کوہلی کا فلاپ شو, 5رنز پر آؤٹ

ممبئی (ویب ڈیسک )شادی کے بعد پہلے کرکٹ میچ میں بھارتی کپتان کوہلی پانچ رنز پر آو¿ٹ ہوگئے۔بھارتی ٹیم کیپ ٹاو¿ن میں جنوبی افریقہ کے خلاف ٹیسٹ میچ کھیل رہی ہے، کوہلی کو گھر پہنچنے کی جلدی تھی یا کوئی اور معاملہ بھارتی کپتان نے پانچ رنز بناکر ہی پویلین کی راہ لی، بھارتی شائقین سوشل میڈٰیا پر کوہلی انوشکا پر برس پڑے۔بھارتی شائقین کہتے ہیں کوہلی پریکٹس کے وقت اہلیہ کو لے کر گھومتے رہے بعض لوگوں کا تو یہ بھی کہنا تھا کہ ویرات کوہلی انوشکا کے ہاتھ کا کھانا کھانے جلد آو¿ٹ ہو گیا، لگتا ہے کوہلی ابھی تک ہنی مون پیریڈ پر ہیں۔

وفا قی حکومت بڑے مطالبے سے دستبردار

اسلام آباد(خصوصی رپورٹ)گلگت بلتستان کے 10 اضلاع میں وفاقی حکومت کی جانب سے عائد ودہولڈنگ ٹیکس کی وصولی روک دی گئی ہے اس سلسلے میں گلگت بلتستان کونسل سےکرٹرےٹ سے نوٹےفکیشن بھی جاری کر دےا گےا ہے۔ گلگت بلتستان ایڈ اپٹیشن ایکٹ 2012 ءکے تحت صوبائی حکومت نے عوامی مفاد عامہ کو مد نظر رکھتے ہوئے دستبرداری کا فیصلہ کیا۔گزشتہ روز انتظامیہ نے احتجاج کے سامنے گھٹنے ٹیک دیئے اور گلگت بلتستان کونسل کی جانب سے عائد ٹیکس سے مکمل پسپائی کی حامی بھرلی۔ ودہولڈنگ ٹیکس کی وصولی روکنے کا فےصلہ عوامی ایکشن کمیٹی و انجمن تاجران اورحکومت کے مابین ہونے والے کامیاب مذاکرات کے بعد کےا گےا اس سلسلے میں اےک معائدہ بھی کےا گےا ہے معاہدے میں شریک فریقین جی بی کے سینئر وزیر اکبر تاباب، ڈپٹی اسپیکر جعفراللہ خان، وزیر قانون اورنگزیب خان، گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کے اپوزیشن رہنما شافی خان، ایم این اے عمران ندیم، جی بی عوامی ایکشن کمیٹی کے صدر مولانا سلطان رئیس اور انجمن تاجران کے صدر محمد ابراہیم سمیت دیگر نے دستخط کیے۔معاہدے کے رو سے انتظامیہ اور مظاہرین پر مشتمل ایک وفد اسلام آباد کا دورہ کرے گا اور ٹیکس نفاذ کو علاقے میں نافذ نہیں کیا جائے گا۔معاہدے میں شامل دیگر نکات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ حکومت، گلگت بلتستان منرلز پالیسی 2016 ءمیں ترامیم کرکے مذکورہ پالیسی کو گلگت بلتستان کی قانون ساز اسمبلی کے حوالے کرے گی۔دستاویزات کے مطابق انتظامیہ نے اس بات پر بھی آمادگی ظاہر کیا ہے کہ وفاقی حکومت نے ٹیکس کی مد میں جو وصولیاں کی ہیں وہ واپس کی جائیں گی۔معاہدے میں کہا گیا کہ مظاہروں کے دوران مظاہرین اور رہنماﺅں کے خلاف درج کیسز بھی ختم کر دیئے جائیں گے۔معاہدے کے مطابق گلگت بلتستان کی قانون ساز اسمبلی ٹیکس نفاذ کے حوالے سے ملٹی نیشنل کمپنیوں اور بڑے مالیاتی اداروں کی مشاورت سے قانون پاس کرے گی۔

