وزن کم کریں ،پروٹین کا انتخاب درست ہے؟

لاہور ( ویب ڈیسک) بیسویں صدی کے آغاز میں آرکٹک میں ایک کھوج کے لیے نکلنے والے محقق الجامر سٹیفنسن نے پانچ سال صرف گوشت کھا کر گزارے۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ ان کے کھانے میں 80 فیصد چربی اور 20 فیصد پروٹین تھا۔20 سال کے بعد سنہ 1928 میں سٹیفنسن نے تقریباً ایک سال تک یہی تجربہ دوبارہ نیویارک کے بیلویو ہسپتال میں کیا۔ سٹیفنسن نے یہ تجربہ اس لیے کیا کیونکہ وہ ان لوگوں کو غلط ثابت کرنا چاہتے تھے، جو کہتے تھے کہ انسان صرف گوشت کھا کر زندہ نہیں رہ سکتا۔
لیکن بدقسمتی سے دونوں ہی تجربوں کے دوران وہ بہت جلد بیمار پڑ گئے۔ وجہ صاف تھی۔ سٹیفنسن چربی کے بغیر والی پروٹین کھا رہے تھے۔ اس لیے انھیں ’پروٹین پوائزننگ‘ ہوگئی۔ یعنی زیادہ پروٹین لینے کی وجہ سے مشکل ہوگئی۔سٹیفنسن نے جب اپنی خوراک میں تبدیلی کی اور اپنے کھانے پینے میں پروٹین کے ساتھ چربی کو بھی شامل کر لیا، ان کی یہ بیماری فوراً کم ہوگئی۔83 سال کی عمر میں موت سے پہلے سٹیفنسن نے کم کاربوہائیڈرئٹ اور کم چربی والی خوراک لینا جاری رکھی تھی۔سیفنسن کا معاملہ ان شروعاتی مثالوں میں سے ہے، جن کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ زیادہ پروٹین لینے سے انسان کی صحت پر بہت برا اثر پڑتا ہے۔پر یہ بات ایک صدی پرانی ہو گئی ہے۔ آج زمانہ یہ ہے کہ لوگ پروٹین کی بار، پروٹین شیک، پروٹین بولز کھاتے ہیں۔ اور ایسا تب ہو رہا ہے، جب زیادہ تر لوگوں کو معلوم ہی نہیں کہ انھیں کتنی پروٹین چاہیے، کس طریقے سے پروٹین لینی چاہیے، کتنی کم یا کتنی زیادہ پروٹین ہمارے لیے نقصان دہ ہے۔

محکمہ تعلیم کا کلرک کروڑ پتی بن گیا کئی فیکٹریوں کا مالک کیسے بن گیا تہلکہ خیز خبر

