جعلی پیر کمسن بچے کا جسم گرم راڈ سے داغتا رہا

فےصل آباد (سٹی بیورو) زمانہ جاہلیت کی یاد تازہ،جعلی پیر کا کمسن بچے پر انسانیت سوز تشدد،گرم راڈ جسم پر داغتا ہا۔تفصیل کے مطابق تھانہ ٹھیکریوالہ کے علاقے چک نمبر66ج ب دھاندرہ کے رہائشی نصراللہ کے بھتیجے نو سالہ فیضان کی اچانک طبیعت خراب ہوگئی تویہ اسے لیکر ڈاکٹر کو چیک اپ کروانے کی بجائے اسی گاﺅں کے رہائشی جعلی پیر عرفان کے پاس لے گئے جعلی پیر نے بچے کو کمرے میں بند کرکے لواحقین کو باہر جانے کاکہہ دیا جعلی پیرنے جنتر منتر کے ذریعے عمل کا آغاز کردیا اوربچے کووحشیانہ تشد د کا نشانہ بناتے ہوئے لوہے کا گرم راڈ جسم کے مختلف اعضاءپر داغتا رہا بچے کے رونے کی صور ت میں جعلی پیر اسے چپ کروانے کے لئے مزید تشدد کرتارہا اسکی چیخ و پکار سن کر لواحقین جب اندر آئے توبچے کوبری طرح جھلسا ہوا اور شدید زخمی حالت میں پایا جس کوفوری طور پرہسپتال منتقل کیا گیا پولیس نے متاثرہ بچے کے چچاکی مدعیت میں مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا ۔

چیف سلیکٹر کی موجودگی ٹیم کیلیے تباہ کن ثابت ہوئی۔

لندن: (ویب ڈیسک)چیف سلیکٹر انضمام الحق کی انگلینڈ میں موجودگی ٹیم کیلیے تباہ کن ثابت ہوئی۔چیف سلیکٹر انضمام الحق کی زیر سربراہی قائم سلیکشن کمیٹی کی تین سالہ مدت مکمل ہو چکی، اسے ورلڈکپ اسکواڈ منتخب کرنے کا اضافی ٹاسک دیا گیا تھا، میگا ایونٹ سے قبل انھوں نے بورڈ حکام کے سامنے اس خواہش کا اظہار کیا کہ قومی ٹیم کی کارکردگی کا جائزہ لینے کیلیے انگلینڈ جانا چاہتے ہیں، ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ اس دوران بیٹسمینوں کی رہنمائی بھی کریں گے۔انضمام کو پی سی بی نے بزنس کلاس کا فضائی ٹکٹ دے کر بھیجا، انھیں 500 ڈالر ڈیلی الاﺅنس دیا گیا، اس دوران بورڈ کی اچھی خاصی رقم خرچ ہو گئی،ذرائع نے بتایاکہ انگلینڈ جانے کے بعد سابق کپتان نے ٹیم مینجمنٹ کے کام میں مداخلت شروع کردی۔عموماً 15 کھلاڑیوں کا انتخاب کرنے کے بعد سلیکشن کمیٹی کا کام ختم ہو جاتا ہے مگر حیران کن طور پر ورلڈکپ جیسے اہم ایونٹ میں ایسا نہیں ہوا، انضمام کو کپتان سرفراز احمد اور کوچ مکی آرتھر کے ساتھ ٹور سلیکشن کمیٹی میں بھی شامل کر لیا گیا، یوں پلیئنگ الیون کے انتخاب میں ان کی رائے بھی شامل رہی، اس دوران انھوں نے بعض مخصوص کھلاڑیوں کی شمولیت کیلیے اپنے اختیارات کا ناجائزفائدہ اٹھایا۔ٹیم مینجمنٹ انضمام الحق سے خوش نہ تھی، سونے پر سہاگہ یہ ہوا کہ وہ قومی ٹیم کے ٹریننگ سیشنزمیں جاکرکھلاڑیوں کو”مفید مشوروں“ سے نوازنے لگے، کوچز کی بھاری بھرکم فوج نے اسے اپنے کام میں مداخلت تصور کیا۔ذرائع نے بتایا کہ ورلڈکپ میں ٹیم کا تیاپانچہ ہونے کے بعد اب چیف سلیکٹر اپنے رشتہ داروں کے پاس چلے گئے ہیں، بقیہ میچز میں کھلاڑیوں کو ان کی ”خدمات“ حاصل نہیں ہوں گی۔

چیونگم نگل لیں تو کیا ہو سکتا ہے ،ماہرین کا انکشاف

(ویب ڈیسک)بل گم یا چیونگم نگل جانا صرف بچوں کا نہیں بڑوں کا بھی مسئلہ ہےاور اس حوالے سے کئی توہمات موجود ہیں۔انسانی جسم کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ دنیا کی سب سے حیران کن قدرتی مشین ہے جو صرف 60 سیکنڈ کے اندر اندر لاکھوں کی تعداد میں خون کے خلیے بنا لیتی ہے۔چیونگم نگل جانے کی صورت میں اندرونی طور جسمانی مشین اس کے ساتھ کیا کرتی ہوگی۔ایک واہمہ یہ بھی ہے کہ چیونگم 7 سال تک جسم کے اندر موجود رہتی ہے یا پھر یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ اندرونی طور پر جسم کے کسی حصے میں چپک جاتی ہے لیکن دونوں باتیں درست نہیں ہیں۔چیونگم کا سنتھیٹک حصہ ہضم نہیں ہو پاتا لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں ہے کہ یہ نا قابل ہضم حصہ جسم کے اندر رہ جاتا ہے۔طبی ماہرین کے مطابق یہ حصہ جسم میں زیادہ سے زیادہ ایک ہفتہ رہتا ہے اس کے بعد یہ انسانی فضلے کے ساتھ جسم سے خارج ہو جاتا ہے۔ماہرین کہتے ہیں کہ یہ صرف ایک دو دفعہ تو ہو سکتا ہے لیکن ایسا متواتر ہونا کسی چھوٹی یا بڑی آنت میں رکاوٹ کی صورت میں نکل سکتا ہے۔اس لیے کوشش کرنی چاہیے کہ بچوں کو چیونگم کھانے کے لیے نہ دی جائے اور بچے کھانا بھی چاہیں تو اپنی نگرانی میں تھوڑی دیر کے بعد اپنے سامنے بچوں کے منہ سے اگلو لیں

