئی تھی مگر قیمت میں کمی کی وجہ سے وہ غم میں بدلتی ہوئی دکھائی دے رہی ہیں، معاشی ماہرین نے ڈالر کی قیمت میں کمی کے باعث پاکستان میں حکومت کی جانب سے خوردنی تیل ، ڈیزل، پیٹرول اور دیگر امپورٹ کی جانے والی مصنوعات میں کمی ہونے کا امکان بڑھ گیا ہے ، ڈالر کی قیمت میں کمی کی وجہ سے غیر ملکی و ملکی قرضوں میں 450 ارب کی کمی واقع ہوئی ہے اسی طرح پاکستان میں بھی دیگر قرضوں کا حجم کم ہو گیا تفصیلات کے مطابق پاکستان میں ہر طرف ڈالرز کی قیمتوںمیں کمی کا تذکرہ عروج پر ہے اس کی وجوہات، اسباب اور ان کے سدباب کے حوالے سے مختلف معاشی ماہرین اورماہر سٹاک بروکرز اورملکی مصنوعات کو ایکسپورٹ کرنے والی تاجر برادری کے علاوہ عوام نے بھی ڈالر کی قیمتوں میں کمی کوملکی معیشت کےلئے خوش آئند قرار دیا ہے ۔پاکستان میں ڈالر کی خفیہ طریقے سے خریدو فروخت کے باعث اور حکومت کی جانب سے چیک اینڈ بیلنس نہ ہونے کی وجہ سے ڈالر کی قیمت میں اضافہ ہوجاتا ہے جسے کنٹرول کرنے کی ضرورت ہے ۔ پاکستان میں کرنسیوں کے اتار چڑھاﺅ میں ذحیرہ اندوزوں کے غیر معمولی کردار ادا کرنے سے ملکی حالات میںمنفی تبدیلی رونما ہو تی ہے مگر اس مرتبہ ڈالر کی قیمت میں کمی کے باعث انکو بھی کرڑوں روپے کے نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ڈالر کی قیمت میں توازن رکھنے کےلئے ٹھوس اور جامع معاشی پالیسی بنانا پڑے گی جس کے باعث معیشت کا پہیہ باآسانی چل سکے اس کے علاوہ ہمیں اپنی امپورٹ اور ایکسپورٹ کے فرق کو برابرکرنے کی ضرورت ہیں۔ ڈالر کی قیمت کو کنٹرول میں رکھنے کے لئے ملک میں کرنسی ایکس چینج کے کاروبارکو خفیہ طریقے سے کرنے والوں کے خلاف کاروائی کرنے کی ضرورت ہے بد قسمتی سے ماضی کی حکومتوں کے ساتھ ساتھ موجودہ حکومت نے بھی کوئی قانون سازی نہیں کی ہے اور نہ ہی اس کی روک تھام کے لئے کوئی قانون وضع نہیں کئے گئے ہیں جس کی وجہ سے ذخیرہ اندزوں کے حلاف کوئی منظم کاروائی عمل میں نہیں لائی گئی ۔منی ایکس چینجرز کی جانب سے ذیادہ منافع حاصل کرنے کی لالچ کی وجہ سے ڈالرز کی ذخیرہ اندوزی کے باعث حکومتی قرضوں کے بوجھ میں مزیداضافہ ، معاشی بدحالی ،مہنگائی اور بدامنی نے جنم لیتی ہے جن کے حلاف سخت کاروائی کے ساتھ ساتھ ان کی کڑی نگرانی کرنی چاہیے۔
ووٹر نے گلا لئی کو اکلوتے ووٹ پر “آئی لو یو” لکھ دیا
لاہور (آن لائن) گلا لئی کو ملنے والے اکلوتے ووٹ پر مہر کے نشان کی بجائے “آئی لو یو” درج تھا۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف سے علیحدہ ہو کر اپنی جماعت تحریک انصاف گلالئی بنانے والی عائشہ گلالئی نے الیکشن 2018میں چاروں حلقوں سے اپنی ضمانت ضبط کروا بیٹھیں۔ عائشہ گلا لئی این اے 25نوشہر میں سابق وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک کے مقابلے کیلئے میدان میں اتریں،گورنمنٹ پرائمری سکول نمبر 2 رسال پور میں قائم کیے گئے پولنگ اسٹیشن بوتھ نمبر 1 پر عائشہ گلا لئی کو ایک ووٹ ملا، عائشہ گلا لئی کے اکلوتے ووٹر نے اپنے بیلٹ پیپر کے ذریعے سے عاشہ گلا لئی سے محبت کا اظہار کیا اور عائشہ گلائی کے انتخابی نشان پر مہر لگانے کی بجائے ” آئی لو یو” لکھ کر ووٹ کاسٹ کر گیا،متعلقہ پریزائیڈنگ آفیسر نے مذکورہ ووٹ مسترد کر دیااور این اے 25کے ریٹرننگ آفیسر، ایڈیشنل ڈسٹرک اور سیشن جج دوست محمد خان کو بھجوا دیا۔
صحت بہتر نہ ہوئی تو نواز شریف لندن جا سکتے ہیں : پرویز رشید
اسلام آباد (آن لائن) پاکستان مسلم لیگ( ن) کے سینیٹر پرویز رشید نے کہا ہے کہ سیاست اپنی اپنی‘ پی ٹی آئی مرکز میں اکثریتی جماعت ہے حکومت ان کا حق ہے، ہم اپوزیشن بنچوں پر جمہوری روایات کے مطابق اپنی ذمہ داریاں ادا کریں گے۔ پاکستان پیپلزپارٹی سے اپوزیشن لیڈر سمیت کسی بات پر اتحاد نہیں کریں گے۔ سینیٹ میں بھی اپوزیشن لیڈر ہمار ا بنے گا،چوہدری نثار اب ہار گئے اور ہارے ہوئے شخص کو تنقید کا نشانہ بنانا میرا زیور نہیں ہے۔ ان خیالات کا اظار انہوں نے ”آن لائن“ سے ٹیلیفونک گفتگو کرے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ مرکز میں تحریک انصاف کی وہی حیثیت ہے جو پنجاب میں ن لیگ کی ہے‘ پنجاب میں اصولی طور پر ن لیگ کو حکومت سازی کرنی چاہیے۔ 2013 کے انتخابات میں کے پی کے میں تحریک انصاف بڑی پارٹی تھی ہم جوڑ توڑ کرکے حکومت بنا سکتے تھے مگر ہم نے انہیں موقع دیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہم پیپلزپارٹی کے ساتھ کسی بھی طرح کا کوئی اتحاد نہیں کریں گے۔ وفاق میں ن لیگ دوسرے نمبر پر ہے سب سے زیادہ نشستیں ہیں اپوزیشن لیڈر ہمارا ہوگا، ہم پیپلزپارٹی کو کیوں اپوزیشن لیڈر دیں ہاں وہ ہمارے ساتھ مل کر مضبوط اپوزیشن کر سکتے ہیں ۔ ن لیگ اصولوں کی سیاست کرتی ہے۔ ہم اصولوں پر کسی بھی طرح کا سمجھوتہ نہیں کرینگے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ آپ اصولوں کی بات کرتے ہیں تو پنجاب میں حکومت سازی کیلئے آزاد امیدواروں کی طرف ہاتھ کیوں بڑھا رہے ہیں ؟ان کا کہنا تھا کہ حکومت سازی اور ٹکٹ دو علیحدہ کام ہیں۔ ہم ”لوٹوں“ کو ٹکٹ دیں تو آپ یہ سوال کر سکتے ہیں وہ لوگ آزاد حیثیت سے جیت کر آئے ہیں ان سے ہم حکومت سازی میں مدد مانگ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم اسمبلیوں میں جائیں گے اور حلف اٹھائیں گے ہم کسی بھی صورت میں سیاسی میدان خالی نہیں چھوڑیں گے اور کسی کو کھل کر کھیلنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ ہم جمہوریت کے خلاف کسی بھی سازش کا حصہ نہیں بنیں گے اور نہ ہی کسی کا ساتھ دیں گے۔ ن لیگ میں اختلافات کی باتیں کرنے والے احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں۔ شہباز شریف پارٹی صدر کی حیثیت سے فیصلہ کرنے میں خود مختار ہیں مگر وہ اپنے قائد میاں نواز شریف سے رہنمائی لیتے ہیں میاں شہباز سریف کو میاں نواز شریف ہی نے اسمبلیوں سے بائیکاٹ نہ کرنے کا کہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں اقتدار کانٹوں کی سیج ہوتی ہے پھولوں کی مالا نہیں‘ جو آج کہہ رہے ہیں کہ اقتدار ہمارے پاس آرہا ہے جب وہ حلف اٹھائیں گے تو لگ پتہ جائے گا کہ اقتدار کرنا کتنا مشکل کام ہے۔ میاں نواز شریف کی صحت کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ ان کی صحت بتدریج گر رہی ہے پاکستان میں تسلی بخش علاج نہ ہوا تو انہیں ڈاکٹروں کے مشورے سے لندن منتقل کیا جاسکتا ہے۔
شیخ رشید نے عمران خان سے وزارت داخلہ کا عہدہ مانگ لیا
اسلام آباد(آن لائن) پاکستان عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید نے عمران خان سے وزارت داخلہ کا عہدہ مانگ لیا ۔ ایک دو روز میں پاکستان تحریک انصاف کی کور کمیٹی میں فیصلہ کیا جائے گا ۔ ذرائع کے مطابق پاکستان عوامی مسلم لیگ کے سربراہ نے انتخابات میں کامیابی کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور متوقع وزیر اعظم پاکستان عمران خان سے ملاقات کی اور ان سے وزارت داخلہ کا قلمدان مانگا۔ عمران خان سے جب شیخ رشید ملاقات کے لئے پہنچے تو کپتان نے دیگر بیٹھے ہوئے لوگوں سے کہا کہ ہمارے وزیر ریلوے آ گئے ہیں ۔ شیخ رشید نے اس موقع پر تو خاموشی اختیار کر لی مگر کپتان سے ون آن ون ملاقات میں انہوں نے وزارت داخلہ کا قلمدان مانگا جس پر عمران خان نے کہا کہ پارٹی کی کور کمیٹی سے مشاورت کے بعد فیصلہ کروں گا۔ واضح رہے کہ داخلہ کا قلمدان ہمیشہ اس کو دیا جاتا ہے جو اداروں اور سول حکومت کے درمیان پل کا کردار ادا کرتا ہے۔ شیخ رشید اداروں کے نزدیک ہو جاتے ہیں اور غالب امکان ہے کہ وزارت داخلہ کا قلمدان ان کو دیا جائے گا۔
پرویز الٰہی وزیراعلیٰ ہوسکتے ہیں
لاہور(احسان ناز) مسلم لیگ ق کے مرکزی رہنما چوہدری پرویز الٰہی وزیراعلیٰ پنجاب ہونگے، کیونکہ پرویز الٰہی نے قومی اسمبلی کی سیٹ چھوڑنے کیلئے عندیہ دیا ہے اور یہ باتیں عمران خان کے ساتھ ملاقات کے بعد گردش کرنی شروع ہوئی ہیں، ذرائع نے بتایا ہے کہ اگر چوہدری پرویز الٰہی مرکزی سیٹ چھوڑتے ہیں تو وہ وزیراعلیٰ پنجاب ہونگے، کیونکہ وہ سپیکر یا وزیر بننے سے تو رہے ، سیاسی حلقے عمران خان کی طرف سے پرویز الٰہی کی تعریف کو بھی بڑی اہمیت دے رہے ہیں، انکا بھی خیال ہے کہ معلوم ہوتا ہے اگلے وزیراعلیٰ چوہدری پرویز الٰہی ہوسکتے ہیں۔
اونچی دوکان پھیکا پکوان ۔۔۔ بندو خان بیکرز میں چوہوں کی بھرمار ، جراثیم ، خراب اشیاءفروخت ، شہری بیمار
