کرس گیل نے 12 بالز پر ٹی 10 کی تیز ترین ففٹی کا ریکارڈ برابر کردیا

ابوظبی /  لاہور: ویسٹ انڈین اسٹار کرس گیل نے ٹی 10 کرکٹ میں تیز ترین ففٹی کا ریکارڈ برابر کردیا۔

کرس گیل نے ابوظبی ٹی 10 لیگ میں ٹیم ابوظبی کی جانب سے مراٹھا عریبیئنز کیخلاف صرف 22 بالز پر 84 رنز اسکور کیے، گیل نے اس میں سے 78 رنز باؤنڈریز کے ذریعے بنائے، اس دوران9 چھکے اور 6 چوکے جڑے، انھوں نے ففٹی صرف 12 بالز پر مکمل کر کے محمد شہزاد کا ریکارڈ برابر کیا جو2018 کے ایڈیشن میں بنا تھا۔

ٹی 10 لیگ: مسلسل5 فتوحات کے بعد قلندرزکو پہلی شکست

ابوظبی ٹی 10 لیگ میں قلندرز کے فاتحانہ سلسلے کو بریک لگ گیا، دہلی بلز نے 9 وکٹ سے شکست دے دی، یہ قلندرز کی مسلسل 5 فتوحات کے بعد پہلی شکست ہے، دہلی بلز نے 108 رنز کا ہدف صرف ایک وکٹ پر 16 بالز قبل حاصل کرلیا، ایون لیوس 48 اور روی بوپارا 37 رنز پر ناٹ آؤٹ رہے، اس سے پہلے قلندرز نے 6 وکٹ پر 107 رنز بنائے،ٹام بینٹن نے 26 رنز اسکور کیے۔

ابوظبی ٹی 10لیگ میں شرکت کے بعد حفیظ وطن واپس پہنچ گئے

ابوظبی ٹی 10لیگ میں شرکت کے بعد محمد حفیظ وطن واپس پہنچ گئے، بروقت بائیو ببل میں نہ پہنچنے کے معاملے پر ڈیڈ لاک کے بعد پی سی بی نے آل راؤنڈر کو جنوبی افریقہ سے ٹی ٹوئنٹی اسکواڈ سے ڈراپ کردیا تھا، پاکستانی اور پروٹیز کرکٹرز بدھ سے لاہور کے ایک فائیو اسٹار ہوٹل میں مقیم ہیں اور جمعے کوپریکٹس کا سلسلہ شروع ہو رہا ہے۔

گذشتہ سال ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں دنیا بھر کے بیٹسمینوں میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے محمد حفیظ جنوبی افریقہ سے سیریز گھر بیٹھ کر دیکھیں گے، صرف ایک دن کے فرق کی وجہ سے سینئر کرکٹر کو ڈراپ کیے جانے پر کرکٹ حلقوں میں حیرت کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

ٹرمپ کا مواخذے کے ٹرائل میں پیش ہونے سے انکار

واشنگٹن: مریکا کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ڈیموکریٹس ارکان کی مواخذے کے ٹرائل میں حلف اٹھانے اور کارروائی میں پیش ہونے کے مطالبے کو مسترد کردیا ہے۔

امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کے مواخذے کی تحریک کے پراسیکیوٹر جیمی راسکن نے ٹرائل کے لیے سابق صدر کو پیش ہونے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر آپ ایسا نہیں کرتے تو ہم 6 جنوری کو کانگریس کی عمارت پر حملے میں آپ کی رضامندی سمجھنے میں حق بجانب ہوں گے۔

مواخذے کی تحریک کے پراسیکیوٹر کے مطالبے پر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایڈوائزر جیسن ملر نے واضح کیا کہ سابق صدر ایک غیر آئینی کارروائی میں شہادت کے لیے پیش نہیں ہوں گے۔

جیسن ملر کے اس بیان کے بعد ٹرمپ کے اٹارنی بروس کیسٹر اور ڈیوڈ شیئن نے کہا کہ مواخذے کی حساس کارروائی کو سیاسی کھیل نہ بنایا جائے، سابق صدر کے پیش ہونے کے مطالبے سے ثابت ہوتا ہے کہ ڈیموکریٹس اپنے الزامات کو ثابت نہیں کر سکتے۔

واضح رہے کہ سابق صدر ٹرمپ کے خلاف بغاوت پر اکسانے کے الزامات کے تحت آئندہ ہفتے سینیٹ میں مواخذے کی کارروائی شروع ہو گی۔ کارروائی کی منظوری میں ٹرمپ کی جماعت کے دس ارکان نے بھی ووٹ دیئے تھے۔

