لاہور(آئی این پی، صباح نیوز) چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے کہا ہے کہ کرپشن کی تحقیقات میں جدید دنیا کی رفتار کے ساتھ چلنا پڑے گا، پاکستان میں بھی اسمارٹ کورٹس متعارف کرانے کی ضرورت ہے، ہمیں موجود قوانین کی روشنی میں انصاف نظام کو بہتر بنانا ہے، بدقسمتی سے تعلیم کے میدان اور انفارمیشن ٹیکنالوجی میں میں دنیا کے دوسرے ممالک سے بہت پیچھے ہیں، چین کی ترقی دیکھی تو لگا، ہم کمپیوٹر کے دور میں ان پڑھ ہیں، شرم آتی ہے کہ اپنے گھر کو ٹھیک کیوں نہیں کیا، سول اور ڈسٹرکٹ جج صاحبان انصاف کی فراہمی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، وائٹ کالر جرائم کی تحقیقات کے لئے باصلاحیت تفتیشی افسران کا فقدان ہے۔ ہفتہ کو یہاں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ حساس نوعیت کی معلومات میرے لیے بھی بہت اہم ہوتی ہیں، تعلیم ملک و قوم اور معاشرے کی ترقی کا اہم ذریعہ ہے، ہمارا مذہب بھی علم حاصل کرنے کا درس دیتا ہے، بدقسمتی سے تعلیم کے میدان میں ہم دنیا کے دوسرے ممالک سے پیچھے ہیں، ایمانداری کے بغیر کوئی معاشرہ بھی ترقی نہیں کرسکتا، بدقسمتی سے ہمارے میں ایمانداری کا فقدان ہے، جدید قوموں کی طرح ہمیں بھی ترقی کی راہ پر گامزن ہونا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہم انفارمیشن ٹیکنالوجی میں بھی ترقی یافتہ قوموں سے بہت پیچھے ہیں، سول اور ڈسٹرکٹ جج صاحبان انصاف کی فراہمی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، معلومات جلد نمٹانے کے لئے ہمیں جج صاحبان کو تکنیکی تعلیم سے روشناس کرانا ہوگا، مقدمات کی طویل مدتی سماعت انصاف کی جلد فراہمی میں بڑی رکاوٹ ہے، قانونی شہادت کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا وقت کا تقاضا ہے، وائٹ کالر جرائم کی تحقیقات کے لئے باصلاحیت تفتیشی افسران کا فقدان ہے، ہمیں موجود قوانین کی روشنی میں انصاف کے نظام کو بہتر بنانا ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے کہا ہے کہ کرپشن کی تحقیقات میں جدید دنیا کی رفتار کے ساتھ چلنا پڑے گا، ان کا کہنا تھا کہ سمارٹ کورٹس ایک نیا سسٹم ہے جو دنوں میں انصاف فراہم کرتا ہے، ہمیں پاکستان میں بھی اسمارٹ کورٹس متعارف کرانے ہوں گے، چیف جسٹس نے کہا کہ چین کی ترقی دیکھی تو لگا، ہم کمپیوٹر کے دور میں ان پڑھ ہیں، شرم آتی ہے کہ اپنے گھر کو ٹھیک کیوں نہیں کیا، انہوں نے کہا کہ ہمارا مذہب بھی ہمیں علم حاصل کرنے کا درس دیتا ہے، حساس نوعیت کی معلومات میرے لئے بھی بہت اہم ہوتی ہیں۔ انھوں نے کہ کوئی ملک یا معاشرہ ایمان داری اور مقصد کے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتا، ہم ترقی کے دور میں باقی دنیا سے بہت پیچھے ہیں، پاکستان میں آج بھی 1872 کے قوانین رائج ہیں۔ انھوں نے کہا کہ کرپشن کی تحقیقات میں جدید دنیا کے رفتار کے ساتھ چلنا ہے، کرپشن وائٹ کالر کرائم کی جڑ ہے۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ ملک میں حاکمیت صرف اللہ اور قانون کی ہوگی جبکہ قوم کا پیسہ سیاست دانوں کی سکیورٹی پر لٹانے کی اجازت نہیں دیں گے۔
Monthly Archives: June 2018
ویمننزایشیائی 20کا میدان سج گیا
کوالالمپور(اے پی پی ) ویمنز ٹی ٹونٹی ایشیا کپ کرکٹ ٹورنامنٹ کا آغاز (آج) اتوار سے ملائیشیا میں ہو گا، پاکستانی ٹیم تھائی لینڈ کے خلاف میچ سے مہم کا آغاز کرے گی۔گزشتہ روزخصوصی تقریب کے دوران میگا ایونٹ کی ٹرافی کی بھی رونمائی کی گئی۔تمام ٹیموں کو تقریب کے دوران شانداراندازمیں ویلکم کہاگیا۔گرین شرٹس نے میگا ایونٹ کے آغازسے قبل گزشتہ روزبھی ٹریننگ سیشن کیا۔ تفصیلات کے مطابق 10 جون تک جاری رہنے والے ایونٹ میں چھ ٹیمیں ٹائٹل کے حصول کیلئے ایکشن میں دکھائی دیں گی جن میں میزبان ملائیشیا، بنگلہ دیش، سری لنکا، بھارت، پاکستان اور تھائی لینڈ شامل ہیں، ایونٹ کے ابتدائی روز تین میچز کھیلے جائیں گے، افتتاحی میچ میں ملائیشیا کو بھارت کا چیلنج درپیش ہو گا، دوسرا میچ بنگلہ دیش اور سری لنکا جبکہ تیسرا میچ پاکستان اور تھائی لینڈ کے درمیان کھیلا جائے گا، پاکستانی ویمن ٹیم اپنا دوسرا میچ 4 جون کو بنگلہ دیش، تیسرا میچ 6 جون کو سری لنکا، چوتھا میچ 7 جون کو ملائیشیا جبکہ پانچواں اور آخری میچ9 جون کو روایتی حریف بھارت کے خلاف کھیلے گی۔ دو ٹاپ ٹیموں کے درمیان فائنل 10 جون کو کھیلا جائے گا۔
