نیب کا کسی سیاسی جماعت، گروہ اور فرد سے کوئی تعلق نہیں، چیئرمین نیب

چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کا کہنا ہے کہ  نیب کا کسی سیاسی جماعت،گروہ  یا فرد سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

تفصیلات کے مطابق  چیئرمین نیب کی زیر صدارت نیب کے ایگزیکٹو بورڈ  کے اجلاس کا اعلامیہ جاری کردیا گیا۔

نیب ایگزیکٹو بورڈ اجلاس میں دو ریفرنسز، آٹھ انکوائریز  اور  آٹھ انوسٹی گیشنز کی منظوری دی گئی۔

سابق چیئرمین کے پی ٹی احمد حیات  اور سید جمشید زیدی  کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کی منظوری دی گئی۔

 محمد فاروق اور سردار انور قمبرانی  کے خلاف بھی ریفرنس دائر کرنے کرنے کی منظوری دی گئی۔ ملزمان پر صاف پانی منصوبے میں غیر قانونی ٹھیکے دینے کا الزام ہے۔

حکمران جماعت تحریک انصاف  کے رہنما شوکت یوسفزئی بھی نیب ریڈار پر آگئے۔ چیئرمین نیب نے شوکت یوسفزئی  کے خلاف انکوائری کی منظوری دے دی۔

منظور احمد وٹو ، سابق وزیر انڈسٹریز  کے خلاف انکوائری عدم ثبوت پر بند کر دی گئی۔

اس موقع پر چیئرمین نیب نے کہا کہ  ملک سے بدعنوانی کا خاتمہ اورکرپشن فری پاکستا ن نیب کی اولین ترجیح ہے۔

جسٹس ریٹائرڈ  جاوید اقبال نے کہا کہ نیب انسداد بدعنوانی کا قومی ادادرہ ہے اور احتساب سب کے لیے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔

انہوں نے کہا کہ نیب کا تعلق کسی سیاسی جماعت،گروہ اور فرد سے نہیں ہے۔  نیب کا تعلق صرف اور صرف ریاست پاکستان سے ہے۔

کے ٹو سرکرنے کی تمام مہمات ختم کردی گئیں‘بیس کیمپ میں موجود ٹیمیں سکردو روانہ ہوگئیں

دسمبر کے وسط سے18ممالک کے60کوہ پیما موسم کے ٹھیک ہونے کا انتظار کررہے تھے.رپورٹ

سکردو(ویب ڈیسک) حکومت پاکستان کی درخواست پر اس سال موسم سرما میں دنیا کی دوسرے بلند ترین پہاڑ ”کے ٹو“ کو سر کرنے کی مہم ختم کر دی گئی ہے جس کے بعد بیس کیمپ پر موجود تمام غیر ملکی کوہ پیما سکردو روانہ ہو گئے ہیں . دسمبر کے وسط میں تقریباً 18 ممالک سے 60 کوہ پیماﺅں نے موسم سرما میں کے ٹو کو سر کرنے کے لیے ”کے ٹو کے“ بیس کیمپ پر ڈیرے ڈالے تھے مسلسل خراب موسم کی صورتِ حال کے پیش نظر مہم جو بیس کیمپ سے سکردو روانہ ہو گئے ہیں.

