All posts by Asif Azam

https://www.facebook.com/asif.azam.33821

لارنس روڈ، گڑھی شاہو ، مزنگ ، دیگرعلاقوں میں بارش ، سردی میں اضافہ

لاہور ، اسلام آباد (ویب ڈیسک ) لارنس روڈ، گڑھی شاہو ، مزنگ سمیت دیگرعلاقوں میں بارشوں سے سردی میں ایک بار پھر اضافہ ہو گیا ہے۔ محکمہ موسمیات نے آج بھی اسلام آباد، کشمیر، گلگت بلتستان میں کہیں کہیں بارش اور پہاڑوں پر برفباری کا امکان ظاہر کیا ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق شمالی علاقوں میں برف باری اور بالائی علاقوں میں بارش کا نیا سلسلہ آئندہ جمعہ تک جاری رہے گا۔وفاقی دارالحکومت میں گزشتہ شب سے بونداباندی کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہے اور سرد ہواﺅں کے سبب ٹھنڈ میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔آج صبح اسلام آباد میں گھنے سیاہ بادل چھائے رہے اور درجہ حرارت بھی 12 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔لاہور میں بھی بادلوں نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں اور گزشتہ شب چند علاقوں میں بارش بھی ہوئی ہے جس سے سردی کی شدت میں اضافہ ہوگیا ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق آج کم سے کم درجہ حرارت 9 ڈگری سینٹی گریڈ رہنے کا امکان اور ہوا میں نمی کا تناسب بھی 85 فیصد رہے گا۔مری اور بالائی علاقوں میں برف باری ایک بار پھر شروع ہو گئی ہے۔ محکمہ موسمیات نے اٹک، ایبٹ آباد اور نتھیا گلی میں مزید بارش کی پیش گوئی کی ہے۔پنجاب کے ضلع وہاڑی میں بھی وقفے وقفے سے بونداباندی کے ساتھ سرد ہواﺅں کا سلسلہ جاری ہے جس سے سردی کی شدت میں اضافہ ہوگیا ہے۔کراچی کے مختلف علاقوں میں بھی گزشتہ شب بوندا باندی ہوئی ہے جس سے موسم سرد ہو گیا ہے۔ نارھ ناظم آباد، ناظم آباد، بورڈ آفس، گولیمار، لیاقت آباد، گلشن اقبال، طارق روڈ، ملیر اور ملحقہ علاقوں میں گزشتہ شب بارش ہوئی۔محکمہ موسمیات کے مطابق شہرمیں آج بھی موسم سرد اور ابر آلود رہے گا، چند علاقوں میں بونداباندی کا بھی امکان ہے۔ کراچی کا درجہ حرارت زیادہ سے زیادہ 27 سے 29 ڈگری سینٹی گریڈ تک رہنے کا امکان ہے،گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک کا موسم سرد اور خشک رہا۔ سب سے زیادہ سردی کالام میں پڑی جہاں درجہ حرارت منفی 9 ریکارڈ کیا گیا۔

مہر النساءچوٹ دنیا سے چھپائے ، تکلیف کاٹنے کے بعد پھر ڈرامہ انڈسٹری کا رخ کرنے کو تیار

