اسلام آباد(این این آئی)پاکستان مسلم لیگ (ن)کے قائد ¾سابق وزیراعظم نوازشریف کی جانب سے العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس میں سزا معطلی کےلئے دائر درخواست کو سماعت کے لیے مقرر کردیا گیا۔ ہفتہ کو سابق وزیراعظم نوازشریف کے وکلا کی جانب سے العزیزیہ ریفرنس میں سزا معطل کرنے اور ضمانت پر رہائی کےلئے درخواست کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے اعتراضات دور کرکے دوبارہ دائر کیا جسے سماعت کےلئے منظور کرلیا گیا اور اسلام آباد ہائیکورٹ نے سابق وزیراعظم کی درخواست کو پیر 7 جنوری کو سماعت کے لیے مقرر کردیا ۔چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس عامر فاروق پر مشتمل 2 رکنی ڈویژن بینچ سابق وزیراعظم کی درخواست پر سماعت کرے گا۔واضح رہے کہ سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کو احتساب عدالت نے 24 دسمبر کو العزیزیہ ریفرنس میں 7 سال قید اور جرمانے کی سزا سنائی تھی جبکہ فلیگ شپ ریفرنس میں انہیں بری کردیا گیا تھا۔سابق وزیراعظم کی جانب سے احتساب عدالت کے فیصلے کے خلاف یکم جنوری کو اپیل دائر کی گئی تھی جس میں سزا کی معطلی اور ضمانت پر رہائی کی اپیل کی گئی تھی تاہم اسلام آباد ہائیکورٹ کے رجسٹرار نے درخواست کو نامکمل قرار دے کر واپس کردیا تھا۔نواز شریف کے وکلاءنے 3 جنوری کو درخواست کو مکمل کرکے ایک بار پھر دائر کیا تاہم رجسٹرار نے گذشتہ روز دوسری بار سابق وزیراعظم کی اپیل پر اعتراض لگا کر اسے واپس کردیا تھا۔نواز شریف کے وکیل منور اقبال دگل نے درخواست پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات دور کرکے اسے دوبارہ دائر کیا۔درخواست میں استدعا کی گئی کہ اپیل پر فیصلے تک احتساب عدالت کی جانب سے سنائی گئی سزا معطل کی جائے اور نواز شریف کی ضمانت پر رہائی کے احکامات جاری کیے جائیں۔واضح رہے کہ سابق وزیراعظم کو پاناما کیس کے فیصلے کی روشنی میں دائر ایون فیلڈ ریفرنس میں بھی 11 سال کی سزا سنائی گئی جس میں ان کی صاحبزادی مریم نواز اور داماد محمد صفدر بھی سزا پاچکے ہیں تاہم اسلام آباد ہائیکورٹ نے تینوں کی سزا معطل کرکے ان کی ضمانت پر رہائی کا حکم دے دیا تھا۔
Monthly Archives: January 2019
نیب کو جیل میں تفتیش کی اجازت مل گئی
لاہور (خبر نگار) احتساب عدالت نے قومی احتساب بیورو (نیب )کو قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف و سابق وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف سے جیل میں تفتیش کرنے کی اجازت دے دی، نیب آمدن سے زائد اثاثوں پر سابق وزیر اعلیٰ سے تحقیقات کرے گا۔ نیب نے آمدن سے زائد اثاثوں کے کیس میں سابق وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف سے جیل میں تفتیش کے لیے درخواست دی تھی۔احتساب عدالت کے جج نجم الحسن نے درخواست منطور کرتے ہوئے نیب کو تفتیش کی اجازت دے دی۔ نیب نے موقف اپنایا کہ شہباز شریف کے اثاثے ذرائع آمدن سے مطابقت نہیں رکھتے اور اسی معاملے پر شہباز شریف، حمزہ شہباز اور سلمان شہباز کیخلاف تحقیقات بھی کر رہا ہے۔نیب کا دعویٰ ہے کہ شہباز شریف کے اثاثوں کی تفصیلات حاصل کر لیں ہیں، موصول ریکارڈ میں 1997ءسے 2004ءتک کے تمام اکاﺅنٹس کی تفصیل شامل ہے جبکہ نیب کو 2007ءسے 2018ءتک کے اکاﺅنٹس اور جائیداد کا ریکارڈ بھی مل چکا ہے۔ریکارڈ میں شہباز شریف کی ظاہر کردہ جائیداد، اکاﺅنٹس اور زیر استعمال گاڑیوں کی تفصیلات شامل ہیں۔ شہباز شریف کیخلاف آمدن سے زائد اثاثوں کی انکوائری 28اکتوبر 2018ءسے چل رہی ہے۔
بھارت کی کسی بھی مہم جوئی کا بھر پور جواب دینگے : میجر جنرل آصف غفور
راولپنڈی (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف عفور نے کہا ہے کہ پاک فوج کنٹرول لائن پر بھارت کے کسی بھی مس ایڈونچر کا بھر پور جواب دینے کے لئے تیار ہے، پاکستانی افواج کے ہمہ وقت تیار رہنے کی وجہ کوئی جھوٹا بھارتی دعویٰ یا بیان بازی نہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق انہوں نے کہا کہ بھارت سے خطرہ مستقل ہے، پیشہ وارانہ فوج کی حیثیت سے ان کے لئے ہمیشہ تیار رہتے ہیں۔ میجر جنرل آصف عفور نے کہا کہ بھارت پر نظر آنے والے جنگی جنون کا سبب اندرونی سیاسی صورتحال ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں ملکوں کے ڈی جی ایم اوز کا ہفتہ وار ہاٹ لائن رابطہ اور فلیگ میٹنگز معمول کے مطابق ہو رہی ہیں۔ گزشتہ دنوں بھارت کے 2 جاسوس ڈرون لائن آف کنٹرول پر پاک فوج نے مار گرائے تھے۔