پاکستان کے خلاف ٹر مپ کی الزام تراشی۔۔۔ غیر ملکی ذرائع ابلاغ کا بڑا دعویٰ

لاہور(خصوصی رپورٹ)دنیا بھر میں مشہورو معروف امریکا اور بھارت کے بے شمار میڈیا ہاﺅسز نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یکم جنوری 2018 ءکو پاکستان کے خلاف کی گئی ٹویٹ کاتنقیدی جائزہ لیاہے، ان کی رائے ہے کہ ماضی میں اسلام آباد کے خلاف امداد کی بندش کارگرثابت نہیں ہوئی، اس طرح کے کسی بھی معاشی حملے سے مشرق وسطیٰ میں موجود امریکی فوجیوں کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہوسکتے ہیں اور اس سے پاک چین تعلقات مزید مضبوط ہوسکتے ہیں۔ یکم جنوری کی ٹویٹ میں دنیا کی سپرپاور کے سربراہ نے دعویٰ کیا ہے کہ 2002 ءاور 2018 ءکے درمیان واشنگٹن ڈی سی کی جانب سے33ارب ڈالر امداد کے عوض اس ملک کوسوائے جھوٹ اوردھوکے کے کچھ نہیں ملا۔ اِن امریکی اور بھارتی نیوزچینلز، اخبارات اورمیگزین کاخیال ہے کہ ٹرمپ کے بیان سے پاکستان میں غصہ کے باعث بنے گااور بھارت اور افغانستان کو قدرتی وجوہات کے باعث خوشی ہوگی۔ ٹرمپ کی جانب سے پاکستان کے خلاف غصے کے اظہارکے بعد امریکا اور بھارت کے چند بڑے میڈیا اداروں کے اقتباسات مندرجہ ذیل ہیں: بھارتی این ڈی ٹی وی: سٹیٹ بینک آف پاکستان نے اعلان کیاہے کہ اس نے دوطرفہ تجارت اور معاشی لین دین کیلئے چینی یوان استعال کرنے کیلئے اقدامات کرلیے ہیں۔ ایک بڑے چینی اخبار کی رپورٹ کے مطابق نئے سال کے موقع پر امریکی صدرکے پاکستان کےخلاف ٹویٹرحملے کے باعث اسلام آباد اوربیجنگ کے پہلے سے مضبوط تعلقات میں مزید استحکام آئےگا۔ 2018 ءکی پہلی ٹویٹ میں ٹرمپ نے پاکستان پردھوکہ بازی اور بےوفائی کا الزام لگایا، اوران دہشتگردوں کی مدد کرنے پر جن کے خلاف امریکی فوج افغانستان میں لڑ رہی ہے، امداد بند کرنے کا اعلان کیا۔ دی واشنگٹن پوسٹ: معروف بھارتی صحافی برکھادت نے واشنگٹن پوسٹ کے لیے لکھے گئے اپنے ایک حالیہ مضمون میں کہا: صدرٹرمپ کی ٹویٹ کو کتنا سنجیدہ لینا چاہئیے؟ ان کی 2018ءکی پہلی ٹویٹ جس میں انہوں نے پاکستان پرجھوٹ اور دھوکے بازی کاالزام لگایا، اس میں بھارت کیلئے خوش ہونے کوبہت کچھ ہے۔ دہشت گردوں کے خلاف کارروائی میں پاکستان کی ناکامی پر ٹرمپ کا بیان اور ان کی انتظامیہ کی جانب سے یہ اعلان کہ پاکستان کی کروڑوں ڈالر کی عسکری امداد بند کردی جائےگی، یہ نئی دہلی کیلئے ایک اہم لمحہ تھا۔ کئی سال پاکستان کے خفیہ لوگوں (جنہیں طاقتور فوج اور خفیہ ایجنسیاں)کنٹرول کررہی ہیں نے بھارت اور افغانستان میں دہشتگردی کوایک جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کیاہے۔ بھارتیوں کیلئے ٹرمپ کی ٹویٹ اور فنڈز کی معطلی بے گناہی کا ثبوت تھا۔ لیکن افسوس ناک حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کو سرعام شرمندہ کرنے سے، جیسا ٹرمپ نے کیا، اور عسکری امداد بند کرنے سے ایک ایسے ملک پر بہت کم اثر ہوگا جو کئی بار زبانی کلامی حملے برداشت کرچکاہے۔ پاکستان کو یقین ہے کہ امریکی امداد بند ہونے کے بعد واشنگٹن یہ رقم افغانستان میں اپنے باقی ماندہ کام کوپورا کرنے پرلگائے گا۔ ہر چند سال بعد ڈالر روک لینا کئی بار کیاگیاہے، اب ضرور اس بات کی ہے کہ پاکستان کے اندرسے دہشت گردوں کی امداد کو ختم کیاجائے۔ یہ اہم ہے کہ بھارتی وزارتِ خارجہ نے جلد بازی میں ٹرمپ کی ٹویٹ پر کوئی بیان نہیں دیا۔ لیکن بھارتی حکام جانتے ہیں کہ ٹرمپ کے حملے سے امریکی پالیسی میں ڈرامائی تبدیلی کا تاثر ملتا ہے، لیکن ماضی میں کئی بار امریکا کی جانب سے پاکستان کی عسکری امداد بند کی گئی، ان میں ماضی قریب میں اوباما کے دور میں کی گئی۔2011 ءمیں اوباما انتظامہ نے80کروڑ ڈالر کی عسکری امداد دو ماہ کیلئے اس وقت معطل کردی تھی، جب امریکی نیوی سیل پاکستانی دارالحکومت سے صرف تین گھنٹے کے فاصلے سے ایک رہائشی کمپاﺅنڈ سے اوسامہ بن لادن کو لے گئے تھے۔ 2015 ءمیں پینٹاگون کےکولیشن سپورٹ فنڈزکی مدمیں 30کروڑڈالر حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی سے مشروط کردیئے گئے تھے، پاکستان کی اہم خفیہ ایجنسی، انٹر سروسز انٹلیجنس پر کافی عرصے سے اس گروپ کوتحفظ دینے کا الزام لگتارہاہے۔ واضح طور پر اس میں سے کوئی بھی اقدام کارگر نہیں ہوا۔ دی نیوزویک: ماہرین کہتے ہیں، پاکستان کی تمام عسکری امداد روکنے کے فیصلے سے ٹرمپ انتظامہ مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجیوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ جمعرات کو کیے گئے فیصلے کامقصد پاکستان پر امریکی مدد کیلئے دباﺅڈالاناہے یعنی افغانستان میں طالبان کو قابو کرنا۔ لیکن اس کا نتیجہ خطے میں دہشتگرد گروہوں کے خلاف امریکا اور پاکستان کے درمیان تعاون کے خاتمے کی صورت میں ہوسکتاہے۔ اس وقت افغانستان میں آپریشنز کیلئے امریکا اورنیٹو لوجسٹک سپورٹ کے لیے پاکستان پر انحصار کرتے ہیں۔ امریکا نے 2002 ءمیں دہشت گردی کے خلاف جنگ کے حوالے سے پاکستان کی فنڈنگ میں اضافہ کیاتھا، اور اوباما انتطامہ نے دہشت گردوں کے ماسٹر مائنڈ کو پکڑنے کیلئے پاکستان کو اہمیت دی۔ امریکی دباﺅ کا نتیجہ افغانستا ن کے ساتھ بارڈر پر پاکستانی فوج میں اضافے کی صورت میں نکلا۔ دی فوربز: بھارت اورافغانستان میں ٹرمپ کی ٹویٹ کو حمایت اور خوشی کے طورپر دیکھاگیا۔ بھارت میں اسے پہلے صفحے پرجگہ ملی کیونکہ پاکستان کو بھارت کا سب سے بڑا مخالف سمجھا جاتاہے۔ بھارتی وزیرِ مملکت جتندرا سنگھ کہتے ہیں جہاں تک دہشت گردوں کے خلاف پاکستان کی جانب سے کارروائی کا تعلق ہے، ٹرمپ انتظامہ کے فیصلے سے بھارت کے موقف کو بہت زیادہ تقویت ملی ہے۔ اسی طرح امریکا میں تعینات افغان سفیر حمداللہ محب اور سابق افغان صدر حامدکرزئی نے ٹویٹ کو خوش آئند قرار دیاہے۔ ٹرمپ کی تنقید سے متعلق سوال کرنے پر چین نے دہشت گردی کےخلاف کارروائیوں کوسراہتے ہوئے پاکستان کادفاع کیا: چینی وزارت خارجہ کی ترجمان گینگ شوانگ نے پاکستان اور چین کو گہرادوست قراردیتے ہوئے کہا، پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں غیرمعمولی کردار اداکیاہے۔ بین الااقوامی برادری کو اس کا اعتراف کرناچاہئیے۔ اس وقت چین پاکستان میں 62 ارب ڈالرز کے پاک چین راہداری پراجیکٹ کی مد میں بہت زیادہ سرمایہ کاری کررہاہے۔ فارن پالیسی میگزین: ٹویٹ بھارت اور امریکا میں موجود ٹرمپ کے حامیوں کیلئے خوشی کاباعث ہے، تاہم ٹرمپ حکومت میں موجود سمجھدار اراکین غور کررہے ہیں کہ اِسے واپس کیسے لیاجائے۔ بعد میں اسی دن وائٹ ہاﺅس میں نیشنل سکیورٹی کے ترجمان نے واضح کیاکہ اس سے کیا امید کرنی چاہئیے: امریکا اس بارمالی سال 2016 ءمیں غیرملکی عسکری امداد کی مد میں ساڑھے پچیس کروڑ ڈالر پاکستان کے لیے خرچ نہیں کرناچاہتا۔ یہ امداد کی بندش وہ نہیں ہے جس کا ٹرمپ کی جارحانہ ٹویٹ میں ذکرتھا۔ یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ ٹرمپ کی ٹویٹ میں صرف اس بات کا ذکرتھاجو نیویارک ٹائمز نے 29دسمبر کورپورٹ کیاتھا کہ ٹرمپ انتظامہ ساڑھے پچیس کروڑ ڈالرز کی غیرملکی عسکری امداد بند کرنے لگی ہے۔ غیرملکی عسکری امداد اتحادی ممالک کو امریکی دفاعی ہتھیار، خدمات اور تربیت حاصل کرنے کے قابل بناتی ہے اور یہ ناقابل واپسی امداد یا قرض کی بنیاد پر دی جاتی ہے۔ یہ کوئی ایسی سزا نہیں ہے جو پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف کارروائی کرنے پر آمادہ کرسکے گی۔ تاریخی طور پر غیرملکی عسکری امداد پاکستان کو ملنے والی بنیادی امداد نہیں ہے۔ مالی سال 2002ءکے بعد سے پاکستان کو دیئے جانےوالے 33 ارب ڈالر میں سے غیرملکی عسکری امداد صرف 4ارب ڈالر بنتی ہے۔ سب سے زیادہ پرکشش رقم سی ایس ایف پروگرام کے تحت دی گئی، جس کی کل رقم ساڑھے14 ارب ڈالر بنتی ہے۔

