آرمی چیف اچانک ایسی جگہ پہنچ گئے جا ن کر آپ بھی حیران رہ جا ئینگے

مدینہ (مانیٹرنگ ڈیسک) آرمی چیف فیملی کے ہمراہ مدینہ منورہ پہنچے، باب جبرائیل میں نماز ادا کی، پاکستانیوں نے انہیں دیکھ کر خوشی کا اظہار کیا۔ نجی ٹی وی کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اپنی فیملی کے ساتھ مدینہ منورہ پہنچے جہاں انہوں نے باب جبرائیل میں نماز ادا کی، وہاں موجود پاکستانی آرمی چیف کو اپنے بیچ پا کر بڑے خوش ہوئے۔

نواز شریف نے سپریم کورٹ پیشی کے حوالے سے بڑا فیصلہ کر لیا

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) سپریم کورٹ آف پاکستان میں 62ون ایف کے تحت نااہلی کی مدت کی تشریح کا معاملے پر آج سے شروع ہونے والے کیس کی سماعت میں سابق وزیراعظم نوازشریف نے بذریعہ وکیل پیش ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔ نجی چینل کا اپنے ذرائع کے حوالے سے دعوی ہے کہ نوازشریف 62ون ایف کے تحت نااہلی کی مدت کی تشریح کا معاملے میں بذریعہ وکیل پیش ہونگے جس کیلئے انہوں نے اعظم تارڑ ایڈووکیٹ کو سپریم کورٹ میں پیش ہونے کی ہدایات کردی ہیں نوازشریف کے وکیل کل سپریم کورٹ میں پیش ہوکر عدالت سے وقت مانگیں گے۔

شہبا ز شریف کی طبیعت نا ساز ،ڈا کٹروں کا حیران کن مشورہ

لاہور (پ ر) وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف کی بخار اورفلو کے باعث طبیعت ناسازہوگئی ہے۔ معالجےن نے وزےراعلیٰ کوتےن روز تک آرام کا مشورہ دےا ہے۔ وزےراعلیٰ نے طبےعت کی ناسازی کے باعث اپنی مصروفےات ترک کردی ہےں۔

