’’مسلمانوں آج سے تم آزاد ہوگئے‘‘، قرارداد پاکستان کی جھلکیاں

لاہور (ویب ڈیسک) بریگیڈیئر ڈاکٹر منظور احمد 1939ء کے اس زمانے میں کالج داخل ہوئے جب شمالی ہند کے مسلمانوں کے لیے منزل کا تعین ہونے والا تھا۔ اس لیے انہوں نے مسلم اسٹوڈنٹس فیڈریشن کو ’’ان ایکشن‘‘ دیکھا اور قرارداد پاکستان کی پوری کارروائی میں شریک رہے۔ پھر انہوں نے کالج میں 1941ء کا پاکستان سیشن بھی دیکھا۔ یہاں ہم ان کی یادوں کے اس طربناک حصہ کو نذر قارئین کرتے ہیں جسے وہ اپنی زندگی کا ایک گنج گراں سرمایہ سمجھتے تھے۔’’نعمت اور شکر کے جذبات کے ساتھ اس حقیقت کا اظہار مقصود ہے کہ میرے نزدیک 1940ء سے قبل ہی پاکستانی بن چکا تھا۔ اس قلبی کایا پلٹ کا سبب ہمارے سکول کے شفیق اور متقی ہیڈماسٹر دین محمد مرحوم کی تعلیم و تربیت تھی۔ مرحوم علامہ اقبال کے سیاسی افکار اور شعری کلام سے بہت متاثر تھے اور ان کی ترویج ان کی زندگی کا مشن تھا۔ ان کی اس رضا کارانہ تدریس (سکول میں انگریزی کے استاد تھے) سے اس ملی تصور و جذبہ کی تخم ریزی ہوئی جس کا اظہار علامہ اقبال کے اس ایمان افروز شعر سے ہوتا ہےاپنی ملت پر قیاس اقوام مغرب سے نہ کرخاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمیکشت طلباء میں یہ تخم ریزی آئندہ سالوں میں برگ و بار لائی وہ انہیں 23 مارچ 1940ء کے تاریخ ساز اجلاس میں منٹوپارک لے گئی۔ جسے اب اقبال پارک کہا جاتا ہے اور جہاں آج مینار پاکستان اس عظیم قرارداد کی یاد دلا رہا ہے جس نے سات سال کی قلیل مدت میں ایک قوم کی تقدیر پلٹ دی۔یہاں برصغیر کے گوشے گوشے سے مسلم لیگی اکابرین اور کارکنان جمع ہوئے تھے۔ ان کی تعداد آج کل کے سیاسی اجتماع کے مقابلہ میں بوجوہ کم تھی۔ تقریباً ایک لاکھ ۔۔۔۔ میرا اندازہ تو اس سے بھی کم ہے لیکن بعض شرکاء جلسہ کا یہی خیال ہے۔ اب تو زمانہ کا مزاج ہی بدل گیا ہے۔ رنگ ہی کچھ اور ہے۔دولت اور وسائل کے زور سے لاکھوں کی تعداد میں سامعین اکٹھے کئے جاتے ہیں۔ رضاکارانہ جمع ہونے اور ناظرین کو اٹھا کے لے جانے کا فرق واضح ہے۔ پہلی صورت اخلاص کی مظہر ہے اور دوسری دولت اقتدار اور حرض و ہوس کی نمایاں عکاس۔

قرارداد پاکستان کے عظیم اجتماع کے بارے میں بریگیڈئر منظور یو رقم طراز ہیں ’’ اس تاریخی اجلاس کے لاہور میں انعقاد کے باعث میزبانی کی سعادت پنجاب مسلم لیگ کے حصہ میں آئی اور بہ تقاضائے روایت پنجاب کے وزیراعظم (صوبہ کے وزیراعلیٰ کو وزیراعظم کہا جاتا تھا) سرسکندر حیات کو قرارداد لاہور (جسے بعد میں قرارداد پاکستان کا نام دیا گیا تھا) پیش کرنا تھی۔ لیکن چند روز قبل ایک المناک حادثہ وقوع پذیر ہوا اور وہ اس شرف سے محروم کردیئے گئے۔خاکساروں کے ایک جلوس پر لاہور میں پنجاب پولیس نے وحشیانہ انداز میں گولی چلائی اور جلوس کے بہت سے شرکاء بھون کر رکھ دیئے۔ اس تاریخ ساز اجلاس سے تین یوم قبل اس سفاکی اور بربریت کے مظاہرہ نے جلیانوالہ باغ کی یاد تازہ کردی اور لاہور کی فضا میں ایک طوفان اٹھ کھڑا ہوا۔ لوگوں کے اذہان میں مختلف اندیشوں نے جنم لیا، قسم قسم کی چہ میگوئیاں ہونے لگیں۔ مثلاً یہ جلسہ کو روکنے کی ایک سوچی سمجھی سازش ہے۔یہ بھی حقیقت ہے کہ اس المیے کے بعد سرسکندر حیات خان اور ان کے رفقاء نے قائداعظم کو جلسہ ملتوی کرنے کا مشورہ دیا۔ لیکن قائد نے ماننے سے صاف انکار کردیا۔ اندریں حالات قرارداد پاکستان پیش کرنے کی سعادت مولوی اے کے فضل الحق کو نصیب ہوئی جو مجوزہ پاکستان کے دوسرے بڑے صوبے بنگال کے وزیراعظم تھے۔شرکائے جلسہ کو یہ بھی یاد ہوگا کہ مولوی فضل الحق جلسہ گاہ میں دیر سے پہنچے تھے۔ انہوں نے 23 مارچ کی صبح کو بذریعہ کلکتہ ایکسپریس لاہور پہنچنا تھا۔ لیکن ریل گاڑی چند گھنٹے کی تاخیر سے پہنچی اور مولوی صاحب کو ریلوے اسٹیشن سے سیدھا جلسہ گاہ میں لایا گیا۔