107سالہ بابا لال خان کاانوکھا جنازہ

فیصل آباد (خصوصی رپورٹ) سانگلہ ہل کی تاریخ کا انوکھا جنازہ، 107 سالہ بابا لال خان کے جنازے پر بینڈ باجا، خوشی و غمی کی ایک ساتھ دھنیں بجائی گئی۔ لواحقین اور عزیزوں نے نوٹ نچھاور کیے۔ میٹھے چاول اور مٹھائی تقسیم کی گئی ، جنازہ خوشی اور غمی کا مشترکہ یادگار بن گیا، آنسوﺅں آہوں کے ساتھ ساتھ مطمئن چہرے دعائیں کرتے رہے۔ تفصیلات کے مطابق سانگلہ ہل کے نواحی گاﺅں چک 46 چٹھہ میں مسیح برادری کا رہنما اور زندگی کی دو صدیوں کی بہاریں دیکھنے والا 107 سالہ بابا لال خان گزشتہ روز انتقال کر گیا۔ بابا لال خان کے چار بیٹوں، بہوﺅں اور 30 پوتے پوتیوں پڑپوتیوں و دیگر عزیزواقارب نے اپنے بزرگ بابا بالا خان کی موجودہ وقت میں 107 سالہ طویل عمر کے بعد انتقال پر اس کی غمی کے ساتھ ساتھ خوشی کی رسم بھی نبھائی۔