مقبوضہ کشمیر کے گلی کوچوں میں وزیراعظم عمران خان کے پوسٹر چسپاں

مقبوضہ کشمیر میں شکریہ پاکستان، شکریہ عمران خان کے پوسٹر لگ گئے۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق یومِ یکجہتی کشمیر کے موقع پر مقبوضہ کشمیر کے کئی علاقوں میں وزیرِاعظم پاکستان عمران خان کی تصویر والے پوسٹرز آویزاں کر دیئے گئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق یہ پوسٹرز سری نگر اور دیگر علاقوں میں آویزاں کیے گئے ہیں، پوسٹرز میں پاکستانی عوام اور وزیرِ اعظم عمران خان سے اظہارِ تشکر کیا گیا ہے۔

ان پوسٹرز میں کشمیر کا مسئلہ عالمی سطح پر اجاگر کرنے کیلئے شکریہ پاکستان، شکریہ عمران خان کے پیغامات درج ہیں۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق مقبوضہ کشمیر کے گلی کوچوں میں یہ پوسٹرز جموں و کشمیر لبریشن الائنس کی جانب سے لگائے گئے ہیں۔

واضح رہےکہ پاکستان سمیت دنیا کے مختلف حصوں میں آج یوم یکجہتی کشمیر منایا جارہا ہے جس کا مقصد کشمیری عوام کے ساتھ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت ان کے حق خودارادیت کے حصول کی جدوجہد کی حمایت کا اظہار کرنا ہے۔

ملک بھر میں صبح دس بجے ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی جبکہ اسلام آباد، مظفر آباد، گلگت اور چاروں صوبائی دارالحکومتوں میں یکجہتی واکس کا بھی اہتمام کیا جارہا ہے۔

افغانستان کے معاملے پر پاکستان اور چین میں ‘قربت’ ہے، امریکی رپورٹ

واشنگٹن: امریکی کانگریس کو بھیجی گئی ایک رپورٹ میں دعوٰی کیا گیا ہے کہ چین اور پاکستان کے درمیان افغانستان میں اپنے مفادات کے تحفظ کے بارے میں ایک مفاہمت طے پایا ہے اور اسلام آباد اس حکمت عملی میں ایک اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق امریکی رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ ‘چین-پاکستان تعلقات کی بڑھتی ہوئی قربت کا مطلب یہ ہے کہ بیجنگ کی افغانستان کی پالیسی کا زیادہ تر حصہ اسلام آباد سے قریب تر ہے اور اسلام آباد اس کی قیادت کر رہا ہے’۔

بدھ کے روز کانگریس کو بھیجی گئی اس رپورٹ میں افغان امن عمل میں پاکستان کے کلیدی کردار کو تسلیم کیا گیا ہے اور جو بائیڈن انتظامیہ پر زور دیا گیا ہے کہ وہ افغانستان میں کئی دہائیوں سے جاری جنگ اور تباہی کے خاتمے کے لیے اسلام آباد کے ساتھ مل کر کام کرے۔

اس رپورٹ میں نئے امریکی رہنماؤں سے یہ بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ افغانستان سے امریکی فوجیوں کے انخلا کے لیے مئی کی ڈیڈ لائن ملتوی کرنے کے لیے خبردار کیا گیا ہے کہ جلد بازی سے دہشت گرد گروہوں کو دوبارہ سر اٹھانے کا موقع ملے گا۔

گزشتہ سال دوحہ میں امریکا اور طالبان کے درمیان معاہدے پر دستخط کیے گئے تھے جس میں مئی تک مکمل طور پر امریکی فوجی انخلا کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

تاہم کانگریس کی جانب سے 2019 میں جاری کردہ افغانستان اسٹڈی گروپ کی رپورٹ میں ‘مئی 2021 کی موجودہ دستبرداری کی تاریخ میں توسیع کے لیے فوری سفارتی کوشش کی سفارش کی گئی تھی تاکہ امن عمل کو قابل قبول نتیجہ پیش کرنے کے لیے مناسب وقت دیا جاسکے’۔

افغانستان کے بارے میں امریکی طرز عمل میں تبدیلی کی وضاحت کرتے ہوئے رپورٹ میں دلیل دی گئی کہ ‘طالبان ایک بین الاقوامی دہشت گرد تنظیم نہیں ہیں اور اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ ان کا امریکا پر حملہ کرنے کا کوئی ارادہ ہے’۔

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ افغانستان-پاکستان، خطے میں بھی ‘امریکی انخلا کے لیے وسیع علاقائی حمایت حاصل ہے’۔