فٹبال کی عالمی جنگ کامیدان لگنے میں11روزباقی
ماسکو(آئی این پی ) فیفا ورلڈ کپ 2018 کا آغاز 14جون سے روس میں ہو گا ،یونٹ کا افتتاحی میچ میزبان روس اور سعودی عرب کے درمیان کھیلا جائےگا۔ایونٹ میں 32 ممالک کی ٹیمیں حصہ لیں گی اور ان ٹیموں کو 8 گروپوںمیں تقسیم کیا گیا ہے۔ گروپ اے میں میزبان روس کے ساتھ یوراگوائے، مصر اور سعودی عرب کی ٹیمیں شامل ہیں۔گروپ بی میں پرتگال، مراکش، اسپین اور ایران کی ٹیمیں شامل ہیں۔ گروپ سی میں فرانس، آسٹریلیا، پیرو اور ڈ نمارک، گروپ ڈی میں ارجنٹائن، آئس لینڈ،کروشیا اور نائیجیریا کو رکھا گیا ہے۔ گروپ ای میں برازیل، سوئٹزرلینڈ، کوسٹا ریکا اور سربیا شامل ہیں۔گروپ ایف میں دفاعی چیمپیئن جرمنی کے ساتھ، جنوبی کوریا، میکسیکو اور سویڈن، گروپ جی میں بیلجیم، پاناما، تیونس اور انگلینڈ کی ٹیمیں موجود ہیں ۔ گروپ ایچ میں پولینڈ، سینیگال، کولمبیا اور جاپان کی ٹیمیں موجود ہیں۔
فاسٹ باولر محمد عامر کے رویہ سے پاکستانی شائقین مایوس
لیڈز(صباح نیوز)محمد عامر کے رویہ سے پاکستانی شائقین مایوس ہو گئے ۔ لیڈزٹیسٹ کے دوران پاکستانی فینز نے محمد عامر کیساتھ سیلفی کیلئے کافی انتظار کیا ، شائقین محمد عامر کیساتھ تصاویر کیلئے قطار میں کھڑے رہے محمد عامر کوآوازیں بھی دیں لیکن محمد عامر نہیں رکے اور آگے چل دیے جس پاکستانی شائقین مایوس ہو گئے ۔شائقین دہائیاں دینے لگ پڑے کہ محمد عامر بڑے آدمی ہو گئے ۔ جبکہ دوسری جانب پاکستان ٹیم کے کپتان سرفراز احمد شائقین کی ساتھ گھل مل گئے ان کیساتھ تصویریں بناتے رہے ۔خیال رہے کہ انگلینڈ کے خلاف دوسرے ٹیسٹ میں پاکستان کی پوری ٹیم پہلی اننگز میں 174 رنز بناکر آٹ ہوگئی جس کے جواب میں دن کےاختتام پر میزبان ٹیم نے دو وکٹوں کے نقصان پر 106 رنز بنالیے تھے۔
رشین حکومت کا پاکستانی شائقین کے لئے اہم اقدام
ماسکو(نیوزایجنسیاں)روسی حکومت نے فٹبال ورلڈ کپ 2018 میں شائقین کی پریشانی کو دور کرتے ہوئے نئی عارضی پالیسی کا اعلان کیا اور انہیں عالمی میلے کے دوران بغیر ویزا میزبان ملک میں داخل ہونے کی اجازت دے دی، جس کا اطلاق پاکستانی شائقین پر بھی ہوگا۔پاکستانی ذرائع ابلاغ کی رپورٹ کے مطابق روسی حکومت نے زیادہ سے زیادہ شائقین کو ورلڈ کپ 2018 میں مدعو کرنے کے لیے عارضی ویزا پالیسی کا اعلان کیا ہے۔روسی عارضی ویزا پالیسی کے مطابق غیر ملکی شائقین کے لیے ان کا ٹکٹ ہی ویزا ہوگا جس پر وہ روس میں داخلے کے حقدار ہوں گے۔خیال رہے کہ روس میں ہونے والے فٹبال ورلڈ کپ 2018 کے تمام آن لائن ٹکٹس بھی فروخت ہوچکے ہیں جبکہ روسی حکام کا کہنا ہے کہ یہ ایک تاریخی ورلڈ کپ ہوگا۔علاوہ ازیں روسی حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ جن شائقین کے پاس میچ کا ٹکٹ ہوگا انہیں مطلوبہ شہر تک پہنچانے کے لیے مفت ٹرانسپورٹ بھی فراہم کی جائے گی۔روسی سفارتکار نے پاکستانی ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ماسکو کی ویزا پالیسی پاکستان میں فٹبال شائقین کے لیے بھی ہوگی، تاہم پاکستانی شائقین کو اس کے لیے فیفا سے اپنا ٹکٹ اور فین آئی ڈی حاصل کرنا ہوگی۔انہوں نے بتایا کہ آن لائن ٹکٹ فیفا کی ویب سائٹ سے حاصل کیے جاسکتے ہیں، لیکن فین آئی ڈی حکومت کی مقرر کردہ ویب سائٹ سے حاصل کی جاسکتی ہے۔خیال رہے کہ فیفا کے 21ویں ورلڈ کپ کا آغاز رواں ماہ 14 جون سے کیا جارہا ہے جہاں جرمنی کی ٹیم اپنے اعزاز کا دفاع کرے گی۔
آپ ؓ خود فاقہ کرلیتیں لیکن کسی فقیر کو اپنے در سے خالی نہ جانے دیتیں: علامہ ضیا اللہ بخاری، صحابہ کرام آپ ؓ سے مسائل کا حل پوچھتے تھے:مفتی اقبال قادری، 7سال کی عمر میں نعت سے کیریئر شروع کیا: شبنم مجید، چینل ۵ کے پروگرا م ”مرحبا رمضان “ میں گفتگو
لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)حضرت عائشہ ؓ صدیقہ اپنے والد حضرت ابوبکر ؓ صدیق کی صفات کا عکس تھیں، چینل ۵ کے پروگرام ”مرحبا رمضان “ میں حضرت عائشہ ؓ کے یوم وصال پر بات کرتے ہوئے علامہ ضیاءاللہ بخاری نے کہا کہ نبی اکرم کی ازواج میں سے حضرت عائشہ ؓ بہادر، نڈر اور صاحب علم زوجہ تھیں، اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعہ ان سے عقد کا حکم دیا، آپ ؓ کو اللہ نے اعلیٰ مقام بخشا، حضرت عائشہ ؓ کو تمام مسلمانوں کی ماں بھی کہا جاتا ہے ، آپ ؓ کی شادی بہت کم عمری میں ہوئی لیکن ہمیشہ صبر و شکر کا مظاہرہ کیا، حضور پاک کی پیاری بیٹی حضرت فاطمہ ؑ کی شادی