لاہور(ملک مبارک سے) اونچی دوکان تے پھیکا پکوان ،مشہور ومعروف سویٹس بیکرز، بندو خان بیکرز میں چوہوں کی بھر مارشہریوں کو جراثیم زدہ اشیا ءفروخت کی جانے لگیں جس سے شہری مختلف بیماریوں میں مبتلا ہونے لگے۔بیکرز انتظامیہ نے فوڈاتھارٹی کی طرف سے واضع کردہ قوانین کی دھجیاں بکھیر دیں شہریوں کی فوڈ اتھارٹی سے نوٹس لینے کا مطالبہ ۔تفصیلات کے مطابق شہریوں کا مشہور ومعروف بیکرز سے اعتماد ختم ہونے لگا ہے لاہور کے مشہور بیکرز برانڈ بندو خان سویٹس بیکرز شہریوں میں ناقص میٹریل سے اشیا ءتیار کر کے دھڑلے سے سپلائی جاری رکھے ہوئے ہے جس کے اگے فوڈ اتھارٹی بھی بے بس دیکھائی دیتی ہے ۔ایک شہری کا کہنا تھا کہ گزشتہ روز میں نے بندو خان بیکرز اینڈ سویٹس واقع سنکھ پورہ شالیمار برانچ سے اشیا خرد خرید کیں جن میں کھانے کےلئے پف بھی خرید کئے شہری کے مطابق جب میں ان اشیا ءکو لے کر گھر گیا اور ان پف کو کھانے لگا تو ان میں مجھے چوہوں کی ریڈشیٹ نظر آئیں اور یہ اشیا مہنگے داموں فروخت کی گئیں ۔جبکہ زرائع کا کہنا ہے کہ بندوخان بیکرز اپنی بیکرز اشیا ءمیں ناقص میٹریل استعمال کرتے ہیں دونمبر گھی استعمال کیا جاتا ہے زائد المیعاد انڈے استعمال کئے جاتے ہیں تیاری کے وقت کوئی تدبیری احتیاط نہیں کی جاتیں سویٹس سیکشن میں زنگ آلود برتنوں،کیمیکل ڈرمزکے استعمال،ناقص سٹوریج کے انتظامات کئے گئے ہیں جو انتہاہی مضر صحت ہیں چوہوں ریل پیل نظر آتی ہے لیکن انتظامیہ پیسے کے ہوس میں ان سب اصولوں کو بھول چکی ہے بندوں خان بیکری میں چوہوں کی حکومت ہے ۔طبعی ماہرین کا کہنا ہے کہ چوہوں کی موجودگی سے طاعون جیسی بیماریاں پھیلنے کا خطرہ ہوتا ہے جو انتہائی مہلک مرض ہے شہریوں نے فوڈ اتھارٹی و دیگر اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایسی بیکرز جو انسانی صحت کے ساتھ کھیل رہے ہیں کے خلاف فوری کاروائی کر کے بند کیا جائے ۔ بندو خان بیکرز اینڈ ریسٹورنٹ کے خلاف پہلے بھی ناقص انتظامات اور ناقص اشیا ءکی فروخت پر مختلف ادارے کاروائی کر چکے ہیں لیکن بیکرزانتظامیہ پھر بھی باز نہ آئے ،جون 2018محکمہ ماحولیات کے انسپکٹرز ساجد علی اور محمد حسنین خان نے ڈپٹی ڈائریکٹر مصباح الحق لودھی کی سربراہی میںٹیم نے ویسٹ واٹر کو بغیر ٹریٹمنٹ کے خارج کرنے پر بندو خان سویٹس اینڈ بیکرز اور ہال مارک اپارل کو سیل کر دیاتھا۔ اسی طرح ڈی جی پنجاب فوڈ اتھارٹی نور الامین مینگل نے لاہور کے معروف سویٹ ہاوس بندو خان کاپروڈکشن یونٹ زائدالمیعاداجزاء کے استعمال پر سیل کر دیا،یونٹ سے 4 من زائدالمیعادکھویا بھی برآمد کر کے تلف کر دیا تھا۔ فروری 2018 ڈائریکٹر جنرل پنجاب فوڈ اتھارٹی نورالامین مینگل نے سپیشل ریڈ کرتے ہوئے علامہ اقبال ٹاﺅن،مون مارکیٹ میں حشرات اورچوہوں کی روک تھام کے نامناسب انتظامات پر بندوخان ریسٹورنٹ کو 50ہزار روپے جرمانہ بھی کیا تھا ۔ بندو خان بیکرز اینڈ سویٹس متعلقہ برانچ سے موقف لیا گیا تو انہوں نے موقف دینے سے انکار کردیا بلکہ ان کا کہنا تھا کہ یہ بندو خان بیکرز ہے یہاں فوڈ اتھارٹی بھی کارروائی نہیں کر سکتی ۔
شوہر کی وفات پر سسرالیوں نے بیوی بچوں کو گھر سے نکال دیا ، متاثرہ نے خبریں ہیلپ لائن سے مدد مانگ لی
وہاڑی (شیخ خالد مسعودماجد معاون محمد مرزا ملک) شوہر کی وفات کے بعد سسرالیوں نے بہو بچوں کا جینا دوبھر کردیا۔ شوہر کے ملکیتی گھر اور سامان پر قبضہ کرکے 4 بچوں کی ماں کو بچوں سمیت گھر سے نکال دیا 4 سے ماہ سے کھلے آسمان تلے زندگی گزارتے تنگ آگئی کوئی شنوائی نہ ہوئی بالا آخر تنگ آکر خبریں ہیلپ لائن سے مدد مانگ لی جس پر خبریں گروپ کے چیف ایگزیکٹو جناب ضیا شاہد کی ہدایت پر خبریں ٹیم وہاڑی سے 40 کلو میٹر دور بستی ممتاز آباد کچی پکی کے علاقہ میں پہنچ گئی 4 معصوم بچوں 6 سالہ ایمان فاطمہ، 4 سالہ کنیز فامطہ، 3 سالہ محمد انیس اور 10 ماہ کے بچے محمد علی کے ہمراہ انکی والدہ ممتاز بی بی بیوہ محمد شاہد قوم موچی نے بتایا کہ اسکا شوہر محمد شاہد محنت مزدوری کرکے بچوں کا پیٹ پالتا تھا کہ 5 ماہ قبل اچانک دل کا دورہ پڑنے سے وفات پاگیا میں نے لوگوں کے گھروں میں کام کرنا شروع کردیا اور بڑی مشکل سے لوگوں کے بچے کھچے کھانے سے اپنے بچوں کا پیٹ بھرنے کیلئے کوشاں تھی کہ اچانک اسکے گھر واقع لڈن میں اسکے سسر غلام فرید ساس تسلیم بی بی اور دیور محمد زاہد آگئے اور مجھے میرے شوہر کے گھر سے نکال دیا میرے بچے چھین لیے میری منت سماجت پر میرے بچے دے دیئے اور بچوں سمیت گھر سے نکال دیا میں کھلے آسمان تلے بے یارو مدگار پڑی رہی پھر میرے میکے والے جو انتہائی غریب لوگ ہیں مجھے بستی ممتاز آباد کچی پکی لے گئے میرے گھر کو میرے دیور محمد زاہد نے تالے لگالیئے ہیں کوئی شنوائی نہیں ہو رہی مجھے علاقہ کے کسی خدا ترسی شخص نے خبریں ہیلپ لائن پر بات کرنے کیلئے نمبر دیا جس پر خبریں ٹیم کو دیکھ کر حوصلہ ہوا ہے ممتاز بی بی بیوہ محمد شاہد نے خبریں کی وسالت سے چیف جسٹس آف پاکستان، وزیر اعظم، وزیر اعلیٰ پنجاب، آئی جی پنجاب اور ڈی پی او وہاڑی سے مطالبہ کیا ہے کہ میرے گھر پر قبضہ کرنے والے میرے سسرالیوں کے خلاف مقدمہ درج کرکے میرے گھر کا قبضہ واپس دلایا جائے اور مجھے تحفظ فراہم کیا جائے کیونکہ میرے سسرالی میری اور میرے بچوں کی جان کے دشمن بن جائینگے ممتاز بی بی، خبریں کے چیف ایڈیٹر جناب ضیا شاہد اور انکی پوری ٹیم کیلئے جھولی اٹھاکر دعا کی۔ دوسری جانب خبریں کے لیگل ایڈیٹرز احتشام الحق صدیقی ایڈووکیٹ حکام بالا سے بذریعہ درخواست قانون کا مکان اور سامان واپس دلوانے پر ملزموں کے خلاف مقدمہ اندراج کیلئے آج درخواست دائر کرینگے۔
نعرے لگانے والے ذہنی معذور پر لیگی کونسلر کے بھانجے کا تشدد ، ” خبریں ہیلپ لائن “ میں انکشاف
کالیکی منڈی (نامہ نگار) کالیکی منڈی کے اکبری محلہ کے رہائشی محنت کش محمد بشیر کا جواں سالہ بیٹا کاشف جو کہ ذہنی مریض ہے اور اکثر گلیوں میںنعرے لگاتارہتا ہے محمد کاشف نعرے لگاتا جا رہا تھا کہ کرکٹ کھیلتے لیگی کونسلر کے بھانجا عمران آگ بگولا ہو گیا اور سرعام وحشیانہ تشدد کرنے لگا ذہنی معذور کاشف جان بچانے کے لےے بھاگنے کی کوشش کرتا رہا مگر بگڑا رئیس زادہ اس پر وحشیانہ تشدد کرتا رہا۔اور کسی کو بھی ہمت نہ ہوئی کہ کوئی بگڑے رئیس زادے کو تشدد کرنے سے روک سکے راہگیر عورتوں نے منت سماجت کر کے اس زہنی معذور شخص کی جان چھڑوائی جبکہ ورثا نے بگڑے رئیس زادے کے خلا ف کاروائی کیلئے پولیس تھانہ کالیکی منڈی کو درخواست دیدی مگر آٹھ روز گزرجانے کے باوجود بھی تھانہ پولےس کالیکی منڈی نے مقدمہ درج نہیں کیا
خود کو صف اول کی اداکارہ کے طور پر دیکھنا چاہتی ہوں:عالیہ بھٹ
ممبئی (ویب ڈیسک )بالی ووڈ میں اپنا مقام بناتی اداکارہ عالیہ بھٹ نے کہا ہے کہ فلم انڈسٹری میں خود کو صف اول کی اداکارہ کے طور پر دیکھنا چاہتی ہوں۔ غیرملکی میڈیا کے مطابق ایک تقریب کے موقع پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے عالیہ بھٹ کا کہنا تھا کہ وہ بالی ووڈ کا مستقبل ہیں۔انکا کہنا تھا کہ میری یہ خواہش ہے کہ جہاں بھی کام کروں گی اپنا معیار قائم رکھوں گی۔ عالیہ بھٹ اپنے کیریئر کو مزید بہتر بنانے کے لیے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خود کو صف اول کی اداکارہ کے طور پر دیکھنا چاہتی ہوں جسے لوگ مدتوں یاد رکھیں۔
چیف جسٹس اور ججوں کا شکریہ، بھارت سے اپنے حصے کا پانی لینے کی رٹ سماعت کیلئے منظور کر لی : ضیا شاہد ، چوہدری برادران نے عمران کو مرکز اور پنجاب میں مکمل حمایت کا یقین دلا دیا : کامل علی آغا کی چینل ۵ کے پروگرام ” ضیا شاہد کے ساتھ “ میں گفتگو
لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں و تبصروں پرمشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ اصولی طور پر بڑا مشکل ہوتا ن لیگ ق لیگ سے بات کر لیتی ہے10,8 سال تک دونوں جماعتیں ایک ہی جماعت کا حصہ تھیں ایک دوسرے کے خلاف لڑتی رہی ہیں۔ ان کے آپسی تعلقات ایک دوسرے سے متصادم رہے ہیں۔ موجودہ صورتحال میں ہر شخص کم سے کم ضائع کرے اور زیادہ فائدے حاصل کرے۔ لہٰذا میں اب بھی یہ سمجھتا ہو ںکہ کوئی پتہ نہیں کہ کسی کو کسی وقت بھی اور بڑی آفر مل جائے تو عین وقت پر بھی کوئی اہم تبدیلی دیکھ سکتے ہیں۔ جو اے کے ساتھ کھڑا تھا اچانک وہ بی کو چھوڑ کر سی کے ساتھ مل جائے۔ اصل میں پاکستان جیسے حالات میں جہاں تک میں نے دیکھا ہے مجھے کوئی کم ہی لوگ سیاست میں نظر آئے جنہوں نے اصولی یا نظریے کی خاطر قربانی دی ہو یا انہوں نے نقصان کو برداشت کیا ہو عام طور پر نظر یہی آتا ہے ہے شخص بکاﺅمال ہے اس نے اپنے سامنے پلیٹ رکھی ہوئی اور وہ ہر ایک کے سامنے پلیٹ لے کر جاتا ہے کہ ڈالو بئی اس میں کیا ڈالتے ہو۔ جہاں وہ دیکھتا ہے کہ سب سے مراعات، اقتدار کا حصہ، سب سے زیادہ افسری یا سب سے پرکشش سیٹیں، یہی وہ مل رہی ہیں وہ اس کے ساتھ معاملہ طے کر لیتا ہے۔ پرویز الٰہی اور چودھری شجاعت کا ماضی سیاسی کافی اچھا رہا ہے چودھری شجاعت حسین نے دو مہینے پہلے اپنی کتاب کی تقریب رونمائی میں آواری ہوٹل لاہور میں ہوئی جو کتاب انہوں نے لکھی ہے جس میں انہوں نے زیادہ کھل کر نوازشریف صاحب کے ساتھ ان کے اختلافات کیوں اور کیسے ہوئے اور کن کن معاملات پر ہوئے اس پر سب سے بڑی اور دلچسپ بات یہ ہے کہ ہر مرتبہ انہوں نے کہا ایک مرتبہ نہیں دو مرتبہ 4 مرتبہ پرویز الٰہی کو پیش کش کی کہ ہم آپ کو پنجاب کا وزیراعلیٰ بنا دیں گے عین موقع پر پھر وہ اپنے بھائی کو بنا دیتے تھے اور چودھری پرویز الٰہی جھنڈی دیکھتے رہ جاتے تھے ہو سکتا ہے اس مرتبہ کوئی نئی صورتحال سامنے آئے۔ لگتا ہے کہ پرویز الٰہی کو سابقہ تجربے کی روشنی میں اب کوئی ایسی غلطی نہیں کرنی چاہئے کہ وہ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ جس کو آزما لیا دوسری دفعہ نہیں آزمانا چاہئے یہ تو چوتھی، پانچویں دفعہ آزما رہے ہیں۔ پاکستان میں جوڑ توڑ کا عمل جاری ہے لہٰذا ایک ہفتہ اور چلے گا یہ اچھا ہے کہ ایک ہفتے میں بھی لوگوں کے چہروں سے مزید نقاب اتر جائیں گے اور نظر آ جائے گا کہ کون کہاں اور کس حد تک ننگا کھڑا ہوا ہے۔ ننگا ان معنوں میں کہ اختلاق شرافت اصول کی قسم کا نظریہ کوئی تہذیب، کوئی پابندی لگتا ہے کہ پاکستان میں ماضی میں اب تک ہی ہوتا رہا ہے کہ عین وقت ہر شخص جو ہے اپنے دائیں اور بائیں ہاتھ پھیلائے رکھتا ہے اور دیکھتا رہتا ہے کہ دائیں ہاتھ پر جو سکے پڑے تھے ان کا وزن زیادہ ہے کہ بائیں ہاتھ کے سکے گا اور اچانک وہ بدل جاتا ہے۔ میری دعا ہے موجودہ صورتحال میں جو سیاسی پارٹیاں جس سے بات چیت ہو رہی ہے وہ کوئی اچھی اخلاقیات کا کوئی مسلمہ قدروں کا کوئی دنیا میں جو ایک اصول ہیں عمرانیات کے، سیاسیات کے مختلف قسم کے جوسیٹلڈ ایشو ہیں ان پر بات طے ہو چکی ہے ان کا خیال رکھتے ہوئے انہی دوستیوں اور دشمنیوں کو حتمی شکل دیں۔ ایک زمانے میں منظور وٹو وہ مایوس ہو گئے بے نظیر کی وجہ سے بے نظیر صاحبہ نے ان کو کرپٹ قرار دے کر حکومت سے نکال دیا تو وہ دوبارہ چھم چھم کرتے ہوئے اور وہ واپس آنا چاہتے تھے نوامشریف کی صفوں میں۔ میں نے واقعہ پہلے بھی بیان کیا تھا کہ میں اور جاوید ہاشمی انہیں لینے گئے، تو جناب (کلب روڈ سے ماڈل ٹاﺅن پہنچنے تک 26 گاڑیوں کے ہم آئے تھے اور جب ہم وہاں پہنچے تو پتہ چلا کہ گیارہ رہ گئے ہیں 15 بیچ میں غائب ہو گئی ہیں اور گیارہ گاڑیوں میں سے بھی دو چار لوگ نکلے ان میں کچھ واش روم جانے کے بہانے کھسک گئے اور بالآخر یہ ہوا تھا کہ 12 یا 13لوگ رہ گئے تھے۔
کامل علی آغا نے کہا ہے کہ ہماری پارٹی کا ہائی لول وفد عمران خان کو مبارکباد دینے کے لئے اور عمران خان نے اچھا استقبال کیا۔ چودھری شجاعت حسین اور پرویز الٰہی صاحب کا اور پارٹی کا شکریہ ادا کیا کہ ہمارے جانے کا مقصد یہ تھا کہ میڈیا میں بہت ساری خبریں ابہام پیدا کر رہی تھیں کہ شاید ہم شاید کسی سودہ بازی کرنے کے لئے بیٹھے ہوئے ہیں ہم نے ثابت کیا ہے کہ ہم ہماری لیڈر شپ اور جماعت کبھی بھی سودے بازی میں شریک نہیں ہوتی ہم فیصلے جو بھی قومی مفاد میں فیصلے کرتے ہیں۔ الحمد اللہ ہم نے مبارکباد دی اور یقین دلایا کہ ہماری پارٹی بھرپور تعاون کرے گی مرکز اور صوبے میں بھی کرے گی۔ لگتا تھا کہ چودھری شجاعت حسین اور پرویز الٰہی کی شخصیت پاکستان کے مروجہ سیاسی کردار کی حامل نہیں، بلکہ وہ بہرحال ان کے کچھ نہ کچھ اصول اور نظریات ہیں اور کس بنیاد پر انہوں نے رابطہ کیا ہو گا۔ یہ بہت اچھی بات ہے آپ اچھی بات کہی ہے کہ اگر ایسا نہ ہوتا تو یہی سمجھا جاتا کہ شاید آپ اس لئے وہاں گئے تھے کہ دیکھتے ہیں یہ کیا دیتے ہیں دوسری طرف سے تو ہمیں پیش کش ہو چکی ہے۔
کامل علی آغا نے کہا کہ دوسری طرف سے پیش کش ہوئی اور چودھری شجاعت حسین نے کہا کہ ملاقات کرنے میں تو ہمیں کبھی انکار نہیں ہوا اور کھلے دروازے کی سیاست کرتے ہیں لیکن چونکہ اس وقت معاملات حکومت سازی کے ہیں اس لئے ہم آپ سے ملاقات بعد میں کریں گے تو میں سمجھتا ہوں کہ عمران خان صاحب نے کھلے سل سے چودھری صاحب کو ویلکم کیا اور یہ کہا کہ چودھری صاحب ہمیں آپ کی ضرورت رہے گی آپ کے تجربے کی ضرورت پڑے گی۔ چودھری پرویز الٰہی کے جو ترقیاتی کام تھے ان کی تعریف کی۔ 1122 کی تعریف کی۔ لاہور رنگ روڈ کی تعریف کی۔ ماس ٹرانزٹ منصوبہ جو انڈر گراﺅنڈ چلنا تھا اس کی تعریف کی خاص طور پر یہ کہا آپ کا جو منصوبہ تھا اس پر پنجاب حکومت یا پاکستان کا کوئی پیسہ خرچ نہیں ہوتا تھا۔ اور ملکیت بھی پنجاب حکومت کی بن جاتی اور کوئی سب سڈی بھی نہیں دینا پڑتی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اگر بے نظیر بھٹو شہید نہ ہوتی تو آپ کو کوئی ہرا نہیں سکتا تھا لیکن بدقسمتی ہوئی کہ بے نظیر بھٹو شہید ہو گئیں جس کی وجہ سے آپ کو الیکشن میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ عمران خان نے کہا کہ حکومت سازی کے اندر آپ کی مشاورت ہر سطح پر شامل ہو گی۔ وفاق بھی اور صوبے میں بھی۔ آپ کا اور آپ کی جماعت کا اہم رول ہو گا اور اہم حصہ ہو گا۔ پرویز الٰہی کو وزیراعلیٰ کی حیثیت سے موضوع گفتگو بنانا ہمارا ایجنڈا نہیں تھا۔
