آرمی چیف کا ناردرن لائٹ انفنٹری ریجمنٹل سنٹر بونجی کا دورہ ، لیفٹیننٹ جنرل انور حیدر کو کرنل کمانڈنٹ کے بیج لگائے

راولپنڈی(آن لائن) آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ناردن لائٹ انفنٹری ریجمنٹل سینٹر بونجی کے دورہ پر لیفٹیننٹ جنرل انور حیدر کو کرنل کمانڈنٹ کے بیجز لگائے ، یادگار شہداءپر حاضری دی اور پھولوں کی چار چڑھائی، پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے گذشتہ روز این ایل آئی ریجمنٹل سنٹر بونجی کا دورہ کیا جہاں پر انہوں نے لیفٹیننٹ جنرل انور حیدر کو کرنل کمانڈنٹ کے بیجز لگائے، اس موقع پر لیفٹیننٹ جنرل ریٹائر اکرام الحق بھی موجود تھے، آرمی چیف نے این ایل آئی کے افسران اور جوانوں کی قربانیوں کو سراہا اور وطن کیلئے انکے کردار کی تعریف کی، آرمی چیف نے یادگار شہداءپر بھی حاضری دی اور پھولوں کی چادر چڑھائی، و¿ئی ایس پی آر کے مطابق این ایل آئی کئی اعزازات حاصل کرچکی ہے جن میں 2نشان حیدر بھی شامل ہیں۔

عثمان بزدار اور محمود خان بھی اپنی ٹیم پر نظر رکھیں ، کام نہ کرنیوالے وزیر تبدیل کر دونگا : عمران خان

اورکزئی(آن لائن+وائس آف ایشیا)وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کپتان کا مقصد ٹیم کو جتوانا ہوتا ہے اور بطور وزیراعظم ان کا مقصد اپنی قوم کو جتانا ہے اس لیے جو وزیر ملک کے لیے فائدہ مند نہیں ہوگا اسے تبدیل کردیا جائے گا۔اورکزئی میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ قبائلی علاقہ خیبرپختونخوا میں ضم ہوگیا ہے اب کوشش ہوگی کہ اسے اوپر لائیں یہاں نوجوانوں کے لیے تعلیمی نظام بہتر کریں اور اس علاقے کو سرمایہ کاری کے لیے کھولیں۔انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو کہا ہے کہ آئی ڈی پیز کی رجسٹریشن کریں ہم ان کو پیسہ دیں گے تاکہ یہ اپنے حالات بہتر کرسکیں ہم خیبرپختونخوا حکومت کی پوری مدد کریں گے ہماری حکومت کا سب سے بڑا چیلنج نوجوانوں کو نوکریاں فراہم کرنا ہے ہم یہاں کے نوجوانوں کو بلاسود قرض دیں گے تاکہ وہ اپنا کاروبار کرسکیں ہم انہیں ہنر بھی سکھائیں گے،وزیراعظم عمران خان نے اورکزئی ایجنسی میں ہیلتھ کارڈ تقسیم کرنے کا بھی اعلان کیا۔عمران خان کا کہنا تھا کہ میں نے پاکستانی فوج کو امریکہ کے کہنے پر قبائلی علاقے میں بھیجنے کی مخالفت کی تھی اس وقت کے حکمران کو قبائلی علاقے کی روایات اور تاریخ کا پتا نہیں تھا قبائلی علاقے کی تباہی کا تو باہر کے لوگوں کو پتا ہی نہیں لگا اور نہ ہی باہر کے لوگوں کو سمجھ آئی کہ قبائلی علاقے میں کیا ہو رہا ہے نقل مکانی کرنے والوں کی مشکلات کا لوگوں کو علم نہیں ہوا۔انہوں نے کہا کہ قبائلی علاقوں میں گھر برباد، کاروبار تباہ اور ہمارے فوجی جوان شہید ہوئے قبائلی علاقے میں پاکستانی فوج کا قصور نہ تھا بلکہ اس حکمراں کا تھا جس نے فوج کو بھیجا،اس دوران وزیراعظم عمران خان نے پشتون تحفظ موومنٹ کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ پی ٹی ایم قبائلی علاقوں کی تکلیف کی بات کرتی ہے جو درست ہے وہ جو بات کرتے ہیں وہی بات میں 15 سال سے کررہا تھا پی ٹی ایم والے ٹھیک بات کرتے ہیں لیکن وہ جس طرح کا لہجہ اختیار کررہے ہیں وہ ہمارے ملک کے لیے ٹھیک نہیں جو لوگ تکلیف سے گزرے ہیں ان سے اپنی فوج کے خلاف نعرے لگوانے سے قبائلی علاقے اور پاکستان کو کیا فائدہ ہوگا، برے وقت میں میں نے سب سے زیادہ آواز اٹھائی ہمیں آج یہ سوچنا ہے کہ آگے کیسے بڑھنا ہے اور حالات کیسے بہتر کرنا ہیں قبائلی علاقے کے لوگوں کو مستقبل میں تعلیم دینا اصل چیلنج ہے پی ٹی ایم والے لوگوں کے دکھ درد پر نمک نہ چھڑکیں لوگوں کو تکلیف ہوئی ہے ان کی مرہم پٹی کریں ان سے جو ظلم ہوا ہے ان کی مدد کریں۔جلسے سے خطاب میں وزیراعظم عمران خان نے کابینہ میں تبدیلیوں کا بھی ذکر کیا اور آگے مزید تبدیلیوں کا اشارہ دیا،ان کا کہنا تھاکہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان اور عثمان بزدار سے کہتا ہوں کہ وہ اپنی ٹیم پر نظر رکھیں اچھا کپتان مسلسل اپنی ٹیم کی طرف دیکھ رہا ہوتا ہے کیونکہ اچھے کپتان نے میچ جیتنا ہوتاہے کئی مرتبہ اسے جیتنے کے لیے بیٹنگ آرڈر بدلنا پڑتا ہے کئی مرتبہ ٹیم میں نئے کھلاڑی لانا پڑتے ہیںکپتان کا مقصد ٹیم کو جتوانا ہوتا ہے اور بطور وزیراعظم میرا مقصد اپنی قوم کو جتانا ہے، میں اللہ کو جواب دہ ہوںمیں نے ابھی بھی اپنی ٹیم میں بیٹنگ آرڈر تبدیل کیا ہے اور آگے بھی کروں گا سارے وزیروں کو کہتا ہوں جو میرے ملک کے لیے فائدہ مند نہیں ہوگا اسے تبدیل کرکے دوسرے کو لاو¿ں گا جو ملک کے لیے فائدہ مند ہوگا کوئی کھلاڑی صحیح پرفارمنس نہیں دے رہا تو بیٹنگ آرڈر میں تبدیلی کے لیے تیار ہونا چاہیے یا اس کی جگہ نیا کھلاڑی لائیں۔وزیر اعظم نے کہا کہ 60 سالوں میں منگلا اور تربیلا ڈیم سمیت موٹرے بننے کے باوجود 6 ہزار ارب قرض تھاجبکہجن لوگوں نے 10 سال حکومت کی ان کے آنے یہ قرضہ 30 ہزار ارب روپےتک پہنچ چکا تھا ، یہاں تین گھروں نے چوری کی پہلے مشرف نے دو گھروں کو چوری کرنے پر این آر او دیا اور نواز خاندان کو سعودی عرب جانے دیا اور حدیبیہ پیپرز ملز منی لانڈرنگ کیس بند کردی،جب سے نوازشریف اور آصف زرداری واپس آئے تب سے پاکستان پر قرض چڑھنا شروع ہوگیا اور ان کی دولت بڑھنا شروع ہوگئی ان کے بچے لندن میں بیٹھ کر ارب پتی ہو گئے، نوازشریف کا بیٹا کہتا ہے وہ پاکستان کا شہری ہی نہیں ہے، دوسری جانب شہباز شریف کہتے ہیں کہ ایک دھیلے کی بھی کرپشن ثابت ہوجائے تو میرا نام بدل دینا اب شہباز شریف اور ان کے بچوں کی بھی منی لانڈرنگ نظر آگئی ہے یہ ٹی ٹی اسپیشلسٹ بن گئے ہیں پتا نہیں ان کے پاس کہاں سے پیسا آرہا ہے تینوں خاندان امیر ہوگئے ہیںجبکہ ملک مقروض ہوگیا ہے، وزیر اعظم نے کہا کہ جب سے ہماری حکومت آئی ہے سب پہلے دن سے کہنا شروع ہو گئے کہ حکومت فیل ہوگئی ہے زرداری اور اس کا بیٹا کہتے ہیں کہ ہم حکومت ہٹادیں گے مولانافضل الرحمان بھی حکومت ہٹانے کا کہتے ہیںہمیں 8 ماہ ہوگئے ہیں ہم نے ایسا کیا جرم کیا جو یہ حکومت گرادیں گے ان کو مشکل یہ ہے کہ ہر روز میرے سامنے ان کی کرپشن کی نئی داستانیں آرہی ہیں انہیں ڈر ہے کہ عمران خان دو سال بھی رہ گیا تو سب جیلوں میں چلے جائیں گے اس لیے جمہوریت خطرے میں آگئی ہے، حقیقت تو یہ ہے کہ جمہوریت مضبوط ہورہی ہے اور ان کا چوری کیا ہوا پیسہ خطرے میں آگیا ہے۔وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ٹیم کو جتوانے کیلئے بیٹنگ آرڈر بدلا، آئندہ بھی بدلونگا، محمود خان اور عثمان بزدار سن لیں، ایک اچھا کپتان مسلسل اپنی ٹیم پر نظر رکھتا ہے ، کپتان کو کبھی کبھی ٹیم کو جتوانے کیلئے تبدیلی کرنا پڑتی ہے، اسکا مقصد ٹیم کو جتوانا ہوتا ہے ، میرا مقصد کمزور لوگوں کو اوپر اٹھانا ہے، ہمیں اپنی ٹیم پر نظر رکھنی ہے، اور جو کھلاڑی پرفارمنس نہیں دکھاتا اس کا بیٹنگ آرڈر بدلیں یا پھر اسکی جگہ نیا کھلاڑی لیکر آئیں ۔

