کراچی : (ویب ڈیسک )پاکستان سپر لیگ کے تیسرے ایڈیشن کا فائنل 25 مارچ کو کراچی میں ہوگا جس کے تمام انتظامات مکمل کر لئے گئے ہیں۔شہر قائد کی تمام اہم شاہراہوں کو برقی قمقموں سے سجا دیا گیا ہے، اہم شاہراہوں پر کھلاڑیوں کی تصاویر آویزاں کردی گئی ہیں اور نیشنل اسٹیڈیم کے باہر بھی خوبصورتی کے لئے پودے لگائے گئے ہیں۔روشنیوں کا شہر جگمگا رہا ہے اور جگمگاتا کراچی پی ایس ایل کے فائنل کی میزبانی کے لئے پوری طرح سے تیار ہے۔ شائقین کرکٹ بھی بے تابی سے فائنل کا انتظار کر رہے ہیں۔
گزشتہ کئی سالوں سے سیاسی و ملکی حالات کے باعث کراچی کی روشنیاں ماند پڑ گئی تھیں جو اب بحال ہونا شروع ہو گئی ہیں۔ کراچی آپریشن کے بعد شہر کی صورتحال ماضی کی نسبت بہت بہتر ہے۔
Monthly Archives: March 2018
چہرہ سرمئی، بال سفید؛ کینسر کا مریض اپنا نگیٹیو خود بن گیا
وارسا: (ویب ڈیسک )پولینڈ کے 32 سالہ ایڈم کرلائکیل اپنے عجیب و غریب چہرے کی وجہ سے انسٹاگرام اور فیس ب±ک پر مشہور ہوگئے ہیں کیونکہ انہوں نے اپنا چہرہ رنگ کر گہرا سرمئی اور بالوں کو سفید کرلیا ہے جس کی وجہ سے وہ کسی تصویر کے نگیٹیو کی طرح دکھائی دیتے ہیں۔ایڈم کا کہنا ہے کہ وہ اب تک اپنے 90 فیصد جسم پر ٹیٹو بنوا چکے ہیں تاہم ان کا مقصد اس شرح کو 99 فیصد تک پہنچانا ہے۔ انہیں اس بات کی کوئی پروا نہیں کہ دوسرے ان کے بارے میں کیا سوچتے ہیں کیونکہ وہ جو کچھ بھی کررہے ہیں، وہ صرف اپنی خوشی کےلیے کررہے ہیں تاکہ جب وہ مریں تو اپنی ساری خواہشیں پوری کرچکے ہوں۔2008 میں 22 سالہ ایڈم کو آنتوں کا کینسر ہوگیا تھا جس کے علاج کےلیے انہیں متعدد بار کیموتھراپی اور ریڈیوتھراپی وغیرہ جیسے معالجوں سے گزرنا پڑا۔ اگرچہ وہ صحت یاب ہوگئے لیکن سائیڈ ایفیکٹ کے نتیجے میں ان کی جلد بے رنگ ہوگئی اور وہ ساری زندگی کےلیے ”البینزم“ نامی کیفیت کا شکار ہوگئے۔
23مارچ کو بھی مودی کا جنگی جنون جاری
نئی دہلی(ویب ڈیسک ) بھارت نے براہموس کروز میزائل کا تجربہ کیا ہے۔بھارتی خبررساں ادارے کے مطابق وزیر دفاع نرمالا سیتھارا مان نے اپنے ٹویٹر بیان میں بتایا راجستھان میں واقع پکھران ٹیسٹ رینج سے براہموس کروز میزائل کا تجربہ کیا گیا ہے جس نے اپنے ہدف کو کامیابی سے نشانہ بنایا ہے۔انہوں نے کہا کہ نیا میزائل تجربہ ہماری قومی سلامتی کو مزید مضبوط بنائے گا۔
سعودی عرب نے بھارت کو آگے کرکے اسرائیل کیلئے ایسا کام کردیا کہ ہرمسلمان خون کے آنسو روئے گا، انتہائی پریشان کن خبرآگئی
سعودی عرب:(ویب ڈیسک )تل ابیب (ڈیلی پاکستان آن لائن)سعودی عرب نے پہلی بار کسی کمرشل فلائٹ کو اپنی حدود سے گزر کر اسرائیل جانے کی اجازت دی ہے، بھارتی ایئر لائن ایئر انڈیا کی پرواز نے جمعرات کو سعودی عرب کی فضائی حدود سے گزر کر اسرائیل میں تل ابیب کے بن گوریان ایئر پورٹ پر رات 10 بج کر 15 منٹ (اسرائیلی وقت)پر لینڈنگ کی۔ ایئر انڈیا کی پرواز 139 نے نہ صرف سعودی فضائی حدود کا استعمال کیا بلکہ ساڑھے 7 گھنٹے کی پرواز کے دوران سعودی دارالحکومت ریاض میں قیام کرکے ایندھن بھی بھروایا۔پاکستان کی طرح سعودی عرب کی جانب سے بھی اسرائیل کے وجود کو تسلیم نہیں کیا گیا جس کے باعث گزشتہ 70 سال کے دوران کوئی بھی کمرشل پرواز سعودی فضائی حدود استعمال کرکے اسرائیل نہیں گئی۔ یہ پہلی بار ہوا ہے کہ بھارتی ایئر لائن کے طیارے نے سعودی عرب کی فضائی حدود استعمال کرکے اسرائیل کا سفر کیا۔ سعودی عرب کی جانب سے یہ واضح نہیں کیا گیا کہ اسرائیلی طیاروں کو بھی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت ہوگی یا نہیں۔