ضیا شاہد نے مزید گفتگو کرتے ہوئے اپنی اسلام آباد میں موجودگی اور پانی کے حوالے سے دریاﺅں میں پانی بند ہونے کے خلاف عدالت میں دائر اپنے کیس کی شنوائی کے بارے میں کہا کہ اس لئے نہیں کہ یہ کیس میں نے کیا تھا بلکہ آنے والے چند روز میں پتا چل جائے گا کہ اس قدر اہمیت کے ایشو پر آج تک سپریم کورٹ میں کوئی رٹ نہیں ہوئی ہو گی۔ میری رٹ یہ تھی کہ پاکستان بڑی تیزی کے ساتھ دنیا کے ایسے زون میں شامل ہو رہا ہے جس میں پینے کا پانی، زیر زمین پانی کی سطح کا بہت نیچے ہونا، اس میں معدنیات اور زہریلی موادوں کا شامل ہونا اور رفتہ رفتہ پینے کے پانی کے علاوہ زرعی پانی کی مقدار میں بے اندازہ طور پر کمی شامل ہو رہی ہے۔ 1947ءمیں پاکستان بنا اور 1949ءمیں میں نے پنڈت نہرو کا بیان پہلی مرتبہ روزنامہ پاکستان ٹائمز کے لاہور ککے ایڈیشن میں جو انگریزی زبان کا اخبار تھا، اس میں پڑھا تھا کہ پاکستان بن تو گیا ہے لیکن اس کو تو پانی کی کمی ہی مار دے گی۔ یہ تو اس لئے ختم ہو جائے گا کہ پانی نہیں ہے۔ اس کے بعد جس طرح سے انہوں نے دریاﺅ ںکا پانی بند کیا جس کے نتیجے میں 1960ءکا معاہدہ سامنے آیا۔ میں اس 1960ءکے ہندوستان اور پاکستان کے معاہدے کو اس کی تشریف کے لئے سپریم کورٹ میں لے کر گیا تھا اور مجھے خوشی ہے، ڈاکٹر خالد رانجھا صاحب نے میرے لئے بڑی محنت سے یہ رٹ تیار کی اور اس میں پہلی مرتبہ میں نے یہ ثابت کیا، مختصر لفظوں میں بہت اہم بات ہے ہم نے 1960ءکے معاملات سے بھاگ رہے ہیں اور نہ کہہ رہے ہیں کہ اس پر عمل نہیں کریں گے۔ میں یہ کہہ رہا ہوں کہ اس ٹریٹی میں انڈیا یہ لکھتا ہے اور اس نے ہم سے دستخط کروائے ہیں کہ راوی، چناب، جہلم اور دریائے سندھ تین بالائی دریا، جن کو شمالی دریا کہتے ہیں۔ یہ تینوں دریا جب تک بھارتی علاقے سے سفر کرتے ہوئے گزرتے ہیں انڈیا ان میں سے پینے کا پانی، گھریلو استعمال کا پانی، پن بجلی بنانے کے لئے پانی، ماحولیات اور آبی حیات پالنے کا ان 5 قسم کا پانی لے سکے گا۔ اس پر ہم نے اور انڈیا نے دستخط کئے ہوئے ہیں۔ وہ یہ کہتا ہے کہ یہ پانچ قسم کے پانچ قسم کے پانی غیر زرعی پانی ہیں اور یہ معاہدہ دونوں ملکوں کے درمیان زرعی پانی کا معاہدہ تھا اور زرعی پانی کے علاوہ اس معاہدے میں انگریزی زبان میں یہ جملہ موجود ہے There are four atee urage of uatey یعنی چار پانی کے استعمال اور بھی ہیں جن کا ذکر میں پہلے کر چکا ہوں۔ تو میں یہ معاہدہ لے کر تیاری کے بعد سپریم کورٹ آف پاکستان کے پاس یہ عرض لے کر گیا تھا کہ جناب! ان کو حق حاصل ہے کہ وہ چناب، جہلم اور سندھ سے ان چاروں مقاصد کے لئے پانی لے سکتے ہیں۔ مگر آپ نے ستلج کو مکمل بند کر دیا ہے، راوی، ستلج اور بیاس کو مکمل طور پر بند کر دیا ہے۔ راوی اور ستلج کے پانی میں سے ایک قطرہ نہیں چھوڑا ہوا۔ لکڑی کے تختے لگا کر ان کو بند کر دیا ہے۔ ہمارے حصے میں جب یہ دریا آتے ہیں تو پانی کی بوند بھی نہیں ہوتی۔ جس کی وجہ سے کھیتی باڑی تو ایک طرف رہی، پینے کا پانی بھی کم ہوتا جا رہا ہے۔ زیر زمین پانی کی سطح اور نیچے جا رہی ہے اور اس میں زہر اور سنکیا شامل ہو رہی ہے جس کے باعث ہیپاٹائٹس، کینسر پھیل رہا ہے، جلدی بیماریاں ہو رہی ہیں۔ پوری دنیا میں یہ رپورٹ پھیلی ہوئی ہے کہ 2025ءمیں یعنی آج سے سات سال بعد پورے پاکستان کا علاقہ دنیا کے ان ملکوں میں شامل ہو گا جو پانی کے اعتبار سے قحط کے ضمن میں آتے ہیں۔ مجھے فخر ہے میں اللہ کا لاکھ لاکھ شکر گزار ہوں کہ جن دوستوں نے میرے ساتھ محنت کی اور ڈیڑھ سال کی محنت کے بعد آج ہم اس نتیجے پر پہنچے۔ اور میں چیف جسٹس آف پاکستان، سپریم کورٹ اور ان کے چار ساتھی ججوں کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے رٹ کو سماعت کے لئے منظور کیا اور سب سے زیادہ یہ کہ اس کی مخالفت یوں ہو رہی تھی کہ اس میں انڈیا کا ذکر آتا ہے اور دیکھیں جی اس سے بین الاقوامی تعلقات خراب ہوں گے۔ تو میں نے خود وکیل صاحب کی جگہ کھڑے ہو کر، حالانکہ میرے وکیل ڈاکٹر خالد رانجھا وہاں موجود تھے۔ لیکن میں نے خود پندرہ منٹ تک اس پر آرگومنٹ کئے۔ میں نے کہا جناب ہم یہ نہیں کہہ رہے کہ ہم انڈیا کے ساتھ اس معاہدے کو نہیں مانتے۔ ہم یہ کہہ رہے ہیں کہ جو سہولتیں انڈیا اپنے ملک میں چناب، جہلم اور سندھ سے اپنے علاقوں میں رہنے والے لوگوں کے لئے حاصل کر رہا ہے۔ وہ ہمارے ہیں تین دریا بیاس تو بالکل خشک ہو چکا ہے، ختم ہو چکا ہے، اب اس کے آثار بھی پاکستان میں نہیں ہیں۔ اس کا سارا پانی رخ موڑ کرراجپوتانہ میں ہندوﺅں کی شکل میں چھوڑ دیا ہے۔ ستلج اور راوی، راوی میں اس وقت بھی جا کر دیکھیں تو گندا اور سیوریج کا پانی ہے۔ صاف پانی یہاں دور دراز تک نہیں ہے۔ ہم نے کہا کہ جب وہ اپنے علاقے کے لوگوں کے لئے پینے کا صاف پانی، گھریلو استعمال کا پانی، پن بجلی کا پانی، آبی حیات اور سبزے کا پانی یقینی بناتا ہے، کسی قوم کو اس چار قسم کے پانی سے محروم نہیں رکھا جا سکتا۔ تو ہم یہ کہتے ہی ںکہ انڈیا صاحب! یہ جو ہمارے ستلج اور راوی اور بیاس تینوں دریا جو آپ نے مکمل طور پر ختم کر دیے بند کر دیئے ہیں۔ اس میں شٹر لگا کر ایک قطرہ آپ پاکستان میں نہیں آنے دیتے۔ تو جناب ہم چاہتے ہیں کہ ہم ثالثی عدالت میں جائیں۔ ہردفعہ ہمیں ایک ہی خوشخبری ملتی ہے کہ ورلڈ بینک نے روک دیا، انہوں نے اجازت نہیں دی۔ ورلڈ بینک کون ہوتا ہے ہمیں اجازت نہ دینے والا۔ ورلڈ بینک صرف ایک ثالثی ہے۔ ایک درمیانی واسطہ ہے۔ ورلڈ بینک صرف ایک فنڈ دینے والا ادارہ تھا۔ جس نے کچھ پیسے دے دیئے کہ لنک کینال بنا لیں۔ ورلڈ بینک نہ تو کوئی عدالت ہے جو ہاں اور نہ میں فیصلہ دے سکے۔ لہٰذا ورلڈ بینک پر پریشر پڑنا چاہئے، جس طرح نریندر مودی نے مقبوضہ کشمیر میں کشن گنگا دریا کے بارے میں اس پر پریشر ڈالا کہ آپ ہمارا معاملہ عالمی ثالثی عدالت میں بھکر جائیں۔ اس لئے میں آخر میں کہوں گا کہ ہم بھی دباﺅ ڈالیں انڈیا پر بھی۔ اور اگر انڈیا نہیں مانتا تو پھر یہی مطالبہ لے کر ہم ورلڈ بینک کے پاس جائیں اور ان سے کہیں کہ مہربانی فرما کر آپ ہمارا کیس ریفر کریں، آپ نہ نہیں کہہ سکتے۔ پچھلے دنوں بھی چار آدمیوں کو آپ نے انکار کر کے واپس بھیج دیا۔ آپ کو ہمارا کیس عالمی ثالثی عدالت کو بھیجنا پڑے گا۔ اور انشاءاللہ انشاءانشاءاللہ ہم ایک سال، دو سال، تین سال، ہم بھارت سے اپنے پانی میں مکمل بندش یعنی سو فیصد پانی کو بند کرنا۔ اس کو ختم کروا سکیں گے۔ اور ہم ستلج اور راوی میں اتنا پانی چھڑوا سکیں گے جو پینے کے پانی کے لئے استعمال ہو اور ہمارے زیر زمین پانی کی سطح بھی اوپر ہو سکے اور ان دونوں دریاﺅں میں سیوریج کے پانی کی جگہ صاف ستھرا پانی بھی رواں دواں ہو سکے۔ ہم کوششیں کریں گے۔ ہم سے مراد میری ذات نہیں ہے۔ یقین جانیں خدا کی قسم میرے پاس پورے پاکستان میں ایک انچ زرعی زمین بھی نہیں ہے۔ میرے پاس میرے باپ دادا کی جو زمین تھی کب سے بیچ کر اخبار میں لگا چکا ہوں۔ صرف یہ کہہ رہا ہوں کہ یہ صرف میری ذات کا مسئلہ نہیں۔ میرے ساتھ بچہ بیٹھا گاڑی چلا رہا ہے، میرے پیچھے میرا پی اے بیٹھا ہے۔ سامنے دروازہ کھلا ہے اور اب میں دفتر میں داخل ہو رہا ہوں۔ یہ اتنی دنیا جو باہر کھڑی ہوئی ہے۔ یہ لفٹ والا جو لفٹ کھول کر میرا انتظار کر رہا ہے۔ ان کے بچوں نے کہاں جانا ہے۔ آپ کے بچوں نے کہاں جانا ہے۔ ان سارے لوگ، جو آپ کے پاس سیٹ پر کھڑے ہیں ان کے بچوں نے کہاں جانا ہے کیا یہ پانی مانگنے افریقہ جایا کریں گے؟ کیا یہ کسی آسٹریلیا جایا کریں گے۔ ان کو کیوں ان کے اپنے ملک میں پینے کا پانی، زراعت کا پانی، ماحولیات کا پانی، گھریلو استعمال کا پانی اور سب سے بڑھکر یہ کہ ایسا پانی جس سے یہ اپنی زندگی کے حالات درست کر سکیں، وہ ملنا چاہئے۔ انڈیا یہ پانی نہیں روک سکتا ہے۔ کیونکہ 1960ءمیں ایک معاہدہ ہوا تھا انڈیا اور پاکستان کے درمیان جس کو انڈس واٹر ٹریٹی کہتے ہیں۔ اس کے بعد اب تک صورتحال یہ ہے کہ 1970ءمیں عالمی واٹٹر کنونشن ہوا۔ اس کے تحت کسی زیریں ملک کے حصے کا پانی اس کے بالائی ملک کے حصے کا پانی بند نہیں کر سکتا۔ انڈیا کو پانی چھوڑنا پڑے گا۔ پاکستان کے لئے پروگرام میں کسان اتحاد کے رہنما خالد کھوکھر نے ٹیلی فونک گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ ہم زراعت میں بری طرح پیچھے جا رہے ہیں۔ نہروں میں 50 سے 70 فیصد تک اس بار پانی کی کمی رہی ہے۔ جس کی وجہ سے کپاس کاشت نہیں ہو سکی اور باقی فصلوں پر برے اثرات پڑے ہیں۔ زیر زمین پانی دن بدن نیچے جا رہا ہے جس کی وجہ سے بجلی اور ڈیزل کا خرچ بڑھ رہا ہے۔ ضیا شاہد نے انہیں پانی کے حوالے سے سپریم کورٹ میں اپنی رٹ کے حوالے سے بتاتے ہوئے کہا کہ اس وقت پورے ملک کو میرے اس کیس میں شانہ بشانہ کھڑے ہونے کی ضرورت ہے۔ جس پر خالد کھوکھر نے کہا کہ آپ جہاد کر رہے ہیں اور ملک کی سب سے بڑی خدمت کر رہے ہیں۔ یقین کر لیں کہ اس وقت پاکستان میں واحد آپ نظر آ رہے ہیں کہ جو پاکستان کے لئے کام کر رہے ہیں۔ یہ حکومتیں پاکستان کے لئے کوئی کام نہیں کر رہیں۔ پاکستان کے بارے میں کسی نے سوچا تک نہیں۔ آپ پاکستان کی سوچ رکھتے ہیں۔ اللہ آپ کی عمر دراز کرے۔ ہم لوگ آپ کے ساتھ ہیں۔ پاکستان کسان اتحاد آپ کے ساتھ ہے اور آپ کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں گے۔ کل ہی لاہور پہنچ کر پرسوں آپ سے ملاقات کروں گا اور آپ کے ساتھ چلیں گے۔ جہاں بھی احتجاج کرنا پرا، سپریم کورٹ میں آپ کے کیس کا حصہ بنیں گے۔ اپنا وکیل کھرا کریں گے۔ آپ کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔ کیونک ہماری بقا اس میں ہے۔ ہماری آنے والی نسلوں ہماری زراعت کی بقاءاسی میں ہے زراعت میں ہم دن بدن پیچھے جا رہے ہیں۔ پینے کا صاف پانی نہیں مل رہا۔ حکومتی ترجیحات میٹرو اور دیگر چیزوں پر تھیں۔ پاکستان کے لئے کوئی ترجیحات نہیں تھیں کسی نے پاکستان کے لئے نہیں سوچا۔
قومی ٹیم ایشیا کپ ٹائٹل جیتنے کیلئے فیورٹ ، اسد
اسلام آباد(آئی این پی)قومی ٹیم کے مڈل آرڈر بلے باز اسد شفیق نے کہا ہے کہ ہماری ٹیم بھرپور فارم میں ہے اور رواں برس شیڈول ایشیا کپ میں ٹائٹل جیتنے کیلئے فیورٹ ہو گی۔ ایشیا کپ 15 سے 28 ستمبر تک متحدہ عرب امارات میں کھیلا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو برس سے ٹیم کی کارکردگی میں بہتری کھلاڑیوں کی سخت محنت کا نتیجہ ہے، دورہ زمبابوے کے دوران سہ فریقی ٹی ٹونٹی انٹرنیشنل سیریز اور میزبان ٹیم کے خلاف ون ڈے سیریز میں شاندار فتح کے بعد کھلاڑیوں کے اعتماد میں اضافہ ہوا ہے۔ اور وہ مستقبل میں بھی عمدہ کارکردگی کے تسلسل کو برقرار رکھتے ہوئے مزید فتوحات حاصل کرنے کیلئے بے تاب ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہماری ٹیم بھرپور فارم میں ہے اور اس کے ایشیا کپ جیتنے کے امکانات روشن ہیں تاہم ہدف کے حصول کیلئے ٹیم کے ہر کھلاڑی کو تینوں شعبوں میں سو فیصد کارکردگی دکھانا ہو گی۔ ان کا کہنا ہے کہ ہاتھ کی سرجری کے بعد وہ تیزی سے روبصحت ہو رہے ہیں اور جلد ہی دوبارہ پریکٹس شروع کریں گے۔
انجری مسائل نے رومان کیریئرپر سوالیہ نشان لگا دیا
لاہور(آئی این پی)پاکستانی کرکٹ ٹیم کے فاسٹ بالر رومان رئیس نے گھٹنے کی انجری سے پریشان ہوکر گذشتہ دنوں اپنے گھٹنے کا آپریشن کرالیا ہے۔وہ چھ ماہ سے اپنی فٹنس سے جنگ لڑرہے ہیں۔ذمہ دار ذرائع کا کہنا ہے کہ رومان رئیس نے آپریشن کراچی کے ایک ہسپتال کرایا ہے اس سے قبل گذشتہ ہفتے مڈل آرڈر بیٹسمین اسد شفیق نے بھی اپنے ہاتھ کا آپریشن کروایا تھا۔اسد شفیق بھی ری ہیب سے گذر رہے ہیں۔عام انتخابات کے موقع پر رومان رئیس نے سوشل میڈیا پر اپنی تصویر شیئر کی ہے جس میں ان کے دائیں پاں پر پلاسٹر چڑھا ہوا ہے اور ان کے ہاتھ میں چھڑی ہے۔رومان رئیس کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ کراچی کے علاقے صفورا کے قریب ایک نجی ہسپتال میں انکا آپریشن ہوا ہے۔ڈاکٹروں کی ہدایت پر اب وہ ری ہیب سے گذر رہے ہیں۔حیران کن طور پر رومان رئیس کے آپریشن سے پاکستان کرکٹ بورڈ کا میڈیکل پینل لاعلم ہے حالانکہ رومان رئیس کا پی سی بی سے سینٹرل کنٹریکٹ ہے۔وہ گذشتہ دنوں پی سی بی کی قومی اکیڈمی میں میڈیکل پینل کے پاس علاج کرارہے تھے لیکن ری ہیب کے دوران وہ کراچی آئے اور انہوں نے گھٹنے کا آپریشن کرادیا۔26سالہ رومان رئیس پاکستان کی جانب سے 9ون ڈے اور8ٹی ٹونٹی کھیل چکے ہیں۔وہ 28فروری کو شارجہ سٹیڈیم میں پاکستان سپر لیگ کے میچ کے دوران اسلام آباد کی جانب سے کھیلتے ہوئے چوکا روکنے کی کوشش کرتے ہوئے گھٹنے پر چوٹ لگا بیٹھے۔رومان رئیس نے چوکا روکنے کے لیے ڈائیو لگانے کی کوشش کی تاہم ان کا گھٹنا زور سے زمین پر لگا اور وہ گرانڈ میں ہی درد سے کراہنے لگے۔انہیں فوری طور پر طبی امداد فراہم کی گئی تاہم بعد ازاں رومان رئیس کو سٹریچر پر ڈال کر گراﺅنڈ سے باہر لے جایا گیا۔


