قومی ٹیم کو قوم کا زبردست خراج کھلا ڑیوںنے ہاتھ جوڑ دئے

ما نچیسٹر:(ویب ڈیسک) روایتی حریف بھارت سے شکست کے بعد پاکستانی شائقین کرکٹ نے جب اپنی ٹیم پر تنقید کے دوران اخلاقیات کی تمام حدو قیود پار کردیں تو تیز گیند باز محمد عامر نے ٹویٹ کیا کہ’برائے مہربانی گالیاں نہ دیں‘۔شکست کو دو دن گزر جانے کے باوجود پاکستانی عوام کا اپنی ٹیم پر غصہ کم نہیں ہوا اور ناقص کارکردگی دکھانے والے کھلاڑیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔قومی ٹیم میں شامل فاسٹ بالر محمد عامر نے اپنے پرستاروں سے درخواست کی ہے کہ برائے مہربانی برے الفاظ کا استعمال نہ کریں، آپ کارکردگی پر تنقید کر سکتے ہیں، ہم انشااللہ اپنی کارکردگی بہتر کریں گے، ہمیں آپ کا تعاون درکار رہے۔’ٹیم میں گروپنگ چل رہی ہے‘ایک صارف نے محمد عامر کے جواب میں لکھا کہ ا?پ پر تنقید نہیں کی جارہی، تاحال آپ اچھے گیند باز ہیں، لوگوں کو جیت اور ہار پر تنقید کرنی چاہیے۔ جیت ہار کھیل کا حصہ ہے لیکن مقابلہ بھی کوئی چیز ہوتی ہے۔ایک صارف نے سرفراز کی جمائی والی تصویر لگا کر سارے زخم کرید ڈالے اور لکھا کہ قومی ٹیم کے کپتان کو وقت پر سلا دیا کریں۔ عامر بھائی سرفراز کو ٹائم پر سلایا کرو میچ کے دوران بیچارے پر نیند غالب تھی عامر کی ٹویٹ سے چند لمحے قبل شعیب ملک نے ٹویٹ کیا ’ تمام کھلاڑیوں کی طرف سے میں التماس کرتا ہوں کہ اہلخانہ کے معاملے میں عزت کا معیار برقرار رکھا جائے اور انہیں اس بحث میں شامل نہ کیا جائے ایسا کرنا اچھی بات نہیں۔شعیب ملک نے ایک اور ٹویٹ میں ذرائع ابلاغ پر تبقید کرتے ہوئے لکھا کہ ہماری عدالتوں میں میڈیا کا احتساب کب ہوگا، میں نے کرکٹ کے شعبے میں 20 سال اپنے ملک کی خدمت کی، مجھے افسوس کے کہ اپنے بارے میں صفائی دینی پڑتی ہے۔انہوں نے سوشل میڈیا پر وائر ہونے والی ویڈیو کے بارے میں لکھا وہ 15 نہیں 13 جون کا واقعہ ہے۔ایک ٹوئٹر صارف نے پنجابی میں ٹویٹ کیا جس کا اردو ترجمہ یہ ہے کہ’ آپ چاہیں سرعام بیٹھ کر سستا نشہ کریں ہمیں کوئی مسئلہ نہیں لیکن میدان میں تو کچھ عزت رکھ لیا کریں‘۔ او پراوا پلے ت±سی تھڑے تے بئے کے سستی چرس پھوکو سانوں کوئی اعتراض نی۔لیکن میدان اچ تے کج عزت رکھ لئی کرو م±لک دی