کے ٹو کی اونچائی اگرچہ دنیا کی بلندترین چوٹی ماﺅنٹ ایوریسٹ سے صرف 2سو میٹر کم ہے مگر دنیا بھر کے کوہ پیماءاسے ماﺅنٹ ایورسٹ کے مقابلے میں خطرناک اور چیلنجگ قراردیتے ہیں یہی چیزکے ٹو کو ماﺅنٹ ایورسٹ سے بھی ممتازبناتی ہے دنیا کے بڑے کوہ پیماﺅں کے مطابق ماﺅنٹ ایورسٹ پر چڑھنا مشکل کا م نہیں مگر کے ٹو پر وہی مہم کامیاب ہوسکتی ہے جو خود کے ٹو چاہے.الپائن کلب آف پاکستان کے مطابق آئندہ سات روز تک موسم خراب رہنے کی پیش گوئی ہے جس کی وجہ سے سرمائی مہم 2020-2021 کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاہم لاپتا ہونے والے کوہ پیماﺅں کی تلاش کا عمل جاری رہے گا یاد رہے کہ16 جنوری کو10 نیپالی کوہ پیماﺅں نے نرمل پرجا کی قیادت میں پہلی مرتبہ موسم سرما میں دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کو سر کر کے تاریخ رقم کی تھی بعدازاں پاکستانی کوہ پیما محمد علی سد پارہ، ان کے صاحبزادے ساجد علی سدپارہ، آئس لینڈ کے جان سنوری اور چلی کے ہوان پابلو مور ایک اور تاریخ رقم کرنے کے لیے آگے بڑھے.آکسیجن کی کمی اور صحت کی خرابی کے باعث ساجد سدپارہ کو 8ہزار میٹر کی بلندی پر ہی اپنا مشن ملتوی کرنا پڑاجس کے بعد وہ بحفاظت بیس کیمپ میں واپس پہنچ گئے تاہم باقی ماندہ تینوں کوہ پیماﺅں کا جمعہ کی شام سے بیس کیمپ کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں ہے پاکستان آرمی کے ہیلی کاپٹروں کے علاوہ مقامی چوٹیاں سر کرنے والے کوہ پیما اور دیگر ماہرین کی جانب سے لاپتہ کوہ پیماﺅں کی تلاش کے لیے سرچ اور ریسکیو مشن جاری ہے لیکن تا حال تینوں کوہ پیماﺅں کا کوئی سراغ نہیں ملا.الپائن کلب آف پاکستان کے مطابق موسم کے صاف ہونے کا انتظار کیا جا رہا ہے گزشتہ روز کے سرچ آپریشن کے دوران ٹیم کو چند مقامات پر کوہ پیماﺅں کی چند باقیات ملی تھیں جس کا جائزہ لینے کے بعد نتیجہ اخذ کیا گیا کہ یہ شواہد کیمپ سلیپنگ بیگ کے ہیں اگرچہ تینوں لاپتا کوہ پیماﺅں کے زندہ بچنے کے بارے میں اب تک کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں ہوا تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ8 ہزار میٹر سے زائد کی بلندی پر کسی کا اتنے دنوں تک زندہ رہنا ناممکن ہے نذیر سدپارہ کا شمار دنیا کے نامور کوہ پیماﺅں میں ہوتا ہے انہوں نے 1981 میں کے ٹو اور سن 2000 میں دنیا کی بلند ترین چوٹی ”ماﺅنٹ ایورسٹ“سر کی تھی نذیر سدپارہ کا کہنا ہے کہ سننے میں آ رہا ہے کہ کیمپ تھری میں جان سنوری کو فراسٹ بائیٹ ہوا تھا اور چلی سے تعلق رکھنے والے ہوان پابلو مور بھی منجھے ہوئے کوہ پیما نہیں تھے اس تمام صورتِ حال میں علی سدپارہ پر بہت زیادہ دباﺅ تھا اور دونوں غیر ملکی کوہ پیماﺅں کا انحصار علی سدپارہ پر ہی تھا.نذیر سدپارہ نے کہا کہ ایسی صورت میں جب تیز ہوا چل رہی ہو اور درجہ حرارت منفی 60 سے بھی نیچے ہو تو ایسے حالات میں ایک جگہ بیٹھ کر آٹھ گھنٹے سے زیادہ گزارنا ناممکن ہے انہوں نے بتایا کہ آکسیجن بھی زیادہ سے زیادہ آٹھ سے دس گھنٹے تک ہی آپ کے کام آ سکتی ہے اتنی ٹھنڈ میں خون کی روانی بہت زیادہ سست ہوتی ہے اور سب کچھ جمنا شروع ہو جاتا ہے. کے ٹو کا شمار دنیا کے خطرناک ترین پہاڑوں میں ہوتا ہے اب تک اسے سر کرنے کی کوشش میں 88 کوہ پیما ہلاک ہو چکے ہیں گزشتہ ہفتے اسی کوشش میں بلغاریہ سے تعلق رکھنے والے 42سالہ اٹانس اسکاٹوو گر کر ہلاک ہوئے تھے ان کی ہلاکت بیس کیمپ کی جانب رسیاں تبدیل کرتے ہوئے ہوئی اس سے قبل اسی مشن سے منسلک ہسپانوی کوہ پیما بھی ہلاک ہو گئے تھے اعدادوشمار کے مطابق ماﺅنٹ ایورسٹ پر اموات کی شرح 4فیصد جبکہ کے ٹوپر 29فیصد ہے کیونکہ کے ٹوکے راستے موت کی گھاٹیوں سے بھرے پڑے ہیں.