لاہور (کرائم رپورٹر)اینٹی کرپشن پنجاب سمیت وزیر اعلی شکایت سیل اور دیگر احتسابی اداروں میں انوکھی درخواست دائر، محکمہ تعلیم میں بطور کلرک بھرتی ہونے والے محمد یونس پرمبینہ طور پر کرپشن کی کمائی سے کروڑوں روپے کمانے اورمتعدد فیکٹریوں کے مالک ہونے کا نکشاف ، بجلی چوری کے مقدمات میں بھی نامزد ہے ،Act XLV-1860کی دفعہ 168اور 169کے تحت سرکاری ملازم بغیر این او سی کے دیگر کام نہیں کرسکتا ،محمد یونس نے اپنی بیٹی اور بہنوئی کو بھی محکمہ تعلیم میں بھرتی کروالیا ، متعلقہ اداروں کی جانب سے کاروائی میں نامعلوم تاخیر ملزم کے حوصلے بلند کرنے لگی۔ ذرائع کے مطابق وزیر اعلی شکایت سیل اور پنجاب اینٹی کرپشن سمیت دیگر احتسابی عدالتوں میں فیروز والا کے علاقہ رچنا ٹاﺅن کے رہائشی محمد یونس کے خلاف متعدد درخواستیں دائر ہوچکی ہیں جن میں بتایا گیا ہے کہ ملزم نے دوران سرکاری ملازمت بہت بڑے پیمانے پر کرپشن کی ہے ۔ ملزم کے خلاف وزیر اعلی شکایت سیل کو موصول ہونے والی درخواست میں لکھا ہے کہ محمد یونس ایف اے پاس کرکے محکمہ تعلیم میں بطور کلرک بھرتی ہوا تو اس وقت اس کے پاس صرف اپنے ذاتی ایک گھرکے سوا اور کچھ بھی نہیں تھا لیکن دیکھتے ہی دیکھتے وہ تین فیکٹریوں کا ملک بن گیا جو کہ رشوت کی کمائی سے بنائی گئی ہیں ۔محمد یونس کی ایک فیکٹری بھُلہ پھاٹک فیروز والا رچنا ٹاﺅن ، دوسری سگیاں پل لاہور اور تیسری دروغہ والا میں واقع ہیں جبکہ ملزم کے خلاف بجلی چوری کی ایف آئی آر بھی درج ہو چکی ۔ درخواست میں مزید بتایا گیا ہے کہ ملزم نے محکمہ تعلیم میں اپنی بیٹی ،بھائی اور بہنوئی غلام حیدر کو بھی ملازمت پر لگوا لیا ہے جبکہ اپنی بیٹی کو سرکاری ملازمت کے مقررہ قوانین سے قبل ہی ایک ضلع سے دوسرے ضلع میں تبادلہ بھی کروا لیا ہے ۔ محمد یونس کا ایک بھائی بھی ہے جسے پڑھنا لکھنا تک نہیں آتا لیکن اسے بھی اس نے محکمہ تعلیم کے دیگر کلرکوں سے ملی بھگت کر کے نارنگ منڈی کے ایک سکول میں بھرتی کروا دیا ہے تاہم اگر ان تمام کی انکوائری کی جائے تو بہت کچھ سامنے آئے گا ۔ سرکاری ملازم اگر بغیر اجازت کوئی دیگر کام کرے تو کنڈکٹ رول 1964/1966کی شق 16کے تحت اس کے خلاف کاروائی عمل میں لائی جاتی ہے جبکہ سرکاری ملازمت کے ساتھ دیگر کام کرنے کیلئے محکمہ سے این او سی لینا پڑتا ہے جو کہ اس کے پاس موجود نہیں ۔ تعزیرات پاکستان (Act XLV-1860)کی دفعہ 168اور 169کے تحت اگر کوئی سرکاری ملازم این او سی کے بغیر نوکری کے علاوہ کاروبار کرے تووہ ایک سال سزا اور جرمانے کا مرتکب ہوتا ہے ۔اس کے علاوہ پیڈا ایکٹ 2006کے تحت محکمہ تعلیم کو اختیار حاصل ہے کہ وہ ایسے افراد کے خلاف کاروائی کرے لیکن نامعلوم وجوہات کی بناءپر اس کے خلاف کسی قسم کی کوئی کاروائی نہیں کی جارہی ۔

پاکستان میں الیکشن اور امریکہ کوریا ملاقات بھی وقت پر ہو گی ۔بڑی خبر آگئی

(ویب ڈیسک) امریکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ان کی شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان سے 12 کو ملاقات پروگرام کے مطابق ہو گی۔ ایک ہفتہ قبل انھوں نے یہ ملاقات منسوخ کر دی تھی۔ٹرمپ نے یہ اعلان شمالی کوریا کے ایک اعلیٰ مندوب سے وائٹ ہاو¿س میں ملاقات کے بعد کیا۔مندوب جنرل کم یونگ چول نے شمالی کوریا کے رہنما کی جانب سے ایک خط صدر ٹرمپ کے حوالے کیا۔اسی بارے میں
پہلے صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ یہ خط بہت دلچسپ ہے، تاہم بعد میں اعتراف کیا کہ ابھی انھوں نے اسے نہیں کھولا۔انھوں نے کہا کہ سنگاپور میں ہونے والی سربراہی ملاقات میں کوریا کی جنگ کے باضابطہ خاتمے پر بات ہو سکتی ہے۔1950 اور 1953 کے دوران ہونے والی اس جنگ کا خاتمہ صلح سے ہوا تھا لیکن آج تک حتمی امن معاہدہ طے نہیں پا سکا۔صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاو¿س کے لان میں نامہ نگاروں کو بتایا: ‘ہم 12 جون کو سنگاپور میں مل رہے ہیں۔ سب کچھ اچھے طریقے سے طے پا گیا ہے۔
‘ہم ان کے لوگوں کو اچھی طرح جان گئے ہیں۔’صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ اس اجلاس میں لازمی نہیں ہے کہ شمالی کوریا کے متنازع ایٹمی پروگرام پر حتمی معاہدہ طے پا جائے۔
‘میں نے کبھی نہیں کہا کہ یہ ملاقات میں ہو گا۔ میرا خیال ہے کہ یہ ایک عمل کا حصہ ہو گا لیکن تعلقات بن رہے ہیں اور یہ بات بہت مثبت ہے۔’a