سرگودھا ویڈیو سکینڈل ، ترجمان پنجاب حکومت نے بڑا اعلان کر دیا

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) ترجمان پنجاب حکومت ملک احمد خاں نے کہا ہے کہ پیر حمیدالدین سیالوی صاحب نے وزیراعلیٰ پنجاب کے سامنے چھ مطالبات رکھے ہیں۔ ہم نے وزیراعلیٰ سے یہی بات کی تھی کہ آپ پیر حمیدالدین سیالوی صاحب اور ان کے بھتیجے جو کہ ہمارے ایم پی اے بھی ہیں ان سے بات کی جائے۔ ان کے چھ مطالبات پر کمیٹی بنائی گئی۔ جس میں پہلا نقطہ یہ رکھا گیا کہ نفاذ شریعت کے بارے ضرور کوئی ایکشن ہو گا لیکن اس میں احتجاج شامل نہیں ہو گا۔ انہیں سمجھایا گیا کہ ہر وقت احتجاج کوئی مناسب طریقہ نہیں ہے۔ اس پر وہ مان گئے اور بات چیت ہوئی۔ رانا ثناءاللہ والے معاملے پر انہیں سمجھایا گیا کہ وہ خود بھی دیندار گھرانے سے ہیں۔ ان سے ختم نبوت والے معاملے کو جوڑنا درست نہیں۔ کمیٹی جو بنائی گئی ہے اس میں دیگر مشائخ عظام بھی شامل ہیں جو کہ تمام معاملات کو غور سے دیکھے گی۔ اور مطالبات کے لئے درمیانی راہ نکالی جائے گی۔ سرگودھا والے واقعہ پر کوتاہی ہے اگر مجرمان ابھی تک پکڑے نہیں گئے، یہ معاملہ جب پنجاب حکومت کے نوٹس میں آیا۔ جب صیا صاحب کی رپورٹ ہمارے سامنے آئی تو ہم نے اس کے فیکٹس اینڈ فیگر اکٹھے کرنے کی کوشش کی۔ ناروے کی ایجنسی سے شکایت کی گئی کہ ایک شخص پاکستان میں موجود تیمور نامی کمپیوٹر انجینئر نے کچھ ایسی فلمیں باہر بھیجیں۔ جس پر یہ معاملہ کھڑا ہوا اس پر ایف آئی اے کام کر رہی ہے۔ مدثر نامی شخص کا پولیس مقابلہ کی خبر 5 سال پرانی تھی۔ اس پر نامزد افراد کو پکڑا بھی گیا اور تفتیش بھی کی گئی اس وقت بھی ان کے خلاف کیس چل رہا ہے۔ ایکسٹرا جوڈیشل کلنگ ایک غیر قانونی اور غیر فطری عمل ہے یہ نظام کے لئے زہر قاتل ہے۔ اس سے پولیس علامت بن جاتی ہے جو قانون شکنی کی مرتکب ہوتی ہے۔ بعض اوقات پولیس کی طرف سے رپورٹنگ ہوتی ہے کہ مجرم نے حملہ کیا۔ اس کی اوپن جوڈیشل انکوائری ہونی چاہئے ملزم عمران علی کے پیچھے کسی سیاستدان کی سفارش نہیں ہے نہ ہی کوئی پارلیمنٹیرین اس قاتل کے پیچھے ہے۔ جے آئی ٹی نے بڑی محنت سے رپورٹ مرتب کی۔ اس میں حساس اداروں کے لوگ بھی شامل تھے۔ ملزم کو جزا یا سزا دینا عدالت کا کام ہے۔ پولیس کو غیر سیاسی کرنا ہو گا۔ جہاں تک ہو سکے گا میں اپنا کردار ادا کروں گا۔ علی رضوان کیس میں حقائق سامنے آنے کے بعد تفصیل بتاﺅں گا۔ ان خیالات کا اظہار ترجمان حکومت پنجاب ملک احمد خان نے سماءٹی وی کے پروگرام میں میزبان مبشر لقمان سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔چیف ایگزیکٹو خبریں ضیا شاہد نے نجی ٹی وی کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ پیر حمید الدین سیالوی صاحب کو میں ڈراما نہیں کہتا۔ لیکن کچھ زمینی حقائق ہوتے ہیں۔ اس کے مطابق تو یہ ڈراما ہی لگتا ہے۔ جب یہ معاملہ شروع ہوا میں نے اسی وقت کہہ دیا تھا کہ یہ ٹھپ ہو جائے گا۔ کیونکہ مشائخ حضرات متولی حضرات، جن کے ذرائع صرف منت مراد کے پیسے خدمت اور ہدیے میں دی گئی زمین پر ہی تکیہ ہوتا ہے۔ ہمارے اخبار میں خبر چھپی تھی کہ حکومت پنجاب نے سختی سے کہا ہے کہ مزارات کو تحویل میں لے لیا جائے گا۔ یعنی ایک قسم کی چھڑی چلائی گئی لہٰذا مشائخ لرز گئے اور انہوں نے کال واپس لے لی۔ حاجی سیف اللہ، جو کہ ایک بہت بڑا نام ہے وہ مخدوم احمد انور عالم سے شکست کھا گئے۔ میں نے اس دن محسوس کیا کہ یہ ملک رہنے کے قابل نہیں ہے۔ جس میں حاجی سیف اللہ جیسے مقتدر یوں باہر جاتے ہیں۔ ہمارے رپورٹر کے مطابق پنجاب حکومت اور سیالوی صاحب کے درمیان ڈیل ہوئی ہے جس کے تحت دو اہم سیٹیں یعنی وزارت مذہبی امور حج و اوقاف، دوسرا اسلامی نظریاتی کونسل کی چیئرمین شپ۔ خبر کے مطابق بات چیت کروانے والی ٹیم نے دونوں اطراف کو اس پر اراضی کیا گیا۔ ہمارے ملک میں ایم پی اے، ایم این اے کی ایک قیمت ہوتی ہے۔ اگر حکومت مہربان ہوتی ہے تو انہیں بے تحاشا فنڈز ملتے ہیں اور ترقیاتی کاموں کے ٹھیکے ملتے ہیں ورجہ یہ سب فنڈز رک جاتے ہیں اگر حکومت اس کی مخالفت میں ہو۔ پچھلے دنوں گریڈ (4) کی بھرتی کا کوٹہ ایم پی اے اور ایم این اے کو دیا گیا۔ جعلی انٹرویو کروائے جائیں گے۔ صرف بہاول پور میں 560 نشستیں ہیں جس پر ہزاروں درخواستیں آئی ہیں جبکہ وہ سیٹیں ایم این اے اور ایم پی ایز میں تقسیم ہو چکی ہیں۔ ڈی سی اوز نے لسٹیں انہیں بھیج دی ہیں۔ اب سیالوی صاحب والے معاملے میں انہیں قیمت مل گئی ہے اب ان کے وارے نیارے ہو جائیں گے۔ ڈاکٹر شاہد صاحب میرے پرانے واقف ہیں میں ان کے پروگرام میں لندن میں جایا کرتا تھا۔ میں نے سپریم کورٹ میں کہا کہ ڈاکٹر شاہد کی اکاﺅنٹس والی بات جھوٹی ہے لیکن فلمیں بنتی ہیں۔ ویب سائٹس موجود ہیں، یقینا ان کے پیچھےے گروہ بھی ”انوالو‘’ ہے۔ سپریم کورٹ میں میں نے ایک خوفناک واقعہ دہلی کی ایک بچی رادھا کا بتایا۔ وہ واقعہ ہو یا یہ ہو زینب اور دیگر بچیوں جیسا ہی ہوا۔ تین سال بعد ہیکرز نے بتایا کہ جب یہ واقعہ ہو رہا تھا اس وقت ڈارک ویب پر اس کی مووی چل رہی تھی سرگودھا میں ایک ملزم نے 600 ویڈیوز بنائیں جو کروڑوں میں اس نے بیچیں اس کے تمام ثبوت بھی موجود ہیں۔ اس کا ایک بھی ملزم گرفت میں نہیں آ سکا۔ ڈان نیوز کی خبر غلط ہوئی تو اس نے معافی مانگ لی۔ بول ٹی وی نے 120 اکاﺅنٹ کی خبر چلائی۔ دو دن قبل کوٹ رادھا کشن میں ایک بچی پر مجرمانہ حملہ کرنے کے الزام میں ایک شخص کو پکڑا گیا جب پولیس اسے لے کر جا رہی تھی وہاں مقامی ایم این اے نے کہا اسے میرے ڈیرے پر لے جاﺅ۔ اس کے نتیجے میں عوام مشتعل ہوئے اور اس پر حملہ کر دیا۔ برائے مہربانی پولیس کو سیاست میں نہ کھینچیں یہ تمام واقعات قصور ہی میں کیوں ہو رہے ہیں۔ کسی اور شہر سے ایسی خبریں کیوں نہیں آتیں۔تجزیہ کار مبشر لقمان نے کہا ہے کہ پیر حمید الدیان سیالوی اصل میں وہ ڈرامہ تھا جو حکومت پنجاب نے رچایا۔ خود انہیں کھڑا کیا پھر ان کے پیچھے بندے لگا دیئے آخر میں میاں شہباز شریف نے جا کر ان کے گھٹنے پکڑے اور معاملہ ختم ہو گیا۔ 7 دنوں میں شریعت بھی نافذ ہو گئی اور ختم نبوت والا معاملہ بھی ختم ہو گیا۔ ضیا شاہد ہمارے ملک کا ایک قابل احترام نام ہے۔ میرا ان کے ساتھ ایک خصوصی تعلق عدنان شاہد مرحوم کی وجہ سے بھی ہے۔ اس حیثیت سے ہم انہیں چچا کہتے ہیں۔ ڈاکٹر شاہد کے معاملے پر اب سب کے پیٹ میں مروڑ اٹھ رہے ہیں۔ یہ تکلیف اس وقت کیوں نہیں ہوئی جب ابصار عالم جیسے کو پیمرا کا ہیڈ بنایا گیا۔ پنجاب پولیس پیسے لے کر ایکسٹرا جوڈیشل کلنگ کرتی ہے ہم نے ویڈیوز دکھائیں۔ قصور والے مدثر کا معاملہ دیکھ لیں۔ اس کا ذمہ دار کون ہے۔ صحافیوں میں سفید ہاتھی موجود ہوتے ہیں جو زمینوں پر قبضے کئے بیٹھے ہیں۔