زرداری کے بعد نواز ،خاقان 326ار ب کی بازپُرس کے لیے تیار ہو جائیں

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک، اے پی پی) سابق وزرائے اعظم نوازشریف اورشاہد خاقان کی مشکلات میں اضافہ ہوگیا، چیئرمین نیب بلٹ پروف گاڑیوں کے کیس میں انکوائری کو انویسٹی گیشن میں تبدیل کرنےکی منظوری دے دی۔تفصیلات کے مطابق چیئرمین نیب جسٹس (ر ) جاوید اقبال کیزیرصدارت ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس جاری ہے، اجلاس میں ڈپٹی چیئرمین نیب سمیت دیگر افسران شریک ہیں۔نیب کے ایگزیکٹو بورڈ اجلاس میں بلٹ پروف گاڑیوں کے کیس میں انکوائری کو انویسٹی گیشن میں تبدیل کرنے کی منظوری دے دی گئی۔ کیس میں وزرات خارجہ اور اسٹیبلشمنٹ کے افسران بیان ریکارڈ کراچکے ہیں جبکہ نواز شریف، شاہد خاقان اور فواد حسن فواد کا بیان بھی لیا جاچکا ہے۔ اجلاس میں مختلف ریفرنسز، انویسٹی گیشن اور انکوائری کی منظوری دی جائےگی جبکہ آصف زرداری کے خلاف پارک لین کیس میں ضمنی ریفرنس سمیت مختلف انویسٹی گیشن اور انکوائری کی منظوری پر بھی غور ہے۔ چیئرمین نیب کا کہنا ہے لوٹی ہوئی 326 ارب روپے کی رقم وصول کی جائے گی۔ قومی احتساب بیورو (نیب) کے ایگزیکٹو بورڈ نے بد عنوانی کے تین ریفرنسز دائر کرنے، 6 انوسٹی گیشنز اور8 انکوائریزکی منظوری دے دی۔ نیب کے ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس چیئرمین جسٹس جاوید اقبال کی زیرصدارت نیب ہیڈکوارٹرز اسلام آباد میں ہوا۔ نیب کی طرف سے جاری بیان کے مطابق اجلاس میں ڈپٹی چیئرمین نیب، پراسیکیوٹر جنرل اکاﺅنٹیبلٹی، ڈی جی آپریشن اور دیگر سینئر افسران نے شرکت کی۔ قومی احتساب بیورو کے ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس میں بدعنوانی کے3 ریفرنسز دائرکرنے کی منظوری دی گئی۔ ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس میں طارق قاضی چیف ایگزیکٹو آفیسر این ٹی ڈی سی اور دیگر کے خلاف بدعنوانی کا ریفرنس دائر کرنے کی منظوری دی گئی۔ ملزمان پر مبینہ طور پر اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے غیرقانونی طور پر200 ملین روپے ٹرسٹ انویسٹمنٹ بینک میں سرمایہ کاری کرنے کا الزام ہے جس سے قومی خزانے کو 165.86 ملین روپے کا نقصان پہنچا۔ ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس میں جاوید پرویز، سابق چیف ایگزیکٹو آفیسر آئیسکو اور دیگر کے خلاف بدعنوانی کا ریفرنس دائر کرنے کی منظوری دی گئی۔ ملزمان پر مبینہ طور پراختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے غیرقانونی طور پر 120ملین روپے ٹرسٹ انویسٹمنٹ بینک میں سرمایہ کاری کرنے کا الزام ہے جس سے قومی خزانے کو 120 ملین روپے کا نقصان پہنچا۔ ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس میں ڈاکٹر مجاہد کامران، سابق وائس چانسلر، پنجا ب یونیورسٹی اور دیگرکے خلاف بدعنوانی کا ریفرنس دائر کرنے کی منظوری دی گئی۔ ملزمان پر مبینہ طوراختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے غیر قانونی طور پر قواعد و ضواابط کے خلاف 454 بھرتیاں کرنے اور من پسند افراد کو سکالر شپس دینے کا الزام ہے جس سے قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچا۔ قومی احتساب بیورو کے ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس میں 6 انوسٹی گیشنزکی منظوری دی گئی جن میں وزارت خارجہ، وزارت داخلہ کے افسران و اہلکاران و دیگر، سابق وزیراعظم، سابق وفاقی وزیر برائے پٹرولیم وقدرتی وسائل، متعلقہ سیکرٹری، سوئی سدرن گیس کمپنی کی انتظامیہ، انٹر سٹیٹ گیس سسٹم، میسرز ایل این جی ٹرمینل پاکستان لمیٹڈ اور دیگر، جام خان شورو، سابق وزیر بلدیات، محکمہ ریونیو سندھ کے افسران اور دیگر، بلوچستان انٹیگریٹڈ واٹر ریسورسز مینجمنٹ اینڈ ڈویلپمنٹ پراجیکٹ کے اہلکاران و افسران اور دیگر، محکمہ ریونیو تحصیل فورٹ آباد، ضلع بہاولنگر کے اہلکاران و افسران اور سرکاری اراضی کی غیرقانونی الاٹمنٹ میں ملوث افرادکے خلاف انوسٹی گیشن کی منظوری شامل ہیں۔ قومی احتساب بیورو کے ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس میں 8 انکوائریوں کی منظوری دی گئی جن میں میسرز ایس ایس جی گیس کمپنی، انٹر سٹیٹ گیس سسٹم، ایل این جی ٹرمینل پاکستان لمیٹڈ اور دیگر، قدرت اللہ جنرل منیجر نیشنل فرٹیلائزر مارکیٹنگ لمیٹڈ اور دیگر، محمد سلیم مکتی، تھانو بولا خان ضلع جامشورو کے محکمہ ریونیو کے اہلکاران و افسران اور دیگر، محکمہ آبپاشی خیبر پختونخوا کے اہلکاران و افسران اور دیگر، پیسکو پشاور کے اہلکاران و افسران اور دیگر، بلوچستان، انٹیگریٹیڈ واٹر ریسورسز مینجمنٹ اینڈ ڈویلپمنٹ پراجیکٹ کے اہلکاران و افسران اور دیگر، سابق وزیر ریلوے اور محکمہ ریلوے سکھر ڈویژن کے اہلکاران و افسران اور دیگر اور قادر بخش کے خلاف انکوائریوں کی منظوری شامل ہیں۔ نیب کے ایگزیکٹو بورڈ نے پنجاب انفراسٹرکچر کمپنی کی انتظامیہ، اہلکاران و افسران اور دیگر، منیجنگ ڈائریکٹر یوٹیلٹی سٹورز کارپوریشن، وزارت صنعت و پیداوارکے اہلکاران و افسران اور دیگر، ساہیوال کیٹل مارکیٹ منیجمنٹ کمپنی کے اہلکاران اور دیگر، پی آئی اے سی کے اہلکاران و افسران اور دیگر، وزارت تحفظ خوراک و تحقیق، صوبائی محکمہ خوراک، محکمہ کسٹم کے اہلکاران و افسران اور دیگر اور سائیں راکھیو میرانی، سابق ڈی آئی جی لاڑکانہ اور دیگر کے خلاف اب تک عدم شواہد کی بنیاد پرقانون کے مطابق انکوائری بند کرنے کی منظوری دی۔ نیب کے ایگزیکٹو بورڈ نے کے ڈی اے کوآپریٹو ہاﺅسنگ سوسائٹی کے سابق ایڈمنسٹریٹر/انتظامیہ، بورڈ آف ریونیو کے اہلکاران و افسران اور دیگر کے خلاف انویسٹی گیشن مزید محکمانہ قانونی کارروائی کیلئے محکمہ ریونیو سندھ، این ایچ اے کے اہلکاران و افسران اور دیگر کے خلاف انویسٹی گیشن مزید قانونی کارروائی کیلئے این ایچ اے، ایم ٹی آئی خیبر ٹیچنگ ہسپتال پشاور کے اہلکاران و افسران اور دیگر، مردان میڈیکل کمپلیس مردان کے اہلکاران و افسران اور محکمہ آبپاشی خیبر پختونخوا کے خلاف انکوائریاں مزید قانونی کارروائی کیلئے چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا کو بھیجنے کی منظوری دی۔ چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ میگا کرپشن کے مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچانا نیب کی اولین ترجیح ہے۔ نیب ”احتساب سب کےلئے“ کی پالیسی پر قانو ن کے مطابق سختی سے عمل پیر ا ہے، ملک سے بدعنوانی کا خاتمہ اور عوام کی لوٹی گئی رقم کی واپسی کےلئے تمام وسائل بروئے کار لا رہے ہیں اور اب تک نیب نے قوم کے لوٹے گئے 326 ارب روپے وصول کرکے قومی خزانہ میں جمع کرائے ہیں جو ریکارڈ کامیابی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بدعنوانی تمام برائیوں کی جڑ ہے جو ملکی ترقی اور خوشحالی کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ انہوں نے نیب کے تمام ڈائریکٹرجنرلز کو ہدایت کی ہے کی کہ تمام انکوائریوں اور انویسٹی گیشنز کو قانون کے مطابق منطقی انجام تک پہنچایا جائے۔ نیب کی یہ دیرینہ پالیسی ہے کہ قومی احتساب بیورو کے ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس کے بارے میں تفصیلات عوام کو فراہم کی جائیں جو طریقہ گزشتہ کئی سالوں سے رائج ہے جس کا مقصد کسی کی دل آزاری مقصود نہیں، تمام انکوائریاں اور انویسٹی گیشنز مبینہ الزامات کی بنیاد پر شروع کی گئی ہیں جو کہ حتمی نہیں۔ نیب قانو ن کے مطابق تمام متعلقہ افراد سے بھی ان کا مو¿قف معلوم کر نے کے بعد مزید کارروائی کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔

ڈریسنگ روم میں کھلاڑیوں کے ساتھ جارحانہ سٹروک

لاہور(آئی این پی) ورلڈ کپ میں مسلسل شکستوں اور ایونٹ سے ممکنہ اخراج کے خطرے کے پیش نظر پاکستان کرکٹ بورڈ اور ٹیم میں بڑے پیمانے پر اکھاڑ پچھاڑ کا مکان ہے۔عالمی کپ میں پاکستانی ٹیم کی شکستوں کا سلسلہ رکنے کا نام نہیں لے رہا اور آسٹریلیا کے بعد بھارت نے پاکستانی ٹیم کو یکطرفہ مقابلے کے بعد 89رنز سے شکست دی۔پاکستانی ٹیم نے اب تک ایونٹ میں پانچ میچ کھیلے جہاں اسے تین میچوں میں شکست کا منہ دیکھنا پڑا، انگلینڈ کے خلاف میچ میں کامیابی حاصل کی اور سری لنکا کے خلاف میچ بارش کی نذر ہو گیا۔ایونٹ میں تین شکستوں کے بعد پاکستان کے عالمی کپ سے اخراج کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے اور ایونٹ میں جگہ برقرار رکھنے کے لیے پاکستان کو اپنے تمام چار میچوں میں فتح حاصل کرنا ہو گی۔ٹیم کی خراب کارکردگی کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ نے ٹیم اور اس کی مینجمنٹ میں تبدیلی پر سنجیدگی سے غور شروع کردیا ہے اور ٹیم مینجمنٹ میں یقینی طور پر تبدیلی کا امکان ہے۔ٹیم مینجمنٹ میں موجود کوچز مکی آرتھر، اظہر محمود اور گرانٹ فلاور کے معاہدے ورلڈ کپ کے بعد ختم ہو رہے ہیں جس میں توسیع کا امکان بہت کم نظر آ رہا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ چیف سلیکٹر انضمام الحق اور سلیکشن کمیٹی کی مدت ملازت بھی ورلڈ کپ کے ساتھ ختم ہو رہی ہے اور انہیں بھی ٹیم کے انتخاب کی ذمے داریاں نہ دیے جانے کا امکان ہے۔دوسری جانب قومی ٹیم کے کپتان سرفراز احمد کو بھی اپنی جگہ خطرے میں نظر آ رہی ہے اور یہی وجہ ہے کہ انہوں نے ٹیم سینئر کھلاڑیوں کے سامنے کہا ہے کہ اگر ان کی چھٹی ہوئی تو پھر سب کی ہوگی۔ذرائع کے مطابق ٹیم ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں نہ پہنچی تو کپتان سرفراز کو بھی فارغ کیے جانے کا قوی امکان ہے۔ کپتان سرفراز احمد نے وہاب ریاض، امام الحق اور عماد وسیم پر گروپنگ کا الزام لگادیا۔ نجی ٹی وی کے مطابق گزشتہ روز اولڈ ٹریفرڈ کے میدان پر بھارت کے خلاف میچ کے دوران جب سرفراز آو¿ٹ ہوکر پویلین لوٹے تو غصے سے بولے کہ ٹیم میں گروپنگ چل رہی ہے۔میچ ختم ہونے سے پہلے ہی کپتان کھلاڑیوں پر چڑھ دوڑے اور کہا کہ مجھے سب پتہ ہے کون کون گروپنگ کررہا ہے۔ذرائع نے بتایا کہ میچ کے بعد کوچ اور کپتان نے کھلاڑیوں کی کلاس لی جبکہ سرفراز نے وہاب ریاض، امام الحق اور عماد وسیم پر گروپنگ کا الزام لگادیا۔اس موقع پر ہیڈ کوچ مکی آرتھر نے کہا کہ جو ہونا تھا ہوگیا ، اب آگے دیکھو اگلے چاروں میچز جیتو تاکہ سیمی فائنل کی دوڑ میں شامل رہو۔دوسری جانب ذرائع نے یہ بھی بتایا ہے کہ شکت کے بعد قومی ٹیم میں کوچ اور کپتان کے خلاف تنازعات بھی سامنے آنے لگے ہیں۔بتایا جارہا ہے کہ ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ کوچ کا تھا جبکہ شعیب ملک اور شاداب خان کو کھلنے پر بھی وہ اصرار کرتے رہے۔ذرائع نے بتایا کہ فخر زمان کو سست رفتار میں کھیلنے کا مشورہ بھی کوچ نے دیا تھا اور کئی معاملات پر کپتان اور کوچ ایک صفحے پر نہیں دوسری جانب ٹیم کے میڈیا منیجر رضا راشد نے کہا ہے کہ اختلافات کی خبروں میں کوئی صداقت نہیں، قومی کرکٹرز سرفراز احمد کی قیادت میں متحد ہیں۔

