لاہور:ٹک ٹاک جنون،3دوست جان سے گئے

لاہور میں ٹک ٹاک ویڈیو بنانے کے جنون میں بے احتیاطی نے 3 دوستوں کی جان لے لی۔

پولیس کے مطابق شمالی چھاؤنی میں ایک ہولناک ٹریفک حادثہ ہوا جس میں رکشے میں سوار 3 دوست اپنی جان سے چلے گئے۔ حادثے کی بنیادی وجہ رکشے کو ایک پہیے پر چلاتے ہوئے ٹک ٹاک ویڈیو بنانے کی کوشش نکلی۔

پانچ دوست رکشے میں فریج کہیں چھوڑ کروآپس آرہے تھے کہ ڈرائیور شاہ زیب نے وہیل اٹھا کر رکشہ چلانے کی کوشش کی  جس سے حادثہ رونما ہوگیا۔ حادثے میں زخمی ہونے والے تنشیر نے پولیس کو بتایا کہ جاں بحق ہونے والا مصطفی ٹک ٹاک بنارہا تھا۔ پولیس نے رکشہ چلانے والے شاہ زیب کے خلاف مقدمہ درج کر کے اسے گرفتار کرلیا ہے۔

چھوٹے چور جیلوں میں، بڑے چور این آر او مانگ رہے ہیں: وزیراعظم عمران خان

اسلام آباد: (دنیا نیوز) وزیراعظم عمران خان نے ایک بار پھر کرپٹ سیاستدانوں پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب سربراہ مملکت ہی چوری شروع کردے تو ملک تباہ ہو جاتا ہے۔ اپوزیشن پر اربوں روپے کے کیسز لیکن کہتے ہیں ہمیں این آر او دیدیں۔

وزیراعظم نے یہ اہم باتیں اسلام آباد میں علما ومشائخ کے خصوصی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک تب تباہ ہوتا ہے جب ملک کا سربراہ چوری شروع کردے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم نے پاکستان کو فلاحی ریاست بنانا تھا لیکن بدقسمتی سے ہم اس خواب سے دور نکل گئے۔

انہوں نے کہا کہ جن لوگوں کی اربوں روپے کی جائیدادیں باہر ہیں، کیسے انہیں تقریر کرنے کا موقع دیں۔ یورپ میں کرپشن کرنیوالا تقریر تو دور عوام میں جا کر نہیں بیٹھ سکتا۔ سنگاپور میں وزیر نے کرپشن پکڑے جانے پر خود کشی کر لی تھی کیونکہ اسے پتا تھا کہ اس کی اب معاشرے میں کوئی عزت باقی نہیں بچی ہے۔

عمران خان نے کہا کہ غریب ممالک میں غربت کی وجوہات ہی یہی ہیں کہ وہاں کے سربراہ اور وزیر پیسہ چوری کرتے ہیں، اس کو ظلم کا نظام کہتے ہیں۔ پاکستان واحد ملک ہے جو اسلام کے نام پر بنا۔ ہم پاکستان کو ریاست مدینہ کی طرز پر اسلامی فلاحی ریاست بنانے کے لیے کوشاں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں مغرب کو باورکرانا ہوگا کہ اسلام کا دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ خود کش حملوں کو بھی اسلام کے ساتھ جوڑا گیا۔ ہماری لیڈرشپ نے اسلام کے خلاف مہم کا دفاع نہیں کیا۔ خود کش حملے نائن الیون سے پہلے تامل ہندوؤں نے سری لنکا میں کیے تھے لیکن کبھی کسی نے ہندو دہشت گرد نہیں کہا۔

ان کا کہنا تھا کہ مغرب نے دہشت گردی کو اسلام کے ساتھ جوڑا لیکن بدقسمتی سے اسلامی ممالک کی طرف سے ردعمل نہیں آیا۔ مسلم ممالک کو بتانا چاہیے تھا کہ اسلام کا دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ہمیں دنیا کوسمجھانا چاہیے تھا کہ ہم اپنے نبی ﷺ سے بہت پیارکرتے ہیں۔ بار، بار گستاخانہ خاکوں سے مسلمانوں کو تکلیف پہنچائی گئی۔ مسلم دنیا کے سربراہان نے کبھی معاملے کو انٹرنیشنل فورم پر نہیں اٹھایا۔ گستاخانہ خاکوں پر میں نے مسلم دنیا کے سربراہان کو خطوط لکھے