ستلج ، راوی ، اور بیاس کا سارا پانی بندکیوں ؟ سینئرصحافی اورتجزیہ کارضیا شاہد نے حقائق سے پردہ اٹھادیا

لاہور(خبر نگار) لاہور کے آواری ہوٹل میں روزنامہ” خبریں“ کے چیف ایڈیٹر ضیاشاہد کی تحریر کردہ کتاب ستلج ،راوی اور بیاس کا سارا پانی بند کیوں ؟کی رونمائی ہوئی ،کثیر تعداد میںاہل علم وقلم شخصیات کی شرکت سے یہ تقریب ایک فکری نشست میں تبدیل ہوگئی ۔تقریب کے مہمان خصوصی سندھ طاس واٹر کمشن کے سابق کمشنر مرزا آصف بیگ تھے،انہوں نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمیں کشن گنگا کے حوالے سے مکمل فتح حاصل نہیں ہوئی لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم نے تیاری نہیں کی تھی عدالت نے کہا کہ آپ اس وقت عدالت آئے جب انڈیا یہ پروجیکٹ شروع کر چکا جس پر کافی کام بھی ہوچکا اب اس کو روکنا مشکل ہے لیکن جہاں ناکامی ہوئی وہاں ایک کامیابی بھی ملی وہ ہے ماحولیات کے لیے پانی کاملنا،اب اس مسئلہ پر ہم بھارت سے پانی لے سکتے ہیں یہ کتاب جو ضیا شاہد نے تحریر کی ہے یہ پانی کے مسئلے کے حل کا نچوڑ ہے ۔ہم ماحولیات کے حوالے سے اپنا مقدمہ مضبوط طریقے سے لڑ سکتے ہیں اس حوالے سے ہم نے بھی کافی پیپر ورک مکمل کر لیا تھا اعلیٰ ایکسپرٹ سے مشاورت کی، ٹی او آر فائنل کر لیے اور جلد ہی اس بارے فائنل سمری حکومت کو بھیجی جا چکی ہے، سب سے پہلے اس بارے بھارت کے کمیشن سے بات کی جائیگی، بھارت ہمارا دئمی دشمن ہے اور بہت شاطر ہے اسے بھی اس بات کا علم ہے کہ ماحولیات کا بہت سنگین مسئلہ ہے اس مسئلے پر پاکستان پانی حاصل کر جائیگا ۔ یہاں ہمارا مسئلہ حل نہ ہوا تو ہمیں عالمی عدالت میں جانا ہوگا لیکن اس کےلئے ہمارا کیس مضبوط ہونا چاہیے ۔مرزا آصف بیگ نے کہا کہ ہمارے ساتھ ماضی میںکیا ہوا اس کو بھولنا ہوگا، ہمیں آگے کا سوچنا ہوگا، اپنی نئی نسل کا سوچنا ہوگا ضیاشاہد نے اپنے حصے کا کام کردیا ہے اب ہم سب کو ایک ساتھ مل کر کام کرنا ہوگا۔تقریب سے سینئر صحافی مجیب الرحمن شامی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ضیا شاہد کو مبارکباد دیتا ہوں جنہوں نے یہ کتاب لکھ کر ایک اہم مسئلے کواجاگر کر کے پاکستان کی عوام پر بڑا احسان کیا ہے اور میں حیران ہوں کہ اس مسئلے کو پاکستان کے حکمرانوں نے آج تک کیوں نہیں اٹھایا ؟ اب حکمرانوں کو اس بارے سوچنا چاہیے ،اس پر پارلیمنٹ کو ایک کمیٹی بنانی چاہیے، سپریم کورٹ کو اس پر ایکشن لینا چاہیے ،پاکستان کو عالمی عدالت جانا چاہیے ،دریاوں میںپانی کی مکمل بندش ہمارے لیے بہت اہم مسئلہ ہے ۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف ایڈیٹر روزنامہ خبریں و مصنف کتاب ستلج،راوی اور بیاس کا سار ا پانی بند کیوں ؟ ضیاشاہد نے کہا کہ ہم اس مسئلے کو قومی پالیسی بنوانے کی کوشش کر رہے ہیں یہ ایک قومی مسئلہ ہے ۔ اب تو یہ مسئلہ پورے پنجاب میں ہے پانی کی سطح انتہائی خطرناک حد تک پہنچ گئی ہے۔میں نے پانی بندش بارے جو کام کر نا تھا کر لیا ہے اب یہ مسئلہ سب کا مسئلہ ہے ہر ایک کو اپنے اپنے حصے کا کام کرنا ہوگا سی پی این ای کے پلیٹ فارم پر وزیر آبی وسائل نے کہا تھا کہ میں اپنے دور حکومت میں ہی اس کام بارے ضرور پالیسی بنواونگا ۔عوام میں اس بارے آگاہی ہم دے رہے ہیں اور کافی حد تک کامیاب بھی ہوگئے ہیں لیکن اس کو مزید بہتر کر نے کی گنجائش ہے، سیاستدانوں کے ذریعے اسمبلیوں تک اس کی آواز پہنچائیں کہیں ایسا نہ ہوپنجاب ریگستان بن جائے اگر یہ مسئلہ بروقت حل نہ ہوا تو آنے والے وقتوں میں پانی کا مسئلہ انتہائی خطرناک حد تک پہنچ جائیگا ۔سابق سنیٹر محمد علی درانی نے خطاب کر تے ہوئے کہا کہ اس کتاب کے مطالعے سے پتہ چلا کہ معاہدہ یہ نہیں تھا کہ دریا فروخت کئے گئے بلکہ زرعی پانی کے استعمال کا معاہدہ کیا گیا تھا جنوبی پنجاب کے عوام ضیا شاہد کے مشکور ہیں، جنہوں نے بند تین دریاوں میں پانی کی بحالی کی امید دلائی، اب حکمراانوں کو چائیے کہ اس کا فوری حل نکالیں ۔انہوں نے کہا کہ دنیا میں ایسا کوئی قانون نہیں ہے کسی دریا کا بہتا پانی بند کر دیا جائے ۔بھارت نے ہمارے تین دریاوں راوی ،ستلج اور بیاس کا مکمل پانی بند کر کے ماحولیاتی آلودگی پیدا کر کے بدتر دشمنی کا ثبوت دیا ہے اس پر تمام عالمی برادری کو توجہ دینی چاہیے اور بھارت کو باور کرایا جائے کہ وہ انسانی ہمدردی پر دریاوں کا پانی بحال کرے ،انہوں نے کہا کہ اگر بھارت صرف دس فیصد بھی پانی ان دریاوں میں چھوڑ دے تو تربیلا اور منگلا ڈیم جتنا پانی ہمارے حصے میں آسکتا ہے جس سے ماحولیاتی آلودگی پر قابو پایا جاسکتا ہے ۔سینئر صحافی عطاالرحمن نے خطاب کر تے ہوئے کہا کہ ضیا شاہد نے پانی بندش بارے جو کتاب تحریر کی ہے اس سے پتا چلا کہ پانی کا مسئلہ بہت اہم ہے ۔ میڈیا کو اس بارے پروگرام کر نے چائیں اگر میڈیا اس پر پروگرام کر نے شروع کر دے تو میرے خیال میں پاکستان دنیا کو بھارت کی ہٹ دھرمی بارے باور کرا جائیگا اور بھارت پانی چھوڑنے پر مجبور ہوجائیگا ۔نظریہ پاکستان ٹرسٹ کے سکریٹری شاہد رشید نے کہا کہ جناب ضیاشاہد نے یہ کتاب منظر عام پر لاکر ایک بڑا کام کیا ہے اس سے پاکستانی قوم کو مستقبل میں فائدہ ہوگا،ضیاشاہد نے نظریہ پاکستان ٹرسٹ میں بھی دو لیکچر دیئے تھے جو اس کتاب میں بھی موجود ہیںوہ کتاب کا نچوڑ ہیں،انہوں نے کہا کہ ہمارا خوشحال مستقبل دریاوں سے جڑا ہے ،پبلشر کتاب عبدالستار عاصم نے کہا کہ ضیاشاہد کی تمام کتابیں جو شائع ہوچکی ہیں ان کو عوام میں پذیرائی ملی ہے اور ان کی فروخت میں اضافہ ہورہا ہے اور خاص کر کتاب ستلج ،راوی اور بیاس کا سارا پانی بند کیوں ؟ عوام نے اس کو زیادہ پذیرائی دی ہے ۔کالم نگار مکرم خان نے خطاب کر تے ہوئے کہا کہ ستلج ،راوی اور بیاس کی مٹی کی خوشبو آج بھی محسوس کرتا ہوں ،ساٹھ کی دہائی میں میرے اباءاجداد نے ستلج کو بن پر دیکھا تھا ،70کی دھائی میں میں نے اس کو خشک ہوتے دیکھا ۔پانی کی بندش سے میں ناامید ہوگیا تھا لیکن ضیاشاہد نے یہ کتاب تحریر کر کے میرے دل میں امید پیدا کر دی ہے میرے دریاوں میں پانی آئیگا ۔اس موقع پر کالم نگار خدایار چنڑ نے کہا کہ اس کتاب میں پانی کی بندش بارے جو موقف اجاگر کیا گیا ہے اس کو کوئی رد نہیں کر سکتا یہ کتاب پانی بندش کے حوالے سے ہمارے لئے مشعل راہ ہے ۔ماہر آبپاشی انجینئر سلیمان خان نے کہا کہ ہماری جنگ پانی بندش کے حوالے سے دو دشمنوں سے ہے، ایک بھارت سے ہے دوسرا ہمارے اپنے اندر کے دشمن سے ہے جو میر جعفر میر صادق کا کردار اداکر رہے ہیں جو ہمارے لئے انتہائی خطرناک ہیں، ضیاشاہد نے تو اپنے حصہ کا کام کر دیا ہے اب ہم پر فرض بنتا ہے کہ اپنے دشمنوں کے بارے میں عوام میں آگاہی پیدا کریں کہ یہ لوگ ہمارے نہیں ہیں بلکہ بھارت نواز ہیں یہ بھارت کے ہمدرد ہیں ان کے چہرے بے نقاب کئے جائیں یہ لوگ ہمارے دریا آباد نہیں ہونے دیتے یہ لو گ ہمارے ڈیم نہیں بننے دیتے جس کی وجہ سے ہمارا پانی ضائع ہوجاتا ہے اور یہی بہانہ بھارت بناتا ہے کہ پاکستان کو پانی کی ضرورت نہیںہے ۔ کالم نگار ملیحہ سید نے کہا کہ پانی بندش پر ہمارے حکمرانوں کی خاموشی معنی خیز ہے اس پر عوام کو سوچنا ہوگا ،ضیا شاہد کی تحریری کردہ کتاب ستلج،راوی اور بیاس کا سارا پانی بند کیوں ؟ نے پوری قوم کو جگا دیا ہے تین دریاوں کی پانی بندش ہمارے حکمرانوں اور بیورکریٹس کی نااہلی ہے جو معاہدے کو پوری طرح آج تک سمجھ نہ سکے۔ڈاکٹر عمرانہ مشتاق نے کہاکہ حکمران صاف پانی اور دوسرے پروجیکٹ پر تو کام کر رہے ہیں لیکن اصل مسئلہ کی طرف کوئی نہیں آرہا پانی ہوگا تو پروجیکٹ چلیں گے پانی کی سطح دن بدن کم ہوتی جارہی ہے انہوں ضیاشاہد سے کہا کہ کوئی ایسا فورم بنائیں جس میں وکلائ،شعبہ انجینئرنگ ،سول سوسائٹی اور دیگر شعبوں کے لوگوںکو اس میںشامل کیا جائے تاکہ وہ اس بارے تجاویز دے سکیں ہمیں اپنے حصے کا کام کرنا ہوگا اور عوام کو اس بارے اگاہی دینی ہوگی ۔معروف کالم نگاررانا محبوب اختر نے خطاب کر تے ہوئے کہا کہ ہمارے پانی کی بندش نہیں ہوئی بلکہ تہذیب کا خاتمہ ہوا ہے،دریا آباد ہوں گے تو پورا پاکستان شاد وآباد ہوگا،میری جو بھی خدمات ہوں گی میں حاضر ہوں ،اس کتاب کا انگلش ترجمہ بھی کروں گا،انہوں نے کہا کہ پالیسی ساز ادارے اس طرف بھی توجہ دیں ۔تقریب میں نعیم الحسن ببلو نے نظم پیش کر کے ستلج دریا کی منظر کشی کر کے شرکا کو خوب محظوظ کیا ۔حافظ شفیق نے کہاکہ مصنف نے پاکستان سے متعلق کتب تحریر کرنے کا جو سلسلہ شروع کیا ہے اور بالخصوص پانی سے متعلق کتاب ہمارے حکمرانوں کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔کالم نگار فاروق چوہان نے کہا کہ جہاںبھارت نے ہمارے پانی پر باسٹھ ڈیم بنا دئیے جبکہ اس پانی پر ہمارا حق تھا لیکن ہمارے حکمران خاموش تماشائی بنے رہے اور آج تک ہمیں معاہدے کے بارے بھی درست معلومات نہیں دیں۔علی اکبر گروپ کے سعد اکبر نے کہا کہ میری گزارش ہے کہ ہمارا ملکی میڈیا جو روز سات سے دس بجے تک پروگرام کرتا ہے جن کا قومی ایشوز سے کوئی تعلق نہیںہوتا وہ اس اہم موضوع پر پروگرام کریں تاکہ قوم اس حوالے سے آگاہ ہوسکے۔سندھ طاس واٹر کونسل کے چیئرمین سلیمان خان نے کہا کہ میٹھا پانی ہی ہمارا اصل خزانہ ہے جسے ہم سنبھال نہیں پارہے اس بارے سوچ بچار کا دریہ کتاب کھول رہی ہے اب ہمیں جاگنا ہوگا ، اس موقع پر سابق ڈی جی پی آر اسلم ڈوگر، کالم نگار ان اعجازشیخ ، رازش لیاقت پوری، ثروت روبینہ ، ڈاکٹر رامہ ودیگر موجود تھے۔ تقریب کی نظامت کے فرائض معروف اینکر نائلہ ندیم نے سرانجام دئےے۔