امن عمل میں پاکستان کے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے رپورٹ میں کہا گیا کہ ‘پاکستان نے عام طور پر طالبان سے مذاکرات کے لیے امریکی کوششوں کی حمایت کی ہے اور اس کردار کو امریکی حکام نے عوامی طور پر تسلیم بھی کیا ہے۔

اس رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ‘خطے کے بہت سے ممالک خصوصاً پاکستان کا امن عمل میں طالبان اور دیگر شرکا پر اثر و رسوخ ہے، انہیں امن عمل کو کامیاب بنانے کے لیے اس اثر و رسوخ کو فعال طور پر استعمال کرنا چاہیے کیونکہ بالآخر وہ ہی اس کی کامیابی سے فائدہ اٹھائیں گے’۔

لیکن رپورٹ میں واضح کیا گیا کہ اگرچہ پاکستان کا طالبان پر اثر و رسوخ ہے تاہم ‘اس تحریک پر مکمل کنٹرول نہیں ہے’۔

رپورٹ میں نشاندہی کی گئی کہ اگرچہ اسلام آباد نے ہمیشہ ہی امریکا کے ساتھ قریبی تعلقات کو برقرار رکھنے کی کوشش کی ہے تاہم اس سے وہ طالبان کے ساتھ تعلقات برقرار رکھنے سے رکا نہیں۔

کشمیر کی جدوجہد آزادی کو سلام پیش کرتا ہوں، وزیر داخلہ

وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کشمیر کی جدوجہد آزادی کو سلام پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیر کی جدوجہد آزادی میں لال حویلی میں لال حویلی کا ایک کردار ہے۔

راولپنڈی میں یکجہتی کشمیر ریلی سے خطاب کرتے ہوئے شیخ رشید احمد نے کہا کہ کشمیر کی جدوجہد آزادی کو ہم سلام پیش کرتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ جب کوئی تاریخ لکھے گا تو کشمیر کی جدوجہد آزادی میں لال حویلی میں لال حویلی کا ایک کردار ہے اور جب بھی پاکستان پر وقت آیا تو لال حویلی اپنی عظیم افواج کے قائد قمر جاوید باجوہ اور دوسرے لوگوں کے ساتھ مل کر اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر پاکستران کا دفاع کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ آج مسلمانوں کے ساتھ ہندوستان میں جو سلوک کیا جا رہا ہے اور میں کشمیریوں کو یہ کہنا چاہتا ہوں کہ راولپنڈی شہر کا تعلق چاہے کسی پارٹی سے کیوں نہ ہو لیکن یہ غیرت مندوں کا شہر ہے اور کشمیر کی آزادی کے لیے ہمہ وقت تیار ہے۔

شیخ رشید نے کہا کہ میں نے آپ کہا تھا کہ یہ استعفے نہیں دیں گے، اچھی بات ہے مت دو، میں نے آپ سے کہا تھا کہ یہ سینیٹ کا الیکشن لڑیں گے لیکن مجھ دکھ ہے کہ جس اسمبلی پر مولانا فضل الرحٰن نے لعنت بھیجی ہے، آج اسی اسمبلی سے اپنے اراکین کے لیے ووٹ مانگنے جائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ ہمیں کہتے ہیں یوٹرن لیتے ہیں لیکن تم تو ‘اباؤٹ ٹرن’ لیتے ہو، ہمیں یوٹرن کا طعنہ دینے والو تم تو اباؤٹ ٹرن لیتے ہوں، اب یہ 26مارچ کو لانگ مارچ لے گئے ہیں، آ جائیں۔

انہوں نے کہا کہ میری بحیثیت وزیر داخلہ پوری کوشش ہو گی کہ ہم آپ کے راستے میں کوئی رکاوٹیں کھڑی نہ کریں لیکن اگر آپ نے قانون کو ہاتھ میں لیا تو یاد رکھنا آپ سے وہ سلوک کروں گا کہ تاریخ یاد رکھے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ آپ ہمارے سیاسی مخالف ہیں لیکن ہم آپ سے کہنا چاہتے ہیں کہ 26 مارچ میں دو مہینے پڑے ہیں، ہم اپوزیشن کے لیے کوئی رکاوٹ کا باعث نہیں بننا چاہتے ہیں۔

وزیر داخلہ نے اپوزیشن جماعتوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ تین سال گزرنے والے ہیں، ایک سال کے بعد الیکشن مہم شروع ہو جائے گی، کیا تم اس ملک میں سیاسی انتشار پھیلانا چاہتے ہو۔