جعلی اکاﺅنٹس کیس، زرداری ، فریال تالپور کے اثاثے منجمد کرنیکی سفارش
اسلام آباد، (مانیٹرنگ ڈیسک، وائس آف ایشیا) جعلی اکاو¿نٹ کیس کی تحقیقات کرنے والی جے آئی ٹی نے پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری اور ان کی ہمشیرہ فریال تالپور کے اثاثے منجمد کرنے کی سفارش کردی۔جعلی اکاو¿نٹ اور منی لانڈرنگ کیس میں جے آئی ٹی نے سپریم کورٹ میں نئی سفارشات جمع کرواتے ہوئے آصف زرداری، فریال تالپور، اومنی گروپ اور زرداری گروپ کے اثاثے منجمد کرنے کی سفارش کردی۔ جے آئی ٹی نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ زرداری اور اومنی گروپس نے غیر قانونی اثاثے بنائے، سرکاری فنڈز میں بے ضابطگیاں کیں اور کمیشن لیا۔جے آئی ٹی کے مطابق دونوں گروپس نے غیر قانونی پیسہ حوالہ اور ہنڈی کے ذریعے بیرون ملک منتقل کیا جس کے شواہد موجود ہیں، لہذا عدالت سے استدعا کی جاتی ہے کہ دونوں گروپس اور ان کی ماتحت مختلف کمپنیوں کے اثاثے منجمد کردیے جائیں۔ جے آئی ٹی نے خدشہ ظاہر کیا کہ ان اثاثوں کے بیرون ملک منتقل ہونے کا خدشہ ہے، اس لیے احتساب عدالت کے فیصلے تک ان اثاثوں کو منجمد رکھا جائے۔جے آئی ٹی نے عدالت سے درخواست کی کہ سکیورٹیز اینڈ ایکس چینج کمیشن (ایس ای سی پی) کو زرداری اور اومنی گروپ کے ڈائریکٹرز کی تبدیلی روکنے کا حکم بھی دیا جائے۔ جے آئی ٹی نے جن املاک کو منجمد کرنے کی سفارش کی ہے ان میں آصف زرداری، فریال تالپور اور زرداری گروپ کی تمام شہری و زرعی اراضی، نیویارک اور دبئی کی جائیدادیں، کراچی اور لاہور کے بلاول ہاو¿سز، زرداری ہاو¿س اسلام آباد، اومنی گروپ کی تمام شوگر ملز، زرعی و توانائی کمپنیز سمیت تمام اثاثے شامل ہیں۔ یاد رہے کہ جے آئی ٹی سربراہ نے 20 دسمبر کو جعلی بینک اکاو¿نٹس کیس کی حتمی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کروائی تھی۔ پاکستان کی اعلی ترین عدالت سپریم کورٹ نے جعلی اکاونٹس کیس کا عبوری فیصلہ جاری کیا تھا۔ پاکستان کی اعلی ترین عدالت سپریم کورٹ نے جعلی اکاونٹس کیس کے سلسلے میں جے آئی ٹی رپورٹ میں موجود تمام بینک اکاونٹس منجمد کرنے اور جائیدادوں کی خرید و فروخت پر پابندی کا حکم جاری کیا تھا۔سپریم کورٹ نے جعلی اکاونٹس کیس میں ذکر کیے جانے والے تمام بینک اکاونٹس کی نگرانی کرنے کا حکم بھی جاری کیا۔ جبکہ سپریم کورٹ نے بحریہ ٹاون کی کئی جائیدادوں کی خرید و فروخت اور منتقلی پر بھی پابندی عائد کردی۔دوسری جانب حکومت نے جعلی اکاونٹس کیس کے سلسلے میں بڑا ایکشن لے لیا تھا۔ وفاقی حکومت نے جعلی اکاونٹس کیس کی جے آئی ٹی میں شامل 172 افراد کے نام ای سی ایل میں ڈال دیے۔جن افراد کے نام ای سی ایل میں شامل کیے گئے ہیں، ان میں سابق صدر مملکت آصف زرداری، چئیرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری، سربراہ بحریہ ٹاون ملک ریاض، وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ اور دیگر شامل تھے۔
خبریں ، چینل ۵ کی خبر پر ایکشن ، قبضہ مافیا طیفی بٹ کی سپریم کورٹ پیشی ، اراضی عدالتی تحویل میں لینے کا حکم
لاہور (کورٹ رپورٹر)خبریں کے خبر پر چیف جسٹس پاکستان نے ایکشن نے لے لیا ۔خبریں اور چینل 5میں خبر نشر ہونے پر قبضہ مافیا کے خلاف سپریم کورٹ نے گھیراا تنگ کر دیا ۔ خبرنشر کرنے اور غریب کی آواز اعلی عدلیہ تک پہنچانے پر متاثرین نے فون کرکے خبریں کا شکریہ ادا کیا۔ متاثرین کے خبر سب سے پہلے خبریں نے نشر کی جس پر چیف جسٹس پاکستان نے قبضہ مافیا طیفی بٹ کے زیر قبضہ اراضی کو عدالتی تحویل میں لےنے کا حکم دے دیا۔عدالت نے طیفی بٹ اور زمین کی ملکیت کے دعویدارون کے پاس موجود دستاویزات کا فرانزک کرانے کی ہدائت کر دی۔ چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں بنچ نے سماعت کی ، دوران سماعت عدالت نے عدالتی آداب کو ملحوظ خاطر نہ رکھنے پر طیفی بٹ کے بیٹے کی سخت سرزنش کر دی،عدالت نے طیفی بٹ کے بیٹے کو فوری طور پر روسٹرم سے ہٹا دیا۔چیف جسٹس نے طیفی بٹ سے استفسار کیا کہ کیا نام ہے تمہارا؟طیفی بٹ نے جواب دیا کہ تعریف بٹ۔چیف جسٹس نے استفسار کیاکہ طیفی بٹ نام والدہ نے رکھا یا لوگوں نے؟طیفی بٹ نے جواب دیا کہ یہ نام لوگوں نے رکھاہے، چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ پاکستان میں کسی کے قبضے نہیں چلیں گے۔ ایس پی معاز نے عدالت کو آگاہ کیاکہ کاغذات سے طیفی بٹ اور درخواست گزار کی ملکیت واضح نہیںہے جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ دستاویزات کا فرانزک سائنسن لیبارٹری سے فرانزک کرا لیتے ہے۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ یہ کون ہے طیفی بٹ؟ایس پی سٹی معاذ ظفر نے بتایا کہ طیفی بٹ نے اندرون شہر 3 کنال اراضی پر قبضہ کر رکھا ہے ، طیفی بٹ نے حمیرابٹ پر بہت ظلم کیا ہے۔چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ آپ سوئے ہیں؟کیوں نہیں پکڑا ،یہاں کوئی بدمعاشی نہیں چلے گی۔ چیف جسٹس نے دوران سماعت بولنے پر طیفی بٹ کے ساتھ آئے شہری کو کمرہ عدالت سے نکلنے کا حکم دے دیا۔چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ طیفی بٹ ان کا قبضہ واپس کر دیں ، طیفی بٹ نے جواب دیا کہ جی میرے قبضے مین ان کی کوئی جائیداد نہیں ہے۔عدالت نے دعویداروں کے پاس موجود دستاویزات کا فرنزاک کرانے کا حکم دے دیا۔
عارضی پناہ گاہ کا اچانک دورہ ، زیر تعمیر عمارت کو جلد مکمل کیا جائے، نیکی کے کام میں تاخیر نہیں ہونی چاہیے : عثمان بزدار
لاہور (خبرنگار) وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے بغیر پروٹوکول ریلوے سٹیشن کے قریب عارضی پناہ گاہ کا اچانک دورہ کیا۔ وزیراعلیٰ بغیر اطلاع کے عارضی پناہ گاہ پہنچے۔ وزیراعلیٰ نے عارضی پناہ گاہ میں مقیم افراد سے ہاتھ ملایا اور ان سے گفتگو کی۔ عارضی پناہ گاہ میں مقیم افراد نے فراہم کی جانے والی سہولتوں پر اطمینان کا اظہار کیا۔ وزیراعلیٰ نے رجسٹر میں عارضی پناہ گاہ میں مقیم افراد کے کوائف بھی دیکھے۔ عارضی پناہ گاہ میں مقیم افراد نے وزیراعلیٰ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آپ کا یہ اقدام انتہائی احسن ہے۔ ہمیں یہاں کوئی تکلیف نہیں۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ بارش کی صورت میں رہائش کا متبادل انتظام بھی رکھا جائے-وزیراعلیٰ نے زیر تعمیر پناہ گاہ کی عمارت کا بھی معائنہ کرتے ہوئے ہدایت کی کہ زیر تعمیر عمارت کو جلد مکمل کیا جائے-یہ نیکی کاکام ہے اور اس میں تاخیر نہیں ہونی چاہئے۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے رات گئے گورنمنٹ محمد نوازشریف ٹیچنگ ہسپتال یکی گیٹ کا بغیر پروٹوکول اچانک دورہ کیا -وزیراعلیٰ مختلف وارڈز میں گئے اور مریضوں کی عیادت کی۔ مریضوں اور ان کے تیمار داروں نے رات گئے وزیراعلیٰ عثمان بزدار کی ہسپتال آمد پر خوشگوار حیرت کا اظہار کیا -وزیراعلیٰ نے مریضوں سے ہسپتال میں فراہم کی جانے والی طبی سہولتوں اور ادویات کی فراہمی کے بارے میں دریافت کیا- وزیراعلیٰ نے گائنی وارڈ ، ایمرجنسی ،فارمیسی ، سی ٹی سکین سینٹر اور دیگر وارڈز میں جا کر خود طبی سہولتوں کا جائزہ لیا-وزیراعلیٰ نے سی سی ٹی وی کیمروں کے کنٹرول روم کا بھی دورہ کیا -وزیراعلیٰ نے فارمیسی میں ادویات کے سٹاک رجسٹر کو چیک کیا – وزیراعلیٰ نے مریضوں اور ان کے تیمار داروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ اگرآپ کو کوئی مسئلہ ہے تو بتائیں میں حل کروں گا -ہماری حکومت صحت کے شعبہ میں انقلابی اصلاحات لارہی ہے-انہوںنے کہاکہ مریضوں کو ہسپتالوں میں معیاری علاج معالجہ فراہم کریں گے – اس موقع پر مریضوںنے طبی سہولتوں اور ادویات کی فراہمی پر اطمینان کا اظہار کیا۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ ہسپتال میں ڈاکٹروں اور دیگر عملے کی موجودگی دیکھ کر خوشی ہوئی ہے۔ ڈاکٹروں کو مریضوں سے شفقت کے ساتھ پیش آنا چاہئے۔ انہوںنے کہاکہ ڈاکٹر کاایک میٹھا بول مریض کی آدھی بیماری دور کر دیتا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب کی زیرصدارت اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا۔ جس مےں محکمہ کوآپریٹو کی کارکردگی اور دیگر امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس مےں محکمہ کوآپریٹو کو فعال اور متحرک محکمہ بنانے کے لئے فوری اقدامات کا فیصلہ کیا گیا اورمحکمہ کوآپریٹو کے اثاثوں اور جائیدادوں کو لیز پر دینے کیلئے نئی پالیسی تیار کرنے کی منظوری دی گئی جبکہ لیز کے ریٹس پر بھی نظرثانی کا فیصلہ کیا گیاجس کے مطابق لیز کے نرخوں کو مارکیٹ کے موجودہ ریٹ کے مطابق بنایا جائے گا۔ وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ کوآپریٹو کے اثاثوں اور جائیدادوں پر قابض افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے اور قبضے واگزار کرانے کے لئے موثر انداز میں آپریشن شروع کیا جائے -حکومت قبضہ مافیا کے خلاف آپریشن میں محکمہ کوآپریٹو کو مکمل سپورٹ کرے گی۔ وزیراعلیٰ نے کوآپریٹو کے اثاثوں اور جائیدادوں کی فزیکل تصدیق کرانے کی بھی ہدایت کی۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ پنجاب کوآپریٹو بینک کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی تعیناتیوںکا عمل جلد مکمل کیا جائے اور بورڈ آف ڈائریکٹرز کیلئے قواعد و ضوابط کے تحت نامزدگیاں کر کے سمری بھجوائی جائے اورکوآپریٹو بینک کو بینکنگ سیکٹر کے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لئے اقدامات کئے جائیں- وزیر اعلیٰ نے بارانی اضلاع کے لئے ٹریکٹر سکیم کے اجراءکی منظوری دیتے ہوئے ہدایت کی کہ ٹریکٹر سکیم کے اجراءکیلئے مربوط پالیسی مرتب کرکے فوری کام شروع کیا جائے۔ وزیراعلیٰ نے سابق پارلیمینٹیرین اور پیپلز پارٹی کے رہنما ملک حاکمین خان کے انتقال پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے تعزیتی پیغام میں سوگوار اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کی روح کو جوار رحمت میں جگہ دے اور غمزدہ خاندان کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدارنے چنےوٹ مےں خواتےن پر پولےس اہلکاروں کے تشدد کے واقعہ کا نوٹس لےتے ہوئے انسپکٹر جنرل پولےس سے رپورٹ طلب کرلی ہے اور واقعہ کی تحقےقات کا حکم دےتے ہوئے ہداےت کی کہ تشدد کے ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف قانون کے تحت کی جائے ۔وزےراعلیٰ کی ہداےت پر تشدد کرنےوالے اہلکاروں کےخلاف مقدمہ درج کر کے گرفتار کرلےاگےا۔
وزیراعلیٰ پنجاب
پاکستانی نژاد رابعہ کولیر نے امریکہ میں بطور جج حلف اٹھا لیا
واشنگٹن(این این آئی) پاکستانی نژاد امریکی رابعہ کولیر نے ہوسٹن میں اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا۔ رابعہ چھ نومبر کو ریاست ٹیکساس کی 113 سول ڈسٹرکٹ عدالت کی جج منتخب ہوئی تھیں۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق رابعہ کا تعلق ڈیموکریٹ پارٹی سے ہے، جنھوں نے ایک عشرے سے زیادہ مدت تک نچلی سطح پر خاص طور پر خواتین کے لیے نمایاں خدمات انجام دیں اور قومی منظر پر نمودار ہوئیں۔ وہ ٹیکساس اسٹیٹ بار میں خواتین کی پیشہ ور کمیٹی کے لیے بھی خدمات انجام دے چکی ہیں۔چھ نومبر کے انتخابات میں رابعہ کولیر نے اپنے مدِ مقابل ریپبلیکن پارٹی کے امیدوار، مائیکل لینڈرم کو 530516 کے مقابلے میں 645784 ووٹوں سے ہرایا تھا۔ ا±نھیں 54.9 جب کہ ا±ن کے مخالف کو 45.1 فی صد ووٹ پڑے۔اِس سے قبل 2016ءمیں ٹیکساس کی 11ویں ڈسٹرکٹ عدالت کے لیے ڈیموکریٹک رن آف دوڑ کے دوران کرسٹن ہاکنز نے ا±ن سے سبقت حاصل کی تھی۔ کرسٹن کو 59.24، جب کہ رابعہ کولیر کو 40.76 فی صد ووٹ پڑے تھے۔وہ ٹیکساس کی سدرن یونیورسٹی سے ڈاکٹر آف لاءکی ڈگری لینے والی ہونہار اور پچھلے 12 برس سے ہیرس کاو¿نٹی کی نامور وکیل رہی ہیں۔ وہ وکالت کے شعبے میں کئی اعزاز حاصل کر چکی ہیں۔وہ اپنے شوہر، رابرٹ کولیر اور دو بیٹوں کے ساتھ نارتھ ہیوسٹن میں رہتی ہیں۔ وہ ہیرس کاو¿نٹی ڈیموکریٹک لائرز ایسو سی ایشن‘ اور ’ایسو سی ایشن آف وومین اٹارنیزکے بورڈ کی رکن رہ چکی ہیں۔
بابری مسجد کی جگہ رام مندر تعمیر ہوا تو پہلا پتھر خود لگاﺅں گا فاروق عبداللہ کی ہرزہ سرائی
سرینگر(اے این این ) نیشنل کانفرنس کے صدر اور رکن پارلیمان ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے ایودھیا معاملے پر ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کہا کہ دونوں فریقین کو مل بیٹھ کر مسئلے کا حل تلا ش کرنا چاہیے تاہم انہوں نے صاف کردیا کہ اگر ایودھیا کی زمین پر بابری مسجد کی رام مندر تعمیر ہوتا ہے تو اس کے لیے میرا بھر پور تعاون شامل رہے گا اور وہاں جاکر خود ایک پتھر لگاﺅں گا۔ اپنے ایک بیان میں نیشنل کانفرنس کے صدر اوررکن پارلیمان ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے متنازعہ ایودھیا معاملے پر رائے زنی کرتے ہوئے کہا کہ دونوں فریقین کو دوستانہ ماحول میں مل بیٹھ کر مسئلے کا حل تلاش کرنا چاہیے۔ایودھیا میں رام مندر کے متنازعہ معاملے سے متعلق ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے رام مندر قضیہ کا فوری حل تلاش کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دونوں فریقین مسلمان اور ہندوﺅں کو مل بیٹھ کر بات چیت کے ذریعے حل تلاش کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں فریقین پر زور دیا کہ وہ عدالت کی طرف رجو ع کرنے کے بجائے آپس میں مل بیٹھ کر ایک قابل قول حل تلاش کرے۔
