پاکستان سپرلیگ تھری کے فائنل کے لیے میچ آفیشلز کا اعلان کردیا گیا۔پاکستان سپرلیگ تھری کے فائنل کے لیے میچ آفیشلز کا اعلان کردیا گیا۔ علیم ڈار اور شوذب رضا فیلڈ امپائر ہوں گے، روشن ماہناما میچ ریفری، احمد شہاب ٹی وی امپائر اور راشد ریاض ریزرو امپائر ہوں گے۔واضح رہے کہ پاکستان سپر لیگ کے تیسرے ایڈیشن کا فیصلہ کن معرکہ 25 مارچ کو نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں شیڈول ہے، اسلام آباد یونائیٹڈ اور دفاعی چیمپئن پشاور زلمی کی ٹیمیں مدمقابل ہوں گی، دونوں ٹیمیں ایک ایک مرتبہ ٹائٹل اپنے نام کر چکی ہیں۔
Monthly Archives: March 2018
23مارچ سبق دیتا ہے عوام کو ساتھ لے کر چلیں تو ملک ٹوٹ نہیں سکتا
لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں و تبصروں پر مشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ 23 مارچ 1940ءکو جو قرارداد پاکستان منظور ہوئی تھی اس کا مقصد یہ تھا کہ برصغیر میں جہاں جہاں مسلمانوں کی اکثریت ہے اسے دو قومی نظریے کی بنیاد پر ایک نیا ملک بنا دیا جائے۔ دو قومی نظریے کے مطابق مسلمان و ہندو تو الگ الگ قومیں ہیں۔ کچھ ہم سے سیاسی غلطیاں ہوئیں اور کچھ انڈیا کی براہ راست مداخلت جب اندرا گاندھی نے ڈھاکہ میں فوج اتار دی اور پاکستانی فوج کو ہتھیار ڈالنا پڑے جس کے نتیجے میں بنگلہ دیش کے نام سے ایک نیا ملک بن گیا۔ دو قومی نظریے کے بارے میں اندراگاندھی نے کہا تھا کہ آج میں نے اس کو خلیج بنگال میں غرق کر دیا ایسا بالکل بھی نہیں ہوا۔ بھارت نے جس ملک کو خود فوج بھیج کر اپنے ہی طور پر آزاد کرایا اس ملک نے بھی خود کو کبھی انڈیا کا حصہ نہیں بنایا۔شیخ مجحیب الرحمن نے بھٹو دور میں لاہور آ کر اسلامی کانفرنس کی رکنیت حاصل کی اور بنگلہ دیش کانفرنس کا حصہ بنا۔ اس وقت سے لے کر اب تک بنگلہ دیش ایک اسلامی ملک ہے۔ یہ کہنا غلطہے کہ انڈیا کی جارحیت کی وجہ سے بنگلہ دیش کے قیام سے دو قومی نظریہ فیل ہو گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ 23 مارچ کا دن ہمیں سبق دیتا ہے کہ اگر مختلف علاقوں کے لوگوں کو قومی قیادت میں شامل کریں گے تو کبھی کسی علاقے سے علیحدگی پسندی یا ملک دشمنی کی آوازیں نہیں اٹھ سکتیں۔ حال ہی میں دیکھ لیا کہ وہ بلوچستان جس کے بارے میں انڈیا 7 سال سے 3 ٹی وی سٹیشنز 24 گھنٹے چلا رہا ہے۔ بھارتی پیسے سے چند گنتی کے ناراض بلوچوں سے ”فری بلوچستان“ کے پوسٹر لگوا رہا ہے۔ اسی بلوچستان میں ازحود تحریک اٹھتی ہے اور بلوچ لوگوں نے نون لیگ کی حکومت سے بغاوت کی اور نئے وزیراعلیٰ کا انتخاب کیا۔ انہوں نے اعادہ کیا کہ ریاست پاکستان کے محب وطن شہری ہیں۔ عمران خان نے چیئرمین سینٹ بلوچستان سے لینے کی حمایت کا کہا، بلاول نے کہا کہ آصف زرداری کی خواہش ہے کہ نیا چیئرمین بلوچستان سے ہو۔ چھوٹے گروپس نے بلوچستان کے حق میں فیصلہ دیا۔ صادق سنجرانی پہلے کبھی سیاست میں نہیں رہے آج چیئرمین سینٹ ہیں۔ آج بلوچستان میں آزادی کی تحریکوں کے نام لینے والے کہاں ہیں؟ جن کے بارے میں انڈیا کہتا رہا ہے کہ وہ ان کی مالی امداد و اسلحہ دیتا ہے۔ دنیا بھر میں مالی مدد فراہم کر رہا ہے۔ 23 مارچ کے جذبے کو برقرار رکھیں گے تو تمام علاقوں کے لوگوں کے دل جیتیں گے۔ تمام علاقوں کو اقتدار میں حصہ دیں گے تو پاکستان ہر آنے والے دن کے ساتھ مضبوط ہو گا اور یہی 23 مارچ کا اصل پیغام ہے۔ انہوں نے کہا کہ تحریک پاکستان کی نامور شخصیت و نوائے وقت کے چیف ایڈیٹر مجید نظامی ہمیشہ کہا کرتے تھے کہ مسلم لیگ نواز کو قائداعظم والی مسلم لیگ نہیں سمجھتا۔ آج بھی حقیقت یہ ہے کہ مسلم لیگ 3 حصوں میں تقسیم ہو چکی ہے۔ مسلم لیگ نون، مسلم لیگ ق اور مسلم لیگ پیر پگاڑا ہے۔ دفاعی تجزیہ کار بریگیڈیئر (ر) غضنفر نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کا دباﺅ نہ ہوتا تو راﺅ انوار کیس کب کا دب چکا ہوتا۔ متعدد پولیس مقابلے ہیں جن پر کوئی نوٹس نہیں لیا گیا۔ عابد باکسر کو اب تک دبئی سے واپس نہیں لایا جا سکا۔ راﺅ انوار کا عدم موجودگی کا بیان سمجھ سے بالاتر ہے۔ ان کی ٹیم ان کی اجازت کے بغیر اتنے بڑے بڑے کام نہیں کر سکتی۔ راﺅ انوار اپنے لئے نہیں بلکہ ملک کے بہت بڑے پراپرٹی ٹائیکون کے لئے بھی کام کرتا رہا ہے۔ وہاں جو شہر آباد ہوا، جس نے زمین نہیں دی اس کو مار دیا گیا۔ سندھ ہی نہیں پنجاب پولیس میں بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو خود کو ان کاﺅنٹر سپیشلسٹ سمجھتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جے آئی ٹی اگر آفتاب پٹھان کی سربراہی میں تمام کیسز کی تحقیقات کر سکتی ہے تو پھر ثابت ہو گا کہ اور کتنے مقابلے تھے جن میں پولیس کا کردار رہا۔ مرتضیٰ بھٹو کا قتل 100 فیصد ان کاﺅنٹر تھا اس وقت بے نظیر پاور میں تھیں لیکن اس کے قتل کو ٹریس نہیں کر سکے۔ انہوں نے کہا کہ جھوٹ بولنا حکمرانوںکی عادت ہے۔ نواز فیملی کو تو جھوٹ بولنے پر تمغہ ملنا چاہئے، وہ انٹرنیشنل جھوٹے ہیں۔ سارا خاندان جھوٹ بولتا ہے رانا ثناءان کے چیمپئن ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سانحہ ماڈل ٹاﺅن شہبازشریف، رانا ثناءاور آئی جی پنجاب کی مرضی کے بغیر ہو رہی نہیں سکتا۔ گلو بٹ گاڑیاں توڑ رہا تھا اور پولیس اسے شاباش دیتی رہی۔ ریذیڈنٹ ایڈیٹر خبریں ملتان میاں غفار نے کہا کہ ڈپٹی کمشنر گوجرانوالہ کے قتل کا مقدمہ درج ہو گیا۔ تمام ملازمین حراست میں ہیں اور ان کے موبائل ٹریس کئے جا رہے ہیں۔ اس طرح کا قتل کسی ادارے یا بیورو کریسی یا کسی اور کے لئے پیغام ہونا ہے۔ ایسا ہی قتل کامران فیصل کا بھی تھا اس کے بعد اس کی تفتیش رک گئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ شواہد یہی کہتے ہیں کہ قاتل مقتول سے ملے۔ ساری رات ان کے پاس بیٹھے رہے اور صبح 6 بجے کے قریب نکل گئے اور یہی وقت قتل کرنے کا ہے۔ اعلیٰ سطح کی تحقیقات ہوں گی یہ پلان قتل تھا، کسی ذاتی جھگڑے کا قتل نہیں ہے۔ اگر ڈپٹی کمشنر کو ذرا سا بھی اندازہ ہوتا کہ یہ ان کو قتل کرنے آئے ہیں تو وہ کسی نہ کسی کو اعتماد میں ضرور لیتے۔ یہ خود کشی نہیں کیونکہ ان کے ہاتھ پیچھے بندھے ہوئے تھے، قاتل ان کے ہاتھ کھولنا بھول گئے لیکن اگر کھول بھی دیتے تو نشان رہ جاتے۔ ماہر قانون ایس ایم ظفر نے کہا ہے کہ مارشل لا لگنے کے امکانات دور دور تک نظر نہیں آ رہے اور نہ ہی ملک اس کا متحمل ہو سکتا ہے۔ جنہوں نے پہلے مارشل لا لگائے ان کے خلاف بھی مقدمے چلانے کی بات ہو رہی ہے۔ مارشل لا اور آئین ایک دوسرے کے منافی ہیں۔ سیاسی جماعتوں کو خود کو ٹھیک کرنا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ مارشل لا کی باتیں کرنے والے غلط بیانی کرتے ہیں شاید وہ شدت کے ساتھ بتانا چاہ رہے ہیں کہ حالات بہت خراب ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم” پاکستان ڈے“ مناتے ہیں لیکن اس کے مقاصد و قائداعظم کے فرمودات کو بھول چکے ہیں۔ اس کو اجاگر کرنے کی ضرورت ہے کہ ہم ”پاکستان ڈے“ کیوں مناتے ہیں۔ سرکوں پر ہلا گلا کرنا ”پاکستان ڈے“ نہیں بلکہ اس کا مقصد ہے کہ خوش رہو اور خوشیاں بانٹو۔ ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر ثمر مبارک مند نے کہا کہ پاکستان نے بہت ترقی کی ہے۔ آج ایٹمی طاقت ہے۔ ترقی کی لکیر جس طرح سے اوپر کی طرف جا رہی ہے، 15,20 سال میں پاکستان مزید ترقی کرے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان نے جہاں اپنی دفاعی انڈسٹری کو فروغ دیا ہے وہاں دوست ممالک جو مدد کرتے ہیں ان کا تعاون بھی حاصل کیا جاتا ہے۔