راولپنڈی ٹیسٹ میں نوکیا کی 5 وکٹیں، پاکستان پہلی اننگز میں 272 رنز پر آؤٹ

پاکستان کی ٹیم جنوبی افریقہ کے خلاف دوسرے ٹیسٹ میچ کی پہلی اننگز میں 272 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی ہے۔

راولپنڈی میں کھیلے جارہے سیریز کے دوسرے ٹیسٹ میچ کے دوسرے دن پاکستان نے 145 رنز 3 کھلاڑی آؤٹ سے اپنی نامکمل اننگز دوبارہ شروع کی تو فواد عالم اور بابر وکٹ پر موجود تھے۔

پاکستان کے لیے دن کا آغاز زیادہ اچھا نہ تھا اور بابر اعظم گزشتہ روز کے اسکور 77 رنز میں کسی اضافے کے بغیر ہی دن کی دوسری گیند پر اینرج نوکیا کی وکٹ بن گئے۔

ابھی پاکستان کی ٹیم اس نقصان سے سنبھلی بھی نہ تھی کہ چار رنز کے اضافے سے فواد عالم وکٹوں کے درمیان غلط فہمی کے نتیجے میں رن آؤٹ ہو گئے، انہوں نے 45 رنز بنائے۔

149 رنز پر 5 وکٹیں گرنے کے بعد محمد رضوان کا ساتھ دینے فہیم اشرف آئے اور دونوں کھلاڑیوں نے چھٹی وکٹ کے لیے 41 رنز جوڑے۔

ایک مرتبہ پھر نوکیا نے اپنی ٹیم کو اہم کامیابی دلاتے ہوئے 8 رنز بنانے والے محمد رضوان کو چلتا کردیا۔

دوسرے اینڈ سے فہیم اشرف نے اپنی عمدہ بیٹنگ کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے نصف سنچری مکمل کی لیکن کھانے کے وقفے سے قبل کیشپ مہاراج نے حسن علی کی اننگز کا خاتمہ کردیا۔

کھانے کے وقفے کے بعد یاسر شاہ اور فہیم اشرف نے جنوبی افریقی باؤلرز کے خلاف مزاحمت کرتے ہوئے 30 رنز کی ساجھے داری قائم کی جس کے بعد یاسر شاہ 8 رنز بنا کر ویان ملڈر کی گیند پر انہی کو کیچ دے بیٹھے۔

فہیم اشرف اور نعمان علی نے نویں وکٹ کے لیے 21 رنز جوڑے جس کے بعد نوکیا نے نعمان علی اور شاہین شاہ آفریدی کو چلتا کر کے 272 رنز پر پاکستان کی اننگز کا خاتمہ کردیا۔

فہیم اشرف 12 چوکوں سے مزین 78 رنز کی اننگز کھیل ناقابل شکست رہے جبکہ پاکستان کے 6 کھلاڑی ڈبل فیگر میں بھی داخل نہ ہو سکے۔

جنوبی افریقہ کی جانب سے اینرچ نوکیا نے 5 جبکہ کیشپ مہاراج نے تین وکٹیں حاصل کیں۔

جنوبی افریقہ کی جانب سے اینرج نوکیا اور کیشپ مہاراج نے تین، تین وکٹیں حاصل کیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز پاکستان نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا تھا لیکن یہ فیصلہ اس وقت غلط ثابت ہوا تھا جب پاکستانی ٹیم 22 رنز پر تین وکٹیں گنوا بیٹھی تھی۔

اس کے بعد فواد عالم اور بابر اعظم کی جوڑی نے ٹیم کو سنبھالا دیا اور چوتھی وکٹ کے لیے 123 رنز کی شراکت قائم کی اور بارش سے متاثرہ پہلے دن کے اختتام تک کوئی وکٹ نہ گرنے دی تھی۔

واضح رہے کہ دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں پاکستان کو 0-1 کی ناقابل شکست برتری حاصل ہے۔

پاکستان نے جنوبی افریقہ کو پہلے ٹیسٹ میچ میں 7 وکٹوں سے شکست دی تھی۔

دونوں ٹیموں کے درمیان دو ٹیسٹ میچوں کے بعد تین ٹی20 میچوں کی سیریز کھیلی جائے گی۔

بھارت آگ کے ساتھ کھیل رہا ہے، صدر مملکت کا یوم یک جہتی کشمیر کے موقع پر خطاب

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کا کہنا ہے کہ بھارت آگ کے ساتھ کھیل رہا ہے، اس نے اپنی تباہی کا بٹن دبا دیا ہے۔

