سعودی عرب: سیکیورٹی فورسز پر حملہ، 2 دہشت گرد ہلاک، 2 گرفتار

ابو حدریہ (ویب ڈیسک)سعودی عرب کے مشرقی صوبے میں سیکیورٹی چیک پوسٹ پر دہشت گردوں کا حملہ، سیکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں 2 دہشت گرد ہلاک اور 2 گرفتار ہوگئے۔سعودی پریس ایجنسی نے اپنی رپورٹ میں پریزیڈنسی آف اسٹیٹ سیکیورٹی کے ترجمان کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ یہ حملہ ابو حدریہ کے مقام پر مشرقی صوبے کو بحرین اور کویت سے ملانے والی ہائی وے پر دہشت گردوں کی ملک سے فرار ہونے کی کوشش کے دوران پیش آیا۔مشرقی صوبے کی سیکیورٹی اداروں کے ساتھ مشترکہ آپریشن میں صدارتی اہلکاروں کو ابو حدریہ کے مقام پر ایس یو وی گاڑی میں 4 دہشت گرد نظر آئے۔سیکیورٹی اداروں نے دہشت گردوں کا جب راستہ روکا اور انہیں ہتھیار ڈالنے کا حکم دیا تو انہوں نے سیکیورٹی اہلکاروں پر فائرنگ کی جس کے جواب میں اہلکاروں نے بھی ان پر فائرنگ کی جس کی وجہ سے ان کی گاڑی کو شدید نقصان پہنچا۔گاڑی کو نقصان پہنچنے پر دہشت گرد قریبی گیس اسٹیشن کی طرف بھاگے اور وہاں دستی بم حملہ کیا، اس حملے کا مقصد ان کا اپنی طرف سے توجہ ہٹانا تھا تاکہ وہ سیکیورٹی اہلکاروں کے چنگل سے فرار ہوسکیں۔رپورٹ کے مطابق حملہ آوروں نے دہشت گردی کا منصوبہ بنا رکھا تھا جس کے لیے انہوں نے ٹینکر ٹرک اسلحہ کے زور پر چھینا تھا۔سیکیورٹی اہلکار ایک دیگر گیس اسٹیشن سے 2 کلومیٹر کے فاصلے پر ٹینکر ٹرک کو نقصان پہنچانے میں کامیاب ہوئے۔آپریشن کے دوران 2 مطلوب افراد ماجد علی عبدالرحیم الفرج اور محمود احمد علی الزرع ہلاک ہوگئے جبکہ دیگر 2 گرفتار افراد کا نام سیکیورٹی وجوہات کی وجہ سے سامنے نہیں لایا گیا۔ترجمان کے مطابق ’2 افراد کو تحقیقات کے لیے گرفتار کرلیا گیا ہے، جن کی شناخت فی الحال سامنے نہیں لائی جائے گی‘۔ان کا کہنا تھا کہ تمام دہشت گرد اس سے قبل القطیف کے علاقے میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات میں مطلوب تھے۔واقعے کے دوران ایک بحرینی خاتون اور ایک پاکستان شہری سمیت دو سیکیورٹی اہلکار زخمی ہوئے جنہیں علاج کے لیے فوری طور پر ہسپتال منتقل کردیا گیا۔ملزمان کی گاڑی سے 8 مشین گن، 2 پستول، 2 بڑے بم، ایک آڈیو بم، ایک جعلی بحرینی شناختی کارڈ، 66 ہزار 178 ریال، 126 مشین گن کی گولیاں، 15 پستول کے راﺅنڈ بر آمد ہوئے۔اسٹیٹ سیکیورٹی پریزیڈنسی کا کہنا تھا کہ وہ دہشت گردی میں ملوث عناصر کو روکنے اور ان کی غیر ملکی ایجنڈا کو ناکام بنانے کے لیے پر عزم ہیں۔

جرمنی کے سفیر مارٹن کوبلر سنہری یادوں کے ساتھ وطن واپس روانہ

اسلام آباد (ویب ڈیسک )پاکستان میں جرمنی کے سفیر مارٹن کوبلر اپنی دو سال کی مدت پوری کرنے کے بعد عہدے سے سبکدوش ہو گئے ہیں اور وطن واپس روانہ ہو گئے ہیں۔تفصیلات کے مطابق مارٹن کوبلر کو پاکستان میں خوب شہرت ملی اور انہوں نے پاکستانی ثقافت کی تعریف اور اسے اجاگر کرنے میں کوئی کثر نہ اٹھا رکھی جبکہ وہ پاکستانی شہریوں کے ساتھ اکثر مقامات پر گھل مل جایا کرتے تھے اور ان کی عوام میں بھی بے پنا ہ مقبولیت تھی۔مارٹن کوبلر نے وطن واپسی سے قبل پیغام ریکارڈ کروایا اور اس کیلئے انہوں نے خصوصی طور پر شیروانی بنوائی اور اپنے پیغام میں وہ پہنے ہوئے دکھائی دیئے۔مارٹن کوبلر نے اپنے پیغام میں پاکستان کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور کہا کہ میں بہت زیادہ اداس دل کے ساتھ وطن واپس لوٹ رہاہوں۔