عدنان شاہد کو بچھڑے 14سال ،ہم سب ان کی کمی محسوس کرتے ہیں

عدنان شاہد کو بچھڑے 14سال ،ہم سب ان کی کمی محسوس کرتے ہیں
حکومت پاکستان نے جرنلزم کے فروغ کے اعتراف میں 36سال کی عمر میں تمغہ امتیاز سے نوازا
دی پوسٹ کو انگریزی اخبارات میں تیسرے نمبر پر لے آئے ،ہم دونوں نے والد سے بہت کچھ سیکھا،
ایڈیٹر خبریں میڈیا گروپ امتنان شاہد کی چینل ۵ کے پروگرام “ضیاءشاہد کے ساتھ” میں گفتگو
کہا کہ عدنان شاہد کو دنیا سے گئے 14سال گزر گئے تاہم آج تک بھی ہمارے پورے خاندان کو خصوصاان کے بچوں کو کمی محسوس ہوتی ہے۔اس کے ساتھ ساتھ یہ دیکھ کر لوگ کس طرح ان کو یاد اور پیار کرتے ہیں،اوربڑی خوشی محسوس ہوتی ہے۔انسان کی اصل کمائی یہی ہے کہ جب وہ دنیا میں نہ رہے تو اسے دنیا اچھے الفاظ میں یاد کرے۔عدنان شاہد میرے بھائی،کو لیگ اور دوست تھے ہم ایک ساتھ کرکٹ کھیلتے تھے،ماڈل ٹاﺅن والے گھر میں ہم دونوں ایک ہی کمرے میں رہتے تھے۔ان کی یادیں ہر وقت میرے ساتھ ہیں

ٹوئٹر نے سیکڑوں بھارتی اکاؤنٹس مستقل طور پر بند کردیے

مائیکرو بلاگنگ سائٹ ٹوئٹر نے بھارتی حکومت کی ہدایت کے بعد 500 سے زائد بھارتی اکاؤنٹس مستقل طور پر بند کر دیے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق کمپنی کا کہنا ہے کہ انہوں نے بھارتی حکومت کے حکم پر کسانوں کے احتجاج سے متعلق غلط معلومات اور اشتعال انگیز مواد کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے یہ اکاؤنٹس بند کیے۔

 

ٹوئٹر کا کہنا ہے کہ یہ 500 سے زائد اکاؤنٹس صرف بھارت میں ہی بلاک کیے گئے ہیں اور یہ اکاؤنٹس بھارت کے علاوہ دیگر ممالک کے صارف دیکھ سکتے ہیں۔

ٹوئٹر نے میڈیا ادارے، صحافی اور سیاست دانوں کے اکاؤنٹس معطل نہیں کیے کیونکہ ایسا کرنے سے بھارتی قانون کے تحت آزادی اظہار کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہوگی۔

خیال رہے کہ بھارت میں گزشتہ 2 ماہ سے کسانوں کی جانب سے احتجاج کیا جا رہا ہے اور عالمی شخصیات کی جانب سے بھی کسانوں کے حق میں آواز بلند کی جا رہی ہے۔

امتنان شاہد کی وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار سے ملاقات، ملک کی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال

ملاقات کے دوران ملک کی سیاسی صورتحال پر گفتگو کی۔سینٹ الیکشن کے حوالے سے گفتگوکرتے ہوئے وزیراعلیٰ عثمان بزدار کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی پوزیشن بہت مستحکم ہے اور سینٹ الیکشن کے بعد تحریک انصاف سینیٹ میں سب سے بڑی جماعت ہوگی،ان کا کہنا تھا کہ دور دراز کے علاقوں کو ترقی دینا وزیراعظم عمران خان اور ہمارا مشن ہے گورننس کے معاملا ت بھی بہتر ہو چکے ہیں۔
عدنان شاہد کی 14ویں برسی کے حوالے سے ان کیلئے دعا ئے مغفرت کی اور اللہ کے حضوربلندی درجات کی دعا کی۔

کور کمانڈر کانفرنس دہشتگردی پر قابو پا چکے ،انٹرنیشنل کر کٹ کی واپسی ثبوت:آرمی چیف

کور کمانڈرز کانفرنس کے شرکا نے پرعزم کشمیریوں کی حمایت جاری رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر پر آگاہی بڑھنے کو انتہائی مثبت قرار دیا ہے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے زیر صدارت کور کمانڈرز کانفرنس ہوئی جس میں ملک، خطے اور بارڈرز کی سیکیورٹی کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔

کور کمانڈرز کانفرنس میں فاٹا میں سیکیورٹی کی بہتر ہوتی صورتحال کا بھی جائزہ لیا گیا۔ عسکری قیادت کا کہنا تھا کہ ضم ہوئے اضلاع میں اصلاحات پر جلد عملدرآمد وقت کی ضرورت ہے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق کور کمانڈرز کانفرنس میں افغان امن عمل پر بھی غور کرتے ہوئے کہا گیا کہ علاقائی امن کے لیے افغانستان میں امن اور اسحتکام کا ہونا لازم ہے۔

کانفرنس سے خطاب میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی کرکٹ کی واپسی اور بہتر ہوتی سیکیورٹی صورتحال قربانیوں کا نتیجہ ہے۔ یہ قربانیاں پاکستان سے انتہاء پسندی اور دہشت گردی ختم کرنے کے لیے دی گئیں۔

سینٹ الیکشن ویڈیو کو سپریم کورٹ میں لائینگے: وزیراعظم عمران خان

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ حکومت مخالف اپوزیشن تحریک پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) بدعنوانی کے نظام کی حمایت کر رہی ہے۔

سینیٹ الیکشن میں اراکین اسمبلی کی خریدوفروخت کے معاملے کی ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد اپنے ردعمل میں وزیراعظم نے کہا ہے کہ اشرافیہ اقتدار کے لیے پیسہ خرچ کرتی ہے۔ اسی اقتدار کو لوٹی دولت بیرون ملک چھپانے کیلئے استعمال کرتے ہیں۔ اسی پیسہ سے بیوروکریٹس، پالیسی سازوں کو دولت بچانے کیلئے استعمال کرتے ہیں۔ پی ڈی ایم اسی لیے بدعنوانی کے نظام کی حمایت کر رہی ہے۔

ٹویٹر پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم نے لکھا کہ کرپشن اور منی لانڈرنگ سیاسی اشرافیہ کی شرمناک داستان ہے۔ اسی چیز نے قوم کو تباہی کے دہانے پر کھڑا کر دیا ہے۔

وزیراعظم نے 2018ء کے سینیٹ الیکشن میں ہارس ٹریڈنگ کی ویڈیو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ویڈیو میں ووٹوں کی خرید وفروخت کا شرمناک فعل نظر آ رہا ہے۔ ویڈیو ظاہر کرتی ہے کہ سابق حکمرانوں نے قوم کو اخلاقی طور پر تباہ کیا۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ قوم کو اسی حکمران طبقے نے قرضوں میں ڈبو دیا۔ ہم کرپشن اور منی لانڈرنگ کو ہر صورت روکیں گے۔

کرونا وائرس جانوروں سے آیا ،چینی لیبارٹری سے نہیں: عالمی ادارہ صحت

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیوایچ او) اور چین کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے کووڈ 19 کے شروع ہونے کے مقام کا تعین کرنے کے لیے منگل کو کام مکمل کر لیا ہے۔