شادی کیلئے دولہا کی عمر 12دلہن کی عمر9سال مقرر

انقرہ (خصوصی رپورٹ) ترکی کے مذہبی امور کی ڈائریکٹریٹ نے شادی کیلئے دلہن کی کم از کم عمر 9سال اور دولہا کیلئے کم از کم عمر 12سال شریعت کے مطابق قرار دے دی۔ ڈائریکٹریٹ کے سربراہ نے میڈیا کو بتایا کہ اس سے قبل لڑکی کی شادی کی کم از کم عمر 17سال، جبکہ لڑکے کیلئے 18سال تھی۔ ترکی کی اپوزیشن جماعتوں اور خواتین کی تنظیموں نے ڈائریکٹریٹ آف مذہبی امور کے اعلان پر کڑی تنقید کی ہے۔ اپوزیشن نے الزام لگایا کہ صدر اور ان کی پارٹی ملک کی سیکولر اقدار کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

پاکستان کیویز میں پہلا ون ڈے معرکہ آج

ویلنگٹن(آئی این پی)نیوزی لینڈ اور پاکستان کی کرکٹ ٹیموں کے درمیان پانچ ایک روزہ میچوں پر مشتمل سیریز کا پہلا میچ(آج)ہفتہ کو ویلنگٹن میں کھیلا جائیگا۔میچ پاکستانی وقت کے مطابق جمعے اورہفتے کی درمیانی شب 3بجے شروع ہوگا،دونوں ٹیموں کے مابین کھیلے گئے میچز میں پاکستان کا پلڑا بھاری ہے،دونوں ٹیموں کے مابین اب تک98ون ڈے میچز کھیلے گئے جس میں سے پاکستان نے 53اورنیوزی لینڈ نے 42 میچز جیتے ،ایک ٹائی ہوا اور دو کا فیصلہ نہیں ہوسکا ،نیوزی لینڈ کو ہوم گراﺅنڈ پر پاکستان پر برتری حاصل ہے ،کیویز ہوم گراﺅنڈ پر 44میں سے 26میچز جیتنے میں کامیاب رہے ۔قومی ٹیم کے کپتان سرفراز احمد کا کہنا ہے کہ فخر الزمان اور حسن علی نیوزی لینڈ کیخلاف سرپرائز پرفارمنس دیں گے، بولنگ اٹیک ہمارا سب سے بڑا ہتھیار ہے، دورہ نیوزی لینڈ آسان نہیں، تمام پلیئرز ذہنی طورپرتیار اورمکمل فٹ ہیں۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان ٹیم ان دنوں دورہ نیوزی لینڈ پر ہے۔پاکستان اور میزبان ٹیم نے ون ڈے سیریز سے قبل خوب پریکٹس کی اور اپنی تیاریوں کو حتمی شکل دی،بارش کے باعث کھلاڑیوں نے انڈورپریکٹس کی۔نیوزی لینڈ اور پاکستان کے مابین پانچ ایک روزہ میچوں پر مشتمل سیریز کا پہلا میچ(آج)ویلنگٹن میں کھیلا جائے گا۔ ویلنگٹن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان سرفراز احمد نے کہا ہے کہ فخر الزمان اور حسن علی نیوزی لینڈ کیخلاف سرپرائز پرفارمنس دیں گے، نیوزی لینڈ کی ٹیم آسان حریف ثابت نہیں ہوگی، ٹیم کے نئے کھلاڑی نیوزی لینڈ کی سرزمین پر پہلی دفعہ کھیلیں گے، گرین شرٹس چیمپئنز ٹرافی کی پوزیشن کو ٹور میں برقرار رکھنے کی کوشش کریں گے اور اچھی کارکردگی دکھانے کےلئے پر عزم ہیں۔
سرفراز احمد نے اپنی حکمت عملی پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ کیوی ٹیم کی حالیہ کارکردگی کا باریک بینی سے جائزہ لیا ہے، اس نے ویسٹ انڈیز کیخلاف اچھی بیٹنگ اور باولنگ کا مظاہرہ کیا ، تاہم پاکستان کا بالنگ اٹیک بہت مضبوط ہے، اور فخر الزمان اور حسن علی نیوزی لینڈ کیخلاف سرپرائز پرفارمنس دیں گے جبکہ محمد عامر، حسن علی اور رومان رئیس سے کافی امیدیں وابستہ ہیں، جب کہ ہمارے فاسٹ بالرز نیوزی لینڈ کے موسمی حالات کو استعمال کریں گے۔قومی کپتان نے کہا کہ چیمپئنز ٹرافی جیتنے کے بعد قوم نے بہت پیار دیا، چیمپئنز ٹرافی جیتنے سے ٹیم کو نیا جذبہ ملا اور 2019 کے ورلڈکپ میں ایک بہترین ٹیم کے ساتھ میدان میں اتریں گے۔ دوسری جانب دونوں ٹیموں کے مابین کھیلے گئے میچز میں پاکستان کا پلڑا بھاری ہے،دونوں ٹیموں کے مابین اب تک98ون ڈے میچز کھیلے گئے جس میں سے پاکستان نے 53اورنیوزی لینڈ نے 42 میچز جیتے ،ایک ٹائی ہوا اور دو کا فیصلہ نہیں ہوسکا ،نیوزی لینڈ کو ہوم گراﺅنڈ پر پاکستان پر برتری حاصل ہے ،نیوزی لینڈ کو اپنی سر زمین پر ہونے والے ون ڈے میچز میں جیت کے حوالے سے پاکستان پر برتری حاصل رہی ۔دونوں ٹیموں کے مابین نیوزی لینڈ میں مجموعی طور پر 44ون ڈے میچز کھیلے گئے جس میں پاکستان کی ٹیم نے 15جیتے جبکہ اسے 26میں شکست کا سامنا کرنا پڑا ،ایک ٹائی ہوا اور دو کا نتیجہ نہیں نکل سکا۔ شیڈول کے مطابق دوسرا میچ 9 جنوری نیلسن، تیسرا 13 جنوری کو ڈونیڈن، چوتھا 16 جنوری کو ہملٹن اور پانچواں 19 جنوری کو ویلنگٹن میں کھیلا جائے گا۔ ٹی 20 سیریز کا پہلا میچ 22 جنوری کو ویلنگٹن، دوسرا 25 جنوری کو آکلینڈ اور تیسرا 28 جنوری کو ماﺅنٹ مانگینوئی میں کھیلا جائے گا۔

