لاہور (اے این این) آمدن سے زائد اثاثے اور منی لانڈرنگ کیس میںنیب نے شہباز شریف کو طلبی کا نوٹس جاری کردیا۔ طلبی کا نوٹس 96ایچ بلاک ماڈل ٹاو¿ن میں موصول کروادیا گیا۔ نیب ذرائع کے مطابق شہباز شریف کو نیب کی جانب سے منگل کی صبح 11بجے پیش کرنے کا حکم دیا گیا، نیب نے 3دسمبر 2018کو شہباز شریف کو بھجوائے گئے سوالنامے کے جواب بھی لانے کا حکم دے دیا۔ شہباز شریف سے نصرت شہباز کے اکاو¿نٹ میںمنتقل ہونے والی رقم سے متعلق بھی پوچھ گچھ ہوگی۔ نصرت شہباز کے اکاو¿نٹ میں منتقل ہونیوالے 11کروڑ 22لاکھ 91ہزار 307روپے کے ذرائع بھی پوچھے گئے۔ ادھر نیب نے حمزہ شہباز کو 10اپریل کو صبح11بجے طلب کرلیا ہے ان سے کہا گیا ہے کہ دیئے گئے سوالنامے سے متعلق جوابات جمع کروائیں۔ نیب نے شہباز شریف کو آمدن سے زائد اثاثے اور منی لانڈرنگ کیس میں 9اپریل کو طلب کررکھا ہے۔
Monthly Archives: April 2019
فوادخان اور ماہرہ خان کی سیلفی سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی
اسلام آباد (شوبز ڈیسک) اداکارہ ماہرہ خان اور فواد خان کی سیلفی سوشل میڈیا پر وائرل‘ مداحوں نے پسندیدگی کا اظہار کردیا۔ تفصیلات کے طابق ماہرہ خان نے فواد کے ساتھ سیلفی کو سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہوئے اپنے مداحوں کے نام کردیا۔ماہرہ خان نے ٹوئٹر پر سیلفی پوسٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ہم سیلفی لے رہے ہیں، لیکن یہ والی خاص طور پر آپ سب کے لیے ہے۔سیلفی پنجاب کے علاقے شیخوپورہ میں ہرن مینار پر جوکہ ”دی لیجنڈ آف مولا جٹ “کی شوٹنگ کے اختتام پر بنا ئی گئی تھی۔ یہ فلم عید الفطر پر آنا تھی تاہم مولا جٹ کے پروڈیوسر کی مداخلت نے اس کی تشہیر روک دی ہے۔سینما گھروں میں پیش کی جائیگی۔
پروٹیز ٹور :ویمنز ٹیم کا کیمپ آج سے لگے گا
لاہور(سپورٹس رپورٹر) پی سی بی نے جنوبی افریقہ کیخلاف آئی سی سی ویمنز چیمپئن شپ سیریز کیلئے اقبال امام کوپاکستان ویمن ٹیم کا بیٹنگ کوچ نامزد کردیا ۔ پاکستان کی ممکنہ 24پلیئرز کا تربیتی کیمپ (آج)منگل سے ساوتھ اینڈکلب میں شروع ہورہا ہے،حتمی 15رکنی اسکواڈ کا اعلان 13اپریل کو کیا جائیگا،کراچی میں پی سی بی کے ہیڈکوچ کی ذمہ داری ادا کرنے والے اقبال امام لاڑکانہ اور حیدرآباد کے بھی کوچ رہے ہیں، وہ قبل ازیں پاکستان اے، قومی ویمنز اور پاکستان انڈر17 ویمنز ٹیم کے ساتھ پاکستان انڈر 19کرکٹ ٹیم کے لیے بھی اسسٹنٹ کوچ کی حیثیت سے ذمہ داریاں ادا کر چکے ہیں،گزشتہ تین برس سے پاکستان کپ سے وابستہ اقبال امام کی تربیت کی بدولت ٹیسٹ کرکٹر شرجیل اور ابھرتے ہوئے فاسٹ بولرمحمد حسنین جیسے کھلاڑی سامنے آئے، اقبال امام کیمپ میں ہیڈ کوچ مارک کولز کی معاونت کریں گے۔دوسری جانب قومی تربیتی کیمپ میں انگلینڈ سے تعلق رکھنے والے جمال ٹرینر، رفعت گل فزیو، زبیر ویڈیو انالسٹ اور عائشہ جلیل منیجرمقررکی گئی ہیں۔ ادھر کیمپ میں شرکت کے لیے ویمن کرکٹرز کی آمد کا سلسلہ شروع ہوگیا۔منتخب پاکستان ویمنزٹیم29 اپریل کوجنوبی افریقہ کے شہر جوہانسبرگ روانہ ہوگی، پاکستان اس وقت8 ٹیموں کی آئی سی سی چیمپئن شپ میں 12 پوائنٹس کیساتھ چھٹے نمبر پر ہے۔
،وہ جنوبی افریقہ سے صرف ایک پوائنٹ پیچھے جبکہ اس دوڑ میں سرفہرست آسٹریلیاسے 10 پوائنٹس پیچھے ہے۔
قومی سکواڈمیں نئے لڑکوں کوانٹری ملنی چاہیے،طاہرشاہ,عابد کےلئے راستہ آسان نہیں،حسنین کوچانس ملنابھی مشکل،راجہ اسدعلی کی گگلی میں گفتگو
لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) سابق فرسٹ کلاس کرکٹر طاہر شاہ نے کہا ہے کہ میرے خیال میں شاداب خان کو آل راﺅنڈر نہیں کہنا چاہئے کبھی کبھار سکور کرنے سے کوئی آل راﺅنڈر نہیں بن جاتا۔ چینل فائیو کے پروگرام گگلی میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میرے خیال میں نئے لڑکوں کو موقع ملنا چاہئے ٹیم میں عابد علی کی پرفارمنس بہتر تھی۔ میں سمجھتا ہوں کہ ٹیم میں فٹنس کے مسائل ہیں فٹنس مسائل دور کرنے ہیں تو اندر ہی اندر فٹنس ٹیسٹ لینے کے بجائے پریس کو بلا کر ٹیسٹ کئے جائیں۔ کرکٹ کمنٹیٹر راجہ اسد علی نے کہا کہ مجھے نہیں لگتا عابد کے لئے راستہ آسان ہو گا۔عابد علی سو فیصد فٹ نہیں ورلڈ کپ بہت بڑا ایونٹ ہے انہیں اپنی فٹنس ثابت کرنا ہو گی۔حسنین کو چانس ملنا بھی مشکل ہے۔پی ایس ایل کی بنیاد پر پچاس اوورز کے میچ کے لئے سلیکشن نہیں کی جا سکتی پی ایس ایل فرسٹ کلاس نہیں۔کوچنگ سٹاف کو پتہ ہوتا ہے کون فٹ ہے کون نہیں۔
گانے میں مرد کے ڈانس کو ‘آئٹم سانگ‘ کیوں نہیں مانا جاتا، حریم فاروق
لاہور (ویب ڈیسک ) اداکارہ حریم فاروق نے کہا ہے کہ جب خواتین کسی فلم میں گانے پر ڈانس کرتی ہے تو ان کی پرفارمنس کو ’آئٹم سانگ‘ کہا جاتا ہے جب کہ کوئی مرد اس طرح کی پرفارمنس کرتا ہے تو اسے ’آئٹم سانگ‘ نہیں کہا جاتا۔’زیبسٹ‘ میں ہونے والے میڈیا فیسٹیول کے ایک ایونٹ میں پینل کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے حریم فاروق نے تقریب میں بیٹھے افراد سے سوال کیا کہ جب کسی گانے میں کوئی مرد اداکار سولو (اکیلے) ڈانس کرے، تو کیا اسے بھی ’آئٹم سانگ‘ کہا جانا چاہیے؟اداکارہ کی جانب سے پوچھے گئے سوال پر کوئی بھی جواب سامنے نہیں آیا، تاہم حریم فاروق کے ساتھ پینل میں بیٹھے اداکارعثمان خالد بٹ نے کہا کہ یقینا مرد اداکار کے ایسے ڈانس کو بھی ’آئٹم سانگ‘ ہی کہا جائے گا۔عثمان خالد بٹ کے جواب پر حریم فاروق کا کہنا تھا کہ یہ صرف آپ کہہ رہے ہیں باقی کوئی بھی مرد کے سولو ڈانس کو ’آئٹم سانگ‘ نہیں سمجھ رہا اور درحقیقت یہی بڑا مسئلہ ہے۔
