گلوکار احمد رشدی کی 81 ویں سالگرہ آج منائی جائے گی

لاہور(شوبزڈیسک)معروف گلوکار احمد رشدی کی 81 ویں سالگرہ 24اپریل بدھ کو منائی جائے گی اس سلسلے میںان کے مداحوں کے زیر اہتمام تقاریب کا اہتمام کیا جائے گا۔ احمد رشدی 1938ءکو حیدر آباد دکن میں پیدا ہو ئے تقسیم ہند کے بعد احمد رشدی کراچی منتقل ہو گئے۔ انہوں نے اپنے فنی کیریئر کا آغاز ریڈیو پاکستان کراچی سے کیا معروف گانے ” بند روڈ سے کیماڑی ،چلی میری گھوڑا گاڑی “ نے انہیں شہرت کی بلندیوں تک پہنچا دیا ۔ ان کی بطور گلوکار پہلی فلم ” کارنامہ “ تھی جو کہ ریلیز نہ ہو سکی جبکہ اس کے بعد آنے والی فلم ” انوکھی “ تھی جس میں احمد رشدی پلے بیک سنگر تھے ان کی بطور فلمی گلوکار آخری فلم ” مشرق و مغرب “ تھی۔ احمد رشدی کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ انہوں نے دیگر گلوکاروں کے ہمراہ مل کر 1955ءمیںپہلی مرتبہ پاکستان کا قومی ترانہ گایا انہیں یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ وہ جنوبی ایشیاءکے پہلے گلوکار تھے جنہوں نے موسیقی میں پاپ سنگنگ کو متعارف کروایا انہوں نے پاکستانی فلموں میں پانچ ہزار سے زائد گانے ریکارڈ کروائے۔ پاکستانی فلمی موسیقی کیلئے انتھک کام کرنے پر ان کی صحت گرنا شروع ہو گئی اور وہ 11اپریل1983ءکو دل کے دورے کے باعث 44برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔
انہیں سخی حسن قبرستان کراچی میں سپردخاک کیا گیاان کی وفات کے بیس برس بعد ان کی خدمات کے عوض سابق صدر جنرل(ر) پرویز مشرف نے انہیں ستارہ امتیاز سے نوازا تھا۔

ایرانی قیادت پاکستان کے بارے میں کیا سوچ رہی ہوگی:مریم نواز

اسلام آباد( آن لائن ) سابق وزیراعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز نے وزیراعظم عمران خان کے ایران کیخلاف پاکستانی سرزمین استعمال ہونے کے
بیان پر اپنے ٹویٹ میں کہا ہے کہ غیر ملکی سرزمین پر ملک کو رسوا کرنے کی قومی و سفارتی تاریخ میں مثال نہیں ملتی ۔ ایرانی قیادت پاکستان کے بارے میں کیا سوچ رہی ہوگی۔ اپنے ٹویٹر پر جاری پیغام میں مریم نواز نے کہا کہ غیر ملکی سرزمین پر ملک کو رسوا کرنے کی قومی و سفارتی سطح پر نظیر نہیں ملتی وزیراعظم عمران خان کے ایران کیخلاف پاکستانی سرزمین استعمال ہونے کے اعتراف پر ایرانی قیادت پاکستان کے بارے میں کیا سوچ رہی ہوگی۔

چودھری نثار کو وزیراعلیٰ بنانے کا فیصلہ نواز شریف کرینگے: شاہد خاقان عباسی

اسلام آباد (صباح نیوز) پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما اور سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ جو معیشت کی حالت پی ٹی آئی حکومت نے کر دی ہے اس میں ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ ہوں یا کوئی اور جو بھی نیا وزیر خزانہ آئے گا وہ مزید خرابی ہی پیدا کرے گا۔ اسدعمر نے ملکی معیشت کو کتنا فائدہ پہنچایا ہے یا نقصان پہنچایا ہے یہ کیس نیب کو دے دیں، نیب یہ سب کام کرتی ہے اور نیب یہ سب کام جانتی ہے کہ کون فائدہ پہنچاتا ہے اور کون نقصان پہنچاتا ہے۔ ملکی مسائل کا مجھے اور کوئی حل نظر نہیں آتا اور ہمیں دوبارہ الیکشن میں جانا پڑے گا۔ سب اس بات کا عہد کریں کہ ملک میں شفاف الیکشن کروائیں گے، پاکستان کی عوام جو فیصلہ کریں گے سب اس کو قبول کریں گے ۔ لوگوں کی رائے سے بہتر کوئی رائے نہیں ہے ، کسی کوحق حاصل نہیں ہے ، نہ کسی کے پاس یہ اختیار ہے ، نہ کسی میں اتنی قابلیت ہے کہ وہ یہ کہہ سکے کہ ملک کے عوا م کا فیصلہ درست نہیں ہے میرا فیصلہ درست ہے اور جب بھی ہم نے یہ کیا ہے ہم نے نقصان اٹھایا ہے۔ چوہدری نثار اگر وزیر اعلیٰ پنجاب کے امیدوار بنتے ہیں تو ان کی حمایت کا فیصلہ (ن) لیگ کی پارلیمانی پارٹی کرے گی ، پارٹی کی قیادت کرے گی اور میاں محمد نواز شریف کریں گے۔ نواز شریف کو علاج کی ضرورت ہے اور یہ حقیقت ہے کہ ان کا علاج شاید پاکستان میں ممکن نہ ہو۔ نواز شریف کو پرانی بیماری ہے جو وقت کے ساتھ بڑھ گئی ہے اوراس میں مزید پیچیدگیاں پیدا ہو گئی ہیں۔