زلمی کے کپتان ڈیرن سیمی کا کراچی پہنچنے کے بعد روائتی ڈانس
کراچی(آئی این پی) پشاور زلمی کی کامیابیوں سلسلہ جاری ہے اور دبئی ، لاہور سے ہوتے ہوئے فائنل تک رسائی کر لی ہے ایلیمنیشن میچ میں کراچی کنگز کو دھول چٹانے کے بعد سیمی الیون کراچی پہنچ گئی ہے ۔ کراچی پہنچنے پر پشاور زلمی کا شاندار استقبال کیا گیا ۔کراچی پہنچتے ہی پشاور زلمی کے کھلاڑیوں نے خوشی کا اظہار اس روائیتی ڈانس سے کیا جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو چکی ہے ۔
رمیزنے ٹائٹل جیتنے کےلئے زلمی کوفیورٹ قراردیدیا
لاہور (نیوزایجنسیاں) پاکستان کے مایہ ناز سابق کرکٹر اور ممتاز کمنٹیٹر رمیز راجہ نے پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) فائنل کیلئے پشاور زلمی کو فیورٹ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پشاور زلمی کی ٹیم مشکل صورتحال سے گزر کر آئی ہے اس لئے فائنل میں اس کی جیت کے امکانات زیادہ ہیں۔رمیز راجہ کا کہنا تھا کہ زلمی کامسلسل دوسرا میچ تھا اس لئے اس کے چانسز زیادہ ہی تھے۔ پشاور زلمی کے کپتان تگڑے ہیں اور ٹیم بھی متوازن ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر رونکی اور کامران اکمل کا دن اچھا ہوا تو یہ حریف کو اڑا کر رکھ دیں گے اور کامران اکمل جب حملہ کرتے ہیں تو کچھ نہیں بچتا۔انہوں نے کہا کہ قذافی سٹیڈ یم سے بہت سی یادیں وابستہ ہیں جبکہ یہاں ہونے والے پی ایس ایل کے دونوں میچز ہی بہترین رہے۔
ایک سوال کاسامناہے!
محمد صغیر قمر….چنار کہانی
” میں اسد بول رہا ہوں ‘ ملاقات کرنا چاہتا ہوں ۔ “
میںنے بات کرنے والے کو نہیں پہچانا تھا۔ وہ تکلف کر رہا تھا۔ میںنے بھی کوئی خاص توجہ نہیں دی ۔” کل تشریف لائیں“۔ میں نے اسے دفتر کا ایڈریس سمجھایااور پھر بھول گیا۔ دوسرے دن اس کا فون آ گیا ۔ وہ معذرت کر رہاتھا ۔” میں دراصل اسلامی یونیورسٹی میں ” ایک میٹنگ کے لیے جا رہا ہوں ۔ آپ محسوس نہ کریں تو ایک دو روز بعد آجاﺅں گا ۔“
اسد شاید یورپ و امریکہ کے سٹائل کا آدمی تھا۔ اسے اپنی روایات راس نہ آئیں اور وہ ” منگیتر “ بن کر برطانیہ چلا گیا ۔جہاں آزاد کشمیر کی زیادہ تر مخلوق ” منگیتر “ بن کر گئی ہے۔ ”پہنچی وہاں پہ خاک ‘ جہاں کا خمیر تھا۔“ یہ سوچ کر اسے ہمیشہ کے لیے بھول گیا۔یاد بھی رکھتا تو میرے کس کام کا؟آج تین عشروں کے بعد اسے دیکھ کر سینے کے اندر ایک ہوک سی اٹھی ۔سارا منظر لمحوں میں آنکھوں کے سامنے آ گیا اورآنکھوں کے سامنے قطار در قطار موتی اترنے لگے۔اس نے بے تابی سے پھر گلے لگا لیا اس کی آنکھیں برس رہی تھیں ۔”اسد تم اتنے بدل گئے ‘ تم مجھے مولوی کہتے تھے ‘خود ملاں بن گئے ۔“ ” میں بتاﺅں کیا ہوا ؟“ اس نے مسکرا کر پوچھا۔ ”تمہارا حلیہ نائن الیون نے بدلا ہوگا؟“….” بالکل ایسا ہی ہوا۔ میں برطانیہ گیا تھا وہاں کزن سے شادی ہو گئی ۔ وہ بھی میری طرح طبع آزاد لے کرپیدا ہو ئی تھی ۔آزاد ماحول نے ہم دونوں کو بہت زیادہ آزادکر دیا ۔ وہ کیمبرج میں پڑھتی تھی میںنے بھی وہاں داخلہ لے لیا ۔ ایم بی اے کرنے کے بعد اپنا کاروبار شروع کیا ۔ برطانیہ کی شہریت مل گئی تھی ۔اس لیے کوئی پرابلم زندگی میں نہیں تھی۔ 1995ءمیں والدین کے ساتھ امریکہ منتقل ہو گیا ۔ وہاں میں نے موبائل فون کارڈ کا ایک نیٹ ورک خرید لیا ۔ میںنے سارا سرمایہ اس میں لگا دیا ۔ پچاس سے زائد افراد میری فرم میں کام کرتے تھے جن میں سے زیادہ تر امریکن ہیں ۔