آزاد جموں و کشمیر کی قانون ساز اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کا کہنا تھا کہ آج پاکستان کی حکومت اور عوام مقبوضہ جموں و کشمیر کی مجبور عوام کے ساتھ یوم یکجہتی کشمیر منارہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘ہم ہرسال اس دن کو مناتے ہیں اور خراج تحسین پیش کرتے ہیں ان لوگوں کو جو اس سلسلے میں مسلسل قربانیوں دے رہے ہیں’۔

انہوں نے کہا کہ کشمیر کی عوام 1947 سے بھارت کے غاصبانہ، جابرانہ قبضے میں ہے، اس سے قبل بھی برطانوی سامراج سے قبل ڈوگرا حکومت اور جس انداز سے کشمیر کو بیچا گیا یہ ایک مسلسل لمبی کہانی ہے۔

صدر مملکت کا کہنا تھا کہ ‘جب یہاں آتا ہوں تو بہت سے لوگ ایسے ملتے ہیں جن کے آباؤ اجداد اس جدوجہد میں شامل تھے جن میں سے 13 افراد اس اسمبلی میں موجود ہیں جن کے والدین نے اس تاریخ میں بہت بڑا کردار ادا کیا’۔

ان کا کہنا تھا کہ سردار ابراہیم نے 24 اکتوبر 1947 کو قرار داد پیش کی، بھارت کے قبضے کا سلسلہ وہاں سے بھی شروع ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ‘مجھے عزیز ہے کہ ان سارے معاملات میں پاکستان کے سیاستدانوں نے مسلسل یکجہتی کا اظہار کیا ہے اور اگر کوئی کوتاہی ہوتی ہے تو دنیا کے پلیٹ فارم پر اس کے اثرات اچھے نہیں ہوتے’۔

ڈاکٹر عارف علوی کا کہنا تھا کہ ‘میری ذمہ داری ہے کہ اپنے خیالات اور منصوبہ بندی کے اعتبار سے ایک یکجہتی کی کیفیت ہو اور غیر قانونی طور پر قبضے کی جدوجہد کو اس کی تکمیل تک پہنچائیں’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘میں چاہتا ہوں کہ یہاں دیا جانے والا پیغام دور دور تک جائے کیونکہ پاکستان کی ریاست کے ساتھ جو باتیں یہاں کی جائیں گی مقبوضہ کشمیر کی عوام اس سے اُمیدیں باندھتے ہیں’۔

انہوں نے کہا کہ ‘بھارت آگ کے ساتھ کھیل رہا ہے، میں صرف جموں و کشمیر کی ریاست کی بات نہیں کر رہا، بھارت نے اپنی مسلمان آبادی کے ساتھ جو رویہ اختیار کیا اس سے اس نے اپنی تباہی کا بٹن دبا دیا ہے’

صدر مملکت کا کہنا تھا کہ خوشوند سنگھ میں 2004 میں ایک کتاب لکھی جس میں انہوں نے کہا کہ بھارت کو تباہ ہونے کے لیے پاکستان کی ضرورت نہیں، وہ خود کو اپنی تباہی کے راستے پر ڈال رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے 30، 40 سالوں میں بہت کچھ سیکھا اور جن گڑھوں سے ہم مقابلہ کرکے نکلے ہیں بھارت خود کو اس میں ڈال رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مسلم امہ اور بین الاقوامی برادری، کشمیر کے معاملے پر اگر یہ اقوام متحدہ کی قراردادیں نہ ہوتیں اور سیز فائر نہیں ہوتا تو کشمیر کی عوام چند دنوں میں کشمیر کو آزاد کراچکے ہوتے۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘اس وقت اقوام متحدہ کو بنے چند سال ہوئے تھے اس سے کشمیری عوام، پاکستان کے لوگوں اور قائد اعظم کو بھی اُمیدیں تھیں کہ یہاں انصاف ہوجائے گا’۔

ڈاکٹر عارف علوی کا کہنا تھا کہ ریڈ کلف ایوارڈ مسلمانوں اور پاکستان کے خلاف تھا جس کا ذکر چند کتابوں میں بھی موجود ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کشمیر کے معاملے پر پاکستان کی سمت ایک ہے، تفریق صرف طریقوں پر ہے۔

ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ بھارت نے ڈیموگرافک تبدیلیوں کے حوالے سے اقدامات کا آغاز کیا ہے وہ نہایت پریشان کن اور تکلیف دہ ہیں۔

انہوں نے یاد دلایا کہ کشمیریوں کا حق خود ارادیت کو بھارت نے خود تسلیم کیا تھا تاہم آہستہ آہستہ یہ پیچھے ہٹتا گیا، ہمیں قانونی، سفارتی سطح پر اپنی رفتار کو تیز کرنا چاہیے۔