لاہور( صدف نعیم ) ستانی ڈرامہ انڈسٹری کی معروف چائلڈ سٹار اور اداکارہ مہرالنساءگزشتہ سال اپنے فنی کرئیر میں خدمات سرانجام دیتے ہوئے شوٹنگ کےدوران گر گئیں جس کے باعث انہیں کمر کی شدیدتکلیف کا سامنا رہا۔اداکارہ مہر النساءاپنی چوٹ دنیا سے چھپائے خاموشی سے اس تکلیف کو کاٹنے کے بعد ایک بار پھر ڈرامہ انڈسٹری کا رخ کرنے کو تیار ہیں۔اس دوران ان کی والدہ بھی قضائے الہی سے وفات پاگئیں۔ ڈھیروں مسائل اور مشکلات چاک کرتے ہو ئے وہ خواہش مند ہیں کہ وہ دوبارہ فنی دنیا میں قدم رکھیں اور اپنی فنی خدمات کے ذریعے پاکستان کا نام روشن کرسکیں۔ ماضی میں انہوں نے ڈرامہ انڈسٹری میں خوب نام کمایا۔ پی ٹی وی کا شاندار ڈرامہ ”ست بھرائی”نے انہیں شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا۔ اس ڈرامے کے باعث اداکارہ مہر النساء قومی اور بین الاقوامی بہت سے ایوارڈ اپنے نام کر چکی ہیں۔اس کے علاوہ انہوں نے اسٹیج پر بھی خوب صور ت پرفارمنسز پیش کی۔مزاح کی دنیا میں آئیں تو مزاحیہ انداز میں بھی خود کو ڈھالتے ہوئے خوب نام کمایا۔

خفیہ شادی کا انکشاف

لاہور( صدف نعیم ) ماڈل و اداکارہ آمنہ بابر نے شادی کرکے اپنی زندگی کے نئے سفر کا آغاز کردیا۔آمنہ بابر نے زاہد نون سے شادی کی ہے، ان دونوں کی تصاویر سوشل میڈیا پر بھی وائرل ہورہی ہیں، جبکہ ان کی جوڑی کو بھی خوب پسند کیا جارہا ہے۔ماڈل نے اپنے انسٹاگرام اکاو¿نٹ پر خود اس خوشی کی خبر کا اعلان کیا۔اداکارہ نے تصاویر شیئر کرنے کے ساتھ اپنی شادی شدہ ہونے کی خبر بتائی۔ آمنہ بابر نے اپنے نکاح کی تقریب میں نہایت سادہ لباس کا انتخاب کیا، جبکہ خوبصورت جیولری پہنی۔جوڑے نے اپنی شادی کی تقریب کو خفیہ رکھتے ہوئے انڈسٹری سے تعلق رکھنے والی شخصیات کو مدعو نہیں کیا۔یہ امر قابل ذکرہے کہ آمنہ بابر کا شوہر ان سے عمر میں کئی سال بڑا ہے۔

مانچسٹر یونائیٹڈ: کیا محمد بن سلمان ’دنیا کا سب سے قیمتی فٹبال کلب‘ خریدنے لگے ہیں؟جا ن کرآپ بھی دنگ رہ جا ئینگے