ٹھوس وجوہات کے بغیر5 جی پرپابندی عائد نہیں کرسکتے، سندھ ہائیکورٹ

کراچی: سندھ ہائیکورٹ نے 5 جی ٹیکنالوجی پرپابندی لگانے کی درخواست پر ایڈووکیٹ جنرل اور ڈپٹی اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کردیئے۔

جسٹس محمد علی مظہر اورجسٹس امجد علی سہتو پرمشتمل دورکنی بینچ کے روبرو 5 جی ٹیکنالوجی پرپابندی لگانے کی درخواست کی سماعت ہوئی۔ درخواست گزارکے وکیل نے موقف دیا کہ 5 جی ٹیکنالوجی انسانی صحت کے لیے مضرہے۔ جسٹس محمد علی مظہرنے ریمارکس دیئے ہمیں بتائیں، 5 جی آخرکیوں مضرصحت ہے۔

درخواستگزار کے وکیل نے موقف اپنایا کہ 5 جی کے تجربات سے اس کے خطرناک ہونے کے شواہد ملے۔ جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیئے عدالت کیسے 5 جی بند کرسکتی ہے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ یہ بتائیں، کن احتیاطوں کی ضرورت ہے۔ درخواستگزار کے وکیل نے موقف دیا کِہ 5 جی ماحول اور اب و ہوا کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔ 4 جی کے بھی نقصان تھے مگر وہ اتنا خطرناک نہیں۔ 5 جی پر پابندی لگائی جائے۔

جسٹس محمد علی مظہرنے ریمارکس دیئے عدالت اس طرح پابندی عائد نہیں کرسکتی۔ عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل اور ڈپٹی اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے صوبائی و وفاقی افسران قانون کو جواب جمع کرانے کا حکم دے دیا۔

فوج کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں، اسے سیاست میں مت گھسیٹیں: ترجمان پاک فوج

راولپنڈی: ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے کہا ہےکہ فوج کو سیاست میں مت گھسیٹیں اس کا  کسی قسم کی سیاست کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔

جیونیوز کےمطابق ایک بیان میں میجر جنرل بابر افتخار نےکہا کہ سب کو معلوم ہےکورونا سے پوری دنیا متاثر ہوئی، پاکستانی قوم نے کورونا کا کامیابی سے مقابلہ کیا اور ہیلتھ کیئر ورکرز نے کورونا سے مقابلے میں قوم کی بھرپورمدد کی۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ چین کی فوج نے افواج پاکستان کو ویکسین کا عطیہ دیا اور پاک فوج نے چینی فوج کی عطیہ کردہ ویکسین ہیلتھ ورکرز کو دے دی۔

 بھارت سے متعلق میجر جنرل بابر افتخارکا کہنا تھا کہ بھارت دنیا میں بہت حد تک بے نقاب ہو چکا ہے اس حوالے سے پچھلی پریس کانفرنس میں بہت سے شواہد سامنے رکھے۔

کے ٹو پر لاپتا کوہ پیماؤں کے حوالے سے فوجی ترجمان نے بتایاکہ علی سدپارہ قوم کے ہیرو ہیں، کوہ پیماؤں کےسرچ آپریشن میں کوئی کمی نہیں آنے دیں گے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نےکہا کہ فوج کو سیاست میں مت گھسیٹیں، ہمارے کسی قسم کے کوئی بیک ڈور رابطے نہیں ہورہے اور کسی قسم کی سیاست کے ساتھ ہمارا تعلق نہیں ہے، قیاس آرائیاں کرنے والوں سے پھرکہوں گا کہ فوج کوسیاست میں مت گھسیٹیں۔

ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ ہمارےپاس داخلی وخارجی سلامتی کا بڑا فریضہ ہےجسے بہ خوبی ادا کررہے ہیں، بغیرشواہد اورتحقیق اس بارے میں بات کرنا کسی کو بھی سوٹ نہیں کرتا لہٰذا اس قسم کی قیاس آرائیوں کو بند ہونا چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس بارے میں کمنٹس کرنے والوں کے پاس کوئی ثبوت ہے تو سامنے لےآئیں، دکھا دیں کون کس کو کال کررہا ہے،کس سے بات کررہا ہے، اس طرح کی کوئی چیز نہیں ہورہی ہے۔

پاکستان نے پنڈی ٹیسٹ جیت کر جنوبی افریقا کو سیریز میں وائٹ واش کر دیا

حسن علی اور شاہین شاہ آفریدی کی شاندار بولنگ کے باعث پاکستان نے جنوبی افریقا کو پنڈی ٹیسٹ میں 98 رنز سے شکست دیکر دو میچوں کی سیریز میں وائٹ واش مکمل کر لیا۔

کھیل کے آخری روز جنوبی افریقا نے اپنی دوسری نامکمل اننگز کا آغاز کیا تو ایڈن مارکرم 59 اور وین ڈر ڈاؤسن 48 رنز پر بیٹنگ کر رہے تھے۔

حسن علی نے 127 رنز کے مجموعے پر  پہلے ڈاؤسن کو آؤٹ کیا اور پھر فاف ڈوپلیسی کو بھی 135 رنز پر پویلین بھیج دیا۔

ڈوپلیسی کے آؤٹ ہونے کے بعد مارکرم اور ٹمبا باووما کے درمیان 106 رنز کی اچھی شراکت قائم ہوئی اور اسی دوران مارکرم نے اپنی سنچری مکمل کی جبکہ باووما نے ففٹی بنائی۔ مارکرم 108 رنز بنا کر  حسن علی کا شکار بنے جبکہ باووما کو 62 رنز پر شاہین شاہ آفریدی نے آؤٹ کیا۔

حسن علی نے پروٹیز کپتان کوئنٹن ڈی کوک کو بھی پہلی ہی گیند پر آؤٹ کیا جبکہ جارج لنڈے کی وکٹ حاصل کر کے حسن علی نے اپنا پانچواں شکار کیا۔

جنوبی افریقا کی پوری ٹیم دوسری اننگز میں 274 رنز پر آؤٹ ہو گئی اور اس طرح پاکستان نے میچ 98 رنز سے جیت لیا۔

پاکستان کی جانب سے حسن علی نے 5 جبکہ شاہین شاہ آفریدی نے 4 اور یاسر شاہ نے ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔

پاکستان نے اپنی پہلی اننگز میں 272 رنز بنائے تھے جس کے جواب میں جنوبی افریقا کی ٹیم پہلی اننگز میں 201 رنز پر ڈھیر ہو گئی تھی جبکہ دوسر ی اننگز میں پاکستان نے 298 رنز اسکور کر کے جنوبی افریقا کو جیت کے لیے 370 رنز کا ہدف دہا تھا۔

خیال رہے کہ دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں پاکستان کو ایک صفر کی برتری حاصل ہے۔

پاک فوج نے چین کی جانب سے فوج کیلیے عطیہ کی گئی کورونا ویکسین ہیلتھ ورکرز کو دیدی

پاک فوج نے چین کی جانب سے فوج کے لیے عطیہ کی گئی کورونا ویکسین ہیلتھ ورکرز کو دے دی۔

 ایک بیان میں میجر جنرل بابر افتخار نےکہا کہ سب کو معلوم ہےکورونا سے پوری دنیا متاثر ہوئی، پاکستانی قوم نے کورونا کا کامیابی سے مقابلہ کیا اور ہیلتھ کیئر ورکرز نے کورونا سے مقابلے میں قوم کی بھرپورمدد کی۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ چین کی فوج نے افواج پاکستان کو ویکسین کا عطیہ دیا اور پاک فوج نے چینی فوج کی عطیہ کردہ ویکسین ہیلتھ ورکرز کو دے دی۔