کرکٹ بورڈ نے نائٹ کرفیو کی خلاف ورزی پر کرکٹرز کے خلاف ایکشن لینےسے انکار کردیا ہے

لاہور: (ویب ڈیسک)پاکستان کرکٹ بورڈ نے نائٹ کرفیو کی خلاف ورزی پر کرکٹرز کے خلاف ایکشن لینےسے انکار کردیا ہے۔پی سی بی نے کھلاڑیوں کے لیے گیارہ بجے کرفیو ٹائم مقرر کررکھاہے جس کا مطلب یہ ہے کہ تمام کھلاڑی اس وقت سےپہلے لازمی ہوٹل پہنچ جائیں لیکن وائرل ہونے والی تصویر اور ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ شعیب ملک کے ساتھ امام الحق، وہاب ریاض اور ثانیہ مرزا رات گئے شیشہ بار میں موجود ہیں۔بھارت کے خلاف پاکستانی ٹیم اگر یہ میچ جیت جاتی تو پھر شاید اس ویڈیو پر کوئی بات نہ کرتا لیکن اب اس ویڈیو پر کھل کر تنقید ہورہی ہے۔ ثانیہ مرزا کاموقف ہے کہ وہ بیٹے کے ساتھ ڈنر کرنے گئے تھے۔ جس نے بھی یہ ویڈیو بنائی، اس نے بہت غلط کیا۔ ماہرین کے مطابق ثانیہ مرزا کا یہ ٹوئٹ خود ان کے لیے مشکل پیدا کرسکتا ہے، شیشہ بار میں بچوں کو لے جانا جرم ہے اور اس پر سزا بھی ہوسکتی ہے۔دوسری جانب پی سی بی نے کرکٹرز کے خلاف ایکشن لینے سے انکار کرتے ہوئے موقف اختیار کیا ہےکہ یہ ویڈیو میچ سے 48 گھنٹے پہلے کی ہے، بھارت کے خلاف میچ سے ایک رات پہلے تمام کھلاڑی ہوٹل میں موجود تھے۔ میچ ہارنے پر اس قسم کے ایشوز کا سامنا آنا کوئی نئی بات نہیں۔ اسکینڈل بنانے کے لیے لوگ موقع کی تلاش میں رہتے ہیں اور پرانی چیزوں اور واقعات کو کرکٹرز کے ساتھ جوڑنے کےماہر ہیں۔

ملکی سیاحت کے فروغ میں شاہد آفریدی کا اہم ترین اقدام

اسلام آباد (آن لائن) پاکستانی سابق کرکٹر شاہد آفریدی نے پاکستانی سیاحت کے فروغ کے لئے آواز اٹھا دی۔ ذرائع ابلاغ ے مطابق شاہد آفریدی نے ٹویٹر پر پاکستانی سیاحت کے فروغ کے لئے آواز اٹھاتے ہوئے کہا کہ ہمارے ملک میں اتنی خوبصورت جگہیں ہیں پھر بھی لوگ سیرو تفریح کے لئے باہر کے ممالک کا انتخاب کیوںکرتے ہیں انہوں نے اپنی چند تصاویر شئیر کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں اپنے ملک کی سیاحت کو فروغ دینا چاہیئے۔

فنکار بھی ڈپرشن کا شکار ہونے لگے

ڈرامہ ’سنو چندا‘ اور ’رانجھا رانجھا‘ میں بہترین اداکاری کی وجہ سے شہرت پانے والی اقراءعزیز اپنے منفرد انداز اور گفتگو کی وجہ سے اکثر خبروں کی زینت بنی رہتی ہیں حال ہی میں انہوں نے ڈپریشن جیسی بیماری سے نجات پانے کے حوالے سے کہا کہ انہوں نے جتنی محبت، خلوص اور پیار اپنے دوستوں کو دیا اس کے بدلے میں اس کا ایک فیصد حصہ بھی انہیں واپس نہیں ملا، جب کسی کو میری ضرورت ہوتی تھی تو میں بڑھ چڑھ کر مدد کے لیے تیار رہتی تھی لیکن جب مجھے ضرورت ہوتی تھی تو تب کوئی بھی میرے کام نہیں آتا اور یہی وہ باتیں ہیں جوکہ مجھے ڈپریشن میں مبتلا رکھتی تھیں۔ماڈلنگ اور اداکاری کی وجہ سے پہچانے جانے والے عماد عرفانی ان دنوں نشر ہونے والا ڈرامہ ’چیخ‘ کیوجہ سے کافی مقبول ہو رہے ہیں جب کہ انہوں نے ثمینہ پیرزادہ کے شو میں ڈپریشن میں مبتلا ہونے کا اعتراف کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ والد کی مسلسل پوسٹنگ کی وجہ سے زیادہ لوگوں سے گھل مل نہ سکے اور اسی وجہ سے وہ شرمیلے بچے تھے۔عماد نے یہ بھی کہا کہ میرے اسی شرمیلے پن اور لوگوں کا سامنا نہ کرنے کی وجہ سے میرے استاد مجھے پڑھائی میں کمزور اور زندگی میں ناکام شخص قرار دیتے تھے کیوں کہ میں اپنی توجہ تعلیم پر مرکوز ہی نہیں رکھ پاتا تھا اور ایسی ہی منفی اور حوصلہ شکن باتوں نے میری خود اعتمادی ختم کردی تھی اور پھر مجھے اسپورٹس کو اپنا کیرئیر بنانا پڑا۔18 سال کی عمر میں ایک حادثے کی وجہ سے ٹخنے کا فریکچر ہوگیا تھا اور ڈاکٹروں نے مجھے 2 سے 3 سال تک اسپورٹس سے دور رہنے کا کہا جس کا یہ مطلب تھا کہ میرا اسپورٹس کا مستقبل تباہ ہونا۔ مجھے اس سوچ نے ڈپریشن میں مبتلا کردیا کہ اب میں کبھی بھی اسپورٹس مین نہیں بن پاو¿ں گا تب میرے اہل خانہ نے مجھے اس بیماری سے باہر نکلنے میں مدد کی۔
اداکارہ حنا الطاف نے بھی اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ میری پیدائش کے وقت سے میری والدہ کچھ ذہنی تناو¿ کا شکار تھیں، زندگی میں وہ کچھ پریشانیوں سے گزریں جس کی وجہ سے وہ ایک بیماری میں مبتلا تھیں اور اس بیماری کی وجہ سے ا±ن کو منفی خیالات زیادہ آتے تھے۔ انہیں لگتا تھا کہ میں شوٹنگ پر نہیں بلکہ کہیں اور جا رہی ہوں۔حنا الطاف نے یہ بھی کہا کہ اکثر ایسا بھی ہوتا تھا کہ شوٹنگ سے واپس آنے کے بعد والدہ مجھے مارا پیٹا کرتی تھیں ایسا بھی وقت آیا تھا کہ پٹتے وقت والدہ کی چوڑی گال پر لگ گئی تھی جس کی وجہ سے کافی زخم بھی آیا تھا اور شوٹ پر لوگ زخم کی وجہ بھی پوچھتے تھے لیکن میں کچھ نہیں بتا پاتی تھی۔میں راتوں کو سو نہیں پاتی تھی بس ڈر رہتا تھا کہ کوئی آجائے گا پھر میں نے گھر والوں کی باتوں اور سکون حاصل کرنے کے لیے الگ رہنے کا فیصلہ کیا اور اس بیماری سے نجات پائی۔