بھی آپ ؓ کے زیر سایہ ہوئی اور ایک مثالی اخلاق کا نمونہ پیش کیا ، انکی شان پڑھی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ خود فاقہ میں رہ لیتیں لیکن کسی فقیر کو اپنے در سے خالی ہاتھ نہ لوٹاتیں، آپ ؓ کی سخاوت کی اور بھی بہت سی مثالیں ملتی ہیں، بہت سے غلاموں کو آزاد کرواکر سخاوت کی مثال قائم کی اور نبی کریم کے تمام کام اپنے ہاتھوں سے سرانجام دیتیں، شبنم مجید نے کہا کہ رمضان میں گناہ اور برائیوں میں کمی آجاتی ہے ، دل چاہتا ہے کہ سارا سال رمضان کی برکتوں اور رحمتوں کے سائے میں گذرے ، نبی اکرم کی نعت پڑھنے کا شوق تھا ، اندرونی طور پر میرا رجحان اسلام کی جانب ہے ، سات سال میں نعت کیرئیر سے آغاز کیا پھر بہت گانے بھی گائے لیکن میں اسلام کی طرف لوٹ کر اپنے کیریئر کا اختتام بھی نعتوں سے ہی کرونگی، 300سے زائد نعتیں ریکارڈ کروائی ہیں، یوکے میں عید کے پروگرام کیلئے گئی تو دو میلاد منعقد کئے ، انسان کے دل میں محبت و عقیدت ہونا ضروری ہے ، مفتی اقبال قادری نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ نبی اکرم کی ازواج مطہر عام عورتوں جیسی نہیں ہیں، وہ تمام امت کی ماں ہیں، ایک شخص نے کہا کہ آپ کی وفات کے بعد وہ آپ کی بیوی سے شادی کریگا جس پر اللہ پاک نے غضب میں آیت نازل فرمائی کہ نبی اکرم ؓ کی ازواج سے کوئی اور مرد شادی نہیں کرسکتا وہ تمام امت کی مائیں ہیں، حضرت عائشہ ؓ کو ام المومنین کے لقب سے بھی نوازا گیا اور صحابہ ؓ اکرام نبی اکرم کی غیر موجودگی میں آپ ؓ سے اپنے مسئلوں کے حل بھی پوچھتے۔
اظہرنے وہاب کو ڈراپ کرنے کی وجہ بتا دی
ہیڈنگلے(آئی این پی ) پاکستانی بالنگ کوچ اظہرمحمود نے فاسٹ بالر وہاب ریاض کو انگلینڈ ٹور کیلئے ڈراپ کرنے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا ہے کہ سیزن کے ابتدائی حصے میں ماحول فاسٹ بالرز کیلئے بہت زیادہ سازگار نہیں ہوتا ، سیمرز یا میڈیم پیسرز کامیاب رہتے ہیں لہذا سلیکٹرز نے انہیں نظر انداز کردیا۔ تفصیلات کے مطابق پاکستانی بالنگ کوچ اظہرمحمود نے فاسٹ بالر وہاب ریاض کو انگلینڈ ٹور کیلئے ڈراپ کرنے کی وجہ بتا دی ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ کہ سیزن کے ابتدائی حصے میں ماحول فاسٹ بالرز کیلئے بہت زیادہ سازگار نہیں ہوتا ، سیمرز یا میڈیم پیسرز کامیاب رہتے ہیں لہذا سلیکٹرز نے انہیں نظر انداز کردیا۔اظہرمحمود نے کہا کہ وہاب ریاض مستقبل کی پلاننگ میں شامل ہیں تاہم اس بات کو بھی نظرانداز نہ کیا جائے کہ بعض اوقات کسی کھلاڑی کو اس وجہ سے بھی ڈراپ کرنا پڑتا ہے کہ وہ پہلے سے زیادہ مضبوطی کے ساتھ واپس آئے کیونکہ کھیل میں کاہلی اور بیزاری کا عنصر بھی شامل ہو جاتا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ڈربی شائر کی جانب سے کھیل کر وہاب ریاض کی بالنگ میں نکھار پیدا ہو گا۔
ویمنز ہیڈکوچ نے قومی ٹیم سے بڑی امیدیں لگالیں
کراچی (یواین پی)ایشیاءکپ ٹی ٹوئنٹی کرکٹ ٹورنامنٹ سے قبل قومی ویمنز کرکٹ ٹیم کے کوچ مارک کولز پاکستانی پلیئرز کی تیاریوں سے مطمئن ہیں جن کا کہنا ہے کہ بھارت سمیت دیگر ٹیموں کیخلاف اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا جائے گا۔تین جون سے شروع ہونے والے ایونٹ سے متعلق بات کرتے ہوئے مارک کولز کا کہنا تھا کہ انہوں نے اچھی تیاریاں کی ہیں جس کے بعد امید ہے کہ پاکستانی ٹیم بھارت سمیت دیگر تمام حریف ٹیموں کیخلاف اچھی کرکٹ کھیلے گی۔ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ کچھ عرصے میں تمام ٹیموں کی کارکردگی بہتر ہوئی ہے جس میں بھارتی ٹیم کو کافی مضبوطی ملی لیکن ان کیلئے اہمیت کی بات یہ ہے کہ حریف ٹیموں کے بارے میں سوچنے کے بجائے یہ دیکھیں کہ کہاں اور کیسے بہتر کارکردگی دکھائی جا سکتی ہے۔مارک کولز کا کہنا تھا کہ گرین شرٹس کو ٹیم ورک کے ساتھ انفرادی کارکردگی پر بھی توجہ درکار ہے کیونکہ ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ میں ایک گیند بھی میچ کا پانسہ پلٹ سکتی ہے اور ایسے میں کسی کو بھی فیورٹ قرار دینا درست نہیں ہوگا لیکن انہیں امید ہے کہ پاکستانی ٹیم بہتر کھیل کا مظاہرہ کرے گی۔قومی ویمنز کرکٹ ٹیم کے کوچ کا کہنا تھا کہ تمام کرکٹرز کو کامیابی کیلئے اپنی ذمہ داری بھرپور انداز میں ادا کرنی ہو گی کیونکہ کرکٹ اجتماعی کھیل ہے جس میں سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوتا ہے۔ واضح رہے کہ سری لنکا میں کل سے شروع ہونے والے ٹورنامنٹ میں پاکستانی ٹیم اپنا افتتاحی میچ تھائی لینڈ کیخلاف کھیلے گی جبکہ اسے روایتی حریف بھارت کیخلاف 9 جون کو میدان سنبھالنا ہے۔