ترکی کا 57اسلامی ممالک کی دنیا کی سب سے بڑی فوج بنانے کا اعلان
استنبول:(ویب ڈیسک ) ترکی نے 57 اسلامی ممالک کو ساتھ ملا کر دنیا کی سب سے بڑی فوج بنانے کا فیصلہ کر لیا ہے جس کے قیام کا مقصد جان کر امریکا اور اسرائیل کے ہوش اڑ جائیں گے۔ترک اخبارنے انکشاف کرتے ہوئے رپورٹ شائع کی ہے کہ ترکی نے57 اسلامی ممالک کو ساتھ ملا کر دنیا کی سب سے بڑی فوج بنانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ دنیا بھر کی اس سب سے بڑی مذکورہ فوج کا نام ”اسلامی فوج“ رکھا جائے گا اور اسرائیل کے خلاف بنائی جانے والی اس فوج کی تعداد 50 لاکھ ہو گی۔اخبار کے مطابق اسلامی تعاون تنظیم کے 57 رکن ممالک سے مطالبہ کیا گیاہے کہ وہ ایسی بڑی اسلامی فوج بنائیں جو اسرائیل کا محاصرہ کرکے اس پر حملہ کرے۔رپورٹ کے مطابق او آئی سی کے رکن ممالک کی آبادی ایک ارب 67 کروڑ 45 لاکھ 26 ہزار 931 ہے جبکہ ان ممالک کی متحرک افواج کی تعداد 52 لاکھ سے زیادہ اور ان کا دفاعی بجٹ 174ارب 70 کروڑ ڈالر ہے۔ اس کے مقابلے میں پورے اسرائیل کی آبادی 80 لاکھ 49 ہزار 314 نفوس پر مشتمل ہے۔ اس کے برعکس ترکی کے ایک شہر استنبول کی آبادی ہی 1کروڑ 40 لاکھ ہے
یوم پاکستان کی مناسبت سے اسلام آباد میں مسلح افواج کی پریڈ
اسلام آباد(ویب ڈیسک) یوم پاکستان کی مناسبت سے شکر پڑیاں گراو¿نڈ اسلام آباد میں مسلح افواج کی پریڈ ہوئی۔ شکر پڑیاں پریڈ گراو¿نڈ اسلام آباد میں مسلح افواج کی مشترکہ پریڈ کا اہتمام کیا گیا ہے، جس میں صدر مملکت ممنون حسین، وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، تینوں مسلح افواج کے سربراہان، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل زبیر محمود حیات سمیت دیگر سول و عسکری حکام شریک ہیں، تقریب کے مہمان خصوصی سری لنکا کے صدر متھری پالا سری سینا ہیں۔ اس کے علاوہ برادر ملکوں کے سفرا بھی موجود ہیں۔صدر مملکت ممنون حسین روایتی انداز میں گھڑ سوار دستے کے حصار میں پریڈ گراو¿نڈ پہنچے۔ مسلح افواج کے سربراہان نے صدر مملکت کا استقبال کیا۔ اس موقع پر قومی ترانہ بجایا گیا اور انہیں سلامی دی گئی۔ سلامی کے بعد جیپ میں سوار صدر مملکت نے پریڈ میں حصہ لینے والے مسلح افواج کے دستوں کا معائنہ کیا۔
سٹیج اداکارہ سے زیادتی کرنے والا شخص کون؟
لاہور: (ویب ڈیسک) سٹیج اداکارہ ستارہ بیگ سے مبینہ طور پراجتماعی زیادتی کا معاملہ، ا داکارہ نے ملزمان کے خلاف اندراج مقدمے کی درخواست سیشن کورٹ میں دائر کردی۔تفصیلات کے مطابق اداکارہ نےدرخواست میں مو¿قف اختیار کیا کہ ملزمان زیادتی کے بعد مجھے برہنہ حالت میں چھوڑ کر فرار ہوگے۔ جب مجھے ہوش آیا تو میں نے دیکھا کہ ملزمان میرے زیورات اور نقدی رقم بھی ساتھ لے گئے ہیں۔ حکام سے درخواست ہے کہ ملزمان کو گرفتار کر کے مجھے انصاف دلایا جائے۔جبکہ دوسری جانب نجی ٹی وی چینل کے رپورٹر نے دعویٰ کیا ہے کہ سٹیج اداکارہ ستارہ بیگ جس شخص پرزیادتی کا الزام لگارہی ہیں وہ انجمن اورگوری کا بھائی ناصرخان ہے جو دوسال قبل وفات پاچکا ہے۔ نجی ٹی وی چینل کا یہ بھی کہنا تھا کہ جس شخص پر ستارہ بیگ زیادتی کا الزام لگا رہی ہیں اداکارہ اس شخص کو پہلے سے جانتی تھی اور اداکارہ جس ملزم کا ذکرکررہی ہیں وہ ناصرخان نہیں بلکہ کوئی اور ہے۔