وبا کہاں سے شروع ہوئی اس بارے میں تو کچھ نہیں بتایا گیا تاہم ڈبلیو ایچ او کے تحقیق کار بین امبارک نے کرونا (کورونا) وائرس کے ووہان لیبارٹری سے لیک ہونے کے متنازع نظریے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس بات کا امکان ‘انتہائی کم ہے۔’

ان کا کہنا تھا کہ ‘وائرس کے لیبارٹری سے لیک ہونے کے مفروضے کو ان مفروضوں میں شامل نہیں کریں گے جن پر مستقبل میں تحقیق کی جائے گی۔’

امبارک کا کہنا تھا کہ اس بات کا بھی کوئی اشارہ نہیں ملا کہ دسمبر 2019 میں جب پہلی سرکاری طورپر کرونا وائرس کے کیس ریکارڈ کئے گئے تو اس سے پہلے بیماری چین کے شہرووہان میں موجود تھی۔

 انہوں نے مزید کہا کہ وائرس کی جانوروں سے انسانوں کو منتقلی کا کھوج لگانے کے لیے کام جاری ہے اور ووہان کے علاقے میں میں چمگادڑوں کے نہ پائے جانے کی وجہ سے اس بات کا امکان کم ہو گیا کہ وائر س چمگادڑوں سے براہ راست انسانوں میں منتقل ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس بات کا امکان زیادہ ہے کہ وائر س کسی جانور کے واسطے سے انسانوں تک پہنچا۔

وائرس کے مقام آغاز کے بارے میں چھان بین کرنے والی چینی ٹیم کے سربراہ لیانک وانیان نے کہا ہے کہ وائرس کی جانوروں سے انسانوں میں منتقلی ممکن ہے لیکن شروع میں وائرس کا میزبان کون تھا اس کی شناخت باقی ہے۔

ماہرین کا ماننا ہے کہ وائرس چمگادڑوں سے پھیلا اور دودھ دینے والے کسی دوسرے جانور کے ذریعے انسانوں میں منتقل ہوا۔ انہوں نے کہا کہ تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ ایسا ممکن ہے کہ کھانے پینے کی منجمد اشیا کے ذریعے وائرس نے طویل فاصلہ طے کیا۔ ان کا یہ بیان اس جانب اشارہ ہے کہ چین میں وائر س باہر سے آیا۔ حالیہ مہینوں میں چین میں یہ مفروضہ عام ہے۔

چین نے عالمی ادارہ صحت کے تحقیقاتی مشن کے کام کو کئی مرتبہ مؤخر کیا۔ مشن کو خوف تھا کہ اس کے نتائج کو حقائق پر پردہ ڈالنے کی کوشش قرار دیا جائے گا کیونکہ امریکہ بھرپور تحقیقات کا مطالبہ کر رہا تھا جس کے جواب میں چین نے خبر دار کیا کیا کہ تحقیقات کو سیاسی رنگ دینے سے گریز کیا جائے۔

چینی حکام نے تحقیقات کے عمل کی کڑی نگرانی کی اور رپورٹروں کو ماہرین سے دور رکھا گیا۔ تحقیقاتی ٹیم نے اس نمائش کا بھی دورہ کیا جس کے ذریعے چین کے وبا پر مکمل طور پر قابو پانے کا پروپیگنڈا کیا گیا۔ دوسری جانب دنیا بھر میں کرونا وائرس سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد  23لاکھ سے زیادہ ہو چکی ہے جب کہ عالمی معیشت پر بدترین اثرات مرتب ہوئے ہیں۔

اس وقت عالمی سطح پر وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 10 کروڑ 60 لاکھ سے زیادہ ہے۔ وائرس سے سب زیادہ متاثر ہونے والے مشرق وسطیٰ کے ممالک میں ویکسینیشن مہم شروع کردی گئی ہے۔

کابینہ نے وفاقی ملازمین کی تنخواہوں میں 40 فیصد اضافے کی منظوری دے دی

اسلام آباد: کابینہ نے وفاقی ملازمین کی تنخواہوں میں 40 فیصد اضافے کی منظوری دے دی۔

وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا۔ اجلاس میں وفاقی کابینہ نے وفاقی ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کی منظوری دے دی تاہم ایف بی آر، نیب اورایف آئی اے سمیت جن ملازمین کو پہلے اضافی تنخواہ مل رہی وہ شامل نہیں ہوں گے۔ اس کے علاوہ  کابینہ نے صوبوں کوملازمین کی تنخواہوں میں اضافے سے متعلق خود فیصلہ کرنے کی ہدایت کی ہے۔

اجلاس میں وزیراعظم کوملک بھرمیں کوویڈ ویکسینیشن سے متعلق آگاہ کیا گیا۔ بریفنگ میں کہا گیا کہ ترجیحات طے ہیں ہیلتھ ورکرز کے بعد بزرگ افراد کو ویکسین لگائی جائے گی۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ کورونا ویکسین بلا تفریق لگائی جائے گی اورصوبے ویکسینیشن کے عمل میں میرٹ اورشفافیت کو یقینی بنائیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس کے دوران مشیر داخلہ و احتساب شہزاد اکبر نے 2018 کے سینیٹ انتخابات کے دوران ارکان خیبر پختونخوا اسمبلی کی خرید و فروخت کی ویڈیو کا معاملہ کابینہ میں اٹھایا، کابینہ ارکان نے اتفاق کیا کہ ارکان کی خرید و فروخت کا معاملہ بند ہونا چاہیے، اور اوپن بیلٹ ہی مسئلے کا حل ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ اوپن بیلٹ الیکشن چاہتا ہوں تاکہ ووٹ کی قیمت نہ لگے۔

عدالتوں پر دھاوے کا کوئی جواز نہیں پیش کیا جا سکت ،لطیف کھوسہ کی چینل ۵ کے پروگرام “ضیاءشاہد کے ساتھ” میں گفتگو”

چینل ۵ کے تجزیوں اور تبصروں پر مشتمل پروگرام”ضیاءشاہد کے ساتھ”میں خصوصی گفتگو کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے رہنماءاور سینئر قانونی ماہر لطیف کھوسہ نے کہا کہ عدالتوں پر دھاوا بولے جانے کا کوئی جواز پیش نہیں کیا جا سکتا ہم نے ہمیشہ ایسے واقعات کی مذمت کی اور کرتے رہیں گے۔عدلیہ پر اسی طرح حملے ہوں گے تو قانون کی حکمرانی کی نفی ہوگی۔اسلام آباد ہائیکورٹ واقعہ کی تحقیقات ہونی چاہئے،کیونکہ ایسے واقعات کے پیچھے ہوتا یہ ہے کہ کچھ لوگ بیچ میں تخریب کے لئے کالے کوٹ پہنا کر بھیج دیے جاتے ہیں،اسی طرح وکلاءبرادری کو بدنا م کیا جاتا ہے،بار کونسل کو تصدیق کے بعد تادیبی کار روائی کرنی چاہیے ،اس طرح کے کرداروں کو انجام تک پہنچنا چاہئے ،یہ ہمارے ضابطہ اخلاق اور قانون میں موجود ہے،وکلاءکی آڑ میں اگر کسی بیرونی عنصر نے کارروائی کی تو اس کے خلاف بھی کار روائی ہونی چاہئے،پی ڈی ایم کی تحریک کا مقصد یہ ہے کہ ادارے اپنی حدود میں رہ کر کام کریں،ریاست آئین اور قانون کے دائرے میں چلنی چاہئے۔حکومت نے پارلیمان کو بے توقیر بنا رکھا ہے،آئین میں بالکل واضح ہے کہ وزیراعظم اور وزیر اعلیٰ کے علاوہ تما م ووٹنگ خفیہ بیلٹ سے ہوں گے حکومت اگر سپریم کورٹ چلی ہی گئی تھی تو تھوڑا انتظار کر لیتی ،سپریم کورٹ آئین کو تبدیل نہیں کر سکتی ،حکومت آئین کے ساتھ کھلواڑ کر رہی ہے