جب ایف 16 طیارے کی توپ نے ہدف کے بجائے خود کو ہی نشانہ بناڈالا

ہالینڈ(ویب ڈیسک) ایف 16 لڑاکا طیارے کی پرواز کے دوران ایسا واقعہ پیش آیا جس کے بارے میں آج تک کسی نے سوچا تک بھی نہیں تھا بلکہ اسے ‘تاریخ ساز’ قرار دیا جاسکتا ہے۔ملٹری ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق درحقیقت نیدرلینڈ میں ایک ایف 16 طیارے نے تربیتی پرواز کے دوران ہدف کے بجائے خود کو ہی اس وقت نشانہ بنالیا جب پائلٹ نے طیارے کی 20 ایم ایم روٹری توپ سے فائر کیا۔جی ہاں واقعی اس عجیب واقعے کی تصدیق نیدرلینڈ کے ریاستی خبررساں ادارے نے کرتے ہوئے بتایا کہ طیارے کو کافی حد تک نقصان پہنچنے پر ڈچ پائلٹ نے ایک ائیربیس میں ایمرجنسی لینڈنگ کی۔رپورٹ کے مطابق کم از کم ایک راﺅنڈ طیارے کے باہری حصے کو پھاڑتا ہوا نکل گیا جبکہ انجن میں بھی بارود کے ریزے دریافت کیے گئے۔نیدرلینڈ کی وزارت دفاع کے انسپکٹر جنرل وم بیگیربوس نے بتایا ‘یہ ایک سنگین واقعہ ہے، ہم اس بارے میں مکمل تحقیقات کرنا چاہتے ہیں کہ ایسا کیسے ہوا اور کیسے ہم مستقبل میں اس کی روک تھام کرسکتے ہیں’۔امریکی ساختہ طیاروں میں کئی خرابیاں سامنے آئی ہیں جن میں سب سے نمایاں دوران پرواز آکسیجن سسٹم فیل ہونا ہے مگر کوئی طیارہ خود پر فائر کردے خصوصاً اپنی خودکار توپ سے، ایسا کبھی سننے میں نہیں آیا اور ناممکن سمجھا جاتا ہے۔اس قسم کا پہلا واقعہ 1956 میں سننے میں آیا تھا جب ناروے کے ایک سابق نیوی آفیسر کو ایف 11 ایف 1 ٹائیگر اڑاتے ہوئے اس طرح کی مصیبت کا سامنا ہوا۔20 ہزار فٹ کی بلندی پر جب طیارے کی 20 ایم ایم روٹری توپ سے فائرنگ کی گئی تو گولے نے خود طیارے کو نشانہ بنادیا، جس پر اسے ایمرجنسی میں لینڈنگ کرنا پڑی مگر طیارہ تباہ ہوگیا جبکہ پائلٹ شدید زخمی ہوا۔اس واقعے کی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ جب انتہائی تیزی سے طیارے سے گولے داغے گئے تو اس سے توپ سے گولوں کے نکلنے کی رفتار بہت کم ہوگئی اور اس کے نتیجے میں اس نے اپنے طیارے کو ہی نشانہ بنادیا۔مگر نیدرلینڈ میں ایف 16 کو پیش آنے والے واقعے کی ابھی تک کوئی تسلی بخش وضاحت سامنے نہیں آئی، لیکن امریکی ساختہ طیارے نے ایک نئی قسم کی تاریخ ضرور رقم کردی۔

حکومت نے ”نیا پاکستان ہاﺅسنگ اسکیم اتھارٹی“ کے قیام کی منظوری دیدی

اسلام آباد(ویب ڈیسک) وفاقی کابینہ نے ملک بھر میں ”نیا پاکستان ہاﺅسنگ اسکیم اتھارٹی“ بنانے کی منظوری دے دی ہے۔وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت ہونے والے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں ہونے والے فیصلوں پر میڈیابریفنگ دیتے ہوئے وفاقی وزیراطلاعات فواد چوہدری نے بتایا کہ کابینہ نے ”نیا پاکستان ہاﺅسنگ اسکیم اتھارٹی“ کے قیام کی منظوری دے دی ہے جس کے تحت ایک لاکھ 35 ہزار اپارٹمنٹس تیار کیے جائیں گے۔وفاقی وزیر اطلاعات نے بتایا کہ وفاقی ملازمین کے لیے اسلام آباد میں 25 ہزار اپارٹمنٹس تعمیر کیے جائیں گے اور اس اسکیم کا وزیراعظم رواں ماہ کی 17 تاریخ کو افتتاح کریں گے جب کہ بلوچستان میں پہلے مرحلے میں ایک لاکھ 10ہزار اپارٹمنٹس بنائے جائیں گے۔فواد چوہدری نے کابینہ کے فیصلوں سے مزید آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ یونس ڈھاگہ کو چیئرمین اسٹیٹ لائف انشورنس کا چارج دیا گیا ہے جب کہ عمر رسول کو سرمایہ کاری بورڈ کا نیا سیکرٹری بنانے اور سیکریٹری ایوی ایشن کوچیئرمین سول ایوی ایشن کا چارج دیا گیا ہے، عالمی سطح کی میڈیا یونیورسٹی تعمیر کی بھی منظوری دی گئی،وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات کا مزید کہنا تھا کہ متحدہ عرب امارات سے مختلف معاہدے طے پاگئے ہیں جس میں ایک معاہدے کے تحت یو اے ای میں پاکستانیوں کی جائیدادوں کی تفصیلات ملیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ تکمیل کے قریب ہے۔