لندن (ویب ڈیسک)آج کل پاکستانی ٹوئٹر پر ٹاپ ٹرینڈز میں سے زیادہ تر سعودی عرب سے متعلق ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا دو روزہ دورہِ پاکستان ہے۔ولی عہد کا نام دنیا بھر میں بھی ٹریند کر رہا ہے، مگر اس کی وجہ کچھ اور ہے۔اتوار کے روز ٹوئٹر پر پھیلتی ہوئی خبروں کے مطابق محمد بن سلمان نے نامور برطانوی فٹبال ٹیم مانچسٹر یونائیٹڈ خریدنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔برطانوی اخبار دی سن کی رپورٹ کے مطابق محمد بن سلمان، جنھیں ایم بی ایس بھی کہا جاتا ہے، 3.8 ارب پاو¿نڈز کی قیمت پر اس کلب کو خریدنا چاہ رہے ہیں۔بیس دفعہ انگلش پرمیر لیگ جیتنے والی یونائیٹڈ کے مالکان امریکی گلیزر خاندان ہیں جنھوں نے 2005 میں 79 کروڑ پاو¿نڈز کے عوض اس کلب کو خریدا تھامانچسٹر یونائیٹڈ کے ایک مداح براین نے اپنی ٹویٹ میں کہا کہ ’اگر یونائیٹڈ نے ٹیم سعودی شہزادے کو بیچی تو میں مداحوں کا حصہ نہیں بنوں گا۔ میں کھلاڑیوں سے بھی درخواست کروں گا کہ وہ نہ آئیں کیونکہ وہ ایک ایسی حکومت کی حمایت کریں گے جو کہ اپنی مرضی سے لوگوں کو قتل کرتی ہے۔‘دوسری جانب ولی عہد کے ایک حامی نے اپنے ٹوئٹر پر لکھا کہ ’جو لوگ کہ رہے ہیں کہ ایم بی ایس نے مانچسٹر یونائیٹڈ خرید کر خواتین کی ٹیم بند کر دینی ہے، وہ بیوقوف ہیں۔ ایم بی ایس نے کامیاب اصلاحات کے ذریعے خواتین ڈرائیورز پر پابندی ختم کی ہے۔ تو وہ خواتین کی ٹیم پر پابندی کیوں لگائیں گے؟ ٹویٹ کرنے سے پہلے اپنی تحقیق پوری کریں۔‘ایم بی ایس سے متعلق یہ افواہیں گذشتہ سال اکتوبر سے گردش کر رہی تھیں، مگر صحافی جمال خاشقجی کے استنبول کے سعودی سفارت خانے میں قتل کے بعد ولی عہد پر ہونے والی تنقید کے بعد یہ خبریں دم توڑ گئیں۔شاید اسی وجہ سے ٹوئٹر پر ہونے والی بحث میں مانچسٹر یونائیٹڈ کے شائقین زیادہ خوش نہ نظر آئے۔ٹیم کے ایک اور مداح ہوان نے ٹویٹ کی کہ ’اگر سعودیوں نے مانچسٹر یونائیٹڈ خرید لی تو میں کبھی کسی میچ کی دوبارہ ٹکٹ نہیں خریدوں گا۔ کچھ چیزیں فٹبال سے زیادہ ضروری ہوتی ہیں۔‘دی سن کے مطابق مانچسٹر یونائیٹڈ میں ذرائع نے ان افواہوں کو ہمیشہ رد کیا ہے، لیکن ان کا کہنا ہے کہ شاید 3.8 عرب پاو¿نڈز کی آفر سے ان کا فیصلہ بدل جائے۔ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ محمد بن سلمان کی مانچسٹر یونائیٹڈ میں دلچسپی اس لیے ہے کیونکہ ان کی مخالف ٹیم مانچسٹر سٹی کے مالک ابوظہبی کے منصور بن زائد ال نہیان کا مقابلہ کر سکیں۔مانچسٹر یونائیٹڈ نے 20 دفعہ انگلش پریمیئر لیگ جیتنے کا ریکارڈ بنایا ہے تاہم سعودی عرب کے وزیر اطلاعات نے پیر کے روز اپنی ٹویٹ میں ان افواہوں کو مسترد کر دیا ہے۔

فالج سے بچاﺅ کیوں کر؟

لاہور (ویب ڈیسک ) تین برس کے بعد ہم تین سہیلیوں نے بالآخر ایک جگہ مل بیٹھنے کا پروگرام بنایا۔فاطمہ بھی ہمارے گروپ میں شامل تھی۔ جب وہ ہماری میز کی طرف آرہی تھی تو میں نے اسے خفیف سا لنگڑا تے ہوئے دیکھا۔
میں نے اس سے پوچھا:”کیا تم گرگئی تھیں یا تمھیں چوٹ لگ گئی،جویوں لنگڑا کر چل رہی ہو؟“
وہ دھیرے سے مسکرائی اور کہا:”نہیں ،ایسی کوئی بات نہیں ہے۔
گزشتہ برس مجھے فالج ہو گیا تھا۔“
ہمیں بہت صدمہ ہوا ،اس لیے کہ فالج کے مریضوں کے بارے میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ وہ عام افراد کی طرح زندگی نہیں گزار پاتے ،لیکن فاطمہ سوائے معمولی سالنگڑا نے کے عام افراد جیسی تھی۔وہ ہشاش بشاش اور توانا تھی۔
ڈاکٹر جاوید اقبال کہتے ہیں کہ فالج ہونے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ زندگی کا خاتمہ ہو گیا اور مریض اب حرکت نہیں کر سکتا۔