سرکاری ٹی وی کے مطابق پاک فوج چین کی طرف سے ویکسین لینے والی پہلی فوج ہے، پاک فضائیہ کا الیوشن 78 طیارہ پاکستان کے لیے ویکسین لایا۔

صدارتی آرڈیننس بدنیتی پر بر مبنی ، ہم آئین کے تحت کام کرینگے، فضل الرحمن

پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ حکومت نے سینیٹ الیکشن کو مذاق بنا دیا، دنیا جانتی ہے کہ  صدارتی آرڈیننس بدنیتی پر مبنی ہے، ہم آئین کے تحت کام کریں گے۔

کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سربراہ پی ڈی ایم مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ حکومت نے سینیٹ الیکشن کو مذاق بنا دیا، ہم آئین کے تحت کام کریں گے، سینیٹ الیکشن کے معاملے پر ایک طرف الیکشن کمیشن نے جواب داخل کیا دوسری جانب معاملہ عدالت میں ہے اور یک دم صدارتی آرڈیننس جاری کردیا گیا، دنیا جانتی ہے کہ یہ آرڈیننس بد نیتی پر مبنی ہے، عدالت نے بھی کہا کہ یہاں آئین خاموش ہے اور خاموشی کا علاج پارلیمنٹ سے رجوع کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی جن لوگوں کو سینیٹ کے ٹکٹ دی رہی ہے ان کے اپنے لوگ بھی انہیں ووٹ دینا نہیں چاہتے یہی وجہ ہے حکومت اوپن بیلٹ کے ذریعے انتخابات کروانا چاہتی ہے۔

فضل الرحمان نے  کہا کہ وزیراعظم سے 31 جنوری تک مستعفی ہونے کا کہا تھا اور استعفی نہ آنے پر چار فروری کو دوبارہ بیٹھے اور مارچ میں لانگ مارچ کی ڈیڈ لائن دی، لانگ مارچ کا یہ فیصلہ متفقہ طور پر کیا گیا، روزانہ کی بنیاد پر حکمت عملی تبدیل کرنی پڑتی ہے، اب لانگ مارچ کے پلان کو قیادت طے کرے گی، یہ ایک تحریک ہے اور یہ چلتی رہے گی۔

سربراہ پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ نے کہا کہ عمران خان مسخرہ ہے، نااہل ہے ، پوری حکومت نااہل ہے، عمران خان نے کوٹلی میں خطاب کے دوران ریاستی موقف کی نفی کی، کشمیر کے لیے ہم انسانی حقوق کا مقدمہ لڑ رہے ہیں، گلگت بلتستان کو صوبہ قرار دینا اقوام متحدہ کی قراردادوں کی نفی ہے اسی لیے عمران خان کی تقریر کے بعد وزارت خارجہ نے وضاحت کی

بھارت نے افغانستان میں طالبان دھڑوں کو اکٹھا کیا‘ دہشتگردوں سے اتحاد خطے کیلئے خطرناک،سلامتی کونسل نے پاکستانی موقف کی تائید کردی