قرارداد انگریزی میں پیش کی گئی۔۔۔ جو آج بھی مینار پاکستان پر کندہ ہے۔ اس کا ترجمہ پنے وقت کے عظیم اور کثیر الجہت (عظیم شاعر نثر نگار سیاست دان صحافی اور دینی سکالر) مولانا ظفر علی خان نے کیا۔ مولانا کی تقریر کے ابتدائی جملے مجھے ابھی تک یاد ہیں۔ انہوں نے فرمایا کہ مسلمانو! آج سے تم آزاد ہوگئے ہو۔ مولانا کی دور رس نگاہوں کی داد دینا پڑتی ہے کہ ان کی پیش گوئی نے سات سال بعد حقیقت کا روپ دھارا آپ نے اپنا ایک قطعہ بھی پڑھا تھا جس کے آخری دو مصرعے یوں تھے۔

تہذیب نو کے منہ پہ وہ تھپڑ رسید کر

جو اس حرامزادی کا حلیہ بگاڑ دے

ان کا مقصد اس حقیقت سے پردہ اٹھانا تھا کہ پاکستان میں اسلامی اقدار کا بالفضل خدا نفاذ ہوگا۔

انگریز سرکار اس اجلاس کی کامیابی نہیں چاہتی تھی اس حوالے سے بریگیڈیر منظور لکھتے ہیں ’’منٹوپارک حکومت پنجاب کی تحویل میں تھا اس میں سیاسی اجتماع کے انعقاد کے لیے حکومت سے اجازت لینا پڑتی تھی۔ جس کے لیے ہوم سیکرٹری کو درخواست دی گئی۔ اس وقت ایک جابر انگریز افسر میکڈانلڈ سیکرٹری تھے۔ انہوں نے اعتراض کے ساتھ درخواست واپس کردی کہ قواعد کی رو سے یہ میدان سیاسی جلسہ کے لیے استعمال نہیں کیا جاسکتا۔

ان دنوں پنجاب کے وڈیروں کی ایک جماعت یونیلسٹ پارٹی کی حکمرانی تھی۔ جسے انگریز کی داشتہ کہیں تو بے جا نہیں ہوگا۔ سرسکندر حیات کاغذ پر وزیراعظم ضرور تھے۔ دراصل بشمول دیگر مسلم اراکین اسمبلی ان کی وفاداری کا اولین مرکز فرنگی تھے۔ مسلم لیگ سے وابستگی سطحی اور نظریہ ضرورت کے تحت تھی۔

اس میں ایک استثنا قائداعظم کے مخلص رفیق ملک برکت علی مرحوم کی ذات تھی جو ان طرہ بازوں سے اکیلے 1944ء تک نبرد آزما رہے۔ جہاں تک یونینسٹ جاگیرداروں کا تعلق ہے ان پر تھوڑی ترمیم کے ساتھ علامہ کا یہ شعر پوری طرح صادق آتا ہے۔

ٹامی کے سائے میں ہم پل کر جوان ہوئے ہیں

ہے ڈیڑھ فٹ کا طرہ قومی نشان ہمارا

جولائی 1944ء میں 26 اراکین اسمبلی پر مشتمل مسلم لیگ پارٹی معرض وجود میں آئی۔ اس میں وہ ’’قومی درد‘‘ رکھنے والے رکن بھی شامل ہوئے جو آج اپنی یادداشتوں میں ملک برکت علی مرحوم پر تنقید کے تیر چلاتے ہیں۔ میں نے ایک جلسہ میں ان ’’خالص اور وڈے‘‘ مسلم لیگی حضرات کا حدود اربعہ بیان کرکے یہ حساب بے باک کردیا تھا جس کے بعد یہ حضرات محتاط ہوگئے ہیں۔ یہ تو محض ایک جملہ معترضہ تھا۔

میں ذکر کررہا تھا جلسہ گاہ کی اجازت کا۔ چونکہ چند ماہ قبل 1940ء منٹو پارک میں اکالی دل (سکھوں کی معروف سیاسی جماعت) کا جلسہ ہوچکا تھا جس کا ابو سعید انور مرحوم کو علم تھا۔ اس لیے اس جلسہ کے حوالے سے دوبارہ درخواست بھیجی گئی اور منظور ہوئی۔

اکالی دل نے چونکہ جلسہ گاہ کا کرایہ مبلغ تین صد روپے دیا تھا اس لیے کچھ لیت و لعل کے بعد اسی کرایہ پر جانبین میں اتفاق ہوا۔ اس تاریخی اجلاس کی انتظامیہ کمیٹی کا دفتر ممدوٹ ولاکی ’’انیکسی‘‘ کو بنایا گیا۔ ابو سعید انور اس کمیٹی کے فعال رکن تھے۔ مسلسل دو ماہ تک ہر صبح امرتسر سے اپنے کرایہ پر بذریعہ گاڑی لاہور آتے اور شام کو اسی طرح واپسی ہوتی۔

