قومی بلے باز کھیلنا بھول گئے ٹیم 174پر ڈھیر

لیڈز(نیوزایجنسیاں)ہیڈنگلے ٹیسٹ میں کے پہلے قومی بلے بازوں کامایوس کن کھیل،پوری ٹیم پہلی اننگز میں صرف 174 رنز بنا سکی۔انگلش ٹیم نے پہلے روزکھیل کے اختتام پر106رنزبنالیے جبکہ اس کے2کھلاڑی آﺅٹ ہوئے ہیں۔ ایلسٹر کک 46رنزبناکرآﺅٹ ہوئے۔ جوروٹ 29اوربیس بغیرکوئی رن بنائے وکٹ پرموجودہیں۔لیڈز میں پاکستان نے ٹاس جیت کر انگلینڈ کے خلاف پہلے خود بیٹنگ کا فیصلہ کیا جو بظاہر غلط ثابت ہوا اور ابتدائی بلے باز بری طرح ناکام ہوئے۔پاکستان کی جانب سے تیسرا میچ کھیلنے والے امام الحق صفر پر آوٹ ہونے والے پہلے بلے باز تھے جس کے بعد 17 کے اسکور پر تجربہ کار بلے باز اظہر علی 2 رنز بنا کر پویلین لوٹے، دونوں بلے بازوں کو اسٹورٹ براڈ نے آﺅٹ کیا۔حارث سہیل نے کچھ مزاحمت کی اور اسد شفیق کے ساتھ شراکت میں اسکور کو 49 تک پہنچایا تاہم انھیں کرس ووکس نے ا?وٹ کردیا، وہ 28 رنز بنا کر پویلین لوٹے اور اسد شفیق نے اسکور کو 62 تک پہنچایا مگر 27 کی انفرادی اننگز کھیلنے کے بعد ان کی ہمت بھی جواب دے گئی۔کپتان سرفراز احمد آﺅٹ ہونے والے پانچویں بلے باز تھے جو 14 رنز بنا کر 78 کے مجموعے پر جیمز اینڈرسن کا نشانہ بنے جس کے بعد اپنا پہلا میچ کھیلنے والے عثمان صلاح الدین کو اسٹورٹ براڈ نے آﺅٹ کیا، انھوں نے صرف 4 رنز بنائے تھے۔آل راونڈر فہیم اشرف بھی زیادہ دیر وکٹ پر ٹھہر نہ سکے اور صفر پر جیمز اینڈرسن کی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہو کر واپس چلے گئے جس کے بعد محمد عامر نے 113 کے مجموعے تک شاداب خان کا ساتھ دیا اور 13 رنز بنا کر آﺅٹ ہوئے۔حسن علی نے بھی شاداب خان کا ساتھ نبھانے کی بھرپور کوشش کرتے ہوئے اسکور کو 156 تک پہنچایا، حسن علی 24 رنز بنا کرووکس کی وکٹ بنے۔شاداب خان نے پاکستانی بیٹنگ کو سہارا دیا اور ٹیم کو 174 کے مجموعے تک پہنچادیا اور 56 رنز بنا کر نمایاں بلے باز رہے۔انگلینڈ کی جانب سے اسٹورٹ براڈ، جیمز اینڈرسن اور کرس ووکس نے 3،3 وکٹیں حاصل کیں۔قبل ازیں قومی ٹیم میں پہلے میچ کے دوران زخمی ہونے والے بلے باز بابر اعظم کی جگہ نئے کھلاڑی عثمان صلاح الدین کو شامل کیا گیا ہے جبکہ انگلینڈ کی ٹیم میں بھی 3 تبدیلیاں کی گئیں۔خیال رہے کہ انگلینڈ کے خلاف پہلے ٹیسٹ میچ میں بابر اعظم ہاتھ میں فریکچر کے سبب دورہ انگلینڈ سے باہر ہوگئے تھے۔عثمان صلاح الدین 2 ون ڈے میچوں میں پاکستان کی نمائندگی کرچکے ہیں تاہم یہ ان کے کیریئر کا پہلا ٹیسٹ میچ ہے۔

ضرورت سے زیادہ پر اعتماد ی ٹیم کو لے ڈوبی : منور حسن ، امام الحق ذمہ داری شو کریں : طاہر شاہ ، چینل ۵ کے پروگرام ” گگلی “ میں گفتگو

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) سپورٹس جرنلسٹ منور حسین نے کہا ہے کہ سرفراز ضرورت سے زیادہ پراعتماد ہوگئے ہیں ، چینل ۵ کے پروگرام ”گگلی“ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انگلینڈ کو نفسیاتی طور پر پریشرائز کرنے کا اچھا موقع تھا لیکن غلط ٹاسک سلیکشن کے سبب پاکستانی ٹیم خود انڈر پریشر ہوگئی ہے ، ٹیم کو آگے جانے کیلئے اچھی شاٹ سلیکشن کی ضرورت ہے ، اسد اور حارث اچھا کھیل رہے ہیں ، پاکستان اور ایشیا ئی ٹیمز کیلئے ہمیشہ لارڈز کی پچز فائدہ مند ثابت ہوئی ہیں، کھلاڑیوں کی عمر کو مد نظر رکھتے ہوئے ان کو کھلانا چاہئے ، مصباح الحق کی مثال سامنے ہے ، 17میں سے 11میچ ہار کر ساتویں نمبر پر آگئے ہیں ، سیاست اور کھیل ایک ہی طرح سے چل رہے ہیں ۔سابق فرسٹ کلاس کرکٹر طاہر شاہ نے کہا ہے کہ امام الحق کھیل کے دوران اپنی باڈی کا اچھی پوزیشن میں رکھتے ہیں، اظہر علی کا ٹور ناکام گیا ہے ، ان کی ہاف سنچری بھی خاص نہیں تھی ، لیکن اسکے سبب میچ جیتنے کی وجہ سے بہت سی خامیاں چھپ گئیں ، اظہر علی کو بہت محنت کرنے کی ضرورت ہے ، اچھے کھلاڑیوں کو آگے آنے کا موقع دینا چاہئے ، ٹیم کی تبدیلی کیلئے تمام سینئر کھلاڑیوں سے مشورہ ضروری ہے ، اس طرح سے احساس کمتری کم اور حوصلہ افزائی زیادہ ہوتی ہے ۔