 بھارت کی جانب سے دہشتگردوں کی حمایت پر اقوام متحدہ نے پاکستان کا مؤقف تسلیم کرلیا ہے ۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اقوام متحدہ کی مانیٹرنگ ٹیم نے سلامتی کونسل کے لیے تیار 27ویں رپورٹ جاری کردی جس میں پاکستان کے مؤقف کو تسلیم کیا گیا ہے۔ دہشت گردوں کے اکٹھے ہونے پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے ڈوزیئر پیش کیا تھا۔بتایا گیا ہے کہاقوام متحدہ نے بھارتی حمایت سے دہشتگرد تنظیموں کے نئے اتحاد پرپاکستانکے مؤقف کی توثیق کی ہے یو این نے افغانستان میں مقیم ٹی ٹی پی اور جے یو اے کو پاکستان کے لیے لاحق خطرہ تسلیم کیا ہے۔رپورٹس کے مطابق سلامتی کونسل کے لیے تیار 27ویں رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دہشتگرد گروپ تحریک طالبان گزشتہ سال 3ماہ میں 100 سے زائد سرحدپار حملوں میں ملوث رہا، تحریک طالبان پاکستان کی طرف سے دہشت گردی کے لاحق خطرات سے مسلسل آگاہ کیا جاتا رہا، ٹی ٹی پی کے منقسم دھڑوں کو بھارت کی حمایت سے افغانستان میں دوبارہ اکٹھا کیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق 5دہشت گردگروپس نے جولائی اور اگست 2020میں ٹی ٹی پی میں شمولیت اختیار کی جن مین شہریار مسعود گروپ، جماعت الاحرار، حزب الاحرار، امجد فاروقی اور عثمان سیف اللہ گروپ (لشکرجھنگوی) بھی شامل ہیں، ٹی ٹی پی میں دیگردہشتگرد گروپوں کی شمولیت سے پاکستان اور خطے کو خطرات میں اضافہ ہوا۔ اقوام متحدہ کی مانیٹرنگ ٹیم نے اپنی رپورٹ میں یہ بھی کہا ہے کہ تحریک طالبان پاکستان کی قوت اور پاکستان میں دہشتگرد حملوں میں بھی اضافہ ہوا۔تحریک طالبان پاکستان جولائی اور اکتوبر2020کےدوران100 سے زائد سرحدپار حملوں کی ذمے دار ہے، ٹی ٹی پی کے جنگجوؤں کی تعداد 2500 سے6000 کے درمیان ہے۔ خیال رہے کہ گزشتہ سال پاکستان نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کو مراسلہ پیش کیا تھا جس میں تحریک طالبان پاکستان اور جماعت الاحرار دہشتگرد گروپوں کی پشت پناہی سے متعلق آگاہ کیا گیا تھا۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی 1267ویں سینگشنز کمیٹی نے بھی دونوں دہشتگردگروپوں کی نشاندہی کی تھی۔

اقوام متحدہ نے سکھوں اور بھارتی کسانوں کی حمایت کردی کسانوں کی متنازع قوانین کیخلاف تحریک جاری، اپوزیشن نے ملک گیر ہڑتال کی مکمل حمایت کا اعلان کردیا

 بھارتی کسانوں کی مودی حکومت کے متنازع زرعی قوانین کے خلاف تحریک جاری ہے، مودی نے دلی کے اردگرد سکیورٹی بڑھا دی۔ کانگریس سمیت تمام بڑی اپوزیشن جماعتوں نے کسانوں کی ملک گیر ہڑتال کی مکمل حمایت جاری رکھنے کا اعلان کر دیا۔

مودی کسانوں کی تحریک سے خوف زدہ، دارالحکومت دلی کے اطراف سکیورٹی انتظامات کو سخت کردیا گیا، کسانوں نے اتردیش اور اترکھنڈ بند کرنے کی دھمکی دے دی۔ رہنماوں نے زرعی قوانین کو معطل کرنے کی پیش کش بھی پھر مسترد کر دی۔

غازی پور بارڈر پر کسان رہنما راکیش ٹکیٹ نے کیل لگانے کی جگہ پر مٹی ڈال کر پھول لگا دیئے جبکہ کارکنوں نے نعرے بازی کی۔ کاشتکاروں کا کہنا ہے کہ 26 جنوری کی ٹریکٹر پریڈ نے تحریک میں نئی روح پھونک دی ہے۔

کانگریس سمیت دیگر سیاسی پارٹیوں نے کسانوں کی ملک گیر ہڑتال کی حمایت جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ مودی سرکار اوچھے ہتھکنڈوں سے باز نہ آئی، دھرنوں کے مقامات پر انٹرنیٹ بند کردیا۔

گذشتہ روز کسانوں کی جانب سے کامیاب پہیہ جام ہڑتال پر کئی علاقوں میں ٹریفک مکمل بند رہی،

ووٹ پر کاروبار روکیں گے: حکومت آئینی ترمیم کیلئے ہمارے پاس 2تہائی اکثریت نہیں، اوپن بیلٹ انتخابات کیلئے عدالتی فیصلہ کے منتظر ہیں: شاہ محمود قریشی