بھٹو کے نواسے بلاول کو غیر اخلاقی زبان استعمال نہیں کرنی چاہیے ،چینل ۵ کے پروگرام ” کالم نگار “ میں گفتگو

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) چینل فائیو کے تجزیوں اور تبصروں پر مشتنل پروگرام ”کالم نگار“میں گفتگو کرتے ہوئے تجزیہ کار ناصر اقبال نے کہا کہ وزیراعظم کے جاپان اور جرمنی کی سرحدی تجارت کابیان عمران خان کی غلطی ہے انہیں اپنی غلطیاں سدھارنی چاہئیں ۔ کنٹینرکے بیانات اور بات ہے مگروزیراعظم کی گفتگو انکے منصب کے شایان شان ہونی چاہئیے۔ عمران خان کو کامیاب ہونا چاہیے، اگر وہ ناکام ہوئے تو تمام مافیاز پاکستان کو دوبارہ جکڑ لیں گی۔افغانستان کے حوالے سے وزیراعظم کے بیان پر افغانستان سے سخت ردعمل آچکا ہے اور بھارت کے حوالے سے ایک انٹرویو میں انکے بیان پر اپوزیشن نے وزیراعظم پر مودی کی کمپین کرنے کا الزام لگایا۔ وزیراعظم کواپنے ساتھ تقریر لکھنے کے لیے ماہر لوگ رکھیں۔ کہاں جاپان اور کہاں جرمنی! وزیراعظم اپنے بیان کی تردید کریں گے تو انکا مذاق بنے گا۔ ایٹمی ملک کے وزیراعظم کی بات کا زیر زبر بھی وزن رکھتا ہے۔وزیراعظم اور وزیر خارجہ کے بیانات میں تضاد بھی سوالیہ نشان ہے۔تحریک انصاف کو غیر روایتی مافیا پر مشتمل اپوزیشن کا سامنے ہے اور تحریک انصاف انتظامی حوالے سے صفر ہے۔تحریک انصاف کے پاس اپنا چہرہ اپنا ترجمان ہی نہیں ہے۔ فواد چوہدری جیسے مہمان اداکارقوم کو اعتماد میں نہیں لے سکتے کہ تحریک انصاف کی حکومت قرض کے انبار پر قابو پارہی ہے۔پنجاب کی وزارت اعلیٰ سے مطعلق ہذیان کی کیفیت پر بیوروکریسی کو حکومت نے اعتماد میں لینا ہے۔بااثر مافیا سے نمٹنے کے لیے وزیراعلیٰ لاہور سے ہونا چاہیے۔میاں اسلم اقبال وزیر اعلیٰ کے لیے بہترین نام ہیں۔ ریاست کو پشاور میں پولیو مہم کیخلاف ڈرامہ رچانے والے کردار کو نشان عبرت بنا دینا چاہیے۔ میزبان کالم نگار کاشف بشیر خان نے کہا کہ بے نظیر اور ذوالفقار علی بھٹو لیڈر تھے اور لکھ کر تقریر نہیں کرتے تھے، عمران خان کو اس معاملے پر بطور وزیراعظم سوچنا پڑے گا۔ عمران خان کو یورپی ممالک کی مثالیں دینے سے گریز کرتے ہوئے اب اپنی بات کرنی چاہیے۔ آکسفورڈ کے پڑھے ہوئے، بھٹو کے نواسے کوغیر اخلاقی زبان استعمال نہیں کرنی چاہیے۔گذشتہ چند سالوں میں پاکستان مخالف سرگرمیاں ایران کی سرزمین سے ہوتی رہی ہیں۔ ایران کی ہمارے دشمن کیساتھ زیادہ محبت ہے۔تحریک انصاف کے پاس قانونی نظام میں تبدیلی کے لیے دو تہائی اکثریت نہیں ہے۔ کالم نگار مریم ارشد نے کہا کہ عمران خان نے شاید فرانس کی جگہ جاپان کہہ دیا تاہم اس بیان پر جواب وزیراعظم ہی دے سکتے ہیں۔ اپوزیشن اصل مدعا پر آنے کی صلاحیت نہیں رکھتی، مفاد پرست لوگوں کو عمران خان کی غلطی کا فائدہ اٹھانے کا موقع مل گیا۔ امریکا دنیا کا خداوند بنا ہوا ہے۔ بھارت ایران سے سستے داموں تیل اور گیس خرید رہا ہے اور امریکا خاموش ہے۔گذشتہ 60سالوں میں تعلیم پر کام ہوتا تو آج کرپشن کا رونا نہ ہوتا۔تحریک انصاف میں صرف ایک چہرہ عمران خان ہے باقی سب دوستیاں نبھا رہے ہیں۔ کالم نگارحسنین اخلاق نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کو چاہیے کہ وہ مختصر اور ٹھوس گفتگو کریں، دہشتگردی کے حوالے سے عمران خان کے بیان پر ہمارے دشمن بھارت اور عالمی نشریاتی اداروں نے اسی قسم کا مطلب اخذ کیا تھا۔ بلاول بھٹو کی اسمبلی میں بیان بازی کنٹینر کی بیان بازی سے کم غیر اخلاقی تھی۔ پاکستان کا قومی بیانیہ عمران خان کے بیان سے بالکل مختلف ہے۔احتساب کا عمل مذاق نہیں عدالتوں پر یقین رکھنا چاہیے۔تحریک انصاف کی حکومت میں ذاتی مفادات کی سیاست ہورہی ہے۔ حکومت گڈ گورننس کرنا چاہتی ہے تو انہیں خود کوشش کرنی ہوگی، اپوزیشن انہیں کبھی نہیں کرنے دے گی۔ حکومت سنجیدہ ہے تووعدے کے مطابق سسٹم کی تعمیر نو کرے۔ قانونی و سیاسی نقطہ نظر سے علیم خان کی ضمانت ہوجانی چاہیے، وہ اتنے گنہگار نہیں ہیں۔ پشاور کی عوام کا پی آر ٹی پر غصہ تھا جو پولیو مہم پر اتر گیا۔