نیب کا چھاپہ ، رینٹل پاور کیس میں سابق سیکرٹری پانی و بجلی شاہد رفیع گرفتار

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)نیب نے رینٹل پاور کیس میں سابق سیکریٹری پانی وبجلی شاہد رفیع کو گرفتار کرلیا۔ شاہد رفیع کو اسلام آباد میں ان کے گھر سے گرفتار کیا گیا جب کہ نیب کی ٹیم نے شاہد رفیع کے گھر سے اہم دستاویزات بھی قبضے میں لی ہیں۔ نیب ذرائع نے بتایا کہ شاہد رفیع کو گرفتار کرکے نیب راولپنڈی کے دفتر منتقل کردیا گیا ہے۔ نیب ذرائع کا کہنا ہے کہ شاہد رفیع کو کل احتساب عدالت میں جسمانی ریمانڈ کے لیے پیش کیا جائے گا۔

عمران خان کی ورلڈ کپ ٹیم سے ملاقات ، مفید مشورے بھی دئیے

اسلام آباد(نامہ نگار خصوصی) وزیراعظم عمران خان نے قومی ورلڈ کپ اسکواڈ سے ملاقات کرکے ان کی حوصلہ افزائی کی۔وزیراعظم اور پی سی بی کے پیٹرن ان چیف عمران خان کی دعوت پر بنی گالہ میں پاکستانی ورلڈ کپ اسکواڈ نے عمران خان سے ملاقات کی۔ ملاقات میں 17 کھلاڑیوں کے ہمراہ چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ احسان مانی، کوچ مکی آرتھر اور چیف سلیکٹر انضمام الحق بھی شریک تھے۔پاکستان کرکٹ بورڈ کی مینجمنٹ کے حکام بھی ملاقات کا حصہ بنے۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے فردا فردا تمام کھلاڑیوں سے مصافحہ کیا اور ان کی حوصلہ افزائی کی۔پی سی بی حکام نے وزیراعظم کو ورلڈ کپ کی تیاریوں کے حوالے سے بریفنگ دی ‘ وزیر اعظم کی جانب سے پاکستانی کرکٹ ٹیم کی ورلڈ کپ میں کامیابی کے لئے حوصلہ افزائی اور نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پوری قوم کی دعائیں آپ کے ساتھ ہیں‘ پوری دنیا میں ملک و قوم کی نمائندگی کرنا ایک بہت بڑا اعزاز ہے‘آپ قوم کے سفیر ہیں اور پوری قوم کی نظریں اور توقعات آپ سے وابستہ ہیں۔ اپنی صلاحیتوں ، سپورٹس مین اسپرٹ اور اپنے طرزِ عمل سے پاکستان کا نام روشن کریں‘ ذرائع کے مطابق ایک گھنٹے سے زائد کی نشست میں وزیرِ اعظم نے پاکستانی کرکٹ ٹیم کے اراکین کے ساتھ اپنے تجربات شئیر کیے اور ورلڈ کپ میں اچھا کھیل پیش کرنے اور کامیابی حاصل کرنے کے لئے مفید مشورے دیے۔ذرائع کے مطابق عمران خان نے کھلاڑیوں کا حوصلہ بڑھاتے ہوئے کہا کہ انگلینڈ کی مشکل کنڈیشنز میں دلیری کے ساتھ کھیلنا ہوگا، سرفراز احمد کو قیادت کا حق ادا کرتے ہوئے خود ذمہ داری کا بوجھ اٹھانا ہوگا۔ عمران خان نے کپتان سرفراز کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جب تم خود دلیر ہوگے تو ٹیم بھی دلیری کے ساتھ کھیلے گی۔ملاقات کے دوران وزیراعظم نے کھلاڑیوں کو ورلڈ کپ میں محنت، لگن اور جذبے سے کھیلنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ صورتحال مشکل ہے لیکن ہمت نہیں ہارنی‘ چیمپیئن جیت کا بھرپورجذبہ لے کر اورمکمل منصوبہ بندی کے ساتھ میدان میں اترتے ہیں۔ ٹیم اسپرٹ کامیابی کے حصول میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ 1992 کے ورلڈکپ میں قومی ٹیم کمزوریوں کے باوجود اپنے بے مثال جذبہ کی بدولت ٹائٹل جیتنے میں کامیاب ہوئی۔ اس موقع پر انہوں نے جنید خان، فہیم اشرف اور حسن علی سمیت بولرز کو کارکردگی بہتر بنانے کیلیے مفید مشورے بھی دیئے۔بعدازاں وزیراعظم نے تمام کھلاڑیوں اور پی سی بی مینجمنٹ حکام کے ساتھ بنی گالا کے باغ میں تصویر بھی بنوائی جس میں کپتان سرفراز احمد کے ہاتھ میں بلا بھی تھمایا۔

ورلڈ کپ سکواڈ میں شمولیت اعزاز کی بات ، حفیظ

لاہور(آئی این پی)پاکستان کرکٹ ٹیم کے آل راونڈر محمد حفیظ نے کہا ہے کہ ورلڈ کپ 2019 کے اسکواڈ کا حصہ بننا میرے لئے اعزاز کی بات ہے۔سماجی رابطے کے ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام میں محمد حفیظ کا کہنا ہے کہ وہ اپنا سب سے بہترین ورلڈ کپ کھیلنے کے منتظر ہیں، انشااللہ۔انہوں نے نیک خواہشات کا اظہار کرنے پر سب کا شکریہ ادا کیا ہے۔پاکستان نے جمعرات کو کرکٹ ورلڈ کپ 2019 کے لئے اسکواڈ کا اعلان کیا ہے۔15رکنی اسکواڈ میں سرفراز احمد (کپتان)، فخرزمان، امام الحق، عابد علی، بابراعظم، شعیب ملک، محمد حفیظ، حارث سہیل، جنید خان، شاداب خان، عماد وسیم، شاہین شاہ آفریدی، حسن علی، فہیم اشرف اور محمد حسنین شامل ہیں۔