سندھ کی سیاست میں ہلچل ،پی ٹی آئی اور گرینڈڈیمو کر یٹک الائنس میں اتحاد کی تیاری

کراچی(آئی این پی) سندھ کی سیاست میں تہلکہ خیز تبدیلی تحریک انصاف اور گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس کے اتحاد کی صورت میں دکھائی دے رہی ہے، جس کے تحت مخدوم خاندان پیپلزپارٹی سے اپنی رفاقت ختم کر دے گا۔تحریک انصاف اورجی ڈی اے نے سندھ میں یٹ ٹو سیٹ ایڈجسمنٹ کر لی. شاہ محمود قریشی، مخدوم جمیل الزمان اورپیر نورمحمد شاہ جیلانی میں اتحاد ہو گیا جبکہ مخدوم خاندان پیپلز پارٹی سے اتحاد ختم کر دے گا۔ سیٹ ایڈجسٹمنٹ اس طرح سے کی گئی ہے کہ جمیل الزمان گروپ آزاد امیدوار میدان میں لائیں گا جبکہ تحریک انصاف نے ضلع مٹیاری سے امیدوار نہ لانے کا فیصلہ کیا ہے۔ دوسری جانب مخدوم سعید الزمان قومی اسمبلی کی اس نشست پر آزاد امیدوار ہوں گے جہاں سے 2013 میں شاہ محمود قریشی نے الیکشن لڑا تھا، مزید سیٹوں کے حوالے سے تبادلہ خیال جاری ہے۔