وزیروں کے کیچڑ اچھالنے پر بلاول نے بھی سخت جواب دیا: کائرہ،ایران سے مشاورتی عمل میں بہتری آئےگی‘ دہشتگردی کےخلاف دونوں ملکوں کو ٹھوس اقدامات کرنے ہونگے‘ جنرل(ر) امجد شعیب،وزیراعظم جس معاملہ کو نہیں جانتے اس پر بات نہ کریں حنا ربانی کھرکی چینل ۵ کے پروگرام ” نیوز ایٹ 7 “ میں گفتگو

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل فائیو کے پروگرام ”نیوز ایٹ سیون“میں گفتگوکرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے رہنما قمر الزمان قائرہ نے کہا ہے کہ اسمبلی کو حکومت اور اپوزیشن نے ملکر چلانا ہوتا ہے مگر بلاول بھٹو کی تقریر پر حکومتی وزراءکی جانب سے ہنگامہ آرائی کا جواب پیپلز پارٹی کی جانب سے بھی دیا گیا۔ بلاول بھٹو کی جانب سے وزیرخزانہ کو کیوں نکالا کا بیان، اسد عمر کی جانب سے بلاول کی زبان ، انکے والدین اور انکے ماضی پرکیچڑ اچھالے جانے کا ردعمل تھا۔ اسد عمر ملکی معیشت چلانے کے معاملے میں جاہل ہیں۔یہ بات درست ہے کہ بلاول حادثاتی طور پر پارٹی چیئرمین بنے اور حادثہ بے نظیر بھٹو کی شہادت تھا۔
سابق گورنر سندھ محمد زبیر نے کہا کہ پاکستان کی معیشت گذشتہ 8ماہ میں برباد ہوگئی۔ ایک سال میں 30سے 40لاکھ لوگ غربت کی لکیر سے نیچے چلے جائیں گے۔ ماضی کی اور موجودہ حکومتوں کا بڑا چیلنج ملکی معیشت ہے۔ عمران خان معیشت کی خرابی کی ذمہ داری قبول کرلی مگر مسئلے کا حل اور خراب ڈھونڈا کہ پیپلز پارٹی کے سابق وزیر خزانہ کو خزانے کی چابیاں پکڑا دیں۔ہم نے 8ماہ میں حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا۔ پاکستانی معیشت کی بہتری کا کوئی حل وزیر خزانہ عبدالحفیظ کے پاس نہیں۔تباہی کے ذمہ داری عمران خان ہیں ، انکے وزیراعظم ہوتے ہوئے ملک میں مزید تباہی ہوگی، معیشت بچانے کا واحد حل نااہل وزیراعظم کا حکومت سے برطرف ہوجانا ہی ہے۔
مسلم لیگ ق کے سینیٹر کامل علی آغا نے کہا کہ وزیراعظم نے اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے کابینہ میں ردوبدل کیا۔ اپوزیشن کا واویلہ وزیراعظم کے اختیارات ہتھیا کر خود استعمال کرنے کے مطالبے جیسا ہے۔ پچھلے دو ادوار حکومت میں میگا کرپشن کرنے والوں کیخلاف پالیسیاں انہیں ہضم نہیں ہو رہیں۔ ہم ملک سے کرپشن کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ 8ماہ پہلے دیوالیہ ملک کو سنبھالہ دینا اور آئی ایم ایف کیساتھ اپنی شرطوں پر کامیاب مذاکرات تحریک انصاف کی حکومت کی کامیابی ہے ، اسکے مثبت نتائج نظر آئیں گے۔ ن لیگ کی پالیسیوں پر تنقید کرنا کوئی گناہ نہیں۔چوہدری نثار کے حوالے سے میڈیا میں بے معنی خبریں چل رہی ہیں۔ ایسا کرنے والے حکومت کواس زاویے سے حرف تنقید بنانا چاہتے ہیں کہ حکومت کچھ نہیں کر رہی ، فوج کر رہی ہے۔ یہ وہی موقف ہے جو ڈان لیکس کا تھا۔ اپوزیشن کو عوام میں پذیرائی نہیں مل رہی۔ مہنگائی کے مشکل فیصلے کرنے کے باوجود حکومت کو عوام میں پذیرائی مل رہی ہے۔ مہنگائی کے مشکل فیصلے گذشتہ حکومتوں میں کی گئی معاشی بربادی کو سنبھالا دینے کے لیے ضروری تھے۔موجودہ مثبت حکومتی پالیسیوں کیوجہ سے پاکستان کی برآمدات کے نتیجے میں جب ڈالر آنے لگیں گے تو مہنگائی ، بیروزگاری اور تمام مسائل کا خاتمہ ہو جائے گا۔ کوئی نیا سیاسی اتحاد بننا قرین ازقیاس ہے۔ ق لیگ جسکے ساتھ دوستی کرتی ہے اسکے خلاف سازش نہیں کرتی۔ ق لیگ کسی لندن پلان کا قطعی حصہ نہیں۔ لندن پلان بنانے والے کوئی دھماکہ نہیں کر سکیں گے انکا اپنا وجود خطرے میں ہے۔ ن لیگ کی سیاست خاتمے کی جانب ہے، لیگی ممبران ہمارے ساتھ رابطے میں ہیں ا ور صرف وقت کا انتظار کر رہے ہیں، چند ماہ میں ن لیگ اپنے پیروں پر بھی کھڑے ہونے کے قابل نہیں رہے گی۔ حکومت کا ملک سے بیروزگاری اور مہنگائی کا خاتمہ اولین ترجیح ہے۔ مشاورتی عمل تیزی سے بڑھ رہا ہے اور حکومت سے ہمارے تحفظات ختم ہو رہے ہیں۔
دفاعی تجزیہ کار جنرل (ر)امجد شعیب نے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ وزیراعظم کے دورہ ایران سے مشاورتی عمل میں بہتری آئے گی۔ دہشتگردی کیخلاف دونوں ممالک کو مزید ٹھوس اقدامات کرنے ہوں گے۔ پاک ایران تجارت میں رکاوٹ امریکی پابندیاں رہی ہیں، ایران نے گیس پائپ لائن ہمارے بارڈر تک پہنچا دی تھی، مگر بدقسمتی سے ہم اس پراجیکٹ کے لیے فنڈز نہیں لاسکے۔ ایران پاکستان کو بجلی دینے کیساتھ ریفائنری لگانے کو بھی تیار ہے مگر رکاوٹ امریکی پابندیاں ہیں۔مزید نقصان اٹھانے کی بجائے پاکستان کو دوسر اراستہ ڈھونڈنا ہوگا۔ بھارتی وزیراعظم کے پیچھے آر ایس ایس دہشتگرد تنظیم ہے، اسکی سوچ میں دہشتگردی کے علاوہ کچھ نہیں۔ اسکا مقصد صرف پاکستان کو بدنام کرنا ہے، چاہ بہار اور افغانستان سے پاکستان مخالف دہشتگرد کارروائیاں بھارت کروا رہا ہے۔
سابق وزیر خارجہ حنا ربانی کھر کا کہنا تھاکہ وزیراعظم پاکستان بیرون ملک سامعین کو لیکچر دیتے ہوئے جرمنی اور جاپان کو ہمسایہ بتاتے ہوئے دوسری جنگ عظیم میں انکا اختلاف دکھا رہے تھے ۔ عمران خان کو جس معاملے کو نہیں جانتے کم از کم اس پر بات نہ کریں، پاکستان کا مزید مذاق نہ اڑائیں۔ وزیراعظم جب کسی ملک کے صدر کیساتھ بیٹھے ہوئے کہے کہ میرے ملک کی سرزمین آپکے خلاف استعمال ہوئی ہے تو ملک بڑی عالمی پابندی کا شکار بن سکتا ہے۔ اس بیان کو پاکستان پر الزامات لگانے کے لےے اقتباس کے طور پراستعمال کیا جائے گا۔ عمران خان اور انکی ٹیم کو ٹریننگ دینے کی ضرورت ہے،یہ یو ٹرن کی حکومت ہے ۔اسد عمر کو عہدے سے ہٹا کر اپنے خلاف چارج شیٹ کر لی،پاکستان مزید تجربوں کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ اپوزیشن کو کچھ کرنے کی ضرورت نہیں حکومت خود تباہی کی طرف جارہی ہے۔ تاہم پیپلزپارٹی حکومت کی تباہی نہیں چاہتی کیونکہ انکی تباہی میں ملک کی تباہی ہے۔