ورلڈ کپ کےلئے پروٹیز کی ’ یونیفارم‘ منظرعام پرآگئی

جوہانسبرگ(آئی این پی)جنوبی افریقہ نے ورلڈ کپ 2019کے لیے اپنی آفیشل کٹ کا اعلان کردیا جو پاکستان کی عمومی جرسی سے کافی حد تک مماثلت رکھتی ہے۔ورلڈ کپ کی جرسی کا گزشتہ روز جنوبی افریقی ٹیم کے ساتھ اعلان کیا تھا جو اس مرتبہ ٹیم کی جرسی سے قدرے مختلف ہے۔عام طور پر جنوبی افریقہ کی جرسی گہرے ہرے رنگ کی ہوتی ہے لیکن اس مرتبہ اس کی جرسی میں ہلکا ہرا رنگ واضح رہے جبکہ آستینیں گہرے ہرے رنگ کی بنائی گئی ہیں۔جرسی کے عین وسط میں ساﺅتھ افریقہ پیلے رنگ سے لکھا گیا ہے جبکہ ٹرازر کا رنگ گہرا ہرا ہے۔جنوبی افریقی ٹیم کا گزشتہ روز اعلان کیا گیا تھا جس میں ہاشم آملا جگہ بنانے میں کامیاب رہے تھے جبکہ کرس مورس کو شاندار فارم کے باوجود اسکواڈ سے باہر کردیا گیا تھا۔جنوبی افریقہ ورلڈ کپ میں اپنی مہم کا آغاز 30 مئی سے میزبان انگلینڈ کے خلاف اوول میں میچ سے کرے گا۔ورلڈ کپ کے لیے جنوبی افریقی اسکواڈ میںفاف ڈیو پلیسی(کپتان)، ہاشم آملا، کوئنٹن ڈی کوک، ریسی وین در دوسن، ڈیوڈ ملر، جین پال ڈومینی، ایڈن مرکرم، ڈیوین پریٹوریس، ایندائل فلکوایو، کگیسو ربادا، ڈیل اسٹین، لنگی نگیدی، اینرچ نورٹجے، عمران طاہر اور تبریز شمسی شامل ہیں۔
.

خبریں ہمیشہ کسان کیساتھ کھڑا ہے ، کسان میلہ زراعت کی ترقی میں سنگ میل ثابت ہو گا ، مجھے فخر ہے کہ ”کسان ٹائم“ کے نام پر پی ٹی وی پر کئی سال تک پروگرام کرتا رہا، روایتی پنجابی رقص‘ لڈی اور سمی‘ معروف گلوکارہ حمیرا ارشد سمیت وسیب فنکار پرفارم کرینگے: کہنہ مشق صحافی ضیا شاہد کا ”سنوایف ایم 89.4“کو انٹرویو