حکومت صدارتی آرڈیننس جاری کر سکتی ہے اسے کوئی نہیں روک سکتا:سپریم کورٹ

چیف جسٹس نے  کہا کہ ’رضا ربانی صاحب اگر یہ وجہ ہے اوپن بیلٹ سے انتخابات کی تو آپ اس کی مخالفت کیوں کر رہے ہیں؟ انتخابات صاف اور شفاف ہونے چاہیں۔ بد دیانت لوگوں کو منتخب نہیں ہونا چاہیے۔‘
رضا ربانی نے جواب دیا کہ ’کوئی بھی سیاسی جماعت شفافیت کے سوال پر اعتراض نہیں کر رہی۔ بنیادی سوال شفافیت کا نہیں ہے۔ کوئی بھی سیاسی جماعت سینیٹ میں بدعنوان لوگوں کی نمائندگی کی حامی نہیں۔‘ چیف جسٹس نے کہا کہ پھر جمعرات کے دن کیا ہوا وہاں تو مختلف مؤقف اختیار کیا گیا۔ رضا ربانی نے کہا کہ ’میں سیاسی معاملے کی طرف آتا ہوں۔‘
اٹارنی جنرل نے کہا کہ دو بڑی سیاسی جماعتیں صدارتی ریفرنس کی سماعت میں فریق نہیں ہیں۔ رضا ربانی نے کہا کہ ’میں یہاں تصحیح کرنا چاہتا ہوں۔ سندھ حکومت کے ذریعے پیپلز پارٹی یہاں فریق ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’نہ حکومت سیاسی جماعت کی طرف سے بات کر سکتی ہے نہ سیاسی جماعت حکومت کی طرف سے۔‘ رضا ربانی نے کہا کہ حکومت جماعت سے الگ نہیں ہے۔
اٹارنی جنرل نے کہا کہ ’یہ بڑی عجیب بات ہے ایڈووکیٹ جنرل سندھ پیپلز پارٹی کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ میں یہاں پی ٹی آئی کی طرف سے نہیں وفاق کی نمائندگی کر رہا ہوں۔‘
اٹارنی جنرل نے کہا کہ ’اگر عدالت کی رائے نہ آئی تو سینٹ الیکشن خفیہ رائے شماری سے ہی ہوگا۔ پریس کانفرنس میں کہا گیا عدلیہ پر حملہ کیا گیا ہے۔
جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ ’میں آئین کے ڈھانچے کو سمجھنے کی کھوج میں ہوں۔ میں یہ تلاش کر ہا ہوں کہ آرٹیکل 226 کے تحت وزیراعظم اور وزراء سمیت دیگر انتخابات کا طریقہ کار خفیہ کیوں رکھا گیا ہے۔ ہم نے اپنے ملک میں اچھے سیاست دان بھی دیکھے ہیں۔ ہمیں سب سیاست دانوں کو ایک ترازو میں نہیں تولنا چاہیے۔

پنجاب کے دور افتادہ علاقوں کی محرومیوں کے خاتمہ کا وقت آگیا :عثمان بزدار

وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے کہا ہے کہ پسماندہ ترین علاقوں کا وکیل ہوں، سابق حکمرانوں نے صوبے کی حقیقی ضروریات کے بجائے ذاتی پسند و ناپسند کو ترجیح دی۔

وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ پنجاب کے دور افتادہ علاقوں کی محرومیوں کے خاتمے کا وقت آگیا، ترقی کے سفر کو نظر انداز کئے جانے والے شہروں تک لے کر گئے ہیں، ماضی میں وسائل کو جان بوجھ کر مخصوص شہروں تک محدود رکھا گیا، سابق دور کی فاش خرابیاں دور کی ہیں، ماضی میں قومی وسائل کے من پسند استعمال کی غلط روایت کو ختم کیا ہے۔

عثمان بزدار کا کہنا تھا کہ قومی وسائل کے امین ہیں، پنجاب کی تاریخ میں پہلی بار قومی وسائل کی یکساں تقسیم کی داغ بیل ڈالی ہے، وسائل کی یکساں تقسیم صوبے کی یکساں ترقی کی ضمن ہے، پنجاب کے پسماندہ ترین علاقوں کی ترقی کے لیے پہلی مرتبہ فنڈز دئیے گئے ہیں، پسماندہ ترین علاقوں کی ترقی کے لئے دن رات ایک کئے ہوئے ہیں، سابق حکمرانوں نے دور دراز علاقوں پر کوئی توجہ نہیں دی، ہم نے وسائل کا رخ محروم علاقوں کی جانب موڑا ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب نے مزید کہا کہ نظر انداز علاقوں کی خوشحالی کے لئے جو کچھ بھی کر سکا، کر گزروں گا، پسماندہ علاقوں کی قسمت بدلنے آیا ہوں اور قسمت بدل کر دکھاؤں گا، پنجاب کی تاریخ میں پہلی بار دور دراز علاقوں میں ترقی کا سفر پہنچا ہے، یہ سفر رکے گا نہیں بلکہ مزید تیز ہو گا۔