حکومتیں آتی جاتی رہیں لیکن کام نہیںکیا ، لوڈ شیڈنگ کا حل کالا باغ ڈیم کی تعمیر ، چینل ۵ کے پروگرام ” ہاٹ لنچ “ کے سروے میں شہریوں کی گفتگو
لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان میں لوڈشیڈنگ کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ کس حکومت نے نئے ڈیمز بنانے کی جانب توجہ نہیں دی۔ جو بھی حکومت آئی اس نے محض عوام سے جھوٹے وعدے کیے۔ ینل ۵ کے پروگرام ہاٹ لنچ میں اس حوالے سے ایک رپورٹ تیار کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ کالا باغ ڈیم کی تعمیر کر کے لوڈ شیڈنگ کے مسئلے پر قابو پایا جا سکتا ہے لیکن بدقسمتی سے سیاستدانوں نے اس کی تکمیل کو سیاسی رنگ میں رنگ ڈالا ہماری معیشت صرف لوڈشیڈنگ کے باعث بربادی کا شکار ہے۔ نمائندہ راولپنڈی اصغر بھٹی نے بتایا کہ ابھی گرمی کا سلسلہ شروع ہوا ہے کہ شہر میں لوڈشیڈنگ نے ڈیرے ڈال دیئے حالانکہ سابق وزیر اعظم نواز شریف نے لوڈشیڈنگ ختم کرنے کے دعوے کیے تھے جو آج بھی ادھورے ہیں۔ نمائندہ کوئٹہ غلام جیلانی نے بتایا کہ لوڈشیڈنگ شہر کے لوگوں کیلئے دردسر بن چکی ہے اور لوگ بھی سراپا احتجاج ہیں۔ شہریوں نے بتایا لوڈشیڈنگ کے باعث فصلوں کو پانی نہیں مل رہا جس کے باعث پیداوار متاثر ہو رہی ہے۔ نمائندہ سکھر ندیم سرکی نے بتایا لوڈشیڈنگ کا جن بے قابو ہے جس کے باعث چھوٹے دکاندار دکانیں بند کر کے مزدوری کرنے پر مجبور ہیں۔ شہریوں نے بتایا پندرہ گھنٹے بجلی غائب رہتی ہے جس کے باعث کاروبار ٹھپ ہو گیا آخر ہم جائیں تو کہاں جائیں اس کے باوجود بلنگ بہت زیادہ ہے غریب آدمی خودکشی کرنے کو تیار ہے۔ نمائندہ ڈی جی خان عرفان علی نے بتایا لوڈشیڈنگ ختم کرنے کے حکومتی دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے ہیں دن بھر مزدوری کر کے ہم رات کو سو نہیں پاتے۔ نمائندہ وہاڑی حاجی ظفر اللہ چودھری نے بتایا کہ یہاں بھی لوڈشیڈنگ کا دورانیہ ملک کے دیگر حصوں کے مانند ہے مزدوروں کو مزدوری نہیں مل رہی۔ تحریک انصاف کے رہنما فواد چودھری نے بتایا تمام حکومتوں نے جھوٹ بول کر عوام کو دھوکہ دیا اور لوڈشیڈنگ کو مسئلہ نہیں سمجھتے۔ نواز شریف ہزاروں میگاواٹ بجلی بنانے کا دعویٰ کرتے رہے۔ 5500 میگاواٹ کا دعویٰ کیا گیا لکین صرف 1900 میگاواٹ بجلی سسٹم میں شامل ہوئی سابق حکومت نالائقوں کا ٹولا تھی۔ نمائندہ فیصل آباد نعیم بیگ نے کہا کہ سورج نے تیور کیا دکھائے حکومتی دعوﺅں کا پول کھل گیا اور لوڈشیڈنگ پھر شروع ہو گئی۔ نمائندہ گوجرانوالہ ندیم ساگر نے بتایا گزشتہ تمام حکومتیں لوڈشیڈنگ ختم کرنے میں ناکام رہی شہری سراپا احتجاج ہیں۔ نمائندہ کراچی صبا خان نے بتایا شہر قائد کی صورتحال بھی دیگر ملک کے شہروں کی طرح ہے ایک تو گرمی اوپر سے لوڈشیڈنگ عوام بلبلا اٹھے ہیں۔ نمائندہ ملتان مکرم خان نے بتایا بجلی کی لوڈشیڈنگ نے عوام کا جینا دوبھر کر دیا ہے بجلی آنے جانے کا کوئی شیڈول نہیں۔ نمائندہ پنڈی گھیب آصف صابری نے بتایا لوڈشیڈنگ کے باعث کاروباری طبقہ پریشان ہے شہری حکومت کے خلاف پھٹ پڑے ہیں۔ نمائندہ قصور سجاد انصاری کو شہری نے بتایا حکومت نے دعویٰ کیا تھا اتنی بجلی بنائیں گے کہ دوسرے ملکوں کو بھی بھیج سکیں لگتا ہے ساری بجلی حکومت نے بھارت کو بیچ دی ہے۔
حفیظ کی ٹیم میں واپسی کا امکان نہیں
لاہور(نیوزایجنسیاں) اسکاٹ لینڈ کے خلاف 2 ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچوں کی سیریز میں پاکستانی ٹیم کے آل راو¿نڈر محمد حفیظ کی شمولیت کا امکان نہیں ہے اور ٹیم انتظامیہ اور سلیکشن کمیٹی زخمی بابر اعظم کی جگہ مڈل آرڈر بیٹسمین حارث سہیل کو شامل کرنے پر غور کررہی ہے واضح رہے کہ پاکستانی ٹیم لیڈز ٹیسٹ کھیل کر مانچسٹر سے اسکاٹ لینڈ جائے گی، جہاں پاکستان اور اسکاٹ لینڈ کے درمیان 2 ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچز 12 اور 13 جون کو کھیلے جائیں گے۔بولنگ ایکشن کلیئر ہونے کے باوجود محمد حفیظ کی مشکلات کم نہیں ہوسکیں اور ذرائع کا کہنا ہے کہ ان کی ٹی ٹوئنٹی اسکواڈ میں شمولیت کا امکان نہیں، تاہم سلیکٹرز محمد حفیظ کو ون ڈے ٹیم میں شامل کرنے پر بھی غور کر رہے ہیں تاکہ انہیں ورلڈ کپ کے پلان کا حصہ بنایا جائے۔