ہم یہ عدالتی حکم کسی صورت قبول نہیں کریں گے ،شاہد خا قان کا حیرت انگیز بیان

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ میں نے جمہوری عمل کو آگے بڑھایا ہے۔ کوئی سرکاری افسر عدلیہ کی وجہ سے کام کرنے کو تیار نہیں سرکاری افسر فیصلہ کرنے سے کتراتے ہیں۔ اعلیٰ افسروں کو عدالتوں میں بلا کر بے عزتی کی جاتی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری افسروں کے فیصلے نہ کرنے کی وجہ سے ملک کا ہزاروں ارب کا نقصان ہو چکا ے اور ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں اور پارٹی عدالتی فیصلوں کو من وعن قبول کرتے ہیں کبھی تنقید نہیں کی مگر سیاست کے فیصلے عدالتیں نہیں عوام کرتے ہیں اور عوام یہ فیصلے قبول نہیں کرتی۔ ذوالفقار بھٹو کا فیصلہ اب تک قبول نہیں کیا گیا۔ انہوں نے نواز شریف کے تمام مسائل کا تعلق پرویز اشرف کیس سے ہونے کے سوال پر انہوں نے کہا کہ نواز شریف کی بات میں حقائق ہیں۔ دھرنوں اور پانامہ کے بعد آج تک جو ہو رہا ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ ایک شخص سے ایک ارب روپے برآمد ہوئے مگر 4 سال سے اسکا کیس نہیں چل سکا۔ ایک خاتون سے ایئرپورٹ پر فارن ایکسچینج میں 5 کروڑ برآمد ہوا وہ بری بھی ہو گئیں اور پیسہ بھی واپس کر دیا گیا لیکن ملزم نواز شریف ہے نواز شریف کی نیب میں 70 پیشیاں ہو چکی ہیں نیب سے نواز شریف کو انصاف ملتا نظر نہیں آتا۔ فوج کے جمہوریت کے حوالے سے کردار پر انہوں نے کہا کہ فوج کا آئینی کردار ہے۔ ماضی میں 3 طبقے مارشل لاءکے دور سے گزرے ہیں اب ہمیں سول ملٹری تعلقات کو مثبت رہتا ہے۔ جمہوریت کو فوج سے کوئی خطرہ نہیں جمہوریت کو چلنے میں خطرہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ 60 دنوں میں اس بات کو لازم بنایا جائے کہ انتخابات شفاف ہونگے اور عوام قبول کرینگے۔ آئین کے مطابق انتخابات بروقت ہونے چاہئیں۔ تاہم عدالت التوا کا حکم ہے تو قبول کرینگے جس سے نے التوا کی کوشش کی ہے اسے آرٹیکل 6کا سامنا کرنا پڑے گا۔بروقت الیکشن نہ ہوئے تو عوام نتائج قبول نہیں کرے گی۔ ہمارے دور میں الیکشن کمیشن کا یہ بہت منفی رہا ہے ایسے رویے کی گنجائش نہیں ہے۔ الیکشن کمیشن کے خط کا جواب دیا مگر جواب نہیں ملا یہاں ادارے ایک دوسرے کی جگہ لینے کی کوشش کرتے ہیں۔ شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ نواز شریف جیل جانے کو بھی تیار ہیں ان پر ایک پیسے کی بھی کرپشن ثابت نہیں ہوئی۔ انکا کہنا تھا کہ وہ پہلے بھی کسی عہدے امیدوار نہیں تھا اب بھی نہیں ہیں۔ پارٹی سے ہجرت کرنے والے خانہ بندوش جہاں مفاد دیکھتے ہیں وہاں چلے جاتے ہیں بجلی کے بحران پر ان کا کہنا تھا کہ ملک میں لوڈشیڈنگ پانی کے مسئلے کی وجہ سے ہو رہی ہے۔ تاہم 90 فیصد صارفین کو سحر وافطار میں بجلی مل رہی ہے۔

سابق حکمرانوں سے اضافی پر وٹوکول ،گاڑیوں کی واپسی شروع

اسلام آباد (صباح نیوز) مسلم لیگ (ن)کی حکومت ے خاتمے کے ساتھ ہی سابق وزیراعظم نواز شریف سے بھی اضافی پروٹوکول گاڑیاں واپس لے لی گئیں۔ جمعہ کونوازشریف نیب ریفرنسز کی سماعت میں پیش ہونے کے لیے جوڈیشل کمپلیکس اسلام آباد پہنچے تو ان کے قافلے میں پروٹوکول کی کئی گاڑیاں نہیں تھیں، اس کے علاوہ ان کے ہمراہ جیمر والی گاڑی بھی نہیں تھی۔واضح رہے کہ نوازشریف کو نااہل قراردیئے جانے کے باوجود مسلم لیگ(ن)کی حکومت کے دوران انہیں بھرپور سیکیورٹی اور پروٹوکول فراہم کیا جاتا رہا ہے، سابق حکومت اس کا جوازسیکیورٹی خدشات کو قراردیتی رہی ہے۔