معاشی استحکام میں 18ماہ لگیں گے ،اسد عمر
اسلام آباد (نامہ نگار خصوصی) وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا ہے کہ وسط مدتی اقتصادی فریم ورک پر عملدرآمد کے نتیجہ میں 2022ءاور 2023ءمیں اقتصادی ترقی کی شرح گذشتہ 15 سالوں کی بلند ترین سطح پر ہوگی، پاکستان تحریک انصاف کی حکومت آنے والے انتخابات کے تناظر میں نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے مستقبل کو مدنظر رکھ کر اقتصادی فیصلے کر رہی ہے، اقتصادی فریم ورک پر عملدرآمد کے نتیجہ میں شرح تبادلہ کا پائیدار نظام قائم ہوگا، غربت اور قرضوں میں کمی آئے گی جبکہ 40 ارب ڈالر کی تجارت کا ہدف بھی حاصل کیا جائے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو یہاں وسط مدتی اقتصادی فریم ورک کے افتتاح کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر وزارت خزانہ اور ذیلی و منسلک اداروں کے اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔ وزیر خزانہ نے وسط مدتی اقتصادی فریم ورک دستاویز کی تیاری میں سابق وزیر خزانہ حفیظ پاشا، وزارت خزانہ اور ذیلی و منسلک اداروں کے اہلکاروں کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اس کی تیاری میں عالمی بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک اور اقتصادی ماہرین سے بھرپور طریقہ سے مشاورت کی گئی ہے اور ان سے فیڈ بیک حاصل کیا گیا ہے۔ اس دستاویز میں اس بات کا احاطہ کیا گیا ہے کہ آئندہ چار، پانچ سالوں میں ہم نے ملکی معیشت کو کس طرح آگے لے کر جانا ہے، فی الوقت اس فریم ورک میں اعداد و شمار نہیں دیئے گئے کیونکہ آئی ایم ایف کے ساتھ ہماری بات چیت آخری مراحل میں ہے، آئی ایم ایف کے ساتھ تمام تر تفصیلات طے ہونے کے بعد اعداد و شمار بھی جاری کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ پارلیمان ہی اقتصادی اور دیگر فیصلوں کا مرکز ہونا چاہئے، اس مقصد کیلئے اس دستاویز کو قومی اسمبلی اور سینٹ کی متعلقہ قائمہ کمیٹیوں کو بھی ارسال کیا جا رہا ہے تاکہ ان سے بات چیت اور مشاورت ہو اور ان کی ان پٹ کے بعد اس کو حتمی شکل دی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت ملکی معیشت کے فیصلے آنے والے انتخابات نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے مستقبل کو دیکھتے ہوئے کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وسط مدتی اقتصادی فریم ورک میں روزگار کی فراہمی، مہنگائی میں کمی، برآمدات میں اضافہ، بچتوں کے فروغ اور اس کے نتیجہ میں سرمایہ کاری میں اضافہ اور خسارہ میں کمی پر توجہ مرکوز کی گئی ہے، اگست میں جب ہم نے حکومت سنبھالی تو ہمیں فوری اور سخت فیصلوں کی ضرورت تھی کیونکہ اس وقت ملکی معیشت آئی سی یو میں تھی اور ہم نے آپریشن کرکے اسے معمول کی حالت میں لانا تھا، وہ فیصلے کر لئے گئے جس کے نتیجہ میں بحران ختم ہوا اور ملکی معیشت استحکام کی طرف جا رہی ہے، زرمبادلہ جس تیزی سے باہر جا رہا تھا اس پر قابو پا لیا گیا ہے، انشاءاﷲ آنے والے 2 سالوں میں پاکستان اقتصادی استحکام کی منزل حاصل کر لے گا۔ انہوں نے کہا کہ وسط مدتی اقتصادی فریم ورک کی ضرورت اس لئے بھی محسوس کی گئی کیونکہ پاکستان 1960ءکے عشرہ میں ترقی کا ایک ماڈل تھا لیکن وقت کے ساتھ ساتھ ہم تنزلی کا شکار ہوگئے اور ہم سے پیچھے رہ جانے والے ممالک ہم سے آگے نکل گئے، یہ افسوسناک صورتحال ہے کہ ہم سود کی ادائیگی کیلئے قرضے لے رہے ہیں، 800 ارب روپے سے زائد کے قرضے سود کی ادائیگی کیلئے لئے گئے ہیں، درآمدات اور برآمدات میں بھی گہری خلیج ہے، گزشتہ سال برآمدات ملکی معیشت کی شرح سے 8 فیصد تھی، چند سال قبل یہ ساڑھے 13 فیصد کی شرح سے تھی، ہم ترقی کی بجائے تنزلی کی طرف جا رہے ہیں، اس وقت بنگلہ دیش، بھارت اور ترکی کی برآمدات ملکی معیشت کے حساب سے 15، 19 اور 25 فیصد کی شرح سے ہیں۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ بچتیں نہ ہونے کی وجہ سے ملک میں سرمایہ کاری کو فروغ حاصل نہیں ہوسکا، بھارت اور چین نے تیزی سے اقتصادی ترقی اسی لئے کی کیونکہ وہاں بچتوں کی شرح 30 سے لے کر 45 فیصد تک تھی، پاکستان میں گزشتہ سال یہ شرح15 فیصد رہی، جب تک ہم ان مسائل کو حل نہیں کریں گے ہم بار بار آئی ایم ایف کی طرف جاتے رہیں گے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ ٹیکس اصلاحات کے ضمن میں جامع اقدامات کئے جا رہے ہیں، ایف بی آر میں انتظامیہ اور پالیسی کے درمیان فرق ضروری ہے، معیشت ترقی کرے گی تو اس سے ریونیو بڑھے گا، ٹیکس پالیسی یونٹ الگ سے بن رہا ہے، ٹیکنالوجی کے ضمن میں بھی اصلاحات اور قوانین متعارف کرائے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ عملدرآمد کی استعداد کار میں اضافہ کیلئے طریقہ کار بھی مرتب کرنے پر توجہ دی جا رہی