All posts by Asif Azam

https://www.facebook.com/asif.azam.33821

بلوچستان: احتجاج کرنے والے اساتذہ کو ایک سال قید،5 لاکھ جرمانہ تجویز

اسلام آباد(ویب ڈیسک) بلوچستان حکومت نے صوبے میں تعلیمی نظام اور اس کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے تمام اساتذہ پر احتجاج کرنے، اس میں شامل ہونے یا تعلیمی سرگرمیوں سے ہڑتال پر مکمل پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کرلیا۔بلوچستان کی حکومت نے صوبے میں تعلیم کو لازمی سروس قرار دینے کا فیصلہ کرتے ہوئے تعلیمی ایکٹ 2018 متعارف کروادیا۔مذکورہ ایکٹ کے مطابق صوبے میں موجود تمام سرکاری اساتذہ پر تعلیمی سرگرمیوں سے ہڑتال، تعلیمی سرگرمیوں کا بائیکاٹ، احتجاج کرنے یا اس میں شامل ہونے پر پابندی ہوگی۔ایکٹ کے مطابق خلاف ورزی کرنے کی صورت میں اساتذہ کو ایک سال قید اور 5 لاکھ روپے تک جرمانے کی سزا ہوسکتی ہے۔وزیرِ اعلیٰ بلوچستان جام کمال کی سربراہی میں ہونے والے کابینہ اجلاس میں ایکٹ کو پیش کیا جائے گا جبکہ امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ بلوچستان کی صوبائی کابینہ ا?ج ہی اس ایکٹ کی منظوری دے دے گی۔صوبائی کابینہ سے منظور کے بعد قانون سازی کے لیے اس ایکٹ کو صوبائی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔ادھر اساتذہ برادری نے صوبائی حکومت کے اس فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بنیادی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے جسے ہر گز قبول نہیں کیا جائے گا۔بلوچستان کے سرکاری اساتذہ ایسوسی ایشن کے صدر مجیب اللہ غرشین کا کہنا ہے کہ وہ اس حکومتی فیصلے کے خلاف احتجاج کیا جائے گا۔ادھر بلوچستان کے سیکریٹری تعلیم طیب لہری نے کہا ہے کہ حکومت صوبے میں تعلیم کے شعبے کو بہتر بنانے کے لیے اصلاحات کر رہی ہے، جبکہ حکومت تمام اساتذہ کی اسکول میں حاضری یقینی بنانے کے لیے پ±ر عزم ہے۔خیال رہے کہ بلوچستان میں تعلیم سے متعلق مسائل بہت زیادہ ہیں اور یہاں اکثر افراد تعلیم حاصل کرنے سے ہی محروم ہے۔گزشتہ دورِ حکومت میں وزیرِ اعلیٰ بلوچستان کے مشیر برائے تعلیم سردار محمد رضا بریچ نے تعلیم پر منعقدہ ایک فنکشن سے خطاب کرتے ہوئے اعتراف کیا تھا کہ بلوچستان کی نصف ا?بادی کو تعلیم کی سہولت میسر نہیں ہے۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ بلوچستان کے کچھ اضلاع ایسے ہیں جہاں صرف 10 فیصد افراد ہی پڑھ لکھ سکتے ہیں۔یاد رہے کہ رواں برس گزشتہ دورِ حکومت کے وزیرِ اعلیٰ میر عبدالقدوس بزنجو نے کہا تھا کہ صوبے میں تعلیم کی شرح بڑھانے پر خصوصی توجہ دینی ہوگی۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ صوبائی حکومت دستیاب تمام وسائل کو بروئے کار لا کر تعلیم کے فروغ کے لیے کوشاں ہے۔یہ بھی یاد رہے کہ رواں برس ستمبر میں اساتذہ کی قابلیت چانچنے کے لیے منعقدہ امتحان میں سرکاری اسکولوں کے زیادہ تر اساتذہ ریاضی کے مضمون میں فیل ہوگئے تھے۔اس امتحان کے بعد بلوچستان کے سیکریٹری ایجوکیشن نور الحق بلوچ نے کہا تھا کہ ‘میں اعتراف کرتاہوں کہ (بلوچستان میں) اساتذہ کی قابلیت بہت کم ہے’۔