فضل الرحمن حکومت مخالف اتحاد کیلئے سرگرم ، زرداری سے 24 گھنٹے میں 2 ملاقاتیں
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک، آن لائن) جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے 24 گھنٹوں کے دوران پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے صدر آصف علی زرداری سے دوسری ملاقات کی ہے۔مولانا فضل الرحمان پیپلزپارٹی اور ن لیگ کی قیادت کو قریب لانے کے مشن پر ہیں اور اسی مقصد کیلئے انہوں نے آصف زرداری سے چوبیس گھنٹے میں دوسری ملاقات کی ہے۔ دونوں رہنماو¿ں کے درمیان ہونے والی ملاقات میں اپوزیشن جماعتوں کے خلاف کارروائیوں پر اظہار تشویش کیا گیا۔مولانا فضل الرحمان ملاقات کے دوران مو¿قف اپنایا کہ موجودہ صورتحال میں اپوزیشن جماعتوں کو تمام گلے شکوے ختم کردینے چاہئیں۔ذرائع کے مطابق دونوں رہنماو¿ں کی ملاقات میں ملک کی مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔آصف علی زرداری اور مولانافضل الرحمان نے اپوزیشن جماعتوں کے خلاف جاری کارروائیوں پراظہارتشویش کیا اور مستقبل میں اپوزیشن جماعتوں کی حکمت عملی پر بھی مشاورت کی۔مولانا فضل الرحمان کی آصف زرداری اور نواز شریف کے درمیان دوریاں ختم کرنے کی بھی کوشش جاری ہے۔ فضل الرحمن نے کہا ہے کہ اپوزیشن جماعتوں کو حکومت کے خلاف گرینڈ الائنس بنانے پر جلد ہی راضی کر لیا جائے گا،موجودہ حکومت دھاندلی کی پیداوار ہے تمام حکومتی فیصلے بیرونی دباﺅ پر ہورہے ہیں ناقص پالیسیوں کی وجہ سے ملکی معیشت مزید خراب ہورہی ہے روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت میں اضافہ ہورہا ہے زرمبادلہ کے ذخائر کم ہوگئے ہیں امریکی دباﺅ پر اقتصادی راہداری کے منصوبوں کو سست کیا جارہا ہے اسرائیل کو تسلیم کرنے کی راہیں ہموار کی جارہی ہیں ۔ہفتہ کے روز پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین وسابق صدر آصف علی زرداری سے ملاقات کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے سربراہ آصف علی زرداری کی خواہش پر ملاقات ہوئی ہے۔ ملاقات میں اتفاق کیا ہے کہ الیکشن میں تاریخ کی بدترین دھاندلی ہوئی ہے انہوں نے کہا کہ انتخابات کے بعد ہم نے کہا تھا کہ بدترین دھاندلی کے خلاف احتجاجاً حلف نہ اٹھایا جائے لیکن اپوزیشن کی دیگر جماعتوں نے ہماری رائے سے اتفاق نہیں کیا اور یہ رائے سامنے آئی کہ ہم بھی پارلیمنٹ میں اکثریت لے سکتے ہیں تاہم اس اتفاق رائے کے باوجود پیپلز پارٹی نے اپوزیشن کو ووٹ نہیں دیا اور اسی عدم اتفاقی کی وجہ سے اپوزیشن کی تمام جماعتیں متاثر ہوئی ہیں مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ اس وقت ملک میں بین الاقوامی دباو¿ پر قومی فیصلے ہورہے ہیں حکومت کے فیصلے ملک کو کمزوری کی طرف لے جارہی ہے یہ حکومت عوام کی منتخب حکومت نہیں ہے جعلی مینڈیٹ رکھتی ہے حکومت کی ناقص پالیسیوںکے نتیجے میں ڈالر کہاں پہنچ گیا ہے۔ جے یو آئی ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کی آصف زرداری کو نواز شریف سے ملاقات پر راضی کرنے کی سرتوڑ کوشش جاری ہیں ،اس ضمن میں انہوں نے گزشتہ 24گھنٹوں میں آصف علی زرداری سے دو مرتبہ ملاقات کی ہے ،قریبی دوست دونوں راہنماﺅں کے درمیان دوریاں ختم کرانے کیلئے متحرک ہوگئے ،مولانا فضل الرحمن کی جانب سے آصف زرداری کو نواز شریف سے ملاقات کی تجویز دی گئی تاہم سابق صدر نے فوری حامی بھرنے سے معذرت کرلی۔ پارٹی رہنماﺅں س مشاورت کے بعد آگاہ کریں گے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق مولانا فضل الرحمن سابق صدر آصف علی زرداری اور نواز شریف کے درمین پل کا کردار ادا کررہے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن نے پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری کو نواز شریف سے ملاقات کی تجویز دی اور انہیں راضی کرنے کی بھرپور کوشش کی۔ تاہم آصف زرداری نے ملاقات کے لئے فوری حامی بھرنے سے معذرت کرلی۔ اس موقع پر مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ نواز شریف سے باضابطہ ملاقات ہونی چاہیے۔ اپوزیشن جماعتوںکو دویار سے لگایا جارہا ہے ۔ تمام جماعتوں کو مل کر حکمت عملی طے کرنی چاہیے۔ جس کے جواب میں آصف زرداری نے کہا کہ اول تو نواز شریف اس وقت جیل میں ہیں ان سے ملاقات کیسے ہوگی دوائم میں پارٹی رہنماﺅں سے مشاورت کرکے جلد آپ کو آگاہ کروں گا۔ واضح رہے کہ مولانا فضل الرحمن اور آصف زرداری اور نواز شریف کے قریبی دوست دونوں رہنماﺅں کے درمیان دوریاں ختم کرانے کے لئے متحرک ہوگئے ہیں۔