اگر اس مرض کا ابتدائی مرحلے میں توجہ سے علاج کیا جائے تو مریض شفایاب ہو جاتا ہے اور عام افراد جیسی زندگی گزارنے لگتا ہے۔فالج دماغ پر حملہ کرتا ہے ،جس میں دماغ کواوکسیجن کی فراہمی بند ہو جاتی ہے۔چناں چہ دماغ کے خلیے(سیلز) مردہ ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔دماغ جسم کے سارے اعضا کی حرکات وسکنات کو قابو میں رکھتا ہے۔
دماغ کے کچھ حصوں کے خلیوں کے مردہ ہونے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ بہت سے اعضا کی حرکات وسکنات مفلوج ہونا شروع ہو گئی ہے۔
جب فالج کا ہلکا حملہ ہوتا ہے تو ہاتھ پیروں میں کم زوری آجاتی ہے اور قوت گویائی پر اثر پڑتا ہے اور زبان لڑکھڑا نے لگتی ہے۔یہ حالت غیر مستقل یا مستقل ہو سکتی ہے۔
ڈاکٹر جاوید اقبال کے مطابق کچھ مریض خوش قسمتی سے اپنی مضبوط قوت ارادی ،اہل خانہ کی توجہ اور بروقت علاج سے مستقل طور پر اس مرض سے نجات حاصل کر لیتے ہیں ،البتہ دو تہائی افراد مفلوج ہو جاتے ہیں۔

فالج کی دو اقسام ہیں :پہلی کو کمیِ خون والا فالج (ISCHEMIC STROKE)کہتے ہیں ،جس میں خون کی شریا نیں سخت اور تنگ ہو جاتی ہیں ،اس بنا پر جسم کے سارے حصوں ،خاص طور پر دماغ تک خون کی فراہمی بند ہونے لگتی ہے۔دوسری قسم کی جریانِ خون والافالج (HEMORRHAGIC STROKE)کہتے ہیں ،جس میں دماغ کی رگیں پھٹ جاتی ہیں اور خون بہنے لگتا ہے۔اس سے جسم میں ورم اور سوجن ہوجاتی ہے ،پھر مزید خلیوں کو نقصان پہنچتا ہے۔

جریانِ خون کی دو اقسام ہیں :پہلی میں دماغ کے اندر کی شریانیں پھٹ جاتی ہیں ،جب کہ دوسری میں وہ بافتیں (TISSUES) پھٹ جاتی ہیں ،جو دماغ میں پھیلی ہوتی ہیں۔اگر اس کا دورانیہ ایک گھنٹے سے کم ہوتو پھر اسے چھوٹے حملے والا فالج کہنا چاہیے ،اس سے مریض فوراً ہلاک نہیں ہوتا ،البتہ اس کی جان خطرے میں پڑجاتی ہے۔
ہائی بلڈ پریشر ،کو لیسٹرول کی زیادتی ،غیر صحت مندانہ طرز زندگی ، ناقص غذا،ذیابیطس،مٹاپا،غیر متحرک رہنا ،عمر رسیدگی ، تمبا کو نوشی ،منشیات کے استعمال اور کام کی زیادتی کے باعث جسم کی شریانیں سخت ہو جاتی ہیں۔
اس کے علاوہ دماغ میں شریانوں اور وریدوں کے مابین غیر طبعی (ABNORMAL) اتصال سے بھی فالج ہو جاتا ہے یا خون کی شریانیں س±وج جاتی ہیں۔
فالج کا حملہ اچانک ہوتا ہے ،تاہم اس کا اثر ہر فردپر مختلف ہوتا ہے۔یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ جسم کے کس حصے پر فالج گرا ہے اور اس کی وجہ سے کس حد تک نقصان پہنچ چکا ہے۔جسم کا دایاں اور بایاں حصہ کیا محسوس کررہا ہے۔
بولنے اور بات سمجھنے میں کتنی دشواری ہورہی ہے۔اس کے علاوہ اگر مریض پر غنودگی طاری ہورہی ہے۔سردرد کی شکایت ہے ،قے اور متلی ہورہی ہے ،بینائی متاثر ہونی شروع ہو گئی ہے ،جسم کا کوئی حصہ بے جان ہورہا ہے ،خیالات منتشر ہورہے ہوں ،بات کرنے میں دقّت پیش آرہی ہو ،دل کی دھڑکن بے ترتیب ہو چکی ہو ،سانس لینے میں دقّت ہورہی ہو چہرے کے عضلات میں کھچاو¿ پیدا ہورہا ہو یا زبان متاثر ہورہی ہو تو سمجھ لینا چاہیے کہ فالج کا حملہ ہو چکا ہے۔