جنوبی پنجاب بارے ” خبریں “ کے چیف ایڈیٹر کا بڑا کردار ہے ، صوبوں میں پانی کا مسئلہ بہت بڑا ایشو بن جائیگا ، بھارتی پنجاب کے 3 صوبے بنے ہمارے کیوں نہیں ؟ پی ٹی آئی کے مرکزی رہنماءشاہ محمود قریشی کی چینل ۵ کے پروگرام ” ضیا شاہد کے ساتھ “ میں اہم گفتگو

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) سابق وزیرخارجہ، پی ٹی آئی کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ بھارتی پنجاب کے تین صوبے ہماچل پردیش، ہریانہ اور پنجاب بن سکتے ہیں۔ ہمارے پنجاب کی آبادی 11 کروڑ ہے اور یہ بڑا بے ہنگم ہو گیا ہے اس میں بہتری لانے کی اشد ضرورت ہے۔ جنوبی پنجاب محرومیوں کا شکار ہے اس خطے کے عوام کی محرومیوں کے خاتمے کا وقت آ گیا ہے۔ صوبہ محاذ کے لوگ جنوبی پنجاب صوبہ بنانے کے لئے پی ٹی آئی میں شامل ہوئے سیاستدان اپنے مطلب کے پکے ہوتے ہیں وہ کسی خلائی مخلوق کے کہنے پر کسی گڑھے میں چھلانگ نہیں لگاتے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے چینل ۵ کے پروگرام میں ضیا شاہد کے ساتھ خصوصی مکالمہ میں کیا۔ گفتگو سوالاً جواباً پیش خدمت ہے۔ضیا شاہد:اچانک کہیں سے اشارہ ہوا ہے اور پنجاب کے وزیراعلیٰ نے تو خود پہلے ایڈیٹروں کی ملاقات میں مجھ سے یہ کہا کہ آپ یہ بتائیں کہ جنوبی پنجاب سے ہی ہمارے ایم این ایز کو پہلے پارٹی سے نکلوایا گیا اور پھر ان کو پی ٹی آئی میں شامل کروا دیا گیا ہے یہ تو ایک گرینڈ ڈیزائن کا حصہ ہے خواہ آپ اس کو خلائی مخلوق کے نام کچھ لوگ دیتے ہیں ہم اس کو کہتے ہیں کہ قوت ہے جو ن لیگ کے خلاف کام کر رہی ہے اور پی ٹی آئی کے حق میں کام کر رہی ہے۔ اس الزام کے جواب میں کیا کہتے ہیں۔شاہ محمود قریشی: جہاں تک جنوبی پنجاب صوبے کی ضرورت کا تعلق ہے یہ بات نئی بات نہیں اس کا آغاز 1970ءسے اس کا آغاز ہو گیا تھا اور مختلف لوگوں نے کالم لکھے، نظمیں ملیں گی کہ کس طرح اسش خطے کے ساتھ ناانصافی ہوئی۔ پھر کچھ ایسی وجوہات ہوئیں کہ جس سے کہ اس چیز میں اور تیزی پیدا ہوئی۔ ایک تو جو ایوب خان کے دور میں سندھ طاس معاہدہ ہوا اس میں جنوبی ریورز سرنڈر کئے گئے۔ ہندوستان کو اس سے یہ علاقہ متاثر ہوا اور یہاں پانی کی قلت پیدا ہوئی۔ ستلاج بیاس راوی جو یہاں سیراب کرتے تھے وہ بھارت کے حصے میں چلے گئے۔ اور یہ علاقہ متاثر ہوا اور دوسرا یہ 70ءکی دہائی میں بھٹو صاحب نے سندھ کی محرومی کو سامنے رکھتے ہوئے وہاں کے لوگوں کو احساس شمولیت دلوایا اور وہاں ایک رورل کوٹہ مختص کیا اس بنا پر کہ یہ علاقہ کراچی کی نسبت پسماندہ ہے تو یہاں بھی ایک آگاہی آئی کہ لاہور کی نسبت ملتان، ڈیرہ غازی خاں، بہاولپور محروم علاقہ ہے یہاں کالج، یونیورسٹیوں کا فقدان دیکھ لیں۔ تو کیا یہاں کوٹہ نہیں ہونا چاہئے تھا اور پھر جو ڈویلپمنٹ کے لئے رقمیں رکھی گئیں خاص طور پر مسلم لیگ کے ادوار نوازشریف صاحب، شہباز شریف صاحب غلام حیدر وائیں صاحب مختلف وزراءاعلیٰ آئے وائی صاحب نے کسی حد تک کوشش بھی کی ڈویلپمنٹ فنڈز دینے کا اس پر اس قدر ڈسٹارشن تھی کہ اس ضرورت میں زیادہ شدت پیدا ہوئی۔ جہاں تک پی ٹی آئی کا تعلق ہے عمران خان صاحب اس بات کی گواہی دیں گے کہ کم از کم دو ڈھائی سال میں ان سے مسلسل کہہ رہا ہوں کہ ہمیں اس طرف سوچنا چاہئے کیونکہ بنیادی طور پر آج پاکستان پر جو بات کی جا رہی ہے کہا جا رہا ہے بیڈ گورننس دنیا میں ڈیورلوشن آف پاور کا۔ اگر اختیار کو آپ کی دہلیز تک منتقل کرنا ہے تو پھر پنجاب 11 کروڑ کا صوبہ ہے بے ہنگم ہو گیا اسے مینج کرنا اس کو گورن کرنا اس کا ڈلیوری سسٹم کو اوورسی کرنا لاہور سے ناممکن ہو گیا تو تقاضا یہ ہے کہ ہم اس کو ازسرنو دیکھیں جیسے بھارت نے کیا۔ مشرقی پنجاب ہم سے چھوٹا تھا حصے کے لحاظ سے آبادی کے لحاظ سے آج وہ تین صوبے بن گئے۔ پنجاب، ہریانہ، ہماچل پردیش، جس طرح ضلع میں آپ بیٹھے ہیں ملتان میں یہ ایک زمانے میں ایک بہت بڑا ضلع ہوا کرتا تھا۔ آج ضرورت کے مطابق اس کے چار ضلع بن گئے۔ ملتان، خانیوال، وہاڑی، لودھراں تو جب ضرورت ایڈمنسٹریٹو اور مینجمنٹ کئے جاتے ہیں بہتر گورننس کے لئے یہ میرا ایک نقطہ نظر تھا کہ لسانیت سے پاک، بالاتر ہو کر عمران خان کو میں نے قائل کیا وہ مان گئے پھر ہم نے اپنی پارٹی کا فیصلہ کیا منشور کا اسے حصہ بنانا ہے اپنے پہلے 100 دن کے پروگرام میں۔ پھر اس کے ساتھ مسلم لیگ ن کے اس علاقے کے حضرات جو سمجھتے تھے ان علاقوں سے ایسا فیڈ بیک مل رہا تھا کہ ناانصافی ہو رہی ہے اور پارٹی سے ناخوش تھے انہوں نے اس ایشو کو اڈاپٹ کیا۔ میرے ان سے مذاکرات ہوئے خسرو بختیار کے ساتھ 15 مئی کو لاہور میں اور میں نے آپ مطالبہ کر رہے ہو تو یہ تو پی ٹی آئی کے منشور کا حصہ ہے۔ تو آپ پھر نہ سوچیں آپ ہمارا حصہ بنیں اور آیئے اور اس تحریک کو تقویت دیں تو وہ ہمارے ساتھ شامل ہوئے۔ خلائی مخلوق کا الزام لگایا جاتا ہے سیاست دان اپنے مطلب کا بڑا پکا ہوتا ہے خلائی مخلوق کا اس کو کہے تو وہ چھلانگ نہیں مارے گا جب تک اس کو اپنا مفاد دکھائی نہیں دے گا انہیں اپنا پی ٹی آئی میں آنے کا مفاد دکھائی دیا پی ٹی آئی کی مقبولیت کا گراف چڑھتا دکھائی دیا تو وہ آئے۔ اگر ان کو دکھائی نہ دیتا تو تقریروں سے ان کو قائل نہ کر پاتے۔ سیاست ضرورت ان کو مل گئی تو پی ٹی آئی میں آ گئے۔ ہمارے پاس بھی بہت سے علاقوں میں امیدواروں کی کمی تھی۔ ہمارے پاس موزوں امیدوار نہیں تھے یہ ایک ہوا اور وہ ہمارے ساتھ آ گئے۔