ویوین رچرڈز 30 سال بعد کراچی آمد پر خوش
کراچی: (ویب ڈیسک) ویسٹ انڈین سپرسٹار کرکٹر ویوین رچرڈز 30 سال بعد اہلیہ کے ہمراہ کراچی پہنچ گئے۔کراچی ایئرپورٹ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ویوین رچرڈز کا کہنا تھا کہ پی ایس ایل کا فائنل دیکھنے میں مزہ آئے گا۔ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز فائنل میں پہنچتی تو زیادہ خوشی ہوتی، امید ہے پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ بحال ہوگی اور اس سلسلے میں ویسٹ انڈیز کا دورہ پاکستان خوش آئند ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں کرکٹ کے بہترین کھلاڑی موجود ہیں۔دوسری جانب کراچی کنگز کے کپتان شاہد آفریدی بھی کراچی پہنچ چکے ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ پی ایس فائنل کراچی کے عوام کے لیے بہت بڑی بات ہے۔ بہت خوش ہوں کہ کراچی میں کرکٹ واپس آرہی ہے۔ اپنے کراو¿ڈ کے سامنے کرکٹ کو مس کرتا ہوں۔ پشاور زلمی کی ٹیم بھی آج رات لاہور سے کراچی پہنچے گی۔
مستقبل میں بھی اچھے کردار والی فلمیں کروں گی، نیلم منیر
لاہور:(ویب ڈیسک ) اداکارہ نیلم منیرنے کہا ہے کہ اگر مستقبل میں بھی مجھے اچھے کرداروں والی فلمیں ملیں تو ضرور کام کروں گی۔نیلم منیر نے کہا کہ سلوراسکرین کا اپنا ہی ایک مقام ہے۔ اس شعبے سے وابستہ لوگوں کوانتہائی قدرکی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اورمقبولیت میں انھیں وہ مقام حاصل ہوتا ہے جوکسی دوسرے شعبے کے فنکارکونہیں مل پاتا۔ اس لیے فلم کی مقبولیت کا اندازہ ہروہ اسٹارجانتا ہے، جس کے نام کے ساتھ ’ فلم اسٹار‘ کا اضافہ ہوتا ہے۔اداکارہ نے کہا کہ جہاں تک میری بات ہے تومیں نے بھی بڑے پردے پرکام کرکے دیکھا ہے۔ یہ واقعی ہی ایک ناقابل فراموش تجربہ رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اگر مستقبل میں بھی مجھے اچھے کرداروں والی فلمیں ملیں توضرورکام کروں گی۔نیلم منیر نے کہا کہ فلم کی شوٹنگ کے دوران احسن خان جیسے منجھے ہوئے فنکارکے ساتھ کام کرنے کا تجربہ بہت اچھا رہا۔ اگران جیسا کوئی سلجھا ہوا فنکارسامنے ہوتو پھرکام کرنے میں بے حد مزہ آئے گا۔
نئے شو میں بھی پریشانیوں نے کپل کا پیچھا نہ چھوڑا
ممبئی:(ویب ڈیسک) بھارت کے مقبول ترین کامیڈی شو ’دی کپل شرما‘ کے بند ہوجانے کے بعد رواں ماہ شروع ہونے والا نئے شو کی راہ میں بھی مشکلات حائل ہوگئیں۔