جوئے میں بیوی ہارنے والے شوہر نے موقع پر ہی لرزہ خیز اقدام کر دیا

ممبئی (ویب ڈیسک ) پولیس نے انڈیا کی مشرقی ریاست اڑیسہ میں ایک عورت کے خاوند اور اس کے دوست کے خلاف ریپ کا کیس درج کیا ہے۔پولیس کے مطابق متاثرہ عورت کے خاوند نے دوست کے ساتھ جوا کھیلا اور ہارنے کے بعد اپنی بیوی اس کے حوالے کر دی جس نے اس کا ریپ کیا۔
جب سسر کو اس بات کا پتہ چلا تو وہ اپنی بیٹی کی حمایت میں اس کے گاو¿ں چلے آئے۔ان کا کہنا ہے کہ پولیس نے پہلے ریپ کا مقدمہ درج کرنے سے انکار کر دیا تھا اور ان پر زور دیا کہ وہ ملزم سے سمجھوتہ کر لیں۔پولیس نے اس سے انکار کیا۔ خاوند اور اس کا دوست مفرور ہو گئے ہیں۔اانڈیا: گینگ ریپ کی شکایت پر پولیس کے غیرمہذب سوال پولیس حکام نے بی بی سی کو بتایا کہ متاثرہ خاتون کا طبی معائنہ کرایا جا رہا ہے جبکہ ملزمان کے خلاف متعدد دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ ’گذشتہ مہنے کی 23 تاریخ کی رات میرا شوہر رات گیارہ بجے گھر آیا اور مجھے ساتھ چلنے کو کہا۔ میں نے پوچھا کہاں جانا ہے تو اس نے کوئی جواب نہیں دیا۔‘’وہ مجھے زبردستی گاو¿ں سے باہر لے گیا جہاں اس کے دوست پہلے سے موجود تھے۔ میں انہیں بھائی کہتی تھی۔ انھوں نے مجھے بازو سے پکڑا اور اپنی طرف کھینچنے لگے۔ میں نے احتجاج کیا تو میرے شوہر نے میری ساڑھی اتار کر مجھے ان کے سامنے پیش کر دیا۔‘اس خاتون کا مزید کہنا تھا ’شرط جیتنے والے شخص سے مجھے کچھ دیر اپنے پاس رکھا اور مجھے ریپ کیا۔ تب مجھے پتا چلا کہ میرا شوہر مجھے جوئے میں ہار گیا تھا۔‘اگلے روز متاثرہ خاتون کی بیٹی نے اپنے نانا کو فون کر کے سارا واقعہ بتا دیا۔ اس کے نانا اپنے بیٹے کے ساتھ وہاں آ گئے۔متاثرہ خاتون کے والد کا کہنا تھا اس معاملے پر گاو¿ں کے گاو¿ں کے بزرگوں سے بھی بات کی کوئی سنوائی نہ ہونے پر وہ اپنی بیٹی کو اس کے دو بچوں سمیت اپنے ساتھ لے گئے۔

انتخابی بگل بجتے ہی شریف برادران نے عمران خان کے لیے ایسا پروگرام ترتیب دے دیا کہ سب دنگ رہ جائیں گے

لندن (آن لائن) عام انتخابات کا بگل بجتے ہی ریف برادران نے عمران خان کی سابقہ اہلیہ ریحام خان سے لکھوائی گئی کتاب لندن میں جاری کروا دی ہے۔ کتاب کی باضابطہ تقریب رونمائی ریحام خان آئندہ ہفتے لندن میں ہی کریں گی۔ ریحام خان نے سیاسی مقاصد کیلئے لکھی گئی کتاب میں خاوند اور بیوی کے مقدس رشتے کی دھجیاں اڑا کر رکھ دی ہیں۔ ریحام خان نے اپنے سابقہ خاوند اعجاز خان پر گھٹیا الزامات کی بوچھاڑ کے ساتھ ساتھ عمران خان کی ذات پر بھی ذومعنی حملے کئے ۔ لندن میں کتاب پڑھے جانے کے بعد پاکستانی کمیونٹی نے ریحام خان کے اپنے کردار پر سوالات اٹھا دیئے۔ پاکستانی نژاد ایک شہری نے برطانوی عدالت سے بھی رجوع کرلیا ۔ تفصیلات کے مطابق عمران خان سے طلاق لینے کے بعد میاں شہباز شریف اور امیر مقام کے ذریعے مسلم لیگ (ن) کےلئے کٹھ پتلی بن جانے والی ریحام خان نے عام انتخابات کا اعلان ہوتے ہی لندن میں اپنی کتاب کے اجراءکا اعلان کردیا ہے اور آئندہ ہفتے اس کی باقاعدہ تقریب رونمائی بھی کروانے جارہی ہیں۔ مصدقہ ذرائع کے مطابق مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے ریحام خان کو پیغام دیا ہے کہ تقریب رونمائی پر مسلم لیگ (ن) کی چھاپ نہ لگنے دی جائے اور تقریب میں زیادہ سے زیادہ برطانیہ میں مقیم پاکستانیوں کو مدعو کیا جائے۔ کتاب کے اجراءکے بعد برطانیہ میں مقیم پاکستانیوں نے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس کتاب سے اسلامی روایات کو پامال کردیا گیا ہے۔ اسلام نے ہمیں درس دیا ہے کہ میاں بیوی ایک دوسرے کا لباس ہیں لیکن ریحام خان نے اپنے دو سابق شوہروں پر گھٹیا الزامات لگا کر اسلامی اقدار سے روگردانی کی۔ ایک طرف ریحام خان نے اپنے سابق شوہروں پر گند اچھالا اور دوسری طرف اپنے کردار کے بارے میں ایک لفظ بھی نہیں لکھا۔ ریحام خان کی کتاب کے ابتدائی ردعمل میں برطانیہ کی مقامی عدالت میں ایک پاکستانی نژاد شہری نے مقدمہ بھی دائر کردیا ہے جبکہ کچھ شہری تقریب رونمائی کے بعد ریحام خان کو عدالت لے جانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق کتاب کے اجراءسے پہلے ریحام خان اور مسلم لیگی قیادت میں لمحہ بہ لمحہ رابطے رہے۔ شریف برادران کا خیال ہے کہ مذکورہ کتاب عمران خان کا آئندہ الیکشن سے پہلے کردار مسخ کرنے میں م¶ثر کردار ادا کرے گی۔ اقتدار سے رخصتی کے بعد شریف برادران نے ریحام خان کی کتاب سے بھاری امیدیں وابستہ کر رکھی ہیں۔