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ سینیٹ انتخابات سے متعلق آئینی ترمیم کے لیے ہمارے پاس دو تہائی اکثریت موجود نہیں ہے۔

ملتان میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پوری قوم کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ہم سینیٹ انتخابات میں اوپن بیلٹ کی کوشش کیوں کر رہے ہیں، پورا پاکستان جانتا ہے سینیٹ کے انتخابات میں خرید و فروخت ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ انتخابات آپ کے سامنے ہوئے، اس میں منڈیاں لگ گئیں، زمینوں کے خریدار میدان میں اتر آئے انہوں نے ایم پی ایز کو خریدنے کی منڈی لگائی، عمران خان، تحریک انصاف نے اس کا نوٹس لیا کہ یہ روایت درست نہیں۔

بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ منتخب نمائندگان اگر اپنا ووٹ بیچیں گے تو یہ عوام کے اعتماد کے سودے کے مترادف ہے، لوگ ان پر اعتماد کرکے ایک نظریے کے تحت چن کر ایک پارٹی کے پلیٹ فارم سے منتخب ہوکر آئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ نوید قریشی، جاوید انصاری اور شاہ محمود قریشی اگر بلے کے نشان پر منتخب ہوکر آئے ہیں تو ہمارا اخلاقی فرض بنتا ہے کہ ہم بلے کے نامزد اُمیدواروں کو ووٹ دیں، مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی والے اپنے منتخب لوگوں کو ووٹ دیں لیکن یہ جو منڈی لگتی ہے اسے بند ہونا چاہیے، یہ تحریک انصاف کا مؤقف ہے۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ یہ صرف پی ٹی آئی کا مؤقف نہیں بلکہ اگر پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے میثاق جمہوریت کی شق 24 کا مطالعہ کریں تو اس میں لکھا ہے کہ اوپن بیلٹ ہونا چاہیے، آج میرا مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کی قیادت سے سوال ہے کہ جب آپ نے ایک لکھا ہوا معاہدہ کیا ہوا ہے اور آپ کے دستخط موجود ہیں اور آپ نے اوپن بیلٹ کی حامی بھری تو آپ اس سے فرار کیوں اختیار کر رہے ہیں، قوم یہ جاننا چاہتی ہے۔

سینٹ الیکشن کیلئے آرڈیننس بدنیتی ، اپوزیشن

 پاکستان پیپلز پارٹی نے الیکشنز ایکٹ میں ترمیم آرڈیننس کو آئین اور پارلیمنٹ پر حملہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نے خود آئینی بحران پیدا کر دیا ہے۔

کراچی میں سینیٹر شیری رحمان کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے میاں رضا ربانی کا کہنا تھا کہ یہ کابینہ ملک کے آئین سے کھیل رہی ہے۔ یہ کابینہ نابینا ہے جو آئین نہیں پڑھ سکتی۔ فرض کریں اگر الیکشن آرڈیننس کے تحت ہو جاتے ہیں اور آرڈیننس منسوخ ہو جاتا ہے تو پھر پورا الیکشن ہی کالعدم ہو جائے گا۔

میاں رضا ربانی کا کہنا تھا کہ حکومت کسی ادارے کو تو چھوڑ دے۔ الیکشن کمیشن سپریم کورٹ میں اپنا جواب داخل کرا چکا ہے۔ الیکشن کمیشن نے جواب میں کہا ہے کہ سینیٹ اور قومی اسمبلی الیکشن آئین کے تحت ہوں گے۔ الیکشن کمیشن نے واضح کر دیا ہے کہ جب تک آئینی ترمیم نہ ہو، اوپن بیلٹ سے الیکشن نہیں کروا سکتے۔ اب حکومت نے الیکشن کمیشن کو بھی سپریم کورٹ کے سامنے کھڑا کر دیا ہے۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر قانون سازی کرنا تھی تو پھر سینیٹ اور قومی اسمبلی کا اجلاس کیوں بلایا؟ آرڈیننس کی زندگی صرف 120 دن تک ہے۔ پارلیمان کے ساتھ مذاق کرتے ہوئے سینیٹ الیکشن کو متنازع بنایا جا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ صدر مملکت آرڈیننس جاری کر سکتے ہیں لیکن پہلی شرط یہ ہے کہ سینیٹ اور قومی اسمبلی کا اجلاس نہ بلایا گیا ہو۔ یہ آرڈیننس بدنیتی پر مبنی ہے۔