ضیا شاہد: میں یہ سمجھتا ہوں کہ اس وقت اخبارات نکلتے رہتے ہیں۔ سب کی بڑی عزت کرتا ہوں۔ لیکن میں دیانتداری سے سمجھتا ہوں اور اب کافی لوگ مجھے کہہ بھی رہے ہیں کہ جنوبی پنجاب میں خبریں نے اپنی آمد سے پہلے دن سے لے کر آج تک اس علاقے کے لوگوں کے مسائل، سرائیکی زبان اور تہذیب اور ریگیرڈ لیس آف لینگوئج کی برادری کے یا کس سوچ کے اس علاقے کے رہنے والے سارے لوگوں کو خواہ وہ سرائیکی ہوں نان سرائیکی ہوں پنجابی ہوں پٹھان ہوں۔ اب تو بہت بلوچ اس میں آ گئے۔ پٹھان بہت سارے آ گئے یا مشرقی پنجاب سے مہاجر آ گئے۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ میں آپ سے چاہتا ہوں۔ آپ ان مذاکروں کا حصہ رہے ہیں جن میں ہم مسلسل یہاں زراعت، پانی کا مسئلہ یہاں کے گورننس کے مسائل کا معاملہ۔ اگر کسی جگہ پر نشتر کھاٹ کا افتتاح اس کا آج ہوتا ہے لیکن اس پر اتنے لوگوں کا جب نقصان ہوا تو سب سے پہلا کلر پیج ہم نے چھاپا اور اس پر مسلسل ایشو کو لے کر چلتے رہے کہ جہاں پلوں کی ضرورت ہے۔ اسے پورا کیا جائے۔ آپ ہماری اس جدوجہد کو کسی پارٹی کی جدوجہد نہیں تھی۔ آپ اس کا حصہ تھے۔ اس میں آپ کے ریمارکس ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ جو خواب میں بہاولنگر سے پرائمری جماعت پاس، ملتان سے میٹرک کیا۔ یہ سارا علاقہ میرا علاقہ ہے۔ میرا تعلق بھی جنوبی پنجاب سے۔ میں آج جو محسوس کر رہا ہوں واقعی اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ مجھے وہ منزل قریب آتی ہوئی دکھائی دیتی ہے میں سیاست کی بات نہیں کر رہا۔ میں اس علاقے کے لوگوں کے الگ اور جدا صوبہ اس کے فنڈ مرکز سے منتقل ہوں اور وہ اپنے ضرورت کے حساب سے اس کو خرچ کر سکیں گے۔شاہ محمود قریشی: خبریں کا جنوبی پنجاب کے حوالے سے بڑا کردار رہا ہے۔ اب خیال آتا ہے کہ خبریں نے اپنا حصہ کیوں ڈالا کیونکہ ضیا شاہد کی شخصیت کا اس میں بڑا عمل دخل ہے۔ آپ جنوبی پنجاب سے ہیں آپ کو آگاہی تھی، مسائل سے واقف تھے آپ نے اس ایشو کو اٹھایا۔ جب کوئی اخبار آواز نہیں اٹھا رہا تھا تو خبریں نے جنوبی پنجاب کے ایک تشخص کی بات کی۔ کسان ٹی وی پر آپ نے متعدد پروگرام چلائے۔ وہاں کی اکثریت زراعت سے جڑی ہوئی تھی اور ہے۔ خبریں نے اس ایشو کو اٹھایا ہم آپ کے شکر گزار ہیں۔ اب مجھے یہ سلسلہ آگے بڑھتا اس لئے دکھائی دے رہا ہے کہ قومی اتفاق رائے بن چکا ہے۔ تحریک انصاف نے جنوبی پنجاب مسئلے کو اپنے پہلے 100 دن پروگرام کا حصہ بنا لیا ہے۔ پی پی نے اس کی تائید کی، بلاول کا شکریہ بھی ادا کیا۔ شاہد خاقان نے ایک جلسے میں کہا کہ نون لیگ کی اگلی حکومت جنوبی پنجاب کو صوبہ بنائے گی، حیرت کی بات ہے جو پارٹی ماضی میں رکاوٹ رہی وہی صوبہ بنائے گی۔ انہوں نے کہا کہ نواب صاحب آف بہاولپور کی پی ٹی آئی میں شمولیت اور ان کے بیٹے کا اس پارٹی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑنا، دلیل ہے کہ بہاولپور نے بھی ہمارے موقف کو ذہنی طور پر قبول کر لیا ہے، یہ ایک بہت بڑی پیش رفت ہے جو وفاق کو مضبوط کرے گی۔ مولانا فضل الرحمن سمیت تمام صوبے اس کی حمایت کریں گے۔ جنوبی پنجاب کے لوگوں کو چھوٹے چھوٹے کاموں کے لئے لاہور جانا پڑتا ہے۔ صوبہ بن گیا تو لاہور وہیں مل جائے گا۔ روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔ پی ٹی آئی کا وژن جنوبی پنجاب کو صرف صوبہ بنانا نہیں، لوکل گورنمنٹ سسٹم بھی دیں گے۔ اس علاقے کو زراعت کا حب بنانا ہے کیونکہ ملک کی 85 فیصد کپاس کی پیداوار اس خطے میں ہے۔ یہاں ایکسپورٹ کے بے تحاشہ مواقع ہیں۔ جنوبی پنجاب کو سی پیک منصوبے سے بھی بہت فائدہ ملے گا۔ یہاں روزگار ملے گا تو تقدیر بدل جائے گی۔ انہوں نے کہا گیلانی صاحب یہ درست کہتے ہیں کہ جنوبی پنجاب کو الگ صوبہ بنانے کے لئے دو تہائی اکثریت چاہئے تھی وہ ان کے پاس نہیں تھی لیکن وہ سنجیدگی بھی نہیں تھی جو درکار تھی۔ کوشش کرتے تو اس وقت صوبہ بن سکتا تھا لیکن انہوں نے صرف سیاسی نعرے کی حد تک ہی بات رکھی۔ جہاں تک شہباز شریف کا تعلق ہے کہ میں نے بڑی ترقی کرائی یہ درست نہیں۔ اس سے زیادہ ترقی تو پرویز الٰہی دور میں ہوئی۔ بجٹ میں تو ہر علاقے کے لئے فنڈز رکھے جاتے ہیں مگر وفاق سے ان کی منصفانہ تقسیم نہیں ہوتی، یہیں ہوتا رہا ہے۔ جنوبی پنجاب کے بہت سارے ترقیاتی کام روکے گئے۔ پینے کا صاف پانی اس وقت بڑا مسئلہ ہے۔ ہیپاٹائٹس بتدریج پھیلتا جا رہا ہے۔ ملتان میں میٹروبس چلا دی میں اس کے خلاف نہیں لیکن جہاں بہت سارے مسائل ہوں وہاں ٹرانسپورٹ ترجیح نہیں ہوتی۔ آبی ذرائع بڑھانے کیلئے کوئی قدم نہیں اٹھایا، زراعت بحران کا شکار، صوبے آپس میں لڑ رہے ہوں تو ایسے وقت میں اورنج ٹرین بنائی جا رہی ہے یہ تو سکھا شاہی ہے، ان کی ایسی ہی غلط ترجیحات کی وجہ سے آج یہ علاقہ پسماندہ ہے۔انہوں نے کہا کہ ماہرین کہہ رہے ہیں کہ مستقبل میں جنگیں پانی کے مسئلے پر ہوں گی۔ بھارت کو اندازہ نہیں کہ جب پینے کے پانی کی قلت بڑھے گی تو اس کے خلاف کتنی نفرت بڑھے گی۔ فیڈریشن کی مختلف اکائیوں میں بدگمانی پیدا ہونے کے امکانات ہیں۔ سندھ میں پیپلزپارٹی ناقص کارکردگی کو چھپانے کے لئے پانی کی کمی کو ڈھال بنائے گی، بلوچستان سندھ پر الزام لگائے گا، سندھ پنجاب پر اور کے پی کے کہے گا میرے حصے کا پانی مجھے نہیں مل رہا یہ بہت بڑا ایشو بننے والا ہے۔ ورلڈ بینک یا انٹرنیشنل کورٹ میں ہم پانی کا مقدمہ ٹھیک طرح سے لڑ ہی نہیں سکے۔ مستقبل کا مسئلہ ہے۔ دن بدن پیچیدہ ہو رہا ہے۔کیا منتخب لوگ ملک کو لوٹ کر پیسہ باہر بھیجنے کا استحقاق رکھتے ہیں۔ یہ قوم کو فیصلہ کرنا ہے۔ عوام کو فیصلہ کرنا ہے کہ جو ان کے ووٹ سے منتخب ہو گیا کیا وہ قانون سے بالاتر ہو گیا جو چاہیں کریں، دنیا میں ایسا نہیں ہوتا۔ شریف خاندان سیاسی کو سیاسی اور قانونی معاملات کو قانونی طور پر ہینڈل کریں۔ اگر پانامہ کا اشو نہ آتا تو یہ چیز زیر بحث ہی نہ ہوتی۔نواز بیانیہ کی پذیرائی بڑھ نہیں بلکہ کم ہو رہی ہے۔ ابتدا چودھری نثار کا بیان ہے کہ ”95 فیصد نون لیگ کے ممبران پارلیمنٹ مجھ سے متفق ہیں“ گزشتہ روز کے خبریں میں چھپا ہوا ہے۔ نواز جلسوں میں، ان کا ایک طبقہ تو ہے جو ان سے قائل ہے، سپورٹر ہے۔ جب بھی جلسہ کریں گے وہاں لوگ جائیں گے لیکن یہ مقبولیت کا پیمانہ نہیں۔ آنے والے دنوں میں نظر آئے گا کہ نواز کی مقبولیت کہاں کھڑی ہے۔ ان کا گراف تیزی سے گر رہا ہے اور ہم سے دانستہ یا غیر دانستہ کچھ ایسا ہو گیا ہے جس سے انہیں مشکلات کا سامنا ہے۔ ختم نبوت کا ایشو، ممبئی حملوں سے متعلق مودی کا بیانیہ، معیشت بحران کی طرف آ چکی ہے۔ جتنے آپ مقروض ہیں، بے روزگاری ہے اور اب آئی ایم ایف یا دوست ممالک کے پاس دوبارہ کشکول لے کر جانا پڑے گا، اس سے نون لیگ کی کارکردگی ظاہر ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نون لیگ و پی پی سے مایوسی اور متنفر ہونے سے پی ٹی آئی کو جنم دیا ہے۔ سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ پانی کے مسئلے پر3 سال سے بڑی محنت کی، سپریم کورٹ میں کیس بھی دائر کرنے لگا ہوں شاید اس ہفتے ہو جائے گا۔ آپ بھی جنوبی پنجاب کے ہیں وہاں پانی کی قلت سے واقف ہیں۔ انڈس بیسن معاہدے کے تحت ستلج، راوی و بیاس کا بھارت کو صرف زرعی پانی دیا گیا تھا۔ 70ءمیں انٹرنیشنل واٹر کنونشن منعقد ہوا جس میں طے ہوا کہ جو دریا مختلف ملکوں میں ایک سے زیادہ بہتے ہیں ان کے زریں حصے کے ملک ان کے پینے کے پانی کا حق ختم نہیں کر سکتے، پینے کا پانی ملنا چاہئے۔ یہ معاہدہ صرف آبپاشی پانی کا تھا سارے پانی کا نہیں تھا، آبپاشی پانی کا تھا سارے پانی کا نہیں تھا، آبپاشی کے علاوہ پانی کی 3 اشکال اور ہوتی ہیں جن میں پینے و گھریلو استعمال، ماحولیات و آبی حیات کا پانی شامل ہے۔ معاہدے میں لکھا ہے کہ دریائے جہلم و چناب جو پاکستان کے حصے میں آئے تھے وہ بھی جہاں تک بھارت میں بہتے ہیں اس میں سے بھی وہ ماحولیات، آبی حیات، پینے و گھریلو استعمال کا پانی استعمال کریں گے۔ میں نے اس پر بڑا کام کیا کتاب بھی لکھی کہ پانی کی یہی 3 اشکال جو بھارت ہمارے دریاﺅں سے حاصل کر رہا ہے۔ یہی چیز ستلج، راوی و بیاس کے حوالے سے معاہدے میں موجود نہیں۔ میں آپ کے لئے دُعا گو ہوں، خیر خواہ ہوں کہ آپ کی حکومت بنے تو آپ اس مسئلے پر کام کریں کیونکہ یہ کام حکومت کا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ورلڈ بینک و اقوام متحدہ کی جتنی رپورٹس آئی ہیں۔ اس میں کہا گیا ہے کہ اگلے 5 برس میں پاکستان دنیا میں پینے کا پانی نہ ہونے والے 5 ممالک میں شامل ہو جائے گا۔ اگر آپ کو موقع ملا تو آپ باقاعدہ اس کا بیڑہ اٹھائیں، بھارت و ورلڈ بینک کو مجبور کریں کہ آپ میرے گارنٹر نہیں۔ معاہدہ صرف آبپاشی کے پانی کا تھا دوسرا سارا پانی چھوڑیں۔ دنیا میں میں نے نظریں تلاش کی ہیں 11 کیسز میں مختلف ممالک کیس جیت چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 2 دریا ستلج و راوی میں سارا سال 10 سے 15 فیصد پانی تو حاصل کریں۔ پانی بہتا رہے گا تو زیر زمین پانی بھی بہتر ہو گا۔ گندہ پانی پینے کے باعث پورے پنجاب میں ہیپاٹائٹس بہت زیادہ ہے۔ نسلیں تباہ ہو رہی ہیں۔ میں نے اپنی سوچ عمران خان و شاہ محمود قریشی تک پہنچا دی اب آپ کا فرض بنتا ہے اور معاملہ آپ کے سپرد ہے۔