القاعدہ کی سعودی ولی عہد کو دھمکی

ریاض (ویب ڈیسک) القاعدہ نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کو خبردار کیا ہے کہ وہ مملکت میں ’گناہوں والے منصوبے‘ سے گریز کریں۔القاعدہ کے سیٹلائٹ چینل ’مدد نیوز بلیٹن‘ میں جاری بیان میں سعودی ولی عہد کو متنبہ کیا گیا ہے کہ وہ ایسے اقدامات اور منصوبوں سے اجتناب کریں جو ’گناہوں سے بھرپور‘ ہوں۔بیان میں کہا گیا کہ اصلاحات پسند ولی عہد نے مملکت میں خواتین کو گاڑی چلانے کی اجازت دی، ریسلنگ کے مقابلے منعقد کرائے جو کہ مخلوط تھے اور موسیقی کے بڑے بڑے کنسرٹ کا انعقاد کیا، اس کے ساتھ ساتھ مساجد کے بجائے سنیما گھروں کو آباد کرکے فلمیں دکھانا شروع کیں، ولی عہد کی جانب سے یہ تمام منصوبے گناہوں سے پر± ہیں جو انتہائی قابل مذمت اقدامات ہیں۔a

اداکار اور فلم ساز ارباز خان کی آئی پی ایل میں سٹے بازی ، پولیس نے طلب کر لیا

ممبئی( ویب ڈیسک )بالی وڈ کے اداکار اور فلم ساز ارباز خان کو آئی پی ایل میں سٹے بازی کے حوالے سے مہاراشٹر پولیس نے پوچھ گچھ کے لیے تھانے طلب کیا ہے۔پولیس نے تین روز قبل سونی جالان نامی ایک شخص کو سٹے بازی کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔ پوچھ گچھ کے دوران مبینہ طور پر انھوں نے ارباز کا نام لیا جس کے بعد پولیس نے ارباز کو پولیس سٹیشن میں حاضر ہونے کا سمن جاری کیا ہے۔پولیس کے تفتیشی افسر پردیپ شرما نے بتایا کہ ارباز خان کو اپنا بیان ریکارڈ کرانے کے لیے کل طلب کیا گیا ہے۔ انھوں نے کہا: ‘سونو جالان نے کچھ باتیں بتائی ہیں۔ ہم ارباز خان کا بیان لینے کے بعد ہم ان بیانات کی سچائی کی تفتیش کریں گے، اور اس کے بعد ہی کچھ کہہ سکیں گے۔’
ارباز خاں معروف اداکار سلمان خان کے بھائی ہیں اور وہ بظاہر سونو جالان کے واقف تھے۔پولیس کا کہنا ہے کہ جالان کا انڈیا میں بڑے بڑے لوگوں سے رابطہ تھا اور اس کے تعلقات پاکستان، افغانستان اور کئی دوسرے کرکٹ کھیلنے والے ملکوں تک پھیلے ہوئے تھے۔
ایک اعلیٰ پولیس افسر نے کہا ہے کہ وہ آئی پی ایل میں سٹے بازی کی تفتیش کر رہے ہیں لیکن انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ ارباز خان کو کس سلسلے میں طلب کیا گیا ہے۔