یہ بھی امکان ہے کہ محمد حفیظ کو زمبابوے کی ون ڈے سیریز میں چانس ملے۔تاہم بابر اعظم کے اَن فٹ ہونے کے باوجود عمر امین کا کوئی چانس نہیں ہے۔ رومان رئیس اور عماد وسیم بدستور اَن فٹ ہیں جبکہ وہاب ریاض کو بھی مزید انتظار کرنا ہوگا۔توقع ہے کہ اسکاٹ لینڈ سے میچز کے لیے پاکستانی ٹیم کا اعلان پیر کو کیا جائے گا۔ دوسری جانب ویسٹ انڈیز کے خلاف کراچی میں ہونے والے ٹی ٹوئنٹی میچوں کی پاکستانی ٹیم میں کسی بڑی تبدیلی کا امکان نہیں ہے اور شعیب ملک، احمد شہزاد، عثمان شنواری، شاہین آفریدی، آصف علی، حسین طلعت اور محمد نواز پاکستانی ٹیم کا حصہ ہوں گے۔لیڈز ٹیسٹ سیریز کے بعد اظہر علی، اسد شفیق، سمیع اسلم اور راحت علی وطن واپس چلے جائیں گے جبکہ محمد عباس لیسٹر شائر کے لیے بقیہ میچ کھیلیں گے۔
بہاولپور صوبہ ختم ، اب صرف جنوبی پنجاب صوبہ بنے گا : جہانگیر ترین
لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) سابق سیکرٹری جنرل تحریک انصاف جہانگیر ترین نے کہا ہے کہ اب صرف جنوبی پنجاب صوبہ نے گا۔ نواب آف بہاولپور صلاح الدین عباسی کی پی ٹی آئی میں شمولیت کے بعد طے پا گیا ہے کہ صرف جنوبی پنجاب صوبہ کافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان وعدے کے پکے ہیں اور وہ صوبہ بنا کر رہیں گے۔ ہم اقتدار میں آکر صوبہ نہ بنا سکے تو لوگ مجھے جنوبی پنجاب میں رہنے نہیں دینگے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ضیاشاہد کے ساتھ خصوصی مکالمہ میں کیا جو سوالاً جواباً پیش خدمت ہے:۔
ضیاشاہد: گزشتہ کچھ عرصہ سے جنوبی پنجاب کی سیاست میں ایک ابھار پیدا ہوا سابق ریاست بہاولپور اور جنوبی پنجاب کے ملتان اور ڈیرہ غازی خان کے ڈویژنوں میں اور سب سے پہلے میں یہاں سے شروع کروں کہ وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے ایک اعلان کیا تھا کہ یہاں کے لوگوں کو واقعی لاہور جانے میں بڑی دقت ہوتی ہے اور یہاں سے اکثر کہا جاتا تھا کہ رحیم یار خان کے آخری سرے سے جب ہم سندھ سے ملتے ہیں 14 گھنٹے لگ جاتے ہیں لوگوں کو لاہور جانے میں اسی طرح فورٹ سنڈے من کا ایریا ہو یا اور اس کے علاقے کے بہت سے دور دراز کے علاقے جناب اس پر تجویز کیا تھا کہ پنجاب حکومت کی طرف سے کہ ملتان میں ایک جنوبی پنجاب کا ایک سیکرٹریٹ بنایا جائے جس میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری بھی بیٹھے ہوں اور ایڈیشنل آئی جی بھی بیٹھے ہوں۔ یہ طے ہوا تھا کہ ایجوکیشن اور ہیلتھ کے محکموں کے ایڈیشنل سیکرٹری بھی یہاں بیٹھے ہوں تاکہ تھوڑا لوڈ کم تو ہو لاہور پر۔ لیکن عجیب بات ہے کہ یہ سلسلہ جو ہے اس کی کافی خبریں آئیں یہ بھی پتہ چلا کہ زمین بھی لے لی ہے اور شاید اس کی تیاریاں بھی ہو رہی ہیں پھر اچانک یہ ختم ہو گیا اور اخبار نویس کی حیثیت سے بہاول نگر بچپن میں اور پھر ملتان میں میٹرک تک میں نے پڑھا اس علاقے سے ہے۔ اور یقینی طور پر اس علاقے کی محرومیاں میں دیکھتا رہا۔ دوسرے اخبارات اور دوسرے صحافیوں کی نسبت مجھے خود اس کا ادراک رہا۔ یہ سیکرٹریٹ والا سسٹم کیوں ختم ہو گیا یہ ہو جاتا تو وقتی طور پر تھوڑا سا ریلیف مل جاتا ہے۔
جہانگیر ترین: ضیاصاحب میں آپ کو لودھراں اور جنوبی پنجاب میں سیکرٹریٹ ان وعدوں میں سے ایک تھا جو کبھی نواز شریف اور شہباز شریف کرتے اور پورا نہیں ہوا۔ یہ ایک وعدہ کر کے جنوبی پنجاب کے لوگوں کو گمراہ کرتے رہے۔ سیکرٹریٹ کا وعدہ بھی ناکافی تھا۔ رولز آف بزنس ایک چیز ہوتی ہے اس میں جو فیصلے آئی جی کے ہوتے ہیں وہ ایڈیشنل آئی جی نہیں کرسکتا۔ جو چیف سیکرٹری کے ہوتے ہیں وہ ایڈیشنل سیکرٹری نہیں کر سکتا۔ لامحالہ طور پر فیصلے یہاں نہیں ہونے تھے سارے فیصلے پنجاب میں جانے تھے لاہور میں۔ انہوں نے اعلان کر دیا جو سیاسی اعلان تھا اور اس پر عملدرآمد ہیں۔ جہاں تک جنوبی پنجاب کی محرومیوں کا سوال ہے یہ آج سے نہیں، بہت عرصہ سے ہے۔ آپ دیکھ لیں کہ انڈس واٹر بنایا تھا ورلڈ بنک نے پنجاب کے جو ا ضلاع ہیں ان میں سے پسماندہ کون سے ہیں۔ اس میں دس میں 8 جنوبی پنجاب کے تھے اس میں تعلیم، سکولوں کا نہ ہونا، کالجوں کی تعداد، سڑکوں کی لمبائی کیا تھا۔ ہسپتال کتنے تھے، ان سب چیزوں کا تجزیہ کیا گیا دس میں آٹھ جنوبی پنجاب کے ہیں۔ ہم نے کوشش کی کہ کسی طرح سے مسائل کم کر سکیں۔ ق لیگ کے دور میں ریکارڈ ترقی ہوئی تھی اور ہم نے 2002ءمیں جنوبی پنجاب کو بڑا حصہ لیکر دیا تھا۔ اب ہم نے سوچا ہے کہ اس کا طریقہ کار یہی ہے کہ اپنا صوبہ ہو گا تو ہمیں اپنے وسائل سے جو وفاق سے حصہ ملتا ہے اس کو ہم اپنی مرضی سے خرچ کریں گے۔ جنوبی پنجاب کے عوام خود خرچ کریں گے اور اس کے اتنے فوائد ہیں کہ آپ سوچ بھی نہیں سکتے ہماری اپنی ہائی کورٹ ہو گی جو بااختیار ہو گی جو لاہور ہائی کورٹ کا حصہ نہیں ہوگی صوبہ ملتا ہے تو اس پر فوکس کر سکتے ہیں۔