 

اسامہ بن لاد ن کی بیٹی صرف 12سال کی تھی تو شادی کیوں کر دی گئی،باقی بیٹیوں نے اپنے شوہرو ں کا انتخاب کیسے لیا

ریاض(ویب ڈیسک )کالعدمتنظیم  القاعدہ کے بانی اور سابق سربراہ اسامہ بن لادن کے اہل خانہ کی دوسری نسل میں اکثریت کو عربی زبان سے زیادہ اردو اور پشتو زبانیں بولنے پر عبور حاصل ہے۔عرب ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسامہ نے اپنے بیٹے محمد کی شادی القاعدہ کے مصری شدت پسند رہ نما ابو حفص المصری کی بیٹی سے کی جبکہ اسامہ کے بیٹے سعد نے شادی کے لیے اپنے والد کے ایک سوڈانی ساتھی کی بیٹی کا انتخاب کیا۔ حمزہ بن لادن نے ابو محمد المصری کی بیٹی سے شادی کی جبکہ عثمان بن لادن نے تنظیم کے ر ہنما سیف العدل کی بیٹی صفیہ کو اپنی دوسری بیوی بنانے کا فیصلہ کیا۔جہاں تک اسامہ کی بیٹیوں کا تعلق ہے تو ایسا لگتا ہے کہ اسامہ نے خلیج کے عرف کا خیال رکھتے ہوئے کوشش کی کہ دامادوں کا انتخاب سعودی یا خلیجی مردوں میں سے ہی کیا جائے۔ قندھار میں قیام کے دوران 1999 میں اسامہ نے اپنی 12 سالہ بیٹی فاطمہ کی شادی سلیمان ابو غیث الکویتی سے کی۔ اسی طرح اپنی ایک دوسری 11 سالہ بیٹی خدیجہ کی شادی مدینہ منورہ سے تعلق رکھنے والے عبداللہ الحلبی سے کی۔ البتہ متعلقہ دستاویزات سے اسامہ کی بیٹیوں مریم، سمیہ اور ایمان کی شادیوں کے بارے میں معلومات نہیں ملتی ہیں۔ایبٹ آباد دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسامہ کا بیٹا خالد اپنے باپ کے ایک مقرب رہ نما ابو عبد الرحمن کی بیٹی سے شادی کا خواہش مند تھا تاہم سکیورٹی وجوہات کے سبب اس پر عمل نہیں ہو سکا اور 2011 میں ایبٹ آباد آپریشن میں جاں بحق ہو گیا۔

پاکستان کی ”معروف “ اداکارہ میگھا کا عرب دنیا کی” معروف“ شخصیت سے نکاح

لاہور(ویب ڈیسک ) اداکارہ وماڈل میگھا نے سعودی عرب اور دبئی کے ناموربزنس مین نوید شر یف سے نکاح کرلیا تاہم اب ولیمہ کی تقریب فروری کے پہلے ہفتے میں لاہور میں ہوگی۔اداکارہ میگھا کا نوید شریف کے ساتھ نکاح اسکائپ کے ذریعے ہوا، اس موقع پرمفتی عاشق حسین نے نکاح پڑھایا اور نکاح کے موقع پر میگھا کے اہلخانہ شریک وئے۔ اداکارہ میگھا کا کہنا تھا کہ فروری کے پہلے ہفتے لاہور میں شادی کی خوشی میں تقریب منعقد کرونگی، جس میں شوبزسمیت دیگر حلقوں سے تعلق رکھنے والے ساتھی فنکاروں، قریبی دوستوں اور صحافیوں کو بھی باقاعدہ طور پرمدعوکیا جائے گا۔ میں سمجھتی ہوں کہ ہماری خوشی کے لمحات کواس وقت چارچاند لگ جاتے ہیں، جب اس میں قریبی لوگ شریک ہوں۔

فوج اور عدلیہ سے پس پردہ بات چیت بارے وزیر اعظم نے تمام قیاس آرائیوں کا خاتمہ کر دیا

 اسلام آباد(ویب ڈیسک ) وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ فوج اور عدلیہ سے کوئی پس پردہ بات چیت نہیں ہورہی، اداروں کے درمیان رشتے آئین نے بنا دیئے ہیں اور اس کے تحت ساری بات چیت سامنے ہی ہوتی ہے۔اسلام آباد میں ملک بھر کے صحافیوں کی نمائندہ تنظیم پی ایف یو جے کے وفد سے ملاقات کے دوران وزیر اعظم نے کہا کہ فوج اور عدلیہ اس ملک کے ادارے ہیں اور سب کا مقصد ملک کی بہتری ہے۔ فوج اور عدلیہ سے کوئی پس پردہ بات چیت نہیں ہورہی، اداروں کے درمیان رشتے آئین نے بنا دیئے ہیں، اس کے تحت ساری بات چیت سامنے ہی ہوتی ہے۔آئندہ عام انتخابات کے بعد مسلم لیگ (ن) کی جانب سے آئندہ وزیر اعظم کے نام پر وزیر اعظم نے کہا کہ شہباز شریف کی بطور وزیراعظم نامزدگی پارٹی فورم پر نہیں ہوئی، نوازشریف نے انہیں میڈیا سے گفتگو میں نامزد کیا ہے۔عدالتی فیصلوں سے متعلق وزیر اعظم نے کہا کہ ملک میں احتساب صرف سیاستدانوں کا ہی ہورہا ہے، عدالتی فیصلے ایسے ہونے چاہیے جنہیں تاریخ میں یاد رکھا جائے اور حوالہ دیا جائے لیکن اب ایسے فیصلے ہو رہے ہیں جن کا تاریخ میں شائد حوالہ نہ دیا جا سکے، کسی کو ایک دن اور کسی کو پوری زندگی کے لئے نااہل قراردیا گیا۔ یہ سب عجیب فیصلے ہیں۔وزیر اعظم نے مزید کہا کہ نگران وزیراعظم کے لئے اچھے نام ذہن میں موجود ہیں، آئین کے تحت اسمبلی کی مدت ختم ہونے سے ایک ماہ قبل قائد حزب اختلاف سے مشاورت شروع کی جائے گی۔ سیاست کے فیصلے عدالتوں میں نہیں عوام میں ہوتے ہیں، عوام جس جماعت کے حق میں فیصلہ کریں گے وہ حکومت بنا لے گی، عام انتخابات میں ہر امیدوار کامیابی کے لئے اپنا اپنا زور لگائے گا، ہم نے بہت کام کئے ہیں اس لئے ہمیں الیکشن میں کامیابی کی توقع ہے۔پرویز رشید اور چوہدری نثار کے درمیان اختلافات کے حوالے سے شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ نواز شریف کے ہوتے ہوئے پارٹی میں کوئی تنازع ہوتا ہی نہیں تھا، چوہدری نثار اور پرویز رشید پارٹی کے اہم رہنما ہیں ، ان کی جانب سے دیئے گئے بیانات کوئی مسئلہ نہیں، اختلافات تو گھر میں بھی ہو جاتے ہیں اور یہ مسئلہ حل ہو جائے گا۔