سپنا دوست محمد کھوسہ کو لے ڈوبی

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) سپنا کیس دوست محمد کھوسہ ی تحریک انصاف میں شمولیت کی راہ میں رکاوٹ بن گیا۔ تحریک انصاف نے دوست محمد کھوسہ کو پارٹی میں شامل کرنے سے انکار کردیا ہے اور اس حوالے سے ان کے پی ٹی آئی میں شمولیت کے تمام تر دعوے غلط ثابت ہوئے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق تحریک انصاف کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ دوست محمد کھوسہ کو سپنا کیس کے باعث پارٹی میں لینے سے انکار کردیا گیا ہے، بیان کے مطابق دوست محمد کھوسہ پر سپنا کیس کے حوالے سے الزاما ت تھے ۔ دوست محمد کھوسہ کے والد ذوالفقار کھوسہ نے خاندان سمیت آج عمران خان کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں تحریک انصاف میں شمولیت کا اعلان کیا تھا۔ یاد رہے کہ سپنا ایک ادا کارہ تھی جس سے بعد ازاں دوست محمد کھوسہ نے شادی کرلی جس سے ان کی ایک بیٹی تولد ہوئی تھی لیکن اچانک سپنا منظر عام سے غائب کردی گئی۔اسکے بعد سپنا کا کہیں سراغ نہیں ملا۔ سپنا کے خاندان والوں کی جانب سے درج کرائے مقدمہ میں دوست محمد کھوسہ کو اس کے قتل کے الزام کا سامنا رہاہے ۔

”بچے کو جنم دینے کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ میں اب” وہ“کام نہیں کر سکتی “ کرینہ کا بولڈ جواب

ممبئی (ویب ڈیسک) بولی وڈ اداکاراو¿ں یا خواتین کو لباس کی وجہ سے تنقید کا نشانہ بنایا جانا کوئی نئی بات نہیں، ماضی میں پریانکا چوپڑا، دپیکا پڈوکون اور سونم کپور سمیت کئی اداکاراو¿ں کو تنقید کا نشانہ بنایا جا چکا ہے۔اس بار بولڈ اور مختصر لباس پہننے پرتنقید کا نشانہ بنیں بولی وڈ بیبو کرینہ کپور، جنہیں اپنی فلم ’ویرے دی ویڈنگ‘ کی تشہیر کے دوران پہنے گئے لباس پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔کرینہ کپور اپنی بولڈ فلم ‘ویرے دی ویڈنگ‘ کی تشہیر کے دوران لباس بھی بولڈ اور قدرے مختصر پہن کر شریک ہوئیں، جس پر کئی مداحوں نے انہیں آن لائن تنقید کا نشانہ بنایا۔لوگوں کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنائے جانے کے بعد کرینہ کپور نے مجبورا وضاحت کی کہ انہیں نہیں پتہ کہ ایک ماں کا لباس کیسا ہونا چاہیے۔بھارتی نشریاتی ادارے ’مڈ ڈے‘ کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں کرینہ کپور نے ماں کا لباس کیسا ہونا چاہئیے کہ جواب میں کہا کہ ’ وہ نہیں جانتیں کہ ایک ماں کا لباس کیسا ہونا چاہئیے، تاہم ان کی والدہ اب بھی جدید اور فیشن ایبل لباس پہنتی ہیں، جس میں وہ انتہائی خوبصورت نظر آتی ہیں۔

نواز نے کلنٹن سے مل کر احتساب کا راستہ روکا حسین نواز بال ٹھاکرے سے ملے اور ”ہتھ ہولا رکھنے “کے لیے کہا روزنامہ خبریں کی اہم سٹوری