ہے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ ریونیو میں اضافہ کیلئے ٹیکس کے نظام کو سہل اور آسان بنانا ہوگا، آنے والے بجٹ میں ٹیکس کا سادہ ترین نظام دیں گے جس سے لوگوں کو آسانیاں ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ خسارہ پر قابو پانے کیلئے وسط مدتی اقتصادی فریم ورک مکمل مالیاتی ڈسلپن کا ایک نظام ہے، ہم پبلک فنانس مینجمنٹ کا نیا قانون لانا چاہتے ہیں، ضمنی گرانٹ کا سلسلہ ختم کرنا ہوگا اور ضمنی گرانٹ کے اختیارات پارلیمنٹ کے پاس ہونے چاہئیں۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ ایکسچینج ریٹ ملکی ترقی کا پیمانہ نہیں ہے، ایک زمانہ میں پاکستان کی کرنسی کی قدر جاپانی کرنسی سے زیادہ تھی لیکن جاپان کی فی کس آمدنی پاکستان سے کہیں زیادہ تھی، ماضی میں مصنوعی طریقہ سے روپے کی قدر برقرار رکھی گئی جس سے مسائل پیدا ہوتے گئے، وسط مدتی اقتصادی فریم ورک کے نتیجہ میں شرح تبادلہ کا ایک جامع اور پائیدار نظام مرتب ہوگا اور قیاس آرائیاں اسے متاثر نہیں کر سکیں گی۔ انہوں نے کہا کہ فریم ورک کے تحت برآمدی صنعت کو پہلے کی طرح سہولیات دینی ہیں، بجلی، گیس اور ریفنڈ کے ضمن میں پہلے سے اقدامات کئے گئے ہیں، لیکوئیڈیٹی کی بحالی کے ساتھ ساتھ کاروبار میں آسانیاں پیدا کی جا رہی ہیں، جو اہداف مقرر کئے گئے ہیں وہ حاصل کئے جائیں گے، پاکستان ویلیو چین کے عالمیگر نظام سے کٹ گیا ہے، ہم اس کو دوبارہ بحال کر رہے ہیں اور اس کو عالمی نظام کے ساتھ مربوط بنایا جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان خطہ کے ممالک کے ساتھ تجارت کے فروغ پر اپنی توجہ مرکوز کرے گا، ترکی، ایران، چین، افغانستان اور وسطی ایشیاءکے ساتھ تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعلقات کو ترجیح دی جائے گی، آر سی ڈی شاہراہ کی استعداد کار سے استفادہ کرنے پر توجہ دی جا رہی ہے، ہم بھارت کے ساتھ بھی تجارت کو فروغ دینا چاہتے ہیں لیکن بھارتی حکومت پاکستان دشمنی کی بنیاد پر سیاست کرتی ہے، بھارت میں بے تحاشا غربت ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ برصغیر میں غربت کے خاتمہ کیلئے تمام تصفیہ طلب مسائل کے حل کیلئے جامع مذاکرات ہونے چاہئیں۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ برآمدات کے فروغ کیلئے زرعی پیداوار میں اضافہ کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ گذشتہ 20، 25 سالوں میں مارکیٹ تک رسائی اور تحقیق پر توجہ نہیں دی گئی جس کی وجہ سے زرعی پیداوار میں کمی آئی، وسط مدتی فریم ورک میں زراعت کی ترقی کیلئے جامع اقدامات تجویز کئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بچتوں اور سرمایہ کاری کے فروغ کیلئے بھی وسط مدتی فریم ورک کے تحت جامع منصوبہ بندی کی گئی ہے، اس کے تحت اسلامک بینکنگ اور اس سے منسلک خدمات میں اضافہ کیا جائے گا، ڈیجیٹل فنانس کو فروغ دینے کیلئے اقدامات کئے جائیں گے، ایس ای سی پی، سٹیٹ بینک اور دیگر ادارے پہلے سے کام کر رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ بنیادی ڈھانچہ اور سماجی شعبہ کی ترقی کیلئے پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ میںاضافہ پر توجہ دی جائے گی۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کے منشور کی بنیاد معاشرہ کے کمزور طبقات اور لوگوں کو بہتر زندگی کی فراہمی پر رکھی گئی ہے، اس مقصد کیلئے ”احساس“ سمیت کئی پروگرام شروع کئے گئے ہیں، حکومت معاشرہ کے کمزور اور غریب طبقات کی بہتری کیلئے وسائل میں اضافہ کرے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ گورننس کے نظام میں بہتری لائی جا رہی ہے۔ ڈاکٹر عشرت حسین کی قیادت میں ادارہ جاتی اصلاحات پر کام ہو رہا ہے اور فیصلے کئے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وسط مدتی اقتصادی فریم ورک کے اطلاق اور عملدرآمد کے نتیجہ میں 2022ءاور 2023ءمیں اقتصادی ترقی کی شرح گذشتہ 15 سال کی بلند ترین سطح پر ہو گی، روزگار کے زیادہ مواقع پیدا ہوں گے، ہاﺅسنگ اور ٹورازم کی صنعت کو فروغ حاصل ہو گا، افراط زر اور غربت میں کمی آ جائے گی جبکہ 40 ارب ڈالر برآمدات کا ہدف بھی حاصل ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری شعبہ میں چلنے والے اداروں کی نجکاری کا عمل جاری رہے گا تاہم سٹرٹیجک نوعیت کے حامل اداروں کی نجکاری نہیں ہو گی، انشاءاﷲ پانچ سال بعد جب نیا وزیر خزانہ یہاں پر خطاب کرے گا تو اسے یہ نہیں کہنا پڑے گا کہ گذشتہ حکومتوں کی وجہ سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا ہے کہ حکومت اثاثوں کی ڈیکلیئریشن کیلئے ایمنسٹی سکیم متعارف کرا رہی ہے جس کا مقصد اثاثے ظاہرنہ کرنے والے لوگوں کو ایک موقع فراہم کرنا ہے، ایف بی آر کی استعداد کار بہت بہتر ہو گئی ہے اور مجوزہ سکیم سے استفادہ نہ کرنے والے لوگوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ پیر کو یہاں بی آئی ایس پی ہیڈکوارٹرز کے آڈیٹوریم میں وسط مدتی اقتصادی فریم ورک کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ اثاثوں کو ظاہر کرنے کیلئے حکومت رعایتی سکیم کے خدوخال کو حتمی شکل دے رہی ہے، آنے والے ہفتہ میں