بھارت کے مقبول کامیڈین کپل شرما اپنے مشہور کامیڈی پروگرام ”دی کپل شرما شو“ کو ایک بار پھر نئے انداز میں پیش کرنے جارہے تھے جس میں سدھو نے بھی اپنی ہنسی کا تڑکا لگانے کی تیاری پکڑ لی تھی بلکہ ایک شو کی ریکارڈنگ بھی کرالی تھی لیکن گزشتہ چند روز سے سوشل میڈیا پر جاری کپل شرما اور سنیل گروور کی جنگ نے نئے شو کو اپنی لپیٹ میں لے لیا جس کی وجہ سے انتظامیہ کو شو کو منسوخ کرنا پڑگیا۔بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ’فیملی ٹائم ود کپل شرما‘ کے نام سے شروع ہونے والا شو کپل اور سنیل گروور کے جھگڑے کی نظر ہوگیا جس وجہ سے 25 مارچ کو شروع ہونے والا پہلا شو بھی منسوخ کردیا گیا بلکہ ا±س سے قبل ہونے والی کپل کی پریس کانفرس بھی منسوخ کردی گئی۔نجی چینل کے ترجمان کے مطابق چینل کو کچھ تکنیکی مسائل کا سامنا ہے جس کو فوری طور پر حل نہیں کیا جاسکتا جس وجہ سے شو میں فلم ’باغی ٹو‘ کی کاسٹ کی ریکارڈنگ کا وقت تبدیل کیا گیا بلکہ پریس کانفرس کو بھی منسوخ کردیا گیا جب کہ نئی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔دوسری جانب سنیل گروور کا کہنا تھا کہ ا±ن کا ردعمل حقیقی تھا کیوں کہ میں نے کپل کے نئے شو میں نہ بلانے کی بات مداح کو جواب دیتے ہوئے کہی تھی اور میرا کوئی دوسرا ایجنڈا نہیں تھا جب کہ لوگ جو چاہئے کچھ بھی اپنی طرف سے اخذ کر سکتے ہیں میں اس پر ردعمل نہیں دوں گا جب کہ میں نے اپنے ایک ٹوئٹ میں یہ بھی کہا تھا کہ ’میں ایک پروجیکٹ کر رہا ہوں‘ جو کچھ بھی ہو سکتا ہے لیکن لوگ پھر بھی فرضی باتوں میں مصروف ہیں۔
عوام جاننا چاہتے ہیں کہ راﺅ انوار کو کس نے چھپا رکھا تھا
لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) چینل فائیو کے تجزیوں اور تبصروں پر مشتمل پروگرام ”کالم نگار“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی اور کالم نگار توصیف احمد کان نے کہا ہے کہ راو¿ انوار کی عدالت سے خط و کتابت غیر معمولی بات تھی، ایشو تو یہ ہے کہ کس نے انہیں کہاں چھپا رکھاتھا، آئی جی سندھ کے پاس تو اختیارات ہی نہیں، اگر وہ راو¿ انوار کو سکیورٹی دینے میں ناکام رہے اور کوئی واقعہ ہوگیا تو الزام تو انہی پر آئیگا، امریکہ کاپاکستان کے اندر گھس کر کارروائی نہ کرنے کا بیان خوش آئند ہے ، تاہم اس پر یقین نہیں کیا جاکستا، حسین حقانی کے پاس امریکی شہریت ہے کیا امریکہ اسے گرفتار ہونے دیگا، مقدمہ تو درج ہوگیا آگے دیکھنا ہے کیا ہوتا ہے ، بھارت کی پاکستان کیخلاف آبی جارحیت جاری ہے ، اور یہ معاملہ انتہائی خطرناک ہے ، اس پر جنگ بھی ہوسکتی ہے ، کالم نگار جاوید کاہلوں نے کہا کہ راو¿ انوار کو بھی قتل کئے جانے کا خدشہ ہے کیونکہ اس پر سینکڑوں افراد کو ماورائے عدالت قتل کرنے کے الزامات ہیں، راو¿ انوار کے کیس کے پھیلاو¿ کے حوالے سے طویل ریمانڈ دیاگیا، کسی بھی ملک کے اندر گھس کر کارروائی کا مطلب ہوتا ہے کہ اس کی سلامتی خودمختاری پر حملہ کیا گیا، امریکہ کی یہ عادت پرانی ہے تاہم پاکستان میں کارروائی کرنے کے جو نتائج سامنے آسکتے ہیں امریکہ اس وقت وہ برداشت نہیں کرسکتا، ہماری فوج میں اہلیت ہے کہ وہ کسی بھی ملک کو یہاں کارروائی کرنے سے روک سکتی ہے ، حسین حقانی کیخلاف مقدمہ درج ہونا اہم ہے ، یہ شخص کسی کو کرائے پر دستیاب ہوتا ہے ، اس نے امریکیوں کو لاتعداد ویزے دیئے، باہر بیٹھ کر میموگیٹ سکینڈل تخلیق کیا، حقانی کو صرف انٹرپول کے ذریعے پکڑ کر واپس لایا جاسکتا ہے ، بھارت پاکستان میں آبی دہشتگردی