چوروں سے مقابلہ ڈٹ کر ہوگا

اسلام آباد (نامہ نگار خصوصی) وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ قرضوں سے متعلق تحقیقاتی کمیشن کے سربراہ کا اعلان آج کردوں گا۔ چوروں کا ڈٹ کر مقابلہ کر ینگے بنی گالہ میں وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت پارٹی ترجمانوں کا اجلاس ہوا، اس موقع پر قومی اسمبلی میں بجٹ سیشن کو آگے بڑھانے کیلئے اپوزیشن کو مذاکرات کی دعوت دینے کا فیصلہ کیا گیا، اجلاس میں وفاقی بجٹ منظور کرانے کی حکمت عملی بھی طے کی گئی۔ اجلاس کے دوران شرکا کو قرضوں سے متعلق تحقیقاتی کمیشن کے قیام کےوالے سے بریفنگ دی گئی۔ اس موقع پر وزیراعظم نے کہا کہ تحقیقاتی کمیشن کے سربراہ کے نام کا اعلان آج کردوں گا۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ چوروں کی ڈٹ کر مخالفت کی جائے، اپوزیشن احتجاج کرے تو بھر پور جواب دیا جائے، پی ٹی آئی اراکین جارحانہ حکمت عملی اپنائیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز اراکین سینٹ سے ملاقات کے دوران کیا، وزیراعظم عمران خان سے قائد ایوان سینٹر شبلی فراز کی سربراہی میں 3 رکنی وفد نے ملاقات کی ملاقات میں سینٹر ساجد طوری، محسن عزیز موجود تھے۔ اس موقع پر وزیراعظم نے کہا کہ بلیک میل نہیں ہوں گے ڈٹ کر مقابلہ کریں گے۔ حکومتی سینیٹرز نے وزیراعظم سے شکوہ کیا کہ سینیٹ میں اپوزیشن کا جواب دینے کے لیے متعلقہ وفاقی وزیر نہیں آتے، وزیر اعظم نے ہدایت کی کہ تمام سینیٹرز سینیٹ میں 100 فیصد حاضری یقینی بنائیں اور ایوان میں جارحانہ حکمت عملی اپنائیں۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ عوام پارلیمنٹیرینز کو اپنے حقوق اور امنگوں کے ترجمان کی حیثیت سے دیکھتے ہیں، اراکین جب عوام کی آواز بنتے ہیں تو عوام کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔ حکومت کی کوششوں سے دنیا پاکستان کو اہم ملک کی حیثیت سے دیکھ رہی ہے اور انشائ اللہ جلد ہمارا ملک ترقی اور خوش حالی سے ہمکنار ہوگا۔ دوسری جانب وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت بجٹ اجلاس ہوا۔ اجلاس میں اپوزیشن کے ممکنہ احتجاج سمیت ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال اور بجٹ اجلاس کے حوالے سے امور زیر غور آئے۔ علاوہ ازیں وزیراعظم عمران خان نے سینئر صحافی سمیع ابراہیم سے ٹیلی فون پر گفتگو کی وفاقی وزیر فواد چوہدری کے ساتھ پیش آنے والے واقعے پر اظہار افسوس کیا۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی قیادت کسی کی عزت نفس مجروح کرنے والے فعل کی حوصلہ افزائی نہیں کرتی، حکومت اور میڈیا جمہوری عمل کے دو لازم و ملزوم جزو ہیں، نقطہ نظر کے اختلاف کو ذاتی اختلاف کی حد تک لے جانا کسی صورت مناسب نہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت کی انتھک کوششوں کی بدولت دنیا آج کے پاکستان کو انتہائی اہم ملک کی حیثیت سے دیکھ رہی ہے جو سٹریٹجک اور سرمایہ کاری کے مواقع سے بھرپور ہے، انشاءا للہ ہمارا ملک جلد ترقی اور خوشحالی سے ہمکنار ہوگا۔ انہوں نے یہ بات پیر کو پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والے سینیٹرز سے پارلیمنٹ ہاو¿س میں اپنے چیمبر میں گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ ملاقات میں سینیٹر شبلی فراز، معاون خصوصی نعیم الحق اور سینیٹر فیصل جاوید بھی موجود تھے۔ ملاقات میں ایوان بالا میں پارلیمانی اور قانون سازی سے متعلق مختلف امور خصوصاً بجٹ تجاویز سے متعلق امور پر گفتگو ہوئی۔ وزیراعظم نے ایوان بالا کے امور میں اراکین کے کردار کے حوالے سے اپنے وژن سے آگاہ کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ عوام پارلیمنٹیرینز کو اپنے حقوق اور امنگوں کے ترجمان کی حیثیت سے دیکھتے ہیں، اراکین جب عوام کی آواز بنتے ہیں تو عوام کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔

پاکستانی ٹیم میں گروپ بندی بعض سینئر کھلاڑی جان بوجھ کر غلط کھیلے

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل فائیو کے تجزیوں اور تبصروں پر مشتمل پروگرام ”کالم نگار“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر تجزیہ کار طارق ممتاز نے کہاکہ اپوزیشن اقتدار کیلئے اکٹھی ہوئی ہے یہ تو باری باری حکومت میں آنے کے عادی تھے اسی لئے انہیں عمران خان بُرا لگتا ہے جو بیچ میں آن ٹپکا۔ موجودہ حکومت کی وجہ سے مہنگائی نہیں بلکہ اس کے اصل ذمہ دار سابق ادوار کے حکمران ہیں۔ رکٹ ٹیم کی بھارت سے شکست سے قوم مایوس ہوئی جس طرح کی ویڈیوز سامنے آ رہی ہیں اگر کوئی ٹیم ایک سخت مقابلے سے پہلے رات کو آرام نہیں کرے گی تو مقابلہ کیسے کرے گی۔ ٹیم میں گروپ بندی موجود ہے‘ بعض سینئر کھلاڑی جان بوجھ کر غلط کھیلے اور میچ ہارنے کا باعث بنے۔ کالم نگار زبیر احمد انصاری نے کہاکہ اپوزیشن بڑی آسانی سے حکومت گرا سکتی ہے تاہم وہ ایسا نہیں کرے گی۔ حکومت کے یوٹرن جاری ہیں اور مہنگائی بڑھتی جا رہی ہے۔ حکومت اگر چاہتی ہے کہ سب کو پکڑے یا ان کنے منہ بند کرا دے تو ایسا کرنا ٹھیک نہیں ہو گا۔ کرکٹ حوصلے کا کھیل ہے اگر کھلاڑی شیشے پیتے اور راتوں کو کلبوں میں پھرتے نظر آئینگے تو اچھے کھلاڑی بن سکتے ہیں نہ جیت سکتے ہیں۔ قانونی ماہر اظہر صدیق نے کہاکہ غریبوں کا نام نہاد لیڈر نجی طیارے پر اربوں کی سلطنت میں پہنچے جہاں فرانس کا پانی پیش کیا گیا۔ پی ٹی ایم کے پیچھے ن لیگ اور پیپلزپارٹی ہے۔ ملک کو جان بوجھ کر قرضوں تلے دبایا گیا۔ عمران خان نے کمیشن بنانے کا ٹھیک اعلان کیا‘ لوٹ مار کرنے والے اس لئے شور مچا رہے ہیں۔ پی سی بی‘ نیپرا‘ پیپرا ہر ادارے میں مافیا بیٹھا ہے جو ٹھیک کام کرنے کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرتا ہے۔
سینئر صحافی میاں حبیب نے کہاکہ بجٹ کو نامنظور کرنے کا اشارہ کیا جا رہا ہے کیا ملک کو کسی بحران کی جانب تو نہیں دھکیلا جا رہا ۔ ن لیگ میں مریم نواز فیصلے کر رہی ہیں پیپلزپارٹی سے ڈیل کر رہی ہیں۔ شہبازشریف نظر نہیں آ رہے۔ ملک کی اقدار کو بچانا ہے تو سوشل میڈیا‘ فیس بک پر فلٹر لگانا ہو گا ورنہ اس کے نتائج بھگتنا ہونگے۔

اپوزیشن فضل الرحمان کو اپنے مفادات کیلئے استعمال کر رہی ہے: شوکت بسرا اتحادیوں کے تحفظات دور کرنا حکومت کی ذمہ داری اگر وہ ایسا نہ کر سکی تو نقصان ہو گا:شاہد لطیف حکومت کا ایک وزیرپکڑا گیا مزید بھی گرفت میں آئیں گے، احمدرضا قصوری نیوز ایٹ7

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے پروگرام ”نیوز ایٹ 7“ میں گفتگو کرتے وئے تحریک انصاف کے رہنما شوکت بسرا نے کہا ہے کہ اپوزیشن رہنما مولانا فضل الرحمان کو اپنے مفادات کے لئے استعمال کر رہے ہیں کیونکہ یہ خوب آگاہ ہیں کہ ان کے ساتھ کوئی آدمی باہر نہیں نکلے گا۔ قوم جان چکی ہے کہ شریف اور زرداری خاندان نے قومی خزانہ لوٹ کر بیرون ممالک جائیدادیں بنائیں۔ دنیا کے ہر کونے میں ان کی بڑی بڑی جائیدادیں موجود ہیں اب انہیں حساب دینا پڑ رہا ہے تو پیٹ میں مروڑ اُٹھ رہے ہیں اپنے کیسز کا سامنا کیوں نہیں کرتے۔ اس وقت بلا امتیاز احتساب کا سلسلہ جاری ہے۔ ججز جرنیل اور بیورو کریٹ بھی پکڑے جا رہے ہیں نوازشریف جو قیدی نمبر 420 ہیں ان کے بارے میں عدلیہ کہہ چکی ہے کہ کرپٹ اور بددیانت ہیں یہ ہمیں مستقبل سے ڈراتے ہیں ہم ڈرنے والے نہیں ہیں کیونکہ ہمارے دامن صاف ہیں حکومت قومی اور عالمی مسائل پر ان سے بات کرنے کو تیار ہے تاہم ان کا ہی رویہ کچھ اور ہے یہ صرف جلاﺅ گھیراﺅ چاہتے ہیں یہ تو اتنا بھی بتا سکتے کہ ان کا ایجنڈا کیا ہے۔ مہنگائی بڑھی ہے تاہم اس کی وجہ ماضی کی حکومتوں کی عوام دشمنی پالیسیاں تھیں جب یہ چور لٹیرے پکڑے جائیں گے کہ حالات ٹھیک ہو جائیں گے نئے پاکستان میں حکومت ترجیح نہیں ہے بلکہ بلا امتیاز احتساب اور چوروں ڈاکٹروں کو پکڑنا ترجیح ہے۔ معروف قانونی ماہر احمد رضا قصوری نے کہا کہ احتساب بلا امتیاز اور بیلنس کے ساتھ ہونا چاہئے اور اسے پایہ تکمیل پہنچانا چاہئے۔ حکومت کا ایک وزیر پکڑا گیا ہے ابھی اور بھی پکڑے جائیں گے یہ سلسلہ آگے بڑھے گا احتساب کا شکنجہ اب رکنے والا نہیں ہے۔ یہ بدبوردار لوگ جو جمہوریت کی آڑ میں اکٹھے ہو جاتے تھے ان کا انحطاط ضروری ہے کہ اس کے بغیر جمہوری نظام آگے نہیں چل سکتا۔ خود کو لیڈر کہنے والے اس قابل بھی نہیں کہ ایک کونسلر کا کام کر سکیں۔
دفاعی تجزیہ کار ایئر وائس مارشل (ر) شاہد لطیف نے کہا کہ آج وہ سارے اکٹھے ہو چکے ہیں جو ماضی میں ایک دوسرے کے لئے یہ زبان استعمال کرتے تھے کہ پیٹ پھاڑ کر دولت نکال لوں گا، سڑکوں پر گھسیٹوں گا۔ عوام کے مسائل کو آج بھی اس طرح ہیں ماضی میں بار بار اقتدار میں رہنے والوں کی ترجیح صرف لوٹ مار رہی اب قانون کے شکنجے میں آتے ہیں تو ملاقاتیں ہو رہی ہیں کیونکہ ان کے بڑے تو جیلوں میں ہیں۔ مولانا فضل الرحمان کو ساتھ صرف اس لئے ملا رہے ہیں کہ جوڑ توڑ کر سکتے ہیں یہ وہ شخص ہیں جو 10 سال کشمیر کمیٹی کے سربراہ رہے اور کبھی کشمیر کا نام بھی ان کی زبان سے نہ سنا گیا۔ جو شحص ایم این اے نہ بن سکا اور عوام نے اسے رد کر دیا اس کی زبان درازی اور الفاظ کو دیکھیں، یہ صرف منفی سیاست کے ماہر ہیں اس لئے ان کو ذمہ داری دی گئی ہے کہ ہم تتو کرپشن میں پھنس چکے ہیں کسی طریقے سے ہمیں بچا لو۔ اتحادیوں کے تحفظات دور کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے اگر وہ ایسا نہیں کر پاتی تو نقصان ہو گا۔ وزیراعظم اور وزراءکو اب کنٹینر سے اتر آنا چاہئے اور بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرنا چاہئے کیونکہ حکومت کو ایک سال ہو چکا ہے اور ابھی تک عوام کو کوئی ریلیف نہیں دیا گیا صرف مہنگائی ہے جو بڑھتی جا رہی ہے۔