ادویات مہنگی کرپشن الزامات ،عامر کیانی کیخلاف نیب کی تحقیقات ،عمران خان کا بر طر فی کا فیصلہ درست ثابت :معروف صحافی ضیا شاہد کی چینل ۵ کے پروگرام ” ضیا شاہد کے ساتھ “ میں گفتگو

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں و تبصروں پرمشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ پارلیمانی جمہوریت میں اس قسم کے واقعات ہوتے رہتے ہیں بالعموم ایشوز، مختلف مسائل کے سلسلے میں ذاتی حملے زیادہ تناﺅ پیدا کرتےے ہیں۔ آج بھی بغور جائزہ لیں کہ زیادہ تکلیف دہ صورتحال اس وقت پیش آئی جب دونوں فریقین نے ایک دوسرے پر ذاتی الزامات لگائے۔ جب بلاول بھٹو کے بارے میں کہا گیا کہ انہوں نے تو کرپشن کے پیسوں سے پڑھائی کی ہے تو اس کے جواب میں حنا ربانی کھر نے یہاں تک کہا کہ وزیراعظم نے بے عزتی کر دی ہے حالانکہ ان کی زبان پھسلنے سے جاپان اورجرمنی نکل گیا تھا لیکن اس کو یہ بنا کر پیش کیا گیا کہ پاکستان کی توہین ہوئی ہے کہ انہوں نے غلط جغرافیہ بول دیا کہ جرمنی اورجاپان کے درمیان جنگ ہوئی۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ جب دونوں طرف سے داتی حملے ہوں گے تو پھر ایسی صورتحال پیش آئے گی لیکن پارلیمانی جمہوریت میں اس قسم کی باتیں ہوتی رہتی ہیں۔ یہ انگلینڈ میں بھی اور دوسرے ملکوں میں بھی جہاں پارلیمانی جمہوریت ہے وہاں اس کی ناخوشگوار باتیں ہوتی رہتی ہیں۔ عوامی مسائل پر تو بات ہوتی نہیں قومی اسمبلی میں توہمیشہ ایک دوسرے کے گریبان پکڑے جاتے ہیں۔ بہرحال عوام کے مسائل بارے بہت کم بات ہوتی ہے اور مہنگائی بیروزگاری ہے منی لانڈرنگ کے سلسلے میں سست رفتاری ہے مقدمات کی کوئی بھی ایشو ایسا ہے جو قومی اسمبلی میں زیر بحث آتا ہو۔ یہی صورتحال تکلیف دہ ہے اگر تو معاملات پر ایشوز پر بات ہو گی تو پھر تو اس کا نتیجہ بھی نکلے گا اگر ذاتی حملوں تک بات محدود رہے گی اور ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچی جائے گی اور دوسرے کی پتلون اتاری جائے گی کہ صورتحال یہی ہو گی۔ کابینہ کے اجلاس کے حوالہ سے بات کرتے ہوئے صیا شاہد نے کہا کہ وزیراعظم نے ایوان کے دورے کے بارے میں لوگوں کو بریف کیا اور کابینہ نے وزیراعظم کی کوششوں کو سراہا۔ میں سمجھتا ہوں کہ دورہ کے دوران وزیر اعظم کی مثبت کوششیں یہ یہ تھیں کہ دونوں ملکوں نے مشترکہ بارڈر فورس بنانے پر اتفاق اور دہشت گردی کے خلاف مشترکہ فوجی دستے بنانے پر اتفاق کیا گیا۔اسی طرح ایک نمایاں بات یہ تھی۔ یہ صرف روزنامہ خبریں نے آج ایک خبر چھاپی تھی کہ یہ جو پچھلے وزیر عامر کیانی تھے جنہوں نے دواﺅں کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ ہونے دیا اور بڑا سکینڈل بھی پھیلا ہوا ہے تو ہماری خبریں کی خبر پر نوٹس لے لیا نیب نے اور نیب کے سربراہ نے عامر کیانی کو نوٹس دے دیا ہے اس سلسلے میں فردس عاشق اعوان نے بہت اچھے طریقے سے بریفنگ دی ہے مجھے حیرت ہے۔ کل اور پرسوں بھی اور آج کی بریفنگ میں بھی فورا ہی کٹ کر دیا گیا مختلف چینلز پر حالانکہ وہ اچھی اور مفید باتیں کر رہی تھیں اور ان کا جو گفتگو کا جو طریقہ تھا جو استدلال پر مبنی تھی اور انہوں نے ایک لفظ بھی فالتو استعمال کیا نہ کوئی لوز ٹاک کی نہ کسی کو بُرا بھلا کہا بلکہ مثبت طریقے سے جو کچھ کابینہ میں ہوا ہے اس کو بیان کر دیا۔ آج بھی انہوں نے یہ کہا ہے کہ ایل این جی گیس کے بارے میں تو خاص طور پر بڑی معلومات افزا ان کی گفتگو تھی اور انہوں نے فگر بتائی ہے کہ کتنے پیسے جو تھے ایل این جی گیس کے ذریعے کمانے کی تجویز تھی اور کب تک یہ فریز کر دیئے ریٹ تھے اور پھر ایک مستقل سلسلہ بنایا گیا تھا کہ کس طرح سے اتنے پیسے کمائے جائیں گے دواﺅں کے سلسلے میں فردوس عاشق اعوان نے یہ بھی کہا کہ جو دوائیں زیادہ قیمتوں پر فروخت کی گئی ہیں ان سے پیسے واپس لئے جائیں گے جو ناجائز منافع خوری کے ہیں اور تھیلے سیمیا اور دوسرے ٹائیفائیڈ وغیرہ جو ایسی بیماریاں جن کے بہت برے پیمانے پر جو ملک میں پھیلی ہوئی ہیں ان کے لئے بڑے اخراجات کی ضرورت ہوتی ہے ان پر خرچ کئے جائیں گے۔ یہ ایک اچھی چیز تھی کہ ایک نہ صرف ان دوا ساز اداروں سے ہے واپس لئے جائیں گے بلکہ اس پیسوں کو استعمال کیا جائے ایسے مریضوں پر جن کو مالی مشکلات درپیش ہوں، عامر کیانی کے اس بیان پر کہ دواﺅں کی قیمتوں میں اضافے کا سبب ن لیگ کابینہ ہے اور ڈالر کی قیمت میں اضافہ ہے، اس پر ضیا شاہد نے کہا کہ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ڈالر کے ریٹ کی وجہ سے دواﺅں کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے لیکن یہ صرف یہی ایک ونہ نہیں ہے بہر حال دواﺅں کی قیمتوں میں 100 سے تین سو فیصد تک اضافہ ہوا ہے۔ عامر کیانی کی وزارت منہ دیکھتے رہ گئی اور دوا ساز اداروں نے فارماسیوٹیکل کمپنیوں نے پیسے کمائے۔ عامر کیانی دمہ دار ہیں اور اب ان کو اپنی وضاحت دینا پڑے گی۔ نیب نے انہیں بلا لیا ہے اور نیب سے آسانی سے جان نہیں چھوٹے گی۔ عمران خان صاحب نے ٹھیک کا کہ اپنی ٹیم میں تبدیلی کی اور اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ نیب کی طرف سے طلبی کی وجہ سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ اگر کوئی وزیر جو ہے وہ خاموشی کی اختیار کرے گا اس کو چھوڑا نہیں جائے گا۔ دوا ساز کمپنیوں سے پیسے واپس لے کر بیت المال میں جمع کرانا بہت بڑا انقلابی قدم ہو گا۔ بلاول بھٹو کی طرف سے عمران خان کو پارلیمنٹ کا گھوسٹ ملازم قرار دینے بارے ضیا شاہد نے کہا کہ بلاول بھٹو صاحب کافی تلخ گفتگو کر رہے ہیں اور اس کی بنیادی وجہ ان کے والد آصف زرداری کے بارے میں نیب اور عدالتوں کا گھیرا تنگ ہوتا جا رہا ہے اور جوں جوں ان کی گرفتاری کے چانسز پیدا ہو رہے ہیں تو توں بلاول بھٹو کا لہجہ سخت ہوتے جا رہا ہے۔ اب تک صورتحال یہی ہے کہ بلاول بھٹو وہ صوبہ سندھ کی حکومت کی کارکردگی کے سلسلے میں مکمل طور پر خاموش ہیں اوربڑے بڑے پبلک ایشوز پر ایک جملہ تک ادا نہیں کرتے اور محسوس یہ ہوتا ہے کہ سندھ میں سب اچھا ہے۔بلاول بھٹو کو اگر اپنی سیاست عزیز ہے تو سیاست عوامی احساسات کے ادراک سے چلتی ہے اگر وہ عوامی احساسات کو تسلیم نہیں کریں گے اور اس کا جائزہ لیں گے تو وہ کبھی بھی اچھے سیاست دان نہیں بن سکتے۔ ان کی سیاست خاندانی سیاست تک محدود رہے گی۔بچی نشو کیس میں ہسپتال کو معمولی جرمانہ کیا گیا، لڑکی عصمت جسے زیادتی کے بعد قتل کر دیا گیا بارے بھی کوئی پیش رفت سامنے نہیں آ رہی، بلاول بھٹو کو ان ایشوز پر بات کرنی چاہئے اور سخت ایکشن لینا چاہئے۔
عرصہ سے منی لانڈرنگ کے بڑے بڑے کیسز سامنے آ رہے ہیں اربوں روپے کی ٹرانزیکشنز سامنے آ رہی ہیں جعلی اکاﺅنٹس جن کے ذریعے منی لانڈرنگ کی جاتی رہی یہ سب کچھ بنک منیجروں کی معاونت اور تائید کے بغیر ممکن نہیں تھا لیکن آج تک کسی ایک منیجر کو بھی نہیں پکڑا گیا۔ کسی بھی ایک منیجر کو ایک دن تھانے میں رکھا جائے تو یہ بات اگل دے گا۔ وائٹ کالر جرائم کرنے والا طبقہ پکر میں نہیں آ رہا۔ اب لاہور کے معمولی ملازم کا کیس سامنے آیا ہے جس کے اکاﺅنٹ میں 50 لاکھ روپے ڈالے گئے اس اکاﺅنٹ کو کھولنے والے کو کیوں نہیں پکڑا جا رہا۔
پولیو مہم کے خلاف کے پی کے میں سب سے زیادہ مخالفت کی جاتی ہے اس بارے پروپیگنڈا کیا جاتا ہے ماضی میں قطرے پلانے والی ٹیموں پر حملے کئے جاتے رہے پشاور میں ایک شخص نے جعلی ویڈیو تیار کر کے بچوں کو بستر پر لٹا کر بیمار ظاہر کیا اور اسے وائرل کر دیا جس کے بعد ہنگامے مظاہرے شروع ہو گئے، عوام بچوں کو لے کر ہسپتال میں پہنچ گئے اس واقعہ کو معمولی نہیں سمجھنا چاہئے اور اس شخص کو سخت سزا دینی چاہئے۔
وفاقی کابینہ کے اجلاس میں 3 چیزیں اہم تھیں، وزیراعظم نے دورہ ایران بارے کابینہ کو اعتماد میں لیا، ادویات کی قیمتوں میں اضافہ کرنے والوں سے پیسے واپس لینے اور انن پیسوں کو سنگین بیماریوں کے سدباب کے لئے خرچ کرنے پر بات ہوئی، ایل این جی سکینڈل کے موضوع پر بات ہوئی۔ شیخ رشید نے ایل این جی سکینڈل بارے جو دعویٰ کیا تھا وہ سچ بن کر سامنے آ رہا ہے نیب نے شاہد خاقان سے سوالات کے جواب مانگ لئے ہیں۔ یہ بات سامنے آئی ہے کہ بھارت کے مقابلہ میں ایل این جی زیادہ نرخ پر خریدی گئی جس سے بعض لوگوں نے اربوں روپے کمائے اور آئندہ برسوں تک یہی پروگرام تھا۔
نقیب اللہ جیسے جعلی پولیس مقابلوں کا بھی آصف زرداری اور بلاول کو جواب دینا چاہئے کیونکہ سندھ میں بہت سے معاملات ایسے ہیں جن کا اس خاندان سے تعلق ہے۔