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) خبریں میڈیا گروپ کے زیراہتمام ملتان کے قلعہ قاسم باغ سٹیڈیم میں خصوصی ”کسان میلہ“کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ کسان میلہ اپریل کی 26،27اور 28تاریخ کو منعقد ہو گا۔ اس حوالے سے ایف ایم 89.4 پر وسیبی اسٹائل پروگرام کے میزبان سجاد کھوکھر نے چیف ایگزیکٹو خبریں گروپ ضیا شاہد سے خصوصی گفتگو کی۔ جو ہم سوالاً جواباً قارئین کی نذر کر رہے ہیں۔
میزبان: جس شخصیت سے ہم بات کرنے جا رہے ہیں وہ کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ صحافت کے بے تاج بادشاہ اور پاکستان میں صحافت کا نیا انداز و جہت متعارف کرانے میں انکا بڑا نام ہے۔ آپ روزنامہ جنگ اور نوائے وقت میں بڑے عہدوں پر رہے۔ روزنامہ پاکستان کا آغاز کیا اور روزنامہ خبریں اور نیا اخبارکی شکل میں نئے جذبے سے صحافتی میدان میں آئے۔ انہوں نے پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار زمیندار اورکسان بھائیوں کے لئے پی ٹی وی ورلڈ پر باقاعدہ ”کسان ٹائم“ پروگرام کا آغاز کیا، اس پروگرام سے ملنے والی معلومات پر عمل کرتے ہوئے کسان اور زمیندار بھائیوں نے زراعت کے شعبے کو نئی ترقیوں پر پہنچایا۔ پاکستان میں زرعی ترقی میں بڑا کردار ادا کیا۔ معزز مہمان خبریں گروپ آف نیوز پیپرز کے چیف ایڈیٹر ضیا شاہد ہمارے ساتھ موجود ہیں۔
السلام علیکم۔
ضیا شاہد: وعلیکم اسلام
میزبان: سنو ایف ایم کو وقت دینے کا شکریہ، خبریں میڈیا گروپ اور آپکے جنوبی پنجاب پر احسانات ساری زندگی نہیں اتارے جا سکتے۔ خبریں میڈیا گروپ کا زرعی ترقی میں بڑا کردار ہے؟
ضیا شاہد: خبریں میں میں نے سمجھا کہ پاکستان کے لوگوں کی ریڑھ کی ہڈی زراعت ہے۔ لہذا جب تک زراعت میں ترقی نہیں ہوگی، پھلے پھولے گی نہیں، زراعت کے نئے گوشے متعارت نہیں کروائے جائیں گے، زراعت اور کھیتی باڑی کی نئی تیکنیک لوگوں کو نہیں بتائی جائے گی ، تب تک زراعت پھل پھول نہیں سکتی۔ مجھے فخر ہے اور اللہ نے مجھے یہ سعادت بخشی کہ پاکستان ٹیلی ویژن پر سب سے پہلے روزانہ ایک گھنٹہ دوپہر ایک سے دو بجے تک میں کئی سال پروگرام کرتا رہا جسکا نام ”کسان ٹائم“تھا ۔ کسان ٹائم کے پروگرام میں خود بناتا تھا اور تمام انتظامات خبریں کے ذریعے ہوتے تھے۔ پروگرام میں تربیت یافتہ اناﺅنسر اور مذاکراتی پینل میں زرعی سائنسدان مختلف وقتوں میں آکر زراعت کے مختلف شعبوں کی نمائندگی کرتے تھے۔ مجھے اب بھی یہ منظر نہیں بھولتا جب میں نے پہلی مرتبہ پاکستان میں” سپرنکلز تھیوری“(یعنی اگر پانی کم ہو تو فوارے سے آبپاشی کی جاتی ہے)کی شکل دکھائی اور بتایا کہ یہ سسٹم کس طرح سے کام کرتا ہے اور کس طرح سے کم سے کم پانی سے فصلوں کو سیراب کیا جاسکتا ہے۔
میزبان: پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ خبریں اخبار میں زرعی صفحہ جاری کرنے کا پس منظر کیا تھا؟
ضیا شاہد:میں سمجھتا ہوں کہ ہم گاﺅں سے شہروں میں آئے ، میںہمیشہ یہ دیکھتا تھا کہ جب کبھی میں گاﺅں میں جاتا تو لوگ پوچھتے تھے کہ آپ نے بہت کام کیا ، آپ صحافی بھی بن گئے لیکن آپ نے زراعت کے لیے کیا کیا؟لوگ پوچھتے تھے کہ اس ملک میں اچھا گانے والے کو بھی ایوارڈ مل جاتا ہے، اچھا تبلہ بجانے والے کو مل جاتا ہے اور اگر کسی ایوارڈ یا انعام واکرام سے نوازا نہیں جاتا تووہ کسان کو نہیں نوازا جاتا، جو دھرتی کا سینہ چیر کر اس میں سے فصل اگاتا ہے۔ میں نے سب سے پہلے پاکستان میں فصلوں کے ایوارڈز شروع کیے۔ اس سال بھی برسوں کی روایت جاری ہو گی تاہم اٹھارویں ترمیم کے بعد جب سے زراعت کا شعبہ صوبوں کو منتقل ہوا ہے تب سے ایوارڈ ز کا سلسلہ رکا ہوا تھا، جب میں نے آخری زرعی میلہ کروایا اور کسان ایوارڈز سے دئیے تو یوسف رضا گیلانی وزیراعظم تھے ۔
میزبان : خبریں ہمارے کسانوں کا پسندیدہ اخبار ہے، اس بار بھی خبریں میڈیا گروپ پاکستان کا سب سے بڑا کسان میلہ ایڈ کو اور ایف ٹی کے اشتراک سے کرنے جارہا ہے ۔ہم آپکے ساتھ میلے کے آفیشل ریڈیو پارٹنر ہیں ۔ اس کسان میلے کو کیسے دیکھ رہے ہیں۔؟
ضیا شاہد: یہ کسان میلہ پاکستان میں زراعت کی ترقی کے لیے نیا سنگ میل ثابت ہوگا ۔ کئی سالوں کے تعطل کے بعد زیادہ گندم اگانے والے کو ایوارڈ دیا جائے گا۔ زیادہ چاول ، زیادہ کپاس اور فی ایکڑ زیادہ گنا کاشت کرنے والے کو ایوارڈ دیا جائے گا۔ اسکے علاوہ ایک خصوصی ایوارڈ ملتان کی مناسبت سے پھلوں کے بادشاہ آم کی پیداوار کرنے والے کاشتکاروں کے لیے ایوارڈ ہوگا۔ اس میلے میں پہلی مرتبہ مختلف ادارے اپنے شورومز بنائیں گے، نمائشیں اور اسٹالز لگائیں گے ۔ زراعت سے متعلق جتنے بھی شعبے ہیں اس میلے کے ذریعے انہیں زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچایا جائے گا۔ خبریں پاکستان کے آٹھ شہروں سے شائع ہوتا ہے۔ سندھی اخبار خبرون اور دوپہر کا اخبار نیا اخبار بھی شائع کرتا ہے۔ ہم انگریزی اخبار دی پوسٹ بھی شائع کرتے تھے جو میرے مرحوم بیٹے عدنان شاہد کی وفات کیوجہ سے بند کرنا پڑا۔ دی پوسٹ بہت خوبصورت اخبار تھا اور میں اسکے آغاز کے لیے دوبارہ کوشش کررہا ہوں۔ مجھے صدر پاکستان نے ایک دفعہ نہیں تین دفعہ لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ دیا ہے۔ پہلا ایوارڈ بطور چیف ایڈیٹر خبریں مجھے پرویز مشرف نے دیا اور ستارہ امتیاز سے بھی نوازا ۔ دوسرا لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ محمد نواز شریف نے بطور وزیراعظم پاکستان مجھے دیا ۔ تیسرا ایوارڈ پچھلے دنوں صدرپاکستان ڈاکٹر عارف علوی نے دیا ہے۔ اللہ کا فضل ہے کہ اس نے مجھے اس مختصر سی زندگی میں صدر پاکستان اور وزیراعظم پاکستان کی جانب سے لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ سے نوازا۔ یہ ایوارڈز دیتے وقت تعارف میں کہا گیا تھا کہ خبریں اخبار شائع کرنے والے ادارے نے پاکستان میں سب سے زیادہ زبانوں میں اخبارات شائع کیے۔ یعنی سندھی، پنجابی، اردو، انگریزی اور شام کا اخبار۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ اس لحاظ سے ہمارا کسان میلہ 26‘ 27اور 28اپریل تین دن ہوگا۔ میلے کا آغاز گورنر پنجاب کی افتتاحی تقریر سے ہوگا۔ اسکے علاوہ پنجاب کے وزیراعلیٰ عثمان بزدارکے ہاتھوں سے میلے کے آخری دن ایوارڈز کی تقریب انجام پائے گی۔ ان دونوں قد آور شخصیات کی موجودگی سے کسان میلے کی شان دوبالا ہوجائے گی۔
میزبان : سر آپکی ساری زندگی صحافت برائے خدمت کے اصول پر گزری، آپکے بہت سارے بچے اس وقت پاکستان کے مختلف اداروں میں سربراہوں کی حیثیت سے اہم ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں ۔ آپکی صحافتی زندگی کے آغازکے جائزے کے حوالے سے آپ کیا کہیں گے؟
ضیا شاہد: روزنامہ جنگ سے میں نے صحافت کا آغاز کیا لیکن اس سے قبل میں مختلف اداروں میں چھوٹے چھوٹے فرائض ادا کرتا رہا ۔ نوائے وقت کراچی کا ریذیڈنٹ ایڈیٹر رہا ،بعد ازاں پاکستان اخبار نکالا اور پھر خبریں شروع کیا ۔ خبریں کیساتھ شام کا اخبار نیا اخبار نکالا۔ اسکے ساتھ دی پوسٹ انگریزی ، پنجابی کا روزنامہ خبراں اور سندھی میں روزنامہ خبرون نکالا۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ سفر جاری و ساری ہے ۔ ہمارا مقصد جدید خطوط پر کسان کی تعلیم و تربیت اور معلومات کی فراہمی ہے تاکہ لوگ جدید زرعی ٹیکنالوجی سے واقف ہو سکیں ۔ ہمارے زرعی سائنسدان لوگوں کو نت نئے تجربات سے آگاہ کر سکیں۔ مختلف بینک جو اپنے زرعی شعبوں کے ذریعے جو خدمات سرانجام دے رہے ہیں اسکا احوال بتا سکیں۔ اسی طرح سے سیڈ کارپوریشن ،کھاد بنانے والے ادارے ،پرائیویٹ سیکٹر میں کرم کش ادویات بنانے والے ادارے اپنی مصنوعات لوگوں کے سامنے پیش کر سکیں ۔ نئی سے نئی مصنوعات اور تیکنیک سے آگاہی کے لیے کسان میلے کا انعقاد ازبس ضروری ہے۔
میزبان : ضیا صاحب سے درخواست کریں گے کہ سنو ایف ایم ایک گھنٹہ کے لیے آپکی خدمت میں حاضر ہو کر تفصیلی انٹرویو کرنا چاہتا ہے ۔ تاکہ ہمارے سننے والے وسیب کے لوگ آپکی خدمات کو یاد رکھیں۔ ہم نئی نسل کے لیے آپکی خدمات پر گفتگو کرنا چاہیں گے ۔ ہمارے سامعین کے لیے اس وقت آپ کیا پیغام دیں گے؟
ضیا شاہد : اس میلے کے ذریعے ہم کسانوںکی مصنوعات، کسانوں کے مسائل،نئی تیکنیک، کسانوں کے لیے مختص اداروں ، زرعی ادویات اور تھیوریز پر نہ صرف روشنی ڈالیں گے بلکہ ساتھ ساتھ لوگوں کو عوامی تفریح سے بھی روشناس کریں گے۔ ہماری کوشش ہوگی کہ میلے میں رات کے وقت دنگل ہوگا ، جو ہماری دیہاتی زندگی میں دلچسپ مقابلہ ہوتا ہے۔اسکے ساتھ گیت گانے، پنجابی رقص لڈی ، سمی وغیرہ پیش کرنے کے لیے ایک ٹیم بنا کر کلچر پیش کرنے کی کوشش کریں گے۔ لوگ دن کے وقت نمائش دیکھ سکیں گے اور رات کے وقت تفریح کر سکیں گے۔ پروگرام میں حمیرا ارشد سمیت وسیب کے فنکار و گلوکار پرفارم کریں گے۔
جناب ضیا شاہد ۔ آپکا بہت شکریہ
ضیا شاہد: بہت شکریہ

مہنگائی بڑھ گئی کاروبار میں شدید مندی ، حکومت کہیں نظر نہیں آتی : راولپنڈی کے شہری چینل فائیو کے پروگرام نیوزایٹ 7میں اظہار خیال کررہے ہیں