حافظ سعید نے وزیر دفاع کو نوٹس بھجوا دیا

لاہور (آن لائن) جماعةالدعوة کے سربراہ پروفیسر حافظ محمد سعید نے وزیردفاع خرم دستگیر کی جانب سے جماعةالدعوة کیخلاف متنازعہ بیان بازی کیخلاف قانونی نوٹس بھجوادیا۔اے کے ڈوگر ایڈووکیٹ کی وساطت سے بھجوائے گئے نوٹس میں کہا گیا ہے کہ خرم دستگیر14دن کے اندر اپنے اس بیان کہ جماعةالدعوة کیخلاف کاروائی ردالفساد آپریشن کا حصہ ہے اور یہ اس لئے کر رہے ہیں تاکہ آئندہ کوئی دہشت گرد سکول میں بچوں کو گولیاں نہ مار سکیں‘ پرتحریری معافی مانگیں وگرنہ 100ملین پاکستانی روپے ہرجانہ کی ادائیگی کیلئے تیار رہیں۔وزیر دفاع خرم دستگیر نے جس طرح کی الزام تراشی کی ہے اس سے جماعةالدعوة اور اس کی قیادت کی شہرت کو نقصان پہنچا ہے۔ یہ بہت بڑا جرم ہے اور اس پر انہیں دو سال کی سزاہو سکتی ہے۔حافظ محمد سعید کے وکیل اے کے ڈوگر نے پریس کانفرنس کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ جماعةالدعوة کا کردار پوری دنیا کے سامنے ہے۔

پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر کیوں مستعفی ہوئے

لاہور (سپیشل رپورٹر) پنجاب یونیورسٹی کے قائمقام وائس چانسلر ڈاکٹر ظفر معین نے عہدے سے استعفیٰ دیدیا جو چانسلر و گورنر پنجاب ملک محمد رفیق رجوانہ کو موصول ہو گیا ہے۔ ڈاکٹر ظفر معین نے استعفے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ کچھ ایسے دباﺅ ہوتے ہیں جنہیں عام آدمی برداشت نہیں کر سکتا اور میں نے یہی مناسب سمجھا کہ خو د کو اس صورتحال سے نکال لوں ۔ انہوں نے کہا کہ بہت سے معاملات تھے لیکن یہ بھی نہیں ہو سکتا کہ ہر چیز کو سامنے لایا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ بعض اوقات کچھ معاملات کو آگے بڑھانے سے بہتر ی نہیں بلکہ خرابی ہوتی ہے اور میں نے یہی بہتر سمجھا کہ اگر میری وجہ س مسئلے حل ہوتے ہیں تو مجھے یہ قربانی دے دینی چاہیے ۔ انہوںنے وزیر ہائیر ایجوکیشن کی جانب سے 27نکات پر مشتمل چارج شیٹ کے حوالے سے کہا کہ اس میں سول ورکس میں کرپشن کی بات کی گئی ہے حالانکہ جو ادائیگی ہم نے کی ہی نہیں اس میں کرپشن کہاں سے آ گئی۔ یہ کہا گیا کہ ہاﺅس رینٹ زیادہ دیا گیا ہے جبکہ یہ آفس آرڈر میں موجود ہے اور حکومت کے اشتہارات موجود ہیں کہ ہاﺅس رینٹ دیا جائے۔ اس چارج شیٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ ایک لڑکی کو 8لاکھ روپے دئیے گئے جبکہ اسے پہلے بھی 42لاکھ روپے جاری کئے گئے ۔بتایا جائے کیا وہ 42لاکھ روپے کی ادائیگی غلط تھی اور اس کی ریکوری کی گئی اور ہمارے 8لاکھ کی ادائیگی کیسے غلط ہو گئی۔ ایک نجی ٹی وی نے ڈاکٹر ظفر معین کے حوالے سے کہا کہ انہوں نے سیاسی دباﺅ کی وجہ سے عہدے سے استعفیٰ دیا ۔ ان کے کام میں رکاوٹیں کھڑی کی جارہی تھیںجبکہ پنجاب حکومت یونیورسٹی کی دو کنال اراضی زبردستی حاصل کرنا چاہتی تھی جسے وہ دینے کے حق میں نہیں تھے۔ علاوہ ازیں صوبائی وزیر ہائیرا یجوکیشن نے قائمقام وائس چانسلر ڈاکٹر ظفر معین کےخلاف مبینہ کرپشن، بے ضابطگیوں سمیت دیگر الزامات کے تحت 27نکات پر مشتمل چارج شیٹ بھی چانسلر و گورنر پنجاب ملک رفیق رجوانہ کے توسط سے وزیر اعلیٰ پنجاب کو بھی ارسال کر رکھی ہے تاہم اس پر کوئی فیصلہ نہیں ہوا ۔ ڈاکٹر ظفر معین کو 27دسمبر 2016ءکو لاہور ہائیکورٹ کے حکم پر قائمقام وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی تعینات کیا گیا تھا۔