دوپہر کا کھانا ڈیوس روڈ کے اڈہ تانگہ کے ایک نان چنا چھابڑی فروش سے کھاتے۔ البتہ عصر کی چائے کا بندوبست صاحب خانہ کا تھا۔ جلسہ کے لیے چالیس ہزار روپے کا چندہ جمع ہوا۔ اس میں سکندر حیات کی اپیل کا بھی دخل تھا جو انہوں نے ایک خط کی صورت میں تمام مسلم ممبران اسمبلی کو بھیجا۔ اس بات کو بھی ریکارڈ پر لانا ضروری ہے کہ ایک ہزار روپے سے زائد کسی صاحب کا چندہ نہیں تھا۔

بعد میں جو دعوے سننے میں آئے بے اصل ہیں۔ اجلاس کے کل اخراجات مبلغ ستائیس ہزار روپے تھے۔ اتنے بڑے اجتماع کے اس قدر کم اخراجات کو ماننے میں آج تو کیا اس دور کے مسلم لیگی عمائدین کو بھی تردد تھا۔ حتیٰ کہ آئندہ سال دسمبر 1941ء میں آل انڈیا مسلم لیگ مدراس اجلاس کے منتظمین کے استفسار پر یہ رقم بتائی گئی تو انہوں نے ذہنی تحفظ کے ساتھ اسے تسلیم کرلیا لیکن بقول ابو سعید انور یہی حقیقت تھی۔ کارکنان و منتظمین نے تمام کام انتہائی رعایتی نرخوں پر کروائے۔

منتظمین کی ملی جذبہ سے درد مندانہ اپیل موثر ثابت ہوئی۔ خیمہ قنات، فرنیچر وغیرہ کے کنٹریکٹر نے مروجہ کرایہ سے نصف رقم وصول کی۔ اس کا نام تو یاد نہیں۔ کوئی غیر معروف ٹھیکیدار تھا خیال ہے کہ علی احمد کمپنی نے یہ خدمات سرانجام دیں۔ اس رائے کو اس امر سے بھی تقویت ملتی ہے کہ ان کے پاس وہ تاریخی کرسی اب بھی موجود ہے جس کو حضرت قائداعظم کے بطور صدر جلسہ نشست کا شرف حاصل ہے۔

مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ اہلیان لاہور کو اس اجلاس سے متعارف کروانے کے لیے ایک ہفتہ قبل باغ بیرون موچی دروازہ لاہور ایک تقریب ہوئی جس میں مقررین نے اس تاریخ ساز اجتماع کی غرض و غائیت پر روشنی ڈالی۔جلسہ گاہ کا جو نقشہ بریگیڈیئر صاحب کے ذہن میں محفوظ ہے۔

اس کے مطابق۔۔۔ ’’منٹو پارک میں مندوبین۔۔ اور کارکنان کی رہائش کے لیے ایک خیمہ بستی بنائی گئی۔ جس کی نگہداشت کے فرائض مسلم لیگ نیشنل گارڈ صوبہ سرحد کے ارکان نے سرانجام دیئے۔ خیمہ میں ڈاک خانہ، تار گھر اور سستے ہوٹل قائم کیے گئے۔ رات کی سردی سے بچاؤ کے لیے آگ اور گرم پانی کا معقول بندوبست تھا۔

نظریہ پاکستان کے متعلق اب بھانت بھانت کی بولیاں سننے میں آرہی ہیں جن کے احاطے کی یہاں گنجائش نہیں۔ ستم تو یہ ہے کہ میٹرک کی اردو کے کورس کی کتاب میں پاکستان پر جو مضمون لکھا گیا ہے اس میں خاصا ابہام ہے۔ لیکن اگر آپ 1940ء کے اس تاریخی جلسے میں موجود ہوتے تو اس ماحول کو ایک جملے میں یوں بیان کیا جاسکتا ہے کہ ہماری قوم کی اساس وحدت ایمانی ہے اور پاکستان میں قرآن کی حکمرانی ہو گی۔ یعنی نظریہ کے دو اجزاء ہیں پہلا جزو ہماری قومیت کی فکری اساس ہے اور دوسرا دستور العمل فکری اساس ہی عملی رویے کا تعین کرتی ہے۔

1941ء میں پنجاب مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کے زیر اہتمام اسلامیہ کالج لاہور میں ایک عظیم الشان کانفرنس ہوئی تھی جسے پاکستان سیشن کا نام دیا گیا۔میں اُس وقت کالج کا طالب علم تھا۔ جب 1941ء میں پنجاب مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن نے پاکستان کانفرنس منعقد کرنے کا ارادہ کیا لیکن بعدازاں قائداعظم کی ہدایت پر اسے سالانہ جلسے کا نام دیا گیا۔

مولانا عبدالستار نیازی اس تقریب کے روح رواں تھے۔ یکم مارچ 1941ء کو اسلامیہ کالج لاہور کی گراؤنڈ میں بعد نماز عشاء پہلی نشست ہوئی۔ مرزا عبدالحمید صدر پنجاب مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن نے خطبہ استقبالیہ پیش کیا۔ مرزا صاحب آسٹریلین مسجد میں خطیب اور اسلامیہ کالج میں ایم اے عربی کے طالب علم تھے۔ بڑے اچھے مقرر تھے۔ خطبہ استقبالیہ کے بعد مولانا عبدالستار نیازی نے ایک ولولہ انگیز تقریر کی۔

قیام پاکستان کے بعد بھی مولانا کی تقریر سننے کا کئی مرتبہ اتفاق ہوا لیکن وہ گھن گرج دیکھنے میں نہیں آئی جو تحریک کے ایام میں تھی۔ اس کا اندازہ اہل دل حضرات ہی کرسکتے ہیں۔ مولانا کی قلبی کیفیت اقبال کے اس شعر کے مصداق تھی۔