میری فرم کا اکاﺅنٹس ڈائریکٹر ایک بوڑھا امریکن تھا ‘ وہ اسلام کا مطالعہ کر رہا تھا ۔ایک روز وہ میرے کمرے میں آ گیا ۔ اس نے مجھ سے اسلام کے بارے میں چند سوال کیے ۔ میں نے بھی بی اے تک اسلامیات پڑھی تھی ۔جو یاد تھا اسے بتا دیا ۔ باقی سوالوں کے جواب گول کر گیا۔ میری حیرت اس وقت بڑھی جب اس نے مجھ سے مطالبہ کیا کہ میں اسے قرآن پاک سکھا دوں ۔ آپ کو معلوم ہی ہے میں نے کبھی قرآن بھولے سے بھی نہیں پڑھا تھا۔ البتہ سورئہ فاتحہ یاد تھی ۔ میں نے بہت غور کیا کہ یہ سورة میں نے کیوں یاد کی تھی تو یاد آیا ۔ لڑکپن میں مجھے گلہڑ نکل آیا تھا جس کے لیے میں بہت پریشان رہتا تھا ۔ ایک روز محلے کی خالہ زیتون نے مجھ سے کہا تم سو بار یہ سورة پڑھ کر اپنے ہاتھ پر پھونک کر گلے پر مل لیا کرو ۔ بوڑھے اکاﺅنٹنٹ سے میںنے کہا تم فی الحال یہ چار الفاظ یاد کرو ۔ الحمد اﷲ رب العالمین ۔ وہ پڑھتا رہا دھراتا رہا ۔ میں ہنستا رہا ۔ کچھ اپنی جہالت پر کچھ اس کی بے وقوفی پر ۔
آخر اسے میں ہی مولوی کیوں ملا ؟ پندرہ منٹ کے بعد وہ اٹھا اور بولا ….”مسٹر اسد! میں عربی زبان نہیں جانتا لیکن مجھے یقین ہے جو تم نے کہا ‘ یہ اﷲ کے ہی لفظ ہو سکتے ہیں ۔“ یہ یقین تو مجھے بھی تھا لیکن اس کا اعتقاد بڑھ رہا تھا۔ وہ روز میرے پاس آتا ‘ پہلے تو مجھے فکر نہیں تھی اب پریشان ہونے لگا ۔ اس کی پیاس بڑھتی جا رہی تھی اور میری جہالت آشکار ہوئی جاتی تھی ۔ شرمندگی کے مارے ایک روز میں نے اس کی ” پیاس “ بجھانے کا فیصلہ کر لیا ۔میں نے ”پاکستانی“ حربہ استعمال کیا اور اسے خوب ڈانٹا ۔ یہ کوئی تبلیغی مرکز نہیں کہ تم مذہب سیکھ رہے ہو۔ جس کے بعد وہ میری کمپنی سے فارغ ہو کر پتہ نہیں کہاں چلا گیا ۔ میں مطمئن تھا کہ اب مجھ سے اسلام کے بارے میں کوئی نہیں پوچھے گا ۔ کچھ ہی عرصے بعد میں امریکن شہری ہو گیا اور پھر اسلام سے مزید دور ۔ نائن الیون کا واقعہ ہوا تو میں ڈر گیا۔ میں نے اپنے اکاﺅنٹنٹ کو ”الحمدﷲ “سکھائی تھی‘ اب میرے گلے پڑنے والی تھی ۔ یہ سوچ کر ہی میرا خون خشک ہونے لگا ۔ منظر بدلنے لگا ۔ امریکہ میں وہ دن میرے لیے عجیب تھے میرا اپنا دفتر تھا ‘ سرمایہ میرا لگا تھا ۔میں بھی امریکن شہری تھا ‘لیکن میرا عملہ جیسے مجھے کاٹنے کو دوڑتا تھا۔ ہر امریکی کے منہ پر ایک ہی لفظ تھا ”مسلمان دہشت گرد “ہیں ۔ زندگی کا ایک بڑا حصہ ان کے درمیان گزرا تھا۔ ان کے رسم و رواج ‘ رہن سہن ‘ کھانا پینا ‘ بلکہ ان سے زیادہ پینا ‘سب اپنایا تھا لیکن وہ ہمیں قبول نہیں کرتے تھے۔ میںنے واپس برطانیہ جانے کا فیصلہ کیا ۔وہاں جا کر دیکھا تو یہاں بھی زندگی کے رنگ بدل گئے تھے۔ مجھے درو دیوار اجنبی لگنے لگے ۔ جہاں جاتا ایک ہی سوال سامنے ہوتا اسلام کیا ہے ؟ اسلام دہشت گردی کو فروغ دیتا ہے ؟ جو مجھے جانتے تھے وہ سب سے زیادہ اجنبی نکلے ۔ ان کی زندگی کا ہر پہلو میں نے دیکھا تھا ۔اس معاملے میں میرے اندر کی حیرت ختم نہیں ہوتی تھی ۔ کیا مسلمان واقعی دہشت گرد ہیں؟میرے پاس جواب نہیں تھا۔ ادھر سے مسلسل گولے داغے جا رہے تھے اور میں نہتا تھا۔ تب مجھے اپنا گھریاد آیا ۔ خالہ زیتون یاد آئی۔ مولانا فضل حسین یاد آئے ‘ حمید ہاسٹل کوٹلی کے دوست یاد آئے‘ اسلامیات کے پروفیسر باغ حسین یاد آئے ۔ عربی والے پروفیسر شریف راجوروی یاد آئے ‘ پھر تیلے ہر دلعزیز پرنسپل اکرم طاہر یاد آئے ۔میں نے اپنے بخت کو کوسا۔ بد نصیبی پر رویا ۔میں بھی کیا مسلمان ہوں ؟ جسے اسلام کے بارے میں معلوم نہیں ۔میں علم کے سمندروں میں رہا لیکن ایک قطرہ بھی میرے نصیب میں نہ تھا ۔میری پہنچ میں سب کچھ تھا میںنے توجہ ہی نہیں دی۔ سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ کا لٹریچر میں تکیے کے طو رپر استعمال کرتا رہا ۔ میری آنکھوں نے ورق الٹ کر نہ دیکھے‘ میرا دماغ یورپ اور امریکہ کی چکا چوند کی طرف مائل رہا۔ میںنے ساری کیفیت اپنی بیوی کو بتائی اس نے مجھے حیرت زدہ کر دیا ۔کہنے لگی میں خود پریشان ہوں ‘ مجھے بھی ان ہی سوالوں کا سامنا ہے ۔ہم دونوں نے مل کر فیصلہ کیا ہمارا ضمیر زندہ ہو چکا تھا۔ ہم نے جامعہ الازھر کا رخ کیا وہاں بہت کچھ سیکھا اور اب میں پوری طرح مسلح ہوں ۔ میں اسلام کے خلاف اٹھنے والے طوفان کے سامنے کھڑا ہونے کو تیار ہوں ۔ میرا پورا خاندان بھی علم کے اسلحے سے مسلح ہے ۔ ہم نے عربی زبان سیکھی ۔ قرآن ترجمے کے ساتھ پڑھا ‘ تفسیر پڑھی کبائر سے اجتناب کیا ‘ اﷲ اور اس کے رسول کی غلامی کا عہد کیا ۔وہ رکا اور بولا۔امریکہ میں اس وقت سات ملین مسلمان ہیں۔سب کو اس سوال کا سامنا ہے ۔نائن الیون سے پہلے ایک سروے کے مطابق امریکا میںپچاس ہزار مسلمان روزانہ مسجد جاتے تھے۔ نائن الیون کے بعد تین ملین مساجد کا رخ کر رہے ہیں ۔ یہ اضافہ چار سو فیصد ہے۔ ان میں اکثریت نو مسلموں کی ہے۔ نائن الیون کے بعد امریکہ میں چار ہزارسو نو مساجد کا اضافہ ہوا ۔ اسی واقعے کے فوراً بعد چونتیس ہزار لوگوں نے ایک وقت میں اسلام قبول کیا ۔جب کہ بائیس ہزار امریکن ہر سال اسلام کی آغوش میں آ رہے ہیں ۔1990ءمیں دو ہزار پانچ سو مسلمان امریکن آرمی میں تھے ۔نائن الیون کے بعد یہ تعداد پندرہ ہزارسے تجاوز کر چکی ہے ۔ اس میں زیادہ وہ ہیں جو مسلمان ممالک میں تعیناتی کے دوران مسلمان ہوئے ۔“ اسد بتا رہا تھا‘ اس کے باریش چہر ے پر اطمینان کے زاویے بن رہے تھے۔ میری نظروں کے سامنے تیس برس پہلے والا اسد تھا جو قبلے کی طرف پیٹھ کر کے نماز پڑھنے پر بضد تھا ‘ حالات کے جبر نے اس کا قبلہ درست کر دیا ۔ اب اس کی سمت درست ہے ۔ لیکن حیرت اس بات پر ہے کہ اسد جیسے نوجوان تو روشن خیالی سے تنگ آ کر بنیاد پرست بن رہے ہیں اور ہم ہیں کہ روشن خیال بننے کے لیے بے تاب۔
(کئی کتابوں کے مصنف اورسماجی موضوعات پرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭
سعودی عرب نے اسرائیل کے لیے فضائی حدود باضابطہ طور پر کھول دیں
ریاض(ویب ڈیسک)سعودی عرب نے اسرائیل کے لیے اپنی فضائی حدود کھول دی ہیں جس کے تحت پہلی پرواز بھارت سے براستہ ریاض تل ابیب پہنچ گئی۔بین الااقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق سعودی عرب کی جانب سے اسرائیل کے فضائی حدود کھول دینے کے بعد بھارتی فضائی کمپنی ایئرانڈیا کی پرواز اے آئی 139 دہلی سے براستہ سعودی عرب تل ابیب کے بن گور?ون ایئرپورٹ پر پہنچ گئی جس کے بعد سعودی عرب کی جانب سے اسرائیل پر فضائی حدود کی 70 سالہ پابندی کا خاتمہ ہو گیا ہے۔اسرائیلی وزیر برائے ٹرانسپورٹ ?سرائ?ل ?اٹس نے بین الااقوامی خبر رساں ایجنسی سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ یہ ایک تاریخی لمحہ ہے جس کے لیے ہم نے برسوں محنت کی ہے۔ سعودی فضائی حدود کا اسرائیل کے کھلنے سے اسرائیل تا بھارت سفر مختصر اور کم خرچ ہو جائے گا اور یہ اسرائیل اور سعودی عرب کے درمیان پہلا باضابطہ تعلق بھی ثابت ہو گا۔بین الااقوامی خبر رساں ادارے رائٹر کے مطابق سعودی عرب کی جانب سے اسرائیل کے لیے فضائی حدود پر پابندی ا±ٹھانے سے متعلق تصدیق یا تردید نہیں ہے اور نہ ہی یہ واضح ہو سکا ہے کہ فضائی حدود پر پابندی ا±ٹھانے کا اطلاق کسی اسرائیلی ایئرلائن پر بھی ہوگا یا نہیں۔واضح رہے کہ سعودی عرب اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتا اور دونوں کے درمیان نا تو سفارتی تعلقات قائم ہیں اور نا ہی اب تک کوئی فضائی رابطہ رہا ہے۔