نئے چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کون ؟ فیصلہ ہو گیا

لاہور (کورٹ رپورٹر) جسٹس محمد یاورعلی کو نیا چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ بنانے کا فیصلہ ‘چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے جوڈیشل کمیشن کا اجلاس جنوری کو طلب کرلیا جس میں جسٹس سید منصورعلی شاہ کو سپریم کورٹ کا جج بنانے کی سفارش کی جائے گی۔تفصیلات کے مطابق لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کو تبدیل کرنے کا بڑا فیصلہ کرلیاگیا ، سینئر ترین جج جسٹس محمد یاورعلی کو نیا چیف جسٹس لاہورہائیکورٹ بنانے کافیصلہ کرلیا گیا، چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے جوڈیشل کمیشن کا اجلاس اٹھارہ جنوری کو طلب کر لیا جس میں جسٹس محمد یاور علی کو نیا چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ بنانے کی منظوری دی جائے گی، اس کے علاوہ اجلاس میں لاہورہائیکورٹ کے موجودہ چیف جسٹس سید منصورعلی شاہ کو سپریم کورٹ کا جج بنانے کی سفارش کی جائے گی۔اجلاس میں سپریم کور ٹ کے سینئر جج جسٹس آصف سعید کھوسہ سمیت دیگر اراکین شریک ہونگے۔اجلاس کے ایجنڈے کے بارے میں اراکین کو مطلع کر دیا گیاذرائع کے مطابق سینئر ترین جج جسٹس محمد یاور علی فروری میں لاہور ہائیکورٹ کے نئے چیف جسٹس کی حیثیت سے حلف اٹھائیں گے جس کے بعد جسٹس محمد انوارالحق ہائیکورٹ کے سینئر ترین جج ہوں گے۔ذرائع کے مطابق لاہور ہائیکورٹ میں نئے ایڈہاک ججز کے تقرر کیلئے 12ناموں کو شارٹ لسٹ کیا گیا ہے جن میں گیارہ وکلاءاور ایک ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کا نام شامل ہے ۔مذکورہ ناموں کو بھی جوڈیشل کمیشن میں بھیج جائے گا جہاں ان کا جائزہ لینے کے بعد فیصلہ کیا جائے گا ۔

وزیر داخلہ نے بھی حکومت ختم ہونے کا اشارہ دے دیا

اسلام آباد (خبر نگار) وفاقی وزیرداخلہ پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ کوئی یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ سینیٹ کے انتخابات آئندہ مارچ میں ہونگے جس طرح ملک میں سازشیں ہورہی ہیں اس سے لگتا ہے کہ شاید ہماری حکومت ایک دو ماہ میں ہی ختم ہوجائے، بلوچستان میں جو کچھ ہورہاہے وہ سب کے سامنے ہے ، ”خبریں“ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ بات میں نے کل بھی کہی تھی اور آج بھی کہتا ہوں کہ ملک میں جیسا ماحول جنم لے رہاہے اس میں کچھ بھی ہوسکتا ہے ، کوئی بھی یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ مارچ میں سینیٹ کے انتخابات ضرور ہونگے۔