مرزعۂ سوختۂ عشق ہے حاصل میرا

درد قربان ہو جس دل پہ وہ ہے دل میرا

ایک سیل رواں تھا جو امڈا چلا آرہا تھا اور قرآن فروش نوابوں، بے ضمیر وڈیروں، نیشلسٹ علماء کو خس و خاشاک کی مانند بہا کر لے جا رہا تھا۔ مولانا کی اس دور کی تقاریر سے اب تک گوش لذت گیر ہیں۔ مولانا نے سرسکندر کو جو اسٹیج پر موجود تھے مخاطب کرکے کہا کہ میں اسے ٹکے کا آدمی نہیں سمجھتا۔ سنا ہے کہ سرسکندر کی آنکھیں تر ہوگئیں۔ آخر میں قائداعظم صرف چند منٹ کے لیے بولے۔ انہوں نے تقریر کا آغاز اس مشہور جملے سے کیا۔

”This is the month of March Let us march on”

’’یہ مارچ کا مہینہ ہے ، تم بھی مارچ کرتے ہوئے بڑھے چلو‘‘

قائداعظم اور پروفیسر ریاض شاہ
قائداعظم کے حوالے سے ایک بات جو ان کی وفات سے دو تین دن پہلے پروفیسر ڈاکٹر ریاض علی شاہ کی ان سے ملاقات میں ہوئی۔ قائداعظمؒ نے ان سے فرمایا۔ تم جانتے ہوکہ جب مجھے احساس ہوتا ہے کہ پاکستان بن چکا ہے، تو میری روح کو کس قدر اطمینان ہوتا ہے۔ یہ مشکل کام تھا اور میں اکیلا اسے کبھی نہیں کرسکتا تھا۔ میرا ایمان ہے کہ یہ رسول خداﷺ کا روحانی فیض ہے کہ پاکستان وجود میں آیا۔ اب یہ پاکستانیوں کا قرض ہے کہ وہ اسے خلافت راشدہ کا نمونہ بنائیں تاکہ خدا اپنا وعدہ پورا کرے اور مسلمانوں کو زمین کی بادشاہت دے۔

(پروفیسر ریاض کی کتاب ’’میرا قائد‘‘ سے اقتباس)

بیگم رعنا لیات علی خان کے وہ الفاظ جنہیں ’’ہیکٹر بولتھو‘‘ نے اپنی کتاب ’’کرییٹر آف پاکستان‘‘ میں شامل کیا ہے
’’اپنی بے پناہ دیانت داری کے علاوہ جناح میں دوسروں کو متاثر کرنے کی غیر معمولی صلاحیت تھی۔ وہ جب کسی فرد یا مجمع کو متاثر کرنے کا تہیہ کرلیتے تو بالآخر اس پر چھا جاتے تھے۔ میں نے تو کئی مرتبہ انہیں انگلی اٹھا کر کسی سے یہ کہتے سنا ’’تم مہمل باتیں کررہے ہو اور خود نہیں سمجھتے کہ کیا کہہ رہے ہو‘‘ اس سرزنش پر ان کا مخاطب ہمیشہ چپ ہوکر بیٹھ جاتا۔ لیکن ان کے سحر کار انداز خطاب کی اصل شان اس وقت ظہور میں آتی جب وہ کسی بڑے مجمع میں تقریر کرتے۔ یہاں وہ اپنا یک چشمہ اکثر استعمال کرتے۔ پہلے وہ آنکھ پر لگاتے۔ پھر ہٹا کر بولنا شروع کرتے۔ ان کے اور ان کے سامعین کے درمیان غیر زبان کی بڑی اونچی دیوار حائل تھی کیوں کہ وہ انگریزی میں تقریر کرتے تھے اور اکثر سامعین انگریزی سے بالکل ناواقف ہوتے لیکن اس کے باوجود لوگ شوق سے ان کی تقریر سنتے اور اس کا ایسا اثر ان پر ہوتا جیسے کسی نے جادو کردیا ہو۔

کردار کی عظمت کے ساتھ ساتھ الفاظ کا یہی جادو تھا جس نے دو قومی نظریے کو بنیاد سے حقیقی ریاست کی جغرافیائی سچائی بنائے جانے تک کا سفر کروا دیا۔ نسلوں سے شکست خوردہ گروہ اس سچائی سے آنکھیں پھیر سکتا ہے نہ ہی اس تاریخی حقیقت کو مغالطے کی دھول سے اڑسکتا ہے۔‘‘

جناح آف پاکستان کے مصنف سٹینلے والپرٹ کا خراج تحسین
’’بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جو تاریخ کا دھارا بدل دیتے ہیں اور ایسے لوگ تو اور بھی کم ہوتے ہیں جو دنیا کا نقشہ بدل دیتے ہیں اور ایسا تو کوئی کوئی ہوتا ہے جو ایک نئی مملکت قائم کردے۔ محمد علی جناح ایک ایسی شخصیت ہیں جنہوں نے بیک وقت تینوں کارنامے کر دکھائے۔