ہواوے کی اعلیٰ افسر کی گرفتاری، چین کا امریکا سے شدید احتجاج

چین (ویب ڈیسک)چین نے کینیڈا میں ہواوے کی چیف فنانشل آفیسر ( سی ایف او ) مینگ وانڑو کی گرفتاری پر امریکی سفیر کو طلب کرکے شدید احتجاج کیا اور مینگ وانڑو کے وارنٹ گرفتاری واپس لینے کا مطالبہ کیا۔خبررساں ادارے ’ اے ایف پی ‘ کے مطابق مینگ وانڑو کو امریکا کے ساتھ دھوکا دہی اور ایران پر عائد پابندیوں کی خلاف ورزی کے الزامات کا سامنا ہے۔ اس وجہ سے امریکا اور چین کے درمیان تجارتی معاملات میں مزید کشیدگی پیدا ہوگئی ہے۔مینگ وانڑو ہواوے کے بانی کی بیٹی ہیں جو چائنا پیپلز لبریشن آرمی کے سابق انجینئر ہیں ، مینگ وانڑو اس وقت کینیڈا کی تحویل میں ہیں اور ان کی ضمانت کا فیصلہ آج (10 دسمبر کو) کیا جائے گا۔چین کے نائب وزیر خارجہ لی یوچنگ نے گزشتہ روز مینگ وانڑو کی گرفتاری پر امریکی سفیر ٹیری برانسٹاڈ کو طلب کیا تھا، خیال رہے کہ اس سے ایک روز قبل انہوں نے کینیڈا کے سفیرکو طلب کرکے بھی شدید احتجاج کیا تھا۔چین کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ’ لی یوچنگ نے امریکی سفیر سے ملاقات میں مینگ وانڑو کی گرفتاری کو امریکا کی جانب سے چینی شہریوں کے حقوق کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا‘۔بیان میں کہا گیا تھا کہ ’ چین اس اقدام کی سخت خلاف ورزی کرتا ہے اور امریکا سے اصرار کرتا ہے کہ وہ چین کی پوزیشن کا احترام کرے ‘۔چین کی جانب سے فوری طور پر مینگ وانڑو کے وارنٹ گرفتاری واپس لینے کا اصرار بھی کیا گیا ہے۔وزارت خارجہ کے بیان میں امریکی اقدامات کی روشنی میں بیجنگ کی جانب سے آئندہ غیر واضح رد عمل دینے سے متعلق خبردار کیا گیا تھا۔خیال رہے کہ مینگ وانڑو کو وانکوور میں یکم دسمبر کو گرفتار کیا گیا تھا اور اسی روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی ہم منصب شی جن پنگ نے تجارتی جنگ میں عارضی صلح کے تحت آئندہ 3 ماہ میں ایک معاہدے تک پہنچنے پر اتفاق کیا تھا۔چین اور امریکا نے ایک دوسرے پر 3 سو ارب ڈالر سے زائد کی پابندیاں عائد کی ہوئی ہیں جس وجہ سے وہ ایک ایسے تنازع کا شکار ہیں جو ان کے منافع کا خاتمہ کررہا ہے۔اس حوالے سے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مینگ وانڑو کی گرفتاری تجارتی مذاکرات میں ’بارگینگ چِپ’ (سودے بازی) کا کام کرے گی۔جمعہ کو ہونے والی سماعت میں کینیڈا کے سرکاری وکیل جان گب کارسلے نے درخواست ضمانت کو مسترد کیے جانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ مینگ وانڑو ’ مختلف مالیاتی اداروں میں بدعنوانیوں کا الزام عائد ہیں‘۔انہوں نے کہا تھا کہ اگر مینگ وانڑو پر لگائے گئے الزامات ثابت ہوگئے تو انہیں 30 سال قید کی سزا ہوسکتی ہے۔خیال رہے کہ اگر مقدمے کے حوالےسے اپیل دائر کردی جائے تو ملزم کی حوالگی میں مہینوں یا سال بھی لگ سکتے ہیں۔کینیڈا امریکا کے ساتھ طویل عرصے سے ملزم حوالے کرنا کا معاہدہ طے ہےجس کے تحت مشتبہ شخص کی تحویل دینے کے لیے کینیڈا کو امریکی شعبہ انصاف سے تعاون کرنا پڑتا ہے۔تاہم کینیڈا کی جانب سے امریکا کو ملزم کی تحویل دیے جانے کے لیے یہ ضروری ہے کہ جس معاملے پر ملزم کو دوسرے ملک کے حوالے کیا جارہا ہے اسے کینیڈا میں بھی جرم مانا جاتا ہو۔ملزم کا عمل کینیڈا میں جرم ہے یا نہیں یہ فیصلہ کینیڈا کی عدالت کرتی ہے اگر جرم کی حمایت اور تحویل میں دیے جانےکے لیے ثبوت موجود ہوں۔