راولپنڈی(مانیٹرنگ ڈیسک) حکومت کے آٹھ ماہ مکمل ہونے پر حکومتی دعووں ، کارکردگی اور وفاقی کابینہ میں ردوبدل پر عوامی ردعمل جاننے کے لیے چینل فائیو کے پروگرام ”نیوز ایٹ سیون“ کے اینکر نے راولپنڈی صدر بازار کا رخ کیا ۔ اس موقع پر عوام کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت میں واقعی تبدیلی مہنگائی کی صورت آئی ہے۔پی پی پی اور ن لیگ کی لوٹ مار کے بعد تحریک انصاف بھی وہی کر رہی ہے۔ پاکستان میں جمہوریت نہیں فوجی حکومت ہونے چاہیے، فوجی حکومت میں سیاستدان بھوکے مرتے ہیں مگر عوام خوشخال ہوتی ہے۔ تحریک انصاف کے ایک ووٹر کا کہنا تھا کہ پاکستان میں حکومت سے کوئی مطمئن نہیں۔ کپتان کی دوسری وکٹ گرنے پر بہت افسوس ہوا۔ حکومت سے درخواست ہے کہ غریب کا کچھ تو خیال کریں۔ بازار میں موجود ایک فیملی کا موقف تھا کہ موجودہ حکومت سے پچھلی حکومت بہتر تھی،عوام اب بھوکے مر رہے ہیں۔ صدر بازار میں کھانے کا لطف اٹھاتی ایک فیملیزکا کہنا تھا کہ عوام کو صبر کرنا پڑے گا، اللہ کی مدد آچکی ہے اور حکومت اپنا کام کر رہی ہے۔ ملک میں بہتری آئے گی۔عمران خان جو کر رہے ہیں وہ بہتر سمجھ کر کرتے جارہے ہیں۔تاجر برادری اور دوکانداروں میں کچھ کا موقف تھا کہ موجودہ حکومت میں کاروبار اچھا چل رہا ہے۔حکومت کو مزید وقت دیا جائے ۔ تحریک انصاف سے اب بھی امید ہے ، عمران خان بہترین اور بڑے فیصلے لے رہ ہیں۔ جبکہ کچھ دوکانداروں کا کہنا تھاکہ خریداری کے لیے بازار میں موجود افراد کا کہنا تھاکہ وہ حکومت سے مطمئن نہیں ہیں کیونکہ حکومت کہیں نظر نہیں آرہی مہنگائی میں بے حد اضافہ ہوا ہے ، کاروبار میں شدید مندی ہے، لوگ مہنگائی کے باعث خریداری کرنے سے قاصر ہیں۔ملکی معاشی صورتحال میں خاطر خواہ بہتری نظر نہیں آئی۔زرداری اور نواز شریف کی حکومت میں اسٹاک ایکس چینج 19000سے 52000میں گئی اور دنیا میں پاکستان کا نام بلند ہوگیا۔ موجودہ حکومت کی معاشی کارکردگی کو جانچنے کے اشارے صفر ہیں۔ یوتھ کا کہنا تھا کہ وہ عمران خان کی کارکردگی سے بے مطمئن ہیں ، ماضی کی نسبت مسائل کم ہوئے ہیں، کالجز میں مسائل حل کیے گئے ہیں۔عمران خان کی حکومت نے ایمانداری کی مثال قائم کردی ہے۔ بازار میں موجود بچوں کا کہنا تھاکہ انکے والدین مہنگائی کیوجہ سے انہیں خریداری نہیں کروا پا رہے۔ ایک بزرگ شہری نے کہا کہ حکومتی وزراءاپنی وزارتیں سنبھال نہیں پارہے ، کل عمران خان بھی کہہ دیں گے کہ میں حکومت نہیں سنبھال سکتا ، کسی اور کو دے دو۔ ایک بیرون ملک پاکستانی کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کی حکومت میں کچھ تو اچھا ہوا ہے۔صدر بازار وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید کے حلقے میں عوام نے انکی کارکردگی پر مکمل اطمینان کا اظہار کیا۔انکا کہنا تھا کہ شیخ رشید جیسے کارکنان ملک بھر میں ہونے چاہئیں۔

خان صاحب ! مہنگائی سے عوام مشکل میں ہیں ، کوئی خوشخبری دیکر آسانی پیدا کریں : معروف صحافی ضیا شاہد کی چینل ۵ کے پروگرام ” ضیا شاہد کے ساتھ “ میں گفتگو