یوم پاکستان کی مناسبت سے اسلام آباد میں مسلح افواج کی پریڈ

اسلام آباد(ویب ڈیسک) یوم پاکستان کی مناسبت سے شکر پڑیاں گراو¿نڈ اسلام آباد میں مسلح افواج کی شاندار پریڈ کا انعقاد کیا گیا۔ شکر پڑیاں پریڈ گراو¿نڈ اسلام آباد میں مسلح افواج کی شاندار مشترکہ پریڈ کا انعقاد کیاگیا، جس میں صدر مملکت ممنون حسین، وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، تینوں مسلح افواج کے سربراہان، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل زبیر محمود حیات سمیت دیگر سول و عسکری حکام نے شرکت کی۔تقریب کے مہمان خصوصی سری لنکا کے صدر متھری پالا سری سینا تھے۔ اس کے علاوہ برادر ملکوں کے سفرا بھی تقریب میں موجود تھے۔تقریب میں صدر مملکت ممنون حسین روایتی انداز میں گھڑ سوار دستے کے حصار میں پریڈ گراو¿نڈ پہنچے جہاں مسلح افواج کے سربراہان نے صدر مملکت کا استقبال کیا۔ اس موقع پر قومی ترانہ بجایا گیا اور انہیں سلامی دی گئی۔ سلامی کے بعد جیپ میں سوار صدر مملکت نے پریڈ میں حصہ لینے والے مسلح افواج کے دستوں کا معائنہ کیا۔یوم پاکستان پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے صدر مملکت ممنون حسین کا کہنا تھا کہ ملکی تاریخ میں 23 مارچ جیسا کوئی دن نہیں، 23 مارچ 1940 کو ہمارے بزرگوں نے اپنے مستقبل کا فیصلہ کیا۔ ہماری امن دوستی کو کمزوری سمجھنا خطرناک ثابت ہوگا، ہمارا ہمسایہ اپنی فوجی قوت میں مسلسل اضافہ کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا پاکستان کشمیریوں کے جائز حق کیلئے کردار ادا کرتا رہے گا، افغانستان میں امن کیلئے پاکستان نے کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ یہ شاندار پریڈ ہمارے خوابوں کی تعبیر ہے، سری لنکن صدر کی پریڈ میں شرکت پر شکر گزار ہیں۔صدر مملکت کے خطاب کے بعد مسلح افواج کے دستوں نے مارچ پاسٹ اور پاک فضائیہ کے شاہینوں نے اپنی مہارات کا ثبوت دیا، پاک فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل مجاہد انور نے ایف 16 پر سلامی دی۔ اس کے علاوہ پنجاب، سندھ، خیبرپختونخوا، بلوچستان، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے ثقافتی فلوٹس بھی برآمد ہوئے۔

آسٹریلیا کی کرکٹ ٹیم کب دورہ کریگی ،کینگروز کو پاکستان میں دیکھنے والوں کیلئے خوشخبری

کراچی (ویب ڈیسک)پی ایس ایل کے شاندار انعقاد کی وجہ سے آسٹریلوی کرکٹ ٹیم کے پاکستان آنے کے امکانات روشن ہوگئے ۔آسٹریلوی ہائی کمشنر کا کہنا ہے کہ پی ایس ایل کی وجہ سے امید ہے کہ جلد آسٹریلوی ٹیم بھی پاکستان کا دورہ کرے گی۔

باﺅلرز کیلئے خوف کی علامت ،مایہ ناز بلے باز کرس گیل نے ریٹائرمنٹ کا علان کر دیا

ہرارے (ویب ڈیسک) ویسٹ انڈیز کے مایہ ناز بلے باز اور ٹی 20 کرکٹ میں باو¿لرز کی دھجیاں اڑانے سے شہرت رکھنے والے کرس گیل نے ورلڈکپ 2019ئ کو اپنا آخری ٹورنامنٹ قرار دیدیا ہے جس کے باعث پوری دنیا میں اپنے مداحوں افسردہ ہو گئے ہیں۔کرس گیل ورلڈکپ کوالیفائنگ راو¿نڈ کھیلنے کیلئے زمبابوے میں موجود تھے جہاں انہوں نے متحدہ عرب امارات کیخلاف میچ میں شاندار سنچری بھی سکور کی مگر اس کے بعد کے میچوں میں خاطرخواہ کارکردگی دکھانے میں ناکام رہے۔ ویسٹ انڈیز کی ٹیم نے ورلڈکپ 2019ئ کیلئے کوالیفائی کر لیا ہے جو انگلینڈ اینڈ ویلز میں کھیلا جائے گا۔
ویسٹ انڈیز کا ورلڈکپ کیلئے کوالیفائی کرنے پر کرس گیل نے خوشی کا اظہار کیا لیکن ساتھ ہی اس ٹورنامنٹ کو اپنے کیرئیر کا آخری ٹورنامنٹ بھی قرار دیدیا اور کہا کہ چونکہ یہ میرا آخری ورلڈکپ ہے اس لئے میں خود کو مکمل فٹ رکھ کر بہترین کارکردگی دکھانے کی بھرپور کوشش کروں گا۔