فیشن میگزین کے سرورق پر ڈرائیونگ سیٹ پر تصویر: سعودی شہزادی کو تنقید کا سامنا

جدہ (ویب ڈیسک)سعودی عرب کی شہزادی کو فیشن میگزین کے سرورق پر گاڑی کی ڈرائیونگ سیٹ پر تصویر بنوانے پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔ووج عربیہ میگزین کے سرورق پر شہزادی ہافیہ بنت عبداللہ آل سعود کی ڈرائیونگ سیٹ پر تصویر منظر عام پر آنے کے بعد ایک نیا تنازع کھڑا ہو گیا۔کئی لوگوں نے شہزادی کی تصویر چھاپنے کو سمجھ سے بالا تر قرار دیتے ہوئے کہا کہ شہزادی کے اپنے خاندان نے خواتین پر پابندیاں لگائیں اور شہزادی خود گاڑی کی ڈرائیونگ سیٹ پر تصاویر بنوا رہی ہیں۔سعودی شہزادی کو بڑے پیمانے پر تنقید کا نشانہ بنائے جانے کے بعد میگزین کی انتظامیہ سعودی شہزادی کے دفاع میں میدان میں آ گئی۔میگزین انتظامیہ کا کہنا ہے کہ سرورق پر شہزادی کی ڈرائیونگ سیٹ پر تصویر کا مقصد سعودی عرب میں خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت ملنے کا جشن منانا تھا۔خیال رہے کہ سعودی عرب میں رواں ماہ کی 24 تاریخ سے خواتین کے ڈرائیونگ کرنے پر عائد پابندی ختم ہو جائے گی۔

دوسرا ٹیسٹ؛ پاکستانی ٹیم 174 رنز پر پویلین لوٹ گئی

لیڈز(ویب ڈیسک)دوسرے ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں پاکستان کی بیٹنگ لائن بری طرح ناکام دکھائی دی اور پوری ٹیم 174 رنز پر پویلین لوٹ گئی۔ ہیڈ نگلے میں ہونے والے دوسرے ٹیسٹ میں قومی ٹیم کے کپتان سرفراز احمد نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا جو درست ثابت نہ ہوا اور یک بعد دیگرے پاکستان کے بلے باز پویلین لوٹتے رہے ایک موقع پر 79 رنز پر 7 کھلاڑیوں کے آو¿ٹ ہوجانے پر ٹیم کے لیے 100 رنز بھی بنانا مشکل دکھائی دے رہا تھا تاہم شاداب خان نے شاندار بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے نصف سنچری اسکور کی جب کہ حسن علی نے بھی 24 رنز بناکر ان کا بھرپور ساتھ دیا، شاداب خان 56 رنز کے ساتھ ٹاپ اسکورر رہے۔قومی ٹیم کی جانب سے اننگز کا آغاز اظہرعلی اور امام الحق نے کیا لیکن امام الحق کھاتہ کھولے بغیر ہی رخصت ہوگئے اور اظہر علی بھی 2 رنز کے مہمان ثابت ہوئے۔ حارث سہیل اور اسدشفیق نے کچھ دیر مزاحمت کی لیکن وہ بھی بالترتیب 28 اور 27 رنز بناکر آو¿ٹ ہوگئے۔ کپتان سرفراز احمد صرف 14 رنز کے مہمان ثابت ہوئے۔ٹاپ آرڈر کے پویلین لوٹ جانے کے بعد ٹیم مینجمنٹ نے تمام تر امیدیں، لارڈز ٹیسٹ میں ان فٹ ہونے والے بیٹسمین بابر اعظم کی جگہ ڈیبیو کرنے والے عثمان صلاح الدین سے باندھ لیں لیکن انہوں نے بھی مایوس کن کارکردگی دکھائی اور صرف 4 رنز پر ہی پویلین واپس لوٹ گئے۔ فہیم اشرف کھاتہ کھولے بغیر ہی آو¿ٹ ہوئے جب کہ محمد عامر نے 13 رنز کی اننگز کھیلی۔ انگلینڈ کی جانب سے جیمز اینڈریسن، اسٹورٹ براڈ اور کرس ووکس نے 3،3 وکٹیں حاصل کیں۔
واضح رہے کہ پہلے ٹیسٹ میں پاکستان نے انگلینڈ کو چاروں شانے چت کرتے ہوئے 9 وکٹوں سے شکست دی تھی۔