ملتان( میاں غفار) بے رحم احتساب اس وقت پوری قوم کا مطالبہ ہے اور قوم اس بات پر متفق ہے کہ پاکستان کا لوٹا ہوا تمام ترپیسہ واپس لایا جائے اور لٹیروں کو سزا دی جائے مگرگزشتہ روز خواجہ آصف کے حق میں آنے والے فیصلے نے امیدوں پرپانی پھیردیا ہے۔ ماضی میں جب سابق صدر فاروق احمدخان لغاری نے کرپشن کے الزام میں بے نظیربھٹو کی حکومت کاخاتمہ کیا تھا توانہوں نے ملک معراج خالدکونگران وزیراعظم بنایا۔ تب بھی سخت احتساب کا فیصلہ ہوا اورملک معراج خالد کو یہ یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ الیکشن کم از کم 2سال نہیں ہوں گے اور سخت ترین احتساب ہوگا مگراس دوران مسلم لیگ (ن) کے سربراہ میاں نواز شریف نے ایک لابنگ فرم کے ذریعے امریکی صدرکلنٹن سے معاملات طے کرلیے اور امریکی حکومت کی طرف سے پاکستان اسٹیبلشمنٹ اورنگران حکومت کوواضح پیغام دیاگیا کہ نوازشریف نے وعدہ کیا ہے وہ اقتدارمیں آکر بھارت سے تجارت کرے گا اور بھارت سے کسی بھی قسم کی محاز آرائی نہیں ہوگی لہٰذا الیکشن کروائے جائیں اور احتساب کاعمل روک دیاجائے۔ امریکی اداروں کی طرف سے ملنے والے واضح پیغام کے بعد فاروق لغاری سمیت تمام حکومتی ادارے احتساب کے عمل کوبھول کر بروقت الیکشن کروانے پرمجبور ہوگئے۔ نوازشریف کے اقتدار میں آنے کے بعدنوازشریف کے صاحبزادے حسین نواز مبینہ طور پر بھارت جاکر بال ٹھاکرے سے بھی ملے کہ ان پر ہولاہتھ رکھاجائے اورانہیں بھارت میں شوگر وسٹیل ملیں لگانے دی جائیں اس دورمیں نوازشریف کی دوستی بھارتی سٹیل کنگ جندال سے ہوئی۔ انتہائی باخبر ذرائع کے مطابق نوازشریف گزشتہ 3ماہ سے پھر وہی گھناو¿نا کھیل کھیل رہے ہیں اور ڈان اخبار کو انٹریو بھی اس کھیل کاحصہ ہے کہ امریکہ کوپیغام دیا جاسکے میں اسی تنخواہ پرخدمات کےلئے حاضر ہوں۔ ذرائع کے مطابق اس مرتبہ حالات قدرے مختلف ہیں کہ موجودہ حالات میں پاکستانی فوج، اسٹیبلشمنٹ اوردیگرادارے امریکہ سے تناو¿ میں ہیں۔ اس لیے اس تناو¿ کے ماحول میں امریکہ براہ راست دباو¿ ڈالنے کی پوزیشن میں نہیں ہے مگرنوازشریف مسلسل یہ پیغام دے رہے ہیں کہ وہ بھارت کے حوالے سے امریکی پالیس پر من وعن عمل کریں گے۔ نوازشریف 2013ءمیں عالمی قوتوں سے یہ وعدہ بھی کرکے آئے تھے کہ وہ توہین رسالت کاقانون ختم کریں گے مگرسخت عوامی دباو¿ کی وجہ سے وہ ایسا نہ کرسکے۔ اس وجہ سے بھی نوازشریف کے پیغامات مو¿ثرانداز میں عالمی اسٹیبلشمنٹ کونہیں پہنچ رہے اور پاکستانی اسٹیبلشمنٹ سخت احتساب پرڈٹی ہوئی ہے ۔ اگلے چنددنوں میں صورتحال واضح ہوجائے گی کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے اور احتساب کے جاری عمل کاانجام کیا ہوتا ہے۔ کیونکہ نوازشریف اس وقت مکمل طور پر امریکی اورعالمی اسٹیبلشمنٹ کوخوش کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