رضا ربانی نے الزام عائد کیا کہ آرڈیننس کو لا کر محسوس ہوتا ہے کہ سپریم کورٹ پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ایسی قانون سازی اپنی زندگی میں نہیں دیکھی۔

اس موقع پر میڈیا سے گفتگو میں شیری رحمان کا کہنا تھا کہ آئینی ترمیم کے لیے اپوزیشن سے کوئی مشاورت نہیں کی گئی۔ یہ پارلیمان کو آرڈیننس فیکٹری بنا چکے ہیں۔ اب یہ عدالت پر بھی دباؤ ڈال رہے ہیں۔

شیری رحمان کا کہنا تھا کہ پارلیمان اس معاملے پر بحث کر سکتی تھی۔ تاہم حکومت نے اپنے ہاتھوں آئینی بحران پیدا کر دیا ہے۔ لگتا ہے ان کے اپنے اراکین اسمبلی ان کیساتھ نہیں ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ معاملہ عدالت میں ہے اور راتوں رات آرڈیننس جاری کر دیا گیا۔ یہ آئین اورپارلیمان پر حملہ ہے۔

ایف اے ٹی ایف ورچائل اجلاس 22فروری سے شروع ہوگا

پاکستان کا نام گرے لسٹ سے نکالنے کی پیشرفت کے جائزے کے لیے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کا ورچوئل اجلاس 22 سے 25 فروری کو ہوگا۔

حکام وزارت خزانہ کے مطابق پاکستان منی لانڈرنگ اور ٹیرر فنانسنگ کے خلاف پیشرفت رپورٹ ارسال کر چکا ہے۔

پاکستان 27 میں سے 21 نکات پر مکمل عمل کرچکا ہے اور مزید پر ٹھوس پیش رفت جاری ہے۔ باقی ماندہ 6 نکات پر 70 فیصد تک کام مکمل ہو چکا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان نے 2سال میں ایف اے ٹی ایف ایکشن پلان پر تیزی سے پیشرفت کی۔

واضح رہے کہ 4 ماہ قبل 23اکتوبر 2020 کو ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کا نام فروری 2021ء تک گرے لسٹ میں رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔ ایف اے ٹی ایف نے تسلیم کیا تھا کہ پاکستان نے 27 میں سے 21 نکات پر نمایاں پیش رفت کی۔

ایف اے ٹی ایف نے پاکستان سے ممنوعہ تنظیموں اور ان سے وابستہ افراد کیخلاف تحقیقات میں تیزی لانے کا مطالبہ کرتے ہوئے این جی اوز کے فنڈز اکٹھا کرنے اور ان کی ترسیل روکنے پر بھی زور دیا تھا۔

فنانشل ایکشن ٹاس فورس کے مطابق ممنوعہ تنظیموں اور افراد کے اثاثوں کو منجمد کیا جائے، دہشت گردوں کی مالی سروسز تک رسائی روکی جائے۔ عالمی ادارے نے قوانین پر عمل درآمد کیلئے پاکستانی وفاقی اور صوبائی حکام کے درمیان تعاون بڑھانے پر بھی زور دیا

طالبان کی امریکاکوامن معاہدےسےپیچھے ہٹنے پربڑی جنگ کی دھمکی

افغان طالبان نے امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کو متنبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر وہ گزشتہ سال 29 فروری کو طے پانے والے امن معاہدے سے پیچھے ہٹے، تو اس سے افغان جنگ میں خطرناک تیزی آئے گی۔

دھمکی سے 2 روز قبل، امریکا میں کانگریس کے 2 جماعتی پینل نے اپنی سفارش میں صدر بائیڈن سے کہا تھا کہ وہ یکم مئی کو افغانستان سے امریکی فوجیوں کے مکمل انخلا کے معاہدے میں توسیع کریں۔