لیڈز ٹیسٹ: ٹاس جیت کر بیٹنگ کرنا بھاری پڑگیا، پاکستان مشکلات کا شکار

لیڈز(ویب ڈیسک )پاکستان لیڈز کے ہیڈنگلے کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلے جا رہے میچ میں انگلیںڈ کو شکست دے کر 22 سال بعد سیریز اپنے نام کرنے کی خواہاں ہے۔پاکستان کے کپتان سرفراز احمد کا ٹاس جیت کر کہنا تھا کہ لیڈز وکٹ بیٹنگ کے سازگار نظر آرہی ہے اور اس کا فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔یاد رہے کہ آخری مرتبہ قومی ٹیم نے وسیم اکرم کی قیادت میں 1996 میں انگلینڈ کو دو ایک سے شکست دے کر سیریز اپنے نام کی تھی۔ پاکستان اس اہم ترین میچ میں نوجوان بیٹسمین عثمان صلاح الدین کو ٹیسٹ کیپ دے گا جنہیں میچ کے دوران زخمی ہونے والے بابر اعظم کی جگہ شامل کیا جائے گا۔گزشتہ 8 میں سے 6 ٹیسٹ ہارنے والی انگلش ٹیم بدترین دور سے گزر رہی ہے جسے میچ جیت کر سیریز بچانے کا مشکل ترین چیلنج درپیش ہے۔انگلینڈ کو گزشتہ 6 ماہ میں آسٹریلیا کے ہاتھوں ایشیز میں چار صفر اور نیوزی لینڈ کے خلاف ایک صفر سے شکست ہوئی تھی۔اگر لیڈز ٹیسٹ پاکستان نے جیت لیا یا میچ ڈرا ہوگیا تو انگلش ٹیم جوئے روٹ کی قیادت میں مسلسل تیسری ٹیسٹ سیریز ہار جائے گی۔پاکستانی ٹیم متحدہ عرب امارات میں 13-2012 میں انگلینڈ کے خلاف کلین سوئپ کر چکی ہے اور اگر آج شروع ہونے والے لیڈز ٹیسٹ میں گرین کیپس نے میزبان ٹیم کو شکست دی تو سرفراز، مکی آرتھر اور انضمام کے کمبی نیشن میں پاکستانی شاہین ایک اور اعزاز اپنے نام کر کے بلندیوں کی جانب پرواز کریں گے۔

ایک انٹرویو کی بنیاد پر غداری کا الزام لگایا گیا: نواز شریف

فیصل آباد(ویب ڈیسک)سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ ن کے قائد نے کہا ہے کہ ایک انٹرویو کی بنیاد پر نواز شریف پر غداری کا الزام لگایا گیا۔نواز شریف کا فیصل آباد میں مسلم لیگ ن کے ورکرز کنوینشن سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ گھر کے بڑے ہونے کے ناطے ایک مسئلے کی نشاندہی کی تھی، نواز شریف نے نشاندہی کی تھی کہ اس مسئلے کی طرف توجہ دینی چاہیے لیکن ایک انٹرویو کی بنیاد پر غداری کا الزام لگا دیا گیا۔انہوں نے کہا کہ نواز شریف پر تنقید کی جا رہی تھی پر درانی صاحب کی کتاب سامنے آ گئی۔ان کا کہنا تھا کہ کونسا کرپشن کا الزام ہے، کونسی کرپشن ہوئی، میرے خلاف ایک دھیلے کی کرپشن بھی ثابت نہیں ہوئی تو پھر کیا وجہ ہے کہ روز پیشیاں بھگت رہا ہوں۔نواز شریف نے کہا کہ کام کیے، 20 گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ ختم کی اور ملک کو ایٹمی قوت بنایا کیا اس لیے میرے خلاف مقدمے بنائے گئے۔ان کا کہنا تھا کہ پچھلے 70 سالوں سے ووٹ کو عزت نہیں دی گئی لیکن اب نعرہ نہیں ووٹ کو عزت ملے گی۔عمران خان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے نواز شریف کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں لوگ جھوٹے خان کو کوستے ہیں، جھوٹے خان نے صوبے کی حالت پہلے سے بھی بری کر دی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختون خوا میں کوئی منصوبہ ہی نہیں جس کا افتتاح کیا جا سکے۔بلوچستان کی صورت حال کے حوالے سے بات کرتے ہوئے نواز شریف کا کہان تھا کہ پچھلے دنوں وہاں حکومت کوختم کیا گیا، بلوچستان کی حکومت کا تختہ کس نے الٹایا تھا؟قائد مسلم لیگ ن نے کہا کہ بلوچستان اسمبلی میں قرارداد منظورہوئی ہے کہ الیکشن ملتوی کیے جائیں، بتائیں بلوچستان اسمبلی میں لوگ کس کی بولی بول رہے ہیں، ہم انتخابات کو ملتوی ہونے نہیں دیں گے۔نواز شریف کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں قرارداد منظورکرنے والو دیکھ لو، قوم تمہاری قرارداد کو مسترد کرتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ سب جانتے ہیں الیکشن ہو گا تو ن لیگ ہی کامیاب ہو گی، الیکشن سے جھوٹا خان اور دوسری جماعتیں بھی ڈر رہی ہیں، یہ پارٹیاں اس لیے ڈررہی ہیں کہ انہیں پتا ہے کہ انہیں الیکشن میں شکست ہو گی۔