روس افغان طالبان کو ہتھیار فراہم کر رہا ہے، امریکا
کابل(ویب ڈیسک) افغانستان میں تعینات امریکی فوج کے کمانڈر جنرل جان نکولسن نے روس پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ افغان طالبان کو ہتھیار فراہم کررہا ہے۔برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کو دیئے گئے انٹرویو میں جنرل جان نکولسن نے کہا کہ روس نا صرف طالبان کی مدد کررہا ہے بلکہ انہیں اسلحہ بھی فراہم کر رہا ہے۔ یہ ہتھیار تاجکستان کی سرحد سے اسمگل کئے جارہے ہیں تاہم وہ اس کی تعداد نہیں بتا سکتے۔ یہ کہنا مشکل ہے کہ روس طالبان کو کتنی مدد فراہم کر رہا ہے۔جنرل جان نکولسن نے کہا کہ تاجکستان کے ساتھ افغان سرحد پر مشقوں کا ایک سلسلہ شروع کیا ہے۔ بظاہر یہ انسداد دہشت گردی کی مشقیں ہیں لیکن ہم اس حوالے سے پہلے بھی روس کا یہ طریقہ دیکھ چکے ہیں، جس کے تحت پہلے وہ بڑے پیمانے پر سازو سامان لے جاتے ہیں اور پھر اس میں سے کچھ سامان پیچھے رہ جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس طالبان کی ایسی کہانیاں موجود ہیں جو میڈیا میں شائع ہوئی ہیں جنمیں کہا گیا ہے کہ دشمن نے ان کی مالی مدد کی۔ ہمارے پاس ہتھیار ہیں جو ہمیں افغان رہنماو¿ں نے دیے ہیں، ہمیں معلوم ہے اس میں روسی ملوث ہیں۔
آئندہ سال پی ایس ایل کے آدھے میچز پاکستان میں ہوں گے، چیئرمین پی سی بی
کراچی(ویب ڈیسک) چیئرمین پی سی بی نجم سیٹھی نے پاکستان سپر لیگ کے ا?دھے میچز ا?ئندہ سال پاکستان میں کرانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگلی پی ایس ایل میں جمعرات اور جمعہ کو یو اے ای جب کہ ہفتہ اور اتوار کو میچز پاکستان میں کرائیں گے۔چیئرمین پی سی بی نجم سیٹھی نے نیشنل اسٹیڈیم کراچی کا دورہ کیا اور اسٹیڈیم میں اتوار کو پاکستان سپر لیگ تھری کے ہونے والے میچ کے انتظامات کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر میڈیا سے گفتگو میں نجم سیٹھی کا کہنا تھا کہ لاہور اور کراچی کو گرین سگنل مل گیا ہے، اب پشاور اور اسلام ا?باد کے اسٹیڈیم بنائیں گے۔نجم سیٹھی نے کہا کہ مجھ پر یقین کریں جو کہتا ہوں وہ کرتا ہوں، اگلے سال ا?دھی پی ایس ایل پاکستان میں ہوگی، جمعرات اور جمعہ کو یو اے ای جب کہ ہفتہ اور اتوار کو میچز پاکستان میں کرائیں گے، ویسٹ انڈیز کے بعد اس سال اب ممکن نہیں کہ کوئی غیر ملکی ٹیم پاکستان ا?ئے۔
نئے شو میں بھی پریشانیوں نے کپل کا پیچھا نہ چھوڑا
ممبئی(ویب ڈیسک)بھارت کے مقبول ترین کامیڈی شو ’دی کپل شرما‘ کے بند ہوجانے کے بعد رواں ماہ شروع ہونے والا نئے شو کی راہ میں بھی مشکلات حائل ہوگئیں۔بھارت کے مقبول کامیڈین کپل شرما اپنے مشہور کامیڈی پروگرام ”دی کپل شرما شو“ کو ایک بار پھر نئے انداز میں پیش کرنے جارہے تھے جس میں سدھو نے بھی اپنی ہنسی کا تڑکا لگانے کی تیاری پکڑ لی تھی بلکہ ایک شو کی ریکارڈنگ بھی کرالی تھی لیکن گزشتہ چند روز سے سوشل میڈیا پر جاری کپل شرما اور سنیل گروور کی جنگ نے نئے شو کو اپنی لپیٹ میں لے لیا جس کی وجہ سے انتظامیہ کو شو کو منسوخ کرنا پڑگیا۔بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ’فیملی ٹائم ود کپل شرما‘ کے نام سے شروع ہونے والا شو کپل اور سنیل گروور کے جھگڑے کی نظر ہوگیا جس وجہ سے 25 مارچ کو شروع ہونے والا پہلا شو بھی منسوخ کردیا گیا بلکہ ا±س سے قبل ہونے والی کپل کی پریس کانفرس بھی منسوخ کردی گئی۔