ہیرو بننے کے شوقین ڈی ایس پی نے اپنا اصلی پستول کنپٹی پر رکھاہی تھا کہ ٹریگر دب گیا،جان سے گیا

نئی دہلی (ویب ڈیسک) بھارتی پنجاب کے ضلع فرید کوٹ میں ڈی ایس پی فلمی انداز کا ایکشن کرتے ہوئے گولی لگنے پر جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔بتایا گیا ہے کہ فرید کوٹ کے علاقے میں کچھ طلباءاحتجاج کرتے ہوئے کالج کے باہر دھرنا دیئے بیٹھے تھے۔ ڈی ایس پی بلجیندر سنگھ سندھو طلباءاور پولیس کے درمیان مصالحت کرانے پہنچا اور مذاکرات کے دوران اپنا پستول اپنے سر کی طرف کر لیا۔ اچانک گولی چلی اور ڈی ایس پی وہیں گر کر مر گیا۔ پولیس نے حادثے کو اتفاقیہ کلیئر کر دیا۔

ایک اور دلخراش واقعہ ،معصوم بچی سے زیادتی ،عمر جان کر آپ کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں گیں

نئی دہلی (ویب ڈیسک ) بھارت میں بربریت کی انتہا ہو گئی، دارالحکومت دہلی میں آٹھ ماہ کی بچی کو جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا، بچی کو نازک حالت میں ہسپتال لایا گیا ہے۔ ملک بھر میں احتجاج شروع ہو گیا ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق بچی کو اتوار کے روز ہسپتال لایا گیا۔پولیس نے میڈیا کو بتایا کہ 28 سالہ شخص کو گرفتار کیا گیا ہے جو ایک دیہاڑی دار مزدور ہے۔ دہلی میں ویمن کمیشن کی سربراہ سواتی مالیوال کا کہنا ہے اس کے زخم بہت خوفناک ہیں۔ بچی کا تین گھنٹے تک آپریشن ہوا اور وہ انتہائی نگہداشت وارڈ میں ہے۔ انہوں نے وزیرِ اعظم سے اپیل کی کہ وہ سخت قوانین اور مزید پولیس کا انتظام کریں۔

عاطف اسلم اور ماہرہ خان کی تصاویر نے سو شل میڈیا پر نیا محاذ کھول دیا

لاہور (ویب ڈیسک ) ایک اور نیا دن، شوبز کی دنیا سے ایک اور نیا ہدف۔۔۔ لیکن اس مرتبہ پاکستانیو ں کے عتاب کا شکار ہونے والا کوئی اور نہیں بلکہ معروف گلوکار عاطف اسلم ہیں اور یہ جان کر آپ کو حیرت کا جھٹکا ضرور لگے گا کہ پاکستانیوں نے انہیں کسی اور وجہ سے نہیں بلکہ لباس کے باعث تنقید کا نشانہ بنا ڈالا۔سوشل میڈیا ویب سائٹ انسٹاگرام پر ماہرہ خان کیساتھ عاطف اسلم کی ایک تصویر گردش کر رہی ہے جس میں وہ ”شارٹس“ یعنی نیکر پہنے ماہرہ خان کیساتھ بیٹھے ہیں اور کچھ دیکھنے میں مصروف ہیں۔ جب یہ تصویر منظرعام پر آئی تو پاکستانیوں کو یہ بات قابل اعتراض لگی کہ وہ مسلمان مرد ہیں اس لئے نیکر پہن کر ماہرہ خان کیساتھ کیوں بیٹھے ہیں۔