خواجہ آصف کی نااہلی سے متعلق عدالتی فیصلہ قبول کرتے ہیں، عمران خان

لاہور (ویب ڈیسک)چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے کہا ہے کہ خواجہ آصف کی نااہلی سے متعلق عدالتی فیصلے کو قبول کرتے ہیں۔لاہور میں مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما ذوالفقار کھوسہ کی تحریک انصاف میں شمولیت کے موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا ہم چاہتے ہیں کہ الیکشن بروقت اور شفاف ہوں۔نگران وزیراعلیٰ پنجاب کے معاملے پر بات کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ دنیا میں کہیں بھی نگران سیٹ اپ نہیں آتا، ا±ن کا الیکشن کمیشن اتنا مضبوط ہوتا ہے کہ انہیں نگران سسٹم کی ضرورت ہی نہیں پڑتی۔ان کا کہنا تھا کہ ہم نے ایمانداری کے ساتھ نام دیا جس پر بھرپور عوامی ردعمل سامنے آیا، ہم نے جو نام دیا وہ متنازع ہو جاتا ہے تو کیا ہم اسے اپنی انا کا مسئلہ بنا لیں۔چیئرمین تحریک انصاف نے کہا کہ الیکشن کے لیے ضروری ہے کہ جو بھی امپائر ہوں وہ نیوٹرل ہوں، ضروری یہ نہیں کہ تحریک انصاف نے جو نام دیا وہی آگے جائے بلکہ ضروری یہ ہے کہ الیکشن صاف و شفاف ہوں۔فاروق بندیال کی تحریک انصاف میں شمولیت اور پھر انہیں نکالے جانے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ جب تک وہ ن لیگ میں تھا تو اس پر کوئی بات نہیں ہوئی، ہمیں خوشی ہے کہ تحریک انصاف میں اس کے شامل ہونے پر عوامی ردعمل سامنے آیا اور تحریک انصاف میں ایک معیار ہے جس کی وجہ سے ہم نے اس معاملے کا فوری ایکشن لیا۔پرویز خٹک کی جانب سے الیکشن کمیشن کو انتخابات کے التوا کی درخواست پر بات کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا معاملے پر بات کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ پختونخوا کا ایک حقیقی مسئلہ ہے اس لیے پرویز خٹک نے الیکشن کمیشن کو خط لکھا۔ان کا کہنا تھا کہ ابھی خیبر پختونخوا میں الیکشن ہو جاتے ہیں اور پھر کچھ عرصے بعد فاٹا میں الیکشن ہوں گے تو خدشہ ہے کہ حکومت غیر مستحکم ہو جائے اس لیے ان کے خدشات درست ہیں۔سپریم کورٹ کی جانب سے خواجہ آصف کی تا حیات نااہلی ختم کرنے کے معاملے پر عمران خان نے کہا کہ جب دھاندلی کے معاملے پر جوڈیشل کمیشن بنا تو موجودہ نگران وزیراعظم چیف جسٹس تھے، انہوں نے جو فیصلہ دیا وہ ہمیں پسند نہیں تھا لیکن اس کے باوجود ہم نے وہی فیصلہ قبول کیا۔عمران خان نے کہا کہ ہم سڑکوں پر نہیں نکلے کہ ہمیں کیوں نکالا، اب پھر خواجہ آصف کا فیصلہ آیا ہے جسے ہم قبول کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہمیں سوچنا چاہیے کہ ایک ملک کا وزیر خارجہ کسی دوسرے ملک کی کمپنی کا ملازم بن جاتا ہے جس میں اس کا ہفتے میں 6 دن کام کرنے کا معاہدہ شامل ہے جو بہت بڑا مفادات کا ٹکراو¿ ہے۔چیئرمین تحریک انصاف نے کہا کہ اس معاملے کو اجاگر کرنا چاہیے کیونکہ یہ آگے چل کر بہت بڑا مسئلہ بن سکتا ہے، دنیا کی بہترین جمہوریت کو تو چھوڑیں بھارت میں بھی اس طرح کا تصور نہیں کیا جا سکتا۔

ہالی ووڈ فلم ’بی اینگ‘ میں کام کرنے والی پہلی سعودی اداکارہ

نیویارک(ویب ڈیسک)عہد حسن کامل ہالی ووڈ کی فلم میں کام کرنے والی پہلی سعودی اداکارہ بن گئی ہیں۔ عہد حسن کامل پہلی سعودی اداکارہ ہیں جو ہالی ووڈ کی کسی فلم میں کام کررہی ہیں۔ 14 نومبر 1980 کو سعودی دارالحکومت ریاض میں پیدا ہونے والی عہد حسن کامل 1998 میں امریکا منتقل ہوگئی تھیں اور انھوں نے نیویارک کی فلم اکادمی میں فلم اور اداکاری کی اعلیٰ تعلیم حاصل کی تھی۔عہد حسن کامل نیٹ فلیکس اور برطانوی نشریاتی ادارے کی مشترکہ منی ڈراما سیریز ” کولیٹرل“ میں بھی اداکاری کے جوہر دکھا چکی ہیں اور اس کے بعد ان کا نام ” ووگ عربی میگزین“ میں شامل کیا گیا تھا۔واضح رہے کہ رواں برس ریلیز ہونے والی ایکشن اور مارڈھاڑ سے بھرپور ہالی ووڈ فلم ’بی اینگ‘ کے ہدایتکار ڈوگلس سی ولیم ہیں۔

جنگی جنون میں مبتلا بھارت اسرائیل سے ٹینک شکن اسپائیک میزائل خریدے گا

نئی دہلی(ویب ڈیسک) بھارت نے اپنی اینٹی ٹینک استعداد کو بڑھانے کے لیے اسرائیل سے اسپائیک میزائل خریدنے کے لیے رضامندی ظاہر کردی ہے۔ مودی حکومت نے اسرائیل سے جنگی ٹینک پر حملہ کرنے والے اسپائیک میزائل کی خریداری میں دوبارہ دلچسپی ظاہر کردی ہے جس کے لیے اسرائیل سے 2014 میں مسترد کیے گئے معاہدے کو ایک بار پھر بحال کیا جائے گا۔ اس سے قبل بھارت نے 2017 میں ڈیفنس رسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن (DRDO) کی طرف سے اس طرح کے میزائل بھارت میں ہی تیار کرنے کے اعلان کے بعد اسرائیل سے دفاعی معاہدے کو منسوخ کردیا تھا۔بھارت یہ میزائل رافیل ایڈوانسڈ ڈیفنس سسٹم سے خریدے گا جس کے لیے بھارت کا اعلیٰ سطح کا وفد جلد اسرائیل کا دورہ کرے گا۔ تاہم اب تک اس ڈیل سے متعلق میڈیا کو آگاہ نہیں کیا گیا ہے دوسری جانب اسرائیلی حکام کا کہنا ہے دونوں ممالک کے درمیان دفاعی نظام کے حوالے سے مذاکرات جاری ہیں لیکن اس کی نوعیت کے حوالے سے کچھ نہیں کہا جاسکتا ہے۔واضح رہے کہ اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو نے رواں سال جنوری میں بھارت کا 6 روزہ دورہ کیا تھا جس میں بھارتی وزیراعظم کے ساتھ ہونے والی ملاقات میں باہمی دفاعی تعاون کے حوالے سے اہم فیصلے کیے گئے تھے۔ بھارت کا اینٹی ٹینک میزائل کی خریداری کا معاملہ بھی اسی دوران طے پایا تھا۔