وہ معالج جو فالج کا حملہ ہونے کے بعد مریض کا معائنہ کرتا ہے ،وہ سب سے پہلے مریض کی ظاہری حالت دیکھتا ہے ،مریض کے خاندانی حالات کا مطالعہ اور بلڈ پریشر کا معائنہ کرتا ہے۔اس کے بعد مریض کا سی ٹی اسکین اور ایم آئی آر کروایا جاتا ہے ،تا کہ اندازہ ہو سکے کہ مریض کس حد تک متاثر ہوا ہے۔پھر وہ فالج کی قسم کا تعین کرتا ہے۔
اس کے بعد وہ ابتدائی علامات کی چھا ن بین کرنے کے بعد علاج شروع کرتا ہے۔

’ولی عہد محمد بن سلمان کا سعودی عرب میں قید 2107 پاکستانیوں کی فوری رہائی کا حکم

اسلام آباد(ویب ڈیسک): سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے سعودی عرب میں قید 2 ہزار سے زائد پاکستانیوں کی فوری رہائی کا حکم جاری کردیا۔وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر سعودی ولی عہد کے احکامات سے آگاہ کیا۔فواد چوہدری نے اپنی ٹوئٹ میں بتایا کہ شہزادہ محمد بن سلمان نے سعودی عرب میں قید 2107 پاکستانیوں کی فوری رہائی کا حکم دیا ہے۔

انسانی جسم کے حوالے سے چند مکمل طور پہ غلط حقائق

لاہور (ویب ڈیسک ) انسانی جسم کے حوالے سے چند مکمل طور پہ غلط حقائق ہم بچپن سے یہ سنتے آئے ہیں کہ معمول کی خوراک میں سبزیاں کھانے، روزانہ آٹھ گھنٹے سونے اور ورزش کرنے سے ہم تندرست و توانا رہیں گے۔ تندرست زندگی گزارنے کے حوالے سے ہم ایسے کئی اور پیمانوں کے بارے میں بھی سنتے ہیں جن پہ عام طور پہ ہم زیادہ دھیان نہیں دیتے۔ پھر اس کے ساتھ ایسی بہت سی دادی اماو¿ں کی پرانی کہاوتیں بھی ہمارے کانوں میں گردش کرتی ہیں جو نسل در نسل سفر طے کرنے کے بعد ہم تک پہنچیں، جن میں حقیقت اور افسانے کے مابین فرق کو مکمل طور پہ بھلا دیا جاتا ہے۔
اس مضمون میں آپ انسانی جسم سے متعلق ایسے چند حقائق کے بارے میں جانیں گے، جن کا حقیقت سے کوسوں کوئی تعلق نہیں ہے۔ -1ہم دماغ کا صرف دس فیصد حصہ استعمال کرتے ہیں: انسانی دماغ، جس کا وزن ایک اعشاریہ چار کلوگرام ہے، میں سو ارب کے قریب نیوران موجود ہیں۔