صدر مملکت کا کہنا تھا کہ انسان کو انسان سے تکلیف ہوتی ہے، میرے رشتہ دار بھی بھارت میں ہیں اور مجھے ان کے حالات دیکھ کر تکلیف ہوتی ہے ویسے ہی آزاد کشمیری کی عوام کو سری نگر کے حالات دیکھ کر تکلیف ہوتی ہوگی۔

ان کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا کا دور ہے دنیا پر سب سے زیادہ اثر تصاویر کو دیکھ کر ہوتا ہے تاہم بھارت نے مکاری سے وہاں انٹرنیٹ سروس معطل کی تاکہ وہاں سے تصویریں باہر نہ نکل سکیں۔

سیاسی جماعتوں میں ڈکٹیٹر بیٹھے ہیںیہاں بھی جمہوریت ہونی چاہیئے:چیف جسٹس

چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد کا کہنا ہے کہ سیاسی جماعت کے اندربھی جمہوریت ہونی چاہئے، سیاسی جماعت کے اندربھی جمہوریت ہونی چاہئے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 5 رکنی لارجر بنچ نے سینٹ انتخابات اوپن بیلٹ سے کروانے سے متعلق صدارتی ریفرنس پر سماعت کی، اٹارنی جنرل خالد جاوید نے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ لوگ ایم پی ایز کو ووٹ اس کی پارٹی وابستگی کی وجہ سے دیتے ہیں، پارٹی کے خلاف ووٹ دینا عوامی اعتماد کو ٹھیس پہنچانا ہوگا۔

اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ آزاد امیدوارجس کو چاہے ووٹ دے سکتاہے۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آذاد امیدوارکو تجویز اور تائیند کنندہ کہاں سے ملیں گے؟۔ اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ حکومت میں آنےوالی جماعت انتخابی وعدےپورےکرنے کی باتیں کرتی ہے، سینیٹ میں اکثریت پوری نہ ہوتووعدے کیسے پورے ہوں گے؟۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ پارٹی میں ڈسپلین نہ ہو تو ایوان میں اکثریت کیسے رہے گی؟، سیاسی جماعت کے اندربھی جمہوریت ہونی چاہئے، سیاسی جماعتوں میں بھی ڈکٹیٹر بیٹھے ہوئےہیں، پاکستان میں تقریباً ساری جماعتیں ون میں پارٹی ہیں۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ ماضی میں 4غیرمنتخب افراد فیصلہ کرتے رہے کہ وزیراعظم کون ہوگا۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ لوگ اپنے ضمیر کے خلاف ووٹ دےکرتسلیم بھی کرتےہیں، ضمیر کے خلا ف ووٹ دینے والے پارٹی سربراہ کے احکامات کے پابند تھے، پارٹی سربراہ سب کی رائے لےکرفیصلہ کرے تو ہی بہترہوگا۔

پنجاب بھر میں قبضہ مافیا کیخلاف سخت آپریشن کا حکم سرپرستی کرنیوالوں کو بھی نہیں چھوڑیں گے :عمران خان

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے پنجاب بھر میں قبضہ مافیا کے خلاف جامع آپریشن کا حکم دے دیا۔

اے آر وائی نیوز کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت راوی اربن ڈیولپمنٹ سے متعلق اجلاس ہوا جس میں وزیراعظم کو راوی اربن ڈیولپمنٹ منصوبے میں پیش رفت پر بریفنگ دی گئی، آئی جی پنجاب نے وزیراعظم کو غیرقانونی ہاؤسنگ اسکیموں پر بھی بریفنگ دی۔

وزیراعظم کو غیرقانونی ہاؤسنگ سوسائٹیز کے خلاف کارروائیوں کی رپورٹ پیش کی گئی، وزیراعظم کو بریفنگ دی گئی کہ 2016 اور 2017 میں مختلف ڈیولپمنٹ اتھارٹیز نے ریفرنس بھیجے، ڈیولپمنٹ اتھارٹیز کی درخواست کے باوجود ایف آئی آر کا اندراج نہیں ہوا تھا۔

آئی جی پنجاب کا کہنا تھا کہ 906 ریفرنسز، ایف آئی آر کی درخواستوں پر عملدرآمد ہوا تھا، 895 ایف آئی ایف آر فوری طور پر درج کرلی گئی ہیں، ایک کیس اسٹے آرڈر ہے باقی درخواستیں واپس لی جاچکی ہیں، واضح رہے کہ وزیراعظم نے انکوائری کی ایک ہفتے میں رپورٹ دینے کی ہدایت کی۔