ضیاشاہد: یہاں سے موجودہ مطالبات میں سے ایک مطالبہ تو ریاست بہاولپور کی بحالی کا تھا۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ نواز شریف اور شہباز شریف صاحب نے الیکشن سے پہلے ہی پوری کوشش کی کہ بہاولپور متحدہ محاذ کے جو لوگ الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں ان کو کہا گیا کہ آپ ہمارے ساتھ شامل ہوں ہم یہ مطالبہ مان لیتے ہیں۔ چنانچہ وہ لوگ ان کے ساتھ شامل ہوگئے ورنہ وہ ان کو متحدہ محاذ کے امیدواروں کا مقابلہ کرنا پڑتا۔ ایک قرارداد منظور کی گئی اسمبلی میں لیکن اس قرارداد کی منظوری کے بعد جو مزید سیٹیں تھیں نہ تو قومی اسمبلی میں نہ سینٹ میں اور نہ ہی مجموعی طور پر اہتمام کیا گیا حتی کہ 5 سال گزر گئے۔ یہ فرمائیے کہ موجودہ سیاسی تبدیلی آئی ہے اس میںلوگوں کو بڑی امید بھی ہوتی ہے پہلی بات تو یہ ہے کہ دھڑا دھڑ مسلم لیگ ن سے الگ ہوئے زیادہ تعداد م یں پی ٹی آئی میں گئی۔ اس میں آپ کی بھی کوشش کا بڑا دخل ہے یہ فرمائیے اس کے بارے میں 5,4 دن پہلے شہباز شریف نے بطور وزیراعلیٰ کہا ہے کہ جو لوگ مسلم لیگ ن سے دھڑا دھڑ نکل رہے ہیں ان کو خلائی مخلوق مجبور کر رہی ہے اور بتایا جا رہا ہے کہ فلاں پارٹی میں آپ شامل ہوں،
جہانگیر ترین: جہاں تک پنجاب ا سمبلی سے قرارداد منظور کروانے کی بات ہے تو ان کی یہ نیت کبھی نہیں تھی۔ پنجاب کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کی کیونکہ یہ سمجھتے ہیں کہ لاہور میں بیٹھ کر ان کے پورا پنجاب ہے تو ان کی طاقت بڑھ جاتی ہے یہ کبھی بھی نہیں چھوڑیں گے انہوں نے صرف پریشر بڑھا کر بہاولپور ریاست کی بات کر دی اور اس کے بعد یہ بھول گئے۔ جہاں تک خلائی مخلوق کی بات ہے میرا سوال شہباز شریف سے ہے میں ان سے پوچھتا ہوں کہ جب 2008ءکے الیکشن آئے تھے تو اس زمانے میں ق لیگ کے 40 لوگ ن میں شامل کئے تھے تو وہ کونسی خلائی مخلوق تھی جس نے کیا تھا کہ مسلم لیگ ن میں شامل ہو جائیں۔ وہ تو بڑے آرام سے شامل ہو گئے کسی نے کہا کہ ہم نے بھی نہیں کہا کہ کہ خلائی مخلوق نے لوگ شامل کئے۔ یہ لوگ اس لئے ٹوٹ کر جا رہے ہیں انہوں نے دیکھ لیا ہے کہ اب شریف خاندان کا دور ختم ہو گیا۔ جب سے یہ پانامہ کیس ہوا ہے نواز شریف کرپشن میں پکڑے گئے۔ نیب کی احتساب عدالت میں پہلی دفعہ کیس ہورہا ہے اس طرح شہباز شریف پر ماڈل ٹاﺅن کا کیس بھی ہے اس میں پیشرفت ہو رہی ہے اس کے علاوہ جو شہباز شریف کی کرپشن ہے وہ پکڑی جا رہی ہے۔ نیب اس پر سوال اٹھا رہی ہے احمد چیمہ اندر ہے۔ عنقریب ایک ریفرنس بنے گا اور شہباز شریف ان تمام چیزوں میں ملوث ہے۔ لوگ ا ن کے رویے سے تنگ تھے یہ توکسی کو ہاتھ نہیں ملاتے تھے۔ نواز شریف نے 5 سال میں بعض ایم این ایز کو ٹیلی فون تک نہیں کیا اور اکثر لوگ ایسے ہیں لوگ ان سے ناراض ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ لوگ دیکھ رہے ہیں کہ عمران خان ایک وعدہ کر رہا ہے سچا آدمی، عمران خان کے ایسے کوئی سیاسی مقاصد نہیں ہیں۔ ملک کی بہتری چاہتا ہے۔ ان لوگوں کو عمران سے توقعات ہیں۔
ضیاشاہد: اس علاقے میں دو تھیوریز چلتی رہی ہیں۔ ایک تھیوری تو یہ ہے ایک حصہ اس کا، سابق ریاست بہاولپور اس کی صوبائی حیثیت کو بحال کر دیا جائے اور وہ ایک صوبہ بن جائے۔ دوسری تھیوری کافی دیر سے چل رہی ہے اور اس پر خاص طور پر سرائیکی تنظیموں اور سرائیکی پارٹیوں نے جن کا سیاست میں کوئی عمل دخل نہیں رہا وہ کبھی ایم پی اے ایم این ایز کی سیٹ حاصل نہیں کر سکیں اور میں نے خود ان سے بہت مرتبہ مشاورتیں کی ہیں بہاولپور، ملتان میں تین بار۔ میرا نقطہ نظر ہمیشہ یہ رہا ہے کہ اگر آپ زبان کی بنیاد پر کوئی صوبہ بنانے کی تحریک شروع کریں گے تو یہ علاقے کے جو نان سرائیکی ہیں وہ کبھی آپ کے ساتھ شامل نہیں ہوں گے۔ ان کے ذہن میں ہوگا کہ اس صورت میں ہم بی کلاس سٹیزن ہو جائیں گے۔ اور کچھ ان دوستوں کے غیرمحتاط رویے کا بھی ذکر ہے چنانچہ ذاتی طور پر یہ طے ہے اور میں نے بڑی کوشش بھی کی ہے کہ اخبار کے ذریعے۔ میرے پاس مظفرگڑھ سے انہیں سرائیکی تنظیموں کے کچھ لوگ آئے انہوں نے کہا کہ جی ہم نے ضلعوں میں کام شروع کر دیا ہے اور ہم 1947ءکے بعد زمینوں کی الاٹمنٹس ہیں، مکانوں کی فیکٹریوں کی، ہم دوبارہ Son of Soul کو یہ ساری پراپرٹی واپس دلوائیں گے۔ یہ اتنا خوفناک منصوبہ تھا جس کا بھی تھا اور اس پر ہمارے پرانے دوست اور جو اس کے بانی بھی تھے تاج محمد لنگاہ تھے اس سے بھی بڑی دفعہ بحث ہوئی۔ میں نے کہا کہ اب اگر سیٹلڈ پاکستان میں اب مشرقی پاکستان اور جئے سندھ کی طرح سے کوئی اس قسم کی موومنٹ شروع کریں گے تو ہم گلی گلی محلے محلے جس کی جناب زمین چھینی جائے گی وہ تو بندوق لیکر کھڑا ہو جائے گا۔ تو اس طرح ہم اپنے ملک کو کس طرح سے پارا پارا کرنا چاہتے ہیں۔
جہانگیر ترین نے کہا کہ ہم تو جنوبی پنجاب میں 2صوبے بناناچاہتے تھے لیکن پھر بہاولپور کے لوگوں سے مشاورت کی، اب نواب آف بہاولپور نواب صلاح الدین عباسی بھی تحریک انصاف میں شامل ہوچکے ہیں، طے پایا کہ سب کا فائدہ ہے کہ ایک صوبہ بنے، اس طرح پنجاب کی 3میں سے ایک حصہ سیٹیں ہماری ہونگی اور ہم خیبرپختونخوا سے تھوڑا بڑے ہونگے، وسائل بھی ٹھیک طرح استعمال ہونگے، بہاولپور صوبہ کی بات اب ختم ہوگئی ہے ، یہ جو بات ہے کہ وہاں 47ءکے بعد جو لوگ آئے تھے انکو بے دخل کردیاجائے اور انکی جائیدادیں واپس لے لی جائیں یہ خوفناک بات ہے ، سرائیکی سمیت ایسا کوئی بھی نہیں سوچ سکتا ، آپس میں ہم زبان کو فرق نہیں سمجھتے، ہم ایک ہیں، سب متفق طور پر سمجھتے ہیں کہ جنوبی پنجاب ایک صوبہ ہونا چاہئے، اس سلسلے میں تمام اضلاع کو ساتھ لیکر چلیں گے، جہانگیر ترین نے کہا ہے کہ جنوبی پنجاب صوبے کا وعدہ سب نے کیا، پی ٹی آئی کا یہ پہلا وعدہ ہے، ہم اس میں اس لئے زیادہ سنجیدہ ہیں کہ رہنا بھی یہیںہے، ہماری حکومت بن گئی اور یہ کام اگر نہ ہوا تو یہاں مجھے لوگ رہنے نہیں دینگے، اب یہ فیصلہ ہوگیا ہے تو پیچھے نہیں ہٹیں گے، عمران خان وعدے کا پکا آدمی ہے، صوبہ بناتے وقت ہم یہ کبھی نہیں سوچیں گے کہ ہماری طاقت کم ہوجائیگی، اگر صوبے میں تبدیلی نہیں لاسکے تو پھر باقی کیا تبدیلی لائیں گے، انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے منشور میں پراونشل فنانس کمیشن کا ذکر ہے، اسکے تحت فنڈز ضلعوں تک منتقل ہونگے، لاہور پر جو خرچ کیاگیا اس میں کمیشن کھائی گئی، اردگرد کے دیگر اضلاع کے ساتھ زیادتی کی گئی، حکومت نے ملتان میں 32ارب روپے کی لاگت سے میٹرو بنادی، یہی پیسہ پورے جنوبی پنجاب پر خرچ ہوتا تو فائدہ ہوتا، لوگوں کو میٹرو کی ضرورت نہیں تھی، بسیں چل نہیں رہیں، ہمارا صوبہ بنے گا تو ہر ضلعے کو اسکا حصہ ملے گا، انہوں نے کہا کہ جنوبی پنجاب میں تاریخی سرمایہ کاری کرنے کے شہباز شریف کے دعوے جھوٹے ہیں، جو لوگوں کو گمراہ کرنے کیلئے بولتے ہیں، ہسپتال، سکول، کالج نہ کچھ نیا بنا اور نہ ہی اب گریڈ ہوئے، معیاری تعلیم نہ ہونے کے باعث جنوبی پنجاب کے لوگ حکومت یا سول اداروں تک نہیں پہنچ پاتے، ہمارا صوبہ بنے گا تو ملک بھر میں جنوبی پنجاب کے لوگ موجود ہونگے، انہوں نے کہا کہ ہم ماسٹر پلان بنا رہے ہیں، ایک ایکشن کمیٹی تشکیل دی ہے جو سو دنوں میں جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے کے طریقہ کار پر رپورٹ پیش کریگی، جب صوبہ بنے گا تو این ایف سی ایوارڈ سے حصہ ملے گا، صوبے کے بڑے لوگوں سے بھی ریونیو اکھٹا کرینگے، یہاں مواقعوں کی ضرورت ہے، دوسرے صوبوں کے سرمایہ دار یہاں سرمایہ کاری کریں، انڈسٹریل پالیسی بناکر مراعات دینگے تو روزگار ملے گا، سب سے پہلے کپاس کی تحقیق و ریسرچ کرائیں گے تاکہ ورائٹی بنے، ماضی کی نسبت کپاس کی پیداوار آدھی رہ گئی جبکہ بھارت نے 3گنا بڑھا لی، جنوبی پنجاب صوبے کا ایک دن پنجاب سے مقابلہ کرینگے، انہوں نے کہا کہ مجھے لوگ شوگر مافیا کا حصہ تصور نہیں کرتے، میں زمینداروں کے ساتھ ہوں، سپریم کورٹ میں جب گنے کے حوالے سے کیس کی سماعت ہوئی تو میں نے وہاں کہا تھا کہ یہ جتنے لوگ کہہ رہے ہیں کہ 180روپے دیئے گئے، میں اعلانیہ کہتا ہوں کہ میرے علاوہ اتنا ریٹ کسی نے نہیں دیا، میں کاشت کار کے ساتھ ہوں، جب صوبہ بنے گا تو سب دیکھیں گے کہ کاشتکار کو صحیح ریٹ کیسے دلواتے ہیں، کسی شوگر مل کی مجال نہیں ہوگی کہ ایک روپیہ بھی کم دے۔
ریحام کی کتاب برطانیہ میں نہ چھپی تو امریکہ یا بھارت سے چھپوانے کیلئے حسین حقانی سے مدد لی جائیگی
رپورٹ :لاہور
امتنان شا ہد
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی سابقہ اہلیہ ریحام خان ان دنوں اپنی کتاب کی تشہیر کے سلسلے میں لندن میں موجود ہیں۔ ریحام خان کی کتاب کے بارے میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ اس میں انہوں نے اپنے سابق شوہر عمران خان اور ان کی سابقہ بیوی جمائمہ گولڈ سمتھ کے بارے میں تفصیل سے لکھا ہے۔ اس کتاب (جو ابھی شائع نہیں ہوئی) میں انہوں نے اپنے سابق شوہر عمران خان کی ذاتی زندگی‘ قول و فعل کے تضاد اور ان کے دیگر مشاغل کے بارے میں تحریر کرنے کی کوشش کی ہے اور ان کے اپنے پارٹی رہنماﺅں اور دیگر پارٹی سربراہوں جن میں شیخ رشید‘ سراج الحق وغیرہ شامل ہیں‘ سے کی گئی گفتگو کو بھی کئی مقامات پر Quote کیا گیا ہے۔ کتاب کے متن میں بنی گالہ میں عمران خان کی رہائشگاہ کے بارے میں ریحام خان نے تحریر کیا ہے کہ اس شادی کے دوران ان کی زندگی اس گھر میں کیسے مشکل ہوئی اور اس میں کس کس کا کردار رہا۔ اسی طرح عمران خان کی سابقہ اہلیہ جمائمہ گولڈ سمتھ کے حوالے سے بھی کتاب میں کافی زہر گھولا گیا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے موجودہ صدر میاں شہباز شریف کے لئے تعریفوں کے پل باندھے گئے ہیں اور ان کو ”Man of His Words“ تحریر کیا گیا ہے۔ ریحام خان اپنی کتاب کی اشاعت کے لئے رواں ہفتے میں دو سے تین مختلف پبلشرز سے ملاقاتیں کرچکی ہیں تاہم فی الحال برطانیہ میں ہتک عزت کے سخت قوانین کے باعث کسی برطانوی پبلشر نے عدم ثبوت کی وجہ سے اس کتاب کو شائع کرنے سے انکار کردیا ہے۔ اس بات کا بھی علم ہوا ہے کہ گزشتہ روز ریحام پاکستان کے امریکہ میں سابق سفیر اور واشنگٹن میں پاکستان مخالف کمپین کے روح رواں حسین حقانی سے لندن کے بڑے سٹور Harvey Nichols کے ریسٹورنٹ میں ملیں۔ جس میں انہوں نے اس کتاب کی اشاعت کے لئے حسین حقانی سے مدد بھی طلب کی ہے۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اگر یہ کتاب برطانیہ میں کوئی شائع نہیں کرتا تو وہ اس کو امریکہ یا بھارت میں کتابوں کے دو مشہور پبلشرز سے شائع کروا کر بھاری معاوضہ لیں گی۔ ریحام خان کی یہ بھی خواہش ہے کہ وہ اپنی انگریزی زبان میں لکھی گئی کتاب کو پاکستان کے عام انتخابات سے قبل مارکیٹ میں لے آئیں۔ اس متنازعہ کتاب کے دو سے چار نام تجویز کئے گئے ہیں لیکن کوئی نام فائنل نہیں کیا لیکن اطلاع کے مطابق ان میں سے سب سے فیورٹ نام Sparkling Bani Gala (سپارکلنگ بنی گالہ) ہے۔ ماہرین کی رائے کے مطابق یہ کتاب مارکیٹ میں آنے کے بعد ہوسکتا ہے کہ چیئرمین تحریک انصاف آئین پاکستان کی دفعات 62-63 کے زمرے میں آکر نااہل ہو جائیں۔ کیونکہ ریحام خان کی کتاب میں عمران خان کے حوالے سے ایسی باتوں کا ذکر کیا گیا ہے جن کا تعلق ان کی ذاتی زندگی سے ہے۔ اس بات کا بھی پتا لگا ہے کہ ریحام خان کی اس کتاب کی تشہیر‘ اس کی منفی پبلسٹی اور اس کو شائع کروانے میں تحریک انصاف کے چیئرمین کے سیاسی مخالفین آگے آگے ہیں اور ریحام کو ان کی پشت پناہی کے ساتھ ساتھ مکمل سپورٹ کا یقین دلایا گیا ہے اور اس کا بھرپور طریقے سے بندوبست کرنے کا وعدہ بھی کیا گیا ہے۔
اصغر خان عملدرآمد کیس ،چیف جسٹس نے پیسے وصول کرنے والے نوازشریف اورجاوید ہاشمی سمیت 21 سویلین کو نوٹس جاری کر دئیے
لاہور (ویب ڈیسک)سپریم کورٹ نے اصغر خان عملدرآمد کیس میں نواز شریف اورجاوید ہاشمی سمیت پیسے وصول کرنے والے 21 سیاستدانوں کو نوٹس جاری دیئے۔چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثارکی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں اصغر خان کیس کی سماعت کی۔ اٹارنی جنرل اشتراوصاف نے کابینہ کے فیصلے سے متعلق رپورٹ عدالت میں پیش کی۔اٹارنی جنرل نے مو¿قف اختیارکیا کہ کابینہ نے عدالتی فیصلے پرعملدرآمد کا فیصلہ کیا ہے اورایف آئی اے کو تفتیش جاری رکھنے کی ہدایت کی ہے۔ چیف جسٹس نے استفسارکیا کہ پیسے وصول کرنے والوں سے رقم کی واپسی کا کیا طریقہ کاربنایا گیا ہے۔اٹارنی جنرل کی درخواست پرکابینہ کے اجلاس کی رپورٹ عدالتی عملے کو دوبارہ سیل کرنے کا حکم دے دیا گیا۔ چیف جسٹس نے پیسے وصول کرنے والے نوازشریف اورجاوید ہاشمی سمیت 21 سویلین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کیس کی سماعت 6 جون تک ملتوی کر دی۔ عدالت نے کیس سے متعلقہ آرمی افسران سمیت ڈی جی نیب اورایف آئی اے کو بھی نوٹس جاری کئے ہیں۔


