سی پیک گیم چینجر منصوبہ ۔۔۔ چیف جسٹس نے سی پیک تنازعات پر اجلاس بلا لیا

اسلام آباد(ویب ڈیسک ) چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے سی پیک پر اٹھنے والے تنازعات پر پالیسی سازی کے لیے ملک بھر کی صوبائی ہائی کورٹس کے چیف جسٹس صاحبان کا اجلاس طلب کرلیا ہے۔چیف جسٹس ثاقب نثارکی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے  کٹاس راج مندر سے متعلق  از خود نوٹس کیس کی سماعت کی، عدالت نے متفرق جواب داخل نہ کرنے پر ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب عاصمہ حامد کو ایک ہزار جرمانہ کردیا۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ لوگ بنیادی حقوق کے لیے عدالت آتے ہیں، بنیادی حقوق کو یقینی بنانا پنجاب حکومت کی ذمہ داری ہے، پنجاب اپنے گھر پر بھی نظر رکھے، وہاں سب کچھ اچھا نہیں، کئی ایسے کام ہیں جو پنجاب میں نہیں ہو رہے، میڈیکل ویسٹ کے بارے میں پنجاب حکومت نے کچھ نہیں کیا۔صدیق الفاروق کے حوالے سے متروکہ وقف املاک کے وکیل اکرام چوہدری نے عدالت کو بتایا کہ صدیق الفاروق کی تقرری کا معاملہ ہائی کورٹ میں زیر التواء ہے، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ہم کسی زیر التواء عدالتی کارروائی کے پابند نہیں، سیاسی وابستگی اور ذاتی پسند وناپسند پر بھرتیاں نہیں ہونی چاہئیں، صدیق الفاروق کی تقرری سیاسی اقرباء پروری پر ہوئی ہے۔ ان کی مدت ختم ہوچکی پھر وہ کیسے اب تک اپنے عہدے پر تعینات رہ سکتے ہیں، وزیراعظم کی نوازش پر یہ کب تک عہدے پر رہیں گے، بتایا جائے کہ صدیق الفاروق کتنی مدت تک اے پی پی اور (ن) لیگ کے دفتر پر کام کرتے رہے۔سماعت کے دوران ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے عدالت کو بتایا کہ حکومت پنجاب نے ماحولیاتی مسائل پر فیکٹریوں کو نوٹس دے رکھے ہیں، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ہم مسائل کو حل کرنا چاہتے ہیں، فیکٹریز کی وجہ سے آلودگی پھیل رہی ہے، کٹاس راج کا تالاب اور مندر بحال ہونے چاہئیں۔ مندر کے تالاب کا پانی فیکٹریوں کے سبب کم ہورہا ہے تو فیکٹریاں دوسرا بندوبست کریں، نوٹس کا جواب نہیں دیتے تو فیکٹریوں کے خلاف ایکشن لیں۔ ہم حکومت کے پالیسی معاملات میں مداخلت نہیں کرتے، سی پیک پاکستان کے لیے ایک انتہائی اہم منصوبہ ہے لیکن اس منصوبے سے متعلق کئی تنازعات سامنے آ رہے ہیں، ملک کی ضرورت اور سی پیک کو بھی دیکھنا ہے، ہم سی پیک منصوبے سے متعلق تمام تنازعات کا حل چاہتے ہیں، میں نے تمام چیف جسٹس صاحبان کو بلا لیا ہے، اجلاس آئندہ ہفتے کے روز ہوگا جس میں پالیسی طے کریں گے۔

پنجاب حکومت بارے آصف علی زرداری کا چونکا دینے والا اعلان

تونسہ(ویب ڈیسک) پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری کا کہنا ہےکہ امید ہے انتخابات وقت پر ہوں گے اور اس بار پنجاب میں ہی حکومت بنانی ہے۔تونسہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے آصف زرداری نے کہا کہ ہم نے کیسز بھی بھگتے ہیں اور نوازشریف مظلوم کیسے ہیں، 6 گاڑیاں آگے اور 6 پیچھے ہیں، یہ مظلوم ہیں، اپوزیشن میں خود ہیں اور حکومت ان کی ہے، وزیراعظم اور وزیراعلیٰ بھی ان کا ہے اس کے باوجود مظلوم ہیں۔انہوں نے کہا کہ مظلوم ہم تھے ہم بکتر بند میں آتے تھے، پہلے جج نے مجھے سزا دی پھر وہ سزا سپریم کورٹ نے ختم کی۔سابق صدر کا کہنا تھا کہ امید ہے انتخابات وقت پر ہوں گے، ہم نے اس بار حکومت ہی پنجاب میں بنانی ہے۔آصف زرداری نے مزید کہا کہ یہ منصوبے کا ایسے افتتاح کرتے ہیں جس کی شروعات اور اختتام ہی نہیں ہوتا جب کہ انہوں نے سی پیک کو سمجھا ہی نہیں، ان کے اور منگولیا کے سی پیک کو دیکھ لیں، آپ نے چین سے ٹرامے لگوائی ہیں، یہ سوچ سوچ کا فرق ہے۔پی پی رہنما کا کہنا تھاکہ پاناما باہر سے شروع ہوا، یہ کسی سیف الرحمان نے شروع نہیں کیا، یہ معاملہ عالمی سطح پر اٹھا جس میں یہ بھی شامل ہوگئے۔آصف زرداری نے راو¿ انوار سے متعلق سوال پر جواب دینے سے گریز کیا۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئر مین آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ ہمارے ایم این ایز کو ترقیاتی فنڈزی جاری نہیں کیے جا رہے ،یہ ن لیگ کی تنگ نظری ہے ،جب ہماری حکومت تھی تو چوہدری نثار کو اپنی پارٹی کے رہنماﺅں سے بھی زیادہ فنڈزدیے تھے تاکہ وہ علاقے میں ترقیاتی کام کروا سکیں۔میڈ یا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کاکہنا تھاکہ نواز شریف مظلوم کیسے ہیں ،جب وہ عدالت میں آتے ہیں تو چھ گاڑیاں آگے اور چھ پیچھے ہوتی تھیں ،مظلوم تو ہم تھے جو بکتر بند گاڑی میں آتے تھے۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ بھارت سیکولر ملک ہونے کا دعویٰ کرتا ہے لیکن مودی کے بھارت میں کہیں سیکولر ازم نظر نہیں آرہا ،یہ نہر و کا انڈیا نہیں بلکہ مودی کا بھارت ہے جو ہٹلر کی طرح منفی سیاست کرتا ہے۔آصف علی زرداری نے مزید کہا کہ شریف برادران سی پیک کو سمجھ نہیں پائے ،انہیں منگولیا میں چین کے سی پیک کی سٹڈی کرنی چاہیے۔