نجی چینل کے ترجمان کے مطابق چینل کو کچھ تکنیکی مسائل کا سامنا ہے جس کو فوری طور پر حل نہیں کیا جاسکتا جس وجہ سے شو میں فلم ’باغی ٹو‘ کی کاسٹ کی ریکارڈنگ کا وقت تبدیل کیا گیا بلکہ پریس کانفرس کو بھی منسوخ کردیا گیا جب کہ نئی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔دوسری جانب سنیل گروور کا کہنا تھا کہ ا±ن کا ردعمل حقیقی تھا کیوں کہ میں نے کپل کے نئے شو میں نہ بلانے کی بات مداح کو جواب دیتے ہوئے کہی تھی اور میرا کوئی دوسرا ایجنڈا نہیں تھا جب کہ لوگ جو چاہئے کچھ بھی اپنی طرف سے اخذ کر سکتے ہیں میں اس پر ردعمل نہیں دوں گا جب کہ میں نے اپنے ایک ٹوئٹ میں یہ بھی کہا تھا کہ ’میں ایک پروجیکٹ کر رہا ہوں‘ جو کچھ بھی ہو سکتا ہے لیکن لوگ پھر بھی فرضی باتوں میں مصروف ہیں۔
شہزاد رائے کو دوسری مرتبہ ستارہ امتیاز سے نوازدیا گیا
کراچی(ویب ڈیسک) نامورگلوکار اورسماجی کارکن شہزاد رائے کو دوسری مرتبہ ملک کے تیسرے بڑے سول اعزاز ستارہ امتیاز سے نوازدیاگیا۔گلوکار شہزاد رائے کا شمار نہ صرف پاکستان کے بہترین گلوکاروں میں ہوتا ہے بلکہ وہ سماجی خدمات میں بھی پیش پیش رہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی سماجی خدمات کے صلے میں پاکستانی حکومت کی جانب سے ایک بار پھر انہیں پاکستان کے معتبر ترین ایوارڈ ستارہ امتیاز سے نوازدیا گیا۔شہزاد رائے نے حکومت کی جانب سےایوارڈ ملنے کی خوشخبری ٹوئٹر پر تمام لوگوں کے ساتھ شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ”مجھے معلوم ہے کہ ہمارے ملک میں بہت سارے ہیروز سماج کی بہتری اور معاشرے کی فلاح کے لیے بے لوث خدمت کررہے ہیں لیکن انہیں عوامی طور پر کوئی نہیں پہچانتا، میں یہ ایوارڈ ان تمام لوگوں کے نام کرتا ہوں۔“
شوبز و کرکٹ اسٹارز کی یوم پاکستان پر قوم کو مبارکباد
کراچی(ویب ڈیسک) پوری قوم کے ساتھ شوبز و کرکٹ اسٹارز بھی یوم پاکستان نہایت جوش و جذبے سے منارہے ہیں۔ملک بھر میں یوم پاکستان نہایت جوش و جذبے کے ساتھ منایا جارہا ہے۔ جہاں لوگ اس دن کی مناسبت سے پاکستان کے رنگ میں رنگے نظر ا?رہے ہیں وہیں شوبزو کرکٹ اسٹارز نے بھی یوم پاکستان کے موقع پر پوری قوم کو مبارکباد سے نوازا۔پاکستانی کرکٹر محمد حفیظ نے یوم پاکستان کے موقع پر پوری قوم کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا، پاکستان ہمیشہ قائم رہے۔کرکٹر شعیب اختر نے نہایت جذباتی اندازمیں پاکستان سے اپنی محبت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ا?و¿ سب مل کر پاکستان کو نوجوانوں کے لئے ایک بہتر جگہ بناتے ہیں۔ پاکستان سے محبت ہمیشہ قائم رہے گی۔اداکارہ جگن کاظم نے ویڈیو پیغام میں 23 مارچ یوم پاکستان کی مبارکباد دیتے ہوئے کہا، ا?ج کا دن ہم پاکستانیوں کیلئے بہت اہم ہے۔ ہماری کوشش ہونی چاہئیے کہ ہم اپنے پاکستان کو سپر پاوربنانے کی کوشش کریں اور یہ کرنے کیلئے ہم سب کو مل کر کام کرنا ہوگا، تو ا?ئیں ہم سب مل کر پیار کے دئیے جلاتے ہیں۔اداکار فیصل قریشی نے بھی اس موقع پر ملی نغمے کے روح پرور اشعار”اس پرچم کے سائے تلے ہم ایک ہیں“کہتے ہوئے تمام لوگوں کو مبارکباد دی۔کرکٹر عمر گل نے نہایت خوبصورت انداز میں تمام لوگوں کو یوم پاکستان کی مبارکباد دی اور پاکستان کیلئے اپنی نیک خواہشات کا اظہار کیا۔اداکارہ ارمینا خان نے یوم پاکستان کے حوالے سے اپنی خوبصورت تصویر شیئر کی اور پوری قوم کو یوم پاکستان کی مبارکباد دی۔قومی کھلاڑی کامران اکمل نے بھی تمام پاکستانیوں کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا ایک سچے پاکستانی کی طرح اس دن کا جشن منائیں۔کرکٹر سعید اجمل بھی پیچھے نہ رہے انہوں نے لکھا کہ تمام پاکستانیوں کو پاکستان ڈے مبارک ہو’ہمارا پاکستان، پیارا پاکستان۔‘
جوڈیشل مارشل لاء کا آئین میں کوئی تصور نہیں، چیف جسٹس