عمران خان اپنے تمام فیصلے خود کرتے ہیں جہاں ضرورت محسوس ہو تبدیلی کر دیتے ہیں-صمصام بخاری

لاہور(صدف نعیم )زیر اعظم نے عثمان بزدار کو میرٹ پر پنجاب کا وزیر اعلی مقرر کیا ہے انہیں ہٹانے کی تمام باتیں محض افواہیں ہیںپنجاب میں وزارت اعلی کیلئے دوڑ کا کوئی وجود نہیں اور نہ ہی کوئی ایم پی اے وزارت اعلیٰ کا امیدوار ہے۔میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے صوبائی وزیر اطلاعات و ثقافت سید صمصام علی بخاری نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان اپنے تمام فیصلے خود کرتے ہیں ملکی معاملات صحیح نہج پر چلانے کے لئے وزیراعظم جہاں تبدیلی کی ضرورت محسوس کرتے ہیں تبدیلی کر دیتے ہیں، صمصام بخاری نے کہا کہ وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار کا پنجاب کی تمام انتظامی مشینری پر مکمل کنٹرول ہے پنجاب کے لوگ ان سے محبت کرتے ہیں ایک سوال کے جواب میں صوبائی وزیر نے کہا کہ پنجاب میں وزارت اعلی کیلئے دوڑ کا کوئی وجو نہیں اور نہ ہی کوئی ایم پی اے وزارت اعلیٰ کا امیدوار ہے۔ انہوں نے کہا کہ گورنر پنجاب کے حوالے سے بھی گمراہ کن افواہیں پھیلائی جا رہی ہیں انہوں نے کہا کہ وزیر اعلی پنجاب کی اب تک کی کارکردگی شاندار ہے وہ سکولوں ہسپتالوں اور پولیس سٹیشن کے دورے کر رہے ہیں اور سسٹم کو درست کرنے کی بھرپور سعی کر رہے ہیں وزیر اعلی پنجاب کی قیادت میں پنجاب میں مختصر عرصے میں نئے بلدیاتی نظام سمیت 22 بل اسمبلی سے پاس کروائے گئے ہیں جو ہماری پارٹی کی اعلی کارکردگی کا ثبوت ہے۔

بیرون ملک مقیم پاکستانی ہمارا اثاثہ ہیں ،سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الٰہی کی اسپین (بارسلونا )میں تعینات پاکستان کے قونصل جنرل علی عمران چوہدری سے ملاقات کے موقع پر گفتگو۔

لاہور(صدف نعیم سے)سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الٰہی سے اسپین (بارسلونا )میں تعینات پاکستان کے قونصل جنرل علی عمران چوہدری نے سپیکر چیمبر میں ملاقات کی۔ ملاقات میں حمید اللہ بھٹی، ملک طاہر محمود، شہزاد احمد خان، عابد گیلانی اورصوبائی وزیر حافظ عماریاسر بھی شریک تھے۔ ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے سپیکر چودھری پرویز الٰہی نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی ہمارا اثاثہ ہیں اور پاکستان کی تعمیر و ترقی میں ان کا کردار ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اورسیز پاکستانیوں کو سہولیات فراہم کرنا ہماری اولین ترجیحات میں شامل ہونا چاہئے۔ اسپین (بارسلونا )میں تعینات پاکستان کے قو نصل جنرل علی عمران چوہدری نے سپیکر کو بتایا کہ اسپین میں مقیم پاکستانی دن رات پاکستان کی تعمیر نو کے لیے محنت کر رہے ہیں۔

سابق سی ایم پنجاب ملزم شہباز شریف، ملزم سلمان شہباز اور ملزم حمزہ شہباز کیخلاف جاری آمدن سے زائد اثاثہ جات اور مبینہ منی لانڈرنگ کیس میں کلیدی پیش رفت: نیب لاہور

لاہور(صدف نعیم سے)سابق سی ایم پنجاب ملزم شہباز شریف، ملزم سلمان شہباز اور ملزم حمزہ شہباز کیخلاف جاری آمدن سے زائد اثاثہ جات اور مبینہ منی لانڈرنگ کیس میں کلیدی پیش رفت ،شریف فیملی کیلئے مبینہ منی لانڈرنگ کے الزام میں پانچواں ملزم آفتاب محمود گرفتار، ملزم آفتاب محمود کی گرفتاری نیب لاہور کے زیر حراست ملزم شاہد رفیق سے جاری تحقیقات میں ہونیوالے انکشافات پر عمل میں لائی گئی دونوں ملزمان آپس میں کزن ہیں جبکہ باہمی رضامندی سے کروڑوں روپے غیرقانونی طور پر شریف فیملی کے اکاﺅنٹس میں منتقل کرتے رہے، نیب لاہور حکام کی جانب سے ملزم شاہد شفیق کو دو روز قبل گرفتار کیا گیا جس سے جاری تحقیقات میں اہم پیش رفت اور شواہد حاصل ہوئے ہیں،ملزم آفتاب محمود “عثمان انٹرنیشنل”نامی فارن کرنسی ایکسچینج بیک وقت لندن اور برمنگھم سے آپریٹ کرتا رہا تاہم غیرقانونی طور پر حمزہ شہباز، سلمان شہباز و دیگر کے اکاﺅنٹس میں بوگس ٹی ٹی لگاتا رہا،پہلے سے گرفتار ملزمان میں فضل داد، قاسم قیوم، محمد مشتاق اور ملزم شاہد رفیق شامل ہیں،نیب لاہور کی ٹیمیں دوران تحقیقات تاحال شہباز شریف فیملی کیخلاف کم وبیش 3 ارب کی مبینہ منی لانڈرنگ کے شواہد حاصل کرچکی ہیں،تحقیقات کو مزید آگے بڑھانے کیلئے گرفتار ملزم آفتاب محمود کو کل احتساب عدالت کے روبرو پیش کیاجائیگا،نیب حکام ملزم آفتاب محمود کے 15 روزہ جسمانی ریمانڈ کے حصول کی استدعا کرینگے۔

ماڈل ہاﺅسنگ کیس میں نیب کی کاروائی، اہم ملزم گرفتار

لاہور ( صدف نعیم )نیب نے ماڈل ہاﺅسنگ کیس میں اہم ملزم ڈاکٹر منظر کو گرفتار کر لیا۔ملزم ڈاکٹر منظر کو حفاظتی ضمانت خارج ہونے پر گرفتار کیا گیا ۔ پراپرٹی ڈیلر ڈاکٹر منظر ماڈل ہاﺅسنگ کیس کے اہم ملزم فرحان چیمہ کا ساتھی ہے۔ ڈاکٹر منظر کو جسمانی ریمانڈ کے حصول کے لئے احتساب عدالت میں پیش کر دیا گیا۔ ملزم ڈاکٹر منظر پر دھوکہ دہی کے ذریعے کروڑوں روپے لوٹنے کا الزام ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کا چیچہ وطنی کے نواحی گاﺅں کماند میں گندم کٹائی مہم سے خطاب