بجٹ پاس نہ ہوا تو بڑا المیہ ہوگا ،حکومت اپوزیشن مل کر حل نکالیں

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں و تبصروں پرمشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ قومی اسمبلی میں اپوزیشن کے احتجاج کے باعث بجٹ پر بحث نہ ہونا افسوسناک ہے۔ اپوزیشن اور حکومت مل بیٹھ کر اس مسئلے کو حل کریں۔ اس سے قبل میں نے کبھی نہیں سنا کہ پاکستان کی تاریخ میں بجٹی منظور نہ ہوا۔ بلاول بھٹو زرداری کی مریم نواز شریف سے ملاقات کے حوالہ سے بات کرتے ہوئے ضیا شاہد نے کہا کہ ملاقاتیں تو ہو رہی ہیں مگر دل صاف نہیں ہیں۔ ایک طرف بلاول بھٹو ملاقاتیں کر رہے ہیں دوسری طرف پیپلزپارٹی کے سیکرٹری جنرل لطیف کھوسہ نے کہا ہے کہ ن لیگ زبانی کلامی باتیں کرتی ہے ن لیگ نے پہلے بھی میثاق جمہوریت پر عمل نہیں کیا۔ میرے خیال میں یہ معاملات زیادہ دیر نہیں چل سکتے۔ پہلے بلاول مریم نواز سے ملیں پھر مولانا فصل الرحمن سے ملیں پھر شہباز شریف سے ملیں۔ ن لیگ میں بھی انڈرسٹینڈنگ نہیں نظر آ رہی ہے بلاول کی مریم نواز اور شہباز شریف سے الگ الگ ملاقات ظاہر کرتی ہے کہ شہباز شریف اور مریم نواز ایک پیج پر نہیں ہیں۔ مسلم لیگ ن دو حصوں میں تقسیم ہے ایک گروپ مریم نواز کا ہے جو نوازشریف کا نقطہ نظر رکھتی ہیں دوسرا شہباز شریف کا ہے۔ مسلم لیگ ن کے دھڑے الگ الگ نہیں ہوں گے یعنی باقاعدہ اعلان نہیں ہو گا مگر گروپنگ موجود ہے۔ اس حوالے سے اگلے ایک ہفتے کے اندر مسلم لیگ ن کا نقطہ نظر بھی سامنے آ جائے گا اور ن لیگ پیپلزپارٹی کی مفاہمت کس کروٹ بیٹھتی ہے ساری صورتحال کھل کر سامنے آ جائے گی۔ مولانا فضل الرحمن کے حوالہ سے گفتگو کرتے ہوئے ضیا شاہد نے کہا کہ فضل الرحمن سمجھتے ہیں کہ ان کے پاس سٹریٹ پاور ہے وہ دینی مدارس کے طلباءکو سڑکوں پر لانے کا دعویٰ کر سکتے ہیں وہ دینی مدارس پر تکیہ کر کے بیٹھے ہیں لیکن میں یہ سمجھتے ہوئے کہ ضروری نہیں ہے ان کا اندازہ درست ثابت ہو۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان کھیلے جانے والے میچ کے حوالہ سے گفتگو کرتے ہوئے ضیا شاہد نے کہا کہ دونوں ممالک کے میچ میں پاکستان کے شائقین کرکٹ ہی نہیں عوام بھی جذباتی ہیں اس میچ کے دن بھی بڑے جذباتی مناظر نظر آئے مگر کیا وجہ ہے کہ ہم بھارت سے میچ نہیں جیت سکتے۔ میں کرکٹ بارے زیادہ نہیں جانتا مگر اتنا ضرور کہوں گا کہ اس شکست سے پاکستانیوں کے دل ٹوٹے ہیں۔