پاکستانی ہائی کمیشن کا قومی ہاکی ٹیم کے اعزاز میں پر وقار ظہرانے کا اہتمام

بھوبینیشور(ویب ڈیسک)بھارت میں موجود پاکستانی ہائی کمیشن کی طرف سے قومی ہاکی ٹیم کے اعزاز میں پر وقار ظہرانے کا اہتمام کیا گیا۔ بھوبینیشور کے مقامی فائیو اسٹار ہوٹل میں ہونے والی اس تقریب میں پاکستان ہاکی ٹیم کے کپتان سمیت تمام کھلاڑیوں اور آفیشلز توقیر ڈار، حسن سردار، اصلاح الدین صدیقی ودیگرز نے شرکت کی، اس موقع پر بھارت میں متعین پاکستانی ہائی کمشنر کا کہنا تھا کہ کوئی بھی بڑا چیمپئن ہو، پرواہ نہیں، آپ چیمپئنز کے چیمپئن ہیں، آپ سب پلیئرز کی خوش قسمتی ہے کہ آپ حسن سردار اور توقیر ڈار جیسے ماضی کے عظیم کھلاڑیوں کی نگرانی میں ٹریننگ کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بلاشبہ عالمی کپ میں ملک کی نمائندگی کرنا اعزاز کی بات ہے، لیکن صرف شرکت کرنا ہی کافی نہیں ہوتا بلکہ اصل منزل ہدف کا حصول ہے، کوچز مجھ سے زیادہ بہتر جانتے ہیں کہ آپ کے کھیل میں کیا خامیاں اور کیا خوبیاں ہیں تاہم میرے رائے میں آپ سب کو مزید محنت کرنے کی ضرورت ہے، اب آپ ورلڈ کپ میں جس مقام پر ہیں، وہاں کھونے کی کوئی گنجائش نہیں، پرامید ہوں کہ آپ لوگ پاکستان کا کھویا ہوا وقار واپس دلانے میں کامیاب رہیں گے۔

سپریم کورٹ میں میرے بعد آنے والے مجھ سے بہتر ہیں، چیف جسٹس

اسلام آباد (ویب ڈیسک)چیف جسٹس میاں ثاقب نثارکا کہنا ہے کہ میں رہوں نہ رہوں سپریم کورٹ کا یہ ادارہ برقرار رہے گا اور میرے بعد آنے والے مجھ سے زیادہ بہتر ہیں۔کوئٹہ میں بلوچستان بار میں اپنے خطاب میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ ڈیم کی تعمیرآنے والی نسلوں کے لئے بہترین تحفہ ہوگا، اداروں کے حوالے سے کسی کا رہنا یا نہ رہنا معنی نہیں رکھتا، میں رہوں نہ رہوں سپریم کورٹ کا یہ ادارہ برقرار رہے گا اور میرے بعد آنے والے مجھ سے زیادہ بہتر ہیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ ڈیم مہم کے حوالے سے بہت محبت ملی ہے، ڈیم ہماری بقا اورآنے والی نسلوں کے لیے ناگزیرہوچکا ہے، خدا کا واسطہ اس ملک سے محبت کریں، ایک سال اس ملک کو دیں اور پھر دیکھیں کیا ہوتا ہے۔چیف جسٹس نے مزید کہا کہ کیا لوگوں کونہیں معلوم تھا کہ بلوچستان میں پانی کی کس حد تک سطح گررہی ہے، اس کے لیے کیا اقدامات اٹھائے گئے، ان لوگوں کا کسی نے احتساب نہیں کرنا ہے، اب وقت ہے کہ ملک کو لوٹایا جائے، قوم کو آگے آنا چاہیے، اسلام آباد ہائی کورٹ میں بلوچستان کی نمائندگی ناگزیر ہے، ہم نے ہائیکورٹ میں ججوں کی تعداد تین ماہ پہلے بڑھا دی تھی۔