ارشاد رانجھانی کو پولیس کے سامنے ایمبولینس میں قتل کئے جانے کا انکشاف

کراچی(ویب ڈیسک) ایمبولینس ڈرائیور نے بیان دیا ہے کہ ملزم رحیم شاہ نے ارشاد رانجھانی کو ایمبولینس میں گولی ماری تھی۔ذرائع کے مطابق سندھ ہائیکورٹ میں انسداد دہشت گردی عدالت کے روبرو ارشاد رانجھانی قتل کیس میں اہم پیش رفت سامنے آگئی ہے، اور انکشاف ہوا ہے کہ مقتول ارشاد رانجھانی کو ایمبولینس میں گولی ماری گئی تھی جس سے اس کی موت واقع ہوئی۔کیس کی سماعت میں تفتیشی افسر طارق دھاریجو نے چالان جمع کروایا، جس کے مطابق ایمبولینس ڈرائیور نے بیان دیا ہے کہ پولیس افسر انسپکٹر علی گوہر کے ہمراہ ارشاد رانجھانی کو اسپتال لے کر روانہ ہوا، ملزم رحیم شاہ ہمارے پیچھے موٹر سائیکل پر آیا اور آگے آکر ایمبولینس رکوائی، وہ موٹر سائیکل سے نیچے اترا تو اس کے ہاتھ میں پستول تھا۔ڈرائیور کے بیان کے مطابق رحیم شاہ نے زور سے کہا سب آگے دیکھو، اور خود انسپکٹر علی گوہر سے چند باتیں کیں، پھر اچانک ایمبولینس کا پچھلا دروازہ کھلنے کی آواز آئی اور ایک فائر ہوا جس سے زخمی کی چیخ و پکار سنائی دی، ارشاد رانجھانی کوجناح اسپتال پہنچایا تووہ فوت ہوچکا تھا۔ ڈرائیور نے بتایا کہ رحیم شاہ کے خوف سے پولیس کو پہلے حقیقت نہیں بتائی تھی جو اب بتا رہا ہوں۔چالان سے دہشتگردی کی دفعات ہٹانے پر سرکاری وکیل عبد القدیر میمن نے اسکروٹنی نوٹ لکھ دیا جس میں کہا گیا ہے کہ چالان میں ملزم کیخلاف سیکشن 7 اے ٹی اے نہیں لگایا گیا، شواہد ملنے کے باوجود چالان سے دہشتگردی کی دفعات ہٹا دی گئی جس کی وضاحت بھی نہیں کی گئی۔ عدالت نے اسکروٹنی نوٹ منظور کرتے ہوئے چالان انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت نمبر 17 بھیج دیا۔

سرکاری اثاثوں کو بے رحم انداز میں بانٹا گیا ہے، گلبر گ لبرٹی مارکیٹ میں ایک سائٹ پانچ ہزار کرائے پر دی گئی ،یہ لاہور ہائیکورٹ نہیں جہاں شور مچا کر فیصلہ لے لو، سپریم کورٹ