قائداعظم یونیورسٹی کی زمین پر قائم 3 بڑے ، 9 چھوٹے ناجائز گھر مسمار
اسلام آباد (کرائم رپورٹر) اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے سی ڈی اے کے اشتراک سے قائداعظم یونیورسٹی کی زمین پر قائم غیرقانونی تجاوزات اور تعمیرات کے خلاف آپریشن کا آغاز کر دیا۔ آپریشن کے پہلے روز سو کنال اوپن لینڈ واگزر کروا کر یونیورسٹی انتظامیہ کے حوالے کر دی گئی۔ یہ آپریشن یونیورسٹی کو الاٹ شدہ زمین پر قابض ایسے لوگوں کے خلاف کیا جا رہا ہے جو ایک عرصہ سے اس اراضی کو استعمال میں لائے ہوئے ہیں اور اپنے اثر کے باعث ان تجاوزات کے خلاف کوئی بھی کارروائی عمل میں لانے میں رکاوٹ کا باعث رہے تاہم موجودہ حکومت کی بلاامتیاز پالیسی کے تحت بلاامتیاز و تفریق سرکاری اراضی پر قائم تمام قسم کی تجاوزات ، تعمیرات اور غیر قانونی قبضے ختم کروائے جا رہے ہیں۔ اس آپریشن میں ڈپٹی کمشنر اسلام آباد حمزہ شفقات، ڈائریکٹر انفورسمنٹ فہیم بادشاہ، سی ڈی اے کے انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کے تمام افسران و عملے سمیت آئی سی ٹی کے متعلقہ افسران ،سی ڈی اے کے لینڈ و بحالیات ڈائریکٹوریٹ، ایم پی او ڈائریکٹوریٹ کے متعلقہ افسران و ملازمین کے علاوہ پولیس کی بھاری نفری نے حصہ لیا۔ اس موقع پر کسی بھی ناخوشگوار واقعہ کو روکنے کے لئے کاﺅنٹر ٹیررزم فورس اور اینٹی رائٹ فورس تعینات تھی جبکہ رینجرز کو بھی کسی بھی ناخوشگوار واقع سے نبٹنے کے لئے الرٹ رکھا گیا۔آپریشن کے دوران تجاوزات کو مسمار کرنے کے لئے ایم پی او ڈائریکٹوریٹ کی بھاری مشینری کو بھی استعمال میں لایا گیا۔آپریشن کے پہلے دن تین عدد بڑے گھر ، 9چھوٹے گھروں سمیت 15غیر قانونی تعمیرات جن میں بیرونی دیواریں، کوارٹرز، لائبریری، مویشیوں کے چھپر، اور مہمان خانوں سمیت دیگر تعمیرات کو مسمار کرکے 80کنال بلٹ اپ پراپرٹی ایریا کو واگزار کروا لیا گیا۔ واضح رہے کہ یونیورسٹی انتظامیہ نے چیف کمشنر آئی سی ٹی اور سی ڈی اے سے درخواست کی تھی کہ یونیورسٹی کو الاٹ کردہ زمین غیر قانونی قا بضین سے وا گزار کروائی جائے۔ آئی سی ٹی اور سی ڈی اے نے سروے آف پاکستان کی مشترکہ ڈیمارکیشن رپورٹ کی روشنی میں یہ کارروائی عمل میں لائی۔ یہ آپریشن 9جنوری تک جاری رہے گا۔
علی احمد ڈھلوں سچا کھرا انسان‘ ”تلخیاں“ ان کی اچھی کتاب ہے:ضیاشاہد ، میڈیا بحران کا شکار ‘حکومت اخبارات کو سبسڈی دے:عارف نظامی ، ضیاشاہد میرے استاد ہیں ، آج جس مقام پر ہوں انہی کی وجہ سے ہوں: علی احمد ڈھلوں ، میڈیا مشکلات کا شکار ، ورکر پریشان ، حکومت میڈیا مالکان سے مل بیٹھ کر مسائل حل کرے:ارشد انصاری ، حکومت کی آزادی کیلئے میڈیا کی آزادی ضروری ہے:امتیاز عالم ، تقریب سے خطاب
لاہور (خبرنگار) معروف صحافی علی احمد ڈھلوں کی کتاب کی تقریب رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے سی پی این ای کے صدر عارف نظامی نے کہا کہ آج میڈیا شدید بحران کا شکار ہے میڈیا انڈسٹری میں یہ تاثر پایا جارہا ہے کہ موجودہ حکومت اخبارات کو ڈیڈ کرنا چاہتی ہے جو کہ غلط تاثر ہے موجودہ حکومت کو چاہیے کہ وہ اس تاثر کوختم کریں اشتہارات کی میرٹ پالیسی کو اپنانا چاہیے اور یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ سابقہ دور میں جن کو خوب نواز گیا اب بھی کچھ ایسا ہورہا ہے حکومت کو اس بارے بھی دیکھنا ہوگا ۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ہر انڈسٹری کو سبسڈی دے رہی ہے جبکہ میڈیا بھی ایک انڈسٹری ہے اس میں بھی اخبارات کو سبسڈی دینی چاہیے ۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے روزنامہ خبریں کے چیف ایڈیٹر ضیاشاہد نے کہا کہ علی احمد ڈھلوں میرے ادارے کے بہترین کارکن تھے جن پر مجھے فخر ہے انہوں نے میرے ادارے میں ایسا کام بھی کیا جو عوام نے صرف فلمی سین میں دیکھا ہوگا لیکن اس نے حقیقت میں ایسا کیا انہوں نے ایک دفعہ قاتل کو تختہ دار سے چند منٹ پہلے اس کی زندگی بچائی مقتول کے لواحقین سے صلح نامہ کروا کر۔ علی احمد ڈھلوں ایک بہادر ،سچا اور کھرا انسان ہے۔ اس کی کتاب تلخیاں بہت اچھی کتاب ہے جو ان کے تمام کالموں کا مجموعہ ہے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے علی احمد ڈھلوں نے کہا کہ ضیاشاید میرے استاد ہیں میں نے ان سے بہت کچھ سیکھا آج میں جس مقام پر ہوں انہی کا مرہون منت ہوں۔ علی احمد ڈھلوں کا کہنا تھا کہ اس میں کوئی شک نہیں آج میڈیا بحران کا شکار ہے حکومت کو اس طرف توجہ دینی ہوگی اگر اخبار کو اشتہار نہیں ملیں گے تو مالکان ورکرز کو تنخوائیں کہاں سے دیں گے۔ وزیر اطلاعات ہمارا مو¿قف وزیراعظم عمران خان تک پہنچائیں۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پریس کلب لاہور کے صدر ارشد انصاری نے کہا کہ موجودہ حکومت کے آنے سے میڈیا شدید مشکلات کا شکار ہے جس کے ساتھ ساتھ ورکرز بھی پریشان ہیں موجودہ حکومت کو چاہیے کہ وہ میڈیا مالکان کے ساتھ بیٹھ کر ان کے مسائل سنے اور ان کو حل کرے ان کی ادائیگیوں کا مسئلہ ہے تو ان کی ادائیگیاں فوری کرے تاکہ غریب ورکرز کا چولہا چلتا رہے میں میڈیا ورکرز کا منتخب نمائندہ ہوں جب میرے ورکرز کے گھر کا چولہا ٹھنڈا ہوگا تو میں چین سے نہیں بیٹھوں گا۔ موجودہ حکومت کو میڈیا مالکان اور میڈیا ورکرز کے مسائل کو سمجھنا ہوگا ۔آج سابقہ دور کے سیاستدان کوٹ لکھپت میں قید ہیں وقت کا کوئی پتہ نہیں کل کس کا اور کیسا ہوگا ہم نے پھر بھی رہنا ہے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امتیاز عالم کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت کو میڈیا بحران کو فوری دیکھنا ہوگا میڈیا کو آزاد رکھنا ہوگا اگر میڈیا آزاد نہ رہا تو حکومت بھی آزاد نہیں ہوگی اس لئے حکومت کی ازادی کےلئے میڈیا کا آزاد رہنا لازمی ہوگا۔
میڈیا کو براہ راست سرکاری اشتہارات جاری کرنے اور ادائیگی کا نیا طریقہ لا رہے ہیں ، جس ادارے کو ہاتھ لگائیں پتہ چلتا ہے کہ نیچے سے کھوکھلا ہے، وزیر اطلا عات کا سینئر صحافی علی احمد ڈھلوں کی کتاب ”تلخیاں“ کی تقریب رونمائی سے خطاب
لاہور(وقائع نگار ،خبر نگار) وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے کہا ہے کہ میڈیا اینڈسٹری کے لیے نیا میکنزم لا رہے ہیں جس میں سرکاری اشتہارات اور ادائیگیاںبراہ راست صحافتی اداروں کو فراہم کی جائیں ۔ تلخیاں کم ہوں گی لیکن احتساب کی گرمی کم نہیں ہوگی، چاہے وہ ہمارے لوگ ہیں یا اور لوگ ہوں۔ اگراحتساب پرسمجھوتا کیا تو ووٹرز سے غداری ہوگی، لوگ ہماری فلموں کودیکھ کردنیا کے اسمگلرزکی فلموں کوبھول گئے،آیندہ 6 ماہ میں معیشت کی بہتری کےاقدامات کیے جائیں گے۔وزیر اطلاعات فواد چودھری نے گزشتہ روز لاہور میںسینئر صحافی علی احمد ڈھلو کی کتاب رونمائی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا انڈسٹری کی مشکلات کا اندازہ ہے اور حکومت ان کو حل کرنے کے لیے کوشاں ہے لیکن صحافتی ادارے براہ راست ہمارے کلائنٹ نہیں ہیں اسی لیے ہم درمیان میں موجود ایڈواٹائزنگ ایجنسیوں کے کردار کوکم سے کم کرنا چاہتے ہیں تاکہ میڈیا کو براہ راست ادائیگی کرسکیں ۔ ہم گٹھن کے ماحول میں رہے ہیں۔ 1980 سے کرائسز دیکھے ہیں۔ امریکا نے افغانستان پر حملہ ہم سے پوچھ کر نہیں کیا۔ جب یہ معلوم ہو کہ دشمن سامنے ہے توپھر قومیں اکٹھی ہوتی ہیں۔ ملک ایک جسم کی مانند ہوتا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے ہماری سوسائٹی تقسیم ہو گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ سیاست میں ذاتی تلخیاں نہیں ہیں۔تلخیاں تو کم ہوں گی لیکن احتساب کی گرمی کم نہیں ہوگی چاہے وہ ہمارے لوگ ہیں یا اور لوگ ہوں۔ اگر ہم احتساب پرسمجھوتا کریں تو ہم ووٹر سے غداری کریں گے۔ ہمارا کسی سے ذاتی جھگڑا تو نہیں ہے۔ عمران خان کی آصف زرداری یا نوازشریف سے ذاتی لڑائی نہیں۔ نوازشریف یا زرداری صاحب پر بنایا گیا ایک بھی مقدمہ ہمارا نہیں ہے۔ ان کیخلاف 2015ء میں انویسٹی گیشن شروع ہوئی تھیں۔جس ادارے کو ہاتھ لگائیں پتا چلتا ہے وہ اندر سے کھوکھلا ہے۔ معاملہ کہیں زیادہ گھمبیر ہے جتنا پی ٹی آئی اپنے جلسوں میں بتا رہی تھی۔ منی لانڈرنگ کیا ہے؟ منی لانڈرنگ کے یہی لوگ ذمہ دارہیں۔ فواد چودھری نے کہا کہ دنیا کے سمگلرزجیسی فلموں کو لوگ بھول گئے ہیں جو فلمیں ہمارے ہاں چلی ہیں۔انہوں نے کہا کہ جب سیاسی بنیادوں پربھرتیاں کی جائیں گی تواداروں کی ساکھ متاثر ہوگی۔اگر میں بھی آج پی ٹی وی اور دوسرے اداروں میں لوگ بھرتی کرلوں تو مجھے بھی اگلے 20 سال کوئی نہیں ہرا سکے گا۔ فواد چودھری نے کہا کہ ہماری درآمدات کم ہورہی ہیں اور اوورسیز پاکستانیز کی جانب سے پیسے میں اضافہ ہورہا ہے۔ ان شاءاللہ 2019 میں ہم پاکستان کو معاشی منزل کی طرف لے جانے کی کوشش کرینگے۔ چاہتے ہیں روزگارکے مواقع پیدا کرنے کیلئے صنعتیں لگائی جائیں۔ آیندہ 6 ماہ میں معیشت کی بہتری کے اقدامات کیے جائیں گے۔ وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے کہاہے کہ احتساب پر سمجھوتہ ووٹر سے غدار ی ہوگی،2019میں ملک کومعاشی منزل کی طرف لے جانے کی کوشش کریں گے ، عمران خان کی کسی سے ذاتی لڑائی نے ، وزیر اعظم کی قیادت میں اداروں کی اصلاحات کر رہے ہیں۔فوادچودھری نے کہا کہ حکومت کی جانب سے جلد اصلاحات نظر آئیں گے ، گزشتہ کچھ عر صے سے تلخیوں میں گھر ے ہوئے ہیں، انہوں نے کہا کہ جب 23مارچ مناتے ہیں ، اس میں بھگت سنگھ کا ذکر بھی کرلیا کریں جسے یہاں پھانسی لگائی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ہم گھٹن کے ماحول میں رہتے ہیں اور 1980سے تلخیوں میں گھرے ہوئے ہیں، افغانستان پر حملہ ہم سے پوچھ کرنہیں کیا گیا تھا ، انہوں نے کہا کہ ملک ایک جسم کی مانند ہوتاہے ، پاکستان میں جس ادارے کو ہاتھ لگائیں پتہ چلتا ہے کہ نیچے سے کھوکھلا ہے ، عمران خان کی آصف زرداری یانواز شریف سے کوئی ذاتی لڑائی نہیں ہے ، الیکشن لڑ کر اداروں میں اپنے بندے بھرتی کرائے گئے ، ایم کیو ایم ، پیپلزپارٹی اورمسلم لیگ نے یہی کچھ کیاہے کہ اداروں میں اپنے بندے بھرتی کروائے ہیں جب اداروں میں اپنے بندے بٹھائے جائیں گے اور اداروں کو اپنا بزنس پارٹنر بنا لیا جائے گا تو پھر ادارے نیچے جائیں گے اوراب ایسا ہی ہواہے کہ ایسے اقداما ت سے ملک کو بے انتہا نقصان ہواہے، ادارے نیچے جائیں تو ملک ترقی نہیں کرتا۔ انہوں نے کہا کہ جب عمران خان وزیر اعظم بنے تو پتہ چلا کہ معاملہ اس سے کہیں زیادہ گھمبیر ہے جس کا تحریک انصاف جلسوں میں تذکرہ کرتی رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سنبھالنے کے بعد ہم نے دوست ممالک کی مدد سے ادائیگیوں کا تواز ن درست کیا اور صنعت کی ترقی کیلئے اقدامات کئے ، وزیر اعظم نے فائر فائنٹنگ کی ، سعودی عرب ، یواے ای اورچائنہ گئے۔ان کا کہنا تھا کہ سیاست کے اندر کوئی ذاتی تلخیاں نہیں ہیں، آصف زرداری یا نوازشریف پر ایک بھی مقدمہ حکومت کا بنایا ہوا نہیں ہے اورنہ ایک ہی آفیسر جس نے ان مقدمات کی تفتیش کی ہو، ہمارا لگایا ہوا ہے ، نوازشریف اور آصف زرداری ایک دوسرے کا تحفظ کرتے رہے ، دونوں کا طریقہ کار ایک جیساہے ، دونوں نے جعلی کمپنیاں بنائیں، اب پکڑے گئے ہیں تو کہہ رہے ہیں کہ زیادتی کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ احتساب ہوگا کیونکہ ہمیں تو مینڈیٹ ہی اس کام کیلئے ملا ہے، منی لانڈرنگ کا معاملہ کیاہے؟ یہی لوگ اس کے ذمہ دارہیں، جو پکڑا جاتاہے ،وہ اسمبلی میں شفٹ ہوجاتا ہے ، اسمبلی کوایسے چلایا جا رہاہے جیسے وہ نیب پر بورڈ آف گورنر ہے ، وہاں لوگوں کے مسائل پر کوئی بات نہیں کی جاتی، یہ لوگ آتے ہیں اور اپنی باتیں کرکے چلے جاتے ہیں، تلخیوں کا سلسلہ فی الحال جاری رہے گا،وزیر اعظم کی کسی سے ذاتی لڑائی نہیں ہے ، اگر ہم احتساب پر سمجھوتہ کریں تے تو ہم ووٹر سے غداری کریں گے۔
پلاک میں سال نو کا آغاز ‘ کلاسیکی موسیقی کی خوبصورت محفل
لاہور(شوبزڈیسک)پنجاب انسٹیٹیوٹ آف لینگوئج آرٹ اینڈ کلچر (پِلاک) میں سالِ نو کے آغاز میں کلاسیکی موسیقی کی خوبصورت محفل کاانعقاد کیا گیا۔ عالمی شہرت یافتہ گائیک استاد حامد علی خاں، نایاب علی خاں اور انعام علی خاں نے اپنی خوبصورت گائیکی سے حاضرین کے دل موہ لئے۔ پہلے نایاب علی خاں اور انعام علی خاں نے پرفارم کیا۔ اُس کے بعد آصف علی خاں نے طبلے پر سولو پرفارمنس کا بھر پور مظاہرہ کیا۔ اُس کے بعد حامد علی خاں نے سُر کے جادو جگائے اور اپنے گھرانے کی خاص بندشیں پیش کیں۔ ڈاکٹر غزالہ عرفان نے کلاسیکی موسیقی کے بارے میں تفصیلی گفتگو کی۔


