پولیس ٹیم شہباز شریف کو لاہور سے لے کر اسلام آباد پہنچ گئی

 اسلام آباد(ویب ڈیسک)پولیس ٹیم اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کو کوٹ لکھپت جیل سے لے کر اسلام آباد پہنچ گئی جہاں وہ قومی اسمبلی اجلاس میں شرکت کریں گے۔لاہور کی نیب عدالت نے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف کا ایک روزہ راہداری ریمانڈر منظور کیا تھا جس کے بعد پولیس ٹیم انہیں بذریعہ موٹروے اسلام آباد لے کر پہنچی۔اسپیکر اسد قیصر نے شہباز شریف کے پروڈکشن آرڈر جاری کیے تھے اور وہ آج شروع ہونے والے قومی اسمبلی اجلاس میں شرکت کریں گے۔ اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی کے موجودہ سیشن کے دوران منسٹر انکلیو میں اپنی رہائش گاہ پر رہیں گے جسے سب جیل کا درجہ دیا گیا ہے۔یاد رہے کہ لاہور کی نیب عدالت نے جیل سپرنٹنڈنٹ کی درخواست منظور کرتے ہوئے شہباز شریف کا ایک دن کا راہداری ریمانڈ منظور کیا تھا۔مسلم لیگ (ن) کے صدر اور اپوزیشن لیڈر شہباز شریف آشیانہ اقبال ہاو¿سنگ اسکینڈل میں نیب کے زیر تفتیش ہیں اور عدالت نے ان کا مزید جسمانی ریمانڈ دینے کی نیب کی درخواست مسترد کرتے ہوئے جوڈیشل ریمارنڈ پر کوٹ لکھپت جیل بھیج رکھا ہے۔

2018کی ہائی پروفائل شادی آفر کس کی ہوئی ھیلری اور بیونسے بھی شریک

ا مکیش (ویب ڈیسک)ب پتی تاجر مکیش امبانی کی صاحبزادی ایشا امبانی کی شادی کو بھارت کی مہنگی ترین شادی قرار دیا جارہا ہے، جہاں مہمانوں کے لیے 100 چارٹرڈ طیاروں اور سیکڑوں لگژری گاڑیوں کے ساتھ ساتھ فائیو اسٹار ہوٹلز میں قیام کا انتظام کیا گیا ہے۔ایشا امبانی ایک اور ارب تی تاجر کے بیٹے آنند پیرامل کے ساتھ 12 دسمبر کو رشتہ ازدواج میں منسلک ہوں گی، لیکن بھارتی شہر ادھے پور میں شادی سے پہلے کی تقریبات جاری ہیں، جہاں بالی وڈ اسٹارز نے بڑی تعداد میں شرکت کی اور تقریب کو چار چاند لگا دیئے۔سنگیت کی تقریب کا آغاز ایشا امبانی کی والدہ انیتا امبانی نے اپنی پرفارمنس سے کیا۔