یورپ کے سفر کیلئے کرونا ویکسین پاسپورٹ ضروری ،ڈنمارک میں آغاز

سینکڑوں افراد ہفتہ کی رات کوپن ہیگن کی سڑکوں پر نکل آئے تھے تاکہ ڈنمارک کی کوویڈ 19 پابندیوں اور ملک میں ڈیجیٹل ویکسی نیشن سرٹیفکیٹ کے منصوبے کے خلاف احتجاج کیا گیا تھا۔

اپنے آپ کو “مین ڈنمارک مین” بلانے والے ایک گروپ کے زیر اہتمام ، تقریبا 600 600 افراد پارلیمنٹ کی عمارت کے سامنے شدید سردی میں ڈنمارک کے جزوی طور پر لاک ڈاؤن کے “آمریت” کے احتجاج کے لئے جمع ہوئے۔

ڈیجیٹل ویکسین “پاسپورٹ” کے منصوبے ان کے غم و غصے کا بنیادی ہدف تھے۔

دوسرے یوروپی ممالک کی طرح ، ڈنمارک بھی سفر کے لئے کوویڈ ۔19 ویکسینیشن کے لئے ڈیجیٹل سند تیار کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

یہ ممکنہ طور پر کھیلوں اور ثقافتی پروگراموں کے ساتھ ساتھ ریستوراں کے لئے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔

احتجاج کے منتظمین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے پاسپورٹ سے پولیو کے قطرے پلانے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے اور یہ انفرادی آزادی پر مزید پابندی عائد ہوتی ہے۔ ڈنمارک میں ویکسینیشن لازمی نہیں ہے۔

مظاہرین جن میں کچھ ڈنڈے پہنے ہوئے بھی شامل تھے ، ڈنمارک کے دارالحکومت کے وسط میں مشعلوں کے ساتھ مارچ کیا اور “ہمارے پاس کافی ہوگیا” اور “ڈنمارک کی آزادی” کے نعرے لگائے۔

مظاہرین نے شمالی کوریا کے ڈکٹیٹر کم جونگ ان کی طرح نظر آنے والی وزیر اعظم میٹے فریڈرکن کی تصویر بھی اٹھا رکھی تھی۔
دستخط کے ساتھ ڈنمارک کے وزیر اعظم میٹے فریڈرکن کی نمائندگی کرنے والا ایک مجسمہ جسے کوپن ہیگن کی ایک سڑک پر لٹکا دیا جانا چاہئے
دستخط کے ساتھ ڈنمارک کے وزیر اعظم میٹے فریڈرکن کی نمائندگی کرنے والا ایک مجسمہ جسے کوپن ہیگن کی ایک سڑک پر لٹکا دیا جانا چاہئے۔

مجاز مارچ کافی حد تک پرامن تھا ، پولیس کی بھاری نفری تعینات تھی۔

دو ہفتے قبل ، اسی طرح کے ایک مظاہرے میں وزیر اعظم کا مجسمہ جلانا بھی شامل تھا ، جس کے نتیجے میں فریڈریکنسن کے خلاف دھمکیوں کے الزام میں دو افراد کو گرفتار کیا گیا تھا۔

اسکینڈینیوینائی ملک میں 5.8 ملین افراد پر مشتمل غیر ضروری دکانیں ، بار اور ریستوراں بند ہیں اور حکومت نے اس پابندی میں کم از کم 28 فروری تک توسیع کردی ہے۔

تاہم پرائمری اسکول پیر کو دوبارہ کھول سکتے ہیں۔