شام سے بڑ ی اور بُری خبر آگئی

بیروت(ویب ڈیسک)شام کے دارالحکومت دمشق کے نواح میں باغیوں کے زیر قبضہ علاقے مشرقی الغوطہ میں واقع شہر دوما سے ہزاروں کی تعداد میں شہری اپنا گھر بار چھوڑ کر اسد رجیم کے عمل داری والے علاقے میں داخل ہو گئے،غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق برطانیہ میں قائم شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق نے اطلاع دی کہ دوما سے گزشتہ رات قریباً ڈیڑھ ہزار افراد کا انخلا ہوا۔بدھ کی رات دوہزار کے لگ بھگ افراد اپنا گھر بار چھوڑ کر شامی حکومت کے عمل داری والے علاقے کی جانب چلے گئے تھے اور مزید کا انخلا ابھی جاری ہے۔روس کی وزارت دفاع نے باغیوں کے زیر قبضہ علاقے اور شامی حکومت کے کنٹرول والے علاقے کے درمیان واقع ایک گذرگاہ الوافدین سے براہ راست ویڈیو اپنی ویب سائٹ پر پوسٹ کی ہے۔دوما سے شامی شہریوں کا انخلا روس کی ضمانت کے نتیجے میں ہی ہورہا ہے۔چند منٹ کے دورانیے کی اس ویڈیو میں بیسیوں افراد چھوٹے گروپوں کی صورت میں دوما شہر سے ایک نکڑ کی جانب ا?رہے ہیں اور اس کے بعد وہ مسلح فوجیوں کے درمیان سے گزرتے ہوئے ایک ٹوٹی پھوٹی شاہراہ کی جانب جارہے ہیں۔ان میں سے بعض نے تھوڑا بہت سامان اٹھایا ہوا ہے اور خواتین نے اپنی گود میں کم سن بچے لے رکھے ہیں۔دوما مشرقی الغوطہ میں سب سے گنجان ا?باد علاقہ ہے اور شامی فورسز نے گذشتہ ایک ہفتے سے اس کا مکمل محاصرہ کررکھا ہے۔ اس پر باغی گروپ جیش الاسلام کا کنٹرول ہے اور اس نے تادم مرگ لڑنے کا اعلان کررکھا ہے۔تاہم شامی رصدگاہ کا کہنا تھا کہ دوما سے گھربار چھوڑ کر ا?نے والے افراد کا کہنا ہے کہ وہ جیش الاسلام اور شامی حکومت کے قریبی اتحادی روس کے درمیان سمجھوتے کے بعد شہر خالی کررہے ہیں۔ایک اور باغی گروپ احرار الشام نے بدھ کو مشرقی الغوطہ میں واقع اپنے زیر قبضہ قصبے حرستا کو خالی کرنے سے اتفاق کیا تھا۔اس نے شامی فورسز سے باغیوں کے زیر قبضہ صوبے ادلب جانے کے لیے محفوظ راہداری کے بدلے میں انخلا پر رضامندی ظاہری کی تھی۔اس سمجھوتے کے تحت سیکڑوں مسلح باغی اور عام شہری شامی فوج کے محاصرے کا شکار حرستا سے نکل جائیں گے۔احرار الشام کے ترجمان منطہر فارس نے گذشتہ روز ایک بیان میں کہا تھا کہ اس ڈیل کے تحت حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والے جنگجو ادلب کی جانب چلے جائیں گے

شین وارن اور ویرات کوہلی کوئٹہ کے 6سالہ سپن باﺅلر کے دیوانے کیوں نکلے؟اہم انکشاف

کوئٹہ (ویب ڈیسک)کوئٹہ کے 6سالہ بچے نے اپنی جادوئی باﺅلنگ سے شین وارن اور کوہلی کو بھی متاثر کر دیا ۔چھ سالہ ایلی میکائیل نے چند ماہ میں ہی پانچ مختلف انداز میں لیگ بریک باﺅلنگ کا آرٹ سیکھ کر سب کو حیران کر دیا ۔طالب علم کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تو لیگ سپن کے بادشاہ شین وارن اور رنز مشین ویرات کوہلی بھی تعریف کیے بغیر نہ رہ سکے ۔

نقیب قتل کیس کا چونکا دینے والا موڑ، راﺅ انوار نے سب کے بھید کھول دیئے

کراچی(ویب ڈیسک)نقیب اللہ قتل کیس میں گرفتاری دینے والے سابق ایس ایس پی راﺅ انوار نے ابتدائی تفتیش کے دوران نقیب اللہ سمیت 4 شہریوں کو قتل کرنے کا سارا ملبہ اپنی ماتحت افسران و اہلکاروں پر ڈال دیا اور خود کو موقع واردات پر عدم موجودگی اور واقعے سے بے خبر ظاہر کیاہے۔راﺅ انوار نے ابتدائی تفتیش کے دوران اپنے پہلے دن کے ہی بیان کو دہراتے ہوئے ان افسران و اہلکاروں کے کردار کو واضح کیا ہے جنھوں نے نقیب کے ساتھ مقابلے اور دہشت گرد ہونے کی بریفنگ اور اطلاع دی تھی۔تحقیقاتی کمیٹی میں شامل ایک افسر نے نام ظاہر نہ کرنے پر بتایاکہ نقیب اللہ سمیت 4شہریوں کو مبینہ مقابلے میں ہلاک کرنے کے حوالے سے سابق ایس ایس پی ملیر راﺅانوار سے تحقیقاتی کمیٹی نے تفتیش کا آغاز کردیاہے۔ راﺅانوار نے تحقیقاتی کمیٹی میں شامل افسران کو ابتدائی تفتیش کے دوران بتایاکہ13جنوری کو شاہ لطیف ٹا?ن پولیس نے مقابلے کے دوران نقیب اللہ سمیت 4افراد کو ہلاک کیا تھا۔ جس کی اطلاع پولیس کنٹرول کے ذریعے واکی ٹاکی پر ملی تھی اور انھوں نے فوری طور پر ایس ایچ او شاہ لطیف امان اللہ مروت سے رابطہ کیا تو اس نے بھی مقابلے کے بارے میں بتایا، اس اطلاع پر جب موقع پر پہنچا تو مقابلہ ختم ہوچکا تھا لیکن وہاں ڈی ایس پی قمر احمد اور ایس ایچ او شاہ لطیف امان اللہ مروت اپنی پولیس پارٹی کے ہمراہ جائے وقوعہ پر موجود تھے جو قانونی کارروائی کررہے تھے۔