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں و تبصروں پرمشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ میں ایک ٹی وی چینل پر دیکھ رہا تھا کہ پیپلزپارٹی سے تعلق رکھنے والے ایک عہدیدار بھی تھے اپنے دور میں انہوں نے کہا کہ یہ جو اسد عمر فارغ ہوئے اس کے اصل ذمہ دار تو عمران خان صاحب ہیں اور اس کی وجہ انہوں نے یہ بتائی کہ انہیں منتخب کس نے کیا تھا۔ خود عمران خان کو بھی فیصلہ کرنے چاہئیں کہ وہ عوامی مسائل پر دلچسپی لیں اور لوگوں میں ذرا بیٹھا کریں اور لوگوں کی باتیں سنا کریں کہ وہ کیا کہتے ہیں جیسا کہ میں نے کہا تھا کہ اسد عمر کو فارغ ہونے کی وجہ اس دن ہو گئی تھی جس دن میں نے ایڈیٹروں کی طلبی میں عمران خان سے کہا کہ یہ لوگوں کو اتناڈراتے ہیں کہ خوف آنے لگا ہے ان سے۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ جو اشارے ہوتے ہیں، جو جھلکیاں ہوتی ہیں ان سے پتہ لگ جاتا ہے کہ پیچھے تصویر کے پیچھے کیا ہے۔ عمران خان صاحب نے صحیح کہا ہے کہ جو کام نہیں کرے گا وہ گھر جائے گا لیکن یہ بھی دیکھنا چاہئے کہ جو بات میں نے ان سے کہی تھی آج پھر میں اپنے پروگرام کے دریعے کہتا ہوں کہ لوگ ریلیف مانگتے ہیں آپ دیں لوگوں کو کیا ریلیف دیتے ہیں کوئی خوشخبری دیں جو اچھا پیغام دیں کوئی ان کی زندگی میں آسانی پیدا کریں۔ لوگ بجلی کے بل سے تنگ ہیں کوئی سوئی گیس نہ ملنے سے تنگ ہے کوئی کہتا ہے میرا اتنا بل آ جاتا ہے۔ مثال کے طور پر ایک حلیم والا کہتا ہے کہ میرا 80 ہزار بل آتا تھا اس مہینے سے 40 ہزار کا اضافہ ہو گیا ہے اس نے آخر کھانا کیا ہے کمانا کیا ہے۔ اب دیکھنا یہ چاہئے سنجیدگی کے ساتھ 3 ماہ دیکھنا چاہئے کہ وزارتوں کی تبدیلیاں کیا رنگ لاتی ہیں اس کے اثرات کیا ہوتے ہیں۔ اگلے جو اشارے مل رہے ہیں وہ یہ ہے کہ عمران خان نے خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ اور پنجاب کے وزیراعلیٰ سے بھی کہا ہے کہ آپ بھی ذرا اپنی ٹیم میں جائزہ لیں اور پنجاب میں تو انہوں نے 6 وزیروں کے بارے تو اعداد و شمار بھی سامنے آ گئے ہیں کہ ان کی کارکردگی بہت کمزور ہے۔ کچھ لوگوں کے جانے کے بعد پتہ چلتا ہے کہ مثلاً کچھ لوگ فیاض الحسن چوہان کے بہت خلاف ہو گئے لیکن اب یہ کہا جا رہا ہے کہ ان کی پرفارمنس بطور منسٹر اچھی رہی ہے وہ زیادہ گفتگو کرتے تھے تو اس میں کچھ ایسی باتیں بھی ہو جاتی تھیں جس پر لوگوں کو اعتراض ہو لیکن وہ بھاگ دوڑ بہت کرتے تھے اور بہت محنت کرتے تھے اس کے برعکس جو صمصام بخاری جو ان کی جگہ آئے ہیں وہ آتے ہی باہر دورے پر چلے گئے تھے تو ابھی کوئی ان کے کوئی جوہر نظر نہیں آئے۔ بجٹ کے بارے میں تو اسد عمر صاحب بھی کہہ گئے تھے کہ بہت مشکل ہو گا لیکن میں اُمید کرتا ہوں کہ ایسے پوائنٹ تلاش کرے گی جس میں عوام کو کچھ ریلیف ملے، کوئی آسانی بھی ہو۔ اس کی ایک بڑی وجہ بھی ہے کہ پرانے لوگ لوٹ کر لے گئے سوال یہ ہے کہ جو لوگ لوٹ کر لے گئے ان کے بارے میں کوئی سزا تو نظر نہیں آ رہی۔ بس پیشیاں پڑتی ہیں ضمانتوں پر ضمانتیں ہوتی ہیں لگتا ہے ان کو ریلیف مل رہاہے۔ ایک مہینہ اور انتظار کریں روزانہ اخبار دیکھتے رہیں مثال کے طور پر فیصل آباد کے لوگ جعلی اکاﺅنٹس کے بارے میں پکڑے گئے تھے کوئی خبر آتی ہے صوبوں میں وزراءکی کارکردگی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ضیا شاہد نے کہا کہ مثال کے طور پر دیکھیں کہ صحت کے شعبے میں جتنی فلاپ وزیر یاسمین راشد ثابت ہوئی ہیں یعنی مجھے دوردراز تک پنجاب میں صحت کے معاملے میں کوئی پیش رفت نظر نہیں آتی، سوائے اس کے کہ صحت کارڈ جاری ہوں گے پر اس کے بعد کچھ نہیں۔ جو صحت اور ہسپتالوں کی بری حالت ہے اور جو بدانتظامی ہے جو ہمارے ساتھ ہی صحت کا سیکرٹریٹ ہے اس کے اندر جو کچھ ہو رہا ہے وہ بہت سی بے اطمینانی ہے کام کرنے والے مطمئن نہیں، مریض مطمئن نہیں ہیں لواحقین مطمئن نہیں ہیں۔ ہم ان سے کسی دن پوچھیں گے کہ بطور سیاستدان وہ ایکٹو تھیں وہ بطور وزیر اتنی فلاپ کیوں ہیں۔ ملک میں دو نظام ہیں آج ہیومن رائٹس واچ پروگرام میں دوپہر کے وقت ایک خوفناک کیس سامنے آیا کہ فاٹا کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ وہاں سپیشل لاز ہوتے ہیں لیکن ڈیرہ غازی خان کے بارے میں ایک لڑکے کی جو کہ 13,12 سال ہے اور جنگلوں میں مارا مارا پھرتا ہے چھپا ہوا ہے کیونکہ اس کو کار اقرار دے دیا گیا کہ یہ ایک برائی میںملوث ہے وہ قرآن پر حلف اٹھا کر کہہ بیٹھا ہے کہ میرا کوئی قصور نہیں اور دوسری طرف ایک پولیس والا ایس ایچ او دو اس پنچایت میں شریک تھا اور قبائلی علاقہ ہے پتہ نہیں کون سے قبائل وہاں رہتے ہیں اور وہاں پنچایت میں فیصلہ ہوا اور اس میں ایس ایچ او بھی موجود تھا۔ پولیس کا۔ اور فیصلہ ہوا کہ جو عورت کاری ہے جس پر اہزام ہے اس کے بارے میں فیصلہ ہوا کہ اس کو بیچ دیا جائے 12 لاکھ روپے ہیں۔ اندازہ کریں یہ پاکستان ہے یہ ملک ہے۔ یہ کس لئے بنا تھا کہ یہاں فیوڈل کے بنائے سپیشل لاز اپنا جو فیصلہ کر لیں بیٹھ کر اور پولیس فورس تسلیم کرتی ہے میں نے اپنے لیگل ایڈوائزر سے کہا ہے کہ یہ جی ایس کیس کو لے کر آپ ملتان میں میاں غفار سے کہا ہے کہ سارے پیپرز بھیجیں اور لاہور ہائی کورٹ میں آپ چیلنج کر دیں۔
ضیا شاہد نے کہا کہ وزارتوں کی جو تبدیلیاں ہیں عوام نے اس کا اچھا تاثر لیا ہے اس پر اکثر لوگوں نے خوشی کا اظہار کیا ہے کہ چلیں کوئی ایکشن تو ہوا لیکن ساتھ ہی ساتھ یہ بات بھی کہی جاتی ہے کہ لوگوں کو ریلیف چاہئے۔ ریلیف یہ ضرور ملا ہے کہ عامر کیانی کو وہ جو دوائیں جنہوں نے مہنگی کر دی تھیں ان کو فارغ کر دیا گیا ہے ان کو کوئی وزارت بھی نہیں دی گئی۔ لیکن جو اس وقت صورتحال یہ ہے کہ میری بیوی جو ہرمہینے دوائیں منگواتی ہے اس کی دوائیں ساڑھے دس ہزار کی آتی ہیں جناب اس مہینے میں اس کی چودہ ہزار کچھ روپے کی دوائیں آئی ہیں۔ زندگی اب بڑی مشکل ہو رہی ہے۔ بجلی کا بل مہنگا ہے گیس مہنگی ہے، پانی مہنگا ہے مہنتائی بڑھ گئی ہے خالص دودھ ملتا نہیں ایک صاحب نے کہا کہ خالص دودھ مل جائے جتنے پیسوں کا بھی مل جائے۔ خالص دودھ ملنے کا تو تصور ہی ختم ہوتا جا رہا ہے دودھ میں خطرناک اشیاءکی ملاوٹ کی جاتی ہے جس سے لوگ خاص طور پر بچے بیمار ہو رہے ہیں۔
اسد عمر کو ہٹانے کے حوالے سے خورشید شاہ کے بیان میں صداقت نظر نہیں ااتی، انہیں ڈھنگ کی بات کرتے کم ہی سنا ہے، ہر جگہ انہیں سازش نظر آتی ہے، ہمیشہ نان ایشوز پر بات کرتے ہیں۔ اسد عمر کو مسلسل بڑھتی مہنگائی پر کنٹرول نہ پانے پر فارغ کیا گیا۔ دوسرا وہ اپنے بیانات سے عوام کو مسلسل ڈرا رہے تھے جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ لوگوں نے معاشی مسائل کا ذمہ دار انہیں قرار دیا اور وہ ولن بنا کر نکال دیئے گئے، ہو سکتا ہے اب ان کی جگہ اور بڑا ولن آ جائے فیاض الحسن چوہان کو بھی دوبارہ کابینہ میں واپس لانے کی باتتیں ہو رہی ہیں۔ انہوں نے متعصب ہندوﺅں بارے بیان دیا تھا جسے بنیاد بنا کر فارغ کر دیا گیا۔ فیاض چوہان بھاگ دوڑ تو کرتے تھے۔ میرے خیال میں وزارت صحت انہیں دے دینی چاہئے۔ وزیراعظم عمران خان، وزیراعلیٰ عثمان بزدار کو ایماندار سمجھتے ہیں اس لئے لگتا نہیں کہ ان کو تبدیل کر دیا جائے گا۔
وہاڑی میں پروفیسر کی ملازمہ سے زیادتی کا واقعہ سامنے آیا ہے اگر اس میں حقیقت ہے تو شرم کا مقام ہے کہ معاشرہ کہاں پہنچ چکا ہے استاد تو والد کی جگہ ہوتا ہے اگر وہیں ایسا طرز عمل اختیار کر لے تو شرمناک ہے۔ اس طرح کے واعات کی ایک وجہ ہمارا نظام انصاف ہے جس میں مقدمہ درج کرانے، تحقیقات کرنے اور عدالتوں میں کیس چلنے میں بھی سال لگ جاتے ہیں اور کوئی نتیجہ نہیں نکلتا۔ ہمارے یہاں گناہ اور سزا کے درمیان کوئی منطقی ربط نہیں ہے۔ اس طرح کے واقعات میں ملوث افراد کو جب تک نشان عبرت نہ بنایا جائے گا ایسے جرم کم نہ ہوں گے۔