بلوچستان میں ٹوٹ پھوٹ کے بعد کے پی اور سندھ میں کیا ہونے والا ہے

اسلام آباد (آئی این پی) وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ پلان کے مطابق بلوچستان اسمبلی کے بعد کے پی کے اور سندھ اسمبلی توڑنے کی سازش کی جا رہی ہے، عمران خان اور آصف زرداری کی اسمبلیاں توڑنے کی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے، ختم نبوت قانون میں تبدیلی کرنے والوں میں شیریں مزاری اور شفقت محمود بھی شامل تھے۔ جمعہ کو عمران خان اور آصف زرداری کے بیانات پر رد عمل دیتے ہوئے طلال چوہدری نے کہا کہ ختم نبوت قانون میں تبدیلی کرنے والوں میں شیریں مزاری اور شفقت محمود بھی شامل تھے، کسی اور پر الزام لگانے سے پہلے اپنی پارٹی کا کردار دیکھیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان اسمبلی توڑنے کےلئے آصف زرداری پیسے لگا کر ممبرز کو لوٹا بنا رہے ہیں، عمران خان اور آصف زرداری سینیٹ اور جنرل الیکشن سے خوفزدہ ہیں، عمران خان اور زرداری ہارنے کے خوف سے اسمبلیوں اور الیکشن سے بھاگنا چاہتے ہیں، پلان کے مطابق بلوچستان اسمبلی کے بعد کے پی کے اور سندھ اسمبلی توڑنے کی سازش کی جا رہی ہے، عمران خان اور آصف علی زرداری کی اسمبلیاں توڑنے کی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ وزیر ماحولیاتی تبدیلی سینیٹر مشاہد اللہ خان نے کہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) آئندہ عام انتخابات میں ملک بھر کی طرح سندھ میں بھی بھرپور کامیابی حاصل کرے گی۔کراچی میں بہتر انتخابی نتائج کے لیے کارکنوں کو متحرک کیا جائے اور عوام کے ساتھ رابطوں کو فعال بنایا جائے۔عوام کے دلوں کے وزیراعظم آج بھی میاں نواز شریف ہیں۔عمران خان ،زرداری اور شیخ رشید کا سیاسی مستقبل تاریک ہے۔2018کے انتخابات میں قوم ان مفاد پرست سیاستدانوں کو مسترد کردے گی۔ان خیالات کا اظہار انہوںنے جمعہ کومسلم لیگ (ن) کراچی دویڑن کے صدر سید منور رضا ،جنرل سیکرٹری خواجہ طارق نذیر اوراقلیتی ونگ سندھ کے جنرل سیکرٹری کھیل داس کوہستانی سے ملاقات میں کیا۔مسلم لیگی رہنماو¿ں نے وفاقی وزیرکو پارٹی کے تنظیمی امور اور سرگرمیوں کے حوالے سے بریفنگ دی۔ملاقات میں سندھ خصوصاً کراچی میں مسلم لیگ (ن) کی سیاسی سرگرمیوں کو وسعت دینے کے لیے کارکنوںکو متحرک کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔سینیٹر مشاہد اللہ خان نے کہا کہ کراچی میں قیام امن شہر قائد کے باسیوں کے لیے نواز شریف کا تحفہ ہے، وزیر تجارت محمد پرویز ملک اور صوبائی وزیر پرائمری اینڈ سکینڈری ہیلتھ خواجہ عمران نذیر نے کہا ہے کہ امریکی صدر کا ٹویٹ ہماری عزت نفس کو مجروح کرنے کے مترادف ہے اور ہمارے قومی وقار کے منافی ہے، ٹرمپ کا یہ بیان ہماری شناخت پر طمانچہ ہے، سیاسی و عسکری قیدتوں کو ایک پیج پر رہ کر اس کا بہت سوچ سمجھ کر خوداری اور سمجھداری کیساتھ جواب دینا ہوگا،ملک کی بقاءکیلئے جمہوریت کا تسلسل ضروری ہے، عوام انتخابات میں اپنا فیصلہ خود سنائیں گے، 2013ءکے مقابلے میں امن و امان کی صورتحال میں زمین آسمان کا فرق ہے، نواز شریف کی قیادت میں ٹھوس اقدامات سے بہتری آئی، 2014ءسے صنعتوں کی لوڈشیڈنگ صفر تھی، 2013ءکے مقابلے میں ملک کی معاشی ترقی سب کے سامنے ہے، 2013ءمیں حکومت سنبھالی تو سب سے بڑا مسئلہ دہشتگردی تھا،قوم نے دہشتگردی جیسے چیلنج کا مل کر مقابلہ کیا۔ 2013ءکے مقابلے میں معاشی شعبے میں ترقی سب کے سامنے ہے اس وقت ملک میں طلب سے زیادہ بجلی پیدا ہو رہی ہے۔ عوام سے کئے گئے تمام وعدے پورے کریں گے۔