پی ایس ایل فائنل کے لئے اپوزیشن اراکان سندھ اسمبلی کا خواجہ اظہار سے اہم مطالبہ

کراچی: (ویب ڈیسک )عوامی نمائندے پی ایس ایل فائنل کے ٹکٹ کے حصول کیلیے پریشان ہوگئے۔
ایم کیو ایم کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں فائنل میچ کے ٹکٹ زیر بحث رہے، ایم کیو ایم کے ارکان اسمبلی نے قائد حزب اختلاف خواجہ اظہار الحسن سے کہا کہ آپ اپوزیشن لیڈر ہیں ہمیں میچ دیکھنا ہے، ٹکٹ کا بندوبست افزائی کریں گے، گورنر سندھ محمد زبیر بھی اسٹیڈیم میں موجود ہونگے اور فائنل ٹاکرا وہیں سے بیٹھ کر انجوائے کریں گے۔وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ اپنی کابینہ کے بیشتر ارکان کے ہمراہ نیشنل اسٹیڈیم میں میچ سے لطف اندوز ہونگے۔ وزیر اطلاعات ناصر حسین شاہ، بلدیات کے وزیر جام خان شورو، وزیر کھیل محمد بخش مہر سمیت کابینہ کے دیگر اراکین وزیراعلی کے ہمراہ ہونگے۔ادھر پی ایس پی سربراہ مصطفی کمال اور صدر انیس قائم خانی سمیت رکن قومی اسمبلی آصف حسنین اور پی ایس پی کے دیگر رہنماوں نے بھی میچ کا مزا لینے کے لیے اپنی سیٹیں بک کروا لی ہیں، پی ایس پی رہنما عوام کے درمیان بیٹھ کر فائنل میچ کا مزا لوٹیں گے۔

برطانیہ کے مشہور ماہر تعلیم نے بتادیا کہ پنجاب حکومت نے پانچ سالوں میں تعلیم اور صحت کے شعبوں میں ایسا کام کیا ہے جو الیکشن میں ان کے جیتنے کی وجہ بن سکتا ہے

وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف ان دنوں برطانیہ کے شہر لندن میں موجود ہیں لیکن اپنے کام کےتئیں ان کی لگن اور محنت ان کی بین الاقوامی شہرت کا راز ہے ۔ وزیراعلی پنجاب کا یہ خاصا رہا ہے کہ وہ اپنے ترقیاتی پراجیکٹس کی رپورٹ کا ہر سہ ماہی خود جائزہ لیتے ہیں اور یہ روٹین سالہا سال سے چلی آرہی ہے آج لندن میں ہونے کے باوجود اپنے اس سہ ماہی اجلاس سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کیا اور تعلیم اور صحت کے شعبوں میں ڈویلپمنٹ کا بذات خود جائزہ لیا تقریبا تین گھنٹے دورانیے پر مشتمل تقریب میں وزیر تعلیم رانا مشہود، وزیر صحت خواجہ عمران نذیر اور دیگر سرکاری افسران نے حصہ لیا اس سہ ماہی جائزے میں عالمی شہرت یافتہ ایجوکیشنسٹ اورڈیفڈ کے مینجنگ پارٹنر ، ڈلیوری ایسوسی ایٹ سر مائیکل باربر نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا اور پاکستان میں بالخصوص پنجاب نے تعلیم اور صحت کے شعبہ میں ہونے والی مثبت تبدیلیوں کا ذکر کیا ان کا کہنا تھا کی ساری ترقی کا سہرا وزیراعلی پنجاب کے سر جاتا ہے۔پنجاب کے وزیر اعلی محمد شہباز شریف کی ویژنری قیادت نے بہت متاثر کیا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ عوام کو بہترین خدمات کی فراہمی کیلئے شہباز شریف دن رات کوشاں ہیں ۔ پنجاب کی تعریف کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پنجاب کے لوگ محنتی، مخلص ، دیانتدار، باوقار ، با حوصلہ، سربلند اور منزل کے حصول کیلئے سر بکف ہیں پنجاب کی ’’گریٹ سٹوری‘‘مجھے ہمیشہ متاثر کرتی رہے گی ۔ یہ پنجاب میں ترقی کے سفر کا آغاز ہے ، انجام نہیں ۔انہوان نےکہا کہوزیر اعلی کی تعلیم اور صحت کو ترجیح دیتے ہوئے توجہ اور ارتکاز پر ہمیشہ حیرت زدہ ہوا ہوں ۔آپ کی قیادت پرتھرڈ پارٹی کے تجزیے کے مطابق پنجاب میں تعلیم اور صحت سمیت دیگر شعبوں میں ترقی کے اعداد و شمار قابل رشک ہیں ۔پنجاب نے محمد شہباز شریف کی قیادت میں بہت سارے اختراعی اقدامات کر کے سبقت حاصل کر لی ۔بہت سے لوگ سمجھتے تھے کہ یہ اہداف حاصل نہیں کئے جا سکتے لیکن حکومت پنجاب نے اور خادم۔پنجاب کے وژن نے یہ کر دکھایا ہے ۔اس کے ساتھ ساتھ بھٹہ مزدوروں کے بچوں کو اینٹ گارے سے نکال کر سکول لیجانا وزیر اعلی پنجاب کا متاثر کن اقدام ہے ۔ تقریب کے دیگر شرکا نے بھی خادم پنجاب کی شبانہ روز محنت اور انتھک کاوشوں کو سراہا اور دوسرے صوبوں کی نسبت پنجاب میں تعلیم اور صحت کے امورمیں بے مثال کامیابیاں حاصل کرنے پر وزیر اعلی پنجاب کو مبارکباد پیش کی۔ صحت کے شعبہ میں دیہی اور دور افتادہ علاقوں میں موبائل ہیلتھ یونٹس کے ذریعے سہولیات کو فراہم کرنا ایک لائق تحسین اقدام ہے اجلاس میں صحت کے شعبے میں ہونے والی انقلابی تبدیلیوں کے اعدادوشمار کا جائزہ لیا گیا اور ہسپتالوں کی تعمیر و بحالی، سٹی سکین مشینوں کی تنصیب، موبائل ہیلتھ یونٹ کی پرفارمنس، ٹیچنگ سکولز کی کارکردگی اور دیگر امور پر خادم پنجاب کو رپورٹ پیش کی گئی اسی طرح تعلیم کے شعبہ میں سکولوں کی کارکردگی، نئے اسکولوں کی تعمیر، دیہی علاقوں میں بچوں کی انرولمنٹ، اساتذہ کی ٹریننگ اور غریب اور مستحق طلباء کو پیف کے ذریعے ملنے والے سکالرشپ پر وزیراعلی کو رپورٹ کیا گیا وزیر اعلی نے بذات خود تعلیم اور صحت کے شعبے میں کیے جانے والے اقدامات کا جائزہ لیا اور عملے کی محنت کو سراہا اجلاس کے اختتام پر انھوں نے سر مائیکل باربر اور دیگر شرکا کا شکریہ بھی ادا کیا علاج کی غرض سے لندن میں موجود ہونے کے باوجود اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرتے ہوئے اور تعلیم اور صحت کے شعبہ میں عوام کو سہولیات فراہم کرنے کا عہد نبھاتے ہوئے ویڈیو لنک کے ذریعے اس سہ ماہی اجلاس کی صدارت کرنا اور محکمے کے افسران سے رپورٹ طلب کرنا ایک قابل قدر اقدام ہے