اسد عمر مارکیٹنگ فنانس کے ماہر تھے انکے جانے سے سٹاک مارکیٹ 800 پوائنٹس اوپر گئی: شاہد اقبال، عمران خان محب وطن لیکن انکی ٹیم کے کھلاڑی اچھے نہیں: طارق ممتاز ، تحریک انصاف کی حکومت میں تبادلوںنے ایڈمنسٹریشن کوہلا کر رکھ دیاہے: آغا باقر ، وزیراعظم نے آئی ایم ایف اور بجٹ کے سر پر ہوتے ہوئے بھی جرات مندانہ فیصلے لیے ہیں: سیف الرحمان ، چینل ۵ کے پروگرام ” کالم نگار “ میں گفتگو

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک)چینل فائیوکے تجزیوں اور تبصروں پر مشتمل پروگرام ”کالم نگار“میں گفتگو کرتے ہوئے تجزیہ کارشاہد اقبال بھٹی نے کہاکہ پاکستان کا بڑا مسئلہ معیثت کی بہتری رہا ہے جس کے لیے حکومت راہ ہموار نہیں کر سکی۔ عمران خان نے درست انضباطی اقدامات کیے ہیں مگر دیر سے۔ تبدیلی کے ووٹ کا بوجھ اٹھائے وزراءکی تبدیلی ٹیکنوکریٹس سے ہورہی ہے جن پر آئی ایم ایف سے معاہدہ اور بجٹ پیش کرنے میںعوام کا دباﺅ نہیں ہوگا۔ یہ عمران خان کی ناکامی ہے، انکا چناﺅ ہی غلط تھا۔ٹیکنوکریٹس کو سسٹم میں لانے کے بعد عمران خان کے پاس تیسرا چانس نہیں ہوگا۔ تحریک انصاف سیاسی جماعت تھی ہی نہیں ق لیگ کا متبادل تھی۔اسد عمر مارکیٹنگ فنانس کے ماہر تھے اکانومسٹ نہیں تھے، انکے جانے سے اسٹاک مارکیٹ 800پوائنٹ اوپر گئی ہے۔ پرابلم آ نہیں رہی ، پرابلم آچکی ہے۔ فصلوں سے آنے والے پرندوں کو کچھ نہ کچھ دینا ہے، تبدیلی صوبائی سطح پر بھی جاری رہے گی۔ عمران خان 5سال کے لیے نہیں ڈھائی سے 3سال کے لیے سوچ رہے ہیں۔ عمران خان ،شہباز شریف اور حمزہ شہباز کی مخالفت میں جارحانہ بصیرت کا حامل مذاہمتی وزیراعلیٰ لائے تو کام ہو سکتے ہیں۔ عمران خان اگر معاملات ہاتھ سے نکلتے دیکھیں گے تو اسمبلیاں توڑ دیں گے کیونکہ عمران خان میچ کھیلنے نہیں جیتنے نکلتے تھے۔ عمران خان کی خارجہ پالیسی بہترین پالیسی رہی ہے۔ عمران خان کے دور میں اگر کرکٹ میں سفارشیں ہورہی ہیں تو اللہ ہی حافظ ہے۔ حکومت ن لیگ اور پی پی کے مخالف پالیسیاں دینے کی بجائے اپنی پالیسی دے تو ملک ٹھیک ہو جائے گا۔ میزبان کالم نگارآغا باقر نے کہا کہ تحریک انصاف کی حکومت میں تبادلوں نے ایڈمنسٹریشن کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ 25سے زائد بیوروکریٹس اور وزراءکو تبدیل کیا گیا۔ غلام سرور اور اعظم سواتی پر الزامات ہیں۔شہباز شرف بطور وزیراعلیٰ بہت کام کرتے تھے انہوں نے جو پراجیکٹس شروع کیے انہیں مکمل کیا۔ عمران خان پنجاب کابینہ کے اجلاسوں کی صدارت کرتے رہے ہیں۔ کالم نگار طارق ممتاز کا کہنا تھاکہ عمران خان میچ کے معاملے میں بدلحاظ آدمی ہیںاور حکومت انکا میچ ہے۔ عمران خان محب وطن ہیں ،ملک کو ٹھیک کرنا چاہتے ہیں لیکن انکی ٹیم کے کھلاڑی اچھے نہیں توانہیں تبدیل کرنا اچھا اقدام ہے ۔شیخ رشید نے بطور وزیراطلاعات صحافیوں سے اپنے تعلقات اچھے رکھے تھے ، فواد چوہدری کی جگہ فردوس عاشق اعوان کا مشیر اطلاعات بننا خوش آئند ہے، فواد چوہدری کا لہجہ غیر پارلیمانی تھا۔ عمران خان نے خواب دیکھا تھا کہ شوکت خانم کی طرح امداد اور چندے سے ملک کے قرضے اتار دوں گامگر ایسا نہیں ہوسکا۔بھارتی وزیر خارجہ کے بیان کے بعد بھارت کی ساکھ دنیا بھر میں داﺅ پر لگ گئی ہے۔ محمد عامر اچھا باﺅلر ہے۔ ورلڈ کپ سر پر ہے اور پی سی بی ٹرائل لے رہی ہے، ٹیم میں میچور کھلاڑی لینے چاہئیں۔ تجزیہ کارسیف الرحمان نے کہا کہ برطانوی ہائی کمیشن پاکستانی سیاست اور سسٹم پر بڑی نظر رکھتا ہے۔پاکستان میں حکومت کی جانب سے کابینہ میں ایسی تبدیلی پہلے نہیں ہوئی۔ عمران خان نے آئی ایم ایف اور بجٹ کے سرپر ہوتے ہوئے جرات مندانہ فیصلے لیے ہیں۔ وزیراعظم نے ماضی میںایسے تاثر بھی دئیے ہیں کہ انہیں معلوم ہی نہیں صوبے میں کیا ہو رہا ہے ، اس پر انہیں معافی نہیں ملے گی ۔اعجاز شاہ کووزیرداخلہ بنانے کے پیچھے حکومت کی سخت ایکشن یا کریک ڈاﺅن کی خواہش ہو سکتی ہے۔باوثوق ذرائع کے مطابق انکی تعیناتی عمران خان پرمضبوط اداروں کی جانب سے تھونپی گئی ہے ۔فواد چوہدری ، مشرف دور میں مشرف کے حق میں آرٹیکل لکھنے کے 25ہزار آفر کرتے رہے۔بطوروزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کا اثرو رسوخ اور دھاک نہیں ہے، لوگ انہیں غیر سنجیدہ لیتے ہیں۔ تلاش کیا جائے تو تحریک انصاف میں سے بہتر وزیراعلیٰ مل سکتا ہے۔ عثمان بزدار میں ویژن نہیں نہ وہ فیصلے لینا جانتے ہیں۔ بھارتی وزیر خارجہ نے آخر تسلیم کیا کہ بھارتی فضائیہ کے حملے میں کوئی 350افراد نہیں مارے گئے بلکہ ایک بھی پاکستانی جاں بحق نہیں ہوا۔