اس کی تمام تر تفصیلات فراہم کی جائیں گی، ہمیں بیرون ممالک سے پاکستانیوں کے اکاﺅنٹس اور اثاثوں کے بارے میں معلومات مل رہی ہیں، بے نامی لین دین کے حوالہ سے بھی قوانین بن رہے ہیں۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ ڈیجیٹل فنانس کے تحت اداروں کی استعداد کار بہتر بنائی جا رہی ہے، ایف بی آر کی استعداد کار بہت بہتر ہوگئی ہے، ان کے پاس معلومات بھی آ رہی ہیں۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ جن لوگوں نے اپنے اثاثے ظاہر نہیں کئے ہیں وہ انہیں آگاہ کرنا چاہتے ہیں کہ جب سکیم کا اعلان ہو تو وہ فوری طور پر اپنے اثاثے ظاہر کریں کیونکہ اگر اثاثے ظاہر نہ کئے گئے تو ایف بی آر اور معاون اداروں کے پاس موجود ڈیٹا کو بروئے کار لاتے ہوئے اثاثے ظاہر نہ کرنے والے افراد کے خلاف کارروائی ہوگی۔
بھارت ہماری معیشت کو تباہ کرنا چاہتا ہے ہمیں ایک ہو جانا چاہئے ،چینل ۵ کے پروگرام ” کالم نگار “ میں گفتگو
لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)کالم نگار رحمت علی رازی نے کہا کہ اگر حمزہ شہباز سمجھتے ہیں وہ سیاستدان ہیں تو انہیں نیب کے بلانے پر جانا چاہئے تھاپھر عدلیہ کو اتنی کس بات کی عجلت تھی ۔ چینل فائیو کے پروگرام کالم نگار میں گفتگوکرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عوا م میں بہت کنفیوژن پائی جاتی ہے۔اگر ان لوگوں کو ریلیف دیا جاتا ہے تو باقی لوگ بھی تو انسان ہیں ۔نیب حمزہ شہباز کو گرفتار نہیں کر سکی اس سے بڑی حماقت نہیں ہو سکتی دن کے وقت نیب والے جاتے رینجرز ساتھ ہوتی لیڈیز اہلکار ہوتیں اور کارروائی کرتے ۔انہوں نے کہ ہماری آئی ایس آئی کو بھارت عزائم کی آگاہی ہو جاتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ وزیراعظم سیکرٹریٹ میں شارٹ سرکٹ کے باعث باتھ روم میں آگ لگی تھی۔ کالم نگارطارق ممتاز نے کہا کہ سننے میں آتا ہے قانون سب کے لئے ایک ہے لیکن سب جھوٹ ہے جس کے پاس طاقت ہے اسے سب مل جاتا ہے۔میں نے یہ بھی دیکھا ہے غنڈوں کے ساتھ سو سو لوگ عدالت جاتے ہیں کہ جج باہر تک نہیں آ سکتا۔میرے علاقے میں ایک ایس ایچ او مقتول اور قتل کرنے والی دونوں پارٹیوں سے ہی پیسے لے لیتا ہے۔عام شخص تو بےچارہ ہائیکورٹ کے جج کے پاس نہیں جاسکتا نہ ہی اس کے پاس وکیل کو دینے کو پیسے ہوتے ہیں ۔انہوں نے کہا ہمیں بھارت کے سامنے خود کو کمزور ثابت نہیں کرنا بھارت ہماری معیشت تباہ کرنا چاہتا ہے ہو سکتا ہے بھارت نے ممکنہ حملے کی ،خبر خود بھجوائی ہو تا کہ پاکستان میں تشویش پھیلے۔ سابق نیب پراسیکیوٹر عدنان شجاع بٹ نے کہا کہ ہفتے کو ضمانت کی پٹیشن فائل کی گئی حالانکہ ہفتے کو بنچ کام نہیں کرتا۔انہوں نے کہا کہ فائل عدالت میں جمع تھی اس لئے حمزہ کو گرفتار نہیں کیا جا سکتا تھا۔ضمانت ویسے بھی عدالت کی صوابدید ہے۔اگر غیر معمولی حالات ہوں تو عدالت ہفتے کو بھی کام کر سکتی ہے۔سیکشن32میں اپیل کی اجازت ہے ۔تیس دن میں ٹرائل ختم کرنا ہے یہ ممکن نہیں اس میں بھی تبدیلی ہونی چاہئے ۔جلیل ارشد کیس میں پنڈی ہائیکورٹ نے دس دن کا وقت دیا تھا جسے نیب نے سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا لیکن ساتھ یہ بھی کہہ دیا اس کی گرفتاری ہمیں مطلوب نہیں لیکن ہمیں قانون کے بارے میں ہمیں بتا دیں۔کالم نگارآغا باقر نے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ نے حمزہ شہباز کو دس دن کی ضمانت دے دی۔عام آدمی کے دل میں سوال ہے چھٹی والے دن کیسے ضمانت ہو سکتی ہے۔پولیس اور نیب کے قانون میں فرق ہے۔انہوں نے کہا کہ پنڈی کی عدالت نے جعلی اکاﺅنٹس کیس میں زرداری اور فریال تالپور کی استثنی کی درخواست مسترد کر دی گئی ہے۔
پلوامہ بارے مودی کے بیانیہ کی قلعی کھل گئی: شاہ محمود قریشی،بھارت کشمیر پر ناکامی چھپانے کیلئے الزامات لگا رہا ہے‘ جنرل (ر) اعجاز اعوان،چھٹی والے دن ضمانت ملنا سمجھ سے باہر ہے‘ قانون سب کیلئے برابر ہونا چاہئے‘ راجہ عامر عباس،کی چینل ۵ کے پروگرام ” نیوز ایٹ 7 “ میں گفتگو
لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ نریندر مودی انتخابات میں کامیابی چاہتے ہیں ,لیکن پلوامہ سے جو فائدہ وہ اٹھانا چاہتے تھے انہیں لینے کے دینے پڑ گئے ان کے سارے بیانیے کی قلعی کھل گئی۔اب مودی کوشش کر رہا ہے پاکستان پر پھر الزام لگا کر کارروائی کی جائے۔ چینل فائیو کے پروگرام نیوز ایٹ 7میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مودی چاہتا ہے ایک نئی سفارتی جنگ شروع کر کے ایک نئی جارحیت کا جواز پیدا کیا جائے۔ہمیں دنیا کو باور کرانا ہے بھارت جارحیت بڑھانے کے لئے اقدامات کر رہا ہے جبکہ پاکستان جارحیت نہیں چاہتا اس کے لئے اسلام آباد میں مختلف ملکوں کے سفارتکاروں کو مدعو کیاہے تاکہ بھارت کا اصل چہرہ دکھایا جائے۔پوری دنیا میں اپنے سفارتکاروں کو بھی ہدایت کی ہے بھارتی جارحیت پر دنیا کو باور کریں۔بھارت اگر جارحیت کرتا ہے خطے پر بھیانک اثرات مرتب ہوں گے یہ خطے کو جنگ کی جانب دھکیلنے کے مترادف ہو گا۔بھارت نے نیا شوشہ چھوڑ دیا آئین کے آرٹیکل 35اے کو تبدیل کرنے کی بات کی جارہی ہے۔