میگا کرپشن،سی ٹی او رائے اعجازوالد سمیت پھنس گئے

لاہور (ویب ڈیسک) سی ٹی او لاہور اور ان کے والد کی نیب میں طلبی 25 کروڑ روپے خور برد کے الزامات کی بناءپر 26 مارچ کو طلب کیا گیا ہے۔روزنامہ خبریں کے مطابق نیب لاہور نے سی ٹی اولاہور رئاے اعجاز اور ان کے والد رائے ضمیر الحق کو گجرات میں پولیس فنڈز میں 25 کروڑ روپے کی خور برد کے الزام میں 26 مارچ کو طلب کرلیا ہے۔سی ٹی او لاہور رائے اعجاز اور ان کے والد رائے ضمیر الحق سمیت ایک سب انسپکٹر اور 4 پولیس اہلکاروں کو طلبی کے سمن جاری کئے ہیں۔ رائے اعجاز اور ان کے والد کو بطور ڈی پی او گجرات تعیناتی کے دوران کروڑوں روپے کی خوربرد کی تحقیقات کیلئے طلب کیا ہے۔

پی ایس ایل فائنل کے لئے بلاول بھٹو،مرادعلی شاہ ،آصفہ ،بختاور نے بھی ٹکٹیں کٹوالی

کراچی :(ویب ڈیسک ) پاکستان سپر لیگ کا فائنل دیکھنے کے لیے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری، آصفہ بھٹو اور بختاور بھٹو سمیت کئی سیاستدانوں نے بھی ٹکٹ خرید لیے ہیں۔کراچی میں 25 مارچ کو ہونے والے پاکستان سپر لیگ کے تیسرے ایڈیشن کے فائنل کے لیے تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔پی ایس ایل کا فائنل پہلے ایڈیشن کی فاتح اسلام آباد یونائیٹڈ اور دفاعی چیمپیئن پشاور زلمی کے درمیان کھیلا جائے گا۔پشاور زلمی کی ٹیم آج رات لاہور سے کراچی پہنچ جائے گی جبکہ اسلام آباد کے کھلاڑی 24 مارچ کو دبئی سے براہ راست کراچی پہنچیں گے۔پی ایس ایل کا فائنل دیکھنے کے لیے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ، بلاول بھٹو، آصفہ اور بختاور سمیت سندھ کے متعدد سیاستدانوں نے بھی ٹکٹ لے لئے ہیں۔

برطانوی شہزادہ ہیری اور میگھن مارکل کی شادی کے کارڈ زمہمانوں میں تقسیم

لندن (ویب ڈیسک)برطانوی شہزادہ ہیری اور میگھن مارکل کی شادی کے کا رڈ زمہمانوں میں تقسیم کردیئے گئے۔شاہی محل کنگسٹن پیلس کی جانب سے اعلان کیا گیا کہ 600 مہمانوں کو سنہری مہر والے شادی کے دعوت نامے بھیج دیئے گئے ہیں۔شہزادہ ہیری اور میگھن مارکل کی شادی 19 مئی کو مغربی لندن میں ہوگی۔