دنیا کا سرد ترین مقام جہاں زندگی 20 سیکنڈ میں جم جاتی ہے

لاہور (ویب ڈیسک )دنیا کے سرد ترین گاﺅں میں خوش آمدید، جہاں جنوری میں اوسط درجہ حرارت منفی 50 ڈگری سینٹی گریڈ ہوتا ہے اور آنکھوں کی پلکوں میں چار دیواری سے باہر نکلتے ہی برف جم جاتی ہے۔یہاں گھروں پر پائپ نہیں لگائے جاتے کیونکہ پانی جمنے سے ان کے پھٹنے کا ڈر ہوتا ہے، گاڑیاں ہمیشہ چلتی رہتی ہیں تاکہ پیٹرول جم نہ جائے۔یہ ہے روس کی ریاست سائبریا میں واقع اویمیاکون، جہاں رواں سال کے آغاز میں درجہ حرارت سے آگاہ کرنے والا الیکٹرونک تھرمامیٹر منفی 62 ڈگری سینٹی گریڈ پر پھٹ گیا۔یہ اوسط درجہ حرارت بھی عام طور پر منفی 40 کے ارگرد رہتا ہے، اتنی سردی کو سوچتے ہوئے یہاں انسانی بستی کا خیال ناقابل یقین لگتا ہے مگر وہاں اب بھی لوگ بستے ہیں۔ماسکو سے 7 ہزار کلومیٹر دور واقع دنیا کا سرد ترین مقام سمجھے جانے والے اس گاﺅں میں 500 لوگ مقیم ہیں۔انتہائی شدید سرد درجہ حرارت کے باوجود یہاں کی زندگی کبھی تھمتی نہیں اور بچے اس وقت تک اسکول جاتے رہتے ہیں جب تک درجہ حرارت منفی 52 سینٹی گریڈ تک نہیں پہنچ جاتا۔یہاں کے رہنے والوں کے پاس مویشی اور ماہی گیری آمدنی کے بڑے ذرائع ہیں۔فارمز میں گائے تو موجود ہیں مگر وہ جون سے اکتوبر تک ہی دودھ دیتی ہیں جبکہ رینڈئیر (قطبی ہرن) ہی واحد جاندار ہے جو یہاں پالے جاتے ہیں۔جہاں تک مچھلیوں کی بات ہے تو وہ پانی سے باہر نکلتے ہی 20 سیکنڈ میں مجنمند ہوجاتی ہیں۔یہاں پر گھر ایسے تعمیر کیے گئے ہیں جو سردی کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں کیونکہ لوگوں کا زیادہ وقت گھر کے اندر ہی گزرتا ہے۔یہاں کے شدید سرد موسم کی وجہ سمندر سے بہت زیادہ دوری ہے جبکہ یہاں سورج کی روشنی سے لطف اندوز ہونے کا موقع لوگوں کو سال کے بیشتر حصوں میں محض چند گھنٹے کے لیے ہی ملتا ہے۔تاہم گرمیوں میں کبھی کبھار درجہ حرارت 30 سینٹی گریڈ تک بھی پہنچ جاتا ہے۔مگر سب سے دلچسپ چیز اس گاﺅں کا نام ہے جہاں سردی سے سب کچھ جم جاتا ہے مگر اویمیاکون کا مطلب ہے ایسا پانی جو کبھی جمتا نہیں۔