لاہور(ویب ڈیسک)چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ جوڈیشل مارشل لاءکا آئین میں کوئی تصور نہیں۔لاہور میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ ہم نے بھی آئین کے تحفظ کا حلف اٹھایا ہے، قسم کھاتا ہوں کہ اس ملک میں جمہوریت کو کوئی نقصان نہیں ہے،جمہوریت کو ڈی ریل نہیں ہونے دیں گے، پاکستان میں صرف آئین کی پاسداری ہوگی، اس ملک کو آئین اور قانون کے مطابق چلنا ہے، جوڈیشل مارشل لاء کا آئین میں کوئی تصور نہیں، انہوں نے کہا کہ کسی کو کوئی شک نہ ہو انصاف بلا تفریق ہوگا اور اس ملک میں انصاف بلا تفریق ہوتا دکھائی دے گا۔اس سے قبل چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے کیتھڈرل اسکول لاہور میں یوم پاکستان کی مناسبت سے منعقدہ تقریب میں شرکت کی۔ تقریب سے خطاب کے دوران چیف جسٹس پاکستان نے آزادی کی قدروقیمت اور تعلیم کی اہمیت پر روشنی ڈالی، انہوں نے کہا کہ ہم خوش قسمت لوگ ہیں کہ ہم آزاد ملک میں پیدا ہوئے، تعلیم ہی قوموں کی ترقی کا راز ہے، میں آج کے دن صرف آپ سے ایک قربانی مانگ رہا ہوں کہ زیادہ سے زیادہ تعلیم حاصل کریں کیونکہ جو قومیں تعلیم حاصل نہیں کرتیں وہ پیچھے رہ جاتی ہیں۔
پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کا راز جمہوریت میں پوشیدہ ہے، صدر و وزیراعظم کا پیغام
اسلام آباد(ویب ڈیسک)صدر مملکت ممنون حسین اور وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے یوم پاکستان کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ پاکستان کی سلامتی اور ترقی وخوشحالی کا راز جمہوریت میں پوشیدہ ہے۔صدرممنون حسین نے یوم پاکستان کے موقع پرقوم کے نام پیغام میں کہا کہ 23 مارچ ہماری تاریخ میں سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے، قرارداد لاہور نے برصغیر کے مسلمانوں کوعظیم مقصد کے لیے متحد کیا، قائداعظم محمد علی جناح، علامہ اقبال اور تحریک آزادی کے قائدین کی قربانیوں سے حصول پاکستان کی راہ ہموارہوئی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی ترقی اوراستحکام کا رازجمہوریت میں پوشیدہ ہے، جمہوری روایات سے رواداری ،ہم آہنگی اوربرداشت کوفروغ ملے گا۔صدر مملکت کا کہنا تھا کہ گزشتہ چند دہائیوں میں دہشت گردی نے خطے اور پاکستان کو بری طرح متاثرکیا، خوشی ہے کہ پوری قوم نے یکجان ہو کردہشت گردی کا مقابلہ کیا، دہشت گردی کے خاتمے سے ملک میں امن وامان بحال ہوچکا ہے، پاکستانی معیشت ترقی کی راہ پرگامزن ہے جب کہ ہمیں اس عہد کی تجدید کرنا ہوگی کہ ہم بزرگوں کے نقشے قدم پرچلتے ہوئے پاکستان کوعظیم ترملک بنائیں گے، دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ پاکستان کو ترقی وخوشحالی کی راہ پرگامزن کرے۔دوسری جانب وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے یوم پاکستان کے موقع پراپنے پیغام میں کہا کہ یوم پاکستان 78 سال پہلے کے عظیم دن کی یاد دلاتا ہے، 23 مارچ 1940 کو مسلمانوں نے الگ ریاست کے قیام کا فیصلہ کیا، آج ہم 23 مارچ 1940ئ کو یوم پاکستان کے طو رپر منا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ماضی پر نظر ڈالتے ہوئے مستقبل کی فکر کرنی ہوگی اور کامیابیوں کے ساتھ ساتھ کوتاہیوں کا جائزہ بھی لینا ہوگا۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان ایک جمہوری جدوجہد کے ذریعے وجود میں آیا، پاکستان کی سلامتی اور ترقی وخوشحالی کا راز جمہوریت میں پوشیدہ ہے، آئینی وقانونی بالا دستی کے بغیر ہم آبرو مند نہیں ہوسکتے جب کہ آج اقبال او رقائد کے افکار کو مشعلِ راہ بنانے کاعہد کرنا ہوگا۔


