کراچی میں نوجوانوں نے شہر میں شجر کاری کا عزم کرلیا

کراچی (ویب ڈیسک) نوجوانوں نے فیس بک پر بھی گرین کراچی کے نام سے مہم شروع کر رکھی ہے جس کے بعد یونیورسٹی روڈ پر صفورا چورنگی کے مقام پر نوجوانوں نے اپنی مدد آپ کے تحت شجر کاری بھی کی۔ مہم میں نوجوان ماحول دوست نیم کے پودے لگارہے ہیں اور انہوں نے عزم کا اظہار کیا ہے کہ مہم کی ابتدائ میں 200 نیم کے پودے لگائے جائیں گے۔ مہم میں شریک نوجوان فرحان حسین کا کہنا ہے کہ شجرکاری کے لیے فنڈز جمع کیے ہیں جس کے بعد پہلے مرحلے میں یونیورسٹی روڈ پر ماحول دوست درخت لگائیں جائیں گے۔ان کا کہنا ہے کہ ہم نیم کے پودے لگارہے ہیں تاہم متعلقہ اداروں سے اپیل ہے کہ وہ پودوں کو پانی دے کر افزائش کریں جب کہ ابتدائی مرحلے میں 200 نیم کے پودے لگارہے ہیں۔یاد رہے کہ شہر میں شدید گرمی اور ہیٹ ویو کے بعد شجرکاری پر زور دیا جارہا ہے جب کہ کئی نوجوانوں کی جانب سے سوشل میڈیا پر باقاعدہ مہم بھی شروع کی گئی ہے۔

سرفراز احمد پہلی بار ٹیسٹ میں ٹاس جیتنے میں کامیاب

لیڈز (ویب ڈیسک)لیڈز میں پاکستان کے کپتان سرفراز احمد پہلی بار ٹیسٹ میچ میں ٹاس جیتنے میں کامیاب ہوئے۔ 31 سالہ وکٹ کیپر سرفراز احمد کا بطور کپتان پانچ ٹیسٹ میچز میں یہ پہلا ٹاس تھا جو کہ ان کے حق میں آیا۔ امتیاز احمد مرحوم حنیف محمد، مرحوم وسیم باری ،راشد لطیف اور معین خان کے بعد سرفراز احمد بحیثیت وکٹ کیپر قومی ٹیم کی قیادت کرنے والے چھٹے وکٹ کیپر کپتان ہیں۔ اس سے قبل سرفراز احمد اب تک چار ٹیسٹ میچز میں پاکستان کی قیادت کر چکے ہیں۔ وہ سری لنکا کے خلاف دو،آئر لینڈ اور انگلینڈ کے خلاف ایک ایک مرتبہ ٹاس ہارے۔بطور کپتان مرحوم امتیاز احمد نے پاکستان کے لیے چار ٹیسٹ کھیلے اور تمام میں ٹاس جیتنے میں کامیاب ہوئے جب کہ کپتان کی حیثیت سے پاکستان کی طرف سے سب سے زیادہ 13 ٹیسٹ میچز میں قیادت کے فرائض معین خان نے انجام دیے۔ کامیابیوں کے معاملے میں معین خان اور راشد لطیف بطور وکٹ کیپر کپتان ہم پلہ رہے ہیں کیوں کہ دونوں نے چار چار ٹیسٹ میچز جیتے ہیں۔

پاکستان میں عید الفطرکے چاند کے کس روز زیادہ امکانات ہیں ،مشہور ماہر فلکیات کا چونکا دینے والا انکشاف

کراچی (ویب ڈیسک) ماہرین فلکیات کے مطابق پاکستان میں یکم شوال المکرم کا چاند 15 جون کو نظر آنے کا غالب امکان ہے جس کے باعث عید الفطر 16 جون کو منائی جائے گی۔15 جون کو چاند نظر آنے کے امکان کے باعث پاکستان میں رمضان المبارک کے روزوں کی تعداد ممکنہ طور پر 30 ہوگی۔شعبہ فلکیات جامعةالرشید کراچی کے مطابق شوال المعظم کے چاند کی پیدائش عالمی معیاری وقت کے مطابق بروز بدھ 15 جون 2018 کو 19:43 GMT/UT پر اور پاکستانی معیاری وقت کے مطابق بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب 00:43 پر ہوگی۔ پورے ایشیا سمیت اکثر دنیا میں اس روز کا چاند ، سورج سے پہلے غروب ہوجائے گا یا اس کی سطح الارضی ولادت ہی غروبِ آفتاب کے بعد ہوگی۔اکثر قدیم وجدید تحقیقات کے مطابق اس روز60عرضِ شمالی وجنوبی کے مابین جن علاقوں میں چاند نظر آنے کا بالکل واضح امکان ہے وہ یہ ہیں۔(1 )اکثر وسط مغربی افریقا (2 )اکثر جنوبی امریکا (3 )پورا وسطی امریکا (4 )اکثر ریاست ہائے متحدہ امریکا(1 ) جنوبی ایشیا کا کافی حصہ بشمول انتہائی جنوبی پاکستان و جنوبی انڈیا (2 ) اکثر افریقا (3 )انتہائی جنوب مغربی یورپ (4 ) اکثر کینیڈااس روز پاکستان میں چاند نظر آنے کے بارے میں خصوصی تفصیل یہ ہے : اکثر معیاراتِ رو¿یتِ ہلال حتیٰ کہ ملائیشیا کے ڈاکٹر الیاس کے تینوں معیارات کے مطابق اس روزپاکستان میں چاند نظر آنے کا امکان نہیں بعض معیارات کے مطابق صرف انتہائی جنوبی پاکستان میں اس روز چاند نظر آنے کا امکان تو ہے لیکن انتہائی معمولی و مشتبہ سا، الغرض جمعرات 29رمضان (14 جون) کو پاکستان میں چاند نظر آنے کا امکان تقریباً نہیں۔