یہ نیوران ایک دوسرے کی جانب معلومات کی ترسیل کرتے ہیں جن کو معانقہ یعنی سینیپسز بولا جاتا ہے، جو دماغ میں کھربوں کی تعداد میں موجود ہیں۔
انسانی دماغ تین حصوں پر مشتمل ہے، یعنی سیریبرم، سیریبلم اور برین سٹم۔ سریبرم دماغ کے پچاسی فیصد حصے پر مشتمل ہے، جس کے ذمے انسان کی بہت ساری اہم سرگرمیوں کی انجام دہی ہے۔ اس کے بالکل نیچے آپ کو سیریبلم نظر آئے گاجس کا بنیادی مقصد کواآرڈینیشن اور جسم کو توازن فراہم کرنا ہے۔ اسی طرح برین سٹم، جو کہ سپائنل کورڈ کے ساتھ جڑا ہوا ہے، اس کا کام جسم کے بہت سارے خودکار افعال سر انجام دینا ہے، جیسا کہ سانس لینے اور ہاضمے کا عمل۔
یہ ایک ناقابلِ یقین با ت لگتی ہے کہ اتنے سارے افعال انجام دینے میں دماغ کا صرف دس فیصد حصہ خرچ ہو رہا ہے۔ افسوس کے ساتھ، یہ حقیقت کے بالکل برعکس ہے۔ ہم اس کے متعلق تو نہیں جانتے کہ دماغ کے دس فیصد استعمال کا دعویٰ سب سے پہلے کس نے کیا،تاہم اس کا جھوٹا انکشاف پہلی بار وکٹورین دور کے آخری چند سالوں میں کیا گیا۔ اٹھارہ سو نوے کی دہائی کے آخری چند سالوں میں ہارورڈ یونیورسٹی کے ماہرین نفسیات ولیم جیمز اور بورس سڈس کی تحقیق میں سڈس کے تین سو کے آئی کیو لیول سے یہ ثابت ہوا کہ تمام انسان اس قدر ذہین ہو سکتے ہیں، بشرطیکہ وہ دماغ پہ ذیادہ زور دیں، جو کہ اپنے آپ میں ایک مضحقہ خیز بات لگتی ہے۔
بیسویں صدی میں کی جانے والی مزید تحقیق سے معلوم ہوا کہ جو چوہے دماغی طور پہ ان فٹ تھے، انہیں چند افعال دوبارہ سے سکھائے جا سکتے ہیں۔ یہ نظریہ پہلے سے موجود ایک کمزور کیس کو مضبوظ کرتا ہے کہ انسانی دماغ لامتناہی غیر معمولی سرگرمیاں انجام دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ایک بار پھر افسوس کہ اس حقیقت کو جدید سائنس میں مضحقہ خیز اور بے بنیاد مانا جاتا ہے۔
بس یہ اندازہ کر لیں کہ ان معلومات کو صرف پڑھتے ہوئے ہی آپ دس فیصد سے ذیادہ دماغ استعمال کر چکے ہیں۔خیر! -2 چونگم کے ایک ٹکڑے کو ہضم کرنے میں سات سال لگتے ہیں: ببل گم کے ایک بڑے ٹکڑے کو نگلنے کے بعد ہم میں سے بہت سارے لوگ سمجھتے ہیں کہ اب ہمارا نظام انہظام اسے ہضم کرنے میں سات سال لگائے گا۔ یہ سراسر بکواس ہے۔ ہم اب تک اس وہم کو سب سے پہلے پھیلانے والے کے بارے میں نہیں جان سکے، تاہم حقیقت اس سے قریب قریب ہے، چونگم ایک ایسی چیز ہے، جس کو ہضم نہیں کیا جا سکتا۔