بھارت کشمیر میں حریت کو بین کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔بھارت سرکار کے عزائم بہت خطرناک ہیں مقبوضہ کشمیر کی صورتحال خراب کی جا رہی ہے۔فاروق عبداللہ نے کہا ہے اگر بھارت نے ایسا کیا تو مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جھنڈا اٹھانے والا کوئی نہیں ہو گا۔بین الاقوامی برادری کر اپنا کردادر ادا کرنا چاہئے۔چھبیس فروری کو جو بھارت نے جارحیت کی تھی اس پر عالمی خاموشی افسوسناک ہے۔اس سے قبل کوئی نقصان ہو عالمی برادری کو کردار ادا کرنا چاہئے۔بھارت کے پاکستان کے خلاف دعوے جھوٹ ثابت ہوئے۔پاکستان تو امن کا سفر جاری رکھے گا لیکن بھارت نے جارحیت کی تو منہ توڑ جواب دیں گے۔تحریک انصاف کے رہنماءشوکت بسرا نے کہا ہے کہ چھٹی والے روز حمزہ شہباز کو ضمانت میں توسیع مل گئی یعنی فوری انصاف مل گیا دعا ہے ایسا انصاف عوام کو بھی ملے۔غریب جب عدالت میں جاتا ہے تو پتہ چلتا ہے جج صاحب تو چھٹی پر ہیں۔نیب کے ساتھ ن لیگ کے گلو بٹوں کا رویہ سب کے سامنے ہے۔اگر اپوزیشن کو نیب پر تحفظات ہیں تو سپریم کورٹ جائیں الزامات نہ لگائیں۔وزیراعظم عمران خان کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے کرپٹ عناصر کو احتساب کا سامنا کرنا پڑے گا۔جنرل ر اعجاز اعوان نے کہا بھارت کشمیر میں ناکامی چھپانے کے لئے الزامات لگا رہا ہے کہ پاکستان کشمیریوں کی اندرونی طور پر معاونت کر رہا ہے۔جنگ شروع کرنا آسان لیکن ختم کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ کشیدگی ختم کرنے کے لئے عالمی برادری اپنا اثرورسوخ استعمال کریگی۔ سابق نیب ڈپٹی پراسیکیوٹر راجہ عامر عباس نے کہا کہ چھٹی والے دن ضمانت ملنا سمجھ سے باہر ہے قانون سب کے لئے برابر ہونا چاہئے۔نیب کو سیاسی اثرورسوخ سے پاک کئے بغیر شفاف احتساب ممکن نہیں۔سابق گورنر سندھ محمد زبیر نے کہا کہ زرداری کا کیس چلے گا تو پتہ چلے گا دوخواتین وعدہ معاف گواہوں کے سامنے آنے سے کیا ہوتا ہے۔حکومت کے پاس اپوزیشن کے خلاف کرپشن کے ثبوت نہیں۔ نیب کو حکومت استعمال کر رہی ہے نیب باصلاحیت نہیں۔
مودی نے منشور میں بابری مسجد کی جگہ رام مندر بنانے کا اعلان کرکے متعصب ہندوﺅں کو بھڑکایا :معروف صحافی ضیا شاہد کی چینل ۵ کے پروگرام ” ضیا شاہد کے ساتھ “ میں گفتگو
لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں و تبصروں پرمشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ میں سمجھتا ہوں کہ وزیرخارجہ نے بات کی ہے پوری ذمہ داری سے کی ہو گی انہوں نے بھارت کے بارے میں جو بات کی ہو گی کہ مصدقہ معلومات کی بنیاد پر کی ہو گی۔ یقینا انہیں پاکستان کے مختلف اداروں نے فراہم کی ہوں گی یہ سنجیدہ بات ہے اس کا مطلب کہ انڈیا نے جو پہلا قدم اٹھایا تھا اس کے باوجود اس کا دل نہیں بھرا، اور وہ ایک اور کوشش کرنا چاہتا ہے اور اس کارروائی بارے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کو ملی ہیں ظاہر ہے وہ معلومات فوی ذریعے سے یا انٹیلی جنس کے ذریعے ہی مل سکتی ہیں اس قسم کی معلومات غیر ذمہ داری سے اور نظر انداز نہیں کی جا سکتیں۔ اچھا کیا شاہ محمود قریشی نے بڑی طاقتوں کو آن لائن لیا ہے اور بتایا ہے کہ یہ معلومات متعلقہ تمام کوارٹرز تک بھی جانی چاہئے اور سوپر پاورز تک بھی جانی چاہئے۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کی طرف سے جو تاریخ اوپن کرنا ہی ایک بہت بڑا حربہ ہے اس لئے تمام کنسرن کوارٹرز تک یہ بات پہنچ گئی ہے کہ اگر کوئی متعلقہ عالمی ادارہ روکنا چاہتا ہے یا چاہتے ہیں کہ بھارت ایسی حرکت سے باز رہے تو آگے بڑھ کر اپنا فریضہ ادا کرنا چاہئے۔ پاکستان کی فورسز کو بھی بات پہنچا دی ہے کہ انڈیا اس قسم کی مذموم حرکت کر سکتا ہے۔ جو منشور آج مودی نے جاری کیا ہے ایک بار پھر انہوں نے اپنا متعصب ہندو ہونے کا ثبوت دیا اس کا پہلے جملہ یہ ہے بابری مسجد کی رام مندر بنے گا۔ اس ملک میں تعصب کی فضا کو اوپن کرنا چاہتے ہیں اور اس نہج پر لانا چاہتے ہیں کہ وہ سارے متعصب اور جنونی قسم کے ہندو جو ہیں وہ کیونکہ ہندوﺅں میں وہ دانشور، ادیب، آرٹسٹ ہیں، شاعر ہیں جنہوں نے اس منشور کی مخالفت کی ہے لیکن یہ لوگ بھی ظاہر کرتے ہیں یہ ظاہر کرتا ہے کہ انڈیا کو متعصب قسم کی ہے اور جنونی قسم کی انتہا پسندی کا ایشو ہے اس کی طرف دھکیلا جا رہا ہے کیا انڈیا کے لوگوں کا سب سے برا مسئلہ یہ ہے کہ رام مندر کی جگہ بابری مسجد کیوں تعمیر کی گئی تھی۔ یہ صدیوں سے چلتا ہوا مسئلہ ہے۔ اس کی ایک پوری تاریخ ہے اس کو اس طرح سے اچھالنا کہ ایک ہندو مذہب کے جنونی اور متعصب ہندوﺅں کو اور زیادہ بھڑکانا اور اس بات پر آمادہ کرنا کہ جناب اگر آپ نے ہمیں ووٹ دیا تو ہمیں پھر بابری مسجد کی جگہ رام مندر بنا کر دکھائیں گے، یہ بات ظاہر کرتی ہے کہ مودی کا منصور ایک متعصبانہ منصور ہے۔ اگر مذہبی تعصب کو اس طرح ہوا دی جائے گی کہ اس کا ذمہ دار خود مودی ہے۔ کیونکہ لوگ اس منصور کی مدد سے ایک متعصبانہ انتہا پسندانہ مطالبات کرنے لگیں گے۔