اسلام آباد(ویب ڈیسک) سپریم کورٹ نے سرکاری اراضی کی لیز سے متعلق ایک کیس میں ریمارکس دیے کہ یہ لاہور ہائیکورٹ نہیں جہاں شور مچا کر فیصلہ لے لو۔سپریم کورٹ میں سرکاری اراضی لیز پر پٹرول پمپس کو دینے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔ جسٹس عظمت سعید نے استفسار کیا کہ پٹرول پمپس کے لیئے لیز پر دی گئی اراضی کس کی ہے؟۔ جس پر انہیں بتایا گیا کہ زیادہ تر سائٹس ایل ڈی اے کی ہیں اور کچھ سائٹس میونسپل کارپوریشن اور کچھ پنجاب حکومت کی ہیں۔وکیل نے بتایا کہ نیلامی کے ذریعے پٹرول پمپس کی سائٹس کو پانچ سال کے لیے لیز پر دے رہے ہیں، لیز پر سائٹس لینے والا کروڑوں روپے زمین پر لگائے گا تاہم پانچ سال لیز کی معیاد کم ہے جسے بڑھایا جائے۔جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ سرکاری اثاثوں کو بے رحم انداز میں بانٹا گیا ہے، گلبر گ لبرٹی مارکیٹ میں ایک سائٹ پانچ ہزار کرائے پر دی گئی، مصری شاہ میں ایک سائٹ چھ سو روپے کرائے پر تھی۔ جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ کیوں نا یہ معاملہ نیب کو بھجوا دیں جو خود دیکھ لے گا کہ اس میں کیا جرم ہوا ہے۔دوران سماعت جسٹس عظمت سعید نے وکلا کے اونچے بولنے اور کمرہ عدالت میں شور پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ لاہور ہائیکورٹ نہیں جہاں شور مچا کر فیصلہ لے لو، کمرہ عدالت میں وکلاءاپنی آواز دھیمی رکھا کریں۔ اس پر وکیل اعتزاز احسن نے جسٹس عظمت سعید سے کہا کہ آپ بھی لاہور سے ہی تشریف لائے ہیں۔پنجاب حکومت کے وکیل نے کہا کہ حکومت نے 2003 میں کمرشل اور صنعتی سائٹس کو فروخت کرنے کی پالیسی بنائی تھی، تاہم اب حکومت نے ان سائٹس کو فروخت کرنے کی پالیسی ختم کر دی ہے۔جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ نیلامی کے عمل میں حصہ لیئے بغیر سائٹ لیز پر نہیں دی جا سکتی۔

لو بیٹھ گئی صحیح سے ،عورت مارچ کا ایسا پو سٹر جو دیکھتے ہی دیکھتے مشہور ہو گیامگر کیسے ،بی بی سی کی تہلکہ خیز رپو رٹ