وزیراعظم نے آئی جی پنجاب، چیف سیکریٹری کو صوبے بھر میں آپریشن کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ قبضہ مافیا معاشرے کا ناسور بن چکا ہے، قبضہ مافیا کے خلاف کارروائیوں کی رپورٹ ہر ہفتے پیش کریں۔

عمران خان نے کہا کہ اوورسیز پاکستانیوں کی زمینوں پر قبضہ فوری ختم کروائیں، ساری زندگی کی جمع پونجی پاکستان لانے والوں کی داد رسی کی جائے۔

مسئلہ کشمیر کا حل کشمیریوں کی امنگوں کے مطابق ضروری ہے:آرمی چیف

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ کشمیر سمیت خطے کےعوام دیرپا امن کے مستحق ہیں، تنازع کشمیرکاحل کشمیریوں کی امنگوں کے مطابق ضروری ہے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ لاہور گریژن پہنچے تو لیفٹیننٹ جنرل محمد عبدالعزیز نے استقبال کیا۔

دورہ کے موقع پر آرمی چیف نے افسران سےخطاب کرتے ہوئے پیشہ ورانہ امور، داخلی و خارجی صورتحال پر اظہار خیال کیا جب کہ آرمی چیف نےپاکستان اور خطےمیں دیرپاامن سےمتعلق وژن پر روشنی ڈالی۔

آرمی چیف نے مشرقی سرحدوں اور مقبوضہ کشمیرکی صورتحال پر بھی گفتگو کی۔ مسئلہ کشمیر پر گفتگو میں آرمی چیف نے کہا کہ کشمیر سمیت خطے کےعوام دیرپا امن کے مستحق ہیں، تنازع کشمیرکاحل کشمیریوں کی امنگوں کے مطابق ضروری ہے۔

جنرل قمر باجودہ کا کہنا تھا کہ ہائبرڈ جنگ کے چیلنجز میں مزیدچوکنا اور تیار رہنےکی ضرورت ہے۔

یوم یک جہتی کشمیر مقبوضہ وادی میں عمران خان کی تصویر والے پوسٹر لگ گئے

سری نگر: مقبوضہ کشمیر کے بیشتر علاقوں میں وزیراعظم عمران خان کی تصویروں والے پوسٹر لگادیئے گئے۔ 

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر مقبوضہ کشمیر میں وزیراعظم عمران خان کے پوسٹر لگادیئے گئے، جن پر لکھا ہے کہ تمام عالمی فورمز پر کشمیر کے تنازع کو مؤثر انداز میں پیش کرنے پر پاکستان اور عمران خان کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق پوسٹر مقبوضہ کشمیر کے دارالحکومت سرینگر اور وادی کے بیشتر علاقوں میں لگائے گئے،  اور یہ پوسٹر جموں و کشمیر لبریشن الائنس نے کشمیری عوام کی جانب سے پاکستان کا شکریہ ادا کرنے کیلئے لگائے گئے جن پر وزیراعظم پاکستان عمران خان کی تصاویر بھی نظر آرہی ہیں۔ پوسٹرز پر اس عزم کا اعادہ کیا گیا ہے کہ کشمیری عوام بھارتی تسلط سے آزادی حاصل کرنے تک اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔

26مارچ کو لانگ مارچ:پی ڈی ایم کا اعلان چکر لگا کر چلے جائیں گے:شیخ رشید ،فردوس عاشق اعوان

پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ نے 26 مارچ کو حکومت کے خلاف لانگ مارچ اور سینیٹ الیکشن مشترکہ طور پر لڑنے کا اعلان کردیا۔

حکومت کے خلاف تحریک کی آئندہ حکمت عملی کا جائزہ لینے کے لیے پی ڈی ایم کے کئی گھنٹوں تک جاری رہنے والے اجلاس کے بعد سربراہ پی ڈی ایم نے حکومت کے خلاف 26 مارچ کو لانگ مارچ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