معیشت تباہ کر دی، قوم کو زندہ رہنے کا حق دیا جائے: حمزہ شہباز

لاہور ( وائس آف ایشیا) پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف و مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما حمزہ شہباز نے بلوچستان میں مسافروں کے بہیمانہ قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بے گناہوں کے خون میں ہاتھ رنگنے والے انسانیت کے قاتل اوردرندے ہیں ،واقعہ پر بہت دکھ ہوا ہے، متاثرہ خاندانوں سے دلی ہمدردی اور تعزیت کرتے ہیں۔انہوں نے اپنے مذمتی بیان میں کہا کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جانی ومالی قربانیاں بے مثال ہیں ،ہزارہ برادری سمیت مختلف طبقات کو ایک سازش کے تحت نشانہ بنایاجارہا ہے ،وزیراعظم شوق سے وزیر داخلہ بن بیٹھے لیکن ذمہ داری نبھانے کی اہلیت نہیں،جب سے عمران نیازی صاحب وزیر داخلہ بنے ہیں، امن وامان کی صورتحال مسلسل خراب ہوتی جارہی ہے،اداروں کو اپوزیشن کے پیچھے لگا رکھا ہے، دہشت گرد آزاد گھوم رہے ہیں ،نیازی صاحب معیشت کا تو بیڑہ غرق کردیا ہے، کم ازکم قوم کو زندہ رہنے کا حق تو دیں ،کل وقتی وزیر داخلہ لگائیں تاکہ قوم کی جان ومال کا تحفظ یقینی ہوسکے۔حمزہ شہباز نے کہا کہ سیاسی مقاصد کے لئے ہر روز آئی جی اور افسر تبدیل ہوں گے تونظام کیسے چلے گا؟،دہشت گردی کی نئی لہر معنی خیز ہے، وفاق اور صوبوں کو غور وخوض سے نئی حکمت عملی مرتب کرنے کی ضرورت ہے،دعا ہے کہ اللہ تعالی شہید ہونے والوں کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے، لواحیقن کو صبر جمیل دے۔آمدن سے زائد اثاثہ جات اور مبینہ منی لانڈرنگ کے کیس میں نیب نے پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر میاں حمزہ شہباز شریف کو 22اپریل کو دوپہر 3بجے طلب کر لیا۔ ایک نجی ٹی وی کے مطابق ذرائع کے مطابق نیب نے حمزہ شہباز شریف کو نیب کی جانب سے 12اور 16اپریل کو طلب کیا تھا لیکن حمزہ شہباز شریف نیب کی تفتیش کے دوران تسلی بخش جوابات نہ دے سکے جس کو مد نظر رکھتے ہوئے نیب نے اب دوبارہ حمزہ شہباز شریف کو 22اپریل سوموار کو دوپہر 3بجے طلب کر لیا ہے۔ نیب کی کمبائن انوسٹی گیشن ٹیم حمزہ شہباز شریف سے سوالات و جوابات کریگی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ نیب ٹیم حمزہ شہباز سے مختلف اکاﺅنٹس سے آنیوالے پیسوں سے متعلق تفتیش کریگی۔یاد رہے نیب لاہور نے حمزہ شہباز کیخلاف رمضان شوگر ملز، صاف پانی کرپشن اور منی لانڈرنگ کیس میں تفصیلی جواب لاہور ہائیکورٹ میں جمع کرایا۔ ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل نیب نے جواب میں کہا حمزہ شہباز نے 2001میں 2کروڑ 20لاکھ روپے کے اثاثے ظاہر کئے جو 2017میں 41کروڑ 10لاکھ روپے ہو گئے، وہ 38کروڑ 80لاکھ کے اثاثے جائز ثابت نہیں کر سکے۔علاوہ ازیں انہوں نے 18کروڑ روپے بیرون ملک سے آمدن ظاہر کی جو جعلی ثابت ہوئی، اس طرح حمزہ شہباز کے مہنگے اثاثے اور فیکٹریاں ان کے ذرائع آمدن سے زیادہ ہیں۔

پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر میں 1.02 ارب ڈالر کمی

کراچی (صباح نیوز) پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر میں 1.02ارب ڈالر کمی ہوئی ہے جس کے بعد یہ 9ارب 24کروڑ ڈالر رہ گئے۔ترجمان اسٹیٹ بینک بینک نے اعلامیے میں بتایا کہ ایک ہفتے میں زرمبادلہ کے ذخائر میں ایک ارب دو کروڑ ڈالر کی ادائیگی کی گئی۔اعلامیے کے مطابق ایک ارب ڈالر پاکستان سورین بانڈز کی مد میں ادا کئے گئے۔ ایک ہفتے میں بیرونی قرض کی مد میں دو کروڑ 80لاکھ ڈالر ادا ہوئے۔ اسٹیٹ بینک نے بتایا کہ کمرشل بینکوں کے پاس 6.95ارب ڈالر موجود ہیں جبکہ مجموعی ذخائر کی مالیت کم ہوکر 16.19ارب ڈالر رہ گئے۔ ترجمان اسٹیٹ بینک کے مطابق رواں مالی سال 9ماہ میں کرنٹ اکاﺅنٹ خسارے میں 29فیصد کمی ہوئی اور اب یہ گھٹ کر 9ارب 59کروڑ ڈالر رہ گیا۔ اعلامیے میں بتایا گیا کہ گزشتہ مالی سال اسی مدت میں کرنٹ اکاﺅنٹ خسارہ 13ارب 58کروڑ ڈالر تھا جبکہ مارچ 2019میں خسارہ 82کروڑ 20لاکھ ڈالر رہا۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق فروری میں کرنٹ اکاﺅنٹ خسارہ 27کروڑ 80لاکھ ڈالر تھا جبکہ جنوری 2019سے مارچ 2019کے دوران کرنٹ اکاﺅنٹ خسارہ 1.97ارب ڈالر رہا۔ترجمان اسٹیٹ بینک کا مزید کہنا تھا کہ اکتوبر 2018سے دسمبر 2018کے دوران کرنٹ اکانٹ خسارہ 3.81ارب ڈالر تھا۔ اس سے قبل 29مارچ کو اسٹیٹ بینک نے بنیادی شرح سود میں50بیسس پوائنٹس کا اضافہ کیا تھا۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق بنیادی شرح سود 10.75فیصد کردی گئی۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق پالیسی ریٹ دو ماہ کے لیے لاگو ہوگا۔

بھارتی فوج نوجوانوں کو شہید کرکے کیمیکل سے لاشیں مسخ کررہی ہے :محبوبہ مفتی

اننت ناگ (اے این این) مقبوضہ کشمیر میں بھارت نواز جماعت پی ڈی پی کی صدر محبوبہ مفتی نے انکشاف کیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج نوجوانوں کو شہید کر کے کیمیکل سے لاشیں مسخ کرتی ہے ، کشمیر میں جنگل کا راج چل رہا ہے۔ کھنہ بل علاقے میں انتخابی جلسے کے حاشیہ پر نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے کہا ‘کشمیر میں جس طرح مظالم ہو رہے ہیں ایسا لگتا ہے کہ ہم اس ہندوستان کے ساتھ نہیں ہیں جس کے ساتھ شیخ محمد عبداللہ اور مہاراجہ ہری سنگھ نے الحاق کیا تھا اور جو سب ہندوں، سکھوں، مسلمانوں کا ملک تھا’۔انہوں نے کہا ‘یہاں جنگل کا راج چل رہا ہے، فوجی اہلکاروں نے ایک ایس ڈی ایم اور اس کے ساتھ دوسرے ملازموں کی پٹائی کی، راستے بند کئے جاتے ہیں، جیلوں میں قیدوں کو پیٹا جاتا ہے، تصادم آرائیوں کے بعد لاشوں پر کیمیکل استعمال کر کے مسخ کیا جاتا ہے کشمیریوں پر اتنے مظالم کئے جاتے ہیں کہ کشمیری خوف سے کانپ اٹھتے ہیں کہ ہم نے کس ہندوستان کے ساتھ الحاق کیا تھا’۔انہوں نے کہا فورسز اہلکار کیمیکل استعمال کر کے جنگجوﺅں کی لاشوں کو نا قابل شناخت بناتے ہیں۔ انکا کہنا تھا ہر ایک انسان،چاہے جنگجو ہی کیوں نہ ہو،موت کے بعد احترام کا حقدار ہے، فوج مسلح جھڑپوں کے دوران کیمیکل استعمال کر کے لاشوں کو مسخ کرتی ہے، جو کہ غیر انسانی ہے،خیال کریں اس وقت جذبات کیا ہونگے، جب کوئی بھائی اپنے بھائی کی لاش مسخ شدہ یا جلی ہوئی دیکھے،کیا آپ کو حیرانی ہوگی اگر وہ بھی بندوق اٹھائے گا۔