دی افغانستان اسٹڈی گروپ’ نے بدھ کے روز، اپنی رپورٹ میں سفارش کی تھی کہ انتظامیہ امریکی افواج کے انخلا کو سختی کیساتھ طالبان کی جانب سے کئے جانے والے تشدد میں کمی اور بین الافغان مذاکرات میں پیش رفت سے منسلک کرے۔

اسٹڈی گروپ نے خبردار کیا کہ مئی کی مقررہ تاریخ تک تمام امریکی اور نیٹو افواج کے انخلا کے بعد افغانستان میں خانہ جنگی شروع ہو سکتی ہے، جس سے خطہ عدم توازن کا شکار اور دہشت گرد تنظیم القاعدہ بحال ہو سکتی ہے۔

اسٹڈی گروپ کی رپورٹ کے جواب میں، طالبان کی ویب سائٹ پر چھپنے والے بیان میں طالبان نے ان الزامات کو مسترد کیا ہے۔ طالبان کا کہنا ہے کہ وہ معاہدے میں طے کی گئی شرائط پوری نہیں کر رہے۔ انہوں نے امریکا کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر دوحا معاہدے سے امریکا پیچھے ہٹا تو پھر بڑی جنگ شروع ہو سکتی ہے، جس کی تمام تر ذمہ داری امریکہ پر ہو گی۔

طالبان نے نئی امریکی انتظامیہ کو مشورہ دیا ہے کہ وہ معاہدے کو جذباتی انداز سے نہ دیکھیں، اور اس کی بجائے افغان جنگ میں مزید سرمایہ کاری ختم کریں۔ طالبان کے تبصرے میں کہا گیا ہے کہ سب کو کسی بھی قسم کے اشتعال انگیز اقدامات اور بیان بازی سے گریز کرنا چاہئیے، کیونکہ اس سے سب پہلے جیسی حالتِ جنگ میں واپس چلے جائیں گے، جو نہ تو امریکا اور نہ ہی افغان عوام کے مفاد میں ہے۔

واضح رہے کہ امریکا اور طالبان کے درمیان امن سمجھوتہ ہونے کے بعد، امریکی افواج کی تعداد 13 ہزار سے کم ہوکر ڈھائی ہزار ہوگئی ہے۔ اس کے بدلے، طالبان نے اپنی دہشت گرد کاروائیاں ختم کرنے کی یقین دہانیاں کرائی تھیں اور یہ وعدہ کیا تھا کہ وہ افغان حکومت کیساتھ مل کر کوئی مذاکراتی حل تلاش کریں گے، تا کہ اس طویل جنگ کا خاتمہ ہو سکے۔

بائیڈن انتظامیہ نے ٹرمپ انتظامیہ کے مقرر کردہ افغانستان کے خصوصی ایلچی زلمے خلیل زاد کو اپنی ذمہ داریاں جاری رکھنے کیلئے کہا ہے۔ افغان نژاد، زلمےخلیل زاد ایک منجھے ہوئے امریکی سفارتکار ہیں۔ خلیل زاد ہی نے طالبان کے ساتھ امن معاہدے طے کیا تھا۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ طالبان نے اپنے تازہ حملوں میں کم از کم 21 افغان فوجیوں کو ہلاک کیا ہے، جب کہ طالبان اور افغان حکومت کے درمیان امریکی ثالثی میں ہونے والے امن مذاکرات میں تعطل جاری ہے۔ اسی دوران، طالبان نے دھمکی دی ہے کہ اگر امریکا گزشتہ سال 29 فروری کو طے پانے والے امن معاہدے سے پیچھے ہٹا، تو اس سے افغان جنگ میں خطرناک تیزی آئے گی۔

یہ لڑائی ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب امریکا سال 2020 میں طالبان سے کئے گئے وعدے پر نظر ثانی کر رہا ہے، جس کے تحت امریکی اور دیگر اتحادی افواج کو اس سال مئی تک افغانستان سے انخلا کرنا ہے