لندن (ویب ڈیسک)جب رومیسا لاکھانی اور راشِدہ شبیر حسین نے عورتوں کے بین الاقوامی دن کے موقع پر ایک جلوس کے لیے پلے کارڈز بنائے تھے تو ا±ن کو اندازہ بھی نہیں تھا کہ یہ پورے ملک میں ہر ایک کا موضوعِ بحث بن جائیں گے۔عالمی یومِ خواتین سے ایک دن پہلے بائیس برس کی دو طالبات نے کراچی یونیورسٹی میں پوسٹرز بنانے کے ایک سیشن میں شرکت کی تھی۔ یہ کچھ اس طرح کا پوسٹر بنانا چاہتی تھیں جو سب کی توجہ کا مرکز بن جائے۔ انھوں نے اس پر سوچ بچار شروع کردی۔ان کی ایک دوست وہاں ٹانگیں پھیلائے قریب ہی بیٹھی تھی۔ اس انداز کو دیکھ کر ان کے ذہن میں خیال پیدا ہوا کہ وہ اس انداز پر پوسٹر بنائیں۔رومیسا کے مطابق عورتوں کے بیٹھنے کے انداز پر معاشرے میں ہمیشہ کوئی نہ کوئی بات ہوتی رہتی ہے۔ ’ہمیں باوقار نظر آنا چاہیے، ہمیں اپنے جسم کے خد و خال بہت عیاں نہیں کرنے چاہیے۔ لیکن مرد اگر ٹانگیں کھول کر یا پھیلا کر بیٹھیں تو اِس پر کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہوتا ہے۔‘رومیسا نے اپنے پوسٹر پر ایک ایسی عورت کی تصویر بنائی جو بے باک انداز میں عینک لگائے ارد گرد کے ماحول سے بے پرواہ ٹانگیں پھیلائے بیٹھی ہے۔ا±س کی دوست راشِدہ نے انہیں اِس پوسٹر کے لیے ایک موزوں سا نعرہ بنا کر دیا۔ راشِدہ کی کوشش تھی کہ وہ اس بات کو پیش کرنے کی کوشش کریں کہ کس طرح معاشرہ ایک عورت سے توقع کرتا ہے کہ وہ ’کیسے بیٹھے، کیسے چلے، کیسے بات کرے۔‘راشدہ اور رومیسا دونوں ہی عورتوں کے حقوق کے بارے میں بہت جذباتی ہیں۔اس طرح انھوں نے ایک س±رخی سوچی ’لو بیٹھ گئی صحیح سے۔‘رومیسا اور راشِدہ کی پہلی ملاقات حبیب یونیورسٹی میں ہوئی تھی۔ رومیسا کمیونیکیشن ڈیزائین جبکہ راشِدہ سوشل ڈیویلپمنٹ اینڈ پالیسی کی طالبہ ہیں۔راشِدہ کہتی ہیں ’ہم دونوں بہترین دوست ہیں۔ ہم اکٹھا ہنستے ہیں، ہم ایک دوسرے کو اپنی اپنی باتیں بتاتے ہیں۔‘وہ صنفی تفریق کے ذاتی تجربات کی وجہ سے جذباتی حد تک عورتوں کے حقوق کے بارے میں دلچسپی رکھتی ہیں۔رومیسا کے لیے جلد شادی کے خاندانی دباو¿ سے نمٹنا روز کا معمول ہے۔ انھوں نے اب تک شادی نہیں کی ہے اور وہ اسے اپنی فتح سمجھتی ہیں۔راشِدہ کہتی ہیں کہ انھیں عموماً گلیوں میں سڑکوں پر جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔وہ اس خیال سے پریشان ہوتی ہیں کہ ان سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ جلد شادی کرکے ایک گھریلو خاتون بن جائیں۔اس لیے یہ دونوں طالبات پچھلے ماہ پاکستان کے شہروں میں ہونے والے کسی ایک عورت مارچ میں شرکت کی بہت خواہشمند تھیں۔‘یہ ایک بڑے ہی کمال کی بات تھی کہ اتنی ساری خواتین، عورتوں کے حقوق کے لیے نعرے لگا رہی ہوں گی۔‘رومیسا کا کہنا تھا ’یہ ایک قسم کی ہماری طاقت کا مظاہرہ تھا اور میرا خیال ہے کہ اس مارچ میں شامل ہر عورت اپنے آپ کو با اختیار محسوس کر رہی تھی۔‘عورتوں کے حقوق کے لیے نکالے جانے والے جلوسوں میں یہ عورت مارچ خواتین کے حقوق کے لحاظ سے خاص حیثیت رکھتا ہے۔ پاکستان میں اس سے پہلے بھی عورتیں بڑی تعداد میں ایسے جلوسوں میں شرکت کر چکی ہیں۔ان مظاہروں میں طبقاتی تقسیم سے بالاتر ہو کر شرکت کی جاتی ہے جس میں ہم جنس پرست مرد اور خواتین کہ علاوہ مخنث یا ایل جی بی ٹی کہلانے والی کمیونیٹی کے ارکان بھی شامل ہوتے ہیں۔ورلڈ اکنامک فورم کی 2018 کی رپورٹ میں پاکستان کو صنفی برابری کے معیار کے لحاظ سے دنیا کا بد ترین سطح یا 149ویں نمبر کا معاشرہ قرار دیا گیا تھا۔ پاکستان سے بدتر معاشرہ صرف یمن کا تھا۔ پاکستان میں عورتوں کا گھریلو تشدد کا نشانہ بننا، ا±ن کی زبردستی شادی ہونا اورجنسی ہراسیمگی کا نشانہ بننا معمول کی بات ہے۔ یہاں عورتیں عزت کا نام پر قتل بھی کردی جاتی ہیں۔اس برس ہونے والے عورت مارچ کے جلوسوں میں بنائے گئے پلے کارڈز اور پوسٹرز جنسی موضوعات پر بھی تیار کیے گئے تھے اور اس قدامت پسند معاشرے میں انھوں نے ایک شدید ردِ عمل پیدا کیا۔اس مارچ کے منتظمین کا کہنا ہے کہ ان پوسٹروں کے خلاف رد عمل اس لیے تھا کیونکہ یہ مردوں کے اس تصور کو چیلینج کرتے ہیں کہ مرد عورتوں کے اپنے جسم اور رویے کا تعین کرنے کا مجاز ہیں۔ان جلسوں کی ایک منتظم م±نیزا کہتی ہیں کہ ’ہم عورتوں کے جسم کے صنفی رویے کے بارے میں مردوں کی طاقت کو چیلینج کر رہے ہیں۔ یہ ایک مذہبی اقدار کا معاشرہ ہے جس میں کہا جاتا ہے کہ عورت اپنے جسم کو ڈھانپ کر رکھے۔ ہم اسی خیال کو چیلینج کر رہے ہیں۔‘رومیسا کا کہنا ہے کہ ان جلوسوں میں ساڑھے سات ہزار خواتین کی شرکت کے مناظر نے قدامت پسندوں کو سکتے میں ڈال دیا ہے۔ وہ کہتی ہے کہ ’اتنے شور کے ساتھ سڑکوں پر آکر ایسا کرنے نے کئی لوگوں کو پریشان کردیا ہے۔ لوگ کہہ کرہے ہیں کہ یہ اسلام کے لیے خطرہ ہے، لیکن میرا ایسا خیال نہیں ہے۔ اسلام تو حقوقِ نسواں کا مذہب ہے۔‘اس جلوس کے بعد ابھی رومیسا گھر بھی نہیں پہنچیں تھیں کہ انھیں احساس ہو گیا تھا کہ ان کے پوسٹر کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی ہے۔فیس بک پر ایک کمنٹ تھا ’میں اپنی بیٹیوں کے لیے ایسا معاشرہ نہیں چاہتا ہوں۔‘ ایک اور کمنٹ تھا ’میں ایک عورت ہوں لیکن میں اس بات سے اچھا محسوس نہیں کرتی ہوں۔‘ جبکہ ایک اور کمنٹ میں کہا گیا تھا کہ ’یہ عورتوں کا دن تھا، نہ کہ کتیاو¿ں کا دن۔‘تاہم بہت سارے لوگوں نے پلےکارڈ کے پیغام کی حمایت بھی کی تھی۔ایک خاتون نے ٹویٹ کیا کہ ’میں واقعی اس بات کو سمجھ نہیں پائی ہوں کہ لوگ اس پوسٹر کے الفاظ سے اتنا خوفزدہ کیوں ہوگئے ہیں جبکہ اصل میں تو انھیں پاکستان میں عورتوں کی غلامانہ حیثیت پر کراہت محسوس کرنی چاہیے۔‘رومیسا کو ان لوگوں کی جانب سے بھی پیغامات ملے جنھیں وہ جانتی تھیں۔ ایک نے کہا ’ہمیں یقین نہیں آرہا ہے کہ یہ ت±م نے کیا۔ ت±م تو ایک باحیا خاندان سے تعلق رکھتی ہو۔‘عورت مارچ کو قدامت پسندوں اور حقوسِ نسواں کے حامیوں دونوں کی تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔رومیسا کے رشتہ داروں نے ان کے والدین کو مشورہ دیا کہ وہ انھیں ان جلسوں میں شرکت کرنے سے روکیں۔ اس دباو¿ کے باوجود رومیسا کے والدین نے اس قسم کے مظاہروں میں شرکت کے فیصلے پر ان کی حمایت برقرار رکھی۔اس مظاہرے میں ایک اور پلے کارڈ پر ایک یہ نعرہ بھی درج تھا ’میرا جسم میری مرضی‘۔نجی ٹی وی چینل کے مطابق، اس نعرے کی وجہ سے کراچی کے ایک مذہبی رہنما نے اپنے خطبے میں ان عورتوں کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا ’میرا جسم میری مرضی۔۔۔۔۔ تمہارا جسم تمہاری مرضی۔۔۔ تو پھر تو مردوں کے جسم اور مردوں کی مرضی۔۔۔ وہ بھی جس پر چاہیں چڑھ سکتے ہیں۔‘ مولانا منظور احمد مینگل کی یہ تقریر سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی ہے۔ان مولانا پر تنقید کرنے والوں نے ان پر لوگوں کو ریپ پر اکسانے کا الزام لگایا ہے اور مارچ کی منتظم م±نیزہ نے کہا ہے کہ ’اس مارچ کے بعد سے ریپ اور قتل کی دھمکیوں کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔‘م±نیزہ کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر اس مارچ کے منتظمین پر ریپ اور قتل جیسی دھمکیاں مل رہی ہیں۔ میرے خیال میں مردوں میں یہی وہ عورتوں سے نفرت کے خیالات ہیں جن کو ہم نے چیلینج کیا ہے۔‘اس عورت مارچ نے پاکستان میں حقوقِ نسواں کی تحریک کو بھی تقسیم کردیا ہے۔ حقوقِ نسواں کی حامی کئی خواتین نے بھی اپنے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔رومیسا کے مطابق، ان خواتین کا کچھ ایسا کہنا تھا کہ ’یہ کوئی اہم مسائل نہیں ہیں، یہ کوئی مسئلہ نہیں ہے کہ عورت کس طرح بیٹھے۔ میری اپنی دوست جو اپنے آپ کو حقوقِ نسواں کی حامی کہتی ہے، ایسے پوسٹر کو غیر ضروری سمجھتی ہے۔‘کشور ناہید جیسی حقوقِ نسواں کی حامی سمجھتی ہیں کہ رومیسا اور راشِدہ کا پلے کارڈ معاشرتی اقدار اور روایات کی توہین ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جو یہ سمجھتی ہیں کہ اس طرح کے پلے کارڈز سے وہ زیادہ حقوق حاصل کرلیں گی، وہ جہادیوں کی طرح گمراہ ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ معصوم اور بے گناہ شہریوں کو قتل کر کے وہ جنت میں جائے گے۔لیکن انگریزی روزنامہ ڈان میں شائع ہونے والے سعدیہ کھتری کے ایک آرٹیکل نے کشور ناہید پر حقوقِ نسواں کی تحریک کا ساتھ نہ دینے کا الزام عائد کیا ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ جن پوسٹروں کو ’بے ہودہ‘ کہا جا رہا ہے انھیں گلے لگانا چاہیے۔
ا±ن کا کہنا ہے کہ ہمیں ان پوسٹرز کو اپنانا چاہیے اور ان کے اور بڑی سطح پر ’حقوقِ نسواں کی جدوجہد‘ کے درمیان تعلق دیکھنا چاہیے اور انھیں اسی پس منظر میں دیکھنا چاہیے۔ایک لڑکی کا اپنی مرضی سے ٹانگیں کھول کر بیٹھنے کا حق دراصل معاشرے کی سرزنش یا ہراسیمگی کے خوف کے بغیر اس کا اپنے جسم پر اختیار حاصل کرنے کا حق ہے۔ یہ ا±س کا آزادی کے ساتھ گھومنے کا حق ہے، یہ مسئلہ ایسے ہے کہ جیسے جس لڑکی کے ساتھ زیادتی ہوتی ہے ا±سی کو موردِ الزام ٹھہرایا جائے۔ یہ پوسٹر ایسی سوچ کے خلاف ایک مزاحمت ہے۔ لڑکی جیسے چاہے بیٹھے، ا±س پر الزام نہیں لگانا چاہیے۔