بلوچستان حکومت ہچکولے کھانے لگی ،وزیر اعلی کو بڑا دھچکہ۔

کوئٹہ، اسلام آباد، ڈیرہ بگٹی (مانیٹرنگ ڈیسک، ایجنسیاں) بلوچستان میں مسلم لیگ ن کی اتحادی حکومت بیچ منجدھارکے ہچکولے ،کھانے لگی مسلم لیگی حلقے سرجوڑ کر بیٹھ گئے، اقتدار کی ہما جمیعت علمائے اسلا م (ف )کی حمایت سے مشروط کردی گئی ۔تفصیلات کے مطابق بلوچستان اسمبلی کے کل ارکان کی تعداد 65ہے، حکومت بنانے کے لیے سادہ اکثریت کے لیے 33ارکان کی حمایت درکارہے،ثنااللہ زہری کی اتحادی حکومت میں 53ارکان شامل تھے،مسلم لیگ ن اوران کی اتحادی جماعتوں کے 28ارکان نے زہری حکومت کے خلاف علم بغاوت بلندکردیاہے،باغی ارکان کا دعوی ہے کہ انہیں 38ارکان کی حمایت حاصل ہے۔بلوچستان میں پارٹی پوزیشن ک لحاظ سے ن لیگ کے20ارکان ،پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے14،نیشنل پارٹی کے 11،جے یوآئی کے 8،ق لیگ کے 5 اوربلوچستان نیشنل پارٹی کے 2ارکان ہیں،جب کہ 2 آزاد ارکان اسمبلی بھی ہیں ۔بی این پی عوامی،اے این پی اورمجلس وحدت مسلمین کا ایک ایک رکن ہے۔بلوچستان اسمبلی میں ن لیگ کے زیادہ ترارکان حکومت مخالف کیمپ میں چلے گئے ہیں،خیال ہے کہ ثنااللہ زہری کے ساتھ صرف دویاتین پارٹی ارکان ہی ہیں،جے یوآئی کے 8ارکان نے بھی تحریک عدم اعتماد پردستخط کیے ہیںتاہم مولانا فضل الرحمان کی وزیراعظم سے ملاقات کے بعد حالات میں تبدیلی کے اشارے ملے ہیں،نیشنل پارٹی کے ایک رکن نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ثنااللہ زہری کے خلاف علم بغاوت بلندکردیا ہے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان کےخلاف تحریک عدم اعتماد جمع کرائے جانے کے بعد غیر یقینی اور اگر مگر کی صورتحال بدستور قائم ،وزیراعلیٰ بلوچستان کےخلاف ن لیگ سے تعلق رکھنے والے صوبائی وزیر محنت وافرادی قوت راحت جمالی اور صوبائی مشیر ایکسائز عبدالماجد ابڑو نے بھی عہدوں سے مستعفی ہونے کااعلان کردیاہے ،جس کے بعد اب تک مستعفی ہونے والے وزراء،معاونین خصوصی کی تعداد5ہوگئی ہیں ۔رواح ہفتے کے دوران مسلم لیگ (ن) سے تعلق رکھنے والے سابق صوبائی وزیر داخلہ میرسرفرازاحمد بگٹی ،پاکستان مسلم لیگ(ق) کے میر عبدالقدوس بزنجو ،پرنس احمد علی ،مجلس وحدت المسلمین کے آغا رضا سمیت دیگر نے تحریک عدم اعتماد جمع کی اوردعویٰ کیاکہ ان کے پاس تحریک عدم اعتماد کو کامیاب کرانے کیلئے مطلوبہ اکثریت حاصل ہے جب سابقہ ٹرائیکا کے سرگرم ہونے اور تحریک عدم اعتماد کی خبریں میڈیا کی زینت بنی تو حکومت میں شامل اہم اتحادی جماعت پشتونخوامیپ کے سربراہ محمود خان اچکزئی کو اپنی جماعت کے اراکین اسمبلی کے ساتھ ہنگامی پریس کانفرنس کرناپڑی جس میں انہوں نے اس بات کااعادہ کیاکہ ان کی جماعت ن لیگ کے ساتھ اتحادی ہے اور وہ موجودہ وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثناءاللہ زہری کے خلاف تحریک عدم اعتماد کو ناکام بنائینگے۔ صوبائی وزیر راحت بی بی نے ناراض گروپ کی حمایت کر دی۔ دوسری جانب بلوچستان اسمبلی نے تحریک عدم اعتماد کے ارکان کی درخواست پر 9 تاریخ کو اسمبلی کا اجلاس طلب کرنے کے لئے وزیراعلی بلوچستان کو اجلاس کا پرپوزل ارسال کر دیا ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق بلوچستان اسمبلی کا اجلاس 9 جنوری کو ہوگا۔ سابق صوبائی وزیر داخلہ میر سرفراز بگٹی کے حمایت میں ڈیرہ بگٹی سوئی اور پیرکوہ میں ان کے حمایت میں ریلیاں نکالی گئیں ریلیوں میں قبائلی عمائدین اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی سوئی میں ریلی کی قیادت سابق صوبائی وزیرداخلہ سرفراز بگٹی کے بڑے بھائی میر جان محمد بگٹی جبکہ ڈیرہ بگٹی میں ڈسٹرکٹ چیئرمین میر غلام نبی بگٹی نے کی سوئی میں ریلی پاکستان ہاوس سے شروع ہوکر اللہ والی چوک پر اختتام پذیر ہوگئی ریلی کے شرکا نے سابق صوبائی وزیرداخلہ میر سرفراز بگٹی سے اپنے والہانہ محبت کا اظہار کیا ریلی کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے قبائلی رہنما میر جان محمد بگٹی نے میر سرفراز بگٹی کو عہدے سے ہٹانے اور ناروا سلوک کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ڈیرہ بگٹی کے عوام کو نواب ثنا اللہ زہری کا یہ فیصلہ ہرگز قبول نہیں جبکہ ڈیرہ بگٹی میں ریلی سنگسیلہ موڑ سے شروع ہوکر چلڈرن پارک سول ہسپتال میں اختتام پذیر ہوگئی ریلی میں سینکڑوں موٹر سائکلیں اور گاڑیاں بھی شامل تھیں۔

عالمی دنیا سے پاکستان کو اہم ملکوں کی حمایت حاصل۔

استنبول ( آن لائن ) چین کے بعد ترکی بھی پاکستان کی حمایت میں میدان میں آگیا ، ترکی نے پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرنے پر امریکا کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ، ترک صدر طیب اردگان نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل پاکستان اور ایران کے
اندرونی معاملات میں مداخلت بند کریں۔فرانس روانہ ہونے سے قبل استنبول میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی جارہی ہے، جب کہ عراق، شام، لیبیا، تیونس، سوڈان اور چاڈ میں بھی اسی طرح کی مداخلت کی جارہی ہے یہ سارے اسلامی ممالک ہیں اور وہاں کے عوام مسلمان ہیں یہ تمام ممالک قدرتی وسائل سے مالا مال ہیں۔ترک صدر نے کہا کہ عراق اور شام میں امریکا سمیت متعدد مغربی ممالک عوام کو ایک دوسرے سے الجھاتے اور تفرقہ پیدا کرتے رہے ہیں، اردگان نے دعویٰ کیا ہے کہ واشنگٹن انقرہ کے خلاف سنجیدہ نوعیت کی سازشوں کے عمل کو برقرار رکھے ہوئے ہے جب کہ ترکش سفارت کار کو ایران کی معاونت کے الزام میں ملنے والی امریکی عدالت سے سزا پر نظرثانی کی جائے۔