وزیرخزانہ اسد عمر کی اس بیان پر کہ معیشت آئی سی یو سے نکل آئی ضیا شاہد نے کہا کہ اچھی بات ہے اگر آئی سی یو سے نکل آئی ہے لیکن یہ تو ظاہر ہوتا ہے کہ خطرے کی حدود سے باہر نہیں نکلی ہے کیونکہ ساتھ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ ابھی 1½ سال اور لگیں گے۔ 1½ سال بہت لمبی مدت ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ابھی مشکلات کا دور ابھی ڈیڑھ سال باقی ہے اس کا ملب ہے کہ ابھی ہم کافی مشکلات کا شکار ہیں۔ جب بھی روپیہ کی قدر کم ہو گی جب ڈالر کی قیمت بڑھے گی تو لوگ اپنے آپ کو محفوظ رکھنے کے لئے رجحان بڑھے گا تو لوگوں کے پاس جو پیسے ہیں، زیور ہے پراپرٹی ہے اس کو ڈالروں میں تبدیل کرنے کا رجحان بڑھے گا۔ اور ڈالر خرید کر اپنے پاس رکھ لو۔ یہ عمل تو ملک کو اور زیادہ تباہی کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔ گویا جان بوجھ کر ڈالر مہنگا کیا جا رہا ہے۔ وزیرخزانہ کے الفاظ ظاہر کرتے ہیں کہ ابھی کافی بحران کا دور ہے ابھی 1½ سال اور مشکلات کے پڑے ہیں۔ معیشت کی اصلاح جب آپ تسلیم کر لیتے ہیں کہ ہماری معیشت اس وقت کمزور ہے اس کا مطلب ہے آپ تو پہلے ہی ایشو جو درپیش ہے اس کو چار چاند لگا دیتے ہیں اس کو آپ بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں ہمیں تو چاہئے کہ کہیں 1½ سال کی بجائے 8,7 ماہ میں انشاءاللہ اس بحران پر قابو پا لیں گے۔ اب اگر آپ ازخود کہہ رہے ہیں کہ 1½ سال لگیں گے تگڑے ہو جاﺅ۔ میں تو پہلے کہہ چکا ہوں اس پروگرام میں بھی دو تین مرتبہ کہا ہے کہ میں نے عمران خان صاحب کی موجودگی میں ایڈیٹروں سے جو وہ گفتگو کر رہے تھے اس میں کہا تھا کہ براہ کرم وزیرخزانہ سے کہیں کہ وہ اس قسم کے بیانات دینا چھوڑ دیں کہ مہنگائی کے ذریعے عوام کی چیخیں نکل جائیں گی اور ہمارا بیڑا غرق ہونے والا ہے۔ اگر ہونے بھی والا ہے تو بھی خود اپنی زبان کے اعتراف سے مایوسی اور بڑھ جائے گی۔
حمزہ شہباز کیس کی سماعت ہوئی اور عدالت نے دوبارہ 10 اپریل کو طلب کیا ہے ایک کروڑ کے ضمانتی مچلکے جمع کرانے پر ان کو ضمانت تو مل گئی ہے لیکن خطرہ نہیں ٹالا آمدن سے زائد اثاثوں کے کیس کے حوالہ سے بات کرتے ہوئے ضیا شاہد نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ شیخ رشید سے شروع ہو کر عمران خان بھی کہہ رہے ہیں کہ پیسے دے دیں نوازشریف اور زرداری صاحب اور پھر ملک سے باہر چلے جائیں اس کا مطلب ہے وہ خود تجویز کر رہے ہیں کہ پلی بار گیننگ کے طور پر جو بھی طریق کار ہے وہ اگر اس کے تحت پیسہ جمع کرانے پر تیار ہو تو پھر کوئی اعتراض نہیں ہے انہیں کوئی شوق نہیں وہ نوازشریف یا آصف زرداری کو اپنی تحویل میں ضرور رکھیں وہ یہ چاہتے ہیں کہ جو قوم کا پیسہ واپس دے دیا جائے۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ اس سلسلے میں یہ جو اس وقت جو فضا قائم ہوئی ہے کہ شاید نوازشریف اور آصف زرداری صاحب اس طرف غور کر رہے ہیں دبے دبے لفظوں میں یہ باتیں سامنے آ رہی ہیں کہ شاید پلی بار گیننگ کے تحت کچھ پیسے دینے کو تیار ہو جائیں گے اور اگر وہ ہو جائیں تو بڑی اچھی بات ہے پاکستان تو پیسے چاہئیں ہمیں تو ہماری دولت چاہئے جو لوٹی گئی ہے اور اگر اس دولت کا کچھ حصہ بھی واپس آ سکتا ہے تو میں سمجھتا ہو ںکہ یہ اچھی بات ہے۔ بہر حال یہ زیادہ بہتر بات ہو گی کہ کچھ نہ دینے سے کچھ نہ کچھ پیسے پاکستان کو مل جائیں۔ اور اب جو کچھ چیزیں سامنے آئی ہیں آج بھی جو گرفتاری ہوئی ہے مشتاق کو باہر جاتے ہوئے پکڑا گیا ہے۔ لوگ زیادہ سے زیادہ پاکستان سے باہر بھاگ رہے ہیں۔ اور زیادہ سے زیادہ پیسہ باہر بھیج کر خود بھی یہاں سے رخصت ہونا چاہتے ہیں۔
رمضان شوگرملز کا جنرل منیجر باہر جاتے پکڑا گیا، زرداری کیس میں دو خواتین وعدہ معاف گواہ بنتی ہیں اور اس سے لوٹے پیسے بھی واپس ملتے ہیں تو یہ اچھی بات ہے۔
بلاول بھٹو کی کات مار کر حکومت گرانے کی بات کو سراج الحق نے پسند نہیں کیا اس کے بعد آصف زرداری نے ان سے فون پر بات کی تو یقینی طور پر اس حوالے سے وضاحت بھی کی ہو گی۔ سراج الحق ایک ماڈریٹ آدمی ہیں جو انتہا پسندی کو ناپسند کرتے ہیں۔ پاکستان کے زیادہ تر سیاستدان انتہا پسند نہیں ہیں اور ملک کو درپیش مسائل سے مکمل طور پر آگاہ ہیں بھارت سے درپیش جنگ کے خطرے سے آگاہ ہیں اس وقت کوئی محب وطن پسند نہیں کرے گا کہ ملک کو درپیش خطرات کو پس پشت ڈال کر ایسی کوئی کمپئن چلائی جائے جس سے حکومت عدم استحکام کا شکار ہے۔ مولانا فضل الرحمان اسمبلی میں تو پہنچ نہیں سکے اس لئے لگائی بجھائی کیلئے ہر وقت دستیاب ہیں۔ اس وقت بھی وہ حکومت کے خلاف ایک نیا اتحاد بنانے کیلئے سرگرم ہیں انہیں ایسا اتحاد بنانے کا جمہوری حق حاصل ہے تاہم میرے نزدیک وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکیں گے۔ وقت گزرنے کے ساتھ مزید وعدہ معاف بھی سامنے آئیں گے کیونکہ کوئی دوسرے کی آگ میں خود کو کیوں جھونکے گا جیسے جیسے قانون کا گھیرا تنگ ہو گا ہر کوئی اپنی جان بچانے کی کوشش کرے گا اور وعدہ معاف گواہ بنے گا۔
فرانس سے سرمایہ کاری کا آنا خوش آئند ہو گا تاہم سب سے اہم بات ملک میں امن کو قائم کرنا اور رکھنا ہے۔ کراچی میں رینجرز نے بڑی حد تک نظم و نسق سنبھال رکھا تھا ار امن قائم کر رکھا تھا اب وہ بارڈر پر فرائض سنبھالنے کیلئے جانا چاہتے ہیں۔ اگر رینجرز اس وقت کراچی سے چلی جاتی ہے تو شاید پولیس معاملات کو سنبھالنے میں ناکام رہے۔