لاہور ( صدف نعیم ) محض شو بازیاں کرنے سے کوئی خادم اعلیٰ نہیں بن سکتا۔اعلان کرنے سے نہیں ،عوام کی فلاح و بہبود کے کام کرنے سے ہی خادم اعلیٰ بنا جاتا ہے۔ماضی میں شو بازیاں ہوتی رہیں اور جعلی کام کئے گئے۔ہمیں شو بازیاں آتی ہیں نہ جعلی کام، صرف عوام کی خدمت کرتے ہیں۔جو افسر عوام کی خدمت کرے گا، اسے شاباش دوں گا۔جو افسر عوام کی خدمت نہیں کرے گا وہ ہماری ٹیم میں نہیں رہے گا۔برسوں سے پھیلی ہوئی خرابیاں ٹھیک کریں گے۔حکومت کسانوں سے کئے گئے وعدے پورے کرے گی۔پنجاب حکومت ایگریکلچر کریڈٹ کارڈ شروع کرے گی۔پنجاب میں نہری پانی کے مسئلے کو مکمل طور پر حل کیا جائے گا۔کسانوں کو پانی کی فراہمی کیلئے زیادہ فنڈز دیئے جا رہے ہیں۔بجٹ میں آبپاشی کیلئے 9 فیصد زیادہ فنڈز مختص کئے جا رہے ہیں۔ صوبائی اسمبلی میں لوکل گورنمنٹ ایکٹ پیش کر دیا گیا ہے۔بھر میں 22 ہزار سے زائد پنچائتیں قائم کریں گے۔گندم خریداری کیلئے 130 ارب روپے کے فنڈز مختص کئے گئے ہیں۔ گندم کا دانہ دانہ خریدیں گے۔سرکاشتکار کی سہولت کیلئے گندم خریداری کا ٹارگٹ بڑھانا پڑا تو بڑھائیں گے۔صوبہ بھر میں بتدریج انصاف صحت کارڈ سکیم لائی جا رہی ہے ۔انصاف صحت کارڈ سکیم تیسرے فیزمیں ساہیوال بھی شامل ہوگا۔ہنگائی کنٹرول کرنے کیلئے پرائس کنٹرول کمیٹیوں کو متحرک کیا جا چکا ہے ۔ رمضان المبارک میں عوام کی سہولت کیلئے رمضان پیکیج دے رہے ہیں۔

گلوکارہ بیونسے کا3پراجیکٹس پر مبنی 60 ملین ڈالر کا معاہدہ

لاس اینجلس (شوبزڈیسک) امریکی میڈیا سروس کمپنی نیٹ فلیکس نے گلوکارہ بیونسے کے ساتھ تین پراجیکٹس پر مبنی60 ملین ڈالر کا معاہدہ طے کر لیا۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق نیٹ فلیکس نے حال ہی میں گلوکارہ بیونسے کی 2018ءمیں کوچیلا میں پرفارمنس پر ایک دستاویزی فلم ”ہوم کمنگ“ بنائی جس کا پریمئر 17اپریل کو دکھایا گیا، اور اب وہ دو اور پراجیکٹس بھی بیونسے کے ساتھ کام کریں گے جس کے لئے انہوں نے 60 ملین ڈالر کا معاہدہ کیا ہے۔یاد رہے کہ بیونسے بین الاقوامی گلوکارہ کے طور پر پوری دنیا میں جانی اور مانی جاتی ہیں اور ان کے فینز کی تعداد بھی کروڑوں میں ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ سب کچھ انہوں نے مسلسل محنت سے حاصل کیا ہے۔

فلم‘ ٹی وی ‘کمرشلز میں کام کرنیوالے مستقبل کے سپر سٹار ہیں :سوہائے علی ابڑو

لاہور(شوبڈیسک ) اداکارہ وماڈل سوہائے علی آبڑو نے کہا ہے کہ ہالی وڈ جیسی فلم نگری میں بھی پاکستانی فنکاربہت کچھ کرسکتے ہیں۔ میڈیاسے گفتگو کرتے ہوئے سوہائے علی آبڑونے کہا کہ پا کستا ن میں باصلاحیت نوجوا نوں کو اگربہترانداز سے ٹی وی، فلم اورکمرشلزمیں متعارف کروایا جائے تویہی مستقبل میں سپر سٹاربن کرسامنے آئینگے۔ مگر ہمارے ہاں ایسا نہیں کیا جاتا۔ بہت سا ٹیلنٹ صرف چانس نہ ملنے کی وجہ سے ضائع ہوجاتا ہے۔سوہائے علی آبڑو نے کہا کہ ایسی صورتحال میں مجھے لگتا ہے کہ ہمارے معروف فنکاروں، گلوکاروں، ماڈلز، رقاص اورتکنیک کاروں کو کچھ نئے انداز سے کام کرنے کی ضرورت ہے۔ انھیں اپنے ساتھ ساتھ نوجوانوں کوبھی تیارکرنا ہوگا۔ انہیں ٹیم کا حصہ بنانا چاہیے جوواقعی پروفیشن کیلئے فائدہ مند ہوسکتے ہیں۔ گزشتہ برسوں میں جس طرح پاکستانی فنکاروں اورگلوکاروں نے بھارت میں اپنانام اورمقام بنایا ، اسی طرح ہالی وڈ میں بھی بہت کچھ کرسکتے ہیں۔