میں ملوث ےہ ، اس معاملہ پر دونوں ملکوں میں جنگ ہوسکتی ہے ، سینئر تجزیہ کار ضمیر آفاقی نے کہا کہ راو¿ انوار نے معمولی رینک سے ایس ایس پی تک غیر معمولی ترقی کی جس سے پاکستان میں قانون کی کمزوری ثابت ہوتی ہے ، پاکستان اور امریکہ کے تعلقات بہتر اور تناو¿ کم ہونا چاہئے ، دہشتگردی کیخلاف جنگ دنیا بھر کا مسئلہ ہے ، موجودہ حالات میں امریکہ اگر افغانستان سے فوجیں نکال لیتا ہے تو اس سے نقصان ہوگا، حسین حقانی کو قانون کے مطابق واپس لاکر کارروائی ہونی چاہئے، بھارت کی آبی جارحیت خطرناک ہے ، بدقسمتی سے پاکستان میں پانی جیسے اہم مسئلہ پر بھی کوئی ٹھوس پالیسی نہیں ہے، سینئر تجزیہ کار عدیل مرزا نے کہا کہ سندھ پولیس راو¿ انوار کیخلاف میرٹ پر تفتیش کرے ایسا لگتا نہیں ہے ، راو¿ انوار کو ملزم کی طرح نہیں بلکہ وی آئی پی کی طرح عدالت میں پیش کیا گیا، تحقیقات بھی وہ کرینگے جنہوں نے اسے پناہ دے رکھی تھی، امریکہ کے بیانات آتے رہتے ہیں ان پر یقین نہیں کیا جاسکتا، افغانستان اور پاکستان کا امن ایک دوسرے سے مشروط ہے ، امریکہ اسی خطے میں امن نہیں چاہتا ، بھارت بھی اس کے ساتھ ہے، افغانستان میں ناکامی کا ملبہ پاکستان پر ڈالا جاتا ہے ، بھارت پانی کے معاملہ پر ہٹ دھرمی کررہاہے، پاکستان کو یہ معاملات عالمی فورمز پر اٹھانے چاہئیں۔
جوڈیشل مارشل لا کی آئین میں کوئی گنجائش نہیں، چیف جسٹس پاکستان
لاہور:(ویب ڈیسک) چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے واضح کیا ہے کہ جوڈیشل مارشل لا کی آئین میں کوئی گنجائش نہیں، نہ مارشل لا باہر سے ہے اور نہ مارشل لا اندر سے ہے۔یوم پاکستان کے موقع پر لاہور کے کیتھڈرل چرچ میں خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ ‘پاکستان میں جمہوریت کوڈی ریل ہونے نہیں دیں گے’۔چیف جسٹس نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ‘ملک کو آئین اور قانون کے مطابق چلنا ہے، پاکستان میں صرف قانون کی حکمرانی ہوگی اور آئین سے ماورا کسی اقدام کو برداشت نہیں کیا جائے گا’۔واضح رہے کہ حال ہی میں عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے چیف جسٹس آف پاکستان سے ملک میں جوڈیشل مارشل لاء لگانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس وقت پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ عبوری حکومت ہے اور پوری قوم کی نظریں عدلیہ کی جانب مرکوز ہیں۔
چیف جسٹس نے مزید کہا کہ ‘ملک کی ترقی کے لیے اہم ترین عنصر لیڈر شپ ہے اور ملک کی ترقی کا اہم جز قانون کی حکمرانی، آزاد عدلیہ اور لوگوں کو بلاتفریق انصاف فراہم کرنا ہے’۔جسٹس ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ ‘ہم خوش قسمت لوگ ہیں کہ آزاد ملک میں پیدا ہوئے، یہ ملک ہمارے لیے ایک نعمت ہے اور بحیثیت قوم ہمیں ہر قربانی کے لیے تیار رہنا چاہیے’۔
پاکستان نے بھارت سے ماحولیات کے لیے پانی نہ لیا تو آئندہ نسلوں کو خشک سالی ملے گی
لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں و تبصروں پر مشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ راﺅ انوار ے بارے جو ہونا تھا وہ سپریم کورٹ میں ہو گیا اب وہ اپنے گھر پہنچ گئے ہیں جہاں حکومت ان کے ساتھ ہے اور پولیس بھی اپنی ہے لہٰذا اب وہاں سے خیر خبر ہی آئے گی اور کچھ نہیں ہو گا۔ اگر کسی صوبے کا ہوم وہیلتھ سیکرٹری کسی کے بیمار ہونے کی میڈیکل رپورٹ دے دیں تو دنیا کی کوئی عدالت اس کو جیل میں رکھنے کا نہیں کہہ سکتی۔ بیوقوف لیڈر جیل میں بیٹھے رہتے ہیں، عقلمند و کھاتے پیتے لوگ کبھی جیل میں نہیں رہتے۔ انہوں نے کہا کہ اگر نوازشریف کی اہلیہ بیمار ہیں تو عدالت حکم دے سکتی تھی کہ ایک ہفتے کے اندر پیش ہوں۔ ہماری عدالتوں نے ماضی میں تو ہمیشہ اس بات کو مدنظر رکھا ہے، سمجھ نہیں آیا کہ اس آرڈر کا کیا مقصد ہے۔ سوشل میڈیا پر مسلم لیگ کے حامی ”نواز و مریم کی حاضری سے استثنیٰ کی اپیل مسترد“ ہونے کو بہت ایشو بنا رہے ہیں۔ دعا ہے بیٹی مریم کی والدہ مکمل صحت یاب ہوں، انسانی بنیادوں پر ان کا بہت احترام کرتے ہیں۔ یہ سمجھ نہیں آیا کہ دونوں باپ بیٹی ایک دو روز قبل جا سکتے تھے پھر انہوں نے اپیل کے مسترد ہونے کا انتظار کیوں کیا؟ اس کا مطلب ہے کہ وہ اسے سیاسی ایشو بنانا چاہتے ہیں۔ انتظار کر کے عدالت سے ”نو“ بلوا کر ایشو بنانا مقصود تھا تو اچھا شو کیا اگر جانا ہوتا تو شہباز شریف بھی تو چلے گئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ شیری رحمان کا سینٹ میں قائد حزب اختلاف بننا نون لیگ کے لئے نہیں بلکہ اعظم سواتی و پی ٹی آئی کے لئے دھچکا ہے۔ دونوں کے سنیٹرز کی تعداد کم و بیش برابر ہے۔ زرداری کی کامیابی ہے کہ اس نے اپنی جماعت کے باہر مختلف گروپس کو منا لیا۔ آصف زرداری سب پر بھاری والی بات ثابت ہو رہی ہے۔ اعظم سواتی بڑے مالدار آدمی ہیں لیکن وہ پیسوں سے بھی سنیٹرز خرید نہیں سکے۔ پی ٹی آئی نے بڑے دعوے کئے تھے۔ شیری رحمان اچھی و پڑھی لکھی خاتون ہیں۔ ہمارے پیشے سے ان کا تعلق ہے۔ اس وقت سے جانتا ہوں جب یہ ایڈیٹر ہوا کرتی تھیں۔ صحافت سے سیاست میں آئیں، وزیراطلاعات بھی رہ چکی ہیں ان کے قائد حزب اختلاف بننے سے ذاتی طور پر خوشی ہوئی لیکن افسوس ہوا کہ تحریک انصاف میں پارٹی سے باہر کے لوگوں کو اپنے ساتھ ملانے کی صلاحیت نہیں اس معاملے میں وہ زرداری سے بہت پیچھے ہے۔ انہوں نے پرانی باتوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بے نظیر کی حکومت میں اظہر سہیل مرحوم ان کے میڈیا ایڈوائزر تھے جو خبریں کے بہت خلاف تھے۔ ایک دن انہوں نے ہمارے دفتر کے 14 کے 14 فون بند کروا دیئے، الزام لگایا کہ ان نمبروں سے وزیراعظم ہاﺅس میں گالم و گلوچ والی کالز آتی ہیں۔ میں وفاقی محتسب کے پاس کسی کو بھیجا اور ان سے فون پر بات کی، ان سے کہا کہ یہ ہمارے ساتھ شرارت کی گئی ہے ہم بھلا ایسا کیوں کریں گے۔ انہوں نے فوری تمام فون بحال کر دیئے۔ بے نظیر سلیقے والی، سمجھ دار خاتون تھیں اتنی چھوٹی حرکتیں وہ نہیں کر سکتیں یہ مجھے یقین تھا۔ ملاقات میں بے نظیر کو بتایا تو انہوں نے خود معذرت کی۔ حاجی نواز کھوکھر دوست تھے ایک بار گورنر ہاﺅس لاہور میں ان سے ملاقات ہوئی تو ان کو بتایا کہ آپ کے وزیراعظم ہاﺅس سے ہمارے ساتھ آئے روز کوئی نہ کوئی شرارت ہوتی رہتی ہے۔ انہوں نے ایک منٹ میں مجھے منا لیا، کہا کہ جو ہو گیا اس کی معافی چاہتا ہوں لیکن آج کے بعد اگر میری حکومت کی جانب سے زیادتی ہوئی تو آپ براہ راست مجھے فون کیجئے گا پھر دیکھیں میں کیا کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا ضیا صاحب دوستی پکی ہونی چاہئے آج میں حکومت میں ہوں کل اپوزیشن میں ہوں گا۔ اگر مخالفت ہے تو نیوٹرل ہو جائیں، اگر نیوٹرل ہیں تو ہمارے ساتھ آ جائیں۔ پیپلزپارٹی ایسی مفاہمت کی پالیسی کسی کو بھی قائل کر لیتے ہیں یہ ان میں خوبی ہے۔ آصف زرداری سے ملاقات ہوتی رہتی ہے پچھلے دنوں بھی میں اور امتنان شاہد ان کے کھانے پر گئے ہوئے تھے۔ زرداری گفتگو کے آرٹ میں ماہر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بڑی سنجیدگی سے 8,6 ماہ سے پانی کے مسئلے پر کام کر رہا ہوں۔ پانی کی کمی کے مسئلے پر ملک میں رواں سال دونوں جھیلوں سے اطلاعات آ چکی ہیں کہ وہ خطرناک لائن سے نیچے جا چکے ہیں۔ 12 سال بعد خشک سالی کا سال جا رہا ہے۔ صرف مضمون نہیں لکھتا مختلف جگہوں پر جاتا بھی ہوں۔ پانی کے مسئلے پر چیف جسٹس سے بھی ملاقات کی، انہیں کہا کہ یہ پاکستان میں کیس نہیں ہو گا انٹرنیشنل واٹر کورٹ میں جا کر انوائرمنٹ کا پانی لینا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ پاک بھارت انڈس واٹر معاہدہ 1960ءکا ہے۔ دنیا میں انٹرنیشنل واٹر کنونشن منعقد ہوتا ہے اس میں چارٹر بنایا گیا تھا اسے اقوام متحدہ نے دنیا کے عالمی قوانین مسئلہ کے طور پر منظور کر لیا۔چنانچہ 1970ءسے صورتحال 60ءکی نسبت بہت مختلف ہے۔ انٹرنیشنل واٹر کنونشن میں 1970ءمیں قانون بنا کر زیریں حصے کو مکمل طور پر بند نہیں کیا جا سکتا۔ جیسے کہ ستلج و راوی کو شٹر ڈال کر بند کر دیا گیا ہے۔ ایسے دریا بھی ہیں جو 12 ملکوں سے گزرتے ہیں۔ زیریں حصے کے لوگوں کو اجازت دی گئی کہ معاہدے کے تحت یا زبردستی آپ کا پانی 100 فیصد بند نہیں کر سکتے یہ انوائرمنٹ کا قانون ہے جو 70 میں بنا۔ اب دنیا میں سشب سے زیادہ یہی قابل استعمال ہے۔ انوائرمنٹ سے مراد گھریلو استعمال کا پانی، نباتات کا پانی اور آبی حیات ہے۔ جب 60ءکا معاہدہ ہوا تو 63ءمیں مکمل پانی بند ہو گیا۔کٹنگ موجود ہے اس وقت دریا کے کنارے بسنے والے 72 ہزار خاندان بے روزگار ہو گئے تھے کیونکہ وہ مچھلیاں پکڑ کر روزی کماتے تھے۔ پانی کی کمی کے مسئلہ پر میں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، چیف جسٹس پاکستان و آرمی چیف کے پاس بھی گیا۔ انہوں نے کہا کہ جب میں ملتان سے میٹرک کر کے لاہور آیا تھا تو ساڑھے 10 فٹ پر ہینڈ پمپ لگا کر پانی مل جاتا تھا۔ راوی میں کشتی مقابلے جیتے ہوئے ہیں، اس وقت پانی صاف تھا اب گندا ہے۔ اب 650 فٹ پر واسا کے ٹیوب ویل لگے ہوئے ہیں۔ آخری ٹیوب ویل پنجاب اسمبلی کے پیچھے نئی عمارت کیلئے لگایا گیا ہے جو 1350 فٹ نیچے لگا ہے۔ نیچے جو پانی ہے اس کی کوالٹی خراب ہو چکی ہے۔ اس میں خطرناک زہر آرسینک معمولی مقدار میں شامل ہے۔ اس وقت پنجاب کے اکثر حلقوں میں خصوصاً سابق ریاست بہاولپور اور پنجاب کا مشرقی حصہ حتیٰ کہ لاہور کے اردگرد میں بھی نیچے پانی میں آرسینک زہر کی معمولی مقدار شامل ہے۔ جس سے ہیپاٹائٹس سی، کینسر، گردے، جگر، آنکھیں اور جلدی امراض پھوٹ رہے ہیں۔ اگر انوائرمنٹ کے نام پر ہی دریاﺅں میں 10 سے 15 فیصد ہی پانی آ جائے تو صورتحال بہتر ہو جائے گی کیونکہ جب پانی بہتا رہتا ہے تو نیچے پانی کی سطح برقرار رہتی ہے۔ ہم انٹرنیشنل واٹر کورٹ میں شاید اس لئے نہیں پہنچ رہے کہ مجھے وزیراعظم شاہد خاقان نے کہا تھا کہ ضیا صاحب ہم کیا کریں انڈس واٹر معاہدے کا گارنٹر ورلڈ بینک تھا ہم اس کو لکھتے ہیں لیکن 7 سال سے وہ کچھ نہیں کر رہا۔ اس پر میں نے کہا کہ وزیراعظم صاحب اگر وہ 50 سال ریفر نہ کریں تو کیا ہم اپنی نسلیں اجاڑ دں گے؟ انہوں نے کہا کہ مودی کا یہ کہنا کہ ”پاکستان کو بھوکا پیاسا دیکھنا چاہتا ہوں۔“کوئی نئی بات نہیں۔ پاکستان بننے کے ساڑھے 4 مہینے کے بعد اخبارات میں پنڈت نہرو کا بیان چھپا تھا کہ ہمیں پاکستان کی کوئی پرواہ نہیں یہ اپنی موت خود مر جائے گا کیونکہ وہاں پانی نہیں ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ ڈپٹی کمشنر گوجرانوالہ کی پراسرار موت پر پی ٹی آئی کے کچھ لوگوں نے مجھے فون کیا۔ ان کا الزام ہے کہ وہاں عمران خان کے جلسے میں انڈے و ٹماٹر پھینکے جانے تھے اور جوتا بھی چلنا تھا۔ ڈی سی او نے کہا کہ اس بدتمیزی کی اجازت نہیں دوں گا۔ جس پر مسلم لیگ کے کچھ انتہا پسندوں نے ان کو قتل کیا یا پھر شدید دباﺅ ڈالا ہے لہٰذا ان کا فون فرانزک ٹیسٹ کرایا جائے تا کہ معلوم ہو سکے کہ کون لوگ تھے جنہوں نے ان کو فون کئے۔ یہ تحریک انصاف والوں نے الزام لگایا ہے مجھے یقین ہے کہ چیف سیکرٹری، آئی جی پنجاب و رانا ثناءاس کی مکمل تحقیقات کرائیں گے اگر پراپیگنڈا ہوا تو واش ہو جائے گا۔ حقیقت ہے تو عیاں ہو جائے گی۔ تجزیہ کار نے کہا کہ 24 یا 25 مارچ کو روزنامہ خبریں میں 2صفحات پر مشتمل ایڈیشن دیں گے کہ مرنے کے بعد اعضاءعطیات کرنے کے لئے کن اداروں سے اور کیسے رابطہ کیا جا سکتا ہے۔ اس حوالے سے مجھے متعدد لیٹر و میسجز ملے ہیں، لوگ خود کو پیش کرنا چاہتے ہیں۔ میں نے اپنے اسلام آباد کے ریذیڈنٹ ایڈیٹر ودود قریشی سے بھی کہا ہے کہ اسلامی نظریاتی کونسل جائیں اور معلوم کریں ان کے پاس یہ مسئلہ گیا تھا انہوں نے کیا فیصلہ کیا ہے۔صحافی میاں غفار نے کہا ہے کہ ڈپٹی کمشنر گوجرانوالہ کا بلائنڈ قتل ہے۔ یہ مافیا کا قتل ہے اسے معمولی نہیں لینا چاہئے۔ جو خود پھانسی لیتے ہیں وہ کسی کرسی پر کھڑے ہو کر گلے میں پھندا ڈال کر اسے دھکا دیتے ہیں جبکہ وہاں صرف ایک بند تھی جو اتنی بھاری ہے کہ اسے دھکا نہیں دیا جا سکتا۔ ان کے گلے میں لٹکے کپڑے سے زخم نہیں ہو سکتا جبکہ ان کے گلے پر 2 زخموں کے نشان ہیں۔ گلے پر ایک تار بھی لپٹی ہوئی تھی۔ ہاتھ پیچھے سختی سے بندھے ہوئے تھے۔ اسی طرح کا اسلام آباد میں ایف آئی اے کے انسپکٹر کا قتل بھی ہوا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کے دفتر و قریبی لوگوں نے بتایا ہے کہ حکمران، وزراءان کے ساتھ کتوں جیسا سلوک کرتے ہیں۔ جس بستر پر انہوں نے سونا تھا اس کا کمبل اسی طرح پڑا تھا۔ ان کے صبح فجر کی نماز پڑھنے کے بھی ثبوت ملے ہیں۔ یہ خودکشی نہیں ہو سکتی۔ ان کے والدین عارف والا کے ہیں جو زیادہ چل پھر نہیں سکتے جبکہ ان کی بیوی بچے لاہور میں رہتے ہیں۔ یہ بات درست ہے کہ ان پر شدید دباﺅ تھا۔


