اس وقت کوشش ہو رہی ہے کہ کچھ دے دلا کر پاکستان سے باہرجانے میں کامیابی ملتی ہے تو ایسا کیا جائے۔ معاملات اگر سلجھ گئے تو 15 سے 20 دن میں بارگیننگ کا عمل مکمل ہو سکتا ہے اور یہ لوگ ملک سے باہر جا سکتے ہیں۔
نجم سیٹھی نے سب سے پہلے خبر جاری کی کہ بنی گالا میں بڑا جھگڑا ہوا ہے اور خاتون اول بشریٰ بی بی عمران خان کو چھوڑ کر جا رہی ہیں یہ خبر جھوٹ پر مبنی تھی اس لئے اس پر پیمرا نے بھی نوٹس لیا ہے اور غلط خبر جاری کرنے پرنجم سیٹھی سے باز پرس کی گئی ہے۔ صحافی جنید سلیم نے دو دن پہلے وزیراعظم اور خاتون اول کا انٹرویوو لیا جس میں دونوں میاں بیوی نے جھوٹی خبر کی تردید کی اور کہا کہ ان میں کوئی جھگڑا نہیں ہوا ایک جھوٹی خبر جاری کی گئی جس میں لغویات کی گئی۔ جب میاں بیوی خود کہہ رہے ہیں کہ ان میں کوئی تلخی یا جھگرا نہیں ہوا تو ایک تیسرے فریق کو قیاس آرائیاں کرنے کا کیا حق ہے۔
مچھلی کے تیل کو زیادہ کھانے سے ہونے والے نقصانات
لاہور (ویب ڈیسک ) آپ نے سنا ہوگا کہ اومیگا تھری فیٹی ایسڈز ایسے صحت مند فیٹس ہیں جو کہ دل کو صحت مند رکھنے کے لیے ضروری ہے۔اور تمام طبی ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ اومیگا تھری فیٹی ایسڈز کے حصول کا بہترین ذریعہ آئلی فش کا استعمال ہے۔درحقیقت مچھلی کے تیل کو صحت بہتر بنانے کی کنجی بھی مانا جاتا ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ جسمانی ورم میں کمی لاکر جوڑوں کے امراض کی شدت کم کرسکتا ہے۔تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ مچھلی کا تیل ہمیشہ فائدہ مند ثابت نہیں ہوتا بلکہ اس کی زیادہ مقدار فائدے کی بجائے صحت پہنچاسکتی ہے۔اس تیل کے کیپسول ڈاکٹر کی تجویز کردہ مقدار کے مطابق کھانے چاہیے ورنہ ان نقصانات کا سامنا ہوتا ہے۔
ہائی بلڈ شوگر
کچھ طبی تحقیقی رپورٹس میں یہ بات سامنے آئی کہ اومیگا تھری فیٹی ایسڈز کی زیادہ مقدار کا استعمال ذیابیطس کے شکار افراد میں بلڈشوگر لیول بڑھانے کا باعث بن سکتی ہے، ایک تحقیق کے مطابق روزانہ 8 گرام اومیگا تھری فیٹی ایسڈز کا استعمال بلڈشوگر لیول میں 22 فیصد اضافے کا باعث بن گیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ فیٹی ایسڈز گلوکوز بننے کے عمل کو متحرک کرتے ہیں جس کے نتیجے میں طویل المعیاد بنیادوں پر بلڈشوگر لیول بڑھتا ہے۔
مسوڑوں سے خون
مسوڑوں سے خون بہنا اور نکسیر پھوٹ جانا مچھلی کے تیل کے زیادہ استعمال کے سائیڈ ایفیکٹس ہوتے ہیں، ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ مچھلی کے تیل کا زیادہ استعمال نکسیر ھوٹنے کا خطرہ بڑھاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ کسی سرجری سے پہلے اس تیل کے استعمال نہ کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے جبکہ خون پتلا کرنے والی ادویات کھانے والے افراد کو بھی ان سپلیمنٹس کا استعمال معالج کے مشورے سے کرنا چاہیے۔
بلڈ پریشر کم ہوجانا
مچھلی کے تیل کی بلڈپریشر میں کمی لانے کی صلاحیت ثابت ہوچکی ہے، ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ مچھلی کے تیل کا استعمال بلڈ پریشر لو کرتا ہے خصوصاً ہائی بلڈ پریشر یا ہائی کولیسٹرول کے شکار افراد میں۔ ویسے تو یہ ہائی بلڈ پریشر کے شکار افراد کے لیے فائدہ مند ہے، مگر ایسے افراد کے لیے یہ سنگین مسئلہ بن سکتا ہے جن کا بلڈ پریشر لو رہتا ہے، ہائی بلڈ پریشر کے شکار افراد ادویات کے استعمال کے ساتھ اس تیل کے کیپسول ڈاکٹر کے مشورے سے ہی کریں۔
ہیضہ
مچھلی کے تیل کے استعمال سے ایک اور سائیڈ ایفیکٹ ہیضے کی شکل میں بھی نظرآتا ہے خصوصاً زیادہ مقدار میں اس کا استعمال کیا جائے۔ ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ مچھلی کے تیل کے چند مضر اثرات میں سے ایک ہیضہ بھی ہے۔ اگر ان کیپسولز کو کھانے کے بعد ہیضے کا سامنا ہو تو اس کا استعمال کم کردیں یا ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔
سینے میں جلن
مچھلی کے تیل کا زیادہ استعمال اکثر سینے میں جلن کا باعث بھی بن جاتا ہے، سینے میں جلن کی دیگر علامات جیسے دل متلانا کا بھی اس سپلیمنٹ کے استعمال میں سامنے آتی ہیں، جس کی وجہ اس میں چکنائی کی مقدار زیادہ ہونا ہے، اگر ایسا تجربہ ہو تو ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔
فالج کا خطرہ بڑھتا ہے
برطانیہ سے تعلق رکھنے والی ایسٹ Anglia یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ مچھلی میں موجود فیٹی ایسڈز جو کہ دل کے لیے فائدہ مند ہوتے ہیں، مچھلی کے تیل کے کیپسول کے سپلیمنٹ کی صورت میں کوئی فائدہ نہیں پہنچاتے۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ مچھلی کے تیل کے کیپسول ہارٹ اٹیک، فالج یا دیگر امراض قلب کے خطرے میں کوئی خاص کمی نہیں لاتے۔ درحقیقت محققین نے دریافت کیا کہ اس سپلیمنٹ کا استعمال صحت کے لیے فائدہ مند کولیسٹرول کی سطح میں کمی لانے کا باعث بن سکتا ہے جس سے شریانوں کو نقصان پہنچنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
کلاسیکل گائیک اسد امانت کومداحوں سے بچھڑے 12 برس بیت گئے