اجلاس کے فیصلوں سے متعلق میڈیا کو آگاہ کرتے ہوئے سربراہ پی ڈی ایم فضل الرحمان نے کہا کہ سینیٹ انتخابات کے لیے  پی ڈی ایم میں شامل جماعتیں مشترکہ امیدوار لائیں گی۔ پی ڈی ایم سینیٹ الیکشن اوپن بیلٹ سے کروانے کے لیے حکومت کی مجوزہ ترمیم کو مسترد کرتی ہے۔ ایوان کی کارروائی چلانے میں حکومت سے تعاون نہیں کیا جائے گا۔براڈ شیٹ کے معاملے پر جسٹس (ر) شیخ عظمت کمیشن کی تشکیل کو بھی مسترد کرتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی ایسےلوگوں کوسینیٹربناناچاہتی ہےجسےخودان کےلوگ پسند نہیں کرتے۔ لگتاہےپی ٹی آئی کواپنےلوگوں پراعتماد نہیں۔ترقیاتی فنڈزکےنام پرارکان کورشوت دی جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد اور اسمبلیوں سے استعفی کا فیصلہ لانگ مارچ کے بعد ہوگا۔ پی ڈی ایم 26 مارچ کو اسلام آباد کی طرف مارچ کرے گی۔ مہنگائی،بےروزگاری کےخلاف عام آدمی کےشانہ بشانہ کھڑےہوں گے۔  ہماری لڑائی غیرجمہوری عمل کے خلاف ہے۔

قبل ازیں اجلاس میں اپوزیشن کی بڑی جماعتوں مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی حکومت گرانے کے لیے اپنی اپنی حکمت عملی پر اصرار کرتی رہیں۔ ن لیگ کی جانب سے استعفوں جب کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے تحریک عدم اعتماد کی تجویز کے حق میں دلائل پیش کیے گئے۔

اسلام آباد میں پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں کا سربراہی اجلاس میں مسلم لیگ ن کی نائب صدر  مریم نواز اور چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی  بلاول بھٹو زرداری سمیت دیگر جماعتوں کے رہنماوں نے شرکت کی۔

آج ہونے والے اجلاس سے قبل بھی گزشتہ شب اپوزیشن جماعتوں کے مابین مشاورت کا سلسلہ جاری رہا۔ گزشتہ شب سابق وزیراعظم میاں نوازشریف نے پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کو فون کرکے سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔

ذرائع کے مطابق دونوں رہنماؤں نے حکومت مخالف تحریک کے حوالےسے مشاورت کی اور نوازشریف نے مولانا فضل الرحمن کی طرف سے پیش کردہ تجاویز سے اتفاق کیا تھا۔  نواز شریف نے لانگ مارچ، استعفوں اور دھرنےکی مکمل حمایت کی یقین دہانی بھی کروائی۔ اس کے علاوہ  مسلم لیگ کی نائب صدر مریم نواز نے پارٹی ترجمان مریم اورنگزیب اور دیگر رہنماؤں کے ہمراہ سربراہ پی ڈی ایم مولانا فضل الرحمان سے ملاقات  بھی کی تھی جس میں سیاسی امور پر مشاورت کی گئی۔

پارلیمنٹ شرمندہ ،حکومتی اور اپوزیشن ارکان گتھم گتھا ،ہاتھا پائی ،سپیکر ڈائس کا گھیراﺅ،شدید نعرے بازی،نازیبا زبان کا استعمال

قومی اسمبلی اجلاس میں ڈپٹی اسپیکر کے فلور نہ دینے پر اپوزیشن ارکان اسپیکر ڈائس پر پہنچ گئے، اپوزیشن رکن سید نوید قمر نے ڈپٹی اسپیکر کا مائیک اتار دیا، اسپیکر ڈائس کے سامنے حکومتی اور اپوزیشن ارکان گتھم گتھا ہوگئے۔

قومی اسمبلی اجلاس میں آج دوسرے دن بھی شور شرابا رہا، ایوان میں اپوزیشن ارکان ڈیسک اور سیٹیاں بجاتے رہے۔

اسپیکر ڈائس کے سامنے حکومتی اور اپوزیشن ارکان گتھم گتھا ہوگئے، متعدد ارکان دھکم پیل میں گر پڑے جس کے بعد ڈپٹی اسپیکر نے اجلاس کی کارروائی نماز ظہر کے لیے معطل کر دی۔

اس سے قبل اپوزیشن ارکان نے اسپیکر ڈائس کے سامنے ایوان میں پلے کارڈ لہرائے جن پر چور چور چور ،نالائق، نااہل، گھر جاؤ کے نعرے درج تھے۔

اپوزیشن ارکان کے پلے کارڈز پر گو عمران گو اور لوٹا لوٹا کے نعرے بھی درج تھے جس کے بعد شہزاد اکبر نے احتساب پر نعرے والا پلے کارڈ اپوزیشن کی جانب لہرا دیا۔

اس موقع پر اپوزیشن ارکان نے ایوان میں “یہ سارے لوٹے دو آنے ” کے نعرے بھی لگائے، اپوزیشن اراکین نے ایوان میں روٹی مہنگی ہائے نیازی کے نعرے بھی لگائے ۔