مولانا فضل الرحمان اب نوازشریف کوسیاسی آکسیجن دے رہے ہیں، فواد چوہدری

اسلام آباد(ویب ڈیسک) وفاقی وزیراطلاعات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ مولانا فضل الرحمان میاں صاحب کو سیاسی آکسیجن دے رہے ہیں۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پروفاقی وزیراطلاعات فواد چوہدری نے کہا کہ نوازشریف تواتنے بیمار تھے سپریم کورٹ کو بتایا گیا تھا کہ اگر ضمانت نہ ملی توجان کو خطرہ ہے، ہمیشہ کی طرح جھوٹ بولا گیا اوراب ایمبولینس کے بجائے مولانا فضل الرحمان وہاں پہنچے ہیں۔ فواد چوہدری نے کہا کہ فضل الرحمان میاں صاحب کو سیاسی آکسیجن دے رہے ہیں ، عدالتوں کواس کا نوٹس لینا چاہئے۔واضح رہے کہ آج مولانا فضل الرحمان نے سابق وزیراعظم نوازشریف سے ملاقات کی جس میں حکومت مخالف تحریک کے ابتدائی خدوخال پربات چیت کی گئی ہے۔

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس فرخ عرفان نے عہدے سے استعفیٰ دیدیا

اسلام آباد (ویب ڈیسک)لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس فرخ عرفان نے عہدے سے استعفیٰ دیدیا ہے جس کے بعد سپریم جوڈیشل کونسل نے ان کے خلاف کارروائی ختم کر دی ہے۔نجی ٹی وی کے مطابق لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس فرخ عرفان کا نام پاناما لیکس میں بھی سامنے آیا تھا کہ ان کی آف شور کمپنیاں ہیں اور اسی حوالے سے ان کیخلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں کارروائی چل رہی تھی اور آج گواہیاں مکمل ہونے کے ساتھ ساتھ جسٹس فرخ عرفان کا بیان بھی ریکارڈ ہو نا تھا تاہم انہوں نے عہدے سے استعفیٰ دیدیا ہے۔جسٹس فرخ عرفان کے وکیل حامد خان کا کہناہے کہ انہوں نے اپنا استعفیٰ صدر مملکت عارف علوی کو بھجوا دیاہے جبکہ استعفے سے متعلق سپریم جوڈیشل کونسل کو بھی آگاہ کر دیاہے۔ سپریم جوڈیشل کونسل نے استعفے کے بعد ان کے خلاف جاری کارروائی بھی ختم کر دی ہے

مودی کے دیس میں جنونی ہندوو¿ں کا مسلمان بزرگ پر تشدد، زبردستی سور کا گوشت کھلا دیا

آسا م (ویب ڈیسک)بھارت کی ریاست آسام میں نفرت اگلتے جنونی ہندوو¿ں نے ایک اور مسلمان پر گائے کا گوشت فروخت کرنے کا الزام لگا کر بری طرح تشدد کا نشانہ بنا ڈالا اور سور کا گوشت کھانے پر مجبور کردیا۔سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ہجوم نے ایک مسلمان بزرگ 68 سالہ شوکت علی کو گھیر رکھا ہے جن کے کپڑے زدوکوب کرنے کے باعث کیچڑ میں لت پت اور پھٹ چکے ہیں۔بھارتی اخبار انڈیا ٹوڈے کی رپورٹ کے مطابق اسی واقعے کی دوسری ویڈیو میں دیکھا گیا کہ تنہا شخص کو گھیر کر انتہا پسند ہندوو¿ں نے ایک پیکٹ میں سے سور کا گوشت نکال کر انہیں وہ گوشت کھانے پر مجبور کیا۔ویڈیو میں جنونی افراد بزرگ شخص سے ان کی شناخت ثابت کرنے کا مطالبہ بھی کررہے ہیں۔واضح رہے کہ بھارتی ریاست آسام میں گائے کے گوشت پر پابندی نہیں ہے اور ا?سام کے قانون کے مطابق 14 سال کی عمر سے زائد مویشی کو کاٹنے کی اجازت ہے جس کے لیے جانور کی صحت سے متعلق سرٹیفکیٹ لینا ضروری ہے۔مقامی پولیس کے مطابق شوکت ایک کاروباری شخص ہیں اور گزشتہ 35 سال سے اس علاقے میں ہوٹل چلا رہے ہیں ہجوم نے ان پر ہر ہفتے لگنے والے بازاروں میں گائے کا گوشت فروخت کرنے کا الزام لگایا۔