لاہور(ویب ڈیسک) پٹیالہ گھرانے سے تعلق رکھنے والے کلاسیکل گائیک اسد امانت علی خان کومداحوں سے بچھڑے 12 برس بیت گئے۔مرحوم اسدامانت کی عمراس وقت لگ بھگ 20 سال تھی جب ان کے والد استاد امانت علی خان کا انتقال ہوا تھا۔ اسد اپنے بھائیوں میں سب سے بڑے تھے۔ 70ءکی دہائی میں اسدامانت علی خاں نے متعدد فلموں کے لیے گیت گائے۔انھوں نے موسیقی کی تربیت اپنے دادا مرحوم استاد اختر حسین سے حاصل کی بعدازاں انھیں ان کے والد استاد امانت علی خاں اور تایا استاد فتح علی خاں نے بھی دی۔ اسد امانت علی خاں نے اپنی خاندانی روایت کے مطابق اپنے سب سے چھوٹے چچا استاد حامد علی خاں کے ساتھ جوڑی کے طورپرکلاسیکی گائیکی کا آغاز کیا۔اسد امانت علی خاں نے ریڈیو، ٹیلیویثرن اور فلم کے لیے سیکڑوں گیت اور غزلیں گائیں جن میں متعدد گیت اور غزلیں زبان زد عام ہوئیں۔70 کی دہائی میں اسدامانت علی خاں نے متعدد فلموں کے لیے گیت گائے ان کے مشہور گیتوں میں ”تو شمع محبت ہے، میں ہوں تیرا پروانہ“ ، ”میں تجھے دل سے پیارکرتا ہوں، تو مجھے زندگی سے پیارا ہے“، ”عمراں لنگیاں پباں بھار“ سمیت بہت سے گیت اورغزلیں کی مشہور ہوئیں۔برصغیر کے متعدد نامور گانے والے ان کے پٹیالہ گھرانے کے شاگرد تھے۔ سابق صدر پرویز مشرف اور سابق وزیراعظم پاکستان شوکت عزیز ان کے پرستاروں میں شامل رہے، انھیں گائیکی کے میدان میں گراں قدر خدمات سرانجام دینے پر پرویز مشرف کے دور میں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی بھی عطا کیا گیا۔ گلوکار اسد امانت علی خاں 54 سال کی عمر میں لندن میں علاج کی غرض سے گئے جہاں 8 اپریل 2007 میں دل کا دورہ پڑا جو جان لیوا ثابت ہوا۔
ورلڈکپ اسکواڈ؛ 18 کھلاڑیوں کی ابتدائی فہرست تیار
لاہور(ویب ڈیسک) ورلڈ کپ اسکواڈ کا انتخاب کرنے کیلیے سلیکٹرز کی میٹنگ ہفتہ کو ہوگی۔قومی ٹیم کے ہیڈ کوچ مکی آرتھر اور کپتان سرفراز احمد سے مشاورت بھی طلب کی جائے گی، ذرائع کے مطابق سلیکشن کمیٹی نے 18 کھلاڑیوں کی ابتدائی فہرست تیار کرلی ہے، اسکواڈ میں اوپننگ اور پیس بیٹری سمیت ایک دو، پوزیشن کیلیے چند پلیئرز دوڑ میں شامل ہیں۔اس حوالے سے فیصلے کرنے کیلیے ہیڈ کوچ مکی آرتھر اور کپتان سرفراز احمد کی مشاورت انتہائی اہمیت کی حامل ہے، مزید معلوم ہوا ہے کہ پاکستان ون ڈے کپ کے ٹاپ پرفارمرز کو زیر غور لانے کے اعلان کا بھرم قائم رکھنے کیلیے ایک، دو مزید کھلاڑیوں کو فٹنس ٹیسٹ کیلیے بھی نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں مدعو کیا جا سکتا ہے۔یاد رہے کہ قبل ازیں 23 ممکنہ کرکٹرز کا اعلان کیا گیا ہے۔
آم کے ‘کرشماتی پتے’ بھی متعدد امراض سے بچانے میں مددگار
لاہور(ویب ڈیسک)آم ایسا پھل ہے جسے پھلوں کا بادشاہ قرار دیا جاتا ہے مگر کیا آپ کو معلوم ہے کہ اس کے گہرے سبز رنگ کے پتے بھی صحت کے لیے کتنے فائدہ مند ہیں؟جی ہاں واقعی یہ پتے وٹامن سی، بی اور اے سے بھرپور ہوتے ہیں جبکہ دیگر صحت بخش اجزا بھی ان میں موجود ہوتے ہیں مگر سب سے خاص ان میں موجود طاقتور اینٹی آکسائیڈنٹ خصوصیات ہیں جس کی وجہ فلیونوئڈز اور فینولز کی موجودگی ہے۔سال بھر ہر جگہ آسانی سے دستیاب ان پتوں کے حیران کردینے والے فوائد درج ذیل ہیں۔
ذیابیطس کا علاج کریں
جی ہاں آم کے پتے ذیابیطس کو کنٹرول کرنے کے لیے انتہائی موثر ثابت ہوسکتے ہیں، ن پتوں میں موجود ایکسٹریکٹ انسولین کی تیاری اور گلوکوز کی تقسیم کو بہتر بناتا ہے جبکہ بلڈ شوگر لیول کو موثر طریقے سے مستحکم کرتا ہے۔ یہ پتے پیسٹین، وٹامن سی اور فائبر سے بھرپور ہوتے ہیں جو کہ صحت کے لیے نقصان دہ کولیسٹرول کی سطح بھی کم کرتے ہیں۔ ان پتوں کو استعمال کرنے کے لیے دس سے پندرہ پتے پانی میں ابالیں اور رات بھر کے لیے چھوڑ دیں۔ صبح ناشتے سے پہلے اسے چائے کی شکل میں پی لیں۔ اس کو دو سے تین مہینے تک اپنانے پر ذیابیطس کے مرض کی شدت میں نمایاں کمی محسوس ہوگی۔
بلڈ پریشر کم کریں
یہ پتے بلڈپریشر کی سطح میں کمی لانے میں بھی مدد فراہم کرتے ہیں، یہ خون کی شریانوں کو مضبوطی فراہم کرتے ہیں اور مختلف مسائل سے بچاتے بھی ہیں۔
ذہنی بے چینی دور کریں
ذہنی بے چینی کے شکار افراد کے لیے یہ پتے ایک بہترین گھویلو ٹوٹکا ثابت ہوتے ہیں، 2 سے 3 آم کے پتوں کو ابال کر نہانے کے پانی میں ڈال کر نہالیں، جس سے بے چینی کم ہوگی۔
سانس کے مسائل سے بچائے
آم کے پتوں کو صدیوں سے دمہ کے علاج کے لیے استعمال کیا جارہا ہے، ان پتوں کو پانی میں ابال کر تھوڑا شہد شامل کرکے جوشاندہ بنائیں اور پی لیں، جس سے کھانسی کے علاج میں مدد ملے گی۔
کان کا درد دور کرے
کان کا درد کتنا تکلیف دہ ہوتا ہے، اسکا اندازہ اس کے شکار افراد کو بخوبی ہوگا۔ ایک چائے کے چمچ آم کے پتوں کا ایکسٹریکٹ کانوں کے ڈراپ کے طور پر استعمال کرنا کان کے درد سے ریلیف فراہم کرتا ہے، اس ایکسٹریکٹ کو استعمال سے پہلے تھوڑا گرم کرنا مت بھولیں۔
جلنے کے زخم سے ریلیف
اگر جلد معمولی جل گئی ہے تو آم کے چند پتے جلا کر راکھ بنائیں اور اس راکھ کو متاثرہ حصے پر لگائیں جو فوری ریلیف فراہم کرے گی۔
معدے کے امراض
چند پتے گرم پانی میں ڈالیں اور اس برتن کو ڈھک کر رات بھر کے لیے چھوڑ دیں۔ اگلی صبح پانی چھان کر خالی پیٹ پی لیں، اس مشروب کو پینا معمول بنانا معدے کے مختلف امراض سے تحفظ فراہم کرے گا۔


