ہر سال دنیا میں آخر کتنی رقم کرپشن کی نذر ہوتی ہے، جدید حساب سامنے آ گیا

واشنگٹن (ویب ڈیسک ) اقوامِ متحدہ نے کہا ہے کہ دنیا بھر میں 26 کھرب ڈالر سالانہ کرپشن کی نذر ہوجاتے ہیں جبکہ 10 کھرب ڈالر رشوت کی کل میں ضائع جاتے ہیں۔انسداد بدعنوانی کے عالمی دن پر اپنے پیغام میں اقوامِ متحدہ کے ڈیولپمنٹ پروگرام (یو این ڈی پی) نے بتایا کہ عالمی جی ڈٰ پی کا 5 فیصد سالانہ کرپشن کی نذر ہوتا ہے۔یو این ڈی پی کا کہنا ہے کہ ترقی پذیر ممالک میں امداد سے 10 گنا زیادہ رقم کرپشن کا شکار ہوجاتی ہے۔اقوام متحدہ نے ممبر ممالک پر زور دیا کہ وہ کرپشن سے لڑنے کے لیے اقدامات کو مزید مستحکم کریں، کیونکہ یہ ایک سنگین جرم ہے جس سے معاشرے کی سماجی اور اقتصادی ترقی پر ضرب لگتی ہے۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس وقت دنیا میں کوئی ملک، قوم یا خطہ کرپشن سے بچا ہوا نہیں ہے۔ادھر ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل (ٹی آئی) نے بھی عالمی تنظیم کے اس پیغام کی توثیق کرتے ہوئے خبردار کیا کہ کرپشن کی وجہ سے معاشرے کا غریب طبقہ سب سے زیادہ متاثر ہوتا ہے۔جب کرپشن ہوتی ہے تو اس کی وجہ سے انفرا اسٹرکچر، صحت اور تعلیم سمیت دیگر سہولیات کے لیے متعین فنڈز میں کمی آتی ہے جس کا براہِ راست اثر غریبوں پڑتا ہے۔ایک اور سروے کے مطابق دنیا کے زیادہ تر لوگ اپنی حکومت کے بارے میں سوچتے ہیں کہ وہ کرپشن کے خلاف احسن انداز میں نہیں لڑ رہی، جبکہ صرف 30 فیصد افراد کا کہنا ہے کہ ان کی حکومت اچھا کر رہی ہے۔ان لوگوں میں سب زیادہ تعداد لاطینی امریکا اور وسطی امریکا سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی ہے جو مانتے ہیں کہ ایک عام شخص اس معاملے میں واضح فرق لاسکتا ہے۔سروے کے مطابق اچھی بات یہ ہے کہ دنیا کے نوجوانوں کی آدھی سے زیادہ تعداد یہ مانتی ہے کہ وہ خود کرپشن کے خلاف کام کرکے اس میں کمی لاسکتے ہیں۔تاہم ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل نے دنیا کی تمام حکومتوں کو خبردار کیا کہ حکومتیں لوگوں کو مشغول کرنے میں مشکلات لارہی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں صحافیوں اور انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والوں پر حکومت کی جانب سے دباو¿ بڑھایا جارہا ہے جبکہ کئی ممالک میں صحافیوں پر حملے بھی کیے جارہے ہیں۔ادارے کے مطابق ایسے کریک ڈاو¿ن سے کرپٹ عناصر اور منظم مجرموں کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔

ڈریپ کی حکومت کو دھمکی ، جان بچانے والی ادویات بند کر دی

کراچی(ویب ڈیسک )مقامی مینوفکچررز نے پیداواری اخراجات ریٹیل قیمت سے زائد ہونے کے بعد ملٹی ڈرگ ریزسٹینٹ (ایم ڈی آر) تپ دق (ٹی بی)، مختلف اعصابی امراض، کینسر اور جلد کی بیماریوں کی مختلف اقسام کے علاج کے لیے جان بچانے والی ادویات کی پیدوار روک دی۔مینوفکچررز نے حکومت کو خبردار کیا ہے کہ اگر ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) نے ان کی سفارشات کے مطابق قیمتیں نہیں بڑھائیں تو جان بچانے والی ادویات سمیت مختلف دوائیوں کا بدترین بحران پیدا ہوجائے گا۔ادویات کمپنی نے کہا کہ روپے کی قدر میں 40 فیصد کمی اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے بعد کمپنیاں موجودہ نرخ پر ادویات کی پیداوار جاری نہیں رکھ سکتیں۔پاکستان فارماسیوٹیکل مینوفکچررز ایسوسی ایشن (پی پی ایم اے) کے چیئرمین زاہد سعید کے مطابق 800 لائسنس ہولڈرز کے مقابلے میں صرف 500 کمپنیاں اصل میں ادویات کی پیداوار کر رہی ہیں۔ایک پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ ناقابل برداشت پیداواری لاگت کے باعث ادویات ساز آہستہ آہستہ اپنی صنعتیں بند کر رہے ہیں۔پی پی ایم اے چیئرمین نے ایسوسی ایشن کی جدوجہد، روپے کی قدر میں کمی کے بعد ادویات کی قیمتوں میں استحکام کے لیے اٹھائے گئے اقدامات اور سپریم کورٹ میں سماعت سے متعلق تفصیل سے آگاہ کیا۔انہوں نے کہا کہ مہینوں کی سماعت کے بعد 14 نومبر کو عدالت عظمیٰ نے ڈریپ اور حکومت کو ہدایت کی تھی کہ 15 روز میں نئی قیمتوں کا تعین کریں، تاہم ’اس حوالے سے حکومت کی جانب سے کوئی اقدام نہیں کیا گیا‘۔ان کا کہنا تھا کہ اسی طرح سپریم کورٹ کی جانب سے ڈریپ کے پالیسی بورڈ کو ہدایت کی گئی تھی کہ 15 دن میں روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قدر میں اضافے کے بعد جان بچانے والی ادویات کی قیمتوں کا جائزہ لیا جائے لیکن بدقسمتی سے ڈریپ اور حکومت کی جانب سے کوئی اقدام نہیں اٹھایا گیا‘۔زاہد سعید کا کہنا تھا کہ ادویات کی پیداوار کےلیے 90 فیصد خام مال سمیت پیکیجنگ کا سامان درآمد کیا جاتا ہے اور روپے کی قدر میں کمی کے بعد ادویات سازوں کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ موجودہ ریٹیل قیمت پر ادویات کی پیداوار کریں۔پی پی ایم اے چیئرمین نے کہا کہ صنعتیں بند ہونے سے مہنگی ادویات درا?مد کرنا پڑیں گی۔انہوں نے ڈریپ اور وفاقی حکومت پر زور دیا کہ وہ ادویات کی قیمتوں کا فوری طور پر جائزہ لیں اور نئی قیمتوں سے متعلق سپریم کورٹ کو ا?گاہ کریں، بصورت دیگر سپریم کورٹ کی دی گئی فہرست اور ڈریپ کے فارمولے کو دیکھتے ہوئے مینوفکچررز خود سے ادویات کی قیمتیں بڑھانے پر مجبور ہوں گے۔انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ’سپریم کورٹ کی ہدایت پر عمل نہ کرنے پر ہم ڈریپ کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دینے کا سوچ رہے ہیں، اس صورت میں ہم ڈرگ ریگولیٹر کے خلاف قانونی کے تحت کارروائی کریں گے‘۔

خواجہ حارث نے العزیزیہ ریفرنس میں بیٹوں سے متعلق اہم بات کر دی

اسلام آباد (ویب ڈیسک ) العزیزیہ ریفرنس میں خواجہ حارث نے حتمی دلائل میں کہا ہے کہ نواز شریف کے خلاف ان کے بیٹوں کا کوئی بیان استعمال نہیں ہوسکتا۔احتساب عدالت اسلام آباد میں العزیزیہ ریفرنس کی سماعت ہوئی تو سابق وزیراعظم نواز شریف پیش ہوئے۔ ان کے وکیل خواجہ حارث نے پانچویں روز بھی حتمی دلائل جاری رکھتے ہوئے کہا کہ واجد ضیاءکے مطابق حسین نواز وضاحت دینے میں ناکام رہے، اس لئے نواز شریف جوابدہ ہیں، تاہم واجد ضیاءکا اخذ کیا گیا نتیجہ قابل قبول شہادت نہیں، جے آئی ٹی نے صرف طارق شفیع ،حسن نواز اور حسین نواز کے بیانات پر انحصار کیا، لیکن جے آئی ٹی کے سامنے دیئے گئے بیان یہاں ہمارے خلاف استعمال نہیں کئے جا سکتے۔خواجہ حارث نے کہا کہ حسن اور حسین نواز اس عدالت کے سامنے پیش ہی نہیں ہوئے، یہ نواز شریف کا ٹرائل ہو رہا ہے، ان کے بیٹوں کا نہیں، لہذا حسن اور حسین نواز کا کوئی بیان یا دستاویز نواز شریف کیخلاف استعمال نہیں ہو سکتا، میرا کیس یہ ہے کہ احتساب عدالت جے آئی ٹی رپورٹ کی بنیاد پراپنا فیصلہ نہیں دے سکتی۔خواجہ حارث نے کہا کہ حسن، حسین ،مریم اور طارق شفیع کی دستاویزات کو نواز شریف کے خلاف استعمال نہیں کیا جاسکتا، یہ تمام لوگ عدالت کے سامنے نہیں ہیں اور وضاحت نہیں کرسکتے کہ انہوں نے ایسے بیان کیوں دیے۔