ریاست سکول میں فری یونیفارم،بستہ، کتابیں اوردودھ کا گلاس فراہم کرے،چیف جسٹس پاکستان

اسلام آباد(ویب ڈیسک)سپریم کورٹ آف پاکستان میں سکولوں کی فیس میں اضافے سے متعلق کیس میں چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا ہے کہ اب تو لوگوں کے پاس چوائس ہی نہیں رہی،ریاست سکول میں فری یونیفارم،بستہ، کتابیں اوردودھ کا گلاس فراہم کرے،پھرلوگوں کو چوائس دے کہ اپنے بچوں کوسرکاری سکول میں پڑھاناچاہیں گے یاپرائیویٹ میں۔چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ میں نے سرکاری پرائمری اورہائی سکول میں تعلیم حاصل کی،اب وہ سکول نظر ہی نہیں آتے،گورنمنٹ کالج لاہور کے بعد میں کیمبرج یونیورسٹی گیا ،وہ سرکاری سکول جن میں ہم پڑھتے تھے وہ تو اب نظر ہی نہیں آتے۔چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ پہلے گلی محلوں میں سرکاری تعلیمی ادارے ہوتے تھے،اب وہ پرائمری سکول بھی نظر نہیں آتے، تعلیم کی فراہمی پرریاست اپنی ذمے داری پوری نہیں کررہی، جسکے باعث اتنا ٹیلنٹ ضائع ہورہا ہے،ریاست سے پوچھا جائے کہ وہ تعلیم کے شعبے میں کر کیا رہی ہے،ہوناتویہ چاہیے کہ ریاست پراچھی تعلیم فراہم کرنے پرزوردیاجائے،چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ ایک طرف ریاست تعلیمی سہولیات فراہم نہیں کررہی،دوسری طرف ریاست پرائیویٹ سکولوں کوپابند کررہی ہے کہ فیس زیادہ نہیں بڑھائی جاسکتی،نجی سکولوں کیساتھ حکومت سے بھی پوچھیں گے وہ کیا کر رہی ہے۔

دوا ، پٹرول ، گیس، بجلی مہنگی ہو سکتی ہے تو گوشت مہنگاہونے سے عذاب نہیں آئیگا:شیخ رشید

اسلام آباد (ویب ڈیسک)وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید نے انتہائی حیران کن بیان جاری کرتے ہوئے کہاہے کہ دوا ، پٹرول ، گیس اور بجلی مہنگی ہو سکتی ہے تو گوشت مہنگاہونے سے عذاب نہیں آجائے گا۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شیخ رشید نے کہا کہ میں چینی کمپنی ڈھونڈ رہاہوں جو کہ نالہ لئی سے اسلام آباد تک ریل کی پٹری نکال دے۔ ان کا کہناتھا کہ بہت ظلم ہواہے چوروں اور ڈاکو?ں نے خزانے کو لوٹا ہے۔بھارتی حکومت کے جاری رویے سے متعلق وفاقی وزیر ریلوے نے کہا کہ پاکستانی قوم اکھٹی ہے ، مودی نے جو نقشہ دیاہے وہ جنگ کا دیاہے ، اگر مودی الیکشن جیت جاتا ہے تو پاکستان اور بھارت کے تعلقات ٹھیک نہیں رہیں گے۔

رمضان شوگر ملز ریفرنس میں بڑا کھڑا ک ،شہباز شریف اور حمزہ شہباز پر فرد جرم عائدکر دی گئی

لاہور(ویب ڈیسک) احتساب عدالت نے رمضان شوگر ملز ریفرنس میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف اور ان کے صاحبزادے حمزہ شہباز پر فرد جرم عائد کردی۔دونوں رہنماو¿ں کے خلاف اختیارات کا غلط استعمال اور عوامی فنڈز کے غیر قانونی استعمال کے چارجز عائد کیے گئے۔احتساب عدالت کے جج نجم الحسن نے آشیانہ اقبال اور رمضان شوگر ملز ریفرنس کی سماعت کی، اس دوران شہباز شریف اور حمزہ شہباز عدالت میں پیش ہوئے واضح رہے کہ عدالت نے رمضان شوگر ملز میں نامزد ملزم شہباز شریف اور حمزہ شہباز کو طلب کیا تھا۔یہاں یہ بات یاد رہے شہباز شریف سابق وزیر اعلیٰ پنجاب تھے اور اس وقت وہ قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر ہیں جبکہ حمزہ شہباز رکن صوبائی اسمبلی کے